Saturday, 22 February 2025

یوم تاسیس باعث فخر، مملکت ترقی کی جانب گامزن ہے: شاہ سلمان بن عبدالعزیز

 






خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی پیغام میں قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس دن کو باعثِ فخر قرار دیا ہے۔


سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ایکس اکاونٹ پر جاری پیغام میں کہا ’ہمیں مملکت کے قیام پر فخر ہے جس کی بنیادیں تین صدی قبل امن و امان، انصاف اور خالص عقیدے پر رکھی گئیں۔’ہم اس وقت سے آج تک اسی راستے پرمضبوطی سے قائم ہیں اور وطن عزیز مختلف میدانوں میں ترقی کی جانب گامزن ہے۔‘


واضح رہے سعودی عرب کا یوم تاسیس 3 سو برس قبل قائم ہونے والی اولین سعودی ریاست کی خاطر سعودی امرا، سلاطین اور عوام کی فقید المثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔


شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 27 جنوری 2022 کو شاہی فرمان جاری کیا جس کے مطابق ہر برس 22 فروری کو پہلی سعودی ریاست کے قیام کے حوالے سےاس دن کو منانے کا فیصلہ صادر کیا گیا تھا۔


غزہ کے حوالے سے میرا منصوبہ اچھا لیکن اسے مسلط نہیں کروں گا: ٹرمپ

 








امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے حوالے سے ان کا منصوبہ اچھا ہے لیکن وہ اسے مسلط نہیں کریں گے اور وہ صرف اس کی سفارش کر رہے ہیں۔


ٹرمپ نے مزید کہا کہ غزہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور اگر اس کے باشندوں کو انتخاب کی آزادی دی گئی تو وہ اسے چھوڑ دیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ غزہ ایک شاندار محل وقوع ہے اور اسرائیل کا ماضی میں اسے ترک کردینا قابل اعتراض ہے۔


امریکی صدر ٹرمپ نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ساحلی پٹی کے کچھ حصے مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کو تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کے لیے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اس وقت ان ملکوں کی وضاحت نہیں کی تھی۔ تاہم بعد میں وہ فلسطینی پٹی کو خالی کرنے کے خیال کو برقرار رکھتے ہوئے اسے خریدنے کی بات سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ غزہ کو مستقبل کی ترقی کے لیے ایک اچھے مقام میں بدل دے گا۔


ان کی اس اچانک تجویز کو بین الاقوامی سطح پر اور عرب دنیا کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تمام عرب ملکوں نے فلسطینیوں کے حق واپسی اور غزہ سے ان کی نقل مکانی کو مسترد کردیا۔ مغربی ملکوں اور امریکہ کے اتحادیوں نے بھی واضح کیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی آبادی کی نقل مکانی انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔


دوسری طرف ٹرمپ کی اس تجویز کی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کھل کر حمایت کی اور کہا کہ ٹرمپ کا خیال اچھا اور بے مثال ہے اور ایک معقول حل فراہم کر رہا ہے۔ جمعرات کو مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیفن وٹ کوف نے صورت حال کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے غزہ کے منصوبے کا مقصد فلسطینیوں کو بے گھر کرنا نہیں ہے۔ غزہ کے مستقبل کے بارے میں یہ بات چیت اس نہج پر ہو رہی ہے کہ فلسطینیوں کے لیے بہتر مستقبل کیسے تلاش کیا جائے۔



4 فروری کو ٹرمپ نے تجویز پیش کی کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالے اور مصر اور اردن سمیت دیگر مقامات پر فلسطینیوں کو دوبارہ آباد کرے۔ یہ تجویز بین الاقوامی طور پر مسترد ہو گئی۔ لیکن وِٹکوف نے سعودی خودمختار دولت فنڈ سے منسلک ایک غیر منافع بخش تنظیم کی میزبانی میں میامی میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر ٹرمپ کے تبصرے گزشتہ 50 سالوں میں تجویز کردہ حل کے مقابلے میں زیادہ بہتر تھے۔


انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ نے غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ اسے غیر پھٹنے والے ہتھیاروں سے بھر دیا گیا ہے۔ لوگوں کی واپسی کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ناممکن ہوگیا۔ وِٹکوف نے مزید کہا کہ اس کے لیے بہت زیادہ صفائی، تخیل اور ایک شاندار ماسٹر پلان کی ضرورت ہوگی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نقل مکانی کے لیے کسی منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔ جب صدر اس بارے میں بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہر ایک کو یہ سوچنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ فلسطینی عوام کے لیے کیا بہترین حل ہے۔ وٹ کوف نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر کیا وہ وہاں کسی گھر میں رہنا چاہتے ہیں یا کیا وہ بہتر جگہ پر جانے کا موقع حاصل کرنا پسند کریں گے تاکہ نوکریاں، کاروبار کے مواقع اور بہتر مالی امکانات حاصل کرنے کیے جا سکیں۔


