Saturday, 8 February 2025

جرمن چانسلر کی یوکرین کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسی پر تنقید

 




جرمن چانسلر اولاف شولز نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


جرمن میڈیا نیٹ ورک ’ڈوئچےلینڈ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اولاف شولز نے ٹرمپ کے ان بیانات پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا، جن میں انہوں نے بڑے پیمانے پر امریکی امداد کے بدلے یوکرین میں قیمتی خام مال تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔


انہوں نے کہا کہ"یوکرین حملے کی زد میں ہے اور ہم بغیر معاوضے کے اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ سب کا موقف ہونا چاہیے"۔


شولز نے اس سے قبل برسلز میں یورپی یونین کے غیر رسمی سربراہی اجلاس کے بعد کہا تھا کہ اس طرح کا مطالبہ "انتہائی خود غرضی پر مبنی ہو گا۔"


ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ وہ یورپی یونین سے درآمدات پر محصولات عائد کرنا چاہتے ہیں جس پر شولز نے دوبارہ تنقید کرتے ہوئے کہاکہ"عالمی معیشت کو کم تجارتی رکاوٹوں کی ضرورت ہے، رکاوٹوں میں اضافے کی نہیں"۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو "یورپی کمیشن گھنٹوں“ میں جواب دے سکتا ہے"۔


شولز نے کہا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ امریکہ جرمنی کا سب سے اہم اتحادی ہے۔


اس کے برعکس شولز نے کہا کہ وہ یورپی یونین کے سب سے بڑے ملک کے چانسلر کے طور پر اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ جب ڈنمارک جیسے چھوٹے ملک کو چیلنج کیا گیا تو گرین لینڈ پر قبضے کے لیے ٹرمپ کی دھمکیوں کےخلاف کھڑے ہو گے"۔


’عآپ کو فتحیاب کرانا ہماری ذمہ داری نہیں‘:کانگریس

 







دہلی کے اقتدار سے عآپ کی بے دخلی کا ذمہ دار کئی لوگ کانگریس کو ٹھہرا رہے ہیں۔ کچھ اپوزیشن لیڈران نے ایسے بیانات بھی دیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عا?پ کے تئیں کانگریس کی بے رخی نے بی جے پی کو حکومت سازی کا موقع فراہم کر دیا۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر فاروق عبداللہ نے تو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہاں تک لکھ دیا کہ ”اور لڑو ا?پس میں۔“ کانگریس نے ایسے ناقدین کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عآپ کو فتحیاب کرانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔


کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہلی اسمبلی انتخاب میں عآپ کی شکست کے لیے کانگریس ذمہ دار نہیں ہے۔ انھوں نے بغیر کسی لاگ لپیٹ کے دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ”عآپ کو جتانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم وہاں زور لگائیں گے جہاں ہمارے پاس سیاسی امکانات ہیں اور انھیں جیتنے کی کوشش کریں گے۔“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”آخر ہم دہلی میں 15 سالوں تک اقتدار میں رہے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک مضبوط مہم چلائیں اور ہر انتخاب کو پوری طاقت سے لڑیں۔“


عآپ سے اتحاد نہ ہو پانے سے متعلق کانگریس پر اٹھائے جا رہے سوالات کے درمیان سپریا شرینیت نے کہا کہ عآپ نے بھی کچھ ایسی ریاستوں میں تنہا انتخاب لڑا جہاں کانگریس سے اتحاد ہوتا تو نتیجے کچھ الگ ہوتے۔ عآپ کو ایسی ریاستوں میں امیدوار نہیں اتارنے چاہیے تھے جہاں مقابلہ براہ راست کانگریس اور بی جے پی کے درمیان تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ”کیجریوال گوا، ہریانہ، گجرات اور اتراکھنڈ گئے، وہاں انتخاب لڑا۔ گوا اور اتراکھنڈ میں بی جے پی اور ہمارے درمیان کے ووٹ شیئر کا فرق اتنا ہی تھا جتنا عآپ نے حاصل کیا۔“



کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے بھی عآپ کی شکست پر ایک طبقہ کی ہمدردی کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ”نام نہاد لبرل طبقہ کا پگھلاو¿ بالکل عجیب ہے۔ جب عآپ گوا، گجرات، ہریانہ وغیرہ میں الیکشن لڑنے اور فرقہ واریت مخالف و سیکولر ووٹوں کو کمزور کرنے کے لیے گئی تو انھوں نے اپوزیشن اتحاد کو لے کر عآپ کو یہ لیکچر نہیں دیا تھا۔“ یہ تبصرہ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا ہے۔ انھوں نے اس پوسٹ میں مزید کہا ہے کہ ”دہلی انتخابی نتائج اس ٹروجن ہارس کو مسترد کرنے والا ہے جس نے پورے ملک میں لبرل تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔“ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ”لبرل طبقہ کی اکثریت بلاشبہ اس چہرے کے زوال کی خوشی کا اظہار کر رہی ہے، تاکہ لبرل اقدار کی حقیقی چمپئن کانگریس آگے چل کر بی جے پی کو شکست دے اور مضبوطی کے ساتھ ابھرے۔“




