Sunday, 23 February 2025

کیا ٹرمپ غضہ سے متعلق اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں؟

 




امریکی صدر ٹرمپ نے جمعہ کو فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کا غزہ کا منصوبہ اچھا اور کارگر ہے تاہم وہ اسے مسلط نہیں کریں گے اور اس منصوبے کی صرف سفارش کریں گے۔ ان کے اس بیان کو بعض افراد نے ان کی پسپائی شمار کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ غزہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا اور اگر اس کے باشندوں کو پسند کی آزادی دی گئی تو وہ اسے چھوڑ دیں گے۔ امریکی صدر کا خیال تھا کہ غزہ ایک شاندار مقام رکھتا ہے اور اسرائیل کا ماضی میں اسے چھوڑ دینا قابل اعتراض ہے۔


ٹرمپ کا یہ بیان چند روز قبل کے ایک اور بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کو خریدنے کے لیے پرعزم ہیں۔ بعد میں ٹرمپ نے فلسطینی پٹی کو خالی کرنے کے خیال کو برقرار رکھتے ہوئے اس خریداری کے معاملے سے پیچھے ہٹنے کو اختیار کیا تھا۔


کیا ٹرمپ واقعی غزہ کے باشندوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں کیونکہ ان کی تجویز نے بین الاقوامی سطح پر شدید غصے اور تنقید کو پیدا کیا ہے؟ یا ان کی پسپائی کسی اور وجہ سے ہوئی ہے؟ مصری مرکز برائے فکر و حکمت عملی کے نائب صدر میجر جنرل محمد ابراہیم الدویری نے اس حوالے سے ” العربیہ ڈاٹ نیٹ“ نے بات کی ہے۔ انہوں نےکہا کہ غزہ کے حوالے سے امریکی صدر کے کل کے بیانات کو غزہ کی آبادی کی نقل مکانی کے حوالے سے ان کی تجاویز سے ان کے پیچھے ہٹنے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا 25 جنوری کے بعد سے ٹرمپ کے تمام بیانات ایک ہی طرح کے ہیں اور ان بیانات میں آبادی کی نقل مکانی کا ذکر ہے۔


اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت میں ایسے بیان کا کیا مطلب ہے؟ اس حوالے سے دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ وقتاً فوقتاً کچھ ایسے بیانات دیتے رہے ہیں جنہیں ایک طرح کی پسپائی کی نمائندگی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے لیکن واضح سچائی یہ ہے کہ وہ متعلقہ فریقوں کے موقف کا اندازہ لگانے کے علاوہ اپنی تجاویز کی مخالفت کے ردعمل کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ یہ معلوم کر رہے ہیں کہ وہ کس حد تک اس تجویز کا جواب دے سکتے ہیں۔


اس صورت حال میں پھر کب کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ نقل مکانی کی تجویز سے پیچھے ہٹ گئے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں میجر جنرل محمد ابراہیم الدویری نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی نئے بیان کی عدم موجودگی کے باوجود امریکی تجویز اب بھی قائم ہے۔ ہم اس وقت تک یہ نہیں کہہ سکتے کہ صدر ٹرمپ کے موقف میں کمزوری آئی ہے جب تک کہ وائٹ ہاو¿س کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہ کردیا جائے۔


ایسے میں ٹرمپ کے بیانات کا نچوڑ کیا ہے؟ اس پر میجر جنرل محمد ابراہیم الدویری نے کہا کہ اگر کچھ افراد کا خیال ہے کہ امریکی موقف میں کمزوری آئی ہے تو ٹرمپ کے انہی بیانات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ غزہ کا مالک ہوگا اور وہ اس بات پر حیران ہیں کہ اسرائیل بحیرہ روم کے اس شاندار مقام سے کیسے پیچھے ہٹ گیا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی تجاویز کا نچوڑ جوں کا توں برقرار ہے اور ان تجاویز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔



سعودی عرب کے 34 نئے امدادی قافلے غزہ کی پٹی پہنچ گئے

 








گزشتہ روزغزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کو ریلیف دینے کی مقبول مہم کے ایک حصے کے طور پر 34 نئے سعودی امدادی قافلے ہنگامی طبی سامان لے کر جنوبی غزہ کی پٹی پہنچ گئے۔ کنگ سلمان ریلیف سنٹر کی غزہ میں ایگزیکٹو پارنٹر سعودی مرکز برائے ثقافت و ورثہ نے قافلوں کا استقبال کیا۔ غزہ کے ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں ہنگامی طبی سامان تقسیم کرنے کی تیاری شروع کردی گئی۔ اس امدادی سامان سے پٹی میں طبی سامان کی شدید قلت کے شکار مراکز میں مشکل حالات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔



امدادی سامان کی فراہمی سعودی عرب کے تاریخی اور معروف کردار کے فریم ورک کے تحت آتی ہے جس میں سعودی عرب مختلف بحرانوں اور مصیبتوں میں برادر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔



شام : عبوری حکومت کے ارکان سے پہلے قومی مکالمے کے لیے کانفرنس طلب

 








شام کی نئی رجیم نے 25 فروری کو قومی مکالمے کی کانفرنس بلا لی ہے۔ آٹھ دسمبر سے بر سر اقتدار نئی شامی حکومت کی یہ اس سلسلے کی اب تک کی سب سے بڑی اور وسیع بنیاد کانفرنس ہو گی۔


کانفرنس کا مقصد طویل خانہ جنگی سے تباہ شدہ ملک کو بشارالاسد رجیم کے بعد کس سمت میں آگے بڑھایا جائے ، نیز تعمیر نو کے علاوہ قومی یکجہتی و سلامتی کے چیلنجوں سے کس طرح نمٹا جائے۔ یہ بات کانفرنس کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے ارکان نے بتائی ہے۔


بیرونی طاقتیں اور علاقے کے ملک بھی اس قومی مکالمے کے فروغ کے لیے بلائی گئی کانفرنس کو ابھی سے توجہ سے مانیٹر کرنے لگے ہیں۔ تاکہ شام کے سیاسی مستقبل کو دیکھ سکیں کہ احمد الشرع کے زیر قیادت شام کے تمام طبقوں کو نئی حکومت اور حکومتی ڈھانچے میں شامل کیا جائے گا یا نہیں۔


بیرونی طاقتوں نے شام پر عائد کی گئی پرانی پابندیوں کو واپس لینے کا معاملہ اسی لیے التوا میں رکھا ہوا ہے۔

سات رکنی کمیٹی کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ملک کے طول و عرض میں 4000 شخصیات کے ساتھ ابتدائی مشاورت کی گئی ہے۔ اس مشاورتی عمل کو ملک کے مستقبل کے اداروں کی تیاری، دستور سازی اور 25 فروری کی قومی کانفرنس کے اعلامیے کے لیے بنیاد بنایا جائے گا۔


بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر کانفرنس دو دنوں کے لیے طلب کی گئی ہے۔ تاہم ضرورت محسوس کی گئی تو کانفرنس کے دورانیے میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ کانفرنس کا انعقاد یکم مارچ تک تشکیل پانے والی عبوری حکومت کی تکمیل سے محض چند روز قبل کیا جا رہا ہے۔


امکان ہے کہ اس کانفرنس میں عبوری حکومت کے وزرا کو براہ راست عوامی رائے کو سمجھنے اور جانچنے کا موقع بھی ملے گا۔



ٹرمپ زیلنسکی پر کیوں غصہ ہیں

 




"ہم نے انہیں یہ رقم مفت میں دی تھی اور ہم اسے واپس حاصل کریں گے " یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین اور اس کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بارے میں حال ہی میں دیے گئے شعلے دار بیانات کی ایک مثال ہے۔


ہفتہ کی شام امریکی صدر نے ایک بار پھر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کے ملک نے اس سے پہلے یوکرین کی امداد پر جو رقم خرچ کی ہے اسے وہ واپس حاصل کریں گے۔ انہوں نے کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا "میں اپنا پیسہ واپس لانے یا اس کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔"


ٹرمپ نے مزید کہا کہ "یورپ نے کیف کو 100 بلین ڈالر قرض کے طور پر دیے جبکہ واشنگٹن نے اسے 350 بلین ڈالر دیے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ ہمیں فراہم کردہ تمام رقم کے بدلے میں کچھ دیں۔"


یہ بیانات ٹرمپ کی طرف سے حال ہی میں دئے گئے غصے سے بھرے اشتعال انگیز بیانات کے سلسلے کے ایک حصے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ اپنے بیانات میں یوکرینی صدر زیلنسکی کو مسلسل ایک آمر کے طور پر بیان کرنے تک چلے گئے ہیں۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین بھی ایک آمر ہیں تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔


غصے کی وجہ کیا ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کے غصے کی سیاسی وجوہات اور محرکات واضح ہیں اور ٹرمپ ماضی میں بارہا ان کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان وجوہات میں سرفہرست وہ رقم ہے جو امریکہ نے کیف کو اب تک ادا کی ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ اس رقم کی تلافی کی جائے۔ لیکن پچھلے دس دنوں کے 5 لائیو واقعات نے بھی ٹرمپ، ان کے نائب صدر وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کے غصے اور اشتعال کو ہوا دی ہے۔


12 فروری کو ٹریڑری سکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کیف میں زیلنسکی سے ملاقات کی تاکہ ایک تجویز پیش کی جا سکے جو واشنگٹن کو امریکی تحفظ کے بدلے یوکرینی معدنیات تک رسائی دے گی۔ لیکن زیلینسکی نے بیسنٹ کے ساتھ بدتمیزی کی اور اس کے ساتھ اپنی ملاقات اس بنا پر ملتوی کر دی کہ وہ سو رہے تھے۔


