Thursday, 30 January 2025

بہار میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر تبادلہ خیال

 




 پٹنہ(پریس ریلیز) شکتی انفوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ، واحد 5 اسٹار ٹیلی سافٹ ویئر، جو گزشتہ 25 سالوں سے ٹیلی کے ساتھ سرکاری اور بڑے اکاو¿نٹس پارٹنر کے طور پر کام کر رہا ہے، نے پٹنہ میں ٹیلی سلوشنز کے ڈائریکٹر تیجس گوئنکا کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کا اہتمام کیا۔ یہ میٹنگ شکتی انفوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے دفتر، نمائش روڈ، پٹنہ میں ہوئی جہاں کمپنی کے ڈائریکٹر روشن ڈھنڈھاریا کے ساتھ بہار کے بازار کو سمجھنے کے لیے بات چیت کی گئی۔ اس کا مقصد سافٹ ویئر میں نئی خصوصیات لانے کے لیے درکار معلومات جمع کرنا اور بہار میں نئے روزگار فراہم کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنا تھا۔ اس موقع پر، ٹیلی 6.0 کا نیا ورڑن لانچ کیا گیا جس میں بینک سے متعلق خصوصیات شامل ہیں جو بینکنگ کے عمل کو مزید آسان بنائیں گی۔ نیز، GSTR 2A اور 2B کو ٹیلی ڈیٹا بیس کے ساتھ ملانے کی سہولت بھی شامل کی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں کمپنی کے نمائندے تبریز حیات، ندیم احمد، کمار مونو، ودیوت جیوتی چکرورتی، آشیش کمار سنگھ، ابھے کمار سنگھ، مکرند بھاسکر اور منیش موجود تھے۔ یہ ڈائیلاگ بہار کی کاروباری ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے جو مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سافٹ ویئر میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کو شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے روزگار پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔


بھاگلپور کے کھرمن چک میںں دی جاوید حبیب سیلون کا آغاز

 




 بھاگلپور (پریس ریلیز) بین الاقوامی شہرت یافتہ ہیئر اینڈ بیوٹی سیلون جاوید حبیب نے ایس ایس ٹاور، کھرمنچک، بھاگلپور میں اپنے پریمیم سیلون کا آغاز کیا۔ اس لگڑری سیلون میں صارفین کو بال، بیوٹی، میک اپ، ناخن وغیرہ تمام سہولیات میسر ہوں گی۔ سیلون کا افتتاح بھاگلپور کی میئر بسندھرا لال، بالوں کے عالمی ماہر جاوید حبیب، ماسٹر فرنچائزی بہار اروند کمار، فرنچائزی مالکان ابھے کمار گپتا اور راجکمار گپتا، وارڈ کونسلر اشونی جوشی مونٹی، بی جے پی ضلع صدر سنتوش ساہ، بی جے پی رکن چندن ٹھاکر نے مشترکہ طور پر کیا۔ یہ ربن کاٹ کر اور چراغ جلا کر کیا گیا تھا۔ اس موقع پر موجود بالوں کے ماہر جاوید حبیب نے کہا کہ سردیوں کا موسم چل رہا ہے اور ہم سب اپنے بالوں اور جلد کے حوالے سے پریشان ہیں۔ اس موسم میں اپنے بالوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ نم ہو جاتے ہیں۔ بالوں کو گرم پانی سے دھونا ایک عام غلطی ہے جو لوگ کرتے ہیں۔ گرم پانی آپ کی کھوپڑی کو خشک کر دیتا ہے، جس سے خارش اور خشکی ہوتی ہے۔ اپنے بالوں کو ٹھنڈے پانی سے دھونا آپ کے بالوں کو مزید نقصان سے بچاتا ہے۔ بہترین کنڈیشنر یہ ہے کہ اپنے بالوں کو دھونے سے صرف 10 منٹ پہلے تھوڑا سا تیل لگائیں ورنہ ہفتے میں ایک بار ہیئر سپا کے لیے جائیں۔ باقاعدگی سے فیشل مناسب غذائیت کے ساتھ آپ کے چہرے کو چمکدار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

