Monday, 10 February 2025

غزہ کوئی جائیداد نہیں جس کی خرید و فروخت کی جائے : حماس کا ٹرمپ کو جواب

 





امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی خرید کر اپنی ملکیت میں لینے پر قائم ہیں۔ تاہم انھوں نے ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ تعمیر نو میں شریک مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو غزہ کی پٹی کے بعض حصے دے سکتے ہیں۔


ٹرمپ کے اس بیان نے حماس کو پھر سے جواب دینے پر مائل کر دیا۔ تنظیم نے امریکی صدر کے بیان کی مذمت کی ہے۔


حماس کے سیاسی دفتر کے رکن عزت الرشق نے باور کرایا ہے کہ "فلسطینی عوام اپنی جبری ہجرت کے حوالے سے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیں گے"۔


اتوار کی شب تاخیر سے جاری بیان میں الرشق نے مزید کہا کہ "غزہ کوئی جائیداد نہیں جس کی خرید و فروخت کی جائے، بلکہ یہ مقبوضہ فلسطینی اراضی کا اٹوٹ انگ (نا قابل تقسیم حصہ) ہے"۔


العزت نے غزہ کی خرید و فروخت کے حوالے سے ٹرمپ کے بیان کو فضول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "فلسطین اور خطے کے حوالے سے گہری جہالت" کا عکاس ہے۔


یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر نے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ "غزہ میں واپسی کے لیے کچھ باقی نہیں رہا ... وہ جگہ تباہی کا مقام ہے"۔


ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ بعض فلسطینی پناہ گزینوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت دے سکتے ہیں تاہم اس طرح کی درخواستوں کو وہ انفرادی بنیادوں پر خود دیکھیں گے۔


امریکی صدر نے 20 جنوری کو سنبھال کر تھوڑے ہی روز بعد غزہ کی پٹی پر امریکی کنٹرول اور تعمیر نو کی ضخیم کوششوں میں شامل ہونے کی تجویز پیش کر دی۔


وہ اپنے اس خیال کو کئی مرتبہ دہراتے ہوئے یہ باور کرا چکے ہیں کہ غزہ کی آبادی کو دیگر ممالک منتقل کیا جائے گا جن میں مصر اور اردن سرفہرست ہیں۔ دوسری جانب قاہرہ اور عمان دونوں ہی بارہا اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں۔


ٹرمپ کے منصوبے کو کئی عرب اور مغربی ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ کی جانب سے فوری تنقید کا سامنا کرنا پڑا بالخصوص اس لیے کہ فلسطینیوں کی جبری ہجرت بین الاقوامی قوانین کی مخالفت ہے۔



ٹرمپ کا "غزہ بم" بحیرہ احمر میں پھٹ گیا، کارگو سیکٹر کی امیدیں ختم

 




غزہ کی پٹی کی آبادی کو ہمسایہ ممالک منتقل کر کے اس کا کنٹرول سنبھالنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر تنقید اور مذمت کا دروازہ کھولا بلکہ لگتا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں مال بردار جہازوں کی آمد و رفت پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔


کارگو سیکٹر کے ایگزیکٹو ذمے داران نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کی مذکورہ تجویز نے ایک سال کے اضطراب کے بعد بحیرہ احمر کے راستے کی طرف واپسی کی امیدوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔


ٹرمپ کے اچانک اعلان نے اس بات کے اندیشے پیدا کر دیے ہیں کہ یمن میں حوثی ملیشیا ایک بار پھر اس اہم آبی راہ داری سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرات پیدا کرے گی۔ حوثیوں نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کے بعد زیادہ تر جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روک دیں گے۔


اس حوالے سے "نورڈن" کارگو گروپ کے چیف ایگزیکٹو جان رینڈبو نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے نے مشرق وسطیٰ میں گڑبڑ اور کشیدگی کی صورت بڑھا دی ہے۔ رینڈبو کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کے اعلان سے حوثیوں کے اپنے موقف پر قائم رہنے کا امکان خطرے میں پڑ گیا ہے۔ یہ بات برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" نے بتائی۔


اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے ابتدائی ایام میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کئی تجارتی شراکت داروں پر کسٹم ڈیوٹیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دیں۔ ان کے نتیجے میں تجارتی جنگیں چھڑ جانے اور عالمی معیشت کے زوال کے اندیشے پیدا ہو گئے جو بحری جہازوں کے مالکان کے منافع کو متاثر کر سکتے ہیں۔


حوثیوں نے 19 جنوری کو بحری جہازوں کے گزرنے پر سے پابندیاں اٹھانے کا اعلان کر دیا تھا ما سوا وہ جہاز جو اسرائیل میں رجسٹرڈ ہیں یا مکمل طور پر اسرائیلی اداروں کی ملکیت ہیں۔



غزہ کی حمایت میں حوثیوں نے سال 2023 کے اواخر میں اسرائیلی بندر گاہوں کا رخ کرنے والے تمام بحری جہازوں اور اسی طرح برطانوی اور امریکی اداروں کے مملوکہ بحری جہازوں کو دھمکی دی تھی۔


لائڈز لیسٹ انٹیلی جنس کمپنی کے مطابق حوثیوں کے اعلان کے بعد اگلے ایک ہفتے میں آبنائے باب المندب کے راستے بحیرہ احمر میں داخل ہونے والے جہازوں کی تعداد 4% اضافے کے ساتھ 223 ہو گئی۔


ادھر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ LNG (گیس) کا ایک ٹینکر جو حال ہی میں ع±مان سے روانہ ہوا تھا، ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد بحیرہ احمر کے راستے غیر روسی LNG کی پہلی کھیپ منتقل کرے گا۔ یہ بات بنیادی اشیائ کی معلومات رکھنے والی کمپنی ICIS نے بتائی۔


توقع ہے کہ LNG کا بحری جہاز "صلالہ" 16 فروری کو ترکی کی بندر گاہ پہنچے گا۔


البتہ بحری جہازوں کے مزید مالکان اب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور حملے کم کرنے سے متعلق حوثیوں کے اپنے وعدے سے پھر جانے کے حوالے سے خود کو تیار کر رہے ہیں۔


تاجر حضرات اس بات کی توقع کر رہے تھے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک کارگو کی مدت اور لاگت میں اضافے کا سبب بننے والے بحران کے بعد معمول کی صورت حال پر لوٹ آئیں گے۔ واضح رہے کہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والے کارگو بحری جہازوں نے افریقا کے گرد طویل راستہ اپنایا تھا۔



ٹرمپ کا امریکہ میں سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان

 






امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ موجودہ ڈیوٹی کے علاوہ امریکہ میں سٹیل اور ایلومینیم کی تمام درآمدات پر نئے 25 فیصد ٹیرف متعارف کرائیں گے۔ یہ نیا اعلان ان کی تجارتی پالیسی میں ایک اور بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔


ٹرمپ نے نیو اورلینز میں این ایف ایل سپر باو¿ل کے سفر میں ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیر کو دھاتوں کے نئے ٹیرف کا اعلان کرنے والے ہیں۔


انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ منگل یا بدھ کو باہمی جوابی ٹیرف کا اعلان کریں گے جو تقریباً فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ یہ ٹیرف تمام ممالک پر نافذ ہوں گے اور ہر ملک کی طرف سے لگائے گئے ٹیرف کی شرح سے مماثل ہوں گے۔


ٹرمپ نے باہمی ٹیرف پلان کے بارے میں کہا، "اور یہ بہت سادہ بات ہے، اگر وہ ہم سے چارج کرتے ہیں تو ہم ان سے چارج کریں گے۔"


حکومت اور امریکی آئرن اینڈ سٹیل انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی سٹیل کی درآمد کے سب سے بڑے ذرائع کینیڈا، برازیل اور میکسیکو ہیں۔ اس کے بعد جنوبی کوریا اور ویتنام آتے ہیں۔


ہائیڈرو پاور سے مالا مال کینیڈا امریکہ کو بنیادی ایلومینیم دھات کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے جو 2024 کے پہلے 11 مہینوں میں کل درآمدات کا 79 فیصد رہا ہے۔


کینیڈا کے وزیر برائے اختراعات فرانکوئس-فلپ شیمپین نے ایکس پر پوسٹ کیا، "کینیڈین سٹیل اور ایلومینیم امریکہ میں دفاعی، بحری جہاز سازی اور آٹو جیسی کلیدی صنعتوں کی معاونت کرتے ہیں۔ ہم اپنے کارکنان، اپنی صنعتوں اور کینیڈا کے لیے کھڑے رہیں گے۔"


ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ امریکی حکومت جاپان کی نیپون سٹیل کو امریکی سٹیل میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دے گی لیکن وہ اسے اکثریت کا حصہ نہیں بننے دے گی۔


ٹرمپ نے امریکی سٹیل کے بارے میں کہا، "ٹیرف اسے دوبارہ بہت کامیاب بنا سکتے ہیں اور میرے خیال میں اس کی انتظامیہ اچھی ہے۔"


نپون سٹیل نے ٹرمپ کے تازہ ترین اعلانات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔


کوٹے سے متعلق سوالات

ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران سٹیل پر 25 فیصد اور ایلومینیم پر 10 فیصد محصولات عائد کیے تھے لیکن بعد میں کئی تجارتی شراکت داروں کے لیے یہ ڈیوٹی فری کر دیا تھا جن میں کینیڈا، میکسیکو اور برازیل شامل ہیں۔ میکسیکو ایلومینیم سکریپ اور ایلومینیم مرکب سے بنی دھاتوں کا ایک بڑا فراہم کنندہ ہے۔


سابق صدر جو بائیڈن نے بعد میں برطانیہ، یورپی یونین اور جاپان کے ساتھ ڈیوٹی فری کوٹہ مختص کرنے کے بارے میں بات چیت کی۔ ٹرمپ کے اعلان سے فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان رعایتوں اور مخصوص کوٹے کا کیا ہو گا۔


کیوبیک کے وزیرِ اعظم فرانسوا لیگلٹ نے ایکس پر کہا، "کیوبیک (امریکہ کو) 2.9 ملین ٹن ایلومینیم برآمد کرتا ہے یعنی ان کی ضروریات کا 60 فیصد۔ کیا وہ چین سے سپلائی لینے کو ترجیح دیں گے؟ ان سب باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں جلد از جلد امریکہ کے ساتھ اپنے آزاد تجارتی معاہدے پر دوبارہ بات چیت شروع کرنی چاہیے اور 2026 کے لیے طے شدہ جائزے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اس غیر یقینی صورتِ حال کو ختم کرنا چاہیے۔"


ٹرمپ کے ابتدائی محصولات کے بعد 2019 میں سٹیل مل کی صلاحیت کا استعمال 80 فیصد سے اوپر پہنچ گیا لیکن اس کے بعد سے اس میں کمی آئی کیونکہ اس شعبے پر چین کا عالمی غلبہ سٹیل کی قیمتوں میں کی کا باعث بنا۔ ٹیرف کے ذریعے بحال ہونے والا ایک میزوری ایلومینیم سمیلٹر (دھاتوں کو الگ کرنے والی بھٹی) گذشتہ سال میگنیٹیوڈ سیون میٹلز کے باعث بند ہو گیا۔


امریکی آئرن ینڈ سٹیل انسٹی ٹیوٹ (اے آئی ایس آئی) کے صدر اور سی ای او کیون ڈیمپسی نے کہا کہ انڈسٹری ٹریڈ گروپ نے مضبوط امریکی سٹیل انڈسٹری کے لیے ٹرمپ کے عزم کا خیر مقدم کیا۔


انہوں نے کہا، "ایک مضبوط اور از سرِ نو تجارتی ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے ہم صدر اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ مارکیٹ کو خراب کرنے والی کئی غیر ملکی پالیسیوں اور طریقوں کو حل کیا جائے جو امریکی سٹیل سازوں کے لیے ایک غیر مساوی ہیں۔"


مماثل نرخ

ٹرمپ نے کہا کہ وہ باہمی ٹیرف پلان کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے کے لیے منگل یا بدھ کو ایک نیوز کانفرنس کریں گے۔ نئے امریکی صدر نے طویل عرصے سے گاڑیوں کی درآمدات پر یورپی یونین کے 10 فیصد ٹیرف کے بارے میں شکایت کی ہے جو امریکی کاروں کی 2.5 فیصد شرح سے کہیں زیادہ ہے۔


تاہم امریکہ کو پک اپ ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف حاصل ہے جو ڈیٹرائٹ کے کار ساز اداروں جنرل موٹرز، فورڈ اور سٹیلنٹِس کے امریکی آپریشنز کے لیے منافع کا ایک اہم ذریعہ ہے۔


عالمی ادار? تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے اوسط ٹیرف کی شرح تقریباً 2.2 فیصد ہے جبکہ ہندوستان کے لیے 12 فیصد، برازیل کے لیے 6.7 فیصد، ویتنام کے لیے 5.1 فیصد اور یورپی یونین کے ممالک کے لیے 2.7 فیصد ہے۔


امریکہ کی ڈسٹلڈ سپرٹس کونسل کے سی ای او کرس سوونگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹرمپ کے سٹیل کے نئے ٹیرف یورپی یونین کو امریکی وہسکی پر دوبارہ جوابی ڈیوٹیز لگانے اور 50 فیصد تک بڑھانے کا باعث بنیں گے۔


