Sunday, 9 February 2025

اردن: شاہ عبداللہ دوم کی پوتی ایمان کے ساتھ کھیلتے ہوئے تصویر وائرل

 






شاہ عبداللہ دوم اپنی پوتی ایمان کے ساتھ لاڈ پیار کے لیے وقت ضرور نکالتے ہیں۔ یہ ننھی پوتی ان کے بیٹے حسین کی بیٹی ہے ، جس کی عمر ابھی محض چند ماہ ہے۔


پوتی ایمان کے ساتھ شاہ عبداللہ دوم کی ایک تصویر 'انسٹا گرام' پر وائرل ہوئی ہے جس میں ان کی پوتی ایمان اپنے دادا کے گالوں کو اپنے ننھے ہاتھوں سے چھو رہی ہے۔ اس پر شاہ عبداللہ عجیب سے سرور کی کیفیت میں ہیں۔


یہ تصویر شہزادہ حسین بن عبداللہ نے 'انسٹا گرام' پر وائرل کی ہے۔ شہزادہ حسین کی اہلیہ شہزادی رجوا ہیں۔ شہزادی کا تعلق سعودی شاہی خاندان سے ہے۔ ایمان اس شاہی جوڑے کی پہلی بیٹی ہے۔ ایمان 3 اگست 2024 کو دنیا میں آئی تھی۔


اس کی پیدائش پر شاہ اردن نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں لکھا تھا 'میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں ہماری پہلی پوتی ایمان بنت حسین عطا کی ہے۔ میں پیارے حسین اور رجوا کو نومولود کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔'


شہزادہ حسین کی طرف سے 'انسٹا گرام' پر لگائی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہزادی ایمان کے دادا شاہ عبداللہ دوم کھیل رہے ہیں اور خوب خوش ہیں۔ 'انسٹا گرام' پر اس پوسٹ میں لکھا ہے' ایمان سب سے پیارے دادا کے ساتھ۔'


شاہ اردن نے مزید لکھا ' ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کی اچھی پرورش کرے اور اس کے والدین کے لیے اس کی حفاظت کرے۔'





















امریکہ سے کشیدگی، ایرانی کرنسی قدر کی کم ترین سطح پر چلی گئی

 





ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی تازہ یلغار اور کشیدگی کے ماحول میں اضافے کے باعث ہفتے کے کا دن ایرانی کرنسی کے لیے سخت خطرناک رہا جب ایرانی کرنسی اب تک کی کم ترین سطح پر جا گری۔ اس تناظر میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکہ کی 'زیادہ سے زیادہ دباو¿' کی پالیسی کے ماحول میں بات چیت کو مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی ریال جمعہ کے روز کے ڈالر کے مقابلے میں ہفتے کے روز مزید نیچے گر گیا ہے۔ جمعہ کے روذ ایرانی ریال 869.500 کی سطح پر تھا جبکہ ہفتے کے روز یہ 892.500 کی سطح پر چلا گیا۔ کرنسی سے متعلق ویب سائٹ کے مطابق ایرانی ریال کی تبادلے کی سطح 883.100 ہوگئی اور ڈالر کی تجارت کی اطلاع 891.000 ہوگئی۔

اس کے نتیجے میں افراط زر کی سطح 35 فیصد ہو گئی ہے اور مقامی لوگ ریال کو دوسری کرنسیوں میں تبدیل کرانے یا پھر کرپٹو کرنسی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ سونے کی خریداری بھی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین اگلے دنوں ایرانی ریال کے مزید نیچے آنے کی اطلاع دے رہے ہیں۔

واضح رہے ٹرمپ کے نومبر میں الیکشن جیتنے کے دوران ایرانی ریال 690.000 کے آس پاس تھا۔ لیکن ٹرمپ کی ایران کے بارے میں پالیسیاں سخت کرنے کی سوچ نے ایرانی ریال کو انتہائی نیچے گرا دیا ہے۔


بہار میں ریلوے کی بے مثال سرمایہ کاری، 2014 کے بعد بہارمیں جتنا نیا ریلوے ٹریک بچھایا گیا ہے وہ ملیشیا کے مکمل ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ ہے : اشونی ویشنو

 





بیتیا:معزز ریلوے وزیر جناب اشونی ویشنو آج ایک روزہ دورے پر بہار پہنچے، جہاں وہ بیتیا، مظفرپور اور پٹنہ ریلوے اسٹیشنوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بیتیا ریلوے اسٹیشن پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور ریلوے کی ترقی سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ بہار میں ریلوے کی مجموعی سرمایہ کاری 95,566 کروڑ روپے ہے، جس سے آئندہ پانچ برسوں میں ریلوے نیٹ ورک میں مکمل تبدیلی آئے گی۔ اس تاریخی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد بہار میں جتنا نیا ریلوے ٹریک بچھایا گیا ہے، وہ ملیشیا کے مکمل ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ ہے۔

