Saturday, 23 May 2026

٭اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت تھے، ان کی کمی مجھے ہمیشہ محسوس ہوگی:ڈاکٹر اظہار احمد




٭ اسحاق اثر نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا: رضوان اصلاحی

٭ تعلیمی اور صحافتی میدان میں ان کی خدمات ہمیشہ میں یاد رکھی جائیں گی:سابق وزیر اخلاق احمد

محبان اردو کے زیر اہتمام معروف صحافی اسحاق اثر کی یاد میں تعزیتی نشست


 پٹنہ : محبان اردو کے زیر اہتمام روزنامہ پیاری اردو پٹنہ کے دفتر میں اردو صحافت کے کہنہ مشق اور بے لوث خادم، جناب اسحاق اثر کی رحلت پر منعقد ایک پروقار تعزیتی نشست میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے انہیں پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔ اس نشست میں مرحوم کی گراں قدر خدمات کو یاد کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اسحاق اثر کا خلا مدتوں تک محسوس کیا جائے گا۔

اس موقع پر مولانا رضوان عالم اصلاحی امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”موت ایک اٹل حقیقت ہے اور دنیا کی زندگی محض ایک امتحان گاہ ہے۔“انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں موت کی حقیقت پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی رضا میں راضی رہنا اور مصیبت کی گھڑی میں صبر کا دامن تھامنا ہی مومن کی اصل پہچان ہے۔ انہوں نے اسحاق اثر کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ ان کا انتقال علمی و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

پروگرام کے روح رواں اور سابق رکن اسمبلی و تخمینہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اظہار احمد نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جناب اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت کے مالک تھے۔“ان کی رپورٹنگ میں جہاں سچائی اور گہرائی ہوتی تھی، وہیں اردو زبان پر ان کی گرفت بھی بے حد مضبوط تھی۔ وہ اردو کے ایسے بے لوث خادم تھے جنہوں نے کبھی کسی صلے کی پروا کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے اب تین ممتاز شخصیات؛ مرحوم اجمل فرید صاحب، فاروقی تنظیم کے مالک مرحوم ظفرصاحب اور اسحاق اثر کے نام سے اردو کے خادموں اور صحافیوں کے لیے خصوصی ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا جائے گا تاکہ نئی نسل ان کے نقش قدم پر چل سکے۔

سابق وزیر اخلاق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر کی رحلت سے صحافت کا ایک باب بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی تدریسی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ جس طرح قلم کے دھنی تھے، اسی طرح تدریس کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق اثر صرف ایک صحافی نہیں تھے بلکہ وہ اردو زبان کے ایک سچے محافظ اور ہمدرد تھے، جن کی خدمات کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔

ارشد فیروز (سابق چیئرمین، بہار گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ) نے کہا کہ اسحاق اثر نے صحافت کے میدان اور تحریک اردو میں جو کردار ادا کیا، وہ ناقابل فراموش ہے۔ ان کا جانا اردو صحافت کیلئے ایک بڑا خسارہ ہے۔

اسلم جاویداں نے کہا کہ اسحاق صاحب انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے، جو ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ وہ اردو کے سچے خادم تھے اور ان کی وفات سے اردو دنیا ایک مخلص دوست سے محروم ہو گئی ہے۔

محمد شریف (ڈین، لاءکالج) اور رضا عالم دانش (جے ڈی یو لیڈر) نے اپنے مختصر تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی علمی دیانت داری اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی۔

کرنل عظیم، سراج انور، قمر الحسن اور افروز فانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو اور صحافت کے نام کر دی۔

ان کے علاوہ نواب عتیق الزماں ، مبین الہدی ، فاطمہ ڈگری کالج کے پرنسپل انور امام ، سب انسپکٹر شہنواز عالم ، ڈاکٹر فیض احمد قادری ، مالے لیڈر مسز صبا ، محمد رفیع ، عظمت اللہ ابو سعید ، سبودھ برنوال ، اسحاق اثر کے صاحبزادے انجینئر ذیشان ، محمد شاہد اختر ڈائریکٹر عوامی کوآپریٹیو بینک نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے اور مرحوم کی مغفرت اور بلندی ¿ درجات کی دعا کی ۔ 

مشہور شاعر جمال کاکوی نے اپنے اشعار کے ذریعہ اسحاق اثر کو پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر فصیح صاحب، روزنامہ تاثیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر گوہر کے بھی سانحہ ارتحال پر مذکورہ تمام لوگوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں اپنی دعاﺅں میں یاد کیا ۔

نشست کا اختتام مرحوم اسحاق اثر ، فصیح صاحب اوررکن پارلیمنٹ طارق انور کی خوش دامن اور مرحوم شمائل نبی کی اہلیہ سمیت دیگر مرحومین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔

پروگرام کا آغاز حافظ غلام سرور ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، پروگرام کی نظامت پرویز عالم نے کی ۔ مرحوم نسیم انصاری کے صاحبزادے محمد عمران ، مشتاق خان ،خورشید عالم، محمد حسنین، محمد نوشاد عالم نے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ۔ 


Tuesday, 14 April 2026

نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری چیخ ہے

 



لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نوئیڈا میں احتجاجی کارکنوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری چیخ تھی، جس کی آواز کو نظر انداز کیا گیا، جو اپنا حق مانگتے مانگتے تھک گئے۔ نوئیڈا میں کام کرنے والے ایک مزدور کی 12000 ماہانہ تنخواہ اور 4000 سے 7000 تک کرایہ۔ جب تک 300 روپے کا سالانہ اضافہ ملتا ہے، مکان مالک 500 روپے سالانکہ کرایہ بڑھا دیتا ہے۔ تنخواہ بڑھنے تک یہ بے لگام مہنگائی زندگی کا گلا گھونٹ دیتی ہے، قرض کی گہرائی میں ڈوبا دیتی ہے۔ یہی ہے ترقی یافتہ ہندوستان کا سچ۔




راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پوسٹ میں ایک خاتون مزدور کے بیان کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ایک خاتون مزدور نے کہا کہ گیس کی قیمت بڑھتی ہے، لیکن ہماری تنخواہ نہیں۔ ان لوگوں نے شاید اس گیس بحران کے دوران اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے 5000 کا بھی سلنڈر خریدا ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’یہ صرف نوئیڈا کی بات نہیں ہے، اور یہ صرف ہندوستان کی بھی بات نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ایندھن کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے سپلائی چین ٹوٹ گئی ہے۔ لیکن امریکہ کے ٹیرف وار، عالمی مہنگائی اور ٹوٹتی سپلائی چین کا بوجھ مودی کے دوست صنعتکاروں پر نہیں پڑا۔ اس کی سب سے بڑی مار پڑ رہی ہے اس مزدور پر جو یومیہ اجرت پر کام کرتا ہے تبھی روز کھاتا ہے۔‘‘



کانگریس لیڈر نے مزید لکھا کہ ’’وہ مزدور، جو کسی جنگ کا حصہ نہیں، جس نے کوئی پالیسی نہیں بنائی - وہ بس کام کرتا رہا۔ خاموشی سے، بغیر کسی شکایت کے۔ اور جب وہ اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے کیا ملتا ہے؟ دباؤ اور جبر۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایک اور نہایت اہم مسئلہ - مودی حکومت نے جلد بازی میں بغیر کسی مشاورت کے نومبر 2025 سے 4 لیبر کوڈ نافذ کر دیے، جن کے تحت کام کے اوقات کو بڑھا کر روزانہ 12 گھنٹے تک کر دیا گیا۔ وہ مزدور جو روزانہ 12–12 گھنٹے کھڑا ہو کر کام کرتا ہے، اور پھر بھی اپنے بچوں کی اسکول فیس ادا کرنے کے لیے قرض لیتا ہے - کیا اس کا مطالبہ غیر معقول ہے؟ اور جو ہر روز اس کے حقوق کو کچل رہا ہے - کیا اسے ترقی کہا جا سکتا ہے؟‘‘ ان کے مطابق نوئیڈا کا مزدور 20000 روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ لالچ نہیں بلکہ یہ اس کا حق ہے، اس کی زندگی کی واحد بنیاد ہے۔ میں ہر ایسے مزدور کے ساتھ کھڑا ہوں، جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر اس حکومت نے اسے بوجھ بنا دیا ہے۔


بہار میں غائب ہو گئے تقریباً 9 ہزار تالاب اور جھیلیں




ایک طرف ملک میں پانی کی کمی کا مسئلہ مسلسل بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف مسائل کو حل کرنے کے معاملے میں بھی خوب لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ دیگر ریاستوں کی طرح بہار میں بھی پانی کا مسئلہ برقرار ہے، لیکن آبی ذخائر سے متعلق سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاپرواہی کی وجہ سے ریاست میں بڑی تعداد میں آبی ذخائر غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ تقریباً 9 ہزار آبی ذخائر کا اب کچھ پتہ نہیں ہے۔



آخر یہ آبی ذرائع کہاں غائب ہو گئے؟ یہ سوال مرکز کی آبی ذخائر سے متعلق دوسرے سروے 24-2023 کے سامنے آنے کے بعد اٹھ رہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں تقریباً 8940 آبی ذخائر غائب ہو چکے ہیں۔ جل شکتی کی وزارت کی جانب سے گزشتہ سال بہار، دہلی، آسام، لداخ اور سکم کے لیے کیے گئے آبی ذخائر کے دوسرے سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں درج 45793 آبی ذخائر میں سے صرف 36856 ہی موجود ہیں، جبکہ 9000 کے قریب آبی ذخائر غائب ہوتے چلے گئے۔



سروے کے مطابق ان آبی ذخائر میں سے 45 فیصد تو بہار حکومت کی ملکیت میں ہی ہے، حالانکہ ریاست کے محکمہ ریونیو اور اراضی اصلاحات کے پاس اس بات کی کوئی معلومات نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے آبی ذخائر پر (جزوی یا مکمل طور پر) قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ’انڈین ایکسپریس‘ نے ایک افسر کے حوالے سے بتایا کہ ’’ہم آبی ذخائر کے سروے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور تجاوزات سے پاک عوامی تالابوں پر ایک اپ ڈیٹڈ رپورٹ تیار کریں گے۔‘‘ اس سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 85 فیصد آبی ذخائر دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یعنی تقریباً 91 فیصد تالاب ہیں، جبکہ باقی جھیلوں، ٹینکوں، آبی ذخائر، چیک ڈیم اور پرکولیشن ڈیم کی شکل میں ہیں۔


سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں موجود 35027 تالابوں میں سے اب صرف 33618 ہی بچے ہیں۔ ریاست میں 1409 تالاب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ٹینکوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ ٹینکوں کی تعداد 4221 سے گھٹ کر 859 تک آ گئی ہے، جبکہ جھیلوں کی تعداد 2693 سے کم ہو کر 258 اور آبی ذخائر کی تعداد 2156 سے گھٹ کر صرف 315 رہ گئی ہے۔ ریاست کے آبی ذخائر میں سے زیادہ تر (40.4 فیصد) پنچایتوں کی ملکیت میں ہیں، جس کے بعد ریاست کے محکمہ آبی وسائل (ڈبلیو آر ڈی) یا ریاستی محکمہ آبپاشی (22.3 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔



واضح رہے کہ ریاست میں آبی ذخائر پر تیزی سے قبضے کیے جا رہے ہیں، اور یہ خاص طور پر لینڈ مافیا کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ ان مقامات پر مسلسل تجاوزات سے ایک نیا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ 2023 کے ایک حکم میں، پٹنہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ریاست میں 1045 تالابوں پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح بہار اسمبلی کے حالیہ بجٹ سیشن کے دوران عوامی آبی ذخائر کے غائب ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ریاست کے ریونیو اور اراضی اصلاحات کے وزیر وجے سنہا نے بتایا تھا کہ صرف 5 تالابوں پر ہی قبضہ کیا گیا ہے، جبکہ انڈین انکلوسیو پارٹی (آئی آئی پی) کے رکن اسمبلی آئی پی گپتا نے اس دعوے کی مخالفت کی تھی۔ آئی پی گپتا نے کہا تھا کہ ’’اب جب کہ آبی ذخائر کے تازہ سروے نے حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے، تو ہم اس سوال کو دوبارہ اٹھائیں گے۔‘‘


ہو گیا پلٹی بازی کے دھرندھر چاچا جی کا استعفیٰ‘

 

روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر چلائے طنز کے تیر




نتیش کمار نے بہار کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر بھی منتخب کر لیا ہے۔ یعنی نتیش کمار کا دور ختم، اور بہار میں پہلی بار بی جے پی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار۔ موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر طنز کے تیر چلائے ہیں، جو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہے ہیں۔



سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریہ نے نتیش کمار کے استعفیٰ پر اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے نتیش کمار کو ’پلٹی بازی میں دھرندھر‘ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ان کا استعفیٰ ہو ہی گیا۔ انھوں نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کے خلاف سازش کر رہے تھے۔



سوشل میڈیا پوسٹ میں روہنی لکھتی ہیں کہ ’’آخر کار ہو ہی گیا پلٹی بازی کے دھرندھر ہمارے چاچا جی کا استعفیٰ۔ بننے چلے تھےس یاست کے خلیفہ، بے بسی میں خود ہی سپرد کر آئے گورنر محترم کو اپنی سیاسی پاری کے خاتمہ کا لفافہ۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے، چاچا جی کے غم میں سچے دن سے نہیں کوئی ان کے ساتھ ہے، اوپر سے جو بھی نظر آتا ان کے ساتھ ہے، حقیقت میں وہی چاچا جی پر لگائے بیٹھا گھات ہے۔‘‘



پوسٹ کے آخر میں روہنی نے لکھا ہے کہ ’’زیادہ کیا کہوں، بس اتنا ہی کافی ہے... جھوٹی شیخی بگھارنے والے چاچا جی کی اونچی اڑان کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے، چاچا جی کے پر ان کے ہی اپنے کہے جانے والے سیاسی بہیلیے کتر گئے۔‘‘ روہنی کے ذریعہ کیے گئے اس طنزیہ پوسٹ کو صارفین نہ صرف پسند کر رہے ہیں، بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ری-پوسٹ بھی کر رہے ہیں۔



روہنی آچاریہ نے مزید ایک پوسٹ میں بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے بی جے پی کو ایک گھمنتو ہی ملا!! اپنی تاسیس کے 46 سال گزر جانے کے بعد بھی بہار میں بی جے پی کے پاس لیڈرشپ کی ایسی خشک سالی ہے کہ بی جے پی نہ تو کبھی اپنے دم پر حکومت بنا سکی، نہ ہی کبھی کسی اسمبلی انتخاب میں اپنا کوئی وزیر اعلیٰ کا چہرہ سامنے رکھ سکی، اور نہ ہی وسیع عوامی مقبولیت و شناخت والا ایک لیڈر تیار کر سکی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بہار میں بی جے پی کی سیاسی کنگالی کا عالم تو کچھ ایسا ہے کہ اب جب سالوں کی مشقت کے بعد بی جے پی نتیش کمار جی کو سازش کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹانے میں کامیاب ہوئی، تب بھی بی جے پی کسی ایسے کو وزیر اعلیٰ بنانے جا رہی ہے، جو بنیادی طور پر نہ تو ناگپوریا نرسری سے ہے اور نہ ہی بہار بی جے پی کی بنجر بگیا سے۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ’’بغیر قسم پوری کیے مریٹھا کھولنے، فرضی ڈگری، فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ والا وزیر اعلیٰ مبارک ہو بی جے پی والوں...۔‘‘


سمراٹ چودھری ہوں گے بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ، گورنر کو حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا




بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔ اس بات پر اُس وقت مہر لگ گئی، جب بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں انہیں لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس میٹنگ میں وجے سنہا نے ان کے نام کا اعلان کیا۔ میٹنگ میں ریاستی صدر سنجے سراوگی اور بی جے پی کے مبصر شیوراج سنگھ چوہان موجود تھے۔ سمراٹ چودھری کے نام کی حمایت دلیپ جیسوال اور منگل پانڈے نے بھی کی۔ بعد ازاں سمراٹ چودھری نے بہار کے گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات کر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کر دیا۔ گورنر نے ان کا یہ دعویٰ قبول کر لیا ہے اور 15 اپریل کی صبح 11 بجے حلف برداری تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تقریب میں سمراٹ چودھری بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیں گے اور ان کے ساتھ بہار کی نئی کابینہ کے کچھ اراکین کی بھی حلف برداری ہوگی۔




بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سمراٹ چودھری کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ذریعہ مجھ پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے بہار بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی، اس کے لیے میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ بہار کی عوام کی خدمت، ان کے اعتماد اور خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کا عزم لیتا ہوں۔‘‘




واضح رہے کہ نتیش کمار نے منگل (14 اپریل) کو گورنر ہاؤس پہنچ کر اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ وہ سمراٹ چودھری اور وجے چودھری کے ساتھ ایک ہی گاڑی سے راج بھون پہنچے تھے۔ نتیش کمار نے 20 نومبر 2025 کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ آج 14 اپریل کو استعفیٰ دینے کے بعد یہ مدت کار 145 دنوں کی ہوئی، یہ دوسری بار ہے جب نتیش کمار انتہائی کم مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس سے قبل 2000 میں انہوں نے 3 مارچ کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا تھا، لیکن 10 مارچ کو ہی انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔


آج صبح سے ہی بہار میں سیاسی ہلچل کافی تیز تھی۔ صبح صبح وزیر اعلیٰ کی رہائش پر سنجے جھا، وجے چودھری اور للن سنگھ پہنچے تھے۔ اس کے بعد سمراٹ چودھری بھی وہاں پہنچے۔ تقریباً نصف گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وجے چودھری، سمراٹ چودھری اور نتیش کمار ایک ہی گاڑی سے وزیر اعلیٰ کی رہائش سے باہر نکلے۔ گاڑی کی اگلی سیٹ پر وجے چودھری بیٹھے تھے، جبکہ پیچھے کی سیٹ پر سمراٹ چودھری اور نتیش کمار موجود تھے۔



قابل ذکر ہے کہ آخری کابینہ میٹنگ میں نتیش کمار جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں جب وہ حکومت میں آئے، تب سے جہاں تک ممکن ہوا انہوں نے کام کیا اور نئی حکومت کو ان کی رہنمائی ملتی رہے گی۔ اس میٹنگ کے بعد کئی وزراء نے نتیش کمار کی مدت کار کو تاریخی قرار دیا۔


اب لوک سبھا میں 543 کی جگہ ہوں گی 850 نشستیں

 




مرکزی حکومت نے ملک کے جمہوری ڈھانچے میں بڑی تبدیلی لانے والے 3 اہم بلوں کا مسودہ اراکین پارلیمنٹ کو دیا ہے۔ مرکزی حکومت آئین (131ویں ترمیم) بل، حد بندی بل اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ قانون (ترمیم) بل 2026 جلد پاس کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ تینوں بل آئندہ مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا سیٹوں کی تعداد بڑھا کر 850 کرنے، انتخابی حلقوں کی نئے سرے سے حد بندی اور خواتین ریزرویشن کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ حکومت کے اس قدم کے ساتھ ہی کئی دہائیوں سے زیر التوا سیٹوں کی تنظیم نو اور لسانی و علاقائی نمائندگی کے نئے نظام کی باقاعدہ منظوری کا عمل شروع ہو گیا ہے۔


واضح رہے کہ یہ تینوں بل ہندوستان کے سیاسی ڈھانچے اور سیٹوں کی حد بندی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تجویز پیش کرتے ہیں:


آئین (131ویں ترمیمی) بل 2026 (بل 107):

یہ بل لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ 815 (ریاستوں سے) اور 35 (مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے) تک بڑھانے کا التزام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آبادی کی تعریف کو تبدیل کرتا ہے تاکہ انتخابی حلقوں کی از سر نو ترتیب پارلیمنٹ کے ذریعہ طے شدہ تازہ ترین مردم شماری کی بنیاد پر کی جا سکے۔


حد بندی بل 2026 (بل 108):

یہ تازہ ترین مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی سیٹوں کی تقسیم اور انتخابی حلقوں کی تقسیم کے لیے ایک حد بندی کمیشن کی تشکیل کا التزام کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ یا سابق جسٹس کمیشن کے صدر ہوں گے۔


مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل 2026 (بل 109):

یہ بل پڈوچیری، دہلی اور جموں و کشمیر کے قوانین میں ترمیم کرتا ہے تاکہ انہیں نئے حد بندی قوانین اور خواتین کے ریزرویشن (آئین کی دفعہ 334اے) کے مطابق بنایا جا سکے۔ اس کے تحت پڈوچیری میں نامزد اراکین کی تعداد بڑھا کر 5 کرنے کی تجویز ہے، جن میں 2 خواتین ہوں گی۔



اراکین پارلیمنٹ کو سونپے گئے تینوں بل (آئین ترمیم، حد بندی اور مرکز کے زیر انتظام قانون) یہ واضح کرتے ہیں کہ ہندوستان کی انتخابی سیاست اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کی دہلیز پر ہے۔ آئین (131 ویں ترامیم) بل 2026 کے مطابق لوک سبھا کے اراکین کی تعداد بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں 815 اراکین ریاستوں سے اور 35 مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ہوں گے۔ فی الحال لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 550 (543 موثر) ہیں۔ 300 سے زائد سیٹوں کا یہ اضافہ گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی جمہوری توسیع ہے۔ اب تک سیٹوں کی تقسیم 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر اٹکی ہوئی تھی۔ بل 107 کے ذریعہ دفعہ 82 اور 170 میں ترمیم کی تجویز ہے۔ اس کے تحت آبادی کا مطلب وہ نئی مردم شماری ہوگی جس کے اعداد و شمار پارلیمنٹ کے ذریعہ طے کیے جائیں گے۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ 2026 کے کے بعد ہونے والی پہلی مردم شماری ہی نئی سیٹوں کی تقسیم کی بنیاد بنے گی۔


حد بندی بل 2026 (بل 108) ایک طاقتور حد بندی کمیشن کی تشکیل کا راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ کمیشن طے کرے گا کہ آبادی کے تناسب سے کس ریاست کو کتنی اضافی سیٹیں ملیں گی۔ اس میں عدالتی اور انتظامی شفافیت کو برقرار رکھنے لیے سپریم کورٹ کے ججوں اور الیکشن کمیشن کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیشن شمالی اور جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کے درمیان آبادی پر مبنی نمائندگی کے عدم توازن کو بھی ختم کرے گا۔ تیسرا بل (109) مرکز کے زیر انتظام علاقوں (دہلی، پڈوچیری، جموں و کشمیر) کے قوانین میں تبدیلی لاتا ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ 106ویں آئینی ترمیم (ناری شکتی وندن ادھینیم) کے تحت 33 فیصد خواتین ریزرویشن نئی حد بندی کے ساتھ نافذ ہو۔ اس میں پڈوچیری جیسے علاقوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے خصوصی التزام کیے گئے ہیں۔


مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا

 



