Sunday, 10 August 2025

اگر محکمہ صحت نے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) نہ دیا ہوتا تو مسٹر جیسوال کے میڈیکل کالج کو ’ڈیمڈ‘ یونیورسٹی کا درجہ نہیں ملتا : پرشانت کشور

 

نالندہ، : جنسوراج کے بانی پرشانت
کشور نے بہار حکومت کے وزیر صحت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر منگل پانڈے کے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ 2022 میں ایمبولینس کی خریداری میں ابھی تک کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔

مسٹر کشور نے کہا کہ مسٹر پانڈے کا یہ دعویٰ کہ ایمبولینس فراہم کرنے والی کمپنی کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ہے غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں ایمبولینس کی خریداری میں تقریباً 100 کروڑ کی ادائیگی کی گئی ہے اور معاملہ عدالت میں جانے کی وجہ سے باقی ادائیگی پر روک لگی ہوئی ہے۔

مسٹر کشور نے دہلی کے دوارکا میں مسٹر پانڈے کی اہلیہ کے نام 86 لاکھ روپے میں خریدے گئے فلیٹ کا معاملہ دوبارہ اٹھایا اور کہا کہ مسٹر پانڈے نے کم از کم یہ تسلیم کیا ہے کہ 25 لاکھ روپے کا لین دین ہوا ہے۔ اب وزیر کو بتانا چاہیے کہ انہوں نے یہ رقم خود کیوں نہیں لی بلکہ اپنے والد کے نام پر ٹرانسفر کروا کر دوبارہ اپنے والد سے اپنی اہلیہ کے نام کیوں بھیجی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تو صرف 25 لاکھ کی بات ہوئی ہے۔ وہ جلد ہی انکشاف کریں گے کہ باقی 61 لاکھ کہاں سے آئے۔

غور طلب ہے کہ مسٹر کشور کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے مسٹر پانڈے نے کہا تھا کہ انہوں نے 2019 میں بہار بی جے پی کے صدر دلیپ جیسوال سے رقم لی تھی، لیکن انہوں نے یہ رقم پونے پانچ سال پہلے چیک کے ذریعے واپس کر دی تھی۔

مسٹر پانڈے نے مسٹرکشور کے اس سوال کا بھی جواب دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسٹر پانڈے نے مسٹر جیسوال کے کشن گنج میں واقع میڈیکل کالج کو’ڈیمڈ‘یونیورسٹی کا درجہ تحفہ لیکر دلوایا تھا۔ وزیر صحت نے کہا تھا کہ میڈیکل کالج کو ’ڈیمڈ یونیورسٹی‘کا درجہ دینے میں حکومت بہار کی وزارت صحت کا کوئی کردار نہیں ہے۔

جنسوراج کے لیڈر نے اس پر ایک بار پھر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر محکمہ صحت نے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) نہ دیا ہوتا تو مسٹر جیسوال کے میڈیکل کالج کو ’ڈیمڈ‘ یونیورسٹی کا درجہ نہیں ملتا۔

وجے سنہا کے پاس دو ای پی آئی سی نمبر ، الیکشن کمیشن جواب دے : تیجسوی



پٹنہ، 10 اگست: بہار اسمبلی میںاپوزیشن لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے آج الزام لگایا کہ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر وجے کمار سنہا کا نام بہارمیں خصوصی گہری نظرثانی( ایس آئی آر ) کے بعد جاری کردہ مسودہ فہرست میں دو جگہوں پر درج ہے۔ اس سلسلے میںانہوںنے الیکشن کمیشن سے کاروائی کامطالبہ کیا ہے ۔ 