ریلوے وزیر جناب اشونی ویشنو نے امرت بھارت اسٹیشن یوجنا کے تحت جدید بنائے جانے والے بیتیا ریلوے اسٹیشن کے 3D ماڈل کا جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ، انہوں نے بیتیا میں تعمیر شدہ سڑک اوور برج (آر. او. بی.) کے قوم کے نام وقف کیے جانے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ناری شکتی کا احترام کرتے ہوئے، خواتین نے اس آر او بی کا افتتاح کیا۔ریلوے وزیر کے اس دورے سے بہار کے ریلوے نیٹ ورک میں جاری ترقیاتی کاموں کو نئی رفتار ملے گی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔


جھوٹ اور لوٹ کی سیاست کو دہلی کی عوام نے مسترد کر دیا: امیش سنگھ کشواہا

 





پٹنہ:بہار جنتا دل (یو) کے معزز ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے ہفتہ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے دہلی اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی تاریخی جیت پر تمام دہلی واسیوں اور این ڈی اے کے کارکنوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی عوام نے این ڈی اے کی خوشحالی اور ترقیاتی پالیسی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا کہ ملک کی سیاست میں این ڈی اے کی طاقت اور اتحاد کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

ریاستی صدر نے کہا کہ عوام سے کیے گئے جھوٹے وعدوں کی سیاسی قیمت اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی کو چکانی پڑی ہے۔ جھوٹ اور لوٹ پر مبنی سیاست کرنے والوں کو عوام نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہوں یا بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، دونوں نے اپنی شاندار قیادت اور بہترین طرزِ حکمرانی سے ترقی کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔

ا±میش سنگھ کشواہا نے کہا کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے سیاسی زوال کا جو انجام ہوا ہے، بہار میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کا حال اس سے بھی بدتر ہوگا، کیونکہ دونوں پارٹیوں کی سیاسی حکمت عملی اور طرز عمل ایک جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ہی کرپشن اور گھوٹالوں کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دہلی میں اروند کیجریوال اور بہار میں تیجسوی یادو، دونوں کی سیاست جھوٹ پر مبنی ہے۔

ساتھ ہی، ریاستی صدر نے کہا کہ دہلی کے انتخابی نتائج پورے ملک، خاص طور پر بہار میں این ڈی اے کارکنان کے لیے ایک نئی توانائی، جوش، ولولہ اور اعتماد پیدا کریں گے۔ اس سے آئندہ بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کو زبردست فائدہ ملے گا اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں 225 سیٹوں پر تاریخی جیت درج کی جائے گی۔


مرکزی حکومت نے امریکی پالیسیوں کے آگے ملک کی عزت کو گروی رکھ دیا : ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ

 





غیر مقیم بھارتیوں کے مسئلے پر کانگریس کا احتجاج، مودی اور ٹرمپ کے پتلے نذر آتش

پٹنہ، 9 فروری :امریکی حکومت کی جانب سے غیر مقیم بھارتیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، انہیں زنجیروں میں جکڑ کر کارگو طیاروں کے ذریعے بھارت بھیجنے کے خلاف بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ کی قیادت میں انکم ٹیکس چوراہے پر کانگریس کارکنان نے مرکزی حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پتلے نذر آتش کیے گئے۔احتجاج کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ نے کہا کہ کمزور قیادت والی این ڈی اے حکومت کے سربراہ نریندر مودی، غیر مقیم بھارتیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، ہر موضوع پر بیان دینے والے وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی اس معاملے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خود کو وشو گرو کہنے والی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے بھارتی شہریوں کے وقار کو اپنے امریکی دوست ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے گروی رکھ دیا ہے۔ بھارتی شہریوں کو کارگو طیاروں میں زنجیروں سے باندھ کر بھارت بھیجنے کا یہ غیر انسانی طریقہ قطعی ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دنیا بھر میں گھومتے ہیں، لاکھوں روپے کے تحائف دیتے ہیں اور تقریبات کے ذریعے اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب امریکی حکومت بھی بھارت کے ساتھ دوسرے درجے کا نہیں بلکہ اس سے بھی کمتر سلوک کر رہی ہے۔ "نمستے ٹرمپ" اور "ہاو¿ڈی مودی" جیسے شاندار پروگراموں پر بھارتی عوام کی کمائی کے کروڑوں روپے خرچ کرنے والے، اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے ایک عام طیارہ تک فراہم نہیں کر سکے۔ وزیر خارجہ جے شنکر کا یہ کہنا کہ "یہ امریکی پالیسی ہے"، صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ حکومت صرف خود کو مضبوط دکھانے کے لیے عالمی تقریبات کا سہارا لے رہی ہے، جبکہ عالمی سیاست میں ناکام ثابت ہو چکی ہے۔کانگریس پارٹی نے پورے ملک میں اس مسئلے پر مظاہرے کیے اور بہار کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔

احتجاجی مظاہرے میں ریاستی صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ کے علاوہ سابق ریاستی صدر ڈاکٹر مدن موہن جھا، پروفیسر رام جتن سنہا، پریم چندر مشرا، وینا شاہی، ایم ایل اے وجے شنکر دوبے، پرتیمہ کماری داس، عابد الرحمن، نیتو سنگھ، برجیش پانڈے، راجیش راٹھوڑ، لال بابو لال، برجیش پرساد مونن، امیتا بھوشن، راج کمار راجن، سروت جہاں فاطمہ، آنند مادھو، ڈاکٹر سنیہاشیش وردھن پانڈے، ڈاکٹر سنجے یادو، سوربھ سنہا، ندھی پانڈے، منوج کمار سنگھ، انیل کمار، کمار آشیش، چندر پرکاش سنگھ، ناگندر کمار وکل، رامائن یادو، آشوتوش شرما، پروفیسر ونود کمار، راج کشور سنگھ، روشنی جیسوال، گنجن پٹیل، سنجے پانڈے، منت رحمانی، ششی رنجن، آصف غفور، سدیہ شرما، محمد کامران، مرنال انامی، روی گولڈن، دھننجے شرما، متھیلیش شرما مدھوکر، اشوک گگن، رمیش رام، وملیش تیواری، للن یادو، ستیندر کمار سنگھ، سنتوش سریواستو، وسی اختر، گرجیت سنگھ، سومت کمار سنی، سدھارتھ کشتریہ، رما شنکر پانڈے، ندیم انصاری، ارملا سنگھ نیلو، پردیومن یادو، آدتیہ پاسوان، وشال رنجن، شریف رنگریز، روی کمار، راہل کمار مشرا، گردیال سنگھ سمیت سینکڑوں کانگریس کارکنان موجود تھے۔


Saturday, 8 February 2025

سعودی عرب کے خلاف اسرائیلی بیان پر مصر کی جانب سے شدید مذمت

 





مصر نے سعودی عرب کے خلاف اسرائیلی بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے حد سے تجاوز اور نا قابل قبول قرار دیا ہے۔ مصر نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی سرخ لکیر ہے جس کو نقصان پہنچانے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔


مصری وزارت خارجہ نے آج ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف اسرائیل کے غیر ذمے دارانہ بیان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اور اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیز بیان میں سعودی اراضی پر فلسطینی ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ بیان سعودی عرب کی خود مختاری پر براہ راست حملے کے مترادف ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


مصری وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور اس کی خود مختاری کا احترام "سرخ لکیر" ہے اور مصر اسے گزند پہنچانے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔



مصر کا کہنا ہے کہ مملکت سعودی عرب کا استحکام اور قومی سلامتی مصر اور عرب ممالک کی سلامتی و استحکام کا حصہ ہے جس کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ اسرائیل کا یہ بیان سعودی عرب کی خود مختاری اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق پر حملہ ہے۔


مصر نے باور کرایا ہے کہ وہ اس طرح کے غیر ذمے دارانہ بیانات کے خلاف پوری طرح سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ... اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا جائے۔


واضح رہے کہ اس سے قبل با خبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ رواں ماہ فروری کے اواخر میں قاہرہ میں عرب لیگ کا ایک ہنگامی سربراہ اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے عرب وزرائے خارجہ کے بیچ کثیر مشاورت جاری ہے۔ اجلاس میں فلسطینیوں کی جبری ہجرت کی کوششوں اور منصوبوں کے حوالے سے ایک یکساں موقف پیش کیا جائے گا۔


مصری وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین کی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کے لیے سعودی عرب، امارات، کویت، سلطنت عمان، بحرین، اردن، عراق، الجزائر، تونس، موریتانیا اور سوڈان کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔ ساتھ ہی فسلطینی عوام کو ان کی سرزمین سے ہجرت پر مجبور کرنے یا فلسطینی اراضی کے باہر دوسرے ممالک منتقل کرنے کے حوالے سے کسی بھی اقدام کو مسترد کرنے کے سلسلے میں دو ٹوک موقف کو دہرایا۔



کیمائی ہتھیار : واچ ڈاگ ادارے کے سربراہ کی شام آمد، احمد الشرع سے ملاقات

 






کیمیائی ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے والے بعض ملکوں پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کے سربراہ کی ہفتے کے روز شام آمد ہوئی ہے۔ اس خطے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ خانہ جنگی کے برسوں میں بشارالاسد نے دمشق کے مضافات میں غوطہ کے علاقے میں ان ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا اور حالیہ اسرائیلی غزہ جنگ میں اسرائیل پر یہ الزام لگایا گیا ہے۔ جس سے امریکی حساس اداروں کے مطابق غوطہ میں 1000 کے قریب لوگ مارے گئے تھے۔


بشارالاسد کی اقتدار سے محرومی کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کے عالمی ' واچ ڈاگ ' ادارے کے سربراہ کا شام کا یہ پہلا دورہ ہے۔ جہاں ان کی نئے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات ہوئی ہے۔


دس سال بعد شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل مکمل کر لیا گیا تھا۔ تاہم بشارالاسد کے مخالفین ان پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ اب بھی شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا ایک حصہ موجود ہے۔


بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی یہ واچ ڈاگ شام کو انہی نظروں سے دیکھتا ہے۔ شام کے ایوان صدر میں ہفتے کے روز 'فرنینڈو ایریاس' کے زیر قیادت وفد نے احمد الشرع سے ملاقات کی اور اپنی سرگرمیوں سے متعلق اہداف کا ذکر کیا۔


بین الاقوامی ادارے 'او پی سی ڈبلیو' کے وفد نے اس موقع پر اس خدشے کا اظہارکیا ہے کہ شام پر اسرائیل کے حالیہ شدید حملوں سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے متعلق قیمتی شواہد تباہ ہو سکتے ہیں۔


بمباری کے ہدف میں شام کے کیمیائی ہتھیار شامل تھے۔ واضح رہے کئی سال پہلے عراق پر امریکہ نے بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تباہی کے لیے حملہ کیا تھا۔



حماس نے 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے

 






 


حماس نے 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے


مزاحمتی تحریک حماس نے سنیچر کے روز 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کو تین اسرائیلی یرغمالی موصول ہوئے جنہیں اسرائیل منتقلی کی تیاری کی گئی تھی۔ دوسری طرف اسرائیلی جیل انتظامیہ نے عوفر جیل سے فلسطینیوں کی رہائی کا عمل شروع کرنے کا کہا۔


ہفتے کے روز حماس اور اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر قیدیوں اور یرغمالیوں کی پانچویں کھیپ کا تبادلہ کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے امریکہ کی جانب سے غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے بیان کے بعد حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔


حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ٹیلی گرام پیج پر بتایا کہ رہائی پانے والے قیدیوں میں لیاہو شرابی، اور لیوی اور اوھاد بن عامی شامل ہیں۔ حماس نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل آج 183 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں سے 18 کو عمر قید، 54 قیدیوں کو سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان میں غزہ کی پٹی کے 111 ایسے قیدی بھی شامل ہیں جنہیں سات اکتوبر 2023 کو حملے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔


پانچویں کھیپ

"العربیہ" کے نجی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی پانچویں قسط میں ہفتہ کو رہا کیے جانے والے قیدیوں کے نام جمع کرانے میں تاخیر ہو سکتی ہے جو اسرائیل اور حماس کی طرف سے ثالثوں کے لیے ایک پیغام ہے۔


دریں اثنا اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے جمعہ کے روز کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے ایک اسرائیلی وفد کل بروز ہفتہ کو قطری دارالحکومت دوحہ جائے گا۔


رہائی پانے والے قیدیوں میں لیاہو شرابی، اور لیوی اور اوھاد بن عامی شامل ہیں

ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ حماس نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل نے منظور شدہ انسانی پروٹوکول کی پاسداری نہیں کی۔ خاص طور پر موبائل گھروں، خیموں اور ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری سامان لانے، ہسپتالوں کی بحالی اور ایندھن فراہم کرنے کے حوالے سے پروٹوکول کا دھیان نہیں رکھا گیا۔ سخت سردی میں شہریوں اور بے گھر ہونے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔


ذرائع نے مزید کہا کہ حماس نے ثالثوں بالخصوص مصر اور قطر سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کریں اور اسرائیل پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ ایسے وقت میں جب اسرائیل اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مسلسل تاخیر کر رہا ہے۔


تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے معاہدے میں لڑائی کے خاتمے اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیل کا انخلا طے کیا گیا تھا۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری ہے۔ اس میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 1,900 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی بات کی گئی ہے۔



ہمارا موقف اٹل ہے، غزہ سے فلسطینیوں کو جلا وطن کرنا ناممکن": مصر نے امریکہ کو آگاہ کردیا

 







مصرنے غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلائ سے متعلق تجاویز سامنے آنے کے بعد امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں جواب دیا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی ہر گز ممکن نہیں۔