انہوں نے کہا، "ہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ اور یورپی یونین ایک حل تلاش کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھیں۔ ہماری عظیم امریکی وہسکی کی صنعت داو¿ پر لگی ہوئی ہے۔ امریکہ کی اصل وہسکی پر 50 فیصد ٹیرف کا پورے امریکہ میں 3,000 چھوٹے اداروں کے لیے تباہ کن اثر ہو گا۔



سرحدی اقدام

فاکس نیوز کے ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور منشیات اور تارکینِ وطن کی آمد کو روکنے کے لیے کینیڈا اور میکسیکو کے اقدامات ناکافی ہیں۔


ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ میکسیکو اور کینیڈا کی تمام درآمدات پر 25 فیصد کے محصولات عائد کریں گے جب تک امریکہ کے دو سب سے بڑے تجارتی شراکت دار سخت اقدامات نہیں کرتے۔


انہوں نے دونوں ممالک کی جانب سے سرحدی حفاظتی رعایت کے بعد یکم مارچ تک محصولات کو موقوف کر دیا۔ ان رعایتوں میں میکسیکو نے اپنی سرحد پر 10,000 نیشنل گارڈ فوجیوں کو شامل کرنے کا وعدہ کیا اور کینیڈا نے نئی ٹیکنالوجی اور اہلکار تعینات کیے اور فینٹانیل کے خلاف نئے اقدامات کیے۔


کیا میکسیکو اور کینیڈا کے اقدامات کافی اچھے تھے، اس سوال کا ٹرمپ نے یہ جواب دیا: "نہیں، یہ کافی اچھا نہیں ہے۔کچھ ضرور ہونا ہے، یہ پائیدار نہیں ہے، اور میں اسے تبدیل کر رہا ہوں۔"


ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ کینیڈا اور میکسیکو کو یکم مارچ کو نافذ ہونے والے وسیع محصولات سے بچنے کے لیے کیا کرنا ہو گا۔



غزہ کی ملکیت لینے پر قائم ہوں ، کچھ حصے شاید دیگر ممالک کو دے دوں : ٹرمپ

 








اگرچہ غزہ کی پٹی پر قبضے اور اس کی آبادی کی بے دخلی سے متعلق تجویز کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بین الاقوامی سطح پر اور اقوام متحدہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے، تاہم ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک ان کا دل اس تجویز پر بات کرنے سے بھرا نہیں۔


ٹرمپ نے کل اتوار کے روز ایک بار پھر یہ بات دہرائی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کو خریدنے اور اس کو ملکیت میں لینے پر کاربند ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کے لیے ساحلی پٹی کے کچھ حصے مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کو دے سکتے ہیں۔


صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "میں غزہ کو مستقبل کی ترقی کے لیے ایک اچھے مقام میں تبدیل کر دوں گا"۔


امریکی صدر نے باور کرایا کہ وہ فلسطینیوں پر توجہ دیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ انھیں قتل نہ کیا جائے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ "میں فلسطینیوں کے امریکا میں داخل ہونے اور انھیں پناہ کا حق دینے کے لیے انفرادی حالتوں کا جائزہ لوں گا"۔


امریکی صدر کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک فلسطینیوں کا استقبال کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں واپس جانے کے لیے اب کچھ نہیں رہا، یہ جگہ اب تباہی کا مقام ہے۔ باقی جگہ کو بھی منہدم کر دیا جائے گا ، ہر چیز کو منہدم کر دیا جائے گا"۔


دوسری جانب حماس تنظیم کے ایک ذمے دار عزت الرشق نے غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام جبری ہجرت کے ہر منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔


یہ موقف حماس تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں سامنے آیا ہے۔


یاد رہے کہ ٹرمپ یہ تجویز دے چکے ہیں کہ اسرائیل واشنگٹن کو غزہ پر کنٹرول دے گا اور وہ اسے "مشرق وسطیٰ کا ریویرا" میں تبدیل کر دیں گے۔ اس سے پہلے فلسطینیوں کو مصر اور اردن جیسے دیگر ملکوں کو منتقل کر دیا جائے گا۔ تاہم اس تجویز کی عرب دنیا اور بین الاقوامی سطح پر وسیع مذمت کی گئی ہے۔ کئی عرب اور مغربی ممالک نے اس افسوس ناک منصوبے کو نسلی تطہیر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق نا جائز قرار دیا ہے۔


مصر اور اردن پہلے ہی امریکی صدر کی تجویز پر فلسطینیوں کی اپنے ملکوں میں آباد کاری کو مسترد کر چکے ہیں۔


واضح رہے کہ عرب ممالک اسرائیل کے ایک جانب فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دوریاستی حل پر عمل درآمد کے موقف پر ثابت قدم ہیں۔



ورلڈ یونانی ڈے کے تناظر میں بہار کا یونانی طب

 





حکیم محمد شفاعت کریم

جنرل سکریٹری، ایسو سی ایشن آف یونانی فزیشین، بہار

9852560980

طب یونانی زمانہ قدیم سے نہ صرف رائج ہے بلکہ صدیوں سے اسے فن کی حیثیت سے پڑھا اور پڑھایا جاتا رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے آیوش کے جھنڈے تلے مختلف طریقہ علاج کو یکجا کر دیا اور اس کے لئے علیحدہ محکمہ کی تشکیل کر دی جو کہ تاریخی عمل ہے اور اس کے لئے موجودہ حکومت مبارکباد کی مستحق ہیں۔ محکمہ آیوش کی تشکیل کے بعد سے ہی آیورویدا  روز بروز ترقی کر رہی ہے اس کے ساتھ ہی یونانی طریقہ علاج کی ترقی کا راہ بھی ہموار ہو رہا ہے۔ 

ہندوستان میں انگریزی حکومت کے مسلط ہونے تک عوام کے علاج و معالجہ کے لئے حکیم اور وید ہی پر منحصر تھے۔ انگریزی دور میں بھی حکیموں اور ویدوں نے اپنی خدمت جاری رکھی۔ انگریزوں نے ان طریقہ علاج کو فرسودہ قرار دینے لئے قانون بنانے کی کوششیں کی جس کے خلاف حکیم اجمل خاں نے ہندوستان میں گھوم گھوم کر ویدوں اور حکیموں کو یکجا کیا، مقدمہ لڑے اور انہیں اس قانون کو واپس لینے پر مجبور کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ طب یونانی یا آیوروید غیر سائنٹیفک نہیں ہے۔ اسی مہم کے تحت انہوں نے آیورویدک اینڈ یونانی طبیہ کالج قرولباغ کی داغ بیل ڈالی اور اسی کڑی میں بہار میں پٹنہ کا طبی کالج بھی وجود میں آیا۔ ہمیں اس بات سے قطعی انکار نہیں ہے کہ ہمارے پْرکھے حکیم اور ویدوں سے ہی خدمت لے کر خود کو صحتیاب کرتے رہے ہیں۔انہیں حکیم اجمل خاں کی یوم پیدائش کے موقع پر 2017 سے ہر سال 11 فروری کو  ورلڈ یونانی منایا جاتا ہے۔ 