دہلی اسمبلی انتخاب کے نتائج پر دہلی کانگریس صدر اور بادلی اسمبلی حلقہ سے پارٹی امیدوار دیویندر یادو نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”دہلی اسمبلی انتخاب کے نتائج واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ کیجریوال کے جھوٹ اور دھوکے کی سیاست کو دہلی کی عوام مسترد کر چکی ہے۔“ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ ”کانگریس کے سبھی سپاہیوں نے انصاف کی لڑائی بے حد مضبوطی کے ساتھ لڑی، لیکن نتائج ہمارے حق میں نہیں آئے۔ ہم اپنی خامیوں اور غلطیوں کا تجزیہ کریں گے اور دہلی کی عوام کی خدمت کا عمل مستقل جاری رہیں گے۔ دہلی والوں کے ساتھ ہر لمحہ کھڑے رہیں گے۔“



دہلی اسمبلی انتخاب میں ہار کر بھی جیت گئی کانگریس، عآپ کو بتا دی اپنی اہمیت

 







دہلی اسمبلی انتخاب میں 27 سال بعد بی جے پی اقتدار میں واپس آئی ہے۔ عام آدمی پارٹی 11 سال بعد حکومت سے باہر ہوئی ہے، جب کہ کانگریس شیلا دکشت کی حکومت کے خاتمے کے بعد تیسری دفعہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی۔ حالانکہ اس مرتبہ کانگریس کے کئی لیڈران پارٹی کی کارکردگی سے خوش ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شکست کے باوجود بھی کانگریس کارکنان اور لیڈران کیوں خوش ہیں؟ الکا لامبا سے لے کر سندیپ دکشت تک کھلے طور پر کہہ رہے ہیں کہ کانگریس اس اسمبلی انتخاب میں بازیگر بن کر سامنے آئی ہے۔ آئیے ذیل میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی کی شکست کو کانگریس اپنی جیت کے طور پر کس طرح دیکھ رہی ہے؟


اگر اسمبلی انتخاب کے نتائج کو دیکھا جائے تو عام آدمی پارٹی کے سرکردہ لیڈران کو کانگریس کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کو اپنی سیٹ پر جتنے ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے زیادہ ووٹ کانگریس امیدوار نے حاصل کیے ہیں۔ ایسا صرف 2 سیٹوں پر نہیں ہوا ہے بلکہ کم و بیش ایک درجن ایسی سیٹیں ہیں جہاں پر عام آدمی پارٹی کی شکست کی وجہ کانگریس بنی ہے۔ اگر کانگریس اور عام آدمی پارٹی متحد ہوکر انتخابی میدان میں آتی تو نتائج کچھ اور ہی ہوتے۔ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان صرف 2 فیصد ووٹوں کا ہی فرق ہے جب کہ کانگریس کا ووٹ 6 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔



دہلی اسمبلی انتخاب 2025 میں کانگریس کے ووٹ فیصد میں بھی خاصا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ 2020 میں جہاں کانگریس کو 4.5 فیصد ووٹ ملے تھے وہیں اس انتخاب میں 6.34 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ دہلی کے 2025 اسمبلی انتخاب میں کانگریس کے اضافی 2 فیصد ووٹ کی وجہ سے ہی عام آدمی پارٹی کو اقتدار سے باہر رہنا پڑا۔ دہلی میں کانگریس کو 2013 میں حکومت سے ہٹا کر عام آدمی پارٹی نے اپنا قبضہ جمایا اور 11 سالوں تک راج کیا۔ کانگریس کی زمین پر عام آدمی پارٹی نے نہ صرف دہلی بلکہ پنجاب اور گجرات میں بھی قبضہ کر لیا۔ عام آدمی پارٹی کے سیاسی عروج کے بعد سے ہی دہلی میں کانگریس کافی کمزور ہو گئی تھی۔ اب جب کہ حکومت سے عا?پ دور ہو چکی ہے تو کانگریس کو دہلی میں اپنا پیر جمانے کا دوبارہ موقع ملا ہے۔ کانگریس لیڈران کا یہ ماننا ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے عآپ کمزور ہوگی جس کا براہ راست فائدہ کانگریس پارٹی کو ہوگا۔ کانگریس کو امید ہے کہ آنے والے انتخابات میں اقلیتی اور دلت طبقے کا ووٹ عآپ سے پھر کانگریس کی طرف واپس آ جائے گا۔ کیونکہ اقلیتی طبقہ کی پہلی پسند کانگریس پارٹی ہی رہی ہے۔


دہلی اسمبلی انتخاب میں اگر کانگریس اور عام آدمی پارٹی متحد ہو کر انتخاب لڑتی تو پھر بی جے پی کا اقتدار میں آنا ناممکن ہو جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہلی اسمبلی انتخاب میں عام آدمی پارٹی کو 43.57 فیصد ووٹ ملے ہیں جب کہ بی جے پی کو 45.56 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ کانگریس کو 6.34 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو ملے ووٹ شیئر کو جوڑنے پر یہ 49.91 فیصد ہو رہا ہے۔ اس طرح بی جے پی سے تقریباً 4 فیصد ووٹ زیادہ ہو رہا ہے۔ اس سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو کانگریس سے اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ کافی مہنگا پڑا ہے۔



قابل ذکر ہے کہ دہلی اسمبلی انتخاب میں شکست کے باوجود کانگریس نے جس طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اس کا اثر دیگر ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کوئی بھی علاقائی پارٹی کانگریس کو نظر انداز کرنے کا خطرہ نہیں اٹھا سکتی ہے۔ بہار اور یوپی سمیت کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں کانگریس وہاں کی علاقائی پارٹیوں سے اتحاد کر کے انتخاب لڑتی ہے، وہ اب کانگریس کو ہلکے میں نہیں لیں گی۔ خصوصاً یوپی اور بہار میں سماجوادی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کو کانگریس کی اشد ضرورت ہے۔ اگر وہ بھی عام آدمی پارٹی کی طرح کانگریس کو نظر انداز کرنے کی کوشش کریں گی تو انہیں بھی عآپ کی طرح خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔



کیجریوال کی شکست پر یوگیندر یادو، کمار وشواس سے لے کر انّا ہزراے تک نے دیا اپنا رد عمل، آئیے جانیں کس نے کیا کہا!