 فرنچائز کے مالکان ابھے کمار گپتا اور راج کمار گپتا نے کہا کہ اس سیلون میں ہمارے پاس صفائی، ڈی ٹی اے این اور ہربل فیشل سروس کی وسیع رینج موجود ہے۔ اس نئے سیلون میں آپ یہ تمام سہولیات بہترین حفظان صحت، اقدامات اور انتہائی حفاظت کی ضمانت کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تمام جاوید حبیب سیلونز میں ایک لگڑری فارمیٹ سیلون ہے جہاں آپ کو خوبصورتی کی تمام سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے قابل رسائی طریقے سے حاصل ہوں گی۔ ماسٹر فرنچائزی بہار اروند کمار نے کہا کہ جاوید حبیب ہندوستان میں فلاح و بہبود پھیلانے والے سرکردہ بالوں اور بیوٹی سیلونز میں سے ایک ہیں۔ کمپنی کے پورے ہندوستان میں تقریباً 1000+ سیلون ہیں۔ کمپنی بہار - جھارکھنڈ میں پرجوش شراکت داروں کو مدعو کر رہی ہے تاکہ وہ اس سیلون میں شامل ہو سکیں اور اس کے فوائد حاصل کر سکیں۔


الحراءپبلک اسکول شاہ گنج، پٹنہ میں کوئز کا انعقاد

 



مورخہ30جنوری: الحراءپبلک اسکول شاہ گنج کے پرنسپل سیدندیم احمدنے پریس اعلانیہ میں بتایا کہ اسکول انتظامیہ کی یہ کوشش رہی ہے کہ بچے ہر شعبہ میںاپنی مضبوط گرفت بنائے رکھیں۔ اس کے لئے اسکول میں مختلف سرگرمیاں مثلاً کراٹے، ثقافتی پروگرام، تحریر ی ،تقریری،بیت بازی، کرکٹ ، آرٹ اور پینٹنگ مقابلے مختلف مواقع سے ہوتے رہتے ہیںتاکہ بچوں کے اندر تعلیم کے ساتھ دیگر صلاحیتیں پیدا ہوںاور ان میں احساس کمتری پیدا نہ ہو۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کوئز کنٹیسٹ بھی ہے۔ اس مقابلے کی تیاری کرانے میںاساتذہ اور بچے بھی خوب دل جمعی کے ساتھ مصروف رہے۔کوئز کو دو segmentمیں تقسیم کیا گیا تھا پہلا سیگمنٹ طالبات اور دوسرا طلبا کے ما بین ہوا اور کامیاب طلبا و طالبات کو مہمانان خصوصی کے ہاتھوں سند، میڈل اورٹرافی سے نوازاگیا۔

ٹیولپ پلازہ ، شاہ گنج کے وسیع و عریض لان میںاسکول کے طلباء و طالبات کا شاندار کوئز کنٹسٹ ہوا۔جس میں مہمانان کی حیثیت سے انگریزی کے مشہور استاد ارشد نظامی اور روز نامہ تاثیر کے سب ایڈیٹر محمد مشتاق خان وغیرہ شریک ہوئے۔ اس موقع پرارشد نظامی صاحب نے اپنی مختصرگفتگو میں طلباء و طالبات کو مقابلہ میںاس کے ضابطہ کا پاس و لحاظ رکھنے،بچوں کی حاضر دماغی اور ان کے معلومات عامہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیںمبارک باد دی۔الحراء پبلک اسکول ، شاہ گنج کے ڈائرکٹرنذیر احمد نے اپنی گفتگو میںطلباو طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔پروگرام کے بہتر انعقاد پر منتظمین اور تمام اساتذہ¿ کرام کو مبارک باد دی اور کوئز مقابلہ میںکامیاب ہونے والے بچوں کو دعاﺅں سے نوازا اور آئے ہوئے تمام مہمانوں ، گارجین حضرات اور اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔

کوئیز انچارج حسن شاہد اور شاذیہ احمدنے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا ہے کہ درجہ ہفتم تا دہم کے درمیان کوئز مقابلہ احسن طریقے سے اختتام کو پہنچا۔ساتھ ہی تمام شرکائ کے ساتھ ساتھ منتظمین بالخصوص نظر الاسلام ندوی، اقبال احمد، ، محمد احتشام الدین ،محمد صابرحسین، عبد الرحمٰن، ابوالکلام، نورالزماں، عزیر احمد ، ریاض الماس،عتیق الرحمٰن، صوفیہ سلطانہ ، ہما فاطمہ، شائقہ نیازی، وغیرہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