مسٹر یادو نے آج نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ایس آئی آر کے بعد اس ماہ کے شروع میں جاری کردہ مسودہ فہرست میں مسٹر سنہا کا نام دو جگہوں، لکھی سرائے اور بانکی پور اسمبلی حلقہ میں درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر سے پہلے اور بعد کے دونوں حالات میں مسٹر سنہا دو اضلاع میں ووٹر ہیں اور ان کے نام پر دو ای پی آئی سی جاری کئے گئے ہیں۔ یہی نہیں دونوں جگہ ان کی عمر بھی مختلف لکھی گئی ہے۔ لکھی سرائے اسمبلی میں ان کی عمر 57 سال اور پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی میں 60 سال درج ہے۔ مسٹر یادو نے سوال کیا کہ کیا بہار کے نائب وزیر اعلی نے بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) سے ملاقات کی اور دو جگہوں پر دو ووٹر فارم پر دستخط کئے۔ اگر یہ سچ ہے تو الیکشن کمیشن انہیں نوٹس بھیج کر قانونی کارروائی کرے اور اگر مسٹر سنہا نے دستخط نہیں کیے تو ان کی طرف سے فارم پر کس نے دستخط کیے ہیں۔ اگر دستخط جعلی ہے، تو ایس آئی آر کا پورا عمل شک کے دائرے میں آتا ہے اور اسے منسوخ کر دینا چاہیے۔

بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق مسٹر سنہا کا نام ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی دو اضلاع لکھی سرائے اور پٹنہ کی ووٹر لسٹ میں شامل ہے، اس لیے اس بات کی جانچ ہونی چاہیے کہ کیا نائب وزیر اعلیٰ نے دو جگہوں پر ووٹ کا استعمال کیا تھا۔

مسٹر یادو نے 2 اگست کو منعقدہ اپنی پریس کانفرنس کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی میرا نام دو جگہوں پر آیا، میرے جواب دینے سے پہلے ہی میرے خلاف پروپیگنڈہ شروع ہوگیا اور مجھے جیل بھیجنے کی بات بھی ہوئی۔ مجھے الیکشن کمیشن کا نوٹس اسپیڈ پوسٹ کے ذریعے 8 اگست کو موصول ہوا اور میں نے اسی دن اپنا جواب بھیج دیا۔ اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا الیکشن کمیشن مسٹر سنہا کو بھی ایسا ہی نوٹس بھیجے گا اور قصوروار پائے جانے پر قانونی کارروائی کرے گا۔ دوسری طرف، اگر مسٹر سنگھ نے فارم پر دستخط نہیں کیے ہیں، تو الیکشن کمیشن اپنی غلطی تسلیم کر کے اس عمل کو منسوخ کرے گا۔

آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ بہار کا ایک بڑا حصہ سیلاب کی زد میں ہے اور لوگ پریشان حال ہیں۔ ایسے وقت میں اس ووٹر نظرثانی کا وقت ہی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے نام حذف کیے گئے ہیں وہ یا تو اپنی جان بچائیں یا الیکشن کمیشن سے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کیلئے گہار لگائیں۔

مسٹر یادو نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ قواعد کے مطابق 2003 سے پہلے ووٹر لسٹ میں رجسٹرڈ شہریوں سے کوئی دستاویز نہیںطلب کرنا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے ووٹروں سے بھی دستاویزات اور خاندانی معلومات کا مطالبہ کرکے بھی پریشان کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ بی جے پی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔ کمیشن اپوزیشن کے اعتراضات پر کسی قسم کی سماعت کے لیے تیار نہیں۔ بار بار کی درخواستوں کے باوجود کمیشن ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے 65 لاکھ ناموں کے بوتھ اور ای پی آئی سی نمبر جاری نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سائٹ پر ڈیٹا پہلے ورڈ فائلز میں اپ لوڈ ہوتا تھا اور اب اسے امیج فائلز میں اپ لوڈ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے تاریخ نکالنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

مسٹر یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی بہار اور ملک میں بی جے پی کی جمہوریت مخالف کوششوں کے خلاف لڑتی رہے گی اور جلد ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے کی گئی مزید بے قاعدگیوں کو بڑے پیمانے پر بے نقاب کیا جائے گا۔


