Tuesday, 11 February 2025

آیوروید اور یونانی طریقہ علاج ہماری تہذیب کا حصہ ہیں، ہمیں ایسی دواوں سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔وجئے کمار سنہا







گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں منایا گیا ورلڈ یونانی ڈے




پٹنہ (پریس ریلیز)

ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا کہ  آج مورخہ ۱۱   فروری بروز منگل گورنمنٹ طبی کالج میں ورلڈ یونانی ڈے  کے موقع سے  شاندار پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ حکیم اجمل خاں کی یوم پیدائش کی یاد میں 2017 سے ورلڈ یونانی ڈے منایا جاتا ہے۔ طبی کالج پٹنہ میں اس موقع سے 29 جنوری سےکالج کے طلباء میں کھیل کود کا اہتمام کیا گیا جس میں کبڈی، بیڈ مینٹن، ٹیبل ٹینس وغیرہ مختلف کھیل کا کمپٹیشن تھا۔ 5 فروری سے ایجوکیشنل پروگرام کا آغاز کیا گیا جس میں رائٹنگ کمپٹیشن، ڈیبیٹ، کوئز کونٹسٹ، پوسٹر کمپٹیشن اور یونانی فوڈ فیسٹیول  جیسا کمپٹیشن رکھا گیا تھا جس میں  یو جی اور پی جی کے طلباء و طالبات نے پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ اس پورے پروگرام کا اختتامی اجلاس آج مورخہ 11 فروری کو اجمل خاں آڈیٹوریم میں کیا گیا ۔ اختتامی اجلاس میں صوبے کے ڈپٹی چیف منسٹر جناب وجئے کمار سنہا مہمان خصوصی کے طور پر، سابق ڈپٹی چیف منسٹر جناب تارکیشور پرساد  مہمان اعزازی کے طور پر شامل ہوئے۔ محکمہ صحت کے انڈر سکریٹری جناب ونود کمار پاٹھک اور ڈائرکٹر (یونانی) جناب ڈاکٹر محمد وسیم الدین مہمانان کے طور پر شامل ہوئے۔پروفیسر محمد محفوظ الرحمن،  پرنسپل گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ نے پروگرام کی صدارت کی اور اس موقع سے پرگرام نائب صدر ڈاکٹر متانت کریم اسسٹنٹ پروفیسر کم ڈی ڈی او،  پروگرام سکریٹری ڈاکٹر محمد تنویر عالم ( کلیات)  جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر نجیب الرحمن، جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر شمیم اختر، ڈاکٹر نشانت نندن، ڈاکٹر جاوید انور نے ڈائس شیئر کیا۔ کالج ہذا کے سبھی اساتذہ، میڈیکل آفیسر، ایس ایم او،  پی جی اسکالر، انٹرن ڈاکٹر، طلباء و طالبات کے علاوہ اسٹاف موجود رہے۔ 




بتاتا چلوں کہ پروگرام کے مہمان خصوصی جناب وجئے کمار سنہا نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہندوستان ایسی سر زمین ہے جہاں مختلف بولیاں بولی جاتی ہیں اور اسی طرح سے ہر گھر میں جڑی بوٹیوں کے ذریعہ علاج کرنے کے لئے دادی نانی کے نسخے تیار رہتے ہیں۔ یونانی اور آیورویدا ایک قدیم طریقہ علاج ہے اور اس  کی ترقی کے لئے ہماری سرکار نے الگ سے  وزارت آیوش بنایا جس سے موجودہ وقت میں اور مزید مستقبل میں فائدہ حاصل ہوگا۔ جناب تاکیشور پرساد نے اپنے خطاب میں کہا کہ طبی کالج پٹنہ کو اکثر آفس کی فائلوں میں دیکھا کرتا تھا لیکن پہلی دفعہ کالج میں آنے کا موقع ملا اور مجھے اس بات کا احساس ہے کہ کالج میں جس بھی طرح کی کمیاں ہیں ہم جلد ہی حکومت سے اس کی سفارش کریں گے تاکہ یونانی طریقہ علاج کو عروج حاصل ہو سکے۔ بتاتا چلوں کہ پچھلے دنوں سے مختلف کھیل کود اور ایجوکیشنل  کمپٹیشن میں شامل ہونے والے طلباء و  طالبات کو میڈل اور اعزاز سے نوازا گیا۔

Monday, 10 February 2025

سیفٹی انڈیکس 2023 : سعودی عرب جی ٹوئنٹی ممالک میں سر فہرست

 









اقوام متحدہ کے زیر انتظام ڈیٹا بیس کے مطابق سال 2023 کے سیفٹی انڈیکس میں سعودی عرب جی ٹوئنٹی ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔


یہ بات آج پیر کے روز General Authority for Statistics کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتائی گئی۔ انڈیکس کے نتائج کے مطابق مملکت کی مجموعی آبادی میں سے 92.6% لوگ رات کے وقت اپنے گھروں کے علاقوں میں تنہا گھومتے ہوئے خود کو محفوظ خیال کرتے ہیں۔



انڈیکس کے نتائج سے مملکت کے ان سیکٹروں کا کردار واضح ہوتا ہے جو پوری مملکت کے اندر لوگوں کے لیے تحفظ کو یقینی بنانے میں فعال رہتے ہیں۔ مملکت میں مختلف شعبوں میں امن کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رہتی ہیں۔ ان سیکٹروں میں معیشت ، خوراک ، ماحول ، صحت، سماج، سیاست، فکر و ارتقا اور سائبر سیکورٹی اور ٹکنالوجی وغیرہ شامل ہے۔



غزہ کوئی جائیداد نہیں جس کی خرید و فروخت کی جائے : حماس کا ٹرمپ کو جواب

 





امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی خرید کر اپنی ملکیت میں لینے پر قائم ہیں۔ تاہم انھوں نے ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ تعمیر نو میں شریک مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو غزہ کی پٹی کے بعض حصے دے سکتے ہیں۔