نوئیڈا کی کئی کمپنیوں کے ملازمین اس وقت سراپا تحریک نظر آ رہے ہیں۔ اتر پردیش کی حکومت نے کم از کم تنخواہ میں 3 ہزار اضافہ کرنے کا اعلان ضرور کر دیا ہے، لیکن ملازمین کی ناراضگی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس لگاتار ملازمین کے مطالبات کی حمایت کر رہی ہے اور ان کی تحریک کو حق بہ جانب ٹھہرا رہی ہے۔ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کرے گی۔



اس معاملہ میں کانگریس لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ ادت راج نے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں کچھ اہم حقائق سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نوئیڈا میں کل ملازمین کی تحریک ہوئی۔ کچھ دن قبل ہی ہریانہ کے مانیسر میں بھی مظاہرہ ہوا تھا۔ کانگریس نے مزدوروں کے مفاد کے لیے لیبر لاء بنائے، لیکن بی جے پی کی حکومت ان قوانین کو ختم کرتے ہوئے 4 لیبر کوڈ لے آئی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایک دہائی قبل مزدور ٹریڈ یونینوں سے اپنی بات منوانے کے لیے ہڑتال کرتے تھے، جس سے ملک متاثر ہوتا تھا اور حکومتیں ان سے بات کرتی تھیں۔ لیکن اب ماحول بدل چکا ہے۔ آج ان 4 لیبر کوڈ کی آڑ میں مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہے۔‘‘




مزدوروں کے موجودہ مشکل حالات کا ذکر کرتے ہوئے اُدت راج نے کہا کہ ’’نوئیڈا میں مزدوروں کو ہر ماہ تقریباً 12 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، جس میں 6-5 ہزار روپے کرایہ میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ بچے ہوئے پیسوں میں بچوں کی پڑھائی، کھانا اور باقی خرچ پورے کرنے ہوتے ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ایک خاتون مزدور کی حالت زار کا ذکر بھی پریس کانفرنس میں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے سوشل میڈیا پر ایک خاتون کی ویڈیو دیکھی، جو کہہ رہی تھی کہ وہ اپنے بیمار بچے کو 2 دن کے وقفہ میں دوا دیتی ہے، تاکہ دوا بچی رہے۔‘‘ یہ ذکر کرنے کے بعد انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہی امرت کال ہے؟ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’کل احتجاجی مظاہرہ کے بعد یوپی حکومت نے تنخواہ میں تھوڑا اضافہ کیا ہے، جس میں مہنگائی بھتہ شامل ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔‘‘



اُدت راج نے مزدوروں کو درپیش مسائل کے لیے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ منریگا کو کمزور بنائے جانے کے سبب مزدوروں کا انحصار ان ملازمتوں پر بڑھ گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مزدوروں کا انحصار ان ملازمتوں پر کیوں بڑھا، کیونکہ منریگا نے دم توڑ دیا ہے۔ منریگا کے ہونے سے مزدور کی اتنی بے بسی نہیں ہوتی تھی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی حکومت نے وی بی-جی رام جی منصوبہ لانے سے قبل ہی منریگا کو کمزور کرنا شروع کر دیا تھا۔ منریگا کے ختم ہونے سے مزدوروں کا استحصال بڑھا ہے، ان کی تکلیف بڑھی ہے اور صنعت کاروں کا منافع بڑھا ہے۔‘‘




پریس کانفرنس میں اُدت راج نے مزدورں کے ساتھ مالکوں کے رویہ کی بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملازمین کی تنخواہ سے پی ایف کے نام پر پیسہ کاٹ لیا جاتا ہے، لیکن کمپنی مالکان کے ذریعہ جمع نہیں کیا جاتا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’نوئیڈا میں افسران جس طرح ملازمین سے بات کر رہے تھے، صاف نظر آ رہا ہے کہ استحصال کی پوری تیاری ہے۔‘‘ اپنی باتیں رکھنے کے بعد کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ ’’کیا یہی ہے ’وِکست بھارت‘ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘؟ ی ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ آخر اتنی کم تنخواہ میں کسی مزدور کا گھر کیسے چل پائے گا؟‘‘


ایران نے 5 عرب ممالک سے ہرجانہ کا کیا مطالبہ



اسرائیل و امریکہ کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں نے تباہی کا ایک دردناک منظر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مذاکرات کی کوششیں جاری ضرور ہیں، لیکن یہ جنگ فی الحال ختم ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس درمیان ایران نے 5 عرب ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے علاقوں کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اسی اجازت کے سبب امریکہ و اسرائیل کو طاقت ملی، اور اس نے حملوں کا ایک دراز سلسلہ شروع کر دیا۔


’پریس ٹی وی‘ کے مطابق ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اردن کے ذریعہ معاوضہ سے متعلق کیے گئے مطالبات کو خارج کر دیا ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس اور سیکورٹل کونسل کے سربراہ جمال فاریس الرووائی کو اس سلسلے میں ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں کہا ہے کہ عرب ممالک نے اپنے علاقوں کو کھول کر امریکہ و اسرائیل کی مدد کی ہے۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حملہ کا شکار ہوا ہے، اور اپنی حفاظت کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کر رہا ہے۔



قابل ذکر ہے کہ امریکی بحریہ نے پیر سے سبھی ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ اس سے ایران سخت ناراض ہو گیا ہے۔ جواب میں ایران نے خلیج فارس اور خلیج عمان کے سبھی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ اس سے دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی ناکام ہونے اور جنگ پھر سے شروع ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔


انتخاب ختم ہوتے ہی پٹرول 18 روپے اور ڈیزل 35 روپے تک ہو سکتا ہے مہنگا

 






غیر ملکی بروکریج فرم ’میکویری‘ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں آئی بھاری تیزی کا بوجھ اب گھریلو تیل کمپنیوں (او ایم سی) کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں، لیکن اس سے کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں واراننگ دی گئی ہے کہ مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخاب ختم ہوتے ہی کمپنیاں قیمتوں میں بڑا اضافہ کر سکتی ہیں۔


گزشتہ 46 دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ 27 فروری کو جو خام تیل 73 ڈالر فی بیرل پر تھا وہ 19 مارچ کو 120 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور فی الحال 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر کا اضافہ ہندوستانی کمپنیوں کے نقصان میں 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرتا ہے۔