پارٹی کی مضبوطی کیلئے ہمیشہ لڑتے آئے ہیں اور آئندہ بھی لڑیںگے : ہیمنت کمار

 



پٹنہ: بانکی پور اسمبلی حلقہ 182 سے کانگریس کے ممکنہ امیدواراور بانکی پور بلاک صدر ہیمنت کمار ترویدی نے آج کہاکہ پارٹی کی مضبوطی کیلئے ہمیشہ سے لڑتے آئے ہیں اور آئندہ بھی لڑیںگے ۔

مسٹر دویدی نے کہاکہ ہم لوگ کانگریس کے پرانے اور وفادار کارکن ہیں۔ مسٹر راہل گاندھی کی فکر اور قیادت سے کافی متاثر ہیں ۔ آج مسٹر راہل گاندھی دن رات جمہوریت کوبچانے کیلئے کام کر رہے ہیں اوراس کے ساتھ ہی مسٹر راہل گاندھی نے پارٹی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے جس سے ہم کارکنوںکے حوصلے انتہائی بلند ہیں ۔ انہوں کہاکہ راہل جی کی سوچ کہ زمینی لیڈروں کو ترجیح دی جائے، ہمارے لیے امید کی کرن ہے ۔

انہوں نے کہاکہ این ڈی اے حکومت سے لوگ پریشان ہو چکے ہیں اس حکومت میں ہر طرف گھوٹالہ ہی گھوٹالہ ہے ۔ حکومت کے وزراءاور عوامی نمائندے عوام کی کچھ بھی نہیں سنتے صرف اپنی تجوریوںکو بھرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اگر اعلیٰ قیادت نے مجھے موقع فراہم کیا تو میں اعلیٰ قیادت کی امیدوں پر کھڑا اترنے کی پوری کوشش کروںگا اور بانکی پور پٹنہ کی عوام کی فلاح کیلئے اپنی پوری صلاحیت اور طاقت لگا دوںگا۔ جوبھی کام نہیں ہو اسے ترجیحی بنیاد پر کرنے کی کوشش کر وں گا۔

 انہوں نے ایس آئی آر میں کٹے ہوئے ناموں کے بارے میں کہاکہ ہم لوگ ایک ایک نام کو جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مسٹر راہل گاندھی کی جانب سے ووٹ چوری کے الزام پر الیکشن کمیشن کے ردعمل پر کہاکہ یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ غلطی الیکشن کمیشن کی ہے اور حلف نامہ راہل گاندھی سے مانگا جارہاے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ الیکشن کمیشن اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیتا اور اس پر کاروائی کرتا اور لوگوںکے شکوک و شبہات کو دور کرتا لیکن الٹا اس نے راہل گاندھی سے ہی حلف نامہ کا مطالبہ کر لیاجوکہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ 

انہوںنے کہاکہ ایس آئی آر کا عمل بے ضابطگیوں سے بھرا ہے ایک طرف جہاں 65لاکھ لوگوں کے نام کٹ گئے وہیں موجودہ نائب وزیراعلیٰ وجے سنہا کے دو جگہ نام پائے گئے ہیں اور اس پر حکمراں جماعت کے لوگ منہ میں دہی جما کر بیٹھ گئے ہیں جیسے کے کچھ ہوا ہی نہیں اسی جگہ تیجسوی کے خلاف پوری حکمراں جماعت پروپیگنڈے میں مصروف ہو گئی اور انہیں جیل تک بھیجنے کی بات کرنے لگے ۔ کیا اب وجے سنہا پر کے بارے میں یہ لوگ ہمت دکھائیںگے اور کہیں گے کے انہیں جیل بھیجاجائے ۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس ہی وہ پارٹی ہے جو بانکی پور سمیت پورے بہار میں عوامی مسائل پر سنجیدگی سے آواز بلند کر رہی ہے، چاہے وہ مہنگائی ہو، بے روزگاری ہو یا جمہوری اقدار پر حملے۔

