Thursday, 23 January 2025

بتیا میں ڈی ای او کے گھر پر ویجی لینس کا چھاپہ، کثیر تعداد میں نقد برآمد

 






پٹنہ:بہار کی خصوصی نگرانی اکائی نے جمعرات کی صبح مغربی چمپارن کے ضلع تعلیمی افسر (ڈی ای او) کے ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی۔ اس چھاپہ ماری میں افسر کے گھر سے بڑی تعداد مین نقد برآمد ہوئے۔ ڈی ای او رجنی کانت پروین پر الزام تھا کہ اس نے 20 برس کی اپنی سرکاری خدمات کے دوران کروڑوں روپے کی ناجائز کمائی کی ہے۔ اس کی اطلاع ملنے پر خصوصی نگرانی اکائی نے ان کے بتیا، سمستی پور اور دربھنگہ میں تین ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی۔


ویجی لینس کی ٹیم صبح سے ڈی ای او سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ جانچ میں ابھی تک کثیر تعداد میں نقد برا?مد ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ نوٹ دو بیڈ میں بھرے ہوئے تھے۔ نوٹوں کی تعداد اتنی تھی کہ اسے گننے کے لیے مشین منگوانی پڑی۔


ذرائع کے مطابق پٹنہ سے پہنچی نگرانی کی ٹیم نے آج صبح سے ڈی ای او کی رہائش پر چھاپہ ماری شروع کی۔ اس دوران کسی کو بھی اندر جانے یا باہر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ کارروائی بتیا کے مفصل تھانہ حلقہ واقع بسنت بہار کالونی میں ڈی ای او کے گھر پر کی جا رہی ہے۔ رجنی کانت پروین گزشتہ تین برسوں سے بتیا میں تعینات ہیں۔ ویجی لینس کی ٹیم ان کے گھر میں کئی گھنٹے سے موجود ہے اور ان سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ اس معاملے پر مقامی انتظامیہ اور ویجی لینس محکمہ کے افسران فی الحال کچھ بھی بولنے سے بچ رہے ہیں۔




واضح ہو کہ خصوصی نگرانی اکائی کو قابل اعتماد ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ رجنی کانت پروین جو حال میں ڈی ای او بتیا (مغربی چمپارن) کے عہدے پر ہیں، انہوں نے 2005 سے اب تک کی مدت کے دوران ناجائز طریقے سے مجرمانہ سازش کو ا?گے بڑھانے کے لیے تقریباً 18723625 روپے کی کی بھاری منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جمع کر لیے ہیں، جو ان کی اصل آمدنی سے کافی زیادہ ہے۔


ایس وی یو سے ملی اطلاع کے مطابق رجنی کانت پروین بہار اسٹیٹ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے 45ویں بیچ کے افسر ہیں۔ وہ 2005 سے خدمات میں آئے اور دربھنگہ، سمستی پور اور بہار کے دیگر ضلعوں میں ضلع افسر کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ ان کی سروس کی مدت تقریباً 20-19 سال ہے۔



'ترقی یافتہ ہندوستان' کی تعمیر کے لیے آرام دہ دائرے سے باہر نکلنا ضروری: وزیر اعظم

 



نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو نیتاجی سبھاش چندر بوس کی 128ویں جینتی کے موقع پر کٹک میں منعقدہ 'پراکرم دیوس' تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جیسے نیتاجی نے آزادی کے لیے اپنی آرام دہ زندگی کو ترک کر کے مشکلات
اور چیلنجز کو اپنایا، اسی طرح ہمیں بھی ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے اپنے آرام دہ دائرے سے باہر نکلنا ہوگا۔


وزیر اعظم مودی نے کہا، ”آج نیتاجی سبھاش چندر بوس کے یومِ پیدائش کے موقع پر پورا ملک انہیں عقیدت کے ساتھ یاد کر رہا ہے۔ میں نیتاجی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس سال کے 'پراکرم دیوس' کا شاندار انعقاد ان کے جائے پیدائش میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر کٹک میں ایک بڑی نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے، جس میں نیتاجی کی زندگی سے جڑی مختلف یادگاروں کو پیش کیا گیا ہے۔



وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج جب ہمارا ملک 'ترقی یافتہ ہندوستان' کے عزم کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے تو ہمیں نیتاجی کی زندگی سے مسلسل تحریک ملتی ہے۔ ان کا سب سے بڑا ہدف آزاد ہندوستان تھا، جس کے لیے انہوں نے اپنی پرتعیش زندگی کو چھوڑ کر جدوجہد کو ترجیح دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عالمی سطح پر بہترین بننے، کام میں مہارات اور کارکردگی پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔


وزیراعظم نے کہا کہ نیتاجی نے آزادی کے لیے 'آزاد ہند فوج' بنائی، جس میں ملک کے ہر علاقے اور ہر طبقے کے لوگ شامل تھے۔ ان کی یکجہتی آج بھی 'ترقی یافتہ ہندوستان' کے لیے ایک بڑی سبق ہے۔ ہمیں ان عناصر سے محتاط رہنا ہوگا جو ملک کو کمزور اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کی حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ آزاد ہند سرکار کے 75 سال مکمل ہونے پر لال قلعے پر ترنگا لہرایا گیا۔ حکومت نے نیتاجی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں 2019 میں لال قلعے میں ان کے نام سے عجائب گھر کی تعمیر اور 'پراکرم دیوس' کا اعلان شامل ہے۔