پھر دو دن بعد 14 فروری کو میونخ سیکورٹی کانفرنس میں ٹرمپ کے نائب صدر اور وزیر خارجہ نے زیلنسکی سے ملاقات کی تاکہ دھاتوں کے سودے کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ لیکن باخبر حکام نے انکشاف کیا کہ زیلنسکی نے یہ کہہ کر امریکیوں کو حیران کر دیا کہ اس کے پاس پارلیمنٹ میں واپس آئے بغیر اسے منظور کرنے کا اختیار نہیں ہے۔


15 فروری کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب زیلنسکی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران عوامی طور پر اعلان کیا کہ اس نے امریکی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاو¿س کے ذرائع نے تصدیق کی کہ ان کے بیانات گزشتہ روز دیے گئے سابقہ بیانات سے بالکل مختلف تھے۔


چوتھا واقعہ 18 فروری کو پیش آیا جب روبیو اور امریکی صدارتی ایلچی سٹیو وٹ کوف سعودی عرب میں امن کے بارے میں بات کرنے کے لیے روسی مذاکرات کاروں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اس ملاقات پر تنقید کی گئی کیونکہ یہ ملاقات مذاکرات کی میز پر یوکرینی وفد کی موجودگی کے بغیر منعقد ہوئی۔


اس کے بعد ناراض ٹرمپ نے زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بنایا زیلنسکی پر روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا۔ ٹرمپ نے زیلنسکی کی بہت زیادہ گرتی ہوئی مقبولیت پر بھی تنقید کی۔


تاہم یوکرین کے صدر نے جواب دینے میں دیر نہیں کی اور اگلے ہی دن 19 فروری کو انہوں انے کہا کہ ان کے امریکی ہم منصب کو روسی معلومات سے گمراہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے پاس زیلنسکی پر اپنی تنقید کو بڑھانے اور ہدایت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کے صدر ایک انتہائی معمولی کامیاب کامیڈین ہیں اور وہ بغیر انتخابات کے آمر بن چکے ہیں۔


لفظوں کی یہ جنگ اس وقت ہوئی جب امریکی انتظامیہ ابھی تک یوکرینی معدنیات پر کوئی معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ امریکی وزیر خزانہ نے یوکرین کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا یہ معاہدہ روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد ملک کی ترقی کو سہارا دے گا اور اس میں کوئی زبردستی معاشی دباو¿ شامل نہیں ہوگا۔ یوکرین کے متعدد عہدیداروں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا زیلنسکی پر حملہ اور انہیں ایک آمر کے طور پر بیان کرنا محض اس معاہدے کو ختم کرنے اور اس کی شرائط کو تسلیم کرنے کے لیے دباو¿ کا ایک ذریعہ ہے۔



Saturday, 22 February 2025

’ہمیں علیحدگی پسند بننے پر مجبور کیا جا رہا‘، مرکز کی سہ لسانی پالیسی سے ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ اے راجہ سخت ناراض

 





ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ اے راجہ نے مرکزی حکومت کی ’سہ لسانی پالیسی‘ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم علیحدگی پسند نہیں ہیں، لیکن مرکزی حکومت ہمیں علیحدگی پسند بننے پر مجبور کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے وزیر اعظم مودی کی لسانی پالیسی پر بھی سخت تنقید کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”وزیر اعظم نے ایک پروگرام میں کہا کہ کچھ لوگ زبان کے نام پر ملک کو الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو شک ہے کہ ہم زبان کے طور پر ملک کو تقسیم کریں گے تو کیا ہمیں اس بات پر شک نہیں کرنی چاہیے کہ آپ مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟“

 

اے راجہ نے تنبیہ بھی دی ہے کہ اگر وزیر اعظم زبان کے ایشو پر بولنا جاری رکھتے ہیں تو اس کی سخت مخالفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر آپ ابھی بھی زبان کے مسئلہ پر بیان دیتے ہیں تو ہمارے نائب وزیر اعلیٰ کہیں گے- واپس جاو¿، مودی اور ہم پارلیمنٹ میں کہیں گے- مودی چپ رہو۔“ علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی پارٹی علیحدگی پسندی کی وکالت نہیں کرتی ہے، لیکن مرکز کی پالیسیاں انہیں مجبور کر رہی ہیں۔ اے راجہ کے علاوہ تمل ناڈو کانگریس کے ریاستی صدر سیلواپرونتھاگئی نے بھی مرکز کی ’سہ لسانی پالیسی‘ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”بی جے پی تمل ناڈو میں آر ایس ایس کے نظریے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ان کا یہ خواب کبھی شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہوگا۔“