ٹرمپ کے اس بیان نے حماس کو پھر سے جواب دینے پر مائل کر دیا۔ تنظیم نے امریکی صدر کے بیان کی مذمت کی ہے۔


حماس کے سیاسی دفتر کے رکن عزت الرشق نے باور کرایا ہے کہ "فلسطینی عوام اپنی جبری ہجرت کے حوالے سے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیں گے"۔


اتوار کی شب تاخیر سے جاری بیان میں الرشق نے مزید کہا کہ "غزہ کوئی جائیداد نہیں جس کی خرید و فروخت کی جائے، بلکہ یہ مقبوضہ فلسطینی اراضی کا اٹوٹ انگ (نا قابل تقسیم حصہ) ہے"۔


العزت نے غزہ کی خرید و فروخت کے حوالے سے ٹرمپ کے بیان کو فضول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "فلسطین اور خطے کے حوالے سے گہری جہالت" کا عکاس ہے۔


یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر نے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ "غزہ میں واپسی کے لیے کچھ باقی نہیں رہا ... وہ جگہ تباہی کا مقام ہے"۔


ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ بعض فلسطینی پناہ گزینوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت دے سکتے ہیں تاہم اس طرح کی درخواستوں کو وہ انفرادی بنیادوں پر خود دیکھیں گے۔


امریکی صدر نے 20 جنوری کو سنبھال کر تھوڑے ہی روز بعد غزہ کی پٹی پر امریکی کنٹرول اور تعمیر نو کی ضخیم کوششوں میں شامل ہونے کی تجویز پیش کر دی۔


وہ اپنے اس خیال کو کئی مرتبہ دہراتے ہوئے یہ باور کرا چکے ہیں کہ غزہ کی آبادی کو دیگر ممالک منتقل کیا جائے گا جن میں مصر اور اردن سرفہرست ہیں۔ دوسری جانب قاہرہ اور عمان دونوں ہی بارہا اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں۔


ٹرمپ کے منصوبے کو کئی عرب اور مغربی ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ کی جانب سے فوری تنقید کا سامنا کرنا پڑا بالخصوص اس لیے کہ فلسطینیوں کی جبری ہجرت بین الاقوامی قوانین کی مخالفت ہے۔



ٹرمپ کا "غزہ بم" بحیرہ احمر میں پھٹ گیا، کارگو سیکٹر کی امیدیں ختم

 




غزہ کی پٹی کی آبادی کو ہمسایہ ممالک منتقل کر کے اس کا کنٹرول سنبھالنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر تنقید اور مذمت کا دروازہ کھولا بلکہ لگتا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں مال بردار جہازوں کی آمد و رفت پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔


کارگو سیکٹر کے ایگزیکٹو ذمے داران نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کی مذکورہ تجویز نے ایک سال کے اضطراب کے بعد بحیرہ احمر کے راستے کی طرف واپسی کی امیدوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔


ٹرمپ کے اچانک اعلان نے اس بات کے اندیشے پیدا کر دیے ہیں کہ یمن میں حوثی ملیشیا ایک بار پھر اس اہم آبی راہ داری سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرات پیدا کرے گی۔ حوثیوں نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کے بعد زیادہ تر جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روک دیں گے۔


اس حوالے سے "نورڈن" کارگو گروپ کے چیف ایگزیکٹو جان رینڈبو نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے نے مشرق وسطیٰ میں گڑبڑ اور کشیدگی کی صورت بڑھا دی ہے۔ رینڈبو کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کے اعلان سے حوثیوں کے اپنے موقف پر قائم رہنے کا امکان خطرے میں پڑ گیا ہے۔ یہ بات برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" نے بتائی۔


اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے ابتدائی ایام میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کئی تجارتی شراکت داروں پر کسٹم ڈیوٹیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دیں۔ ان کے نتیجے میں تجارتی جنگیں چھڑ جانے اور عالمی معیشت کے زوال کے اندیشے پیدا ہو گئے جو بحری جہازوں کے مالکان کے منافع کو متاثر کر سکتے ہیں۔


حوثیوں نے 19 جنوری کو بحری جہازوں کے گزرنے پر سے پابندیاں اٹھانے کا اعلان کر دیا تھا ما سوا وہ جہاز جو اسرائیل میں رجسٹرڈ ہیں یا مکمل طور پر اسرائیلی اداروں کی ملکیت ہیں۔



غزہ کی حمایت میں حوثیوں نے سال 2023 کے اواخر میں اسرائیلی بندر گاہوں کا رخ کرنے والے تمام بحری جہازوں اور اسی طرح برطانوی اور امریکی اداروں کے مملوکہ بحری جہازوں کو دھمکی دی تھی۔


لائڈز لیسٹ انٹیلی جنس کمپنی کے مطابق حوثیوں کے اعلان کے بعد اگلے ایک ہفتے میں آبنائے باب المندب کے راستے بحیرہ احمر میں داخل ہونے والے جہازوں کی تعداد 4% اضافے کے ساتھ 223 ہو گئی۔


ادھر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ LNG (گیس) کا ایک ٹینکر جو حال ہی میں ع±مان سے روانہ ہوا تھا، ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد بحیرہ احمر کے راستے غیر روسی LNG کی پہلی کھیپ منتقل کرے گا۔ یہ بات بنیادی اشیائ کی معلومات رکھنے والی کمپنی ICIS نے بتائی۔


توقع ہے کہ LNG کا بحری جہاز "صلالہ" 16 فروری کو ترکی کی بندر گاہ پہنچے گا۔


البتہ بحری جہازوں کے مزید مالکان اب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور حملے کم کرنے سے متعلق حوثیوں کے اپنے وعدے سے پھر جانے کے حوالے سے خود کو تیار کر رہے ہیں۔