کوئز مقابلہ میں شریک طلبہ و طالبات کے نام یہ ہیں: (علامہ اقبال ٹیم )محمد طفیل ریاض، محمد زید حق، ناظر امام ، عبدالحمید ، محمد دلشاد انصاری، (مولانا آزاد ٹیم)محمد رافع، زید اختر انصاری، محمد منتخب الحسن ، محمد توحید شمس ، شاکر امام، (سر سید احمد ٹیم) مائرہ جبیں، ناہدہ پروین، عبیرہ تحریم فاطمہ، عظمیٰ رحمٰن، وانیہ ظفر، (پنڈت جواہر لال نہرو ٹیم) صدف فاطمہ، ضحی ناز، سکینہ امتیاز، شاریہ سہیل ، ناصرین پروین۔ واضح رہے کہ ان چاروں ٹیموں کے درمیان کوئز کمپٹیشن ہوا۔ دو ٹیمیں فائنل میں پہنچی جس میں حکم صاحبان کے فیصلے کے مطا بق سر سید احمد ٹیم کو فاتح قرار دیا گیا۔


گورنمنٹ طبی کالج میں عالمی یوم جذام کے موقع پر بیداری پروگرام کا انعقاد

 



پٹنہ :30جنوری 2025 کو عالمی یوم جذام کے موقع پر شعبہ ماہیت الامراض ،گورنمنٹ طبی کالج واسپتال کی جانب سے بیداری پروگرام کا انعقادکیا گیا۔

پروگرام کی شروعات تلاوت قران پاک سے ہوئی، ڈاکٹر محمد نعمت اللہ نے تلاوت کی۔یہ پروگرام ڈاکٹرمحفوظ الرحمان پرنسپل گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ مہما ن خصوصی پروفیسر محفوظ الرحمان کا استقبال شعبہ کے سینئر استاذ پروفیسر توحید کبریا نے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ شعبہ علم الادویہ کے صدر، ڈاکٹر محمد انس نے پروگرام کے آرگنائزنگ چیئرمین ڈاکٹر محمد شمیم اختر ،صدر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج واسپتال کاپھولوں کا گلدستہ پیش کر کے استقبال کیا، پی جی اسکالر ڈاکٹر سعدیہ تبسم نے پی پی ٹی کے توسط سے جزام کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔جس میں اس نے اس مہلک مرض کی روک تھا م ،علاج اور عوامی شعور کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتا یا کہ جذام ایک دائمی اور متعدی بیماری ہے جو مائکوبیکٹریم لیپری نامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیماری جلد، اعصاب، آنکھوں اور سانس کی نالی کو متاثر کر تی ہے، جس کے نتیجے میں جلد پر دھبے اوراعصاب متاثر ہوتے ہیں۔بر وقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جسمانی معذوری پیدا ہو تی ہے۔ بر وقت تشخیص اور مکمل علاج سے اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اس کے پھیلاو¿ کو روکا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر محمد شمیم اختر نے اپنے خطاب میں یونانی طب کے تناظر میں جذام کی تشخیص، اس کے اسباب اور علاج پر تفصیل سے روشنی ڈالی، جس سے حاضرین کو اس مرض کے بارے میں ایک نئی بصیرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس امر کو بھی یقینی بنایا کہ پروگرام کے ذریعے جذام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور معاشرے میں اس حوالے سے بیداری پیدا کی جائے۔ ان کی انتھک محنت، تنظیمی صلاحیت اور علمی کاوشوں نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس پر وہ بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔



اس پروگرام کے سرپرست و مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد محفوظ الرحمان نے اس مرض کے سماجی اثرات اور مدر ٹریسا کی اس سلسلہ میں دی جانے والی خدمات کا خصوصی طور پر ذکر کیا نیز طب یونانی میں اس کے علاج و معالجہ پر موجود معلومات کا تذکرہ کیا۔ اسکے علاوہ سابق پرنسپل پروفیسر توحید کبریا نے بھی پروگرام کے شرکاءسے خطاب کیا ، شعبہ علم الادویہ کے صدر و ایسوسیٹ پروفیسر ڈاکٹر محمدانس نے اس مرض پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس مرض میں استعمال ہونے والی ادویہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کی بیداری کی اہمیت پر زور دیا۔ عالمی یوم جذام کے اس بیداری پروگرام میں ڈاکٹر سیلیش کمار پنکج بھی موجود تھے اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس مرض کی تشخیص و تفتیش پر جدید طبی معلومات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اس پروگرام کے کوآرڈینیٹرکے فرائض،پی جی اسکا لر ڈاکٹر تنویر نور، ڈاکٹرمحمد نعمت اللہ نے انجام دیا اور پی جی اسکالر ڈاکٹر ندیم اخترنے پروگرام کی نظامت کی۔اخیر میں اسسٹنٹ پروفیسر جناب ڈاکٹر ادیب احمد نے اس پروگرام کی کامیابی پر مہمانان خصوصی ،آرگنازنگ چیئرمین ،کوارڈینیٹر اور شرکاء کا شکریہ کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔

قومی اساتذ تنظیم مظفر پور کے ضلع سکریٹری آفتاب عالم نے ”تحفظ اردو زبان واب “کے سلسلے میں لوگوں سے ملاقات کی

 




میناپور (مظفرپور) :قومی اساتذہ تنظیم کے ضلع سکریٹری آفتاب عالم نے مجھولیا، میناپور کے جناب اشرف، جناب علاءالدین انصاری، جناب زین الدین، جناب عباس علی انصاری وغیرہ صاحبان سے تحریک "تحفظ اردو زبان و ادب" کے سلسلے میں ملاقات کی اور انہیں تحریک کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا نیز انکی خدمت میں اسٹکر وغیرہ پیش کرتے ہوئے اس تحریک کو آگے بڑھانے کی اپیل کی-تمام حضرات نے مثبت جواب دیا۔


Tuesday, 28 January 2025

دہلی اسمبلی انتخابات: طاہر حسین کو پولیس تحویل میں رہتے ہوئے تشہیر کی اجازت، ہر رات جیل واپس لوٹنا ہوگا

 






سپریم کورٹ نے دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے اے آئی ایم آئی ایم (آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین) کے امیدوار اور دہلی فسادات کے ملزم طاہر حسین کو پولیس تحویل میں رہتے ہوئے تشہیر کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے کئی شرائط عائد کرتے ہوئے کہا کہ طاہر حسین کو دن کے وقت پولیس کی نگرانی میں تشہیر کے لیے باہر جانے اور ہر رات جیل واپس لوٹنے کی اجازت ہوگی۔


عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ طاہر حسین کو روزانہ 2.47 لاکھ روپے سکیورٹی اخراجات کے طور پر جمع کرانے ہوں گے۔ تین ججوں پر مشتمل بنچ، جس میں جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سنجے کرول اور جسٹس سندیپ مہتا شامل تھے، نے طاہر حسین کی 29 جنوری سے 3 فروری تک انتخابات کی تشہیر کے لیے پولیس تحویل کی درخواست قبول کی۔



حسین کے وکیل سدھارتھ اگروال نے عدالت میں دلیل دی کہ انتخابات کے لیے صرف چار پانچ دن باقی ہیں، اس لیے ان کے مو¿کل کو پولیس تحویل میں رہتے ہوئے ووٹروں سے رابطہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حسین اپنا قیام کسی ہوٹل میں کریں گے اور گھر نہیں جائیں گے۔


ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حسین کی فسادات میں ملوث ہونے کی سنگین نوعیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عدالت نے ان سے کہا کہ سکیورٹی انتظامات اور اخراجات کے متعلق ہدایات پیش کریں۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب 22 جنوری کو سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے حسین کی عبوری ضمانت پر متفقہ فیصلہ نہیں دیا تھا۔



واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے 14 جنوری کو طاہر حسین کو ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر مصطفیٰ باد نشست سے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کے لیے پولیس تحویل کے ساتھ پیرول دی تھی۔ طاہر حسین دہلی 2020 فسادات کے دوران آئی بی کے ملازم انکت شرما کے قتل کے معاملے میں بھی ملزم ہیں۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔


ٹرمپ کی ڈپورٹیشن پالیسی سے ہالی ووڈ اداکارہ سیلینا گومیز ہوئیں غمزدہ، پھوٹ پھوٹ کر رونے کا ویڈیو وائرل

 




ہالی ووڈ گلوکار اور اداکارہ سیلینا گومیز اس وقت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ دراصل سیلینا نے اپنی اپنی انسٹا گرام اسٹوری پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی۔ جس میں انہیں پھوٹ پھوٹ کر روتا ہوا دیکھا گیا تھا۔ سیلینا کے رونے کی وجہ امریکہ کے 47 ویں صدر بنے ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی ڈپورٹیشن پالیسی ہے۔


امریکہ میں ٹرمپ کی حکومت شروع ہونے کے ساتھ ہی ایمیگریشن انفورسمنٹ پر تیزی سے کام شروع ہو گیا ہے۔ 26 جنوری کو امریکہ میں ٹرمپ کے حکم کے بعد کئی ایجنسیوں نے ہزاروں ایمیگرینٹس کو گرفتار کیا ہے۔ اسی پر بات کرتے ہوئے سیلینا گومیز نے ایک جذباتی ویڈیو شیئر کی تھی۔


اپنے جاری کیے گئے ویڈیو کے کیپشن میں سیلینا نے لکھا تھا، 'مجھے معاف کر دینا'۔ ساتھ ہی انہوں نے میکسیکو کے پرچم والی ایموجی بھی لگائی تھی۔ امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہ رہے تارکین وطن کی گرفتاری اور انہیں ان کے ملک واپس بھیجنے کے عمل پر سیلینا نے بات کی۔


انہوں نے کہا "میرے سبھی لوگوں پر حملہ ہو رہا ہے، بچے بھی محفوظ نہیں ہیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے، مجھے معاف کر دیجیے۔ کاش! میں کچھ کر پاتی، لیکن میں نہیں کر سکتی، مجھے نہیں پتہ کہ کیا کرنا چاہیے۔ میں ہر چیز آزماو¿ں گی، وعدہ کرتی ہوں"۔ یہ کہتے ہوئے سیلینا گومیز پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔ حالانکہ بعد میں انہوں نے اپنے اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا۔


دراصل اپنی ویڈیو شیئر کرنے کے بعد سیلینا گومیز کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یوزرس نے گومیز کو ٹرول کرنا شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا۔ خود کو ملی تنقید کے جواب میں انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری پر پیغام لکھا 'ظاہر طور پر لوگوں کے لیے ہمدردی دکھانا ٹھیک نہیں ہے۔'

واضح ہو کہ امریکہ میں 26 جنوری کے دن ایمیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے 956 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ یہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد کا سب سے بڑا نمبر ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا مقصد امریکہ میں رہ رہے غیر دستاویز تارکین وطن کو باہر نکالنا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں میں زبردست ڈر کا ماحول ہے۔


فلسطینیوں کی جبری ہجرت پر ٹرمپ کا اصرار ... بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں ؟

 






اگرچہ مصر اور اردن فلسطینیوں کی بیرون ملک جبری ہجرت کے منصوبوں کو مسترد کر چکے ہیں تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے باہر منتقلی کی تجویز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ مصری صدر کے ساتھ اس موضوع پر بات کر چکے ہیں۔


دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہر اور بین الاقوامی قانون سے متعلق امریکی اور یورپی انجمنوں کے رکن ڈاکٹر محمد محمود مہران کا کہنا ہے کہ جبری ہجرت کی صورت میں فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے باہر ہمسایہ ممالک منتقلی کے حوالے سے امریکی صدر کا بیان بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرائم پر اکسانے کے مترادف ہے۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے خصوصی بیان میں ڈاکٹر مہران کا کہنا تھا کہ چوتھا جنیوا کنونشن اپنے آرٹیکل 49 میں مقبوضہ اراضی سے افراد کی انفرادی یا اجتماعی جبری منتقلی کو قطعا ممنوع قرار دیتا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی فوجداری عدالت کا 'روم اسٹیچو' اپنے آرٹیکل 8 میں جبری ہجرت کو جنگی جرم کا درجہ دیتا ہے جس پر عدالتی کارروائی لازم ہے۔


بین الاقوامی قانون کے ماہر کے مطابق Additonal Protocal 1 کا آرٹیکل 85 شہری آبادی کی جبری منتقلی کو سنگین خلاف ورزی قرار دے کر اس کے خلاف عدالتی کارروائی کو لازم گردانتا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت اس نوعیت کے جرائم پر قانونی کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔


ڈاکٹر مہران نے واضح کیا کہ عالمی سلامتی کونسل کی 1967 میں منظور شدہ قرار داد 242 باور کراتی ہے کہ کسی سرزمین پر بزور طاقت قبضہ کرنا قانونا جائز نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 1(2) اسی امر کی تصدیق کرتا ہے۔ منشور کے مطابق اقوام اور عوام کو اپنے راستے کے فیصلے کا حق حاصل ہے۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق سے متعلق عالمی اعلان کا آرٹیکل 13 ہر فرد کو اپنی ریاست کی حدود کے اندر آمد و رفت اور اپنے قیام کی جگہ منتخب کرنے کا حق دیتا ہے۔