واضح رہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود قیمتیں نہ بڑھنے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو پٹرول پر 18 روپے اور ڈیزل پر 35 روپے فی لیٹر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ یہ نقصان 2400 کروڑ یومیہ تک پہنچ گیا تھا، جو ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے کی تخفیف کے بعد اب 1600 کروڑ روپے یومیہ پر ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ سرکاری ریونیو میں تیل پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی کا حصہ جو 2017 میں 22 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس قیمتوں کو مزید کم کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔


ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، جس میں سے 45 فیصد مشرق وسطیٰ اور 35 فیصد روس سے آتا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔



قابل ذکر ہے کہ یہ مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اگست 2022 کے بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن کے پار نکل گئی ہے۔ ہندوستان کے پڑوسی ممالک پاکستان، نیپال اور سری لنکا پہلے ہی اپنی گھریلو قیمتوں میں بھاری اضافہ کر چکے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان میں انتخاب کے بعد قیمتوں میں اضافے کا امکان کافی قوی نظر آ رہا ہے۔


Monday, 16 March 2026

ایک نیا مشرق وسطیٰ


زید بن کمی



امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے سے دو روز قبل میں نے ایک کالم لکھا تھا۔ جس کا عنوان 'تیس سال بعد مشرق وسطیٰ کیسا نظر آئے گا؟' کوشش یہ تھی کہ حالات کے دھارے کی اس تیز رفتاری کے نتائج اور اثرات کو سمجھا جائے۔ کیونکہ یہ خطہ ایک عرصے سے استحکام کی کمزوری کے بعض مسائل کا شکار چلا آرہا ہے۔ اس میں کئی ایسے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں جو اچانک اور غیر متوقع خرابی کا موجب ہوئے۔


لیکن اب جنگ کے تیزی سے چلنے والے پہیوں نے حقیقت میں حالات کا رخ موڑ دیا ہے۔ اب یہ سوال پہلے سے بھی زیادہ فوری اور واضح شکل میں سامنے آکھڑا ہے۔ موجودہ جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ کس سمت میں ہوگا؟


اس تناظر میں اس سے پہلے کہ ہم یہ سوال اٹھائیں کہ جنگ کا خاتمہ کب ہو گا یا جنگ کے بعد کیسے حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک سادہ سا سوال یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ جنگ شروع کیوں ہوئی؟ بہت سے لوگ جنگ کے سبب کو زیر بحث لانے میں ایرانی جوہری پروگرام کو جوڑتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک ایران سے اسرائیل کو لاحق خظرہ اس جنگ کا سبب بنا ہے۔ اس دوسرے سبب کو اہم جاننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کے بعد اسرائیل کو ایران سے بطور خاص خطرہ محسوس ہونے لگا تھا۔


ان دونوں نکتہ ہائے نظر کے علاوہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ ایرانی جوہری پروگرام نہیں تھا بلکہ وہ سوچ اور فکر بنی ہے جو ایران پر پچھلی تقریبا پانچ دہائیوں سے حکمرانی کرتی چلی آرہی ہے۔ حکمرانی کی یہ ذہنیت اپنے انقلاب کو ایک سیاسی نظریے اور منصوبے کے طور پر برآمد کرنے، علاقائی سطح پر موجود اپنے اثر و رسوخ کو اپنے خیالات اور طرز سیاست کی توسیع کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اس سوچ کو خطے میں ایک مستقل تصادم اور کشیدگی کا ذریعہ بنائے رکھنے کی کوشش میں رہی۔


میرے خیال میں یہ ذہنیت انقلاب کے بانی خمینی اور مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دور تک بھی تبدیل نہ ہو سکی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اب نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں بھی اسی طرح جاری رکھنے کی کوشش کی جائے۔ کیونکہ سالہا سال کی اقتصادی پابندیوں کے باوجود سوچ اور ذہنیت تبدیل نہں ہو سکی ہے۔ ایران معاشی اعتبار سے مکمل طور پر تنہا ہو کر رہ گیا، حتیٰ کہ دنیا میں بہت سی اور بڑی بڑی تبدیلیاں آتی رہیں مگر ایران وہیں پڑا رہا۔


علاقے کے دوسرے ملک اپنے ہاں ترقی و استحکام کی دوسری ترجیحات کے لیے آگے بڑھتے رہے جبکہ ایران ایک مختلف سمت اور الگ نوعیت کی مساوی کے پیچھے لگا رہا۔ استحکام سے پہلے تحفظ اور ترقی سے پہلے تصادم ایران کی حکمت عملی رہی۔


اس وجہ سےعلاقے کو ایک ایسی کشیدگی کا سامنا کرنا پڑا جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ ایران نے 3000 سے زائد میزائل اور ڈرونز علاقے میں داغے ہیں۔ ان میزائلوں اور ڈرونز کا ہدف خلیج ممالک بنے۔ خلیجی ممالک کی توانائی سے متعلق تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ میزائل بمباری اس کے باوجود کی گئی کہ ان ملکوں نے ایران کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ وہ امریکہ کو ایران پرحملہ آور ہونے میں کسی بھی طرح کی سہولت یا مدد نہیں دیں گے۔ یوں ان کی زمینی و فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی۔


ان میں کئی ممالک نے نہ صرف یہ واضح اعلان کر رکھا تھا بلکہ وہ کشیدگی کم کرنے اور افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لیے بھی کوشاں رہے۔ جیسا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بیجنگ معاہدے کے تحت بھی کوششیں سامنے آچکی تھیں۔


کئی خلیجی ملک ایسے بھی رہے جنہوں نے خطے میں معاشی میدان میں ایسے انیشٹو لیے جو ان کی بقائے باہمی کے جذبے کے آئینہ دار تھے۔ جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے سالہا سال تک ایران کے لیے معاشی شعبے میں حیات آفریں اقدامات کیے۔ یہ اس کے باوجود کیے کہ ایران سخت اقتصادی پابندیاں بھگت رہا تھا۔ اسی طرح قطر نے تہران کے ساتھ نمایاں تعلقات کی کوشش کی۔ اومان نے تو ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔


لہٰذا ایران کی طرف سے جاری جنگ کے دوران خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانا سیاسی اور تذویراتی دونوں اعتبار سے کافی غیر منصفانہ رہا۔ مگر اصل سوال اس خاص ذہنیت کے حوالے سے ہے جو اپنے پسندیدہ نظام کو دوسروں پر مسلط کرنے سے جڑی ہوئی ہے۔ کہ دوسرے ملک اور ان کی عوام بھی ایک سوچ اور فکر کے تابع ہو کر اپن زندگی اور نظام کار تشکیل دیں۔ ایران بھی یہی کرتا رہا ہے کہ اس میں اس ذہنیت کی حامل حکمرانی رہی ہے۔


خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانے سے ایرانی طاقت میں اضافہ ہرگز نہیں ہوا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے نئے محاذ کھول لیے ہیں۔ اس منظر نامے کی وجہ سے ایک اور سوال پیدا ہوگیا ہے کہ آج کے ایران کو اس چیز سے زیادہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی نئی قیادت زیادہ مدبرانہ انداز کی حامل ہو۔ ایسی قیادت جو یہ سمجھتی ہو کہ اکیسویں صدی اب میزائلوں کی زیادہ تعداد کی بنیاد پر آگے بڑھنے والی نہیں رہی ہے۔ یہ بھی اہم نہیں رہا ہے کہ کس ملک نے کتنے زیادہ میزائل داغے۔ اصل ضرورت جو اس اکیسویں صدی کی ضرورت ہے وہ ایک پیداواری معیشت کی تشکیل ہے، سیاسی استحکام ہے اور اپنے اردگرد کے ملکوں کے ساتھ سفارتی میدان میں متوازن تعلقات کا اہتمام اور ماحول ہے۔


یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ایران ایسا ملک نہیں جسے وسائل کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس کے پاس معاشی استحکام اور ترقی کے لیے تمام بنیادی عناصر موجود ہیں جو ایران کو ایک بڑی معیشت بنانے کے لیے کافی ہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی معاشی قوت بننے کی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے۔ اس کا جغرافیائی محل وقوع تذویراتی حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اس کی اپنی منڈی بھی وسیع تر ہے کہ یہ آٹھ نو کروڑ کی آبادی کا ملک ہے۔ کثیر جہتی توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے۔ لیکن اس کے یہ وسائل اور ان کا استعمال دہائیوں سے اس خاص سیاسی ویژن کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں جو ملک کی اندرونی ترقی سے زیادہ علاقے میں اثر و رسوخ کو اہم سمجھتے ہیں اور اسی کو اپنی اندرونی ترقی و استحکام کا متبادل سمجھتے ہیں۔


مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تناظر کی طرف پلٹتے ہوئے کہ آج اس خطے میں کیا ہو رہا ہے یہ محض ایک جنگ نہیں ہے۔ بلکہ ہو سکتا ہے یہ خطے کی نئی صورت گری کا آغاز ہو۔ جس میں نئے تزویراتی ماحول کی تشکیل ہو۔ جیسا کہ امریکی مؤرخ جون لیوس گادیس نے ذکر کیا ہے کہ بڑی جنگیں عام طور پر تصادم اور کشیدگی کے خاتمے کا ذریعہ نہیں بنتیں بلکہ یہ تذویراتی ماحول کی تشکیل نو کا باعث بنتی ہیں۔


دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ علاقائی سطح پر ایک مختلف منظر نامے کا سبب بنے گا جو اس سے پہلے یہاں موجود نہیں تھا۔ اسے بیان کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں جاری ان گفتگوؤں کو دیکھا جا سکتا ہے جو 'ایک نیا مشرق وسطیٰ' کے گرد گھومتی ہیں۔ 'ایک نیا مشرق وسطیٰ' کی اصطلاح نئی نہیں ہے۔ امریکی سیاسی بحثوں اور کتب میں دہائیوں سے یہ موضوع موجود رہا ہے۔ تاہم یہ منظر پر نمایاں اس وقت ہوا جب خطے نے اپنے آپ کو بڑی ٹرانسفارمیشن کے دور میں داخل کیا۔


اس کی تہہ میں مرکزی خیال خطے میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے دیکھنا ہے۔ اس میں خطے کے معاشی نیٹ ورکس، سلامتی سے متعلق اتحادوں کو اہمیت دی جاتی ہے بجائے اس کے تصادم کی محوری علامتوں کو۔ امریکی محقق کینتھ پولوک نے بھی اس امر کا جائزہ لیا ہے کہ خطے میں بتدریج معاشی شراکت داری اور سلامتی سے متعلق ارتباط و تعلق کا حوالہ امریکی حکمت عملی بن رہی ہے۔ بجائے اس کے کہ امریکہ نا ختم ہونے والی کشیدگی کو مینیج کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ اس پس منظر میں مشرق وسطیٰ کا یہ علاقہ ریاستی گورنرز کے مختلف ماڈلز کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلا ماڈل یہ کہا جا سکتا ہے کہ اثر و رسوخ میں اضافہ، کھلے تصادم اور کشیدگی سے جنم لیتا ہے۔ اس کے لیے مسلح پراکسیز کا نیٹ ورک ضروری ہوتا ہے۔ نیز جغرافیائی وسعت اور دوسروں پر سیاسی غلبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرا ماڈل سیاسی غلبے اور تصادم کی بجائے ترقی و استحکام اور علاقائی سطح پر معاشی شراکت داری پر مبنی ہے۔