واضح ہو کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ (21 فروری) کو کہا تھا کہ ”ہندوستانی زبانوں کے درمیان کبھی کوئی دشمنی نہیں رہی، بلکہ وہ ایک دوسرے کو تقویت بخشتی رہی ہیں۔“ ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے زبان کی بنیاد پر اختلاف پیدا کرنے والی غلط فہمیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”حکومت ملک کی ہر زبان کو مین اسٹریم کا حصہ سمجھتی ہے۔ زبانوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کو متاثر کیا ہے اور اسے تقویت بخشی ہے۔ جب زبان کی بنیاد پر تقسیم کی کوشش کی جاتی ہے تو ہماری مشترکہ لسانی وراثت اس کا مضبوط جواب پیش کرتی ہے۔ تمام زبانوں کو تسلیم کرنا اور اس کو قبول کرنا ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے۔“


قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹالن سیاسی محرکات سے متاثر ہوکر خیالی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی وزیر تعلیم نے کہا کہ ”قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کسی بھی ریاست پر کوئی زبان مسلط کرنے کی سفارش نہیں کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ این ای پی کسی بھی طرح سے تمل ناڈو میں ہندی مسلط کرنے کی پالیسی نہیں بنا رہی ہے۔“ واضح ہو کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے وزیر اعظ مودی کو ایک خط لکھ کر ریاست کے لیے ’سمگر سکشا‘ فنڈ جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ علاوہ ازیں ایم کے اسٹالن نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے اس بیان پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ”تمل ناڈو کو فنڈ تبھی ملے گا جب وہ این ای پی 2020 میں مذکور ’سہ لسانی پالیسی‘ کو نافذ کرے گا۔“


مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے نتیش کے بیٹے کا سیاست میں کیا استقبال

 




طویل عرصے تک سیاسی سرگرمیوں سے دوری بنا کر رکھنے والے نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کے حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آ رہی ہے۔ ممکن ہے کہ رواں سال ہونے والے بہار اسمبلی انتخاب سے قبل وہ سیاسی میدان میں اتر جائیں۔ ایک طرف جہاں کچھ لوگ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کے عملی سیاست میں آنے کا استقبال کر رہے ہیں، وہیں کئی لوگ ایسے ہیں جو سیاست میں ان کے داخلے پر سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔ دریں اثنا مرکزی وزیر اور ہندوستانی عوامی مورچہ (ہَم) کے صدر جیتن رام مانجھی نے نتیش کمار کے بیٹے نشانت کی سیاست میں انٹری کی حمایت کی ہے۔


جیتن رام مانجھی نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا۔ پوسٹ میں جیتن رام مانجھی نے لکھا کہ ”ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر بنے تو اچھا، آئی اے ایس کا بیٹا آئی اے ایس بنے تو قابل، انجنیئر کا بیٹا انجنیئر بنے تو ہونہار، پر نیتا کا بیٹا نیتا بنے تو کئی سوال... یہ ٹھیک نہیں...۔“ علاوہ ازیں جیتن رام مانجھی نے لکھا کہ ”سیاست میں بہار کے معزز وزیر اعلیٰ نتیش کمار جی کے بیٹے نشانت کمار کا استقبال ہے۔ ’ہَم‘ نشانت کے ساتھ ہیں۔“



واضح ہو کہ سیاسی گلیاروں میں ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار رواں سال ہونے اسمبلی انتخاب میں میدان میں اتر سکتے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی چرچہ ہے کہ نشانت کمار اپنے والد نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو سنبھالیں گے۔ اس کے لیے وقت اور تاریخ کا تعین خود ان کے والد اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار طے کریں گے۔ حالانکہ اس حوالے سے جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کی جانب سے ابھی تک کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ این ڈی اے خاص طور سے بی جے پی ہمیشہ سے سیاسی وراثت یا کنبہ پروری کے خلاف رہی ہے۔ نتیش کمار طویل عرصے سے اپنے بیٹے نشانت کو سیاست سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ان کے بیٹے کا سیاست میں داخلہ آسان نہیں ہوگا۔ ان کو اپوزیشن خاص طور سے آر جے ڈی کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ این ڈی اے کے لیڈران بشمول نتیش کمار کئی بار آر جے ڈی پر کنبہ پروری کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ نتیش کمار کے بیٹے کے عملی سیاست میں آنے سے قبل ہی سیاسی گلیاروں میں مخالفت اور موافقت کو لے کر ایک بحث چھڑ چکی ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ کنبہ پروری کی مخالفت کرنے والا این ڈی اے اپنی حلیف جماعت ’ہَم‘ کے صدر جیتن رام مانجھی کے بیان پر کیا موقف اختیار کرتا ہے۔


آر بی آئی کے سابق گورنر شکتی کانت داس کو ملی اہم ذمہ داری، پی ایم مودی کے پرنسپل سکریٹری مقرر

 





آر بی آئی (ریزرو بینک آف انڈیا) کے سابق گورنر شکتی کانت داس وزیر اعظم نریندر مودی کے پرنسپل سکریٹری مقرر کیے گئے ہیں۔ انھوں نے ا?ر بی ا?ئی گورنر کے طور پر 6 سال تک اپنی خدمات دینے کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں سبکدوش ہوئے تھے۔ سبکدوشی کے کچھ ماہ بعد ہی اب انھیں اہم ذمہ داری دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔


فی الحال پرمود کمار مشرا وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری1- ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ اب شکتی کانت داس پرنسپل سکریٹری2- کے کردار میں نظر آئیں گے۔ شکتی کانت 1980 بیچ کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں۔ کابینہ کی تقرری کمیٹی (اے سی سی) نے شکتی کانت کی تقرری سے متعلق جانکاری دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی تقرری وزیر اعظم کی مدت کار کے ساتھ ساتھ یا اگلے حکم، جو بھی پہلے ہو، تک رہے گی۔



قابل ذکر ہے کہ شکتی کانت داس دسمبر 2018 سے چھ سالوں تک آر بی آئی چیف رہے۔ ان کے پاس چار دہائیوں میں حکومت کے مختلف شعبوں میں وسیع تجربہ ہے۔ وہ مالیات، ٹیکسیشن، صنعت، بنیادی ڈھانچے وغیرہ شعبوں میں مرکزی و ریاستی حکومتوں میں اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ اپنے چھ سالہ مدت کار کے دوران شکتی کانت نے آر بی آئی کو کئی اہم چیلنجز سے پار دلایا، جس میں کووڈ19- وبا کے معاشی نتائج اور روس-یوکرین جنگ کا اثر بھی شامل تھا۔


ایئر انڈیا پر شیوراج کی برہمی، کانگریس کا طنز، ’عام مسافروں کی شکایات نظر انداز، مگر اب کارروائی ہوگی؟‘

 








 ایئر انڈیا کی ناقص خدمات پر مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان کی تنقید کے بعد کانگریس نے حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ عام مسافر ہمیشہ مشکلات کا شکار رہے ہیں، مگر حکومت نے ان کی شکایات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔


خیال رہے کہ شیوراج چوہان نے ہفتہ کو ایئر انڈیا کی بھوپال سے دہلی فلائٹ اے آئی-436 میں خراب نشست ملنے پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں کہا کہ انہیں نشست نمبر 8سی الاٹ کی گئی، جو اندر دھنس چکی تھی اور بیٹھنے کے قابل نہیں تھی۔ عملے نے بتایا کہ انتظامیہ کو پہلے ہی اس خرابی کی اطلاع دی جا چکی تھی، مگر اس کے باوجود نشست فروخت کی گئی۔


چوہان نے کہا کہ انہیں لگا تھا کہ ٹاٹا گروپ کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد ایئر انڈیا کی سروس میں بہتری آئے گی، مگر یہ ان کا وہم نکلا۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا ایئر انڈیا اس مسئلے کو حل کرے گا یا ہمیشہ کی طرح مسافروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتا رہے گا؟


چوہان کی اس شکایت کے بعد کانگریس نے حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ عام مسافر پہلے ہی بدانتظامی کا شکار ہیں، مگر حکومت نے کبھی ایکشن نہیں لیا۔ پارٹی کے آفیشل ایکس ہینڈل سے جاری پوسٹ میں کہا گیا، ”مودی حکومت نے ہر شعبے کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔ ریل میں مسافر پریشان ہیں۔ ہوائی جہاز میں مسافر پریشان ہیں۔“



پارٹی نے مزید لکھا، ”لوگ مسلسل شکایت کرتے ہیں، ویڈیوز بناتے ہیں، مگر کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔ اب چونکہ شیوراج جی کو مسئلہ ہوا ہے، تو ٹویٹ بھی ہو رہا ہے اور شاید ایکشن بھی لے لیا جائے۔ مگر نظام ایسے نہیں سدھرتے، بلکہ اوپر سے درست کیے جاتے ہیں اور اوپر تو صرف ‘سب چنگا سی’ کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے، جبکہ عوام مشکلات جھیل رہے ہیں۔”


کانگریس کے اس بیان کے بعد یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ کیا حکومت عام مسافروں کی تکالیف پر توجہ دے گی یا صرف بڑے لیڈران کی شکایات پر ہی کارروائی ہوگی؟


واضح رہے کہ ایئر انڈیا کو 2022 میں ٹاٹا گروپ نے سنبھالا تھا اور کمپنی نے سروس کو بہتر بنانے کے کئی دعوے کیے تھے۔ دسمبر 2023 میں ایئر انڈیا نے ایئربس کو 100 اضافی طیاروں کا آرڈر دیا تھا، اور مجموعی طور پر 350 ایئربس اور 220 بوئنگ طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ واقعات سے ایئر انڈیا کی سروس کے معیار پر سوال اٹھ رہے ہیں، جس پر اب خود بی جے پی کے لیڈر بھی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔


آسام: مسلم اراکین اسمبلی کو اب نہیں ملے گی نماز کے لیے چھٹی، بی جے پی حکومت نے 90 سالہ روایت کر دی ختم

 






آسام کی بی جے پی حکومت نے اسمبلی میں نماز کے لیے دی جانے والی چھٹی یعنی بریک کی 90 سالہ روایت کو ختم کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ فیصلہ گزشتہ سال اگست ماہ میں لیا گیا تھا، لیکن نافذ اسے بجٹ سیشن کے دوران کیا گیا ہے۔ آسام حکومت کے اس فیصلے کے بعد زبردست مخالفت بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔


اے آئی یو ڈی ایف کے رکن اسمبلی رفیق الاسلام نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اکثریت کی بنیاد پر تھوپا گیا فیصلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسمبلی میں تقریباً 30 مسلم رکن اسمبلی ہیں۔ ہم نے اس قدم کے خلاف اپنے نظریات ظاہر کیے تھے، لیکن ان (بی جے پی) کے پاس تعداد ہے اور وہ اسی کی بنیاد پر اسے تھوپ رہے ہیں۔



قابل ذکر ہے کہ اسمبلی اسپیکر بسوجیت دیماری نے آئین کو پیش نظر رکھتے ہوئے تجویز پیش کی تھی کہ آسام اسمبلی کو دیگر دنوں کی طرح جمعہ کو بھی اپنی کارروائی کو چلایا جانا چاہیے۔ اس اصول کو کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا، جسے کمیٹی نے اتفاق رائے سے پاس کر دیا۔


آسام اسمبلی میں نافذ اس روایت کے تحت مسلم اراکین اسمبلی کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے دو گھنٹے کا بریک دیا جاتا تھا۔ یعنی اس دوران ایوان کی کارروائی نہیں ہوتی تھی۔ اپوزیشن نے ایوان کے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے اکثریتوں کی منمانی بتایا ہے۔



اسمبلی کے اس فیصلے کے بعد وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اس فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایت مسلم لیگ کے سید سعداللہ کی طرف سے 1937 میں شروع کی گئی تھی، اور اس التزام کو بند کرنے کا فیصلہ پروڈکٹیویٹی کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کے جواب میں اسپیکر بسوجیت دیماری نے کہا کہ آئین کے جمہوری اصولوں کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ باقی دنوں کی طرح جمعہ کو بھی بغیر کسی نماز بریک کے ایوان چلے گا۔


یو ایس ایڈ فنڈنگ معاملہ پر کانگریس کا سخت ردعمل، پون کھیڑا کا مودی حکومت سے سوال – ’21 ملین ڈالر کہاں گئے؟‘


 




 کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے اے آئی سی سی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یو ایس ایڈ فنڈنگ کے معاملے پر مودی حکومت سے جواب طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جھوٹ کے کئی چہرے رکھتی ہے اور یو ایس ایڈ کے سلسلے میں پھیلائے گئے جھوٹ کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔


پون کھیڑا نے کہا کہ بی جے پی نے دعویٰ کیا تھا کہ یو ایس ایڈ کا پیسہ انتخابات میں استعمال ہونے کی خبریں یو پی اے حکومت کے دور میں شروع ہوئیں۔ تاہم، اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اس کی تردید کی۔ اس کے بعد کہا گیا کہ یہ فنڈنگ بنگلہ دیش میں گئی، جس کے بارے میں مودی جی کو نہ معلوم ہو، ایسا ممکن نہیں۔


کانگریس لیڈر نے ایک ویڈیو بھی پیش کی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’یہ 21 ملین ڈالر ہم نے اپنے دوست مودی کو دیے‘، اس بیان کے بعد بی جے پی لیڈران خاموش ہو گئے۔ پون کھیڑا نے سوال کیا کہ یہ 21 ملین ڈالر کہاں گئے؟ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان سے واضح ہو چکا ہے کہ یہ رقم مودی کے لیے ووٹر ٹرن آو¿ٹ بڑھانے کے مقصد سے دی گئی۔


پون کھیڑا نے مہاراشٹر میں ووٹنگ کے بعد ووٹ فیصد میں غیرمعمولی اضافے پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ بی جے پی کا ’400 پار‘ کا نعرہ اسی اعتماد پر مبنی تو نہیں تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی جمہوریت کو اس طرح متزلزل نہیں کیا جا سکتا اور یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔




انہوں نے کہا کہ میڈیا میں کہا گیا کہ یو ایس ایڈ کے فنڈنگ کے کوئی شواہد نہیں لیکن اگر برسراقتدار پارٹی ٹرمپ کو سچ مانتی ہے تو پھر اس پر وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس بیرونی ممالک سے فنڈ لے کر حکومت ہند کے خلاف سازش کرتی رہی ہے۔


پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے یو ایس ایڈ فنڈنگ کے مکمل حساب کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2001 سے 2024 تک یو ایس ایڈ نے 2.9 بلین ڈالر فراہم کیے، جس میں سے 44.4 فیصد فنڈنگ مودی حکومت کے دوران آئی۔ 2021 سے 2024 کے درمیان 650 ملین ڈالر آئے، جس کا حساب حکومت کو دینا ہوگا۔