انگریزوں نے 1947 میں ہندوستان چھوڑ دیا لیکن انگریزی طرز علاج نے ہندوستان میں اپنی مضبوط پیٹھ بنا لی۔ اس بات سے انکار نہیں کہ انگریزی علاج و معالجہ نہ صرف سائنٹیفک ہے  بلکہ عوام میں مقبول ہے۔ لیکن اس سے ایک بڑا نقصان جو ہوا ہے وہ یہ کہ انگریزی طب کی وجہ سے ہندوستانی طب کو خاطر خواہ فروغ نہ مل سکا۔ جس طرح سے انگریزی ادب کو ہندی اور اردو پر ترجیح دی جاتی رہی اور آج انگریزی ایک ضروری زبان بن چکی ہے  اور اردو ہندی میں لکھی گئی کتابیں اور رسالے کمتر درجے کی گردانی جانے لگی ہیں اسی طرح طب یونانی اور آیورویدا کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس سے انکاار نہیں کیا جا سکتا کہ طب یونانی اور اس کے فارغین نے پچھلے سو سالوں میں اپنے وقار کو کھویا ہے اور زوال کا شکار ہوئے ہیں۔ لیکن پچھلی دہائیوں کی بات کی جائے تو ہم آیوروید کے ساتھ ساتھ طب یونانی کے  روشن مستقبل کو دیکھ سکتے ہیں۔ 2005 میں این آر ایچ ایم آنے کے بعد طب یونانی کے فارغین کے لئے سرکاری نوکریوں میں بحال ہونے لگے۔ پھر آر بی ایس کے کے تحت بھی انکی بحالی ہوئی ۔ 2020 میں 3270 آیوش ڈاکٹروں کی بحالی کے لئے اشتہار نکالا گیا جس کی بحالی 2024 میں مکمل ہوئی۔فارغین میں سے زیادہ تر ایلوپیتھک پریکٹس کر لیتے ہیں، بہتیرے کو بڑے بڑے اسپتالوں میں جگہ مل جاتی ہے، الگ الگ صحت کی تنظیمیں بھی یونانی ڈاکٹروں کو بحال کرنے لگی ہے۔  ان سب وجوہات سے بھی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والے طلباء بی یو ایم ایس کورس میں داخلہ لینے کو  کوشاں رہتے ہیں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ بہار کے کسی بھی پرائویٹ یونانی کالجوں میں داخلے کی فیس 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایسے میں غریب طالب علموں کے لئے صرف طبی کالج پٹنہ ہی ایک واحد ادارہ ہےجہاں این سی آئی ایس ایم کی قینچی ہر سال سیٹیں کم کر دیتی ہیں۔ 

بہار میں طب یونانی کی بات کریں تو اس کا محور ہمیشہ گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ رہا کرتا ہے۔ کیونکہ یہی وہ ادارہ ہے جو آزادی سے پہلے سے طب کی روشنی بکھیر رہا ہےاور یہاں کے فارغین بہار ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔جس وقت طبی کالج پٹنہ کا قیام ہوا اس وقت بہار ، اوڈیسہ اور جھارکھنڈ ایک ساتھ ہوا کرتے تھے باوجود اس کی صوبے کی کل آبادی 3 کڑور کے آس پاس تھی۔ آج جب کہ اس کالج کے قیام کے سو سال ہونے کو ہیں اور بہار کی آبادی چار گنا بڑھ کر لگ بھگ 13 کڑور ہو چکی ہے ، کوئی دوسرا طبیہ کالج نہیں بن سکا۔ اس بابت ایسو سی ایشن آف یونانی فزیشین ، بہارکی جانب سے جدیو ،راجد حکومت  اور جد یو ، بی جے پی حکومت میں بھی مکتوب لکھے گئے اور اس کی مانگ کی گئی کہ موجودہ وقت میں آبادی کے تناسب سے کم از کم دو اور طبیہ کالج قائم کیا جانا چاہئے۔ اے یو پی کے کارکنان نے  امارت شرعیہ سے بھی اپنی مراعات رکھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت میں ہمارے قائدین کو اس بابت اپنی بات اٹھانی ہوگی اور بار بار حکومت سے اپنی مانگ دہرانی ہوگی۔ موجودہ وقت میں گورنمنٹ  طبی کالج پٹنہ میں بی یو ایم ایس کی 125 سیٹیں ہیں جب کہ پانچ شعبے میں ماہر طب یعنی پی جی کورس چل رہا ہے جس میں 31 سیٹیں ہیں۔ اتنی کثیر آبادی کے لئے یہ سیٹیں ناکافی ہیں۔ 

یونانی ڈے منانے کا مقصد یہ ہونا چاہئیے کہ سال میں ایک بار اپنا احتساب کریں کہ اس ایک سال میں طب نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ طبی ادارے ایک سال کے لئے اپنا حدف متعین کریں اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ نے یہ حدف حاصل کیا ہے تب تو یونانی ڈے منانے کا مقصد پورا ہوتا ہے ورنہ گفتن، شنیدن ،برخاستن۔

نجی اسکولوں کی مشکلات کے حل کے لیے قومی صدر شمائل احمد کی وزیر تعلیم سے ملاقات

 





پرائیویٹ اسکولز اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر شمائل احمد نے آج بہار کے وزیر تعلیم جناب سنیل کمار سے ان کے سرکاری دفتر میں ملاقات کی اور نجی اسکولوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے خاص طور پر آر ٹی ای (RTE) کے تحت تعلیم دینے والے اسکولوں کی گزشتہ چھ سالوں سے بقایا رقم کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اس پر وزیر تعلیم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ 28 فروری سے پہلے ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔اس کے علاوہ، دیگر مسائل کے حل کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔ 


متھلا انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ و طالبات کا مفت میڈیکل کیمپ میں شاندار تعاون

 