تاجر حضرات اس بات کی توقع کر رہے تھے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک کارگو کی مدت اور لاگت میں اضافے کا سبب بننے والے بحران کے بعد معمول کی صورت حال پر لوٹ آئیں گے۔ واضح رہے کہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والے کارگو بحری جہازوں نے افریقا کے گرد طویل راستہ اپنایا تھا۔



ٹرمپ کا امریکہ میں سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان

 






امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ موجودہ ڈیوٹی کے علاوہ امریکہ میں سٹیل اور ایلومینیم کی تمام درآمدات پر نئے 25 فیصد ٹیرف متعارف کرائیں گے۔ یہ نیا اعلان ان کی تجارتی پالیسی میں ایک اور بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔


ٹرمپ نے نیو اورلینز میں این ایف ایل سپر باو¿ل کے سفر میں ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیر کو دھاتوں کے نئے ٹیرف کا اعلان کرنے والے ہیں۔


انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ منگل یا بدھ کو باہمی جوابی ٹیرف کا اعلان کریں گے جو تقریباً فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ یہ ٹیرف تمام ممالک پر نافذ ہوں گے اور ہر ملک کی طرف سے لگائے گئے ٹیرف کی شرح سے مماثل ہوں گے۔


ٹرمپ نے باہمی ٹیرف پلان کے بارے میں کہا، "اور یہ بہت سادہ بات ہے، اگر وہ ہم سے چارج کرتے ہیں تو ہم ان سے چارج کریں گے۔"


حکومت اور امریکی آئرن اینڈ سٹیل انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی سٹیل کی درآمد کے سب سے بڑے ذرائع کینیڈا، برازیل اور میکسیکو ہیں۔ اس کے بعد جنوبی کوریا اور ویتنام آتے ہیں۔


ہائیڈرو پاور سے مالا مال کینیڈا امریکہ کو بنیادی ایلومینیم دھات کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے جو 2024 کے پہلے 11 مہینوں میں کل درآمدات کا 79 فیصد رہا ہے۔


کینیڈا کے وزیر برائے اختراعات فرانکوئس-فلپ شیمپین نے ایکس پر پوسٹ کیا، "کینیڈین سٹیل اور ایلومینیم امریکہ میں دفاعی، بحری جہاز سازی اور آٹو جیسی کلیدی صنعتوں کی معاونت کرتے ہیں۔ ہم اپنے کارکنان، اپنی صنعتوں اور کینیڈا کے لیے کھڑے رہیں گے۔"


ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ امریکی حکومت جاپان کی نیپون سٹیل کو امریکی سٹیل میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دے گی لیکن وہ اسے اکثریت کا حصہ نہیں بننے دے گی۔


ٹرمپ نے امریکی سٹیل کے بارے میں کہا، "ٹیرف اسے دوبارہ بہت کامیاب بنا سکتے ہیں اور میرے خیال میں اس کی انتظامیہ اچھی ہے۔"


نپون سٹیل نے ٹرمپ کے تازہ ترین اعلانات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔


کوٹے سے متعلق سوالات

ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران سٹیل پر 25 فیصد اور ایلومینیم پر 10 فیصد محصولات عائد کیے تھے لیکن بعد میں کئی تجارتی شراکت داروں کے لیے یہ ڈیوٹی فری کر دیا تھا جن میں کینیڈا، میکسیکو اور برازیل شامل ہیں۔ میکسیکو ایلومینیم سکریپ اور ایلومینیم مرکب سے بنی دھاتوں کا ایک بڑا فراہم کنندہ ہے۔


سابق صدر جو بائیڈن نے بعد میں برطانیہ، یورپی یونین اور جاپان کے ساتھ ڈیوٹی فری کوٹہ مختص کرنے کے بارے میں بات چیت کی۔ ٹرمپ کے اعلان سے فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان رعایتوں اور مخصوص کوٹے کا کیا ہو گا۔


کیوبیک کے وزیرِ اعظم فرانسوا لیگلٹ نے ایکس پر کہا، "کیوبیک (امریکہ کو) 2.9 ملین ٹن ایلومینیم برآمد کرتا ہے یعنی ان کی ضروریات کا 60 فیصد۔ کیا وہ چین سے سپلائی لینے کو ترجیح دیں گے؟ ان سب باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں جلد از جلد امریکہ کے ساتھ اپنے آزاد تجارتی معاہدے پر دوبارہ بات چیت شروع کرنی چاہیے اور 2026 کے لیے طے شدہ جائزے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اس غیر یقینی صورتِ حال کو ختم کرنا چاہیے۔"


ٹرمپ کے ابتدائی محصولات کے بعد 2019 میں سٹیل مل کی صلاحیت کا استعمال 80 فیصد سے اوپر پہنچ گیا لیکن اس کے بعد سے اس میں کمی آئی کیونکہ اس شعبے پر چین کا عالمی غلبہ سٹیل کی قیمتوں میں کی کا باعث بنا۔ ٹیرف کے ذریعے بحال ہونے والا ایک میزوری ایلومینیم سمیلٹر (دھاتوں کو الگ کرنے والی بھٹی) گذشتہ سال میگنیٹیوڈ سیون میٹلز کے باعث بند ہو گیا۔


امریکی آئرن ینڈ سٹیل انسٹی ٹیوٹ (اے آئی ایس آئی) کے صدر اور سی ای او کیون ڈیمپسی نے کہا کہ انڈسٹری ٹریڈ گروپ نے مضبوط امریکی سٹیل انڈسٹری کے لیے ٹرمپ کے عزم کا خیر مقدم کیا۔


انہوں نے کہا، "ایک مضبوط اور از سرِ نو تجارتی ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے ہم صدر اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ مارکیٹ کو خراب کرنے والی کئی غیر ملکی پالیسیوں اور طریقوں کو حل کیا جائے جو امریکی سٹیل سازوں کے لیے ایک غیر مساوی ہیں۔"