 






دہلی اسمبلی انتخاب میں کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کی شکست پر کیجریوال کے پرانے ساتھیوں کا بیان سامنے آیا ہے۔ یہ وہ ساتھی ہیں جنہوں نے کیجریوال کے ساتھ ’انّا تحریک‘ میں قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر چلے تھے۔ پھر اختلافات کی وجہ سے یکے بعد دیگرے سب کیجریوال اور عام آدمی پارٹی سے الگ ہو گئے۔ یوگیندر یادو نے دہلی اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی جیت اور عام آدمی پارٹی کی شکست پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو جاری کر کہا کہ ”دہلی کے عوام نے واضح مینڈیٹ دیا ہے۔ کیجریوال اور سسودیا اپنے انتخاب ہار چکے ہیں۔ اس نتیجہ کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ دھکا ہے، سبق ہے اور امکانات بھی ہیں۔“



یوگیندر یادو نے آگے کہا کہ ”یہ دھکا عام آدمی پارٹی کے لیے نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو متبادل سیاست کے امکانات دیکھ رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ تھوڑے فرق سے ہارے ہیں۔ لیکن جب سرکردہ لیڈران کی انتخاب میں شکست ہوتی ہے تو یہ شکست سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہ عام آدمی پارٹی کے لیے سبق سے زیادہ ہے۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ”بی جے پی اب عام آدمی پارٹی کی شکست سے مطمئن نہیں ہے وہ اب پارٹی کو توڑنے کی کوشش کرے گی۔ ایسے میں حامیوں کو اصولوں پر قائم رہنا ہوگا لیکن جو پارٹی اسے چھوڑ چکی وہ کیسے بچے گی یہ بڑا سوال ہے۔“ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ”یہ اپوزیشن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ یہ بدلہ لینے کا وقت نہیں ہے۔“




کیجریوال کی شکست پر ان کے پرانے ساتھ کمار وشواس نے کہا کہ ”میں بی جے پی کو جیت کی مبارک باد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ دہلی کے لیے کام کریں گے۔ مجھے ایسے شخص سے کوئی ہمدردی نہیں ہے جس نے عآپ پارٹی کے کارکنان کے خوابوں کو کچل دیا۔ دہلی اب اس سے آزاد ہو چکی ہے۔ اس نے ان خوابوں کا استعمال اپنی ذاتی خواہشات کے لیے کیا۔ آج انصاف ہوا ہے۔“ وہیں سماجی کارکن انّا ہزارے نے کہا کہ ”میں طویل عرصے سے کہتا رہا ہوں کہ انتخاب لڑتے وقت امیدوار کا طرز عمل، خیال اور کردار پاکیزہ ہونا چاہیے یہ شراب پالیسی میں ملوث رہے، ان کی شبیہ خراب رہی، اس وجہ سے انہیں کم ووٹ ملے ہیں۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ”مجھے اس سے بہت امید تھی۔ میں نے اسے بہت سارا پیار دیا تھا، لیکن وہ راستہ چھوڑ گئے۔“

دہلی میں عام آدمی پارٹی کی ہار پر ’انّا تحریک‘ کے اہم چہرہ رہے مفتی شمعون قاسمی نے کہا کہ ”دہلی میں بی جے پی کی جیت ترقی کی سیاست کی جیت ہے۔ آج جھوٹ اور خوشامد کی سیاست کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ دہلی کے لوگوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ترقیاتی پالیسیوں پر بھروسہ کیا۔“



دہلی سیکریٹریٹ سیل، سرکاری دستاویزات کی حفاظت کے لیے اعلیٰ افسران کو فوری پہنچنے کا حکم

 








نئی دہلی: دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی واضح برتری کے بعد دارالحکومت میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اس دوران جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کی جانب سے ایک اہم حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، جس میں اعلیٰ افسران کو فوری طور پر دہلی سکریٹریٹ پہنچنے اور سرکاری دستاویزات و ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔


جی اے ڈی کے جاری کردہ حکم میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری فائل، کمپیوٹر ہارڈ ویئر یا دیگر مواد کو اجازت کے بغیر سکریٹریٹ سے باہر نہ لے جایا جائے۔ یہ ہدایت تمام متعلقہ محکموں اور برانچوں کے افسران کو دی گئی ہے تاکہ سرکاری ریکارڈ، فائلوں اور الیکٹرانک ڈیٹا کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اس ہدایت کا اطلاق نہ صرف سکریٹریٹ بلکہ وزارتی دفاتر اور کیمپ آفسز پر بھی ہوگا۔



یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ تازہ ترین رجحانات کے مطابق بی جے پی 48 نشستوں پر آگے ہے جبکہ عام آدمی پارٹی 22 نشستوں پر سبقت لے جا رہی ہے۔ اس انتخاب میں عآپ کے کئی سینئر رہنما اپنی نشستیں گنوا چکے ہیں، جن میں پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں۔


اروند کیجریوال کو نئی دہلی اسمبلی نشست پر بی جے پی کے امیدوار پرویش ورما کے ہاتھوں 3186 ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ جنگ پورہ نشست پر بی جے پی کے تروندر سنگھ مارواہ نے منیش سسودیا کو 1844 ووٹوں سے ہرایا۔


دوسری جانب کالکاجی سے عام آدمی پارٹی کی رہنما اور دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی نے کامیابی حاصل کی، جہاں انہوں نے بی جے پی کے رمیش بدھوڑی کو شکست دی۔ اسی طرح کونڈلی اسمبلی سیٹ پر عآپ کے کلدیپ کمار نے جیت درج کی جبکہ کستوربا نگر سے بی جے پی کے نیرج بسویا فاتح رہے۔




راجندر نگر اسمبلی سیٹ پر بھی عام آدمی پارٹی کو جھٹکا لگا، جہاں بی جے پی کے امیدوار امن بجاج نے عآپ کے درگیش پاٹھک کو شکست دی۔ مالویہ نگر سے بی جے پی کے امیدوار نے عام آدمی پارٹی کے سومناتھ بھارتی کو ہرا دیا۔


سیاسی ہلچل کے درمیان، دہلی سکریٹریٹ میں سرکاری ریکارڈ اور ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس حکم کو متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد نافذ کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق کا مقصد کسی بھی ریکارڈ کو غائب کرنے سے بچانا ہے۔



بلّی ماران سے عآپ کے امیدوار عمران حسین کی کامیابی، جیت عوام کے نام وقف کی

 





نئی دہلی: دہلی اسمبلی انتخابات میں بلّی ماران سیٹ سے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے امیدوار عمران حسین نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کمل باگری کو 29,823 ووٹوں کے بڑے فرق سے ہرایا۔


انتخابی کامیابی کے بعد عمران حسین نے بلّی ماران کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ جیت عام لوگوں کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا، "سب سے پہلے بلّی ماران کی عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ جیت بلّی ماران کے لوگوں کی جیت ہے۔ میں اس حمایت کے لیے بلّی ماران کی عوام کا احسان نہیں اتار سکتا۔ یہ جیت ہر بچے، بزرگ، نوجوان اور خاتون کی ہے۔ میں اپنی جیت عام لوگوں کے نام کرتا ہوں۔"



قابل ذکر ہے کہ دہلی اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مکمل اکثریت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے تازہ نتائج کے مطابق، بی جے پی نے اب تک 13 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور 34 سیٹوں پر برتری قائم کیے ہوئے ہے، جس سے اس کی مجموعی تعداد 47 تک پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی (عآپ) نے 11 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور 12 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے، جس سے اسے مجموعی طور پر 23 سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔ کانگریس اس انتخاب میں کوئی سیٹ نہیں جیت پائی۔


عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال نئی دہلی سیٹ سے اور منیش سسودیا جنگ پورہ سیٹ سے شکست کھا گئے ہیں۔ البتہ، وزیر اعلیٰ آتشی نے کالکا جی سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ستیندر جین بھی انتخابات میں ہار گئے ہیں۔ شکست کے بعد کیجریوال نے کہا، "ہم ہار کو قبول کرتے ہیں۔ بی جے پی کو جیت کی مبارکباد۔ عوام نے انہیں اکثریت دی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔"




دہلی اسمبلی انتخاب: مسلم اکثریتی سیٹ مصطفیٰ آباد میں بی جے پی نے کس طرح رقم کی تاریخ، کون بنا عآپ کا دشمن؟

 



دہلی اسمبلی انتخاب میں بی جے پی نے فتح حاصل 
 کر نہ صرف 26 سال بعد حکومت سازی کی طرف قدم بڑھا دیا ہے، بلکہ کچھ اسمبلی سیٹوں پر پارٹی امیدواروں نے حیرت انگیز فتح حاصل کی ہے۔ مسلم اکثریتی سیٹ مصطفیٰ آباد میں تو بی جے پی امیدوار موہن سنگھ بشٹ نے جیت کا پرچم لہرا کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ موہن سنگھ نے اس سیٹ پر عآپ امیدوار عدیل احمد خان کو 17578 ووٹوں سے ہرایا۔


مصطفیٰ آباد سیٹ پر مسلمانوں کی آبادی تقریباً 40 فیصد ہے اور ہندوؤں کی 60 فیصد۔ ہندوؤں میں بھی الگ الگ طبقات ہیں جن کا رجحان الگ الگ پارٹیوں کی طرف رہتا ہے۔ خاص طور سے ٹھاکر اور دلت ووٹرس کی تعداد اس سیٹ پر اچھی خاصی ہے۔ ٹھاکر یہاں تقریباً 12 فیصد اور دلت تقریباً 10 فیصد ہیں۔ اس اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر بی جے پی امیدوار کی کامیابی حیران کرنے والی ضرور ہے، لیکن عآپ کا کھیل بگاڑا کانگریس اور اسدالدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم نے۔



دراصل اے آئی ایم آئی ایم امیدوار محمد طاہر حسین کو 33474 اور کانگریس امیدوار علی مہدی کو 11763 ووٹ ملے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عآپ امیدوار کو طاہر حسین نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا، کیونکہ مسلم ووٹرس طاہر کے تئیں ہمدردی دکھاتے ہوئے کافی حد تک پولرائز ہو گئے۔ پھر بھی بی جے پی امیدوار موہن بشٹ کی اس کامیابی کے لیے مجموعی طور پر 5 بڑی وجوہات سامنے آ رہی ہیں۔ آئیے ان وجوہات پر ایک سرسری نظر ڈالیں۔