صغیرہ فاﺅنڈیشن کے تحت ضرورت مندوں میں راشن کی تقسیم

 








ہر سال کی طرح امسال بھی صغیرہ فاﺅنڈیشن گونڈوی ممبئی کے تحت 250 غریب محتاج و نادار افراد کے درمیان راشن کی تقسیم بروز منگل 18 فروری سنہ 2025 بمقام سیووڈ سمن ہائیٹس سیکٹر ای ۔۵۰ نیو ممبئی عمل میں آئی۔ راشن میں چاول پانچ کلو، آٹا پانچکلو، مسور دال دو کلو شکر ایک کلو ،نمک ایک کلو، آلو تین کلو، پیاز 2 کلوتیل ایک لیٹر چنا دوکلو، بیسن ایک کلو، کھجور ایک کلو، لچھا ایک کلو شامل کئے گئے ،تقسیم کا سلسلہ تلاوت کلام پاک و دعاو¿ں کے بعد شروع ہوا۔ سمن با ئیٹس کے قرب وجوار یہاں تک کے گونڈوی، مانخورد کے غریب محتاج افراد بھی بڑی تعداد میں وہاں آئے ہوئے تھے ضرورت مند افراد میں ہر مذاہب ہر طبقہ کے نادار افراد موجود تھے۔ صغیرہ فاﺅنڈیشن کے تمام عہدیداران د ممبران راشن کی بخوبی تقسیم کی ترتیب میں شروع سے لیکر آخیر تک مصروف رہے۔ راشن کٹس دینے سے پہلے ہر فرد کے کے آدھار کارڈ کو دیکھا گیا، نام کے ساتھ نمبر نوٹ کئے گئے اور اس بات کا تیقین کیا گیا کہ ضرورت مند افراد راشن کے مستحق ہیں اور حقیقی ہیں۔ صغیرہ فاونڈیشن کے بانی جناب شہنواز احمد شیخ ، صدر جناب قمر الضحی عرف بچو بھائی، نائب صدر جناب فیروز احمد شیخ ،محمد علی شیخ ،جنرل سیکریٹری جناب ابرار احمد شیخ صلاح الدین خان صاحب ،شبیر صاحب، نظام الدین شیخ ،مطیع الرحمن، عتیق الرحمان ، آفتاب صاحب ، زبیر ملتانی، سمی انصاری صاحب کے ہاتھوں غریبوں میں راشن کٹس کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ فاﺅنڈیشن کے بانی جناب شہنو از احمد شیخ اور ان کے برادر بزرگ جناب قمر الضحی صاحبان نے یہ طے کیا ہے کہ رمضان سے پہلے ممبئی اور مضافات میں اور جگہوں پر بھی راشن کے کٹس تقسیم کئے جائنگیں۔ رات کے دس بجے تک راشن کٹس کی تقسیم کا سلسلہ جاری رہا، اس بات کا خیال رکھا گیا کہ کسی ضرورت مند محتاج کی دل آزاری نہ ہو اور ہر کسی نادار کو راشن کا بستہ دیدیا جائے۔ راشن کی تقسیم کے بعد جناب شہنوا از احمد شیخ نے صغیرہ کے وسیع دفتر اور ایک فعال آفس سکریٹری کے تقر کی تجویز پیش کی جنہیں ممبران نے پسند کیا اور جلد ہی اسے عملی شکل دینے کی تجویز پاس ہوئی۔ فاﺅنڈیشن کے بانی شہنو از احمد شیخ نے بے گناہ قیدیوں کی قانونی مدد اور انکی رہائی کے تعلق سے جلد سے جلد وکلاء کی ایک میٹنگ کی تجویز رکھی جسے تمام ممبران نے پسند کیا اور حامی بھی بھری۔ بعد عشائیہ دعا کا اہتمام کیا گیا اور اس طرح یہ تقریب اختتام کو پہنچی۔

ابرار احمد شیخ جزل سیکریٹری صغیرہ فاﺅنڈ یشن گونڈی



عبیدالرحمن صاحب کو جن سوراج پارٹی اوورسیز کا کوآرڈینیٹر نامزد ہونے پر دلی مبارکباد :ایڈووکیٹ شاہد اطہر

 





 دربھنگہ:- عبید الرحمن صاحب کو جن سوراج پارٹی اوورسیز کے کوآرڈینیٹر کے طور پر نامزد کرکے ڈائریکٹر پرشانت کشور سر اور ریاستی صدر منوج بھارتی جی نے ریاست ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک میں رہنے والے ہندوستانیوں کو یہ پیغام دینے کا کام کیا ہے کہ اگر آپ تعلیم کے لیے جدوجہد کرتے رہیں تو سماج سے اندھیرے کو ہٹا کر روشنی پھیلا سکتے ہیں۔ 


