Wednesday, 5 August 2026

جے این یو کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے ایم ایل سی خالد انور کو میمورنڈم پیش کیا، بہار میں کلاسیکی و علاقائی زبانوں کے تحفظ اور تدریسی عہدوں کی بحالی کا مطالبہ

 








 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے بہار قانون ساز کونسل کے معزز جے ڈی یو ایم ایل سی جناب خالد انور سے ملاقات کرکے ٹی آر ای ۔4 کے تحت اعلیٰ ثانوی (پی جی ٹی، جماعت 11–12) اساتذہ کی بھرتی، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے تدریسی عہدے منظور کیے جانے کے مطالبے پر مشتمل ایک میمورنڈم پیش کیا۔

غالب زیاد نے کہا کہ فارسی، میتھلی، بنگلہ، پالی، عربی، پراکرت، بھوجپوری اور مگہی صرف زبانیں نہیں بلکہ بہار کی صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی وراثت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان زبانوں نے بہار کی مشترکہ ثقافت، علمی روایت اور فکری ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آج بھی پٹنہ یونیورسٹی، بی آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی (مظفرپور)، تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی، گیا یونیورسٹی، للت نارائن متھیلا یونیورسٹی، بی این منڈل یونیورسٹی سمیت بہار کی مختلف جامعات و یونیورسٹیز میں ان مضامین کی تعلیم دی جا رہی ہے اور طلبہ ایم اے، ایم فل (جہاں قابلِ اطلاق ہو) اور پی ایچ ڈی سطح تک تحقیق کر رہے ہیں۔ اسی طرح جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بنارس ہندو یونیورسٹی جیسے ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں بھی ان زبانوں کی تدریس اور تحقیق مسلسل جاری ہے۔

غالب زیاد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ان زبانوں کا تعلق صرف کسی ایک مذہب یا ایک مخصوص طبقے سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان زبانوں کو ملک بھر میں مختلف مذاہب، ذاتوں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، اساتذہ اور محققین پڑھتے، پڑھاتے اور ان پر تحقیق کرتے ہیں۔ یہ زبانیں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور علمی وراثت کی نمائندہ ہیں، جن سے ہر طبقے کے لوگ وابستہ ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں حالیہ 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں کے لیے اساتذہ کی تقرری سے متعلق اطلاعات میں ان زبانوں کے لیے تدریسی عہدوں کی منظوری نہیں دی گئی۔ مزید برآں، یونیورسٹی سطح پر نہ صرف اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدوں پر طویل عرصے سے تقرریاں نہیں ہو رہی ہیں بلکہ نئی بھرتیوں میں بھی ان مضامین کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی۔ اس صورتحال کے باعث ان زبانوں کے ہزاروں طلبہ اور ریسرچ اسکالرز شدید بے چینی اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ان زبانوں کے لیے اساتذہ اور اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے ہی موجود نہیں ہوں گے تو ان مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور محققین کا مستقبل کیا ہوگا؟ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کہاں جائیں گے؟ اگر تدریسی عہدے ہی ختم ہوتے گئے تو آنے والی نسلیں ان زبانوں کی تعلیم اور تحقیق سے کیسے مستفید ہوں گی؟

غالب زیاد نے کہا کہ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 14 تمام شہریوں کو مساوات کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 15 ہر قسم کے امتیاز کی ممانعت کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 29 زبانوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت آئین کی آٹھویں جدول بھی ہندوستان کی لسانی و ثقافتی تنوع کے احترام اور تحفظ پر زور دیتی ہے۔

انہوں نے بہار حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای -4، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے اسسٹنٹ پروفیسر اور دیگر تدریسی عہدے فوری طور پر منظور کیے جائیں، تاکہ ان زبانوں کے طلبہ، محققین اور اساتذہ کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور بہار کی مشترکہ تہذیبی و علمی وراثت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر معزز ایم ایل سی جناب خالد انور نے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ اس معاملے کو حکومتِ بہار اور معزز وزیرِ تعلیم کے سامنے مو¿ثر انداز میں اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

یہ مطالبہ کسی ایک زبان، مذہب یا برادری کا نہیں، بلکہ بہار کی مشترکہ تہذیبی وراثت، اعلیٰ تعلیم، آئینی مساوات اور آنے والی نسلوں کے علمی مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ ہے۔

بہار میں اساتذہ تقرری میں فارسی ، عربی ، میتھلی ، بنگلہ، پالی اور پراکرت کی نظر اندازی پر اظہار تشویش