العربیہ اور الحدث چینلز نے اطلاع دی ہے کہ مصر نے امریکہ کو غزہ کی پٹی کے مکینوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کے ناممکن ہونے کے بارے میں مطلع کیا ہے۔ قاہرہ نے باور کرایا غزہ کے باشندوں کو بے گھر کرنے سے متعلق اس کا موقف تبدیل نہیں ہوگا۔


ذرائع نے بتایا کہ مصر اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ فلسطینی باشندوں کو بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کا وڑن رکھتا ہے اور غزہ کے باشندوں کو بے گھر کیے بغیر ان کے اندر موجود رہنے پر اصرار کرتا ہے۔


ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مصر اور اسرائیل کے درمیان تقریباً نصف صدی تک جاری رہنے والے امن معاہدے کو اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی کے منصوبے سے خطرہ لاحق ہے۔


مصری حکومت نے جمعرات کو غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کی کوششوں کو بین الاقوامی قانون کی "صاف خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جس سے جنگ بندی مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں تعلقات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔


قاہرہ جو اس تجویز کے خلاف پردے کے پیچھے سفارتی مہم چلا رہا ہے، کا کہنا ہے کہ"یہ طرز عمل جنگ کی طرف واپسی پر اکساتا ہے اور پورے خطے اور امن کی بنیادوں کو خطرات سے دوچار کررہا ہے“۔


مصری حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بند کمرے میں ہونے والی بات چیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ نے ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی تجویز کی مزاحمت کرے گا۔ ایسی تجاویز پر اصرار اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ امن معاہدہ کوخطرے میں ڈالنا ہے۔


ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ پیغام امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون، محکمہ خارجہ اور امریکی کانگریس کے ارکان کو پہنچا دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے اہلکار نے بتایا کہ اسے اسرائیل اور مغربی یورپ میں اس کے اتحادیوں بشمول برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو بھی منتقل کر دیا گیا ہے۔


قاہرہ میں ایک مغربی سفارت کارنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں متعدد چینلز کے ذریعے مصر کی سخت مخالفت کا پیغام ملا ہے۔ سفارت کار نے کہا کہ مصر بہت سنجیدہ ہے اور اس منصوبے کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔


سفارت کار نے کہا کہ مصر نے 7 اکتوبر 2023 کو حما س کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے اوائل میں بائیڈن انتظامیہ اور یورپی ممالک کی طرف سے اسی طرح کی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔


"ہنگامی" عرب سربراہ اجلاس

قبل ازیں باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو انکشاف کیا تھا کہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے چند دنوں کے اندر قاہرہ میں ایک "ہنگامی" عرب سربراہی اجلاس منعقد کرنے کے لیے مشاورت ہو رہی ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ سربراہی اجلاس میں ایک متفقہ عرب فیصلے اور موقف تک پہنچنے پر بات چیت کی جائے گی جو نقل مکانی کو مسترد کرتا ہے اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری قانونی اور بین الاقوامی اقدامات کرنے کے لیے عرب اتفاق رائے پر زور دیتا ہے۔


ذرائع نے انکشاف کیا کہ سربراہی اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں پر بھی بات کی جائے گی اور جنگ بندی معاہدے کی تکمیل اور کسی بھی نوعیت کی خلاف ورزی کو روکنے کی حمایت کی جائے گی۔


دریں اثنائ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے فلسطینی کاز کے تسلسل پر کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کرنے کے لیے عرب اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی سرزمین پر باقی رہیں اور ان کے حق خود ارادیت سے محروم نہ ہوں۔


جمعرات کو لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے ہیڈکوارٹر میں فلسطینی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد مصطفیٰ سے ملاقت کے دوران، ابو الغیط نے کہا کہ اس مرحلے پر جس چیز کی ضرورت ہے وہ جنگ بندی کو مستحکم کرنا، فوری امدادی امداد پہنچانے کے لیے کام کرنا اور آبادی کو بتدریج معمول پر لانے کے لیے منصوبہ بندی کرنے میں مدد کرنا ہے۔


عرب لیگ کے ترجمان جمال رشدی نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے آبادی کے رضاکارانہ انخلائ کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات اسرائیلی منصوبے اور اس کے اہداف کی نوعیت کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے س بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام رضاکارانہ یا جبری انخلائ کے بہانے دوسری بار نکبہ کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔



جرمن چانسلر کی یوکرین کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسی پر تنقید

 




جرمن چانسلر اولاف شولز نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


جرمن میڈیا نیٹ ورک ’ڈوئچےلینڈ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اولاف شولز نے ٹرمپ کے ان بیانات پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا، جن میں انہوں نے بڑے پیمانے پر امریکی امداد کے بدلے یوکرین میں قیمتی خام مال تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔


انہوں نے کہا کہ"یوکرین حملے کی زد میں ہے اور ہم بغیر معاوضے کے اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ سب کا موقف ہونا چاہیے"۔


شولز نے اس سے قبل برسلز میں یورپی یونین کے غیر رسمی سربراہی اجلاس کے بعد کہا تھا کہ اس طرح کا مطالبہ "انتہائی خود غرضی پر مبنی ہو گا۔"


ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ وہ یورپی یونین سے درآمدات پر محصولات عائد کرنا چاہتے ہیں جس پر شولز نے دوبارہ تنقید کرتے ہوئے کہاکہ"عالمی معیشت کو کم تجارتی رکاوٹوں کی ضرورت ہے، رکاوٹوں میں اضافے کی نہیں"۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو "یورپی کمیشن گھنٹوں“ میں جواب دے سکتا ہے"۔


شولز نے کہا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ امریکہ جرمنی کا سب سے اہم اتحادی ہے۔


اس کے برعکس شولز نے کہا کہ وہ یورپی یونین کے سب سے بڑے ملک کے چانسلر کے طور پر اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ جب ڈنمارک جیسے چھوٹے ملک کو چیلنج کیا گیا تو گرین لینڈ پر قبضے کے لیے ٹرمپ کی دھمکیوں کےخلاف کھڑے ہو گے"۔


’عآپ کو فتحیاب کرانا ہماری ذمہ داری نہیں‘:کانگریس

 







دہلی کے اقتدار سے عآپ کی بے دخلی کا ذمہ دار کئی لوگ کانگریس کو ٹھہرا رہے ہیں۔ کچھ اپوزیشن لیڈران نے ایسے بیانات بھی دیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عا?پ کے تئیں کانگریس کی بے رخی نے بی جے پی کو حکومت سازی کا موقع فراہم کر دیا۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر فاروق عبداللہ نے تو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہاں تک لکھ دیا کہ ”اور لڑو ا?پس میں۔“ کانگریس نے ایسے ناقدین کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عآپ کو فتحیاب کرانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔


کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہلی اسمبلی انتخاب میں عآپ کی شکست کے لیے کانگریس ذمہ دار نہیں ہے۔ انھوں نے بغیر کسی لاگ لپیٹ کے دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ”عآپ کو جتانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم وہاں زور لگائیں گے جہاں ہمارے پاس سیاسی امکانات ہیں اور انھیں جیتنے کی کوشش کریں گے۔“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”آخر ہم دہلی میں 15 سالوں تک اقتدار میں رہے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک مضبوط مہم چلائیں اور ہر انتخاب کو پوری طاقت سے لڑیں۔“


عآپ سے اتحاد نہ ہو پانے سے متعلق کانگریس پر اٹھائے جا رہے سوالات کے درمیان سپریا شرینیت نے کہا کہ عآپ نے بھی کچھ ایسی ریاستوں میں تنہا انتخاب لڑا جہاں کانگریس سے اتحاد ہوتا تو نتیجے کچھ الگ ہوتے۔ عآپ کو ایسی ریاستوں میں امیدوار نہیں اتارنے چاہیے تھے جہاں مقابلہ براہ راست کانگریس اور بی جے پی کے درمیان تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ”کیجریوال گوا، ہریانہ، گجرات اور اتراکھنڈ گئے، وہاں انتخاب لڑا۔ گوا اور اتراکھنڈ میں بی جے پی اور ہمارے درمیان کے ووٹ شیئر کا فرق اتنا ہی تھا جتنا عآپ نے حاصل کیا۔“



کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے بھی عآپ کی شکست پر ایک طبقہ کی ہمدردی کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ”نام نہاد لبرل طبقہ کا پگھلاو¿ بالکل عجیب ہے۔ جب عآپ گوا، گجرات، ہریانہ وغیرہ میں الیکشن لڑنے اور فرقہ واریت مخالف و سیکولر ووٹوں کو کمزور کرنے کے لیے گئی تو انھوں نے اپوزیشن اتحاد کو لے کر عآپ کو یہ لیکچر نہیں دیا تھا۔“ یہ تبصرہ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا ہے۔ انھوں نے اس پوسٹ میں مزید کہا ہے کہ ”دہلی انتخابی نتائج اس ٹروجن ہارس کو مسترد کرنے والا ہے جس نے پورے ملک میں لبرل تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔“ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ”لبرل طبقہ کی اکثریت بلاشبہ اس چہرے کے زوال کی خوشی کا اظہار کر رہی ہے، تاکہ لبرل اقدار کی حقیقی چمپئن کانگریس آگے چل کر بی جے پی کو شکست دے اور مضبوطی کے ساتھ ابھرے۔“




دہلی اسمبلی انتخاب کے نتائج پر دہلی کانگریس صدر اور بادلی اسمبلی حلقہ سے پارٹی امیدوار دیویندر یادو نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”دہلی اسمبلی انتخاب کے نتائج واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ کیجریوال کے جھوٹ اور دھوکے کی سیاست کو دہلی کی عوام مسترد کر چکی ہے۔“ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ ”کانگریس کے سبھی سپاہیوں نے انصاف کی لڑائی بے حد مضبوطی کے ساتھ لڑی، لیکن نتائج ہمارے حق میں نہیں آئے۔ ہم اپنی خامیوں اور غلطیوں کا تجزیہ کریں گے اور دہلی کی عوام کی خدمت کا عمل مستقل جاری رہیں گے۔ دہلی والوں کے ساتھ ہر لمحہ کھڑے رہیں گے۔“



دہلی اسمبلی انتخاب میں ہار کر بھی جیت گئی کانگریس، عآپ کو بتا دی اپنی اہمیت

 







دہلی اسمبلی انتخاب میں 27 سال بعد بی جے پی اقتدار میں واپس آئی ہے۔ عام آدمی پارٹی 11 سال بعد حکومت سے باہر ہوئی ہے، جب کہ کانگریس شیلا دکشت کی حکومت کے خاتمے کے بعد تیسری دفعہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی۔ حالانکہ اس مرتبہ کانگریس کے کئی لیڈران پارٹی کی کارکردگی سے خوش ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شکست کے باوجود بھی کانگریس کارکنان اور لیڈران کیوں خوش ہیں؟ الکا لامبا سے لے کر سندیپ دکشت تک کھلے طور پر کہہ رہے ہیں کہ کانگریس اس اسمبلی انتخاب میں بازیگر بن کر سامنے آئی ہے۔ آئیے ذیل میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی کی شکست کو کانگریس اپنی جیت کے طور پر کس طرح دیکھ رہی ہے؟


اگر اسمبلی انتخاب کے نتائج کو دیکھا جائے تو عام آدمی پارٹی کے سرکردہ لیڈران کو کانگریس کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کو اپنی سیٹ پر جتنے ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے زیادہ ووٹ کانگریس امیدوار نے حاصل کیے ہیں۔ ایسا صرف 2 سیٹوں پر نہیں ہوا ہے بلکہ کم و بیش ایک درجن ایسی سیٹیں ہیں جہاں پر عام آدمی پارٹی کی شکست کی وجہ کانگریس بنی ہے۔ اگر کانگریس اور عام آدمی پارٹی متحد ہوکر انتخابی میدان میں آتی تو نتائج کچھ اور ہی ہوتے۔ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان صرف 2 فیصد ووٹوں کا ہی فرق ہے جب کہ کانگریس کا ووٹ 6 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔



دہلی اسمبلی انتخاب 2025 میں کانگریس کے ووٹ فیصد میں بھی خاصا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ 2020 میں جہاں کانگریس کو 4.5 فیصد ووٹ ملے تھے وہیں اس انتخاب میں 6.34 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ دہلی کے 2025 اسمبلی انتخاب میں کانگریس کے اضافی 2 فیصد ووٹ کی وجہ سے ہی عام آدمی پارٹی کو اقتدار سے باہر رہنا پڑا۔ دہلی میں کانگریس کو 2013 میں حکومت سے ہٹا کر عام آدمی پارٹی نے اپنا قبضہ جمایا اور 11 سالوں تک راج کیا۔ کانگریس کی زمین پر عام آدمی پارٹی نے نہ صرف دہلی بلکہ پنجاب اور گجرات میں بھی قبضہ کر لیا۔ عام آدمی پارٹی کے سیاسی عروج کے بعد سے ہی دہلی میں کانگریس کافی کمزور ہو گئی تھی۔ اب جب کہ حکومت سے عا?پ دور ہو چکی ہے تو کانگریس کو دہلی میں اپنا پیر جمانے کا دوبارہ موقع ملا ہے۔ کانگریس لیڈران کا یہ ماننا ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے عآپ کمزور ہوگی جس کا براہ راست فائدہ کانگریس پارٹی کو ہوگا۔ کانگریس کو امید ہے کہ آنے والے انتخابات میں اقلیتی اور دلت طبقے کا ووٹ عآپ سے پھر کانگریس کی طرف واپس آ جائے گا۔ کیونکہ اقلیتی طبقہ کی پہلی پسند کانگریس پارٹی ہی رہی ہے۔


دہلی اسمبلی انتخاب میں اگر کانگریس اور عام آدمی پارٹی متحد ہو کر انتخاب لڑتی تو پھر بی جے پی کا اقتدار میں آنا ناممکن ہو جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہلی اسمبلی انتخاب میں عام آدمی پارٹی کو 43.57 فیصد ووٹ ملے ہیں جب کہ بی جے پی کو 45.56 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ کانگریس کو 6.34 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو ملے ووٹ شیئر کو جوڑنے پر یہ 49.91 فیصد ہو رہا ہے۔ اس طرح بی جے پی سے تقریباً 4 فیصد ووٹ زیادہ ہو رہا ہے۔ اس سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو کانگریس سے اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ کافی مہنگا پڑا ہے۔