امیدوار کے سلیکشن میں احتیاط: مصطفیٰ آباد سیٹ سے جگدیش پردھان بی جے پی کے مضبوط امیدوار تھے، لیکن آخر وقت میں بی جے پی نے یہاں سے موہن سنگھ بشٹ کو میدان میں اتارا۔ بشٹ کراول نگر سے رکن اسمبلی تھے، جن کی سیٹ ہندو لیڈر کپل مشرا کو دے دی گئی۔ بشٹ کا نیٹورک مصطفیٰ آباد سیٹ پر مضبوط رہا ہے۔ بشٹ کی شبیہ زمینی لیڈر کی ہے، جس کا فائدہ انتخاب میں بی جے پی کو ملا۔


طاہر حسین اور اویسی کی انٹری: مصطفیٰ آباد سیٹ سے عآپ نے عدیل احمد خان کو امیدوار بنایا تھا۔ عدیل سابق رکن اسمبلی حسن احمد کے بیٹے ہیں۔ آخری وقت میں اویسی نے یہاں سے طاہر حسین کو اتار دیا۔ طاہر دہلی فسادات کے ملزم ہیں۔ پرچہ داخل کرنے کے بعد طاہر انتخابی تشہیر کے لیے اجازت لینے سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ سے اجازت ملی تو وہ میدان میں اتر گئے۔ طاہر کے میدان میں اترنے سے پورا الیکشن ہندو مقابلہ مسلم ہو گیا، یعنی مسلم ووٹ بڑی تعداد میں طاہر کی طرف چلا گیا۔


پانچ مسلم امیدواروں کا انتخابی میدان میں ہونا: مصطفیٰ آباد سیٹ سے 5 مسلم امیدوار میدان میں اتارے گئے، جس کا خمیازہ سیدھے طور پر عآپ کو اٹھانا پڑا۔ کانگریس کے علی مہدی بھلے چوتھے نمبر پر رہے، لیکن وہ بھی مسلم ووٹوں کا بڑا حصہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ دوسری طرف ایک کو چھوڑ دیا جائے تو کسی بھی ہندو امیدوار کو ایک ہزار سے زیادہ ووٹ نہیں ملے۔


ڈور ٹو ڈور مہم پر توجہ: بی جے پی نے یہاں ڈور ٹو ڈور مہم پر توجہ دی۔ سابق مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر یہاں محاذ سنبھال رہے تھے۔ موہن سنگھ بشٹ کی زمینی پکڑ اور انوراگ کی محاذ بندی کی وجہ سے بی جے پی مسلم اکثریتی مصطفیٰ آباد سیٹ پر بڑی جیت درج کرنے میں کامیاب رہی۔


عآپ کو ٹکٹ بدلنا پڑا بھاری: 2020 میں یہاں پر حاجی یونس نے بی جے پی کے جگدیش پردھان کو ہرا دیا تھا۔ اس مرتبہ عآپ نے یونس کا ٹکٹ بدل کر عدیل کو میدان میں اتار دیا۔ عدیل ہندو ووٹرس میں سیندھ ماری نہیں کر پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سیٹ پر عآپ کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔



حج 2025: سعودی عرب نے ہندوستان سمیت 14 ممالک کے لیے ویزا قوانین میں کی تبدیلی

 







سعودی عرب نے حج 2025 کے پیش نظر ویزا قوانین میں اہم تبدیلیاں کی ہیں، جن کا اثر ہندوستان سمیت 14 ممالک پر پڑے گا۔ نئے قوانین کے تحت ان ممالک کے شہریوں کے لیے ملٹی پل انٹری ویزا کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے، اور اب وہ صرف سنگل انٹری ویزا حاصل کر سکیں گے۔


یہ اقدام غیر قانونی حج کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ ملٹی پل انٹری ویزا رکھنے والے کئی افراد بغیر اجازت حج میں شامل ہو جاتے تھے، جس کی وجہ سے مکہ میں شدید بھیڑ پیدا ہوتی تھی۔ سعودی حکام کے مطابق، اس بھیڑ پر قابو پانے اور حجاج کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔



سعودی عرب کی جانب سے ویزا پالیسی میں کی گئی تبدیلی کا اثر درج ذیل 14 ممالک پر پڑے گا: ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، مصر، الجزائر، مراکش، ایتھوپیا، عراق، اردن، نائجیریا، سوڈان، تیونس، یمن۔


ان ممالک کے شہری اب صرف سنگل انٹری ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جو 30 دن کے لیے کارآمد ہوگا۔ ملٹی پل انٹری ویزا پر پابندی غیر معینہ مدت کے لیے عائد کی گئی ہے، تاہم حج، عمرہ، سفارتی اور رہائشی ویزوں پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔


سعودی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ افراد ملٹی پل انٹری ویزا کے تحت آ کر غیر قانونی طور پر حج یا کام میں مصروف ہو جاتے تھے، جس سے مشکلات بڑھ رہی تھیں۔


ہر سال لاکھوں مسلمان حج کے لیے مکہ کا رخ کرتے ہیں، اور سعودی حکومت نے ہر ملک کے لیے مخصوص حج کوٹا مقرر کر رکھا ہے۔ تاہم، کئی افراد بغیر اجازت حج میں شامل ہو کر نظام میں خلل ڈالتے ہیں۔


گزشتہ سال شدید گرمی کے باعث 1,200 سے زائد حجاج جاں بحق ہوئے تھے، جن میں سے بیشتر غیر مجاز زائرین تھے۔ سعودی حکام کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد حکومت نے اس سال کے حج میں سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔



سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملٹی پل انٹری ویزا کی معطلی عارضی ہے، تاہم یہ کب تک جاری رہے گی، اس بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔


یہ اقدام حج کے دوران بھیڑ کو کم کرنے اور حجاج کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ تمام زائرین سعودی حکومت کی جانب سے کی گئی گرمی سے بچاو¿ کی تیاریوں سے مستفید ہو سکیں۔



کسی ملزم کی بغیر وجہ بتائے گرفتاری بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، پولیس کو قانون پر عمل کرنے کی سپریم کورٹ کی نصیحت

 







سپریم کورٹ نے جمعہ کو اپنے ایک تاریخی فیصلے میں کہا ہے کہ کسی بھی ملزم کو گرفتاری کی وجہ بتانا کوئی رسمیات نہیں بلکہ لازمی آئینی ضرورت ہے۔ جسٹس ابھئے ایس اوکا اور جسٹس نوگمئی کاپم کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے کہا ہے کہ پولیس کے ذریعہ حکم پر عمل نہ کرنا آئین کی دفعہ 22 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔


جج نے کہا، "گرفتار کیے گئے شخص کو گرفتاری کی بنیاد کے بارے میں اطلاع کرنا رسمی نہیں بلکہ لازمی آئینی ضرورت ہے۔ دفعہ 22 کو آئین کے حصہ 3 میں بنیادی حقوق کے عنوان کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح گرفتار اور حراست میں لیے گئے شخص کا یہ بنیادی حق ہے کہ اسے جلد سے جلد گرفتاری کی وجہ کے بارے میں مطلع کیا جائے۔"


جسٹس این کے سنگھ نے کہا کہ گرفتاری کی بنیاد کے بارے میں صرف گرفتار شخص کو نہیں بلکہ اس کے ذریعہ نامزد دوستوں، رشتہ داروں یا دیگر لوگوں کو بھی بتانا چاہے تاکہ وہ قانونی عمل کے توسط سے گرفتاری کو چیلنج کرکے اس کی رہائی کو یقینی کر سکیں۔


سپریم کورٹ نے کہا کہ پنکج بنسل بمقابلہ حکومت ہند کے معاملے میں، اس نے مشورہ دیا تھا کہ گرفتاری کی بنیاد کو مطلع کرنے کا مناسب اور اور مثالی طریقہ گرفتاری کی بنیاد کو تحریری طور پر فراہم کرنا ہے۔ حالانکہ اس میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کی بنیاد کو تحریری طور سے مطلع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر تحریری طریقہ پر عمل کیا جاتا ہے تو "غیر-عمل کے بارے میں تنازعہ بالکل بھی پیدا نہیں ہوگا۔"



جسٹس اوکا نے کہا، "بھلے ہی گرفتاری کی بنیاد تحریری طور سے دینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اسے تحریری شکل میں دینے سے تنازعہ ختم ہو جائے گا۔ پولیس کو ہمیشہ دفعہ 22 کی ضروریات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔"



رواں سال نوئیڈا میں کھلیں گی 200 کمپنیاں، لاکھوں لوگوں کو ملے گا روزگار

 








ریاست اترپردیش کے نوئیڈا میں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہونے والا ہے۔ رواں سال کے اخیر تک یمنا ایکسپریس وے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (وائی ای آئی ڈی اے) کے علاقے میں 200 کمپنیاں کھلنے جا رہی ہیں۔ اس سے لاکھوں لوگوں کو رواں سال دسمبر تک روزگار فراہم ہوں گے۔ ایسے میں اس علاقہ میں صنعتی سرگرمیوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ شہر میں قریب 331670.19 کروڑ سے بھی زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ ان کمپنیوں کے کھلنے کے ساتھ ہی ہریالی اور آبادکاری میں بھی اضافہ ہوگا۔ اتھارٹی افسر نے اس حوالے سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ یمنا سٹی کے سیکٹر 24، 24اے، 30، 32، 33 کو انڈسٹریل سیکٹر بنائے جانے کی تیاری چل رہی ہے۔ 3041 انڈسٹریل پلاٹ کو ان سیکٹر میں اب تک الاٹ کیا جا چکا ہے جنہیں 1880.75 ہیکٹر رقبے میں تقسیم کیا گیا ہے۔


واضح ہو کہ فی الحال ان سیکٹرز میں 5 بڑی اور 9 چھوٹی کمپنیاں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔ یہ کمپنیاں 1356.68 کروڑ کی سرمایہ کاری اب تک شہر میں کر چکی ہے۔ یہی نہیں سیکٹر 27اے میں ’ویوو‘ کمپنی بھی کام کر رہی ہے۔ اس کمپنی نے بھی 7 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری شہر میں کی ہے۔ یمنا سٹی کے سیکٹر 27اے میں 2018 میں 169 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی۔ اس میں سے 156.32 زمین کے لیے چیک لِسٹ جاری کی گئی ہے۔



علاوہ ازیں یمنا اتھارٹی 2228 زمینوں کے کرایہ داروں کے لیے لیز کی منصوبہ بندی تیار کر چکی ہے۔ یہاں تک کہ ان میں سے 2154 کو چیک لسٹ بھی جاری کی جا چکی ہے۔ ان میں سے بھی 1553 پلاٹوں کی لیز ڈِیڈ کرا لی گئی ہے۔ اب جن 200 کمپنیوں کو اس سال تیار کیا جانا ہے ان میں سے 176 کمپنیوں کے نقشوں کو منظوری مل گئی ہے۔ ان میں 114 کمپنیوں کی تعمیر کا کام چل رہا ہے اور 14 کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ اس طرح اس سال لوگوں کے لیے نوئیڈا میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔



دہلی کے اقتدار سے کیوں بہت دور رہ گئی عآپ؟ آئیے 8 بڑی وجوہات پر ڈالیں نظر

 




دہلی اسمبلی انتخاب کے جو نتائج برآمد ہوئے ہیں، اس سے محسوس ہو رہا ہے کہ عآپ کا زوال شروع ہو چکا ہے۔ 2015 میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں عآپ کو 67 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ پھر جب 2020 میں اسمبلی انتخاب ہوا تو 62 سیٹیں ملیں، اور اب 2025 میں وہ 25 سیٹیں بھی حاصل نہیں کر سکی۔ ظاہر ہے حکومت سازی کے لیے ضروری 36 سیٹوں سے عآپ بہت دور رہ گئی ہے۔ اب سیاسی ماہرین یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر عآپ کی اس خراب کارکردگی کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔ غور کرنے سے کئی چھوٹے بڑے اسباب سامنے آتے ہیں، لیکن ہم یہاں 8 بڑی وجوہات پر نظر ڈالیں گے۔


اروند کیجریوال کی پارٹی بدعنوانی کے خلاف شروع ہوئی تحریک سے نکل کر سامنے آئی تھی۔ لیکن 10 سال بعد ہی پارٹی کے سرکردہ لیڈران پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد ہو چکے ہیں۔ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور سنجے سنگھ کو تو آبکاری گھوٹالے میں جیل تک جانا پڑ گیا۔ عآپ پر جو سنگین الزامات لگے، اس کے خلاف بنے ماحول کو پارٹی سنبھال نہیں پائی۔ اس کے علاوہ سی اے جی کی رپورٹ میں بھی عآپ پر ہاسپیٹیل کی تعمیر وغیرہ میں بدعنوانی کے الزامات لگے۔ عآپ نے سی اے جی کی رپورٹ پر بحث کرانے کی جگہ اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پورے انتخاب کے دوران بدعنوانی کا ایشو چھایا رہا۔


کیجریوال صرف ان ووٹرس کے بھروسے فتحیابی کی امید کر رہے تھے جنھیں عآپ حکومت سے فائدہ پہنچا۔ کیجریوال گزشتہ دو انتخابات سے مفت بجلی اور پانی کے ذریعہ اپنی سیاست کو آگے بڑھا رہے تھے۔ یہ مستفید طبقہ متوسط اور ذیلی زمرہ کے تھے۔ دہلی کے انتخاب سے قبل بی جے پی نے ان ووٹرس کو اپنی طرف کھینچا۔ مرکزی حکومت نے بھی عام بجٹ میں 12 لاکھ تک ٹیکس فری کر کے بی جے پی کے حق میں ایک ماحول بنا دیا۔


عآپ کو گزشتہ دو انتخابات میں مسلم اور دلت اکثریتی علاقوں میں بڑی کامیابی ملی تھی، لیکن اس مرتبہ دونوں ہی علاقوں میں عآپ سے یہ ووٹر دور ہوتے نظر آئے۔ دراصل دہلی میں جب بھی مسلمانوں پر مشکل وقت آیا تو عآپ ان کے ساتھ کھڑی ہونے کی جگہ خاموش رہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے یکطرفہ عآپ کی حمایت نہیں کی۔ اس عمل سے قریبی مقابلوں میں عآپ امیدواروں کو شکست ملی۔


دہلی میں سڑک اور صاف پانی ایک بڑا ایشو تھا۔ عآپ نے ایم سی ڈی انتخاب جیتنے کے بعد ہی سڑک اور صاف پانی دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان وعدوں کو وہ پورا نہیں کر پائی۔ جیل سے نکلنے کے بعد عآپ چیف کیجریوال نے سڑکوں کے مسئلہ کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ ایسا کر نہیں پائے۔


دہلی میں شراب گھوٹالہ کی زبردست گونج تھی۔ عآپ پر آبکاری پالیسی میں گھوٹالے کے الزامات لگے تھے۔ شراب معاملے کو کانگریس کے ساتھ ساتھ بی جے پی نے بھی خوب اچھالا۔ عآپ اپنے خلاف لگے اس الزام کا کاو¿نٹر نہیں کر سکی۔ چونکہ عدالت نے عآپ لیڈران کو مشروط ضمانت دی تھی، اس لیے وہ اس معاملے میں بہت زیادہ کھل کر بات بھی نہیں کر پائی۔


عآپ کا کھیل بگاڑنے میں کانگریس کا بہت بڑا ہاتھ رہا۔ کانگریس کو اس انتخاب میں گزشتہ مرتبہ سے کافی زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ عآپ امیدوار بیشتر انہی سیٹوں پر شکست کھائے جہاں کانگریس مضبوط حالت میں تھی۔ کانگریس کے علاوہ اسدالدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم نے بھی عآپ کو کچھ حد تک نقصان پہنچایا۔ اے آئی ایم آئی ایم نے دہلی کی 2 اسمبلی سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے۔


عآپ نے خواتین کو اپنی طرف راغب کرنے کے مقصد سے 2100 روپے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا، جو کہ پورے انتخاب میں عآپ کی طرف سے واحد بڑا وعدہ تھا۔ عوام نے اس وعدہ پر بھروسہ نہیں دکھایا۔


کیجریوال کو سپریم کورٹ سے مشروط ضمانت ملی ہوئی ہے۔ اس کے تحت کیجریوال وزیر اعلیٰ کی کرسی نہیں سنبھال سکتے۔ کانگریس اور بی جے پی عوام میں یہ پیغام دینے میں کامیاب رہی کہ عآپ کی حکومت آنے پر بھی کیجریوال وزیر اعلیٰ نہیں بن پائیں گے۔



دہلی سے عآپ کو بے دخل کرنے کے بعد بی جے پی نے گھوٹالوں کی جانچ کا ارادہ کیا ظاہر، تشکیل دی جائے گی ایس آئی ٹی

 




دہلی اسمبلی انتخاب کے نتائج سے بی جے پی میں جشن کا ماحول ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس فتح پر خوشی کا اظہار بھی کیا ہے۔ پی ایم مودی تو بوقت شام خطاب بھی کرنے والے ہیں۔ اس درمیان بی جے پی نے دہلی میں ہوئے گھوٹالوں کی جانچ کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عا?پ کو دہلی کے اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد وہ بدعنوانی میں پھنسے لیڈران کے خلاف زور و شور سے کارروائی شروع کرے گی۔


دہلی بی جے پی صدر ویریندر سچدیوا نے بدعنوان لیڈروں کے خلاف جلد سے جلد جانچ شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری ترجیح دہلی کی ترقی اور دہلی کو ترقی یافتہ راجدھانی بنانا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے عآپ پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں جتنے گھوٹالے ہوئے ہیں ان کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے گی۔ دہلی کو جس نے لوٹا ہے، ان سے دہلی نے اپنا بدلہ لے لیا ہے۔ دہلی والوں نے ان بدعنوانوں کو باہر کرنے کا کام کیا ہے جنھوں نے لوٹ مچائی تھی۔


قابل ذکر بات یہ ہے مشہور سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی عآپ کی شکست پر حملہ کیا ہے۔ دراصل عآپ کی بنیاد بدعنوانی کے خلاف شروع ہوئی انّا ہزارے تحریک میں ہی پڑی تھی۔ حالانکہ انّا ہزارے نے خود کو اس پارٹی سے الگ ہی رکھا۔ اب جبکہ عآپ کو دہلی میں شکست کا سامنا ہوا ہے تو انھوں نے کہا کہ ”پیسوں کو زیادہ اہمیت دینے کے سبب عآپ کی شبیہ کو نقصان پہنچا۔ عآپ اس لیے ہاری کیونکہ وہ مخلصانہ طریقے سے لوگوں کی خدمت کرنے کی ضرورت کو سمجھنے میں ناکام رہی اور غلط راستہ اختیار کیا۔“



دہلی اسمبلی انتخاب: 48 سیٹیں جیت کر بی جے پی نے مچائی دھوم، عآپ 22 سیٹوں پر کامیاب

 




الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دہلی اسمبلی انتخاب کا مکمل نتیجہ برآمد ہو چکا ہے۔ دی گئی جانکاری کے مطابق بی جے پی کو 48 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں اور عآپ کو 22 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آیا ہے۔


دہلی میں بی جے پی کی جیت پر وزیر اعظم نریندر مودی کا پیغام، ’دہلی کے خدمت کے لیے وقف رہیں گے‘

دہلی میں بی جے پی کی جیت پر وزیر اعظم نریندر مودی نے مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں ایکس پر لکھا، ”عوام کی طاقت سب سے بڑی ہے! ترقی کی جیت، بہتر حکمرانی جیتی۔ دہلی کے اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کو بی جے پی کو تاریخی جیت دلانے کے لیے میرا سلام اور مبارکباد! آپ نے جو بھرپور آشیرواد اور محبت دی ہے، اس کے لیے آپ سب کا دل سے شکریہ۔ دہلی کے تمام پہلوو¿ں کی ترقی اور یہاں کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہم کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، یہ ہماری گارنٹی ہے۔ ہم یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تشکیل میں دہلی کا اہم کردار ہو۔ مجھے بی جے پی کے اپنے تمام کارکنوں پر فخر ہے، جنہوں نے اس زبردست عوامی فیصلے کے لیے دن رات محنت کی۔ اب ہم دہلی کے عوام کی خدمت میں اور بھی زیادہ قوت کے ساتھ وقف رہیں گے۔“


عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں، بی جے پی کو جیت کی مبارکباد: اروند کیجریوال

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ، اروند کیجریوال نے کہا، ”ہم عوامی فیصلے کو انتہائی عاجزی کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ میں بی جے پی کو اس جیت پر مبارکباد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ ان تمام وعدوں کو پورا کرے گی جن کے لیے عوام نے انہیں ووٹ دیا ہے۔ ہم نے گزشتہ 10 سالوں میں صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے میدان میں بہت کام کیا ہے۔ ہم نہ صرف تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے بلکہ عوام کے درمیان رہ کر ان کی خدمت بھی جاری رکھیں گے۔“



اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کی ہار

دہلی اسمبلی انتخابات کی تصویر اب تقریباً صاف ہو چکی ہے اور بی جے پی نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے جبکہ عام آدمی پارٹی کو کراری ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پارٹی اس قدر زوال کی شکار ہوئی کہ اس کے اہم لیڈران اروند کیجریوال نئی دہلی سے اور منیش سسودیا جنگ پورہ سے ہار گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ آتشی ضرور وقار برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں اور انہوں نے کالکاجی سے جیت درج کی ہے۔