 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی کلاسیکل زبانوں سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کی ایک مشترکہ علمی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ریاست بہار میں ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے عمل میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی اہم زبانوں کو نمائندگی نہ ملنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

میٹنگ میں شرکائنے کہا کہ فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت بہار کی تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی شناخت کا اہم حصہ ہیں، لیکن حالیہ تقرریوں اور تدریسی عہدوں کی منظوری کے عمل میں ان زبانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی ہے، جس سے ان زبانوں کی تدریس، تحقیق اور فروغ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

شرکاءنے حکومت بہار اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے دوران ان زبانوں کی تاریخی، ادبی اور تعلیمی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مناسب نمائندگی دی جائے اور ضروری تدریسی عہدوں کی منظوری کو یقینی بنایا جائے۔

میٹنگ کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بہار کی کلاسیکی، علاقائی اور تہذیبی زبانوں کے تحفظ، فروغ اور اعلیٰ تعلیم میں ان کی مو¿ثر نمائندگی کے لیے مشترکہ علمی و تعمیری کوششیں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔ اس میٹنگ میں پروفیسر اخلاق احمد آہن، صدر شعبہ سینٹر آف پرشین اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید اختر حسین، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر محمد مظہر الحق، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید کلیم اصغر، صدر شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ پروفیسر رضوان الرحمن، سابق چیئرپرسن، سینٹر آف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر خورشید امام، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر اختر عالم، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ نیز مختلف دیپارٹمنٹ کے اسکالرس جناب غالب زیاد، جناب ڈاکٹر محمد کشمیری، جناب پرگتی شیل پانڈے، جناب پوشپ راج، جناب کمل کیشور، جناب امر شیکھر، جناب صفی الرحمن، جناب محمد ساجد اور دیگر اہل علم شریک ہوئے۔


Tuesday, 4 August 2026

گریجویٹ ووٹر رجسٹریشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تعلیم یافتہ مسلمانوں کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے: ایڈووکیٹ شاہد اطہر






دربھنگہ: خادمِ ملت و تعلیمی خدمت گار ایڈووکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے 05- دربھنگہ گریجویٹ انتخابی حلقہ کے تمام اہلِ گریجویٹ شہریوں، خصوصاً مسلم نوجوانوں، اساتذہ، علمائے کرام، وکلاء، ڈاکٹروں، انجینئروں، سرکاری و غیر سرکاری ملازمین، کاروباری حضرات اور دیگر تعلیم یافتہ افراد سے پ±رزور اپیل کی ہے کہ وہ گریجویٹ ووٹر کے طور پر اپنا اندراج لازماً کرائیں اور اس قومی و جمہوری ذمہ داری کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور مضبوط معاشرہ صرف تعلیم سے نہیں بلکہ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے صحیح استعمال سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہر انتخاب میں ہزاروں ایسے اہلِ گریجویٹ افراد صرف معلومات کی کمی یا لاپرواہی کی وجہ سے ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو پاتے، جس کے باعث وہ اپنے قانونی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ سال 2022 یا اس سے پہلے گریجویشن مکمل کرنے والے تمام اہل افراد کے لیے یہ ایک قیمتی موقع ہے۔ وقت بہت محدود ہے، اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ آج ہی اپنے کاغذات مکمل کرے اور اپنے ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے دفتر میں جا کر درخواست جمع کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور عوامی مسائل زیادہ مو¿ثر انداز میں سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہر گریجویٹ نوجوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی رجسٹریشن کرائے اور اپنے والدین، بھائیوں، بہنوں، رشتہ داروں، دوستوں اور محلے کے تمام اہلِ گریجویٹ افراد کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اپیل کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ صرف اس مقصد کے لیے ہے کہ زیادہ سے زیادہ اہلِ گریجویٹ شہری اپنے جمہوری حق کا استعمال کر سکیں اور ووٹر فہرست میں اپنا نام شامل کرا سکیں۔ درخواست کے لیے ضروری دستاویزات

- گریجویشن کی مارک شیٹ (گزیٹیڈ آفیسر سے تصدیق شدہ)

- آدھار کارڈ یا ووٹر کارڈ کی نقل (گزیٹیڈ آفیسرسے تصدیق شدہ)

تمام اہل امیدوار اپنی درخواست خود اپنے متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے دفتر میں جمع کریں۔ آخر میں ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دیں، اپنے حقوق سے واقف رہیں، اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اس اہم اطلاع کو ہر گھر اور ہر اہلِ گریجویٹ فرد تک پہنچائیں تاکہ کوئی بھی شخص محض لاعلمی کی وجہ سے اس حق سے محروم نہ رہ جائے۔