 انہوں نے اعلیٰ قیادت سے اپیل کی کہ ہم لوگ زمینی سطح کے کارکن ہیں اور پارٹی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور ہمارے اعلیٰ لیڈر راہل گاندھی بھی کہتے ہیں کہ زمینی لیڈران کو ٹکٹ میں ترجیح دی جائے گی ہمیں پوری امید ہے کہ اعلیٰ قیادت زمینی کارکنان کو مایوس نہیں کرے گی اور انہیں ان کا واجب حق دے گی ۔ 


Wednesday, 6 August 2025

ماں کا دودھ قدرتی غذا اور بیماریوں سے بچاﺅ کا موثر ذریعہ: ڈاکٹر شگفتہ پروین حسین




پٹنہ :پی جی اسکالر ڈاکٹر ظفر اقبال نے پریس ریلیز کرتے ہوئے کہا کہ 29 جولائی 2026 کو گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ اپنا سو سال مکمل کرنے جا رہا ہے۔اسی ضمن میں آج بروز بدھ6اگست 2025”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی پر بیداری مہم منعقد ہوا،جو اسی سو سالہ جشن کی ایک کڑی ہے۔بریسٹ فیڈنگ ویک کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں شعبہ ماہیت الامراض کے زیر اہتمام 2 اگست سے 7 اگست تک ”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی پر بیداری مہم “ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پروگرام میں پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمٰن کی شمولیت اور ان کی رہنمائی نے نہ صرف محفل کو وقار بخشا بلکہ تقریب کو مزید موثر اور کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔


بریسٹ فیڈنگ آگاہی مہم میں شعبہ ماہیت الامراض کے صدر ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی محنت اور قیادت قابلِ ستائش ہے۔ ان کی نگرانی اور رہنمائی میں یہ بیداری مہم کامیابی سے جاری ہے۔ وہ پوری ٹیم کے ساتھ بھرپور لگن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس سے یہ پروگرام تعلیمی و سماجی اعتبار سے ایک کامیاب اور یادگار تقریب بن رہا ہے۔


پروگرام میں ڈاکٹر شگفتہ پروین حسین نے ماں کے دودھ کی افادیت اور طبی فوائد پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد دودھ پلانا اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینا لازمی ہے۔


انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ماں کا دودھ نہ صرف بہترین اور سستی غذا ہے بلکہ یہ قوتِ مدافعت کو بڑھا کر بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایڈز یا ٹی بی جیسے امراض کی صورت میں بچوں کو دودھ پلانے سے قبل ڈاکٹر سے ضرور مشورہ لینا چاہیے۔


اس بیداری مہم میں ڈاکٹر خصال احمد، ڈاکٹر جمال اختر، پروفیسر توحید کبریا، ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی، ڈاکٹر طلعت ناہید، ڈاکٹر ادیب احمد، ڈاکٹر نجیب احمد سمیت دیگر اساتذہ کرام نے بھی شرکت فرمائی اور پروگرام کے کامیاب انعقاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔


اس موقع پر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کی بڑی تعداد بھی شریک رہی، جس سے پروگرام کی افادیت اور اثر انگیزی مزید بڑھ گئی۔


یہ بریسٹ فیڈنگ آگاہی مہم گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی ایک کامیاب علمی و سماجی پیش رفت ثابت ہوئی، جو نہ صرف ماں کے دودھ کی افادیت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ طلبہ اور عوام میں بیداری و شعور پیدا کرنے میں بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے


گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے وفد نے گورنر عارف محمد خان سے ملاقات کی

 




پٹنہ6 اگست:گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے ایک وفد نے پرنسپل پروفیسر محفوظ الرحمن کی قیادت میں گورنر ہاﺅ س میں بہار کے گورنر عارف محمد خان سے ملاقات کی اور انہیں کالج کے صد سالہ پروگرام میں شرکت کیلئے دعوت دی ۔