 عبید الرحمن جس طرح سپر 30 کے سروے سروا آنند کمار کے ساتھ مل کر رحمان 30 کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں، یہ کام بہار کی پسماندہ ریاست کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جہاں عبید الرحمان بہار میں تعلیم کے لیے جانے جاتے ہیں، وہیں وہ بہار فاو¿نڈیشن ریاض چیپٹر (سعودی عرب) میں بیرون ملک بھی کافی مقبول ہیں۔ اسی لیے ان سے متاثر ہو کر انہیں جن سوراج پارٹی اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بنایا گیا ہے۔ میں انہیں نامزد کرنے پر پرشانت سر اور منوج سر کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور عبید الرحمن صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں اور ان سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ پارٹی کو وسعت دینے اور تنظیم کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ وہ بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی ضروریات اور مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی کام کریں گے۔ ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ عبیدالرحمن صاحب کا نام بہار اور ہندوستان کے تعلیمی میدان میں ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ انہوں نے معاشرے کے معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقات کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دینے کے لیے بہت سے نمایاں کام کیے ہیں۔ ان کا مقصد پسماندہ بچوں کو ممتاز ( آئی آئی ٹی) اداروں اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لیے تربیت دینا ہے۔


 پرشانت کشور نے بہار کو بہتر سمت اور قیادت دینے کے مقصد سے جن سوراج پارٹی کی بنیاد رکھی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 32 سالوں میں بہار کی ترقی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ آج بھی تعلیم، صحت، روزگار جیسے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ریاستی مہم کمیٹی کے رکن شمشاد نور نے کہا کہ عبید الرحمن صاحب کو جن سوراج اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بنانے سے پارٹی کو ایک نئی توانائی اور سمت ملے گی۔ بیرون ملک میں ان کا 20 سال کا تجربہ اور وہاں بہار فاو¿نڈیشن کے چیئرمین کے طور پر ان کی ساکھ پارٹی کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہوگی۔ ریاستی ورکنگ کمیٹی کے رکن شمشاد ناجمی عرف شمسی نے کہا کہ ان کے تجربے سے جن سوراج پارٹی کے مشن کو تقویت ملے گی اور عالمی سطح پر پارٹی کی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ عبیدالرحمن صاحب نہ صرف ایک بااثر سماجی کارکن ہیں بلکہ ایک ترقی پسند مفکر بھی ہیں۔ اس کا مقصد معاشرے میں تعلیم کے بارے میں بیداری پھیلا کر مثبت تبدیلی لانا ہے۔ 


 عبید صاحب کو مبارکباد دیتے ہوئے خاتون رہنما آمنہ شفیع نے کہا کہ بہار کے عوام ایک طویل عرصے سے ایک نئی قیادت اور نئی سمت کی تلاش میں تھے۔ پرشانت کشور کی قیادت میں پارٹی مضبوط ہوئی اور عبیدالرحمن صاحب، شکیل اشرفی صاحب، ڈاکٹر نیلوفر میڈم اور دیگر شخصیات کی شمولیت سے لوگوں میں نئی امیدیں جگائی ہیں- عبیدالرحمن صاحب کو جن سوراج اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بننے پر ان کے حامیوں اور پارٹی کارکنوں نے تہہ دل سے مبارکباد پیش کی۔ آمنہ شفیع نے کہی کے امید ہے کہ ان کا تجربہ اور قیادت بہار کی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگی۔ عبیدالرحمن صاحب کو مبارکباد دینے والوں میں عامر حیدر، بلٹو ساہنی، شعیب خان، عاقب نذر، ڈاکٹر اقبال حسن ریشو، نرمل مشرا، ارونیش چندر، شوکت علی، علی اکبر، ذاکر علی، پرتیبھا جھا، سریندر سنگھ، فیض احمد ، کریم خان کے علاوہ بڑی تعداد میں جن سوراج پارٹی سے تعلق رکھنے والے سماج کے تمام طبقوں سے شامل ہیں۔



Thursday, 20 February 2025

مصر کے صدر السیسی سعودی عرب کے دورے پر روانہ،غزہ سے متعلق پیش رفت پر بات کریں گے

 









مصر کے سرکاری ٹی وی نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی سعودی عرب روانہ ہو رہے ہیں اور توقع ہے کہ وہ وہاں غزہ سے متعلق پیش رفت پر بات کریں گے۔


عرب ریاستیں جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے پر تبادلہ ¿ خیال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جو ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے زیرِ قبضہ پٹی کی تعمیرِ نو کی تجویز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے۔



سعودی عرب:ولی عہد کی طرف سےخلیجی سربراہان،شاہ عبداللہ دوم اورصدرالسیسی کوریاض آنے کی دعوت

 





خلیجی ملکوں کے سربراہان کے ساتھ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم جمعہ کے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ریاض پہنچیں گے۔ یہ خبر سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ' ایس پی اے ' نے جمعرات کو رپورٹ کی ہے۔


خبر رساں ادارے کے مطابق عرب ممالک کے یہ یہ رہنما خطے کی موجودہ صورت حال کے اس اہم موقع پر باہمی مشاورت کا اہتمام کریں گے۔ اس سے قبل عرب وزرائے خارجہ کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس اسی ماہ کے دوران مصر میں ہو چکا ہے جو غزہ سے فلسطینیوں کو مصر اور اردن منتقل کرنے کے امریکی منصوبے کے پس منظر میں منعقد کیا گیا تھا۔جس کے بعد مصری وزیر خارجہ اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم الگ الگ امریکہ کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔


لیکن خبر رساں ادارے ' ایس پی اے ' کے مطابق ولی عہد کی دعوت پر ان رہنماو¿ں کا مشترکہ مگر غیر رسمی نوعیت کا اجلاس ہو گا۔ یہ ان رہنماو¿ں کی معمول کی نجی دوستانہ طرز کی ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات ہوگی۔ اس غیر رسمی اور دوستانہ ملاقاتوں کا اہتمام کئی برسوں سے کیا جا رہا ہے۔ جو مضبوط برادرانہ تعلقات کا مظہر ہوتی ہیں۔


ان دوستانہ ملاقاتوں میں باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے امکانات کو آگے بڑھانے کے امور پر غور کیا جاتا ہے اور باہمی دلچسپی کے امور کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔


' ایس پی اے ' کے مطابق خلیجی ملکوں اور مصر و اردن کے درمیان تعاون کے علاوہ اگلی غیر معمولی عرب سربراہ کانفرنس جو 4 مارچ کو غزہ کے سلسلے میں مصر کی طرف سے بلائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں جمعہ کے روز کی غیر رسمی ملاقات کے دوران دیگر کئی امور پر بھی عرب سربراہان کے درمیان تبادلہ خیال ہوگا۔



اسمبلی انتخابات میں نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دیے جائیں گے : ڈاکٹر اکھیلیش

 



پٹنہ، 20 فروری :بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نوجوان کارکنوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دے کر ان کا حق دلائے گی۔ بہار کی سیاست میں نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہمیشہ میرا مقصد رہا ہے تاکہ بہار میں متحرک قیادت کی کمی محسوس نہ ہو۔ یہ باتیں بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھیلیش پرساد سنگھ نے کہی۔ وہ بہار پردیش یوتھ کانگریس کی جانب سے منعقدہ 'شنکھناد پردیش ایگزیکٹو میٹنگ' میں خطاب کر رہے تھے۔ اس پروگرام کا انعقاد بنیادی طور پر بہار کے نومنتخب انچارج کرشنا اللہ وار±و کے استقبال کے لیے کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کرشناالاروفی الحال یوتھ کانگریس کے قومی انچارج بھی ہیں۔

بہار کانگریس کے انچارج الا رونے مختلف اضلاع سے آئے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاگٹھ بندھن میں ملنے والی سیٹوں کی فکر کیے بغیر، یوتھ کانگریس کے کارکنان 'چلو پنچایت، چلو گاو¿ں' پروگرام کو تیز کریں، کیونکہ سیاست میں زمین یہی سے تیار ہوتی ہے اور آپ کا مستقبل بھی اسی سے طے ہوتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نکارہ کارکنوں کو پانچ دن کے اندر تنظیم سے نکال دیا جائے گا۔

یوتھ کانگریس کے محمد شہید نے کہا کہ بہار پردیش یوتھ کانگریس کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔جبکہ ریاستی یوتھ کانگریس کے صدر شیور پرکاش غریب داس نے کرشنا الار±و کے پہلی بار پٹنہ آمد پر ان کا استقبال کیا اور یوتھ کانگریس کی تنظیم میں مضبوط شمولیت اور انتخابات میں مناسب ٹکٹ تقسیم کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر محمد شہید، سمرات کیشری جینا، روشنی کوشل جیسوال موجود رہے۔پروگرام کی صدارت بہار پردیش یوتھ کانگریس کے صدر شیور پرکاش غریب داس نے کی۔مزید منو جین، سابق ایم ایل اے امیت کمار ٹنا، سابق یوتھ کانگریس صدر گنجن پٹیل، ابھیشیک رنجن، ابو تنویر، وکاس جھا، بٹو یادو، مکل یادو، وویک چوبے، صدام عارف نواز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 


اسمارٹ رائیڈنگ کے تجربے میں انقلابی تبدیلی لانے کے لیے پیور ای وی اور جیو تھنگز کے درمیان شراکت

 



رائے پور، فروری : بھارت کے معروف ٹو وہیلر مینوفیکچررز میں سے ایک، پیور ای وی نے اپنے الیکٹرک وہیکلز میں سمارٹ ڈیجیٹل کلسٹر اور ٹیلی میٹکس کو شامل کرنے کے لیے جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی جیو تھنگز لمیٹڈ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد جدید آئی او ٹی سلوشنز، مستحکم کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل انٹیگریشن کے ذریعے صارف کے تجربے کو نئی جہت دینا ہے۔

پیور ای وی اپنے الیکٹرک وہیکلز میں جیو تھنگز اسمارٹ ڈیجیٹل کلسٹرز کا استعمال کرے گا، جن میں اینڈ ٹو اینڈ آئی او ٹی سلوشنز شامل ہوں گے تاکہ ان کی کارکردگی اور انٹرایکٹوٹی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ 4G کنیکٹیویٹی سے لیس ٹیلی میٹکس کے اضافے کی بدولت صارفین کو حقیقی وقت میں اپنے وہیکل کی کارکردگی کی نگرانی کرنے اور مزید مو¿ثر آپریشن کے لیے مفید ڈیٹا حاصل کرنے کی سہولت ملے گی۔

جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال

جیو تھنگز 4G اسمارٹ ڈیجیٹل کلسٹر اینڈرائیڈ اوپن سورس پروجیکٹ (AOSP) پر مبنی AvnionOS کا استعمال کرتا ہے۔ یہ ریئل ٹائم ڈیٹا اینالیٹکس، ٹو وہیلر انٹرفیس کسٹمائزیشن اور فل ایچ ڈی+ ٹچ اسکرین ڈسپلے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ انقلابی ڈیجیٹل کلسٹر OEMs (اورجینل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز) کو اپنے پروڈکٹس میں جدید آئی او ٹی سلوشنز کو تیزی سے شامل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

جیو آٹوموٹیو ایپ سوئٹ (JAAS) ایک اور جدید انٹیگریٹڈ سلوشن ہے، جو ٹو وہیلر صارفین کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ پروڈکٹس اور سروسز کی ایک رینج پیش کرتا ہے۔ اس میں جیو اسٹور، میوزک اسٹریمنگ، ویب براو¿زنگ، ہینڈز فری وائس اسسٹنٹ، نیویگیشن اور گیمنگ جیسی سہولتیں شامل ہیں۔

پیور ای وی کے بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نشانت ڈونگری نے کہا:"ہمارے وہیکلز میں ‘Exploring JioThings’ کی جدید آئی او ٹی صلاحیتوں کا اضافہ، پیور ای وی کی پروڈکٹس کو اعلیٰ انڈسٹری معیارات تک پہنچانے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمارا ہدف اپنے وہیکلز کی کارکردگی اور انٹرایکٹوٹی کو بڑھا کر الیکٹرک موبیلٹی کے تصور کو نئے سرے سے متعارف کرانا ہے۔ یہ اقدام EV ایکو سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور صارفین کو بہترین کنیکٹیویٹی، فنکشنلٹی اور سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔”

جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کے صدر آشیش لوڈھا نے کہا:"ہمیں پیور ای وی کے ساتھ شراکت داری کر کے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ کمپنی الیکٹرک موبیلٹی اسپیس میں جدت اور معیار کی ہماری سوچ سے ہم آہنگ ہے۔ ہمارے جدید آئی او ٹی سلوشنز کے ذریعے، ہم پیور ای وی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ صارفین کو بہترین الیکٹرک ٹو وہیلر تجربہ فراہم کیا جا سکے، جو نئی کنیکٹیویٹی اور کارکردگی کے معیار طے کرے گا۔ یہ شراکت داری الیکٹرک ٹو وہیلر انڈسٹری کے مستقبل کی تشکیل اور پائیدار ٹرانسپورٹ سلوشنز کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی۔”


اڈانی-اسکون مہاپرساد: دنیا کا سب سے درست فوڈ ڈسٹریبیوشن سسٹم، کھانے کا ضیاع نہ ہونے کے برابر

 





اڈانی اور اسکون نے کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے مضبوط نظام بنایا

اڈانی گروپ اور اسکون مل کر پریاگ راج کمبھ میلہ کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں مہاپرساد کی تقسیم کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اڈانی گروپ نے روزانہ 1 لاکھ عقیدت مندوں کو کھانا فراہم کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکون کے باورچی خانے میں سارا دن سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ لاکھوں افراد تک پہنچنے والے اس پرساد کی سب سے نمایاں خصوصیت کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے کی جانے والی منصوبہ بندی اور کاوشیں ہیں۔ اسکون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی بھی حالت میں کھانے کا ضیاع 2 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے دیا جاتا۔

اسکون کے باورچی خانے میں مہاپرساد کی تیاری کا عمل رات 2 بجے کے قریب شروع ہو جاتا ہے۔ اسکون کے سیوک (رضاکار) نکھل بتاتے ہیں کہ ہم روز صبح اس کام کے لیے نکلتے ہیں اور تقریباً 500 کوئنٹل سبزیاں خریدی جاتی ہیں۔ یہ خریداری اچانک نہیں ہوتی بلکہ ایک دن پہلے سے منصوبہ بندی کر لی جاتی ہے کہ پرساد میں کیا پیش کیا جائے گا۔ آنے والے دن کی منصوبہ بندی بھی مکمل طور پر تیار رکھی جاتی ہے۔

پرساد کی تیاری کے ساتھ ہی کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے بھی ایک خاص حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔ اس کے لیے 4 افراد کی ایک خصوصی ٹیم ہے جو مسلسل کھانے کی کھپت کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ یہ ٹیم ہر گھنٹے میں کھانے کی کھپت کا جائزہ لیتی ہے۔ اندازے کے مطابق کمبھ میلے میں ایک مقام پر ایک گھنٹے میں تقریباً 800 سے 1000 افراد مہاپرساد کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی جانچا جاتا ہے کہ لوگ کتنی مقدار میں کھا رہے ہیں۔ پرساد تقسیم کرنے والی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق، عام طور پر جب لوگ بیٹھ کر کھاتے ہیں تو فی کس مقدار تقریباً 750 گرام ہوتی ہے، جبکہ کھڑے ہو کر یا چلتے پھرتے کھانے کی صورت میں یہ مقدار 350-400 گرام تک کم ہو جاتی ہے۔

اڈانی-اسکون کی مہاپرساد تقسیم کرنے والی ٹیم کے پاس زوماٹو اور سوئیگی جیسے فوڈ ایپس کے ٹریکنگ سسٹم نہیں ہیں، لیکن پھر بھی تقسیم کا عمل مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے 4-5 افراد پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو باورچی خانے سے باہر جانے والے کھانے کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔ جہاں جہاں مہاپرساد تقسیم کیا جا رہا ہے، وہاں موجود ٹیم کے ارکان وقتاً فوقتاً کھانے کی دستیابی اور کھپت کی اطلاع دیتے رہتے ہیں۔

شام ہوتے ہی تمام تقسیم مراکز سے بچا ہوا کھانا اکٹھا کر کے دوبارہ 6 سے 7 بجے تک بانٹ دیا جاتا ہے۔ ایک ٹیم یہ بھی چیک کرتی ہے کہ کھانے کی کوالٹی برقرار ہے یا نہیں۔ اگر کسی وجہ سے کھانے کو واپس لانا ممکن نہ ہو تو اڈانی اور اسکون کے رضاکار ٹریفک جام میں پھنسے یا پیدل چلنے والے افراد میں اسے تقسیم کر دیتے ہیں۔

یہ تمام اقدامات اس مقصد کے تحت کیے جا رہے ہیں کہ کھانے کا ایک دانہ بھی ضائع نہ ہو۔ اڈانی گروپ نے اسکون کے ساتھ مل کر روزانہ 1 لاکھ افراد میں مہاپرساد تقسیم کرنے کا ہدف رکھا ہے، جو کمبھ میلے کے اختتام تک جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ، اڈانی گروپ گیتا پریس کے ساتھ مل کر 1 کروڑ آرتی سنگرہ بھی تقسیم کر رہا ہے۔


خواتین کو بااختیار بنانے کے معاملے میں بہار ایک سرکردہ ریاست: شیلا منڈل

 




پٹنہ، 20 فروری :جمعرات کو جنتا دل (یونائیٹڈ) کے ریاستی دفتر، پٹنہ میں منعقدہ عوامی سماعت پروگرام میں بہار حکومت کی معزز وزیر برائے ٹرانسپورٹ، محترمہ شیلا منڈل نے ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے لوگوں کے مسائل کو سنا اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات دیں۔

اس موقع پر معزز ایم ایل سی سنجے کمار سنگھ عرف گاندھی جی اور پارٹی کے ریاستی جنرل سیکریٹری ارون کمار سنگھ بھی موجود تھے۔

اس دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معزز وزیر محترمہ شیلا منڈل نے کہا کہ معزز وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے خواتین کے بااختیار بنانے کے میدان میں جو تاریخی اقدامات کیے ہیں، ان کی پذیرائی نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے ہمارا بہار آج ایک سرکردہ ریاست ہے۔