وزیراعظم نے کہا کہ ”پچھلے 10 سال میں حکومت نے تیز رفتار ترقی کے ذریعے عوام کی زندگی کو آسان بنایا ہے۔ 25 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا گیا، دیہات اور شہروں میں جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے اور ہندوستانی فوج کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج عالمی سطح پر ہندوستان کی حیثیت مضبوط ہو رہی ہے۔ ہمیں نیتا سبھاش جی کے نظریے سے متاثر ہو کر ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے مسلسل کام کرنا ہوگا۔ یہی ان کو ہماری سچی خراج عقیدت ہوگی۔“



کوٹہ میں طلبا کی خودکشی کے بڑھتے واقعات سے پرینکا گاندھی افسردہ

 





راجستھان کے کوٹہ شہر میں طلبا کی خودکشی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ روز بہ روز خودکشی کے معاملوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بدھ (22 جنوری) کو گجرات کی ایک نیٹ طالبہ اور جے ای ای کی کوچنگ کرنے والے آسام کے طالب علم نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ ایک ہی روز میں 2 طلبا کی موت سے لوگوں کو کافی صدمہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”کوٹہ راجستھان میں ایک ہی روز 2 بچوں کی خودکشی کی خبر انتہائی خوفناک اور دل دہلانے والی ہے۔“


وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ”یہاں 3 ہفتے کے اندر 5 طالب علموں نے خودکشی کی ہے، یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔“ علاوہ ازیں پرینکا گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھتی ہیں کہ ”یہ وقت تعلیمی اداروں، سرپرستوں اور حکومتوں کو مل کر سوچنے اور خود احتسابی کا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ہمارے بچوں پر اس قدر دباو¿ ہے کہ وہ اسے سنبھال نہیں پاتے، یا پورا ماحول ان کے لیے سازگار نہیں ہے؟“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”حکومت کو اس سمت میں ٹھوس قدم اٹھانا چاہیے۔ بچوں کی نفسیات، تعلیم کے طریقوں اور ماحول کے متعلق گہرائی سے مطالعہ ہونا چاہیے اور ضروری اصلاحی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔“ 




قابل ذکر ہے کہ بدھ کو جن 2 طالب علموں نے خودکشی کی تھی اس میں ایک گجرات کے احمد آباد کی رہنے والی آصفہ شیخ تھی۔ نیٹ کی طالبہ آصفہ جواہر نگر علاقہ میں ایک کرایہ کے مکان میں رہتی تھی۔ طالبہ نے بدھ کو صبح قریب 10 بجے کمرے میں پھانسی لگا کر اپنی جان دے دی۔ آصفہ کی موت کے 2 گھنٹے بعد ہی ایک اور طالب علم نے خود کشی کی تھی۔ گوہاٹی کے رہنے والے 18 سالہ طالب علم جے ای ای کے امیدوار نے مہاویر نگر علاقہ میں واقع اپنے ہاسٹل کے کمرے میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ پولیس کے مطابق متوفی طالب علم کو اگلے ہفتہ جے ای ای-مینس کا امتحان دینا تھا۔ واضح ہو کہ کوچنگ ہب کے نام سے مشہور کوٹہ شہر میں سال کے پہلے 22 دنوں میں خودکشی کے ایسے 6 معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ وہیں 2024 میں ایسے 17 معاملے سامنے آئے تھے۔



وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ترقی یافتہ بہار کا خواب پورا کیا: انجم آرا

 




پٹنہ: جے ڈی (یو) کی ریاستی ترجمان محترمہ انجم آرا نے کہا کہ عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار نے ترقی یافتہ بہار کے خواب کو پورا کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے سامعین سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کے دور حکومت میںبدحال بہار کی بہتری کا کام وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کیا ہے۔

پارٹی کے ریاستی ترجمان نے کہا کہ عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کی قیادت میں بہار ترقی، سماجی انصاف، خواتین کو بااختیار بنانے، دلتوں کی ترقی، اقلیتوں کے تحفظ اور احترام اور ترقی کی ایک کامیاب تجربہ گاہ ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپنی قابل قیادت میں جس طرح سے بہار کی معیشت اور امن و امان کو دوبارہ پٹری پر لا کر بہار کی ترقی کی راہ ہموار کی جو جنگل راج کے دوران پوری طرح سے تباہ ہو گئی تھی، وہ حیرت انگیز اور بے مثال ہے۔

 انہوں نے کہا کہ عزت مآب وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ووٹوں کی نہیں بلکہ ووٹروں کی فکر ہے۔ وہ بہار کے تمام لوگوں کو اپنا خاندان سمجھتے ہیں اور سب کی ترقی، خوشحالی اور خوشیوں کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ اپنے دور میں، انہوں نے سب کو انصاف، سب کے لیے ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے مقصد سے ریاست بھر میں کئی دورے کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاست بھر میں جاری ان کی پرگتی یاترا بھی اچھی حکمرانی کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔

سہرسہ ضلع میں کئے گئے ترقیاتی کاموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوسی ندی پر بلواہا گھاٹ پر 500 کروڑ روپے کی لاگت سے ضلع کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا 2 کلومیٹر طویل ہائی لیول پل تعمیر کیا گیا ہے اور سمری بختیار پور میں کوشی ندی پر ڈینگراہی گھاٹ پر 414 کروڑ روپے کی لاگت سے دوسرے پل کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ ضلع کی 135 پنچایتوں میں سے 31 پنچایتوں میں پنچایت سرکاری عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ 87 پنچایتوں میں پنچایت سرکاری عمارتیں زیر تعمیر ہیں۔ ضلع میں کرپوری ہاسٹل تعمیر کیا گیا ہے جس میں 100 او بی سی طلبہ رہ رہے ہیں اور او بی سی طالبات کے لیے ایک گرلز ہاسٹل تعمیر کیا گیا ہے جس میں 100 لڑکیاں رہ رہی ہیں اور معیاری تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں ایس سی/ایس ٹی کمیونٹی کے لئے لڑکیوں اور لڑکوں کے ہاسٹل کی تعمیر کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ ضلع میں ایک زرعی کالج بھی بنایا گیا ہے جہاں طلباءزراعت سے متعلق مضامین پڑھ رہے ہیں۔


یوم جمہوریہ کے پروگرام اور امتحانات کے مد نظر اسکولوں کو کھولنے کی وزیراعلیٰ سے درخواست

 


پٹنہ، : پرائیویٹ اسکولس اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد نے بہار کے عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار سے پٹنہ ضلع میں سردی کی وجہ سے اسکولوں کو بند کرنے کے حکم پر دوبارہ
غور کرنے کی اپیل کی ہے۔

سید شمائل احمد نے کہا کہ خاص طور پر امتحانات سے پہلے اسکولوں کو بند کرنے کے فیصلے سے نہ صرف چھوٹے بچوں اور طلباءکی پڑھائی پر برا اثر پڑے گا بلکہ یوم جمہوریہ کی قومی تقریبات پر بھی اس کا منفی اثر پڑے گا۔ یوم جمہوریہ کے پروگرام ہمارے قومی اتحاد، حب الوطنی اور جمہوریت کے تئیں ہماری وابستگی کی علامت ہیں۔ ایسی تقریبات میں بچوں کی فعال شرکت انہیں اپنے ملک کے تئیں ذمہ داری اور فخر کا احساس دلاتی ہے۔ اگر سکول بند رہے تو ان تقریبات میں طلبہ کی شرکت محدود ہو جائے گی جو حب الوطنی کے جذبے کے فروغ میں رکاوٹ بن جائے گی۔

سید شمائل احمد نے معزز وزیر اعلیٰ سے درخواست ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تعلیم، بچوں کی حفاظت اور قومی جذبات کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔


اردو کونسل ہند دربھنگہ اکائی کا قیام عمل میں آیا

 



سرپرست سابق اے ڈی ایم نیاز احمد ، صدر مشتاق شمشی،نائب صدر ایڈوکٹ شاہد اطہرو ڈاکٹر ارشد حسین سلفی نامزد

دربھنگہ ( نمائندہ) ا±ردو کونسل ہند کمیٹی کے ناظم اعلیٰ اسلم جاوداں نے اس تنظیم کو مظبوطی فراہم کرنے کی غرض سے پورے صوبے کے ساتھ ساتھ دربھنگہ میں بھی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اس کے لئے انہوں نے اردو کونسل ہند کے دربھنگہ ضلع اکائی کا سرپرست سابق اے ڈی ایم نیاز احمد کو بنایا ہے جبکہ صدر کی زمہ داری مشتاق شمشی کو دی گئی ہے اسی طرح نائب صدر ایڈوکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس و ڈاکٹر ارشد حسین سلفی نامزد کئے گئے ہیں اس کے علاوہ جنرل سکریٹری کے عہدہ پر نسیم احمد رفعت مکی وہیں عرفان احمد پیدل و انجینئر عظمت اللہ ابو سعید کو کمیٹی کا سکریٹری نامزد کیا گیا ہے جبکہ کمیٹی کو مزید بہتر و مظبوطی فراہم کرنے کی غرض سے ناظم اعلیٰ نے جاوید اختر ، ڈاکٹر منور عالم راہی ، قاری محمد شہاب الدین ، سرور حسین صدیقی ، حافظ مزمل الحق ندوی ، امام الدین ندوی ، مولانا امن نواز خان ، سید حامد انور و ماسٹر قیصر احسن کو کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا ہے اردو کونسل ہند دربھنگہ اکائی کی کمیٹی تشکیل دیئے جانے پر دربھنگہ ضلع کے سینکڑوں افراد و دانشوران نے کمیٹی کے دربھنگہ ضلع کے عہدے داران سمیت تمام رکن کو دلی مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کیا ہے کہ ان لوگوