Sunday, 9 February 2025

مرکزی حکومت نے امریکی پالیسیوں کے آگے ملک کی عزت کو گروی رکھ دیا : ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ

 





غیر مقیم بھارتیوں کے مسئلے پر کانگریس کا احتجاج، مودی اور ٹرمپ کے پتلے نذر آتش

پٹنہ، 9 فروری :امریکی حکومت کی جانب سے غیر مقیم بھارتیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، انہیں زنجیروں میں جکڑ کر کارگو طیاروں کے ذریعے بھارت بھیجنے کے خلاف بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ کی قیادت میں انکم ٹیکس چوراہے پر کانگریس کارکنان نے مرکزی حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پتلے نذر آتش کیے گئے۔احتجاج کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ نے کہا کہ کمزور قیادت والی این ڈی اے حکومت کے سربراہ نریندر مودی، غیر مقیم بھارتیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، ہر موضوع پر بیان دینے والے وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی اس معاملے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خود کو وشو گرو کہنے والی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے بھارتی شہریوں کے وقار کو اپنے امریکی دوست ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے گروی رکھ دیا ہے۔ بھارتی شہریوں کو کارگو طیاروں میں زنجیروں سے باندھ کر بھارت بھیجنے کا یہ غیر انسانی طریقہ قطعی ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دنیا بھر میں گھومتے ہیں، لاکھوں روپے کے تحائف دیتے ہیں اور تقریبات کے ذریعے اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب امریکی حکومت بھی بھارت کے ساتھ دوسرے درجے کا نہیں بلکہ اس سے بھی کمتر سلوک کر رہی ہے۔ "نمستے ٹرمپ" اور "ہاو¿ڈی مودی" جیسے شاندار پروگراموں پر بھارتی عوام کی کمائی کے کروڑوں روپے خرچ کرنے والے، اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے ایک عام طیارہ تک فراہم نہیں کر سکے۔ وزیر خارجہ جے شنکر کا یہ کہنا کہ "یہ امریکی پالیسی ہے"، صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ حکومت صرف خود کو مضبوط دکھانے کے لیے عالمی تقریبات کا سہارا لے رہی ہے، جبکہ عالمی سیاست میں ناکام ثابت ہو چکی ہے۔کانگریس پارٹی نے پورے ملک میں اس مسئلے پر مظاہرے کیے اور بہار کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔

احتجاجی مظاہرے میں ریاستی صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ کے علاوہ سابق ریاستی صدر ڈاکٹر مدن موہن جھا، پروفیسر رام جتن سنہا، پریم چندر مشرا، وینا شاہی، ایم ایل اے وجے شنکر دوبے، پرتیمہ کماری داس، عابد الرحمن، نیتو سنگھ، برجیش پانڈے، راجیش راٹھوڑ، لال بابو لال، برجیش پرساد مونن، امیتا بھوشن، راج کمار راجن، سروت جہاں فاطمہ، آنند مادھو، ڈاکٹر سنیہاشیش وردھن پانڈے، ڈاکٹر سنجے یادو، سوربھ سنہا، ندھی پانڈے، منوج کمار سنگھ، انیل کمار، کمار آشیش، چندر پرکاش سنگھ، ناگندر کمار وکل، رامائن یادو، آشوتوش شرما، پروفیسر ونود کمار، راج کشور سنگھ، روشنی جیسوال، گنجن پٹیل، سنجے پانڈے، منت رحمانی، ششی رنجن، آصف غفور، سدیہ شرما، محمد کامران، مرنال انامی، روی گولڈن، دھننجے شرما، متھیلیش شرما مدھوکر، اشوک گگن، رمیش رام، وملیش تیواری، للن یادو، ستیندر کمار سنگھ، سنتوش سریواستو، وسی اختر، گرجیت سنگھ، سومت کمار سنی، سدھارتھ کشتریہ، رما شنکر پانڈے، ندیم انصاری، ارملا سنگھ نیلو، پردیومن یادو، آدتیہ پاسوان، وشال رنجن، شریف رنگریز، روی کمار، راہل کمار مشرا، گردیال سنگھ سمیت سینکڑوں کانگریس کارکنان موجود تھے۔


Saturday, 8 February 2025

سعودی عرب کے خلاف اسرائیلی بیان پر مصر کی جانب سے شدید مذمت

 





مصر نے سعودی عرب کے خلاف اسرائیلی بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے حد سے تجاوز اور نا قابل قبول قرار دیا ہے۔ مصر نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی سرخ لکیر ہے جس کو نقصان پہنچانے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔


مصری وزارت خارجہ نے آج ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف اسرائیل کے غیر ذمے دارانہ بیان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اور اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیز بیان میں سعودی اراضی پر فلسطینی ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ بیان سعودی عرب کی خود مختاری پر براہ راست حملے کے مترادف ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


مصری وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور اس کی خود مختاری کا احترام "سرخ لکیر" ہے اور مصر اسے گزند پہنچانے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔



مصر کا کہنا ہے کہ مملکت سعودی عرب کا استحکام اور قومی سلامتی مصر اور عرب ممالک کی سلامتی و استحکام کا حصہ ہے جس کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ اسرائیل کا یہ بیان سعودی عرب کی خود مختاری اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق پر حملہ ہے۔


مصر نے باور کرایا ہے کہ وہ اس طرح کے غیر ذمے دارانہ بیانات کے خلاف پوری طرح سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ... اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا جائے۔


واضح رہے کہ اس سے قبل با خبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ رواں ماہ فروری کے اواخر میں قاہرہ میں عرب لیگ کا ایک ہنگامی سربراہ اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے عرب وزرائے خارجہ کے بیچ کثیر مشاورت جاری ہے۔ اجلاس میں فلسطینیوں کی جبری ہجرت کی کوششوں اور منصوبوں کے حوالے سے ایک یکساں موقف پیش کیا جائے گا۔


مصری وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین کی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کے لیے سعودی عرب، امارات، کویت، سلطنت عمان، بحرین، اردن، عراق، الجزائر، تونس، موریتانیا اور سوڈان کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔ ساتھ ہی فسلطینی عوام کو ان کی سرزمین سے ہجرت پر مجبور کرنے یا فلسطینی اراضی کے باہر دوسرے ممالک منتقل کرنے کے حوالے سے کسی بھی اقدام کو مسترد کرنے کے سلسلے میں دو ٹوک موقف کو دہرایا۔



کیمائی ہتھیار : واچ ڈاگ ادارے کے سربراہ کی شام آمد، احمد الشرع سے ملاقات

 






کیمیائی ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے والے بعض ملکوں پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کے سربراہ کی ہفتے کے روز شام آمد ہوئی ہے۔ اس خطے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ خانہ جنگی کے برسوں میں بشارالاسد نے دمشق کے مضافات میں غوطہ کے علاقے میں ان ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا اور حالیہ اسرائیلی غزہ جنگ میں اسرائیل پر یہ الزام لگایا گیا ہے۔ جس سے امریکی حساس اداروں کے مطابق غوطہ میں 1000 کے قریب لوگ مارے گئے تھے۔


بشارالاسد کی اقتدار سے محرومی کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کے عالمی ' واچ ڈاگ ' ادارے کے سربراہ کا شام کا یہ پہلا دورہ ہے۔ جہاں ان کی نئے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات ہوئی ہے۔


دس سال بعد شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل مکمل کر لیا گیا تھا۔ تاہم بشارالاسد کے مخالفین ان پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ اب بھی شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا ایک حصہ موجود ہے۔


بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی یہ واچ ڈاگ شام کو انہی نظروں سے دیکھتا ہے۔ شام کے ایوان صدر میں ہفتے کے روز 'فرنینڈو ایریاس' کے زیر قیادت وفد نے احمد الشرع سے ملاقات کی اور اپنی سرگرمیوں سے متعلق اہداف کا ذکر کیا۔


بین الاقوامی ادارے 'او پی سی ڈبلیو' کے وفد نے اس موقع پر اس خدشے کا اظہارکیا ہے کہ شام پر اسرائیل کے حالیہ شدید حملوں سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے متعلق قیمتی شواہد تباہ ہو سکتے ہیں۔


بمباری کے ہدف میں شام کے کیمیائی ہتھیار شامل تھے۔ واضح رہے کئی سال پہلے عراق پر امریکہ نے بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تباہی کے لیے حملہ کیا تھا۔



حماس نے 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے

 






 


حماس نے 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے


مزاحمتی تحریک حماس نے سنیچر کے روز 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کو تین اسرائیلی یرغمالی موصول ہوئے جنہیں اسرائیل منتقلی کی تیاری کی گئی تھی۔ دوسری طرف اسرائیلی جیل انتظامیہ نے عوفر جیل سے فلسطینیوں کی رہائی کا عمل شروع کرنے کا کہا۔


ہفتے کے روز حماس اور اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر قیدیوں اور یرغمالیوں کی پانچویں کھیپ کا تبادلہ کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے امریکہ کی جانب سے غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے بیان کے بعد حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔


حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ٹیلی گرام پیج پر بتایا کہ رہائی پانے والے قیدیوں میں لیاہو شرابی، اور لیوی اور اوھاد بن عامی شامل ہیں۔ حماس نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل آج 183 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں سے 18 کو عمر قید، 54 قیدیوں کو سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان میں غزہ کی پٹی کے 111 ایسے قیدی بھی شامل ہیں جنہیں سات اکتوبر 2023 کو حملے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔


پانچویں کھیپ

"العربیہ" کے نجی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی پانچویں قسط میں ہفتہ کو رہا کیے جانے والے قیدیوں کے نام جمع کرانے میں تاخیر ہو سکتی ہے جو اسرائیل اور حماس کی طرف سے ثالثوں کے لیے ایک پیغام ہے۔


دریں اثنا اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے جمعہ کے روز کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے ایک اسرائیلی وفد کل بروز ہفتہ کو قطری دارالحکومت دوحہ جائے گا۔


رہائی پانے والے قیدیوں میں لیاہو شرابی، اور لیوی اور اوھاد بن عامی شامل ہیں

ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ حماس نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل نے منظور شدہ انسانی پروٹوکول کی پاسداری نہیں کی۔ خاص طور پر موبائل گھروں، خیموں اور ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری سامان لانے، ہسپتالوں کی بحالی اور ایندھن فراہم کرنے کے حوالے سے پروٹوکول کا دھیان نہیں رکھا گیا۔ سخت سردی میں شہریوں اور بے گھر ہونے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔


ذرائع نے مزید کہا کہ حماس نے ثالثوں بالخصوص مصر اور قطر سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کریں اور اسرائیل پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ ایسے وقت میں جب اسرائیل اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مسلسل تاخیر کر رہا ہے۔


تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے معاہدے میں لڑائی کے خاتمے اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیل کا انخلا طے کیا گیا تھا۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری ہے۔ اس میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 1,900 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی بات کی گئی ہے۔



ہمارا موقف اٹل ہے، غزہ سے فلسطینیوں کو جلا وطن کرنا ناممکن": مصر نے امریکہ کو آگاہ کردیا

 







مصرنے غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلائ سے متعلق تجاویز سامنے آنے کے بعد امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں جواب دیا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی ہر گز ممکن نہیں۔


العربیہ اور الحدث چینلز نے اطلاع دی ہے کہ مصر نے امریکہ کو غزہ کی پٹی کے مکینوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کے ناممکن ہونے کے بارے میں مطلع کیا ہے۔ قاہرہ نے باور کرایا غزہ کے باشندوں کو بے گھر کرنے سے متعلق اس کا موقف تبدیل نہیں ہوگا۔


ذرائع نے بتایا کہ مصر اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ فلسطینی باشندوں کو بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کا وڑن رکھتا ہے اور غزہ کے باشندوں کو بے گھر کیے بغیر ان کے اندر موجود رہنے پر اصرار کرتا ہے۔


ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مصر اور اسرائیل کے درمیان تقریباً نصف صدی تک جاری رہنے والے امن معاہدے کو اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی کے منصوبے سے خطرہ لاحق ہے۔


مصری حکومت نے جمعرات کو غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کی کوششوں کو بین الاقوامی قانون کی "صاف خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جس سے جنگ بندی مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں تعلقات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔


قاہرہ جو اس تجویز کے خلاف پردے کے پیچھے سفارتی مہم چلا رہا ہے، کا کہنا ہے کہ"یہ طرز عمل جنگ کی طرف واپسی پر اکساتا ہے اور پورے خطے اور امن کی بنیادوں کو خطرات سے دوچار کررہا ہے“۔


مصری حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بند کمرے میں ہونے والی بات چیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ نے ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی تجویز کی مزاحمت کرے گا۔ ایسی تجاویز پر اصرار اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ امن معاہدہ کوخطرے میں ڈالنا ہے۔


ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ پیغام امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون، محکمہ خارجہ اور امریکی کانگریس کے ارکان کو پہنچا دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے اہلکار نے بتایا کہ اسے اسرائیل اور مغربی یورپ میں اس کے اتحادیوں بشمول برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو بھی منتقل کر دیا گیا ہے۔


قاہرہ میں ایک مغربی سفارت کارنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں متعدد چینلز کے ذریعے مصر کی سخت مخالفت کا پیغام ملا ہے۔ سفارت کار نے کہا کہ مصر بہت سنجیدہ ہے اور اس منصوبے کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔


سفارت کار نے کہا کہ مصر نے 7 اکتوبر 2023 کو حما س کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے اوائل میں بائیڈن انتظامیہ اور یورپی ممالک کی طرف سے اسی طرح کی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔


"ہنگامی" عرب سربراہ اجلاس

قبل ازیں باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو انکشاف کیا تھا کہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے چند دنوں کے اندر قاہرہ میں ایک "ہنگامی" عرب سربراہی اجلاس منعقد کرنے کے لیے مشاورت ہو رہی ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ سربراہی اجلاس میں ایک متفقہ عرب فیصلے اور موقف تک پہنچنے پر بات چیت کی جائے گی جو نقل مکانی کو مسترد کرتا ہے اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری قانونی اور بین الاقوامی اقدامات کرنے کے لیے عرب اتفاق رائے پر زور دیتا ہے۔


ذرائع نے انکشاف کیا کہ سربراہی اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں پر بھی بات کی جائے گی اور جنگ بندی معاہدے کی تکمیل اور کسی بھی نوعیت کی خلاف ورزی کو روکنے کی حمایت کی جائے گی۔


دریں اثنائ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے فلسطینی کاز کے تسلسل پر کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کرنے کے لیے عرب اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی سرزمین پر باقی رہیں اور ان کے حق خود ارادیت سے محروم نہ ہوں۔


جمعرات کو لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے ہیڈکوارٹر میں فلسطینی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد مصطفیٰ سے ملاقت کے دوران، ابو الغیط نے کہا کہ اس مرحلے پر جس چیز کی ضرورت ہے وہ جنگ بندی کو مستحکم کرنا، فوری امدادی امداد پہنچانے کے لیے کام کرنا اور آبادی کو بتدریج معمول پر لانے کے لیے منصوبہ بندی کرنے میں مدد کرنا ہے۔


عرب لیگ کے ترجمان جمال رشدی نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے آبادی کے رضاکارانہ انخلائ کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات اسرائیلی منصوبے اور اس کے اہداف کی نوعیت کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے س بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام رضاکارانہ یا جبری انخلائ کے بہانے دوسری بار نکبہ کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔



جرمن چانسلر کی یوکرین کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسی پر تنقید

 




جرمن چانسلر اولاف شولز نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


جرمن میڈیا نیٹ ورک ’ڈوئچےلینڈ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اولاف شولز نے ٹرمپ کے ان بیانات پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا، جن میں انہوں نے بڑے پیمانے پر امریکی امداد کے بدلے یوکرین میں قیمتی خام مال تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔


انہوں نے کہا کہ"یوکرین حملے کی زد میں ہے اور ہم بغیر معاوضے کے اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ سب کا موقف ہونا چاہیے"۔


شولز نے اس سے قبل برسلز میں یورپی یونین کے غیر رسمی سربراہی اجلاس کے بعد کہا تھا کہ اس طرح کا مطالبہ "انتہائی خود غرضی پر مبنی ہو گا۔"


ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ وہ یورپی یونین سے درآمدات پر محصولات عائد کرنا چاہتے ہیں جس پر شولز نے دوبارہ تنقید کرتے ہوئے کہاکہ"عالمی معیشت کو کم تجارتی رکاوٹوں کی ضرورت ہے، رکاوٹوں میں اضافے کی نہیں"۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو "یورپی کمیشن گھنٹوں“ میں جواب دے سکتا ہے"۔


شولز نے کہا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ امریکہ جرمنی کا سب سے اہم اتحادی ہے۔


اس کے برعکس شولز نے کہا کہ وہ یورپی یونین کے سب سے بڑے ملک کے چانسلر کے طور پر اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ جب ڈنمارک جیسے چھوٹے ملک کو چیلنج کیا گیا تو گرین لینڈ پر قبضے کے لیے ٹرمپ کی دھمکیوں کےخلاف کھڑے ہو گے"۔


’عآپ کو فتحیاب کرانا ہماری ذمہ داری نہیں‘:کانگریس

 







دہلی کے اقتدار سے عآپ کی بے دخلی کا ذمہ دار کئی لوگ کانگریس کو ٹھہرا رہے ہیں۔ کچھ اپوزیشن لیڈران نے ایسے بیانات بھی دیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عا?پ کے تئیں کانگریس کی بے رخی نے بی جے پی کو حکومت سازی کا موقع فراہم کر دیا۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر فاروق عبداللہ نے تو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہاں تک لکھ دیا کہ ”اور لڑو ا?پس میں۔“ کانگریس نے ایسے ناقدین کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عآپ کو فتحیاب کرانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔


کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہلی اسمبلی انتخاب میں عآپ کی شکست کے لیے کانگریس ذمہ دار نہیں ہے۔ انھوں نے بغیر کسی لاگ لپیٹ کے دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ”عآپ کو جتانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم وہاں زور لگائیں گے جہاں ہمارے پاس سیاسی امکانات ہیں اور انھیں جیتنے کی کوشش کریں گے۔“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”آخر ہم دہلی میں 15 سالوں تک اقتدار میں رہے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک مضبوط مہم چلائیں اور ہر انتخاب کو پوری طاقت سے لڑیں۔“


عآپ سے اتحاد نہ ہو پانے سے متعلق کانگریس پر اٹھائے جا رہے سوالات کے درمیان سپریا شرینیت نے کہا کہ عآپ نے بھی کچھ ایسی ریاستوں میں تنہا انتخاب لڑا جہاں کانگریس سے اتحاد ہوتا تو نتیجے کچھ الگ ہوتے۔ عآپ کو ایسی ریاستوں میں امیدوار نہیں اتارنے چاہیے تھے جہاں مقابلہ براہ راست کانگریس اور بی جے پی کے درمیان تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ”کیجریوال گوا، ہریانہ، گجرات اور اتراکھنڈ گئے، وہاں انتخاب لڑا۔ گوا اور اتراکھنڈ میں بی جے پی اور ہمارے درمیان کے ووٹ شیئر کا فرق اتنا ہی تھا جتنا عآپ نے حاصل کیا۔“



کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے بھی عآپ کی شکست پر ایک طبقہ کی ہمدردی کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ”نام نہاد لبرل طبقہ کا پگھلاو¿ بالکل عجیب ہے۔ جب عآپ گوا، گجرات، ہریانہ وغیرہ میں الیکشن لڑنے اور فرقہ واریت مخالف و سیکولر ووٹوں کو کمزور کرنے کے لیے گئی تو انھوں نے اپوزیشن اتحاد کو لے کر عآپ کو یہ لیکچر نہیں دیا تھا۔“ یہ تبصرہ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا ہے۔ انھوں نے اس پوسٹ میں مزید کہا ہے کہ ”دہلی انتخابی نتائج اس ٹروجن ہارس کو مسترد کرنے والا ہے جس نے پورے ملک میں لبرل تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔“ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ”لبرل طبقہ کی اکثریت بلاشبہ اس چہرے کے زوال کی خوشی کا اظہار کر رہی ہے، تاکہ لبرل اقدار کی حقیقی چمپئن کانگریس آگے چل کر بی جے پی کو شکست دے اور مضبوطی کے ساتھ ابھرے۔“




دہلی اسمبلی انتخاب کے نتائج پر دہلی کانگریس صدر اور بادلی اسمبلی حلقہ سے پارٹی امیدوار دیویندر یادو نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”دہلی اسمبلی انتخاب کے نتائج واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ کیجریوال کے جھوٹ اور دھوکے کی سیاست کو دہلی کی عوام مسترد کر چکی ہے۔“ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ ”کانگریس کے سبھی سپاہیوں نے انصاف کی لڑائی بے حد مضبوطی کے ساتھ لڑی، لیکن نتائج ہمارے حق میں نہیں آئے۔ ہم اپنی خامیوں اور غلطیوں کا تجزیہ کریں گے اور دہلی کی عوام کی خدمت کا عمل مستقل جاری رہیں گے۔ دہلی والوں کے ساتھ ہر لمحہ کھڑے رہیں گے۔“



دہلی اسمبلی انتخاب میں ہار کر بھی جیت گئی کانگریس، عآپ کو بتا دی اپنی اہمیت

 







دہلی اسمبلی انتخاب میں 27 سال بعد بی جے پی اقتدار میں واپس آئی ہے۔ عام آدمی پارٹی 11 سال بعد حکومت سے باہر ہوئی ہے، جب کہ کانگریس شیلا دکشت کی حکومت کے خاتمے کے بعد تیسری دفعہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی۔ حالانکہ اس مرتبہ کانگریس کے کئی لیڈران پارٹی کی کارکردگی سے خوش ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شکست کے باوجود بھی کانگریس کارکنان اور لیڈران کیوں خوش ہیں؟ الکا لامبا سے لے کر سندیپ دکشت تک کھلے طور پر کہہ رہے ہیں کہ کانگریس اس اسمبلی انتخاب میں بازیگر بن کر سامنے آئی ہے۔ آئیے ذیل میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی کی شکست کو کانگریس اپنی جیت کے طور پر کس طرح دیکھ رہی ہے؟


اگر اسمبلی انتخاب کے نتائج کو دیکھا جائے تو عام آدمی پارٹی کے سرکردہ لیڈران کو کانگریس کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کو اپنی سیٹ پر جتنے ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے زیادہ ووٹ کانگریس امیدوار نے حاصل کیے ہیں۔ ایسا صرف 2 سیٹوں پر نہیں ہوا ہے بلکہ کم و بیش ایک درجن ایسی سیٹیں ہیں جہاں پر عام آدمی پارٹی کی شکست کی وجہ کانگریس بنی ہے۔ اگر کانگریس اور عام آدمی پارٹی متحد ہوکر انتخابی میدان میں آتی تو نتائج کچھ اور ہی ہوتے۔ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان صرف 2 فیصد ووٹوں کا ہی فرق ہے جب کہ کانگریس کا ووٹ 6 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔



دہلی اسمبلی انتخاب 2025 میں کانگریس کے ووٹ فیصد میں بھی خاصا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ 2020 میں جہاں کانگریس کو 4.5 فیصد ووٹ ملے تھے وہیں اس انتخاب میں 6.34 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ دہلی کے 2025 اسمبلی انتخاب میں کانگریس کے اضافی 2 فیصد ووٹ کی وجہ سے ہی عام آدمی پارٹی کو اقتدار سے باہر رہنا پڑا۔ دہلی میں کانگریس کو 2013 میں حکومت سے ہٹا کر عام آدمی پارٹی نے اپنا قبضہ جمایا اور 11 سالوں تک راج کیا۔ کانگریس کی زمین پر عام آدمی پارٹی نے نہ صرف دہلی بلکہ پنجاب اور گجرات میں بھی قبضہ کر لیا۔ عام آدمی پارٹی کے سیاسی عروج کے بعد سے ہی دہلی میں کانگریس کافی کمزور ہو گئی تھی۔ اب جب کہ حکومت سے عا?پ دور ہو چکی ہے تو کانگریس کو دہلی میں اپنا پیر جمانے کا دوبارہ موقع ملا ہے۔ کانگریس لیڈران کا یہ ماننا ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے عآپ کمزور ہوگی جس کا براہ راست فائدہ کانگریس پارٹی کو ہوگا۔ کانگریس کو امید ہے کہ آنے والے انتخابات میں اقلیتی اور دلت طبقے کا ووٹ عآپ سے پھر کانگریس کی طرف واپس آ جائے گا۔ کیونکہ اقلیتی طبقہ کی پہلی پسند کانگریس پارٹی ہی رہی ہے۔


دہلی اسمبلی انتخاب میں اگر کانگریس اور عام آدمی پارٹی متحد ہو کر انتخاب لڑتی تو پھر بی جے پی کا اقتدار میں آنا ناممکن ہو جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہلی اسمبلی انتخاب میں عام آدمی پارٹی کو 43.57 فیصد ووٹ ملے ہیں جب کہ بی جے پی کو 45.56 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ کانگریس کو 6.34 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو ملے ووٹ شیئر کو جوڑنے پر یہ 49.91 فیصد ہو رہا ہے۔ اس طرح بی جے پی سے تقریباً 4 فیصد ووٹ زیادہ ہو رہا ہے۔ اس سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو کانگریس سے اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ کافی مہنگا پڑا ہے۔



قابل ذکر ہے کہ دہلی اسمبلی انتخاب میں شکست کے باوجود کانگریس نے جس طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اس کا اثر دیگر ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کوئی بھی علاقائی پارٹی کانگریس کو نظر انداز کرنے کا خطرہ نہیں اٹھا سکتی ہے۔ بہار اور یوپی سمیت کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں کانگریس وہاں کی علاقائی پارٹیوں سے اتحاد کر کے انتخاب لڑتی ہے، وہ اب کانگریس کو ہلکے میں نہیں لیں گی۔ خصوصاً یوپی اور بہار میں سماجوادی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کو کانگریس کی اشد ضرورت ہے۔ اگر وہ بھی عام آدمی پارٹی کی طرح کانگریس کو نظر انداز کرنے کی کوشش کریں گی تو انہیں بھی عآپ کی طرح خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔



کیجریوال کی شکست پر یوگیندر یادو، کمار وشواس سے لے کر انّا ہزراے تک نے دیا اپنا رد عمل، آئیے جانیں کس نے کیا کہا!

 






دہلی اسمبلی انتخاب میں کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کی شکست پر کیجریوال کے پرانے ساتھیوں کا بیان سامنے آیا ہے۔ یہ وہ ساتھی ہیں جنہوں نے کیجریوال کے ساتھ ’انّا تحریک‘ میں قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر چلے تھے۔ پھر اختلافات کی وجہ سے یکے بعد دیگرے سب کیجریوال اور عام آدمی پارٹی سے الگ ہو گئے۔ یوگیندر یادو نے دہلی اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی جیت اور عام آدمی پارٹی کی شکست پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو جاری کر کہا کہ ”دہلی کے عوام نے واضح مینڈیٹ دیا ہے۔ کیجریوال اور سسودیا اپنے انتخاب ہار چکے ہیں۔ اس نتیجہ کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ دھکا ہے، سبق ہے اور امکانات بھی ہیں۔“



یوگیندر یادو نے آگے کہا کہ ”یہ دھکا عام آدمی پارٹی کے لیے نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو متبادل سیاست کے امکانات دیکھ رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ تھوڑے فرق سے ہارے ہیں۔ لیکن جب سرکردہ لیڈران کی انتخاب میں شکست ہوتی ہے تو یہ شکست سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہ عام آدمی پارٹی کے لیے سبق سے زیادہ ہے۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ”بی جے پی اب عام آدمی پارٹی کی شکست سے مطمئن نہیں ہے وہ اب پارٹی کو توڑنے کی کوشش کرے گی۔ ایسے میں حامیوں کو اصولوں پر قائم رہنا ہوگا لیکن جو پارٹی اسے چھوڑ چکی وہ کیسے بچے گی یہ بڑا سوال ہے۔“ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ”یہ اپوزیشن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ یہ بدلہ لینے کا وقت نہیں ہے۔“




کیجریوال کی شکست پر ان کے پرانے ساتھ کمار وشواس نے کہا کہ ”میں بی جے پی کو جیت کی مبارک باد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ دہلی کے لیے کام کریں گے۔ مجھے ایسے شخص سے کوئی ہمدردی نہیں ہے جس نے عآپ پارٹی کے کارکنان کے خوابوں کو کچل دیا۔ دہلی اب اس سے آزاد ہو چکی ہے۔ اس نے ان خوابوں کا استعمال اپنی ذاتی خواہشات کے لیے کیا۔ آج انصاف ہوا ہے۔“ وہیں سماجی کارکن انّا ہزارے نے کہا کہ ”میں طویل عرصے سے کہتا رہا ہوں کہ انتخاب لڑتے وقت امیدوار کا طرز عمل، خیال اور کردار پاکیزہ ہونا چاہیے یہ شراب پالیسی میں ملوث رہے، ان کی شبیہ خراب رہی، اس وجہ سے انہیں کم ووٹ ملے ہیں۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ”مجھے اس سے بہت امید تھی۔ میں نے اسے بہت سارا پیار دیا تھا، لیکن وہ راستہ چھوڑ گئے۔“

دہلی میں عام آدمی پارٹی کی ہار پر ’انّا تحریک‘ کے اہم چہرہ رہے مفتی شمعون قاسمی نے کہا کہ ”دہلی میں بی جے پی کی جیت ترقی کی سیاست کی جیت ہے۔ آج جھوٹ اور خوشامد کی سیاست کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ دہلی کے لوگوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ترقیاتی پالیسیوں پر بھروسہ کیا۔“



دہلی سیکریٹریٹ سیل، سرکاری دستاویزات کی حفاظت کے لیے اعلیٰ افسران کو فوری پہنچنے کا حکم

 








نئی دہلی: دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی واضح برتری کے بعد دارالحکومت میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اس دوران جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کی جانب سے ایک اہم حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، جس میں اعلیٰ افسران کو فوری طور پر دہلی سکریٹریٹ پہنچنے اور سرکاری دستاویزات و ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔


جی اے ڈی کے جاری کردہ حکم میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری فائل، کمپیوٹر ہارڈ ویئر یا دیگر مواد کو اجازت کے بغیر سکریٹریٹ سے باہر نہ لے جایا جائے۔ یہ ہدایت تمام متعلقہ محکموں اور برانچوں کے افسران کو دی گئی ہے تاکہ سرکاری ریکارڈ، فائلوں اور الیکٹرانک ڈیٹا کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اس ہدایت کا اطلاق نہ صرف سکریٹریٹ بلکہ وزارتی دفاتر اور کیمپ آفسز پر بھی ہوگا۔



یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ تازہ ترین رجحانات کے مطابق بی جے پی 48 نشستوں پر آگے ہے جبکہ عام آدمی پارٹی 22 نشستوں پر سبقت لے جا رہی ہے۔ اس انتخاب میں عآپ کے کئی سینئر رہنما اپنی نشستیں گنوا چکے ہیں، جن میں پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں۔


اروند کیجریوال کو نئی دہلی اسمبلی نشست پر بی جے پی کے امیدوار پرویش ورما کے ہاتھوں 3186 ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ جنگ پورہ نشست پر بی جے پی کے تروندر سنگھ مارواہ نے منیش سسودیا کو 1844 ووٹوں سے ہرایا۔


دوسری جانب کالکاجی سے عام آدمی پارٹی کی رہنما اور دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی نے کامیابی حاصل کی، جہاں انہوں نے بی جے پی کے رمیش بدھوڑی کو شکست دی۔ اسی طرح کونڈلی اسمبلی سیٹ پر عآپ کے کلدیپ کمار نے جیت درج کی جبکہ کستوربا نگر سے بی جے پی کے نیرج بسویا فاتح رہے۔




راجندر نگر اسمبلی سیٹ پر بھی عام آدمی پارٹی کو جھٹکا لگا، جہاں بی جے پی کے امیدوار امن بجاج نے عآپ کے درگیش پاٹھک کو شکست دی۔ مالویہ نگر سے بی جے پی کے امیدوار نے عام آدمی پارٹی کے سومناتھ بھارتی کو ہرا دیا۔


سیاسی ہلچل کے درمیان، دہلی سکریٹریٹ میں سرکاری ریکارڈ اور ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس حکم کو متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد نافذ کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق کا مقصد کسی بھی ریکارڈ کو غائب کرنے سے بچانا ہے۔



بلّی ماران سے عآپ کے امیدوار عمران حسین کی کامیابی، جیت عوام کے نام وقف کی

 





نئی دہلی: دہلی اسمبلی انتخابات میں بلّی ماران سیٹ سے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے امیدوار عمران حسین نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کمل باگری کو 29,823 ووٹوں کے بڑے فرق سے ہرایا۔


انتخابی کامیابی کے بعد عمران حسین نے بلّی ماران کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ جیت عام لوگوں کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا، "سب سے پہلے بلّی ماران کی عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ جیت بلّی ماران کے لوگوں کی جیت ہے۔ میں اس حمایت کے لیے بلّی ماران کی عوام کا احسان نہیں اتار سکتا۔ یہ جیت ہر بچے، بزرگ، نوجوان اور خاتون کی ہے۔ میں اپنی جیت عام لوگوں کے نام کرتا ہوں۔"



قابل ذکر ہے کہ دہلی اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مکمل اکثریت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے تازہ نتائج کے مطابق، بی جے پی نے اب تک 13 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور 34 سیٹوں پر برتری قائم کیے ہوئے ہے، جس سے اس کی مجموعی تعداد 47 تک پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی (عآپ) نے 11 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور 12 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے، جس سے اسے مجموعی طور پر 23 سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔ کانگریس اس انتخاب میں کوئی سیٹ نہیں جیت پائی۔


عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال نئی دہلی سیٹ سے اور منیش سسودیا جنگ پورہ سیٹ سے شکست کھا گئے ہیں۔ البتہ، وزیر اعلیٰ آتشی نے کالکا جی سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ستیندر جین بھی انتخابات میں ہار گئے ہیں۔ شکست کے بعد کیجریوال نے کہا، "ہم ہار کو قبول کرتے ہیں۔ بی جے پی کو جیت کی مبارکباد۔ عوام نے انہیں اکثریت دی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔"




دہلی اسمبلی انتخاب: مسلم اکثریتی سیٹ مصطفیٰ آباد میں بی جے پی نے کس طرح رقم کی تاریخ، کون بنا عآپ کا دشمن؟

 



دہلی اسمبلی انتخاب میں بی جے پی نے فتح حاصل 
 کر نہ صرف 26 سال بعد حکومت سازی کی طرف قدم بڑھا دیا ہے، بلکہ کچھ اسمبلی سیٹوں پر پارٹی امیدواروں نے حیرت انگیز فتح حاصل کی ہے۔ مسلم اکثریتی سیٹ مصطفیٰ آباد میں تو بی جے پی امیدوار موہن سنگھ بشٹ نے جیت کا پرچم لہرا کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ موہن سنگھ نے اس سیٹ پر عآپ امیدوار عدیل احمد خان کو 17578 ووٹوں سے ہرایا۔


مصطفیٰ آباد سیٹ پر مسلمانوں کی آبادی تقریباً 40 فیصد ہے اور ہندوؤں کی 60 فیصد۔ ہندوؤں میں بھی الگ الگ طبقات ہیں جن کا رجحان الگ الگ پارٹیوں کی طرف رہتا ہے۔ خاص طور سے ٹھاکر اور دلت ووٹرس کی تعداد اس سیٹ پر اچھی خاصی ہے۔ ٹھاکر یہاں تقریباً 12 فیصد اور دلت تقریباً 10 فیصد ہیں۔ اس اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر بی جے پی امیدوار کی کامیابی حیران کرنے والی ضرور ہے، لیکن عآپ کا کھیل بگاڑا کانگریس اور اسدالدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم نے۔



دراصل اے آئی ایم آئی ایم امیدوار محمد طاہر حسین کو 33474 اور کانگریس امیدوار علی مہدی کو 11763 ووٹ ملے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عآپ امیدوار کو طاہر حسین نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا، کیونکہ مسلم ووٹرس طاہر کے تئیں ہمدردی دکھاتے ہوئے کافی حد تک پولرائز ہو گئے۔ پھر بھی بی جے پی امیدوار موہن بشٹ کی اس کامیابی کے لیے مجموعی طور پر 5 بڑی وجوہات سامنے آ رہی ہیں۔ آئیے ان وجوہات پر ایک سرسری نظر ڈالیں۔


امیدوار کے سلیکشن میں احتیاط: مصطفیٰ آباد سیٹ سے جگدیش پردھان بی جے پی کے مضبوط امیدوار تھے، لیکن آخر وقت میں بی جے پی نے یہاں سے موہن سنگھ بشٹ کو میدان میں اتارا۔ بشٹ کراول نگر سے رکن اسمبلی تھے، جن کی سیٹ ہندو لیڈر کپل مشرا کو دے دی گئی۔ بشٹ کا نیٹورک مصطفیٰ آباد سیٹ پر مضبوط رہا ہے۔ بشٹ کی شبیہ زمینی لیڈر کی ہے، جس کا فائدہ انتخاب میں بی جے پی کو ملا۔


طاہر حسین اور اویسی کی انٹری: مصطفیٰ آباد سیٹ سے عآپ نے عدیل احمد خان کو امیدوار بنایا تھا۔ عدیل سابق رکن اسمبلی حسن احمد کے بیٹے ہیں۔ آخری وقت میں اویسی نے یہاں سے طاہر حسین کو اتار دیا۔ طاہر دہلی فسادات کے ملزم ہیں۔ پرچہ داخل کرنے کے بعد طاہر انتخابی تشہیر کے لیے اجازت لینے سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ سے اجازت ملی تو وہ میدان میں اتر گئے۔ طاہر کے میدان میں اترنے سے پورا الیکشن ہندو مقابلہ مسلم ہو گیا، یعنی مسلم ووٹ بڑی تعداد میں طاہر کی طرف چلا گیا۔


پانچ مسلم امیدواروں کا انتخابی میدان میں ہونا: مصطفیٰ آباد سیٹ سے 5 مسلم امیدوار میدان میں اتارے گئے، جس کا خمیازہ سیدھے طور پر عآپ کو اٹھانا پڑا۔ کانگریس کے علی مہدی بھلے چوتھے نمبر پر رہے، لیکن وہ بھی مسلم ووٹوں کا بڑا حصہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ دوسری طرف ایک کو چھوڑ دیا جائے تو کسی بھی ہندو امیدوار کو ایک ہزار سے زیادہ ووٹ نہیں ملے۔


ڈور ٹو ڈور مہم پر توجہ: بی جے پی نے یہاں ڈور ٹو ڈور مہم پر توجہ دی۔ سابق مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر یہاں محاذ سنبھال رہے تھے۔ موہن سنگھ بشٹ کی زمینی پکڑ اور انوراگ کی محاذ بندی کی وجہ سے بی جے پی مسلم اکثریتی مصطفیٰ آباد سیٹ پر بڑی جیت درج کرنے میں کامیاب رہی۔


عآپ کو ٹکٹ بدلنا پڑا بھاری: 2020 میں یہاں پر حاجی یونس نے بی جے پی کے جگدیش پردھان کو ہرا دیا تھا۔ اس مرتبہ عآپ نے یونس کا ٹکٹ بدل کر عدیل کو میدان میں اتار دیا۔ عدیل ہندو ووٹرس میں سیندھ ماری نہیں کر پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سیٹ پر عآپ کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔



حج 2025: سعودی عرب نے ہندوستان سمیت 14 ممالک کے لیے ویزا قوانین میں کی تبدیلی

 







سعودی عرب نے حج 2025 کے پیش نظر ویزا قوانین میں اہم تبدیلیاں کی ہیں، جن کا اثر ہندوستان سمیت 14 ممالک پر پڑے گا۔ نئے قوانین کے تحت ان ممالک کے شہریوں کے لیے ملٹی پل انٹری ویزا کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے، اور اب وہ صرف سنگل انٹری ویزا حاصل کر سکیں گے۔


یہ اقدام غیر قانونی حج کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ ملٹی پل انٹری ویزا رکھنے والے کئی افراد بغیر اجازت حج میں شامل ہو جاتے تھے، جس کی وجہ سے مکہ میں شدید بھیڑ پیدا ہوتی تھی۔ سعودی حکام کے مطابق، اس بھیڑ پر قابو پانے اور حجاج کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔



سعودی عرب کی جانب سے ویزا پالیسی میں کی گئی تبدیلی کا اثر درج ذیل 14 ممالک پر پڑے گا: ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، مصر، الجزائر، مراکش، ایتھوپیا، عراق، اردن، نائجیریا، سوڈان، تیونس، یمن۔


ان ممالک کے شہری اب صرف سنگل انٹری ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جو 30 دن کے لیے کارآمد ہوگا۔ ملٹی پل انٹری ویزا پر پابندی غیر معینہ مدت کے لیے عائد کی گئی ہے، تاہم حج، عمرہ، سفارتی اور رہائشی ویزوں پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔


سعودی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ افراد ملٹی پل انٹری ویزا کے تحت آ کر غیر قانونی طور پر حج یا کام میں مصروف ہو جاتے تھے، جس سے مشکلات بڑھ رہی تھیں۔


ہر سال لاکھوں مسلمان حج کے لیے مکہ کا رخ کرتے ہیں، اور سعودی حکومت نے ہر ملک کے لیے مخصوص حج کوٹا مقرر کر رکھا ہے۔ تاہم، کئی افراد بغیر اجازت حج میں شامل ہو کر نظام میں خلل ڈالتے ہیں۔


گزشتہ سال شدید گرمی کے باعث 1,200 سے زائد حجاج جاں بحق ہوئے تھے، جن میں سے بیشتر غیر مجاز زائرین تھے۔ سعودی حکام کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد حکومت نے اس سال کے حج میں سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔



سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملٹی پل انٹری ویزا کی معطلی عارضی ہے، تاہم یہ کب تک جاری رہے گی، اس بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔


یہ اقدام حج کے دوران بھیڑ کو کم کرنے اور حجاج کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ تمام زائرین سعودی حکومت کی جانب سے کی گئی گرمی سے بچاو¿ کی تیاریوں سے مستفید ہو سکیں۔