روہتاس میں امری مسجد کی زمین کو تجاوزات سے آزاد کرایا جائے: اعجاز احمد

 




پٹنہ، 20 فروری 2025:بہار پردیش راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان اعجاز احمد نے بہار حکومت سے فوری طور پر وقف اسٹیٹ نمبر 1982 امری مسجد، کرواندیہ، ساسارام کو پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم (سی ڈبلیو جے سی 2012 16442) کے تحت تجاوزات سے آزاد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں شمش الحق انصاری، سیکریٹری وقف اسٹیٹ نمبر 1982 کی جانب سے سنی وقف بورڈ سے لے کر مقامی انتظامیہ تک درخواستیں دی جا رہی ہیں، لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ اس وجہ سے نمازیوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسجد کی زمین پر تجاوزات کرنے والے مسلسل قبضہ کرتے جا رہے ہیں، جس سے عوام میں شدید غصہ اور بےچینی پائی جا رہی ہے۔

اعجاز احمد نے ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں امری مسجد کی زمین کو تجاوزات سے آزاد کرا کر نمازیوں کو انصاف دلائیں تاکہ معاشرے میں بہتر اور پرامن ماحول پیدا ہو سکے۔ 


Wednesday, 19 February 2025

مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور کی کمی ہے : پرشانت کشور

 





پٹنہ: مسلم سماج میں سیاسی شعور بیدار نہیں ہو رہا ہے۔ ان کے دل و دماغ میں ڈر بیٹھا ہوا ہے کہ اگر ہم اپنے حق و حقوق کیلئے احتجاج کریں گے تو گرفتار ہو جائیں گے لیکن اگر کوئی مسلم نوجوان غلط طریقے سے گرفتار ہوتا ہے تو جن سوراج اسے بچائے گا لہذا مسلمانوں کو جمہوریت میں حصہ دار بننا پڑے گا ورنہ آپ کا وجود ختم ہو جائے گا۔مذکورہ باتیں آج ستیہ گرہ آشرم میں جن سوراج کے روح رواں پرشانت کیشور نے اردو اخبارات کے نمائندوں اور صحافیوں سے ایک خصوصی ملاقات میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست صرف چناو± لڑنے یا ووٹ کرنے کا نام نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو گاندھی جی نے کبھی چناو± نہیں لڑا تو کیا ان سے بڑا کوئی لیڈر پیدا ہوا۔ لہزا جس کے ساتھ عوام ہوگی وہی اپنے سماج کا لیڈر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کی اپنی کوئی طاقت نہیں ہے بلکہ سنگھ کی طاقت پر بھاجپا اقتدار میں آتی ہے۔ سنگھ مسلسل اپنے وچار دھارا کیلئے برسوں برس سے کام میں لگا ہوا ہے۔ اس لئے ابھی وچار دھارا کی لڑائی چل رہی ہے۔ واجپائی، اڈوانی، مودی، یوگی سب سنگھ کے وچار دھارا سے نکل کر آئے ہیں۔ میں نے پایا ہے کہ مسلمانوں کے اندر اتحاد کی کمی ہے مسلم سماج کو سیاسی طور پر بیدار کرنے کی میں مسلسل کوشش کر رہا لیکن وہ اپنے بچوں کو سیاسی تربیت حاصل کرنے کیلئے نہیں بھیج رہے ہیں۔ وہ اسلام کی بنیادی تعلیم سے بھی بے بہرہ ہیں اسلام نے تعداد کی بات کبھی نہیں کی۔ اگر تعداد کی بات ہوتی تو اسلام مذہب کبھی کھڑا ہی نہیں ہوتا۔ سچ پوچھئے تو مسلمانوں کی لیڈر شپ کو راجد نے ختم کیا۔ وقف بل کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ نائڈو، جگن ریڈی، اور نتیش کمار ہی اس بل کو روک سکتے ہیں ان سے سوال کرنے کی ضرورت ہے ان پارٹیوں کے مسلم لیڈروں کو احتجاج کرنے کی ضرورت ہے پارٹی سے استعفی دینے کی ضرورت ہے اگر میں کہہ دوں کہ وقف بل کے خلاف ہوں تو اس سے کیا ہوگا انہوں نے کہا کہ جن گننا کے مطابق بہار میں مسلمانوں کی تعداد 18 فیصد ہے تو جن سوراج آبادی کے مطابق مسلمانوں کو اسمبلی انتخاب کیلئے ٹکٹ دے گا۔ اگر لوگ کہتے ہیں کہ جن سوراج بھاجپا کی بی ٹیم تو یہ غلط ہے نتیش کمار بھاجپا کے ساتھ ہیں تو مسلمان ان کو کیوں ووٹ کرتے ہیں اسی لئے میں کہتا ہوں کہ مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور کی کمی ہے۔