ڈاکٹر مہران نے بتایا کہ شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی سمجھوتا (ICCPR) اپنے پہلے آرٹیکل میں باور کراتا ہے کہ اقوام کو اپنا راستہ چننے اور اپنے ملک کی قدرتی دولت اور وسائل کے آزادانہ استعمال کا حق حاصل ہے۔ لہذا فلسطینی قوم بھی اپنی قانونی مزاحمت میں اسی موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔


یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد چھڑنے والی جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے تقریبا 24 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے۔


غزہ کے فلسطینیوں کی کوئی بھی جبری ہجرت قابل قبول نہیں ہے : فرانس

 




فرانس کے وزیر خارجہ جان نویل بارو کا کہنا ہے کہ غزہ کی آبادی کو عرب ممالک میں آباد کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز دو خود مختار ریاستوں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پر امن باہمی بقائ کے مفہوم سے متصادم ہے۔ انھوں نے کہا کہ فرانس دو ریاستی حل پر زور دیتا ہے اور پیرس کے نزدیک غزہ کے فلسطینیوں کی کوئی بھی جبری ہجرت "نا قابل قبول" ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے ریڈیو کے ذریعے دیے گئے بیان میں کہا کہ "مصر اور اردن ہمیشہ یہ باور کراتے رہے ہیں کہ وہ اس طرح کے حل کے خلاف ہیں، جہاں تک فرانس کا تعلق ہے تو ہمیں یقین ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام دو ریاستی حل کا تقاضا کرتا ہے جہاں فلسطین اور اسرائیل پہلو بہ پہلو رہیں۔ لہذا فلسطینیوں کی ہمسایہ ممالک جبری ہجرت مجھے اس فیصلے کے ساتھ ہم آہنگ نظر نہیں آتی"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹڑمپ نے 25 جنوری کو صحافیوں سے گفتو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ کی پٹی کی وہ آبادی جو اسرائیل کے حالیہ فوجی آپریشن میں اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں، انھیں عرب ممالک میں آباد کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کے خیال کے مطابق 15 لاکھ افراد کو غزہ کی پٹی سے باہر آباد کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس معاملے پر اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ الثانی سے بھی بات کی ہے۔


قاہرہ اور عمّان حکومتوں نے ایک بار پھر غزہ کی پٹی کی آبادی کو منتقل کرنے کے لیے اسرائیل یا اس کے علاوہ کسی اور کی منصوبہ بندی کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ جبری ہجرت کی دوسری مہم ہے۔

اس سلسلے میں مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے کل پیر کے روز ان جبری ہجرت کی کوششوں پر اپنے ملک کی تشویش کا اظہار کیا جن کا مقصد ہمسایہ ممالک میں عوام کو نشانہ بنانا ہے۔ بدر کے مطابق خطے میں سیاسی اور انسانی صورت ابتری کا شکار ہے۔ ان میں سیاسی تنازعات اور بحرانات کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شامل ہیں۔

مصری وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ یہ عوامل بے گھر افراد اور مہاجرین میں اضافے میں اپنے کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مصر کی جانب مہاجرین کے بہاو¿ میں اضافہ ہو رہا ہے جو پہلے ہی 90 لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کا میزبان ہے۔

دوسری جانب اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے پیر کے روز ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ اردن کی مملکت فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے بارے میں کسی بھی بات چیت کو مسترد کرتی ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ اردن اس موقف کے سامنے ڈٹا رہے گا۔

پارلیمنٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے الصفدی کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے لیے متبادل وطن سے متعلق ہر بات مسترد شدہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اردن اردنیوں کا ہے اور فلسطین فسلطینیوں کا ہے اور قضیہ فلسطین کا حل فلسطینی مٹی پر ہی ہو گا۔


روس کا اعلیٰ سطح کا وفد احمد الشرع سے ملاقات کے لیے دمشق پہنچ گیا

 





روس کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد شام کے دار الحکومت پہنچا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق آج منگل کے روز دمشق پہنچنے والے وفد کی صدارت نائب وزیر خارجہ میخائل بوغدانوف کر رہے ہیں۔روسی میڈیا نے بوغدانوف کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی وفد شام میں نئی انتظامیہ کے قائد احمد الشرع سے بات چیت کرے گا۔بوغدانوف کا کہنا ہے کہ دمشق کا دورہ "مشترکہ مفادات کے قاعدے کے تحت" کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماسکو شامی اراضی کی یکجہتی ، آزادی اور سلامتی کا خواہاں ہے۔