Sunday, 26 July 2026

قومی تنظیم کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید کی اردو خدمات قابلِ تحسین، انہیں گورنر کوٹے سے ایم ایل سی بنایا جائے: عطاءالرحمن





پٹنہ(پریس ریلیز )اردو زبان کی بقا اور اس کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اردو ایکشن کمیٹی کے صدر اور روزنامہ ’قومی تنظیم‘ کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید کی کاوشیں انتہائی قابل قدر اور لائق تحسین ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز سماجی کار کن اور کانگریسی لیڈر ایڈووکیٹ عطاءالرحمن نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے کیا۔

عطاءالرحمن نے کہا کہ اشرف فرید ان دنوں ریاست میں اردو کے مسائل، بالخصوص اردو اساتذہ کی بحالی، دفاتر میں اردو کے استعمال اور اردو آبادی کے حقوق کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف صحافت کے ذریعے بلکہ عوامی و سماجی سطح پر بھی اردو کے فروغ کیلئے پیش پیش نظر آتے ہیں۔ ان کی بے باک قیادت نے اردو حلقوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

انہوں نے حکومت بہار اور وزیراعلیٰ سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اشرف فرید کی عظیم دینی، ملی، اور صحافتی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں گورنر کوٹے سے ایم ایل سی (قانون ساز کونسل کا رکن) نامزد کیا جائے۔ عطاءالرحمن کا کہنا تھا کہ اشرف فرید جیسی باصلاحیت اور فعال شخصیت کا قانون ساز کونسل میں ہونا اردو کے مسائل کی نمائندگی اور اس کے حل کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت اشرف فرید کو ایم ایل سی کے عہدے سے نوازتی ہے تو یہ نہ صرف ان کی علمی و صحافتی خدمات کا اعتراف ہوگا بلکہ ریاست کے تمام اردو داں طبقے کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گا۔

Sunday, 19 July 2026

اوور سیز میڈیکل اسٹڈی ڈاٹ کام کی جانب سے مبارکباد


 

ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور شریف سیاستداں

 



 بہار کے ضلع کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور نہایت شریف مزاج رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما ہونے کے ساتھ پیشے کے اعتبار سے ایک معالج بھی ہیں۔ڈاکٹر جاوید آزاد 2024 کے ہندوستانی عام انتخابات میں مسلسل دوسری بار بہار کے کشن گنج لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ وہ کانگریس پارٹی کے لوک سبھا میں چیف وِپ کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کانگریس پارٹی کی قومی انتخابی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔سیمانچل کے عوام کے ساتھ ساتھ پوری ریاست بہار کے عام لوگ ڈاکٹر جاوید صاحب کی سادگی اور شفاف سیاست کی وجہ سے انہیں بے حد پسند کرتے ہیں۔

سیاسی سفر

رکن پارلیمنٹ بننے سے قبل ڈاکٹر جاوید صاحب سال 2000 سے مسلسل 4 مرتبہ بہار قانون ساز اسمبلی کے رکن یعنی ایم ایل اے رہے۔ 2000 سے 2004 تک وہ بہار حکومت میں مختلف محکموں کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ایم ایل اے بننے سے پہلے انہوں نے کشن گنج کے عام عوام کی ایک معالج کی حیثیت سے مفت خدمت بھی کی۔

تعلیم اور پیشہ 

پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے سرینگر کے سرکاری میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

پارلیمانی کام 

پارلیمنٹ میں وہ کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مرکز قائم کرنے، جلال گڑھ-کشن گنج ریل لائن منصوبے اور کشن گنج لوک سبھا حلقے کی ترقی و خوشحالی سے جڑے متعدد اہم مسائل کو مسلسل اور مضبوطی کے ساتھ اٹھاتے رہتے ہیں۔


ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں : پرشانت کشور

 



پٹنہ: جن سوراج پارٹی کے روح رواں پرشانت کشور نے بانکی پور اسمبلی حلقے میں عوامی مکالمے کے دوران ریاست کی سیاست میں مثبت تبدیلی اور انتخابی عمل میں عوام کے کردار پر زور دیا۔

بانکی پور کے دانشوران سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں سے بہار کی سیاست بنیادی طور پر ذات، مذہب اور ”جنگل راج“ کے خوف کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی موضوعات نے ریاست کی ترقی کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔


بانکی پور ضمنی انتخاب کی اہمیت

انہوں نے کہا کہ بانکی پور کا ضمنی انتخاب صرف ایک ایم ایل اے کے انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بی جے پی کے سیاسی تکبر کو چیلنج کرنے اور اقتدار میں بیٹھی قیادت کو جوابدہ بنانے کا سنہری موقع ہے۔