Tuesday, 18 February 2025

غزہ کی پٹی کے حوالے سے مصر کے منصوبے کی نئی تفصیلات

 







امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی کی آبادی کی ہمسایہ ممالک جبری ہجرت سے متعلق دھماکا خیز تجویز کے بعد سے مصر غزہ کی تعمیر نو کے ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہا ہے جس میں فلسطینیوں کے کوچ کی نوبت نہ آئے۔



مصری تجویز میں غزہ کے اندر "محفوظ علاقوں" کا قیام شامل ہے جہاں فلسطینی عارضی طور پر رہ سکیں جب کہ اس دوران میں مصری اور بین الاقوامی ملبے کو صاف کر کے بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ سے بحال کریں۔


اسی طرح تجویز میں غزہ کی پٹی کے انتظامی امور چلانے اور تعمیر نو کی کوششوں کی نگرانی کے لیے ایک ایسی غیر جانب دار فلسطینی انتظامیہ بنانا بھی مذکورہ ہے جو حماس یا فلسطینی اتھارٹی میں سے کسی کی جانب مائل نہ ہو۔ یہ بات ان کوششوں میں شریک مصری ذمے داران نے بتائی۔


مصری تجویز میں ایک فلسطینی پولیس فورس تشکیل دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ یہ فورس مرکزی طور پر فلسطینی اتھارٹی کے ان سابق پولیس اہل کاروں پر مشتمل ہو جو 2007 میں غزہ کی پٹی پر حماس کے کنٹرول کے بعد وہاں باقی رہ گئے۔ اس فورس کو مصر اور مغربی ممالک کی تربیت یافتہ فورس کی کمک فراہم کی جائے گی۔


مصری منصوبے میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کو تین مراحل پر تقسیم کیا گیا ہے۔ مصری ذمے داران کے مطابق تعمیر نو میں پانچ برس کا عرصہ درکار ہو گا اور اس دوران میں فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے باہر نہیں نکالا جائے گا۔


اسی طرح غزہ کے اندر تین "محفوظ علاقوں" کا تعین کیا گیا ہے جہاں فلسطینیوں کو ابتدائی چھ ماہ کے لیے منتقل کیا جائے گا۔ ان علاقوں کو موبائل گھروں اور پناہ گاہوں سے لیس کیا جائے گا، ساتھ ہی انسانی امداد کی ترسیل بھی جاری رہے گی۔


غزہ کی پٹی میں ملبے کی صفائی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں بیس سے زیادہ مصری اور بین الاقوامی کمپنیاں شریک ہوں گی۔

غزہ میں عرب فورس تعینات کرنے کے امکان کے حوالے سے سوال کے جواب میں ایک مصری اور عرب سفارت کار نے کہا کہ عرب ممالک اس صورت میں آمادہ ہوں گے اگر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے "واضح راستہ" موجود ہوا۔


یہ تجویز ابھی تک زیر بحث ہے۔ مصری عہدے داران اس منصوبے پر یورپی سفارت کاروں، سعودی عرب، قطر اور امارات کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ بات عرب اور مغربی سفارت کاروں نے بتائی۔


اسی طرح تعمیر نو کے لیے فنڈنگ کے طریقے بھی زیر غور ہیں۔ ان میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد شامل ہے۔


مصر کی یہ تجویز رواں ہفتے ریاض میں مصر، سعودی عرب، قطر، امارات اور اردن کے ذمے داران کے بیچ زیر بحث آئے گی۔ بعد ازاں اسے رواں ماہ عرب سربراہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ یہ بات مصری ذمے داران اور ایک عرب سفارت کار نے بتائی۔


دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کی آئندہ حکومت میں حماس یا فلسطینی اتھارٹی کے کسی بھی کردار کو مسترد کر دیا ہے۔


ادھر حماس نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں اقدار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار ہے۔ حماس کے ترجامن عبداللطيف القانوع نے اتوار کے روز ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی کو چلانے کے لیے فلسطینی یکجہتی کی حکومت یا ٹیکنوکریٹس کمیٹی کو قبول کر لیا ہے جس میں حماس شامل نہیں ہو گی۔


یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے غلاف غزہ کے علاقے میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر بڑے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جنگ چھیڑ دی۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں اور بم باری میں ڈھائی لاکھ رہائشی یونٹ تباہ ہو چکے ہیں۔


اسی طرح غزہ کی پٹی میں 90% سے زیادہ راستے اور 80% سے زیادہ طبی تنصیبات تباہ ہو گئیں۔

غزہ کی پٹی میں بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ 30 ارب ڈالر کے قریب لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گھروں اور رہائش گاہوں کو ہونے والے نقصان کا اندازہ تقریبا 16 ارب ڈالر ہے۔