قابل ذکر ہے کہ دہلی اسمبلی انتخاب میں شکست کے باوجود کانگریس نے جس طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اس کا اثر دیگر ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کوئی بھی علاقائی پارٹی کانگریس کو نظر انداز کرنے کا خطرہ نہیں اٹھا سکتی ہے۔ بہار اور یوپی سمیت کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں کانگریس وہاں کی علاقائی پارٹیوں سے اتحاد کر کے انتخاب لڑتی ہے، وہ اب کانگریس کو ہلکے میں نہیں لیں گی۔ خصوصاً یوپی اور بہار میں سماجوادی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کو کانگریس کی اشد ضرورت ہے۔ اگر وہ بھی عام آدمی پارٹی کی طرح کانگریس کو نظر انداز کرنے کی کوشش کریں گی تو انہیں بھی عآپ کی طرح خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔



کیجریوال کی شکست پر یوگیندر یادو، کمار وشواس سے لے کر انّا ہزراے تک نے دیا اپنا رد عمل، آئیے جانیں کس نے کیا کہا!

 






دہلی اسمبلی انتخاب میں کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کی شکست پر کیجریوال کے پرانے ساتھیوں کا بیان سامنے آیا ہے۔ یہ وہ ساتھی ہیں جنہوں نے کیجریوال کے ساتھ ’انّا تحریک‘ میں قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر چلے تھے۔ پھر اختلافات کی وجہ سے یکے بعد دیگرے سب کیجریوال اور عام آدمی پارٹی سے الگ ہو گئے۔ یوگیندر یادو نے دہلی اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی جیت اور عام آدمی پارٹی کی شکست پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو جاری کر کہا کہ ”دہلی کے عوام نے واضح مینڈیٹ دیا ہے۔ کیجریوال اور سسودیا اپنے انتخاب ہار چکے ہیں۔ اس نتیجہ کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ دھکا ہے، سبق ہے اور امکانات بھی ہیں۔“



یوگیندر یادو نے آگے کہا کہ ”یہ دھکا عام آدمی پارٹی کے لیے نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو متبادل سیاست کے امکانات دیکھ رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ تھوڑے فرق سے ہارے ہیں۔ لیکن جب سرکردہ لیڈران کی انتخاب میں شکست ہوتی ہے تو یہ شکست سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہ عام آدمی پارٹی کے لیے سبق سے زیادہ ہے۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ”بی جے پی اب عام آدمی پارٹی کی شکست سے مطمئن نہیں ہے وہ اب پارٹی کو توڑنے کی کوشش کرے گی۔ ایسے میں حامیوں کو اصولوں پر قائم رہنا ہوگا لیکن جو پارٹی اسے چھوڑ چکی وہ کیسے بچے گی یہ بڑا سوال ہے۔“ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ”یہ اپوزیشن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ یہ بدلہ لینے کا وقت نہیں ہے۔“




کیجریوال کی شکست پر ان کے پرانے ساتھ کمار وشواس نے کہا کہ ”میں بی جے پی کو جیت کی مبارک باد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ دہلی کے لیے کام کریں گے۔ مجھے ایسے شخص سے کوئی ہمدردی نہیں ہے جس نے عآپ پارٹی کے کارکنان کے خوابوں کو کچل دیا۔ دہلی اب اس سے آزاد ہو چکی ہے۔ اس نے ان خوابوں کا استعمال اپنی ذاتی خواہشات کے لیے کیا۔ آج انصاف ہوا ہے۔“ وہیں سماجی کارکن انّا ہزارے نے کہا کہ ”میں طویل عرصے سے کہتا رہا ہوں کہ انتخاب لڑتے وقت امیدوار کا طرز عمل، خیال اور کردار پاکیزہ ہونا چاہیے یہ شراب پالیسی میں ملوث رہے، ان کی شبیہ خراب رہی، اس وجہ سے انہیں کم ووٹ ملے ہیں۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ”مجھے اس سے بہت امید تھی۔ میں نے اسے بہت سارا پیار دیا تھا، لیکن وہ راستہ چھوڑ گئے۔“

دہلی میں عام آدمی پارٹی کی ہار پر ’انّا تحریک‘ کے اہم چہرہ رہے مفتی شمعون قاسمی نے کہا کہ ”دہلی میں بی جے پی کی جیت ترقی کی سیاست کی جیت ہے۔ آج جھوٹ اور خوشامد کی سیاست کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ دہلی کے لوگوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ترقیاتی پالیسیوں پر بھروسہ کیا۔“