دربھنگہ:- متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے طالب علم فیض احمد کے نگرانی میں محمد ابراہیم، ارمان راجہ، صائمہ رضوی، راحیلہ رضوی، ثانیہ پروین، زیبا منتشا، کائنات پروین، کلثوم پروین، رفعت سبرین، راحت نازرین اور نادیہ رضوان نے آپٹیمم انٹرنیشنل اسکول میں مفت میڈیکل کیمپ میں تعاون دینے کا کام کیا- مفت میڈیکل کیمپ میں شہر کے مشہور جنرل سرجن ڈاکٹر احمد نسیم آرزو، ڈاکٹر انتخاب عالم، معروف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر حنا آرزو، ڈاکٹر نوین کمار جنرل میڈیسن، ڈاکٹر اشرف اعظم جنرل میڈیسن، ڈاکٹر آصف اقبال کمالی آرتھوپیڈکس، ڈاکٹر شاہنواز حسین وارثی چائلڈ اسپیشلسٹ، ڈاکٹر شاہد منظور ، ڈاکٹر شیرین جہاں, ڈاکٹر سمیر اقبال، ڈاکٹر سمیر عالم، ڈاکٹر مہرویش فرجین ہومیوپیتھک، ڈاکٹر ایم اے حمزہ ہومیوپیتھی اور سینئر فزیو تھراپسٹ ڈاکٹر شاداب عالم کے ساتھ متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے طلبائ وطالبات نے مریضوں کے علاج میں اپنی مدد فراہم کی۔ اس موقع پر مریض کا بلڈ پریشر چیک کرنے، شوگر ٹیسٹ، ادویات اور مریض کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے وغیرہ میں بھرپور تعاون کیا گیا۔ آخر میں متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میڈیکل سائنس کے طلبائ وطالبات نے ڈاکٹروں کو ایک ڈائری اور نئے سال 2025 کا کیلنڈر دیا و ادارے کی تعلیم کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس موقع پر آپٹیمم انٹرنیشنل اسکول کے چیئرمین کیو ایم آر رحمان عرف فیض نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے یہاں مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ہر سال متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طلبائ وطالبات کی طرف سے بہترین تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ہم متھیلا انسٹی ٹیوٹ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور تمام طلبہ وطالبات کو دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیتے ہیں کہ مستقبل میں وہ اپنی زندگیوں کی بہترین تشکیل کے ساتھ ساتھ معاشرے کی خدمت بھی کریں۔


Sunday, 9 February 2025

بیرین سنگھ کے استعفیٰ پر راہل گاندھی کا ردعمل، ’اب ترجیح امن بحالی اور عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا ہونی چاہیے‘








نئی دہلی: منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے اتوار (9 فروری) کو گورنر سے ملاقات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب پیر (10 فروری) سے منی پور قانون ساز اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا تھا اور اپوزیشن ریاستی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔


بیرن سنگھ کے استعفے کے بعد کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے بھی ردعمل دیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا، ”بی جے پی کے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ نے تقریباً دو سال تک منی پور میں تفریق کو ہوا دی۔ ریاست میں تشدد، جانی نقصان اور ہندوستان کے تصور کی تباہی کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں بدستور حمایت دی۔“


راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں آگے لکھا کہ ”وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ کا استعفیٰ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کا بڑھتا ہوا دباو¿، سپریم کورٹ کی جانچ اور کانگریس کی جانب سے لائے گئے عدم اعتماد کی تحریک نے انہیں جوابدہ بنایا لیکن سب سے ضروری ہے ریاست میں امن بحال کرنا اور منی پور کے لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانا۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی کو فوراً منی پور کا دورہ کرنا چاہیے لوگوں کی باتیں سننی چاہیے اور انہیں ریاست میں حالات کو معمول پر لانے کے حوالے سے اپنے منصوبہ کے بارے میں واضح کرنا چاہیے۔“

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ”کل کانگریس پارٹی منی پور میں وزیر اعلیٰ اور ان کی وزرائ کونسل کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھی، لیکن بدلتے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے دیا۔ کانگریس مئی 2023 کے آغاز سے ہی ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھی، جب منی پور میں بدامنی پھوٹ پڑی تھی۔“


انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ تاخیر سے آیا۔ اب منی پور کے عوام ہمارے ’فریکوینٹ فلائر‘ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں، جو اس وقت فرانس اور امریکہ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ انہیں گزشتہ 20 ماہ میں نہ تو منی پور جانے کا وقت ملا اور نہ ہی اس کی خواہش ہوئی۔“



منی پور: این بیرین سنگھ کا وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ، امت شاہ سے ملاقات کے بعد فیصلہ

 










نئی دہلی: منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے اتوار کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امِت شاہ سے ملاقات کے بعد کیا۔ سنگھ نے اپنا استعفیٰ راج بھون میں گورنر اجے کمار بھلّا کو پیش کیا۔ اس موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا، ریاستی وزرا اور متعدد ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔


گزشتہ برس ریاست میں ہونے والے نسلی تشدد کے سبب این بیرین سنگھ کو شدید دباو¿ کا سامنا تھا۔ نومبر 2023 میں جیریبام میں تین خواتین اور ان کے بچوں کے قتل کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے تھے۔ اس دوران قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی اتحادی جماعت نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی اور قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔



منی پور میں تشدد کا آغاز 3 مئی 2023 کو ہوا تھا جب میتئی برادری کو درج فہرست قبائل میں شامل کرنے کے منی پور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آدیواسی طلبہ یونین (اے ٹی ایس یو ایم) نے احتجاجی ریلی نکالی۔ اس کے بعد سے ریاست میں کشیدگی برقرار ہے۔ اب تک 200 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ حالات پر قابو پانے کے لیے مرکز کو نیم فوجی دستے تعینات کرنا پڑے۔


گزشتہ سال کے آخر میں این بیرین سنگھ نے عوام سے معافی مانگی تھی اور اعتراف کیا تھا کہ سال 2023 ریاست کے لیے مشکل ترین ثابت ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ 2025 میں منی پور میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔ تاہم، بڑھتے دباو¿ اور سیاسی ہلچل کے باعث انہیں بالآخر اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔



دہلی اسمبلی انتخابات: بی جے پی کی جیت پر منوج جھا کا ردعمل، ’اب ڈبل انجن کی حکومت نہ ہونے کا بہانہ نہیں رہے گا‘

 




دہلی میں بی جے پی کی جیت پر سیاسی لیڈران کا رد عمل جاری ہے۔ اسی کڑی میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 سال بہت طویل عرصہ ہوتا ہے۔ 27 سال بعد بی جے پی دہلی میں اقتدار میں واپس آئی ہے، میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں۔ اب ان کے پاس وہ بہانہ بھی نہیں رہے گا کہ ڈبل انجن والی حکومت نہیں ہے۔ مذکورہ باتیں انہوں نے ’اے این آئی‘ سے گفتگو کے دوران کہی۔


انڈیا اتحاد کے مستقبل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے کہا کہ ”انڈیا اتحاد ایک مرکزی خیال تھا، ہم نے اسے مرکز میں متبادل حکومت کے امکانات کے لیے بنایا تھا۔ تب بھی تمام پارٹیوں کو معلوم تھا کہ ریاست میں ہم ایک دوسرے سامنے ہوں گے۔ اس طرح کے اختلافات ہوتے رہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر پارٹیوں کو لگتا ہے کہ وہ بہتر کارکردگی کے لیے کوآرڈینیشن کر سکتے ہیں تو یہ پہلے سے کرنا ہوگا نہ کہ انتخاب کو دیکھ کر۔“