مماثل نرخ

ٹرمپ نے کہا کہ وہ باہمی ٹیرف پلان کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے کے لیے منگل یا بدھ کو ایک نیوز کانفرنس کریں گے۔ نئے امریکی صدر نے طویل عرصے سے گاڑیوں کی درآمدات پر یورپی یونین کے 10 فیصد ٹیرف کے بارے میں شکایت کی ہے جو امریکی کاروں کی 2.5 فیصد شرح سے کہیں زیادہ ہے۔


تاہم امریکہ کو پک اپ ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف حاصل ہے جو ڈیٹرائٹ کے کار ساز اداروں جنرل موٹرز، فورڈ اور سٹیلنٹِس کے امریکی آپریشنز کے لیے منافع کا ایک اہم ذریعہ ہے۔


عالمی ادار? تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے اوسط ٹیرف کی شرح تقریباً 2.2 فیصد ہے جبکہ ہندوستان کے لیے 12 فیصد، برازیل کے لیے 6.7 فیصد، ویتنام کے لیے 5.1 فیصد اور یورپی یونین کے ممالک کے لیے 2.7 فیصد ہے۔


امریکہ کی ڈسٹلڈ سپرٹس کونسل کے سی ای او کرس سوونگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹرمپ کے سٹیل کے نئے ٹیرف یورپی یونین کو امریکی وہسکی پر دوبارہ جوابی ڈیوٹیز لگانے اور 50 فیصد تک بڑھانے کا باعث بنیں گے۔


انہوں نے کہا، "ہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ اور یورپی یونین ایک حل تلاش کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھیں۔ ہماری عظیم امریکی وہسکی کی صنعت داو¿ پر لگی ہوئی ہے۔ امریکہ کی اصل وہسکی پر 50 فیصد ٹیرف کا پورے امریکہ میں 3,000 چھوٹے اداروں کے لیے تباہ کن اثر ہو گا۔



سرحدی اقدام

فاکس نیوز کے ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور منشیات اور تارکینِ وطن کی آمد کو روکنے کے لیے کینیڈا اور میکسیکو کے اقدامات ناکافی ہیں۔


ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ میکسیکو اور کینیڈا کی تمام درآمدات پر 25 فیصد کے محصولات عائد کریں گے جب تک امریکہ کے دو سب سے بڑے تجارتی شراکت دار سخت اقدامات نہیں کرتے۔


انہوں نے دونوں ممالک کی جانب سے سرحدی حفاظتی رعایت کے بعد یکم مارچ تک محصولات کو موقوف کر دیا۔ ان رعایتوں میں میکسیکو نے اپنی سرحد پر 10,000 نیشنل گارڈ فوجیوں کو شامل کرنے کا وعدہ کیا اور کینیڈا نے نئی ٹیکنالوجی اور اہلکار تعینات کیے اور فینٹانیل کے خلاف نئے اقدامات کیے۔


کیا میکسیکو اور کینیڈا کے اقدامات کافی اچھے تھے، اس سوال کا ٹرمپ نے یہ جواب دیا: "نہیں، یہ کافی اچھا نہیں ہے۔کچھ ضرور ہونا ہے، یہ پائیدار نہیں ہے، اور میں اسے تبدیل کر رہا ہوں۔"


ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ کینیڈا اور میکسیکو کو یکم مارچ کو نافذ ہونے والے وسیع محصولات سے بچنے کے لیے کیا کرنا ہو گا۔



غزہ کی ملکیت لینے پر قائم ہوں ، کچھ حصے شاید دیگر ممالک کو دے دوں : ٹرمپ

 








اگرچہ غزہ کی پٹی پر قبضے اور اس کی آبادی کی بے دخلی سے متعلق تجویز کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بین الاقوامی سطح پر اور اقوام متحدہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے، تاہم ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک ان کا دل اس تجویز پر بات کرنے سے بھرا نہیں۔


ٹرمپ نے کل اتوار کے روز ایک بار پھر یہ بات دہرائی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کو خریدنے اور اس کو ملکیت میں لینے پر کاربند ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کے لیے ساحلی پٹی کے کچھ حصے مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کو دے سکتے ہیں۔


صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "میں غزہ کو مستقبل کی ترقی کے لیے ایک اچھے مقام میں تبدیل کر دوں گا"۔


امریکی صدر نے باور کرایا کہ وہ فلسطینیوں پر توجہ دیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ انھیں قتل نہ کیا جائے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ "میں فلسطینیوں کے امریکا میں داخل ہونے اور انھیں پناہ کا حق دینے کے لیے انفرادی حالتوں کا جائزہ لوں گا"۔


امریکی صدر کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک فلسطینیوں کا استقبال کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں واپس جانے کے لیے اب کچھ نہیں رہا، یہ جگہ اب تباہی کا مقام ہے۔ باقی جگہ کو بھی منہدم کر دیا جائے گا ، ہر چیز کو منہدم کر دیا جائے گا"۔


دوسری جانب حماس تنظیم کے ایک ذمے دار عزت الرشق نے غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام جبری ہجرت کے ہر منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔


یہ موقف حماس تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں سامنے آیا ہے۔


یاد رہے کہ ٹرمپ یہ تجویز دے چکے ہیں کہ اسرائیل واشنگٹن کو غزہ پر کنٹرول دے گا اور وہ اسے "مشرق وسطیٰ کا ریویرا" میں تبدیل کر دیں گے۔ اس سے پہلے فلسطینیوں کو مصر اور اردن جیسے دیگر ملکوں کو منتقل کر دیا جائے گا۔ تاہم اس تجویز کی عرب دنیا اور بین الاقوامی سطح پر وسیع مذمت کی گئی ہے۔ کئی عرب اور مغربی ممالک نے اس افسوس ناک منصوبے کو نسلی تطہیر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق نا جائز قرار دیا ہے۔