گذشتہ ماہ آٹھ دسمبر کو ماسکو کے اتحادی بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد شام میں روسی فوجی اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے سوالات نے جنم لیا۔کرملن ہاو¿س کے ترجمان دمتری بیسکوف یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ انھوں نے تصدیق کی تھی کہ روس اس وقت شام کا کنٹرول رکھنے والی قوتوں کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔


روس کے شام میں دو فوجی اڈے قائم ہیں۔ ان میں پہلا اڈا طرطوس میں روسی بحریہ کا لوجسٹک سینٹر ہے جو 1971 میں دو طرفہ معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ دوسرا اڈا لاذقیہ سے 20 کلو میٹر جنوب مشرق میں حمیمیم کا فضائی اڈا ہے۔ یہ 30 ستمبر 2015 کو قائم کیا گیا تا کہ داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں شامی فوج کی معاونت کے لیے فوجی آپریشن انجام دیا جا سکے۔

گذشتہ عرصے کے دوران میں روس نے شام سے اپنا بعض ساز و سامان اور افراد کو واپس بلا لیا تاہم ماسکو مذکورہ دونوں اڈوں کی اہمیت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ روس کو بحیرہ روم تک رسائی فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسے بعض افریقی ممالک کے قریب تر بناتے ہیں۔



Monday, 27 January 2025

’گنگا میں ڈبکی لگانے سے غریبی دور ہوگی کیا؟‘، کھڑگے نے ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پوچھا سوال

 







مدھیہ پردیش کے مَہو میں ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کسی
کا نام لیے بغیر کہا کہ ”گنگا میں ڈبکی لگانے سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا کیا؟ غریبی دور ہوگی کیا؟ پیٹ کو کھانا ملے گا کیا؟“ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں کسی کے عقیدہ کو چوٹ نہیں پہنچانا چاہتا ہوں۔ ملک میں بچے اسکول نہیں جا رہے ہیں اور مزدوروں کو مزدوری نہیں مل رہی ہے۔ واضح ہو کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا مذکورہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پیر (27 جنوری) کو مہاکبمھ میں ڈبکی لگائے ہیں۔ امت شاہ پریاگ راج پہنچ کر سادھو-سنتوں کے ساتھ مہاکمبھ میں ڈبکی لگائی۔ اس موقع پر امت شاہ کے ساتھ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی موجود تھے۔


ملکارجن کھڑگے نے پریاگ راج کے مہاکمبھ میں سیاستدانوں کے گنگا میں ڈبکی لگانے کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”لوگ کمپٹیشن میں ڈبکی مار رہے ہیں۔ جب تک ٹی وی میں ڈبکی اچھی نہیں آتی ہے تب تک ڈبکی مارتے رہتے ہیں۔ مذہب پر ہم سبھی کا عقیدہ ہے۔ مذہب ہم سبھی کے ساتھ ہے لیکن مذہب کے نام پر کسی سماج میں غریبوں کا استحصال ہوگا تو ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے۔“ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر نے آگے کہا کہ ”سماج میں لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرنا بابا صاحب کا مقصد تھا اور اسی لیے انہوں نے بہت سے قانون بنائے۔ اگر کسی نے ان کی مکمل طور پر حمایت کی تو وہ پنڈت نہرو اور مہاتما گاندھی نے کی تھی۔ حمایت کے بعد ہی بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ اگر آپ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو متحد ہو کر محنت کرنی چاہیے۔ جب تک آپ متحد نہیں ہوں گے تب تک مندر میں داخلہ نہیں ملے گا۔“



کانگریس صدر نے ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”جب آپ کے بچے شادی کر کے گھوڑے پر سوار ہو کر گاو¿ں سے جاتے ہیں تو وہ حق آپ کو نہیں ملے گا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ مدھیہ پردیش میں پہلے کیا ہوا تھا؟ ایک آدیواسی بچے کے منہ میں پیشاب کر کے اس کو ذلیل کیا گیا تھا۔ واقعہ کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان متاثرہ کے پاو¿ں دھو رہے تھے لیکن پیر دھونے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ جن کے لیے آئین نے جو تحفظ فراہم کیا ہے اس کا استعمال کریں اور ان کی حفاظت کریں تبھی کچھ ہوگا۔“



’ایک دن پورے ملک میں نافذ ہوگا یو سی سی‘، اتراکھنڈ میں یونیفارم سول کوڈ نافذ ہونے پر نائب صدر دھنکھڑ کا اظہارِ خوشی