کالج کے پرنسپل پروفیسر محفوظ الرحمن نے کہاکہ صدسالہ جشن کے موقع پر گورنر مسٹر عارف خان کو مدعو کیا گیا ہے ۔ گورنر مسٹر عارف محمد خان 8 ستمبر بروز پیر کالج میں تشریف لائیں گے ۔اس موقع پر کالج کے فارغین میں سے یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے والوں کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔

پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمن نے بتایا کہ 29 جولائی 1926 میں گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا قیام بھکنا پہاڑی میں عمل میں آیا تھا جس کے بعد سے رمنہ روڈ ، انٹا گھاٹ اور پھر موجودہ قدم کنواں پٹنہ میں منتقل ہوا۔ مستقبل میں طبی کالج پٹنہ کی مستقل بلڈنگ نالندہ میڈیکل کالج و اسپتال، پٹنہ کے کیمپس میں بن رہی ہے جو کہ 2027 تک پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ اسی درمیان امسال کالج نے 99واں یوم تاسیس منایا ہے اور باضابطہ صد سالہ جشن کے لئے کیلنڈر ریلیز کیا گیا ہے جس کا مقصد یونانی طریقہ علاج کو عوام تک پہنچانا ہے۔

پروفیسر محمد محفوظ الرحمن قیادت میں بہار کے گورنرمسٹر عارف محمد خان سے جن لوگوں نے ملاقات کی ان میں ڈاکٹر تنویر عالم،صدر شعبہ کلیات، ڈاکٹر محمد نجیب الرحمن صدر شعبہ معالجات کے علاوہ ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تحفظ و سماجی طب کے نام قابل ذکر ہیں۔


Tuesday, 5 August 2025

نئی تعلیمی پالیسی اور "کھیلو انڈیا" پالیسی کے تحت دو روزہ اسپورٹ کلائمبنگ کیمپ میں 500 بچے حصہ لیں گے : شمایل احمد




پٹنہ :پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن اور اسپورٹ کلائمبنگ ایسوسی ایشن آف بہار کے زیر اہتمام دو روزہ اسکول اسپورٹ کلائمبنگ کیمپ کا انعقاد 7 اور 8 اگست 2025 کو اسپورٹ کلائمبنگ وال، پاٹلی پتر اسپورٹس کمپلیکس، کنکڑباغ، پٹنہ میں صبح 7 بجے سے کیا جائے گا۔

اس پروگرام کی قیادت سید شمایل احمد کر رہے ہیں، جو پیسواکے قومی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ اسپورٹ کلائمبنگ ایسوسی ایشن آف بہار کے صدر بھی ہیں، اور سیدعباد الرحمٰن، جو اس ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری اور بہار کے پہلے قومی اسپورٹ کلائمر ہیں۔

یہ مکمل پروگرام نئی تعلیمی پالیسی 2020 اور کھیلو انڈیا پالیسی 2025 (نئی قومی کھیل پالیسی) پر مبنی ہے، جس میں مہماتی تعلیم، کھیل پر مبنی ہمہ گیر تعلیم اور بچوں کی ذہنی و جسمانی ترقی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

سید شمایل احمد نے کہایہ پہل صرف کھیل تک محدود نہیں ہے — یہ بچوں کے خوداعتمادی کو بڑھانے، انہیں مضبوط اور چست بنانے اور ایک بہتر بھارت کی تعمیر کی سمت میں ایک مضبوط قدم ہے۔"

بہار کے مختلف اسکولوں میں اس پہل کو لے کر زبردست جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے، اور یہ پروگرام ریاست کو اولمپک کھیلوں کی جڑوں سے ترقی دینے والی ریاست کے طور پر قائم کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔







ماں کا دودھ بچوں کے لیے بہترین اور سستی غذا ہے اورکئی بیماریوں سے بچا تا ہے: ڈاکٹر زینت پروین






پٹنہ،پی جی اسکالر ڈاکٹرتنویر نور نےپریس ریلیز کرتے ہو¿ے کہا کہ 29 جولائی 2026 کو گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ اپنا سو سال مکمل کرنے جا رہا ہے۔اسی ضمن میں آج بروز منگل 5اگست 2025”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی پر بیداری مہم منعقد ہوا،جو اسی سو سالہ جشن کی ایک کڑی ہے۔بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی ہفتہ کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں شعبہ ماہیت الامراض کے زیر اہتمام 2 اگست سے 7 اگست تک ”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی پر بیداری مہم “ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موقع پر پرنسپل پروفیسرمحمد محفوظ الرحمٰن بنفسِ نفیس موجود رہے۔ ان کی شرکت نے نہ صرف پروگرام کو وقار بخشا بلکہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے اس تقریب کو مزید مو¿ثر اور نتیجہ خیز بنایا۔ 

اس بیداری مہم کے تعلق سے شعبہ ماہیت الامراض کے صدر ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی محنت اور قیادت قابلِ ستائش رہی۔ ان کے زیر نگرانی اور رہنمائی میں یہ بیداری مہم نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ انہوں نے پوری ٹیم کے ساتھ بھرپور لگن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس سے اس پروگرام کو تعلیمی و سماجی اعتبار سے ایک کامیاب اور یادگار تقریب بنایا گیا۔

پروگرام میں ڈاکٹر زینت پروین نے ماں کے دودھ کی افادیت اور طبی اہمیت پر سیر حاصل لیکچر دیا اور بتایا کہ بریسٹ فیڈنگ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے، پیدائش کے بعد دودھ پلانا چاہیے اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ نہ صرف سستی اور عمدہ غذا ہے بلکہ قوت مدافعت کو بڑھا کر متعدد بیماریوں سے بچاو¿ کا بھی مو¿ثر ذریعہ ہے۔مزید انہوں نے بتایا کہ ایڈس، ٹی بی جیسے امراض میں بچوں کو دودھ نہیں پلانا ہے، یا ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ہے۔

اس بیداری مہم میں ، ڈاکٹر خصال احمد، ڈاکٹر جمال اختر، پروفیسرتوحید کبریا ،ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی،ڈاکٹر طلعت ناہید، ڈاکٹر ادیب احمد، ڈاکٹر نجیب احمداور دیگر اساتذہ بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے پروگرام کے انعقاد اور کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کےطلبہ و طالباتاور دور دراز سے آے مریضوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

بریسٹ فیڈنگ آگاہی مہم گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی ایک کامیاب علمی و سماجی کاوش ثابت ہوگی، اور ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور طلبہ و عوام میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کریگی۔



Monday, 4 August 2025

بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ماں کا دودھ انتہائی ضروری : ڈاکٹر امان اللہ جمالی






گورنمنٹ طبی کالج اسپتال پٹنہ میں”ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک 2025“آگاہی مہم کا دوسرا دن کامیابی سے اختتام پذیر


پٹنہ، پی جی اسکالر ڈاکٹر عبدللہ انصاری نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک ہر سال اگست کے پہلے ہفتے میں منایا جاتا ہے جس میں عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، وزارت صحت اور دنیا بھر کی سول سوسائٹی کی حمایت حاصل ہے۔

آج بروز پیر 4 اگست کو ”ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک 2025“ کے موقع پر 2 اگست سے 7 اگست تک آگاہی مہم کے لیے چلائے جانے والے پروگرام کے دوسرے دن کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ گورنمنٹ طبی کالج اینڈ ہاسپٹل، پٹنہ اپنا 99 واں تاسیسی سال منا رہا ہے جس کا افتتاح ریاست کے وزیر صحت جناب منگل پانڈے نے 30 جولائی 2025 کو کیا تھا۔ 99 ویں تاسیسی سال کے موقع پر سال بھر میں مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمن کی شرکت نے نہ صرف پروگرام کو وقار بخشا بلکہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے تقریب کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنا دیا۔