مصر اور اردن پہلے ہی امریکی صدر کی تجویز پر فلسطینیوں کی اپنے ملکوں میں آباد کاری کو مسترد کر چکے ہیں۔


واضح رہے کہ عرب ممالک اسرائیل کے ایک جانب فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دوریاستی حل پر عمل درآمد کے موقف پر ثابت قدم ہیں۔



ورلڈ یونانی ڈے کے تناظر میں بہار کا یونانی طب

 





حکیم محمد شفاعت کریم

جنرل سکریٹری، ایسو سی ایشن آف یونانی فزیشین، بہار

9852560980

طب یونانی زمانہ قدیم سے نہ صرف رائج ہے بلکہ صدیوں سے اسے فن کی حیثیت سے پڑھا اور پڑھایا جاتا رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے آیوش کے جھنڈے تلے مختلف طریقہ علاج کو یکجا کر دیا اور اس کے لئے علیحدہ محکمہ کی تشکیل کر دی جو کہ تاریخی عمل ہے اور اس کے لئے موجودہ حکومت مبارکباد کی مستحق ہیں۔ محکمہ آیوش کی تشکیل کے بعد سے ہی آیورویدا  روز بروز ترقی کر رہی ہے اس کے ساتھ ہی یونانی طریقہ علاج کی ترقی کا راہ بھی ہموار ہو رہا ہے۔ 

ہندوستان میں انگریزی حکومت کے مسلط ہونے تک عوام کے علاج و معالجہ کے لئے حکیم اور وید ہی پر منحصر تھے۔ انگریزی دور میں بھی حکیموں اور ویدوں نے اپنی خدمت جاری رکھی۔ انگریزوں نے ان طریقہ علاج کو فرسودہ قرار دینے لئے قانون بنانے کی کوششیں کی جس کے خلاف حکیم اجمل خاں نے ہندوستان میں گھوم گھوم کر ویدوں اور حکیموں کو یکجا کیا، مقدمہ لڑے اور انہیں اس قانون کو واپس لینے پر مجبور کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ طب یونانی یا آیوروید غیر سائنٹیفک نہیں ہے۔ اسی مہم کے تحت انہوں نے آیورویدک اینڈ یونانی طبیہ کالج قرولباغ کی داغ بیل ڈالی اور اسی کڑی میں بہار میں پٹنہ کا طبی کالج بھی وجود میں آیا۔ ہمیں اس بات سے قطعی انکار نہیں ہے کہ ہمارے پْرکھے حکیم اور ویدوں سے ہی خدمت لے کر خود کو صحتیاب کرتے رہے ہیں۔انہیں حکیم اجمل خاں کی یوم پیدائش کے موقع پر 2017 سے ہر سال 11 فروری کو  ورلڈ یونانی منایا جاتا ہے۔ 

انگریزوں نے 1947 میں ہندوستان چھوڑ دیا لیکن انگریزی طرز علاج نے ہندوستان میں اپنی مضبوط پیٹھ بنا لی۔ اس بات سے انکار نہیں کہ انگریزی علاج و معالجہ نہ صرف سائنٹیفک ہے  بلکہ عوام میں مقبول ہے۔ لیکن اس سے ایک بڑا نقصان جو ہوا ہے وہ یہ کہ انگریزی طب کی وجہ سے ہندوستانی طب کو خاطر خواہ فروغ نہ مل سکا۔ جس طرح سے انگریزی ادب کو ہندی اور اردو پر ترجیح دی جاتی رہی اور آج انگریزی ایک ضروری زبان بن چکی ہے  اور اردو ہندی میں لکھی گئی کتابیں اور رسالے کمتر درجے کی گردانی جانے لگی ہیں اسی طرح طب یونانی اور آیورویدا کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس سے انکاار نہیں کیا جا سکتا کہ طب یونانی اور اس کے فارغین نے پچھلے سو سالوں میں اپنے وقار کو کھویا ہے اور زوال کا شکار ہوئے ہیں۔ لیکن پچھلی دہائیوں کی بات کی جائے تو ہم آیوروید کے ساتھ ساتھ طب یونانی کے  روشن مستقبل کو دیکھ سکتے ہیں۔ 2005 میں این آر ایچ ایم آنے کے بعد طب یونانی کے فارغین کے لئے سرکاری نوکریوں میں بحال ہونے لگے۔ پھر آر بی ایس کے کے تحت بھی انکی بحالی ہوئی ۔ 2020 میں 3270 آیوش ڈاکٹروں کی بحالی کے لئے اشتہار نکالا گیا جس کی بحالی 2024 میں مکمل ہوئی۔فارغین میں سے زیادہ تر ایلوپیتھک پریکٹس کر لیتے ہیں، بہتیرے کو بڑے بڑے اسپتالوں میں جگہ مل جاتی ہے، الگ الگ صحت کی تنظیمیں بھی یونانی ڈاکٹروں کو بحال کرنے لگی ہے۔  ان سب وجوہات سے بھی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والے طلباء بی یو ایم ایس کورس میں داخلہ لینے کو  کوشاں رہتے ہیں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ بہار کے کسی بھی پرائویٹ یونانی کالجوں میں داخلے کی فیس 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایسے میں غریب طالب علموں کے لئے صرف طبی کالج پٹنہ ہی ایک واحد ادارہ ہےجہاں این سی آئی ایس ایم کی قینچی ہر سال سیٹیں کم کر دیتی ہیں۔ 