پرشانت کشور نے دعویٰ کیا کہ اگر بانکی پور میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو یہ پیغام سیدھا پارٹی کے مرکزی قیادت تک جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ریاست کی قیادت جیسے سمراٹ چودھری کی سطح پر بھی تبدیلی کا امکان بڑھ جائے گا۔


عوام سے اپیل

مکالمے کے دوران انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ جھنڈے کے رنگ، ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے بہتر مواقع پیدا ہو سکیں۔


پرشانت کشور نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے لاپرواہ ہو چکے ہیں۔ بانکی پور میں شکست کا خوف ہی انہیں عوام کے تئیں زیادہ جوابدہ اور حساس بننے پر مجبور کرے گا۔



مکالمے میں خطاب کرنے والے مقررین

اس عوامی مکالمے میں ابو اللیث صاحب، ایم ایل سی آفاق احمد، ابو عفان فاروقی، کمار سورو، سابق ایم ایل اے کشور منا، پروفیسر منور جہاں، ڈاکٹر آشا ٹھاکر گائنا کولوجسٹ، ڈاکٹر شگفتہ یاسمین، فزکس کے پروفیسر آفتاب عالم اور رامانشو سمیت شہر کے ممتاز دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے خطاب کیا۔ 


پرشانت کشور نے عوام سے کہا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو صحیح سمت میں استعمال کریں تاکہ بہار کی سیاست میں ایک نئے اور مثبت دور کا آغاز ہو سکے۔




Wednesday, 27 May 2026

پروفیسر محفوظ الرحمن کی جانب سے ملک وریاست کے باشندوں کو عید الاضحی مبارک


 

17 لاکھ سے زائد حجاج کرام نے مناسکِ حج ادا کیے




مکہ مکرمہ 

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے اسٹیٹسٹکس (محکمہ شماریات) نے اعلان کیا ہے کہ حج سنہ 1447ھ کے سیزن کے لیے حجاج کرام کی کل تعداد 17,07,301 رہی ہے، جن میں مختلف سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے سعودی عرب سے باہر سے آنے والے 15,46,655 حجاج کرام شامل ہیں۔


اسی تناظر میں، سعودی محکمہ شماریات کے ڈیٹا کے مطابق سعودی شہریوں اور مملکت میں مقیم غیر ملکیوں پر مشتمل داخلی حجاج کی تعداد 1,60,646 رہی۔


محکمے نے اپنے شماریاتی نتائج میں واضح کیا ہے کہ اندرون اور بیرون ملک کے مجموعی حجاج میں سے مرد حجاج کی تعداد آٹھ لاکھ، 93 ہزار396 تھی، جبکہ خواتین حجاج کی تعداد 813,905 رہی۔


فضائی راستے حجاج کی آمد میں سب سے آگے

محکمہ شماریات نے بتایا کہ مملکت سے باہر سے آنے والے بیشتر حجاج کرام فضائی گزرگاہوں کے ذریعے پہنچے، جن کی کل تعداد 1,485,729 رہی، جبکہ 54,429 حجاج زمینی راستوں سے اور 6,497 حجاج بحری گزرگاہوں کے ذریعے پہنچے۔


عمومی مقتدرہ برائے شماریات نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حج سنہ 1447ھ کے ڈیٹا اور انڈیکیٹرز کے اجراء کے لیے وزارتِ داخلہ کے ایڈمنسٹریٹو ریکارڈز پر انحصار کیا ہے جو کہ ڈیٹا کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسے متحد شماریاتی ماڈل کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد انتہائی درست اور قابلِ اعتماد ڈیٹا فراہم کرنا ہے، جو کہ گذشتہ چھ برسوں کے دوران اپنائے گئے شماریاتی طریقہ کار کا ہی تسلسل ہے۔


سعودی عرب میں اعداد و شمار کا سرکاری ادارہ

واضح رہے کہ عمومی مقتدرہ برائے شماریات مملکتِ سعودی عرب میں شماریاتی ڈیٹا اور معلومات کے لیے واحد اور سرکاری حوالہ ہے، جو منظور شدہ طریقہ کار اور معیارات کے مطابق قومی اشاریے اور اعداد و شمار جاری کرنے کی ذمہ دار ہے۔


بیت اللہ میں روح پرور مناظر، حجاج طوافِ زیارت میں مصروف




سعودی عرب

مکۃ المکرمہ


عیدالاضحیٰ کی صبح سویرے ہی مسجد الحرام کے صحنوں اور راہداریوں میں حجاجِ بیت اللہ کی بڑی تعداد جمع ہوگئی، جہاں انہوں نے پُرامن، روحانی اور ایمان افروز ماحول میں طوافِ زیارت ادا کیا۔