شعبہ پیتھالوجی کے سربراہ ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی محنت اور قیادت قابل ستائش تھی۔ ان کی رہنمائی اور نگرانی میں آج کی آگاہی مہم کامیابی سے مکمل ہوئی۔ انہوں نے پوری ٹیم کے ساتھ پوری لگن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے اس پروگرام کو تعلیم اور معاشرے کے نقطہ نظر سے ایک کامیاب اور یادگار تقریب بنا۔

پروگرام میں ڈاکٹر امان اللہ جمالی نے ماں کے دودھ کے فوائد اور طبی اہمیت پر تفصیلی لیکچر دیا اور کہا کہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ماں کا دودھ بہت ضروری ہے۔ ماں کا دودھ پیدائش کے فوراً بعد شروع کر دینا چاہیے اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ نہ صرف قوت مدافعت بڑھاتا ہے بلکہ بیماریوں سے بچاو¿ کا موثر ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو ماں کے دودھ کی کمی کے مسئلے کا حل بھی بتایا۔

تقریب میں میڈیکل آفیسرڈاکٹر محمد راغب حسین ، ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی، ڈاکٹر شیلیش کمار پنکج، ڈاکٹر خصال احمد،اسسٹنٹ پروفیسر نجیب الرحمٰن ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد تنویر عالم، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شفاعت کریم، پروفیسر توحید کبریا اور دیگر اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے تنظیم سازی اور پروگرام کی کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ ٹبی کالج اینڈ ہسپتال پٹنہ کے طلباء اور دور دراز علاقوں کے مریضوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Sunday, 3 August 2025

ایسوسی ایشن آف یونانی فیزیشین (اے یو پی) کے چمپارن چیپٹر کے قیام کے ساتھ تنظیم کی توسیع




 ڈاکٹر میٹ کے عنوان سے جیون جیوتی اسپتال، موتیہاری میں پروگرام کا انعقاد

موتیہاری:آج مورخہ 3 اگست 2025 بروز اتوار، ”ڈاکٹر میٹ“کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد جیون جیوتی اسپتال، موتیہاری میں کیا گیا، جس میں تنظیم کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شفاعت کریم کے ساتھ تنظیم کے خازن ڈاکٹر عبداللہ انصاری، سیکریٹری (ایڈمن) ڈاکٹر خالد اقبال، اور سیکریٹری (لیگل) ڈاکٹر محمد مسرور حسن قاسمی نے شرکت کی۔اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر ایم یو اختر نے کی۔پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر شاکر صبا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی میٹنگ کا مقصد چمپارن میں ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین بہار کی ضلعی شاخ کا قیام ہے۔

ڈاکٹر فیصل پرواز خان نے پروگرام کی سرپرستی کی۔تنظیم کی توسیع کرتے ہوئے ڈاکٹر ایم یو اختر کو ضلعی صدر بنایا گیا۔ڈاکٹر امام الدین کو نائب صدر، ڈاکٹر شاکر صبا کو ضلعی سیکریٹری مقرر کیا گیا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر امام کو خازن، ڈاکٹر مظفر حسین کو
مشترکہ سیکریٹری، اور ڈاکٹر امتیاز الحق، ڈاکٹر منظر الحق، ڈاکٹر گلریز قمر اور طارق ظفر کو ترجمان نامزد کیا گیا۔ڈاکٹر سعید الرحمٰن اور ڈاکٹر ریاض الدین نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔

ڈاکٹر عبداللہ ،ڈاکٹر ابوعبیدہ ،اس کے علاوہ مشرقی چمپارن کے بہت سے ڈاکٹر موجود تھے۔