 




آج اتراکھنڈ وہ پہلی ریاست بن گیا جہاں یو سی سی یعنی یونیفارم سول کوڈ باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ اس تعلق سے ہندوستان کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین بنانے والوں کے خوابوں کو شرمندہ¿ تعبیر کرنے والا قدم بتایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو نہ صرف ملک کے آئین میں موجود پالیسی کے ہدایتی اصولوں کو نافذ کرتا ہے، بلکہ ملک میں جنسی مساوات اور سماجی توازن کو بھی فروغ دے گا۔

نائب صدر نے یہ تبصرہ راجیہ سبھا انٹرنشپ پروگرام کے پانچویں بیچ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنی تقریر کے دوران انھوں نے کہا کہ ”آج کا دن نیک اشارہ لے کر آیا ہے۔ اتراکھنڈ نے یونیفارم سول کوڈ کو اپنا کر آئین کے آرٹیکل 44 کو زمین پر اتارا ہے۔ یہ وہ آرٹیکل ہے جو ہندوستانی شہریوں کے لیے پورے ملک میں یکساں قانون یقینی کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔“ اتراکھنڈ حکومت کی دور اندیشی کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی پورا ملک اس سمت میں قدم بڑھائے گا۔

نائب صدر نے یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کرنے والوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کی ہدایت ہے اور اس کی مخالفت کرنا جہالت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”کچھ لوگ سیاسی فائدہ کے لیے قومیت کو خیر باد کہنے میں بھی جھجک نہیں کرتے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ یو سی سی جنسی مساوات اور سماجی انصاف کو فروغ دے گا۔ آئین ساز اسمبلی کی بحثیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے بار بار اس کی ضرورت کو نشان زد کر چکے ہیں۔“


شمالی غزہ کی طرف لوگوں کا سیلاب امڈ آیا، ناقابل فراموش مناظر






خون، تباہی، قتل و غارت اور آنسوو¿ں کے درمیان 15 ماہ کے انتظار کے بعد ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنی امیدو بیم کی کیفیت میں

پیدل غزہ کی پٹی کے شمال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔


شہریوں کی خوشی ناقابل بیان

شمالی غزہ کی پٹی جانے والے بے گھر افراد کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور پٹی کے شمال کی طرف ساحلی ریشد سٹریٹ پر ہجوم لگ گیا۔


اگرچہ شمالی غزہ کی طرف بڑھنے والے شہری ایک گم نام منزل کے مسافر ہیں کیونکہ جنگ کی وجہ سے وہ اپنے گھروں کو کھو چکے ہیں، شمالی علاقہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور یہاں تک کہ زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کی خوشی دیدنی ہے۔


تصاویر میں غزہ کے باشندوں کو ایک دوسرے سے گلے ملتے، ایک دوسرے کو سلام کرتے، اپنے تباہ شدہ گھروں کے سامنے تصویریں کھینچتے اور پھر اپنے راستے پر چلتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔


العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ کی طرف لوگوں کی واپسی اس وقت ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج نے نیٹزارم کے محور سے انخلائ شروع کیا۔ یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہےجو غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔


گذشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیل نے بے گھر افراد کے لیے شمال کی طرف جانے کے لیے اس راہداری کو کھولنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ جب تک حماس اسرائیلی اسیر خاتون اربیل یہود کو رہا نہیں کرتی تب تک بے گھر فلسطینیوں کو شمال کی طرف نہیں جانے دیا جائے گا۔


گھر نہ خیمے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ ہزاروں لوگ نہیں جانتے کہ وہ اپنے گھروں کے ملبے پر کیسے زندگی بسر کریں گے، خاص طور پر چونکہ اقوام متحدہ نے شمالی غزہ کی پٹی میں 80 فیصد عمارتوں کی تباہی کا تخمینہ لگایا ہے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ کچھ خیمے اور قافلے ان میں سے کچھ کو لوگوں کو پناہ دے سکتے ہیں مگر اس وقت ہزاروں خیموں کی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ اچیم سٹینر نے اس سے قبل وضاحت کی تھی کہ "اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں دو تہائی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں 65 سے 70 فیصد کے درمیان عمارتیں مکمل طور پر تباہ یا تباہ ہوچکی ہیں"۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ نے "60 سال کی ترقی کو ختم کر دیا، 42 ملین ٹن ملبے کو ہٹانا ایک خطرناک اور پیچیدہ عمل ہوگا۔