پون کھیڑا نے مزید کہا کہ 2012 میں جب انا ہزارے کی تحریک عروج پر تھی، کیجریوال اپنی پارٹی بنا رہے تھے اور مودی اڈوانی کے خلاف سازش کر رہے تھے، تب یو ایس ایڈ کے ذریعے کتنا پیسہ آیا اور کہاں استعمال ہوا، اس کا انکشاف ہونا چاہیے۔


انہوں نے 1960 میں پنڈت نہرو کے خلاف بیرونی فنڈنگ کے الزامات، نوٹ بندی، کووڈ، اور اسمارٹ سٹی منصوبوں کے تحت یو ایس ایڈ کی جانب سے دیے گئے فنڈز کا بھی حساب مانگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن سیاسی جماعتوں یا اداروں کو غیرملکی امداد ملی، ان کے نام عوام کے سامنے رکھے جائیں۔


آخر میں، پون کھیڑا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو چیلنج کیا کہ وہ ٹرمپ کو فون کر کے ان سے وضاحت طلب کریں کہ انہوں نے 21 ملین ڈالر دینے کا دعویٰ کیوں کیا اور اگر مودی ایسا نہیں کرتے تو انہیں ملک کو بتانا ہوگا کہ یہ پیسہ کہاں گیا۔


مدھیہ پردیش: ریپ کے الزام پر گرایا گیا شفیق انصاری کا گھر! عدالت سے بری، اب انصاف کی مانگ


 





مدھیہ پردیش کے راج گڑھ ضلع میں سابق کونسلر شفیق انصاری کو عدالت نے ریپ کے الزام سے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے پایا کہ ان کے خلاف عائد الزامات جھوٹے تھے اور یہ شکایت ایک سازش کے تحت درج کرائی گئی تھی۔ تاہم، اس مقدمے کے اندراج کے چند دن بعد ہی انتظامیہ نے ان کا مکان مسمار کر دیا تھا، جس پر اب وہ قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتے ہیں۔


ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، شفیق انصاری راج گڑھ کی سارنگ پور نگر پالیکا کے کونسلر تھے۔ مقامی شہریوں نے ایک خاتون کے گھر میں منشیات کے غیر قانونی کاروبار کی شکایت کی تھی، جس پر شفیق انصاری نے بھی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس شکایت کے بعد انتظامیہ نے خاتون کے گھر کو تجاوزات قرار دیتے ہوئے مسمار کر دیا۔ کچھ ہی دنوں بعد، خاتون نے شفیق انصاری پر ریپ کا الزام لگا دیا۔



خاتون کا کہنا تھا کہ 4 فروری 2021 کو شفیق انصاری نے انہیں بیٹے کی شادی میں مدد کا وعدہ کر کے گھر بلایا اور زیادتی کی۔ تاہم، اس واقعے کی ایف آئی آر 4 مارچ 2021 کو درج کرائی گئی۔ رپورٹ درج ہونے کے 10 دن بعد، یعنی 13 مارچ 2021 کو انتظامیہ نے شفیق انصاری کا مکان بھی تجاوزات کے نام پر توڑ دیا۔


راج گڑھ کے فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج چتریندرسنگھ سولنکی نے 14 فروری 2025 کو شفیق انصاری کو بری کر دیا۔ عدالت نے پایا کہ متاثرہ خاتون اور اس کے شوہر کی گواہی میں تضاد تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ خاتون نے ریپ کی شکایت درج کرانے میں بلاجواز تاخیر کی، جو معاملے کو مشکوک بناتی ہے۔


عدالت کے مطابق، خاتون نے اپنے بیٹے کی شادی کے بعد بھی 15 دن تک اس واقعے کا ذکر اپنے شوہر یا بیٹوں سے نہیں کیا اور اس تاخیر کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی۔ مزید برآں، میڈیکل اور سائنسی شواہد بھی ریپ کے الزامات کی تصدیق نہیں کرتے۔


شفیق انصاری نے اپنی بے گناہی ثابت ہونے کے بعد کہا، ”مجھے نشانہ بنایا گیا کیونکہ میں نے علاقے میں غیر قانونی منشیات کے کاروبار کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ خاتون نے بدلہ لینے کے لیے میرے خلاف جھوٹی شکایت درج کرائی۔“




انہوں نے مزید کہا، ”میرے 4000 مربع فٹ کے گھر کو بغیر نوٹس دیے مسمار کر دیا گیا۔ مجھے اپنا دفاع کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ اب میں انصاف کے لیے عدالت جاو¿ں گا اور اپنے تباہ شدہ گھر کے معاوضے کا مطالبہ کروں گا۔“


اب جب کہ عدالت نے شفیق انصاری کو بری کر دیا ہے، وہ اپنے مسمار شدہ مکان کے معاوضے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں انتظامیہ کی کارروائی غیر منصفانہ تھی اور وہ اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔


میرٹھ میں 168 سال پرانی تاریخی مسجد راتوں رات منہدم، متبادل جگہ اور معاوضے کی مانگ

 





میرٹھ: یوپی کے شہر میرٹھ میں 168 سال پرانی ایک تاریخی مسجد کو انتظامیہ نے نصف شب کے وقت بلڈوزر چلا کر منہدم کر دیا۔ یہ مسجد دہلی روڈ پر سروس لین میں واقع تھی اور میٹرو و ریپڈ ریل کاریڈور کے درمیان آ رہی تھی، جس کے باعث حکام نے اسے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔


رپورٹ کے مطابق، دو دن قبل اس مسجد کا بجلی کنکشن منقطع کر دیا گیا تھا، جس کے بعد مقامی مسلمانوں نے خود ہی مسجد کو ہٹانے کی کوشش کی اور ہتھوڑے چلا کر کچھ حصے توڑے۔ تاہم، جمعہ کی رات انتظامیہ نے بلڈوزر لگا کر پوری مسجد کو مسمار کر دیا اور فوراً ملبہ بھی ہٹا دیا گیا، تاکہ میٹرو منصوبے کے لیے جگہ صاف ہو سکے۔




یہ مسجد دہلی روڈ پر جگدیش منڈپ کے قریب واقع تھی اور ایک طویل عرصے سے یہاں قائم تھی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مسجد میٹرو کے تعمیراتی منصوبے میں رکاوٹ بن رہی تھی، جس کی وجہ سے اسے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جانب مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اس کے بدلے متبادل جگہ اور مناسب معاوضہ چاہتے تھے، مگر ان کی مانگ پوری کیے بغیر ہی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔


مسجد گرانے کے دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔ مسجد کے انہدام کی اطلاع ملنے کے بعد علاقے میں تناو¿ کی کیفیت دیکھی گئی، تاہم پولیس اور انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔


اس معاملے پر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسجد کو ہٹانے کا فیصلہ باہمی رضامندی سے کیا گیا اور اس کے پیچھے کوئی اور مقصد نہیں تھا۔ دوسری طرف مسلم نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں مسجد کے لیے نئی جگہ دی جائے اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔



اردو سے صرف انہیں پریشانی ہے جو ہندو-مسلم سیاست کو فروغ دیتے ہیں: اودھیش پرساد

 








ایودھیا: سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے ایودھیا سے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے جمعہ کے روز کہا کہ اردو کسی خاص قوم یا برادری کی زبان نہیں ہے، بلکہ یہ محبت، عزت اور تہذیب کی زبان ہے۔ انہوں نے ا±ردو کو ملک کی سب سے بہترین زبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی زبان ہے جو صدیوں سے مختلف طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔


اودھیش پرساد نے کہا کہ سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں کئی اہم ریکارڈ اردو میں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ درحقیقت اردو سے صرف انہیں پریشانی ہے جو ہندو-مسلم سیاست کو فروغ دیتے ہیں، ورنہ باقی سب کے لیے یہ عام بول چال کی زبان ہے، جس میں ہندی کے کئی الفاظ بھی شامل ہیں۔ لوگ روزمرہ کی گفتگو اور تقاریر میں بھی اس زبان کا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک عام فہم اور مقبول زبان ہے۔



انہوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے 'کٹھ ملّا' والے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ بیان کسی سنت یا سنیاسی کا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا، "اتر پردیش کی تاریخ شاندار رہی ہے، یہاں سے سات وزرائے اعظم منتخب ہو چکے ہیں۔ یہ ریاست ہمیشہ گنگا-جمنی تہذیب کی علامت رہی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ لب و لہجہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کے شایان شان نہیں ہے۔ وہ اس وقت ذہنی دباو¿ میں ہیں، کیونکہ مہاکمبھ میں بے شمار لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے اور اب وہ سوالات کے گھیرے میں ہیں۔ اسی دباو¿ کی وجہ سے وہ غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہے ہیں لیکن ہم ان کی باتوں پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں۔“


واضح رہے کہ اتر پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپوزیشن، خاص طور پر سماجوادی پارٹی، پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایس پی کے رہنما اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں لیکن جب حکومت عام عوام کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات دینے کی کوشش کرتی ہے، تو یہی لوگ اردو مسلط کرنے کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔




یوگی آدتیہ ناتھ نے مزید کہا کہ سماجوادی پارٹی ملک کو 'کٹھ ملّاپن' کی طرف لے جانا چاہتی ہے، جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے ریاست کی مقامی بولیوں، جیسے کہ بھوجپوری، اودھی، برج اور بندیل کھنڈی کو اسمبلی کی کارروائی میں شامل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ ان کے مطابق، یہ بولیاں ہندی کی ذیلی زبانیں ہیں اور ان کی ترقی کے لیے حکومت خصوصی اکیڈمیوں کا قیام عمل میں لا رہی ہے تاکہ ان کو مناسب شناخت اور عزت مل سکے۔