پہلے ماڈل کو دیکھا جائے تو یہ علاقے کو آگ کے شعلوں کی طرف دھکیلتا ہے۔ جو خطے کو ایک تسلسل کے ساتھ جنگوں کے لیے ذرخیز بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاکہ انتہا پسندی اور زیادہ انتہا پسند جنم لے سکیں۔ جس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے خطرات ابھرتے رہیں۔ جبکہ دوسرا ماڈل دلیرانہ فیصلوں کی توقع کرتا ہے۔ تاکہ علاقائی سطح پر پائے جانے والے تنازعات کو طے کیا جائے۔ اس کا آغاز فلسطین و اسرائیل کے تنازعے سے ہو سکتا ہے کہ ملکوں کے درمیان نارمل تعلقات کے لیے دروازے کھولے جائیں۔ ایسی صورت میں ترقی، سیاسی جائزیت کے لیے انتہائی بنیادی ذریعہ بنیں گی اور وہ پیمانے جن پر ریاستیں اپنی صلاحیتوں کا اندازہ کرتی ہیں اور کامیابیوں کی طرف بڑھنے اور استحکام کی پیمائش کرتی ہیں۔ ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ علاقے میں کوئی بھی ایسا نظم یا نظام استحکام نہیں پا سکتا جب تک کہ اس کا جنم یا اظہار خود اسی علاقے سے تعلق نہ رکھتا ہو۔


یہی بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ آیا مشرق وسطیٰ ابھر سکے گا۔ اس کا جواب صرف اگلے برسوں میں ہی مل سکے گا۔ لیکن جو چیزیں پہلے سے واضح اور صاف دکھائی دیتی ہیں کہ خطہ ایک گہری ٹرانسفارمیشن کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والے وقتوں میں خطے کے بارے میں فیصلہ سازی کی میز پر صرف وہ ریاستیں نہیں ہوں گی جو تنازعات کو مینیج کرنے کی ماہر ہوں گی بلکہ وہ بھی میز پر اہم کردار ادا کر سکیں گے جنہوں نے بر وقت یہ سمجھ لیا تھا کہ ترقی کسی بھی جنگ سے زیادہ طاقتور چیز ہوتی ہے۔


 ٹرمپ جزیرہ خرج میں ایرانی تیل پر قبضے پر غور کر رہے ہیں : رپورٹ

امریکی ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے نہ کھولا گیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جزیرہ خرج میں ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔






حکام نے اشارہ دیا کہ اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے زمین پر امریکی افواج کی موجودگی درکار ہوگی، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک اہل کار نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق بعض حکام کا ماننا ہے کہ جزیرہ خرج کے تیل پر کنٹرول ایران کے لیے ایک سخت معاشی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ اس کے تیل کی برآمد کا اہم ترین مرکز ہے۔


یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی بحریہ کے ماتحت کام کرنے والے ادارے 'یو کے ایم ٹی او' (UKMTO) نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ حملوں، جہاز رانی میں مداخلت اور مسلسل عملیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں خطرہ اب بھی برقرار ہے، اگرچہ گذشتہ تین دنوں میں کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ ادارے نے واضح کیا کہ تین ہفتے قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے گرد و نواح میں کم از کم بیس بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔


آبنائے ہرمز کی لمبائی تقریباً 212 کلومیٹر اور چوڑائی 33 سے 55 کلومیٹر کے درمیان ہے، جبکہ اس کی گہرائی 60 سے 100 میٹر تک ہے۔ یہ خصوصیات بڑے بحری جہازوں کے گزرنے کے لیے محفوظ راستے کو انتہائی تنگ بنا دیتی ہیں۔ یہ آبنائے خلیج عرب کو بحیرہ عمان اور بحر ہند سے جوڑتی ہے، جس کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان کا جزیرہ نما مسندم اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔


جہاز رانی کے اعتبار سے اس مقام سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے، ساتھ ہی مائع قدرتی گیس (LNG)، یوریا، ہیلیئم اور ایلومینیم کی بڑی مقدار بھی یہیں سے گزرتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور خود ایران (جن کی بندرگاہیں آبنائے سے باہر بھی ہیں) کے علاوہ قطر، کویت، عراق اور بحرین جیسے ممالک اپنی بیرونی تجارت کے لیے مکمل طور پر اسی آبنائے پر منحصر ہیں۔


ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس نے مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ گذشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ جو ممالک خلیجی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس آبنائے کی حفاظت کریں جہاں سے عالمی توانائی کا 20 فی صد حصہ گزرتا ہے۔


فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا "میں ان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مداخلت کریں اور اپنے علاقوں کی حفاظت کریں، کیونکہ یہ ان کا علاقہ ہے... یہ وہ جگہ ہے جہاں سے وہ اپنی توانائی حاصل کرتے ہیں۔"


ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں سات ممالک سے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ان کے نام نہیں بتائے۔ البتہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک اس میں شریک ہوں گے۔


Sunday, 15 March 2026



شام ڈھلتے ہی پٹنہ کے  بازاروں کی رونق دوبالا

پٹنہ، — ماہِ رمضان اپنے اختتام کے قریب ہے اور عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر بازاروں میں خریداری کا زور بڑھ گیا ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں میں ان دنوں خریداروں کا خاصا ہجوم دیکھنے کو مل رہا ہے۔


شام ڈھلتے ہی بازاروں کی رونق دوبالا ہو جاتی ہے اور لوگ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں کپڑے، جوتے اور دیگر ضروری اشیا کی خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر سبزی باغ، کھیتان مارکیٹ، پٹنہ مارکیٹ، ہتھوا مارکیٹ، باقر گنج، گاندھی میدان، راجہ بازار، بورنگ روڈ، عالم گنج، سلطان گنج، اور پھلواری شریف کے بازاروں میں شام کے وقت غیر معمولی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔



دکانداروں کے مطابق عید قریب آنے کے ساتھ ہی خریداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور رات گئے تک بازاروں میں چہل پہل برقرار رہتی ہے۔ شہر کے بیشتر بازار ان دنوں عید کی تیاریوں کے باعث روشنیوں اور گہما گہمی سے جگمگا رہے ہیں۔