علاوہ ازیں منوج جھا نے کہا جمنا اور گنگا کے نام پر اس ملک میں سیاست بہت ہو گئی۔ وزیر اعظم نے گنگا کے حوالے سے کئی باتیں بولی ہیں۔ وزیر اعظم کی سیاست میں بھی شارٹ کٹ کے کئی پہلو ہیں۔ آپ کو مینڈیٹ ملا ہے کل کو کہیں مینڈیٹ نہیں ملے گا اس کو آخری انتخاب مان لینا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اندرا گاندھی اور اٹل بہاری واجپئی بھی انتخاب ہار گئے تھے اس لیے یہ جمہوریت ہے۔ اگر آپ عوام کا کام نہیں کرتے ہیں تو آپ کو عر ش سے فرش تک کے سفر کے لیے تیار رہنا چاہیے۔


آر جے ڈی لیڈر نے آگے کہا کہ 2020 مین تمام کوششوں کے بعد بھی ہم (آر جے ڈی) واحد سب سے بڑی پارٹی رہی۔ وزیر اعظم کے حوالے سے منوج جھا نے کہا آئیے بہار آپ کا فیصلہ بہاری کریں گے، کچھ بھی کریے لیکن بہاریوں کو دھوکہ مت دیجیے۔ پولرائزیشن جیسے مسائل کو لے کر بہار نہیں آئیے۔ ہم مسائل کو لے کر عوام کے درمیان جا رہے ہیں کون پلٹے گا اس سے کوئی مطلب نہیں ہے ہم لمبی لکیر کھینچ رہے ہیں، اس سے لمبی لکیر کوئی کھینچ کر بتا دے۔



امریکی پابندیاں اسرائیل کو بچانے کا حربہ


 





مدیحہ فصیح

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی ) یا عالمی عدالت کے 79 رکن ممالک نے آئی سی سی پر امریکہ کی پابندیوں کی مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ فیصلہ ’سنگین جرائم کے لئے معافی کے خطرے ‘کو بڑھا نے اور بین الاقوامی قانون کو کمزور کرنے والا عمل ہے۔ 8 فروری کو ایک بیان میں، ان ممالک کے گروپ نے – جو کہ عدالت کے ارکان کا تقریباً دو تہائی حصہ ہے – آئی سی سی کی حمایت کی اور کہا کہ عدالت کی جانب سے اسرائیل کی تحقیقات کرنے کی پاداش میں امریکی پابندیاں بین الاقوامی قانون کو کمزور کریں گی۔ سلووینیا، لکسمبرگ، میکسیکو، سیرا لیون اور وانواتو کی قیادت میں جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسی کارروائیاں سنگین جرائم کے لئے معافی کے خطرے کو بڑھاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہیں، جو عالمی نظم و امن کے قیام کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اس گروپ میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، برازیل اور بنگلہ دیش سمیت درجنوں دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 4 فروری کو آئی سی سی کے افسران، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے خلاف اثاثوں کی منجمدی اور سفری پابندیاں عائد کرنے کا حکم دیا۔ جس کے تحت ان لوگوں کے خلاف بھی پابندیاں عائد کی گئیں جو عدالت کی تحقیقات میں معاونت کرتے تھے۔ بیان میں انتباہ کیا گیا کہ پابندیاں حساس معلومات کی رازداری اور ان افراد کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں جن میں متاثرین، گواہ اور عدالت کے افسران شامل ہیں، جن میں سے بہت سے ہمارے شہری ہیں۔ ہم آئی سی سی کی خودمختاری، دیانتداری اور غیر جانبداری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔



حالانکہ امریکہ نے ہمیشہ خود کو ایک ایسے بین الاقوامی نظام کے ضامن کے طور پر پیش کیا ہے جو انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے، لیکن اس نے اکثر بین الاقوامی اداروں کی ان کوششوں پر حملہ کیا ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مبینہ استحصال کی تحقیقات کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ پابندیاں عائد کرنے والے اس حکم سے امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ’ناجائز اور بے بنیاد اقدامات‘ کے خلاف ’ٹھوس اور اہم نتائج‘ حاصل ہوں گے۔ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے آئی سی سی پر پابندیاں عائد کی ہیں، ان کے ڈیموکریٹک پیش رو جو بائیڈن نے بھی عدالت کو اسرائیل کی تحقیقات کرنے پر سزا دینے کے لئے پابندیوں کے استعمال پر غور کیا تھا۔


گزشتہ سال نومبر میں، آئی سی سی نے اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے لئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے، جہاں اسرائیل نے ایک مہم چلائی جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، پورے محلے تباہ ہو گئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور انسانی امداد کو وسیع پیمانے پر روک دیا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق، کم از کم 61 ہزار فلسطینی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، یہ تعداد بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ ریسکیو کارکن ملبے میں دبی لاشوں کی تلاش کر رہے ہیں۔



اسرائیل نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے لیکن اسے کبھی جوابدہ نہیں ٹھرایا گیا، اس صورتحال پر کینٹ یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کی لیکچرر شاہد حموری نے 'الجزیرہ' میں لکھا ہے کہ اسرائیل کو حاصل معافی نے ہمیں ایک ایسے نقطے پر پہنچا دیا ہے جہاں موجودہ عالمی نظام اب مزید قابل عمل نہیں رہا۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے کارکنوں کو قتل کیا، یو این آر ڈبلیو اے کو بند کیا، اقوام متحدہ کے نمائندوں کو داخلے سے روکا اور بار بار اقوام متحدہ اور اس کے حکام کی توہین کی لیکن اسرائیل کو دہائیوں سے غیر معمولی استثنیٰ حاصل ہے۔ اسرائیلی حکومتوں اور ان کے اتحادیوں نے وہ تمام وسائل استعمال کیے ہیں جن سے آئی سی سی پر اسرائیلی جرائم کی تحقیقات نہ کرنے کے لئے دباو¿ ڈالا جا سکے– جسمانی تشدد کی براہ راست دھمکیوں سے لے کر پابندیوں اور بدنامی تک۔ عدالت پر حملے اس وقت اور بھی شدت اختیار کر گئے جب اس نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔


آئی سی سی پر پابندیاں، پیرس موسمیاتی معاہدے اور عالمی صحت تنظیم سے امریکہ کا انخلا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے وہ فیصلے ہیں جو عالمی کثیر الجہتی نظام پر ایک براہ راست حملہ ہیں۔ 4 فروری کو، امریکی صدر نے عالمی قانون کی مکمل بے حرمتی کرتے ہوئے غزہ پر ’قبضہ‘ کرنے اور ’اسے اپنا بنانے‘ کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہ تمام واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا اقوام متحدہ کے زیر قیادت موجودہ عالمی نظام بچایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگرچہ 1945 میں آنے والی نسلوں کو جنگ کے عذاب سے بچانے کے لئے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا، مگر اقوام متحدہ طویل عرصے سے تنازعات کو روکنے اور ان سے بچنے میں ناکام رہی ہے۔ جیسا کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی اور عسکریت پسندی کے تیزی سے بڑھنے کے خطرے کا سامنا ہے، یہ واضح ہے کہ ہمیں ایک ایسے نئے عالمی قانونی نظام کی ضرورت ہے جو طاقت کے بجائے لوگوں کو انصاف کی بنیاد پر متحد کرے۔



کانگریس کو کمتر سمجھنا کیجریوال کی بڑی غلطی

 





نواب علی اختر

دہلی کے انتخابی نتائج اب سب کے سامنے ہیں۔ الزامات اور جوابی الزامات کے طویل عرصے کے بعد جب 8 فروری کو ای وی ایم کو کھولا گیا تو نتیجہ بی جے پی کے حق میں آیا۔ اس طرح دہلی میں بی جے پی کی27 سالہ جلا وطنی ختم ہو چکی ہے اور اروند کیجریوال پہلی بار اپوزیشن میں بیٹھنے جا رہے ہیں۔ تاہم کیجریوال خود ایوان میں اپوزیشن کے کیمپ میں نہیں بیٹھ پائیں گے کیونکہ انہیں نئی دہلی کی سیٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نہ صرف کیجریوال بلکہ عام آدمی پارٹی کے تمام اہم لوگ ہار گئے ہیں۔ منیش سسودیا ہوں یا سوربھ بھاردواج، سب ہار گئے۔ بڑے لیڈروں میں آتشی ہی واحد نام ہے جو کالکاجی سے اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب رہیں۔ بی جے پی کی جیت سے زیادہ کیجریوال کی ہار پر بحث ہو رہی ہے۔


اب جب کہ دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں اور اس بار انتخابی جنگ نے قومی راجدھانی کی سیاسی تصویر پوری طرح بدل دی ہے۔ ’مفت والی سیاست‘ کرنے والے کیجریوال کی شکست کی کئی وجوہات ہیں جن میں بدعنوانی کے الزامات، فضائی آلودگی، حکومت مخالف لہر، بنیادی سہولیات سے متعلق عوامی شکایات، مسلسل داغدار تصویر قابل ذکر ہیں۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) جو مسلسل تیسری بار حکومت بنانے کا خواب دیکھ رہی تھی، اسے کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے فتح درج کر کے دہلی کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ دوسری طرف کانگریس ایک بار پھر کوئی سیٹ تو نہیں حاصل کر سکی مگر انتخابی میدان میں اپنی شاندار موجودگی درج کرانے میں کامیاب رہی۔



کرپشن کے خلاف تحریک سے جنم لینے والی عام آدمی پارٹی اپنی حکومت کے ابتدائی ایام میں عوام کے لیے ایک کشش رکھنے والی جماعت قرار پانے لگی تھی۔ عوام بھی یہ مان رہے تھے کہ یہ پارٹی سب سے مختلف ہے۔ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرتے ہوئے بھی اروند کیجریوال نے عوامی تائید و حمایت حاصل کی تھی۔ عوام میں یہ رائے پیدا کر دی گئی تھی کہ انہیں مفت کی سہولیات فراہم کرنا ہی حکومت کی اصل کارکردگی ہے۔ انہوں نے دوسرے اہم اور بنیادی مسائل پر زیادہ کچھ توجہ نہیں دی۔ کیجریوال کی دوسری مکمل میعاد کے دوران جب کرپشن کے الزامات عائد ہونے لگے تو عوام کو بڑا جھٹکا لگا تھا۔ بی جے پی کی تشہیری مشنری نے دہلی میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور عام آدمی پارٹی کو دفاعی موقف اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔


لگاتار الزامات اور مقدمات کے نتیجہ میں عام آدمی پارٹی عوامی موڈ کو سمجھنے اور ناراضگی کو دور کرنے کی حکمت عملی بنانے میں ناکام رہی۔ پارٹی کے بڑے چہروں کی شکست اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوام کا ووٹ کسی کو بھی تخت پر اور کسی کو بھی تختہ پر لا سکتا ہے۔ دہلی کے نتائج اس بات کا واضح ثبوت دکھائی دیتے ہیں۔ دہلی کے نتائج آنے کے بعد ایک بڑا سوال ضرور کھڑا ہوا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنا چاہیے تھا؟ اگر ہاتھ کا ساتھ ملتا تو دہلی میں جھاڑ و کمال کر سکتی تھی۔ دونوں پارٹیاں مل کر الیکشن لڑتیں تو موجودہ انتخابی مساوات بدل سکتے تھے۔ اس کا ثبوت لوک سبھا انتخابات ہیں جس میں اپوزیشن پارٹیوں کے ’انڈیا اتحاد‘ نے بھگوا بریگیڈ کے بیشتر ہتھکنڈوں کو ناکام بنا کر مضبوط اپوزیشن کی بنیاد رکھی تھی۔



’انڈیا اتحاد‘ میں کانگریس اور اے اے پی بھی شامل تھیں لیکن جیسے جیسے اسمبلی انتخابات قریب آئے، کیجریوال کی وزیراعظم بننے کی خواہش نے دونوں پارٹیوں کو الگ الگ الیکشن لڑنے پر مجبور کر دیا۔ پہلے ہریانہ اور اب دہلی میں دونوں پارٹیاں الگ الگ الیکشن لڑے جس کا فائدہ بی جے پی کو پہنچا۔ کیجریوال کی مقبولیت میں کمی، کانگریس کے ساتھ اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے ووٹوں کی تقسیم اور بی جے پی کی جارحانہ انتخابی حکمت عملی نے اے اے پی کی شکست کا اسکرپٹ لکھا۔ کیجریوال کی خواہشات دہلی کے الیکشن میں بی جے پی کو کامیابی حاصل کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ وہیں اے اے پی کو کئی سیٹوں پر چند ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس کے ووٹ کئی سیٹوں پر اے اے پی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے تھے۔


عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال خود بی جے پی کے پرویش ورما سے صرف 4,089 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ اسی طرح منیش سسودیا اور سوربھ بھاردواج جیسے اے اے پی کے بڑے لیڈر بہت کم فرق سے سیٹیں ہار گئے اور ان سیٹوں پر اس فرق سے زیادہ ووٹ کانگریس کے امیدواروں کو ملے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد نہ کرنا اے اے پی کے لیے بڑا نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اے اے پی نے 70 میں سے 22 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی لیکن ان میں سے کئی سیٹوں پر اس کے ووٹ شیئر میں کمی آئی ہے۔ کانگریس نے کوئی سیٹ نہیں جیتی لیکن کئی سیٹوں پر 5 سے15 فیصد ووٹ حاصل کر کے اپنی پوزیشن بہتر کی ہے۔


بی جے پی نے ایسی بہت سی سیٹیں جیتیں جہاں اسے اے اے پی اور کانگریس کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ ہوا۔ اگر اے اے پی اور کانگریس کے درمیان اتحاد ہوتا تو بی جے پی کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا۔ وجہ یہ ہے کہ دہلی میں ایسی 14 سیٹیں ہیں جہاں عام آدمی پارٹی کے امیدوار کانگریس سے اتحاد نہ کرنے کی وجہ سے ہار گئے۔ راجدھانی کی سب سے ہاٹ سیٹ رہی نئی دہلی کے نتائج بھی حیران کن رہے۔ پرویش صاحب سنگھ (بی جے پی) نے یہاں سے 30,088 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال 4089 ووٹوں سے ہار گئے۔ کیجریوال کو 25,999 ووٹ ملے جبکہ کانگریس کے سندیپ دکشت 4,568 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔


نئی دہلی سیٹ سے کیجریوال کا یہ چوتھا الیکشن تھا اور وہ یہاں پہلی بار ہارے ہیں۔ اس سے قبل 2014 میں بھی کیجریوال کو وارانسی لوک سبھا سیٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مقابلہ کیا تھا اور وہ 3 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہارے تھے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیجریوال جو ایک سال پہلے تک وزیراعظم بننے کی خواہش رکھتے تھے، وزیراعلیٰ کی کرسی بھی کھو چکے ہیں، اب وہ کیا کریں گے؟ سال 2023 میں اپوزیشن لوک سبھا انتخابات کی تیاری کر رہا تھا۔ تمام پارٹیاں اکٹھی ہوئیں اور ’انڈیا بلاک‘ تشکیل دیا۔ وزیراعظم کے چہرے پر بحث ہوئی تو اے اے پی نے کھل کر کیجریوال کا نام پیش کیا۔ بڑی اور تجربہ کار پارٹی کانگریس کو نظرانداز کرنا اور کیجریوال کا ’اوور کانفیڈینس‘ اے اے پی کولے ڈوبا۔



اب دہلی میں اے اے پی کی شکست سے نہ صرف کیجریوال کی سیاست پر گہرا اثر پڑے گا بلکہ پارٹی بھی متاثر ہوگی۔ اب صرف پنجاب میں اے اے پی کی حکومت رہ گئی ہے۔ یہ شکست یقیناً پارٹی ہائی کمان کو پریشان کرے گی اور اسے پنجاب کا قلعہ برقرار رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی کے ساتھ آنا پڑ سکتا ہے۔ کانگریس کو دہلی میں کمتر سمجھنا کیجریوال کی سب سے بڑی بھول تھی۔ کانگریس کے ’آشیرواد‘ سے کیجریوال دہلی میں اپنی کشتی پار لگا سکتے تھے۔ ماہرین کا یہاں تک کہنا ہے کہ کانگریس کو دہلی میں اپنی کارکردگی کا فائدہ پنجاب میں ملے گا۔ کانگریس پنجاب میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے اور دہلی کی طرح پنجاب میں بھی اے اے پی نے کانگریس سے اقتدار چھین لیا تھا۔



اروند کیجریوال کی پارٹی کو دہلی میں کیوں کرنا پڑا شکست کا سامنا؟ یوگیندر یادو نے بتائی کئی اہم وجوہات

 







دہلی اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ایک طرف جہاں عام آدمی پارٹی خود احتسابی میں مشغول ہے۔ وہیں دوسری جانب اروند کیجریوال کے پرانے ساتھیوں میں سے ایک یوگیندر یادو نے بھی عآپ کی شکست کی کچھ وجوہات بتائی ہیں۔ یوگیندر یادو نے کہا کہ 2020 کے انتخاب کے بعد دہلی کے عوام کو کچھ نیا نہیں ملا صرف مفت بجلی اور بس ٹکٹ پر بات ہوتی رہی۔ ’دی ریڈ مائک‘ سے بات چیت کے دوران یوگیندر یادو نے کہا کہ ”عام آدمی پارٹی نے اخلاقیات اور متبادل والی بات تو چھوڑ دی۔ گڈ گورننس کو پکڑا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دہلی کے اسکولوں اور محلہ کلنک میں بہت بہتری آئی۔ اس پر ان کو اشتہار بھی کرنا آتا تھا۔ اس پر کیا الزام دیں۔“


یوگیندر یادو نے آگے کہا کہ ”2020 کے انتخاب میں انہیں عوام کی حمایت حاصل ہوئی یہ ان کی کامیابی تھی۔ انہیں اس کا فائدہ بھی ملا۔ اس کے بعد سے ک±ل ملا کر مفت بجلی اور خواتین کو دی گئی بس ٹکٹ کے اوپر ہی بات چل رہی تھی۔ نئی چیز نہیں ہو رہی تھی۔ ایسا نہیں ہو رہا تھا کہ دہلی کے عوام کو محسوس ہو کہ دہلی کا چہرہ بدل رہا ہے۔ 2022 میں ایم سی ڈی کا انتخاب جیت گیا تو بہانہ ختم ہو گیا۔ عوام نے سوال کیا اور عآپ جواب دینے میں ناکام رہی۔“



عام آدمی پارٹی پر طنز کستے ہوئے یوگیندر یادو نے کہا کہ ”عآپ کی حکمت عملی یہ ہے کہ بی جے پی نے ہندو ووٹ کی سیاست کی ہے۔ ہم بھی بی جے پی ہی کی طرح سیاست کریں گے اور خود کو اس سے زیادہ ہندو ثابت کریں گے۔ جب فسادات ہوں گے تو خاموش رہیں گے اور آنکھ بند کر لیں گے۔ روہنگیا کا مسئلہ آئے گا تو بی جے پی سے بڑا روہنگیا مخالف بن کر دکھائیں گے۔ ایسے میں کیسے کانگریس عآپ کا ساتھ دے گی۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ”آج کے اس نتیجہ سے کانگریس اور عآپ کو سبق ملتا ہے کہ وہ بی جے پی کا مقابلہ اس کی پونچھ پکڑ کر نہیں کر سکتے۔ بی جے پی کے نظریے کو دہراتے ہوئے، بی جے پی کے جملے کو قبول کرتے ہوئے، ان کی فرقہ وارانہ سیاست پر یقین کرتے ہوئے اسے شکست نہیں دے سکتے۔“