ضیوفِ رحمن کی سہولت اور خدمت کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے مکمل اور جامع انتظامات کیے گئے، تاکہ حجاج کرام عبادات اطمینان اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔


حجاج کی مشاعر مقدسہ کے درمیان نقل و حرکت میں ہمواری

حجاج کرام کے قافلے گزشتہ رات آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے منیٰ کی جانب روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے جمرہ عقبہ کبریٰ کو سات کنکریاں مارنے کا مناسک ادا کیا۔


اس سے قبل اللہ کے فضل سے وہ میدانِ عرفات میں وقوف اور حج کا اہم ترین رکن ادا کر چکے تھے، جس کے بعد انہوں نے مزدلفہ میں رات قیام کیا۔


مشاعر مقدسہ کے درمیان حجاج کی نقل و حرکت انتہائی منظم اور ہموار انداز میں جاری رہی، جو پہلے سے تیار کردہ انتظامی اور تفویجی منصوبوں کے مطابق تھی، تاکہ بڑے مجمع کی سلامتی اور آسانی کے ساتھ مناسک کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔


مسجد الحرام میں مسلسل صفائی اور جراثیم کشی

مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کے امور کی دیکھ بھال کرنے والی جنرل اتھارٹی نے آپریشنل تیاریوں کے تحت مسجد الحرام، صحنِ طواف، راہداریوں اور صحنوں میں صفائی اور جراثیم کشی کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔


یہ عمل جدید ترین مشینری اور آلات کے ذریعے حجاج کی آمد سے قبل اور ان کی روانگی کے بعد باقاعدگی سے انجام دیا جا رہا ہے۔


اتھارٹی نے ضیوفِ رحمن کے داخلے اور اخراج کے لیے مخصوص راستے بھی تیار کیے ہیں، جو منظم منصوبہ بندی اور ہجوم کے بہتر انتظام کے تحت فعال ہیں۔ یہ تمام اقدامات سیکیورٹی، انتظامی اور صحت کے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔


جدید ٹھنڈک اور ائیر کنڈیشننگ کا مربوط نظام

اتھارٹی نے ایک مربوط اور جدید ائیر کنڈیشننگ نظام کو فعال کیا ہے تاکہ مسجد الحرام کے تمام حصوں میں صاف اور ٹھنڈی ہوا فراہم کی جا سکے۔


اس کے ساتھ ساتھ بیرونی صحنوں اور حرم کی طرف جانے والے راستوں کو بھی ٹھنڈا رکھنے کے انتظامات کیے گئے ہیں، تاکہ زیادہ رش اور بلند درجہ حرارت کے باوجود حجاج کرام کو طوافِ افاضہ کی ادائیگی کے دوران بہتر اور آرام دہ ماحول میسر آ سکے۔


ضیوفِ رحمن کے لیے جامع خدمات

متعلقہ ادارے ضیوفِ رحمن کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فیلڈ، انتظامی اور صحت سے متعلق خدمات 24 گھنٹے جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ حجاج کرام اپنے مناسک امن اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔


یہ تمام اقدامات ایک مربوط آپریشنل نظام کے تحت کیے جا رہے ہیں، جو حجاج کی خدمت اور بڑے اجتماعات کے انتظام میں مملکت کی اعلیٰ تیاری اور تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔


عید الاضحیٰ قربانی، بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام ہے - ایڈووکیٹ شاہد اطہر





دربھنگہ: متھلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے عید الاضحیٰ کے پُرمسرت موقع پر تمام اہلِ وطن خصوصاً دربھنگہ اور متھلانچل کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ عید الاضحیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی، صبر، ایثار اور اللہ کی رضا کے لیے مکمل سپردگی کی یاد دلاتی ہے۔ یہ مبارک تہوار محبت، بھائی چارہ، اخوت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔

ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آج کے دور میں سماج کو باہمی اتحاد، امن و امان اور بھائی چارے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ عید کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں اور معاشرے میں محبت و ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم، اخلاقیات اور سماجی ذمہ داریوں کے تئیں بیدار رہیں کیونکہ ترقی کا راستہ اچھی تعلیم اور مثبت سوچ سے ہو کر گزرتا ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ یہ مبارک تہوار سبھی کی زندگیوں میں خوشحالی، امن، ترقی اور برکت لے کر آئے۔

محمد اعظم صاحب کی جانب سے ملک وریاست کے باشندوں کو عید الاضحیٰ مبارک