بہار میں طب یونانی کی بات کریں تو اس کا محور ہمیشہ گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ رہا کرتا ہے۔ کیونکہ یہی وہ ادارہ ہے جو آزادی سے پہلے سے طب کی روشنی بکھیر رہا ہےاور یہاں کے فارغین بہار ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔جس وقت طبی کالج پٹنہ کا قیام ہوا اس وقت بہار ، اوڈیسہ اور جھارکھنڈ ایک ساتھ ہوا کرتے تھے باوجود اس کی صوبے کی کل آبادی 3 کڑور کے آس پاس تھی۔ آج جب کہ اس کالج کے قیام کے سو سال ہونے کو ہیں اور بہار کی آبادی چار گنا بڑھ کر لگ بھگ 13 کڑور ہو چکی ہے ، کوئی دوسرا طبیہ کالج نہیں بن سکا۔ اس بابت ایسو سی ایشن آف یونانی فزیشین ، بہارکی جانب سے جدیو ،راجد حکومت  اور جد یو ، بی جے پی حکومت میں بھی مکتوب لکھے گئے اور اس کی مانگ کی گئی کہ موجودہ وقت میں آبادی کے تناسب سے کم از کم دو اور طبیہ کالج قائم کیا جانا چاہئے۔ اے یو پی کے کارکنان نے  امارت شرعیہ سے بھی اپنی مراعات رکھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت میں ہمارے قائدین کو اس بابت اپنی بات اٹھانی ہوگی اور بار بار حکومت سے اپنی مانگ دہرانی ہوگی۔ موجودہ وقت میں گورنمنٹ  طبی کالج پٹنہ میں بی یو ایم ایس کی 125 سیٹیں ہیں جب کہ پانچ شعبے میں ماہر طب یعنی پی جی کورس چل رہا ہے جس میں 31 سیٹیں ہیں۔ اتنی کثیر آبادی کے لئے یہ سیٹیں ناکافی ہیں۔ 

یونانی ڈے منانے کا مقصد یہ ہونا چاہئیے کہ سال میں ایک بار اپنا احتساب کریں کہ اس ایک سال میں طب نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ طبی ادارے ایک سال کے لئے اپنا حدف متعین کریں اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ نے یہ حدف حاصل کیا ہے تب تو یونانی ڈے منانے کا مقصد پورا ہوتا ہے ورنہ گفتن، شنیدن ،برخاستن۔

نجی اسکولوں کی مشکلات کے حل کے لیے قومی صدر شمائل احمد کی وزیر تعلیم سے ملاقات

 





پرائیویٹ اسکولز اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر شمائل احمد نے آج بہار کے وزیر تعلیم جناب سنیل کمار سے ان کے سرکاری دفتر میں ملاقات کی اور نجی اسکولوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے خاص طور پر آر ٹی ای (RTE) کے تحت تعلیم دینے والے اسکولوں کی گزشتہ چھ سالوں سے بقایا رقم کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اس پر وزیر تعلیم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ 28 فروری سے پہلے ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔اس کے علاوہ، دیگر مسائل کے حل کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔ 


متھلا انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ و طالبات کا مفت میڈیکل کیمپ میں شاندار تعاون

 




دربھنگہ:- متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے طالب علم فیض احمد کے نگرانی میں محمد ابراہیم، ارمان راجہ، صائمہ رضوی، راحیلہ رضوی، ثانیہ پروین، زیبا منتشا، کائنات پروین، کلثوم پروین، رفعت سبرین، راحت نازرین اور نادیہ رضوان نے آپٹیمم انٹرنیشنل اسکول میں مفت میڈیکل کیمپ میں تعاون دینے کا کام کیا- مفت میڈیکل کیمپ میں شہر کے مشہور جنرل سرجن ڈاکٹر احمد نسیم آرزو، ڈاکٹر انتخاب عالم، معروف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر حنا آرزو، ڈاکٹر نوین کمار جنرل میڈیسن، ڈاکٹر اشرف اعظم جنرل میڈیسن، ڈاکٹر آصف اقبال کمالی آرتھوپیڈکس، ڈاکٹر شاہنواز حسین وارثی چائلڈ اسپیشلسٹ، ڈاکٹر شاہد منظور ، ڈاکٹر شیرین جہاں, ڈاکٹر سمیر اقبال، ڈاکٹر سمیر عالم، ڈاکٹر مہرویش فرجین ہومیوپیتھک، ڈاکٹر ایم اے حمزہ ہومیوپیتھی اور سینئر فزیو تھراپسٹ ڈاکٹر شاداب عالم کے ساتھ متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے طلبائ وطالبات نے مریضوں کے علاج میں اپنی مدد فراہم کی۔ اس موقع پر مریض کا بلڈ پریشر چیک کرنے، شوگر ٹیسٹ، ادویات اور مریض کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے وغیرہ میں بھرپور تعاون کیا گیا۔ آخر میں متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میڈیکل سائنس کے طلبائ وطالبات نے ڈاکٹروں کو ایک ڈائری اور نئے سال 2025 کا کیلنڈر دیا و ادارے کی تعلیم کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس موقع پر آپٹیمم انٹرنیشنل اسکول کے چیئرمین کیو ایم آر رحمان عرف فیض نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے یہاں مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ہر سال متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طلبائ وطالبات کی طرف سے بہترین تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ہم متھیلا انسٹی ٹیوٹ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور تمام طلبہ وطالبات کو دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیتے ہیں کہ مستقبل میں وہ اپنی زندگیوں کی بہترین تشکیل کے ساتھ ساتھ معاشرے کی خدمت بھی کریں۔


Sunday, 9 February 2025

بیرین سنگھ کے استعفیٰ پر راہل گاندھی کا ردعمل، ’اب ترجیح امن بحالی اور عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا ہونی چاہیے‘








نئی دہلی: منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے اتوار (9 فروری) کو گورنر سے ملاقات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب پیر (10 فروری) سے منی پور قانون ساز اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا تھا اور اپوزیشن ریاستی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔


بیرن سنگھ کے استعفے کے بعد کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے بھی ردعمل دیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا، ”بی جے پی کے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ نے تقریباً دو سال تک منی پور میں تفریق کو ہوا دی۔ ریاست میں تشدد، جانی نقصان اور ہندوستان کے تصور کی تباہی کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں بدستور حمایت دی۔“


راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں آگے لکھا کہ ”وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ کا استعفیٰ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کا بڑھتا ہوا دباو¿، سپریم کورٹ کی جانچ اور کانگریس کی جانب سے لائے گئے عدم اعتماد کی تحریک نے انہیں جوابدہ بنایا لیکن سب سے ضروری ہے ریاست میں امن بحال کرنا اور منی پور کے لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانا۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی کو فوراً منی پور کا دورہ کرنا چاہیے لوگوں کی باتیں سننی چاہیے اور انہیں ریاست میں حالات کو معمول پر لانے کے حوالے سے اپنے منصوبہ کے بارے میں واضح کرنا چاہیے۔“

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ”کل کانگریس پارٹی منی پور میں وزیر اعلیٰ اور ان کی وزرائ کونسل کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھی، لیکن بدلتے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے دیا۔ کانگریس مئی 2023 کے آغاز سے ہی ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھی، جب منی پور میں بدامنی پھوٹ پڑی تھی۔“


انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ تاخیر سے آیا۔ اب منی پور کے عوام ہمارے ’فریکوینٹ فلائر‘ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں، جو اس وقت فرانس اور امریکہ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ انہیں گزشتہ 20 ماہ میں نہ تو منی پور جانے کا وقت ملا اور نہ ہی اس کی خواہش ہوئی۔“



منی پور: این بیرین سنگھ کا وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ، امت شاہ سے ملاقات کے بعد فیصلہ

 










نئی دہلی: منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے اتوار کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امِت شاہ سے ملاقات کے بعد کیا۔ سنگھ نے اپنا استعفیٰ راج بھون میں گورنر اجے کمار بھلّا کو پیش کیا۔ اس موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا، ریاستی وزرا اور متعدد ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔


گزشتہ برس ریاست میں ہونے والے نسلی تشدد کے سبب این بیرین سنگھ کو شدید دباو¿ کا سامنا تھا۔ نومبر 2023 میں جیریبام میں تین خواتین اور ان کے بچوں کے قتل کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے تھے۔ اس دوران قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی اتحادی جماعت نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی اور قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔



منی پور میں تشدد کا آغاز 3 مئی 2023 کو ہوا تھا جب میتئی برادری کو درج فہرست قبائل میں شامل کرنے کے منی پور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آدیواسی طلبہ یونین (اے ٹی ایس یو ایم) نے احتجاجی ریلی نکالی۔ اس کے بعد سے ریاست میں کشیدگی برقرار ہے۔ اب تک 200 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ حالات پر قابو پانے کے لیے مرکز کو نیم فوجی دستے تعینات کرنا پڑے۔


گزشتہ سال کے آخر میں این بیرین سنگھ نے عوام سے معافی مانگی تھی اور اعتراف کیا تھا کہ سال 2023 ریاست کے لیے مشکل ترین ثابت ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ 2025 میں منی پور میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔ تاہم، بڑھتے دباو¿ اور سیاسی ہلچل کے باعث انہیں بالآخر اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔



دہلی اسمبلی انتخابات: بی جے پی کی جیت پر منوج جھا کا ردعمل، ’اب ڈبل انجن کی حکومت نہ ہونے کا بہانہ نہیں رہے گا‘

 




دہلی میں بی جے پی کی جیت پر سیاسی لیڈران کا رد عمل جاری ہے۔ اسی کڑی میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 سال بہت طویل عرصہ ہوتا ہے۔ 27 سال بعد بی جے پی دہلی میں اقتدار میں واپس آئی ہے، میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں۔ اب ان کے پاس وہ بہانہ بھی نہیں رہے گا کہ ڈبل انجن والی حکومت نہیں ہے۔ مذکورہ باتیں انہوں نے ’اے این آئی‘ سے گفتگو کے دوران کہی۔


انڈیا اتحاد کے مستقبل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے کہا کہ ”انڈیا اتحاد ایک مرکزی خیال تھا، ہم نے اسے مرکز میں متبادل حکومت کے امکانات کے لیے بنایا تھا۔ تب بھی تمام پارٹیوں کو معلوم تھا کہ ریاست میں ہم ایک دوسرے سامنے ہوں گے۔ اس طرح کے اختلافات ہوتے رہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر پارٹیوں کو لگتا ہے کہ وہ بہتر کارکردگی کے لیے کوآرڈینیشن کر سکتے ہیں تو یہ پہلے سے کرنا ہوگا نہ کہ انتخاب کو دیکھ کر۔“


علاوہ ازیں منوج جھا نے کہا جمنا اور گنگا کے نام پر اس ملک میں سیاست بہت ہو گئی۔ وزیر اعظم نے گنگا کے حوالے سے کئی باتیں بولی ہیں۔ وزیر اعظم کی سیاست میں بھی شارٹ کٹ کے کئی پہلو ہیں۔ آپ کو مینڈیٹ ملا ہے کل کو کہیں مینڈیٹ نہیں ملے گا اس کو آخری انتخاب مان لینا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اندرا گاندھی اور اٹل بہاری واجپئی بھی انتخاب ہار گئے تھے اس لیے یہ جمہوریت ہے۔ اگر آپ عوام کا کام نہیں کرتے ہیں تو آپ کو عر ش سے فرش تک کے سفر کے لیے تیار رہنا چاہیے۔


آر جے ڈی لیڈر نے آگے کہا کہ 2020 مین تمام کوششوں کے بعد بھی ہم (آر جے ڈی) واحد سب سے بڑی پارٹی رہی۔ وزیر اعظم کے حوالے سے منوج جھا نے کہا آئیے بہار آپ کا فیصلہ بہاری کریں گے، کچھ بھی کریے لیکن بہاریوں کو دھوکہ مت دیجیے۔ پولرائزیشن جیسے مسائل کو لے کر بہار نہیں آئیے۔ ہم مسائل کو لے کر عوام کے درمیان جا رہے ہیں کون پلٹے گا اس سے کوئی مطلب نہیں ہے ہم لمبی لکیر کھینچ رہے ہیں، اس سے لمبی لکیر کوئی کھینچ کر بتا دے۔



امریکی پابندیاں اسرائیل کو بچانے کا حربہ


 





مدیحہ فصیح

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی ) یا عالمی عدالت کے 79 رکن ممالک نے آئی سی سی پر امریکہ کی پابندیوں کی مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ فیصلہ ’سنگین جرائم کے لئے معافی کے خطرے ‘کو بڑھا نے اور بین الاقوامی قانون کو کمزور کرنے والا عمل ہے۔ 8 فروری کو ایک بیان میں، ان ممالک کے گروپ نے – جو کہ عدالت کے ارکان کا تقریباً دو تہائی حصہ ہے – آئی سی سی کی حمایت کی اور کہا کہ عدالت کی جانب سے اسرائیل کی تحقیقات کرنے کی پاداش میں امریکی پابندیاں بین الاقوامی قانون کو کمزور کریں گی۔ سلووینیا، لکسمبرگ، میکسیکو، سیرا لیون اور وانواتو کی قیادت میں جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسی کارروائیاں سنگین جرائم کے لئے معافی کے خطرے کو بڑھاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہیں، جو عالمی نظم و امن کے قیام کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اس گروپ میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، برازیل اور بنگلہ دیش سمیت درجنوں دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 4 فروری کو آئی سی سی کے افسران، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے خلاف اثاثوں کی منجمدی اور سفری پابندیاں عائد کرنے کا حکم دیا۔ جس کے تحت ان لوگوں کے خلاف بھی پابندیاں عائد کی گئیں جو عدالت کی تحقیقات میں معاونت کرتے تھے۔ بیان میں انتباہ کیا گیا کہ پابندیاں حساس معلومات کی رازداری اور ان افراد کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں جن میں متاثرین، گواہ اور عدالت کے افسران شامل ہیں، جن میں سے بہت سے ہمارے شہری ہیں۔ ہم آئی سی سی کی خودمختاری، دیانتداری اور غیر جانبداری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔



حالانکہ امریکہ نے ہمیشہ خود کو ایک ایسے بین الاقوامی نظام کے ضامن کے طور پر پیش کیا ہے جو انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے، لیکن اس نے اکثر بین الاقوامی اداروں کی ان کوششوں پر حملہ کیا ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مبینہ استحصال کی تحقیقات کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ پابندیاں عائد کرنے والے اس حکم سے امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ’ناجائز اور بے بنیاد اقدامات‘ کے خلاف ’ٹھوس اور اہم نتائج‘ حاصل ہوں گے۔ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے آئی سی سی پر پابندیاں عائد کی ہیں، ان کے ڈیموکریٹک پیش رو جو بائیڈن نے بھی عدالت کو اسرائیل کی تحقیقات کرنے پر سزا دینے کے لئے پابندیوں کے استعمال پر غور کیا تھا۔


گزشتہ سال نومبر میں، آئی سی سی نے اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے لئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے، جہاں اسرائیل نے ایک مہم چلائی جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، پورے محلے تباہ ہو گئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور انسانی امداد کو وسیع پیمانے پر روک دیا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق، کم از کم 61 ہزار فلسطینی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، یہ تعداد بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ ریسکیو کارکن ملبے میں دبی لاشوں کی تلاش کر رہے ہیں۔



اسرائیل نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے لیکن اسے کبھی جوابدہ نہیں ٹھرایا گیا، اس صورتحال پر کینٹ یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کی لیکچرر شاہد حموری نے 'الجزیرہ' میں لکھا ہے کہ اسرائیل کو حاصل معافی نے ہمیں ایک ایسے نقطے پر پہنچا دیا ہے جہاں موجودہ عالمی نظام اب مزید قابل عمل نہیں رہا۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے کارکنوں کو قتل کیا، یو این آر ڈبلیو اے کو بند کیا، اقوام متحدہ کے نمائندوں کو داخلے سے روکا اور بار بار اقوام متحدہ اور اس کے حکام کی توہین کی لیکن اسرائیل کو دہائیوں سے غیر معمولی استثنیٰ حاصل ہے۔ اسرائیلی حکومتوں اور ان کے اتحادیوں نے وہ تمام وسائل استعمال کیے ہیں جن سے آئی سی سی پر اسرائیلی جرائم کی تحقیقات نہ کرنے کے لئے دباو¿ ڈالا جا سکے– جسمانی تشدد کی براہ راست دھمکیوں سے لے کر پابندیوں اور بدنامی تک۔ عدالت پر حملے اس وقت اور بھی شدت اختیار کر گئے جب اس نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔


آئی سی سی پر پابندیاں، پیرس موسمیاتی معاہدے اور عالمی صحت تنظیم سے امریکہ کا انخلا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے وہ فیصلے ہیں جو عالمی کثیر الجہتی نظام پر ایک براہ راست حملہ ہیں۔ 4 فروری کو، امریکی صدر نے عالمی قانون کی مکمل بے حرمتی کرتے ہوئے غزہ پر ’قبضہ‘ کرنے اور ’اسے اپنا بنانے‘ کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہ تمام واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا اقوام متحدہ کے زیر قیادت موجودہ عالمی نظام بچایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگرچہ 1945 میں آنے والی نسلوں کو جنگ کے عذاب سے بچانے کے لئے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا، مگر اقوام متحدہ طویل عرصے سے تنازعات کو روکنے اور ان سے بچنے میں ناکام رہی ہے۔ جیسا کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی اور عسکریت پسندی کے تیزی سے بڑھنے کے خطرے کا سامنا ہے، یہ واضح ہے کہ ہمیں ایک ایسے نئے عالمی قانونی نظام کی ضرورت ہے جو طاقت کے بجائے لوگوں کو انصاف کی بنیاد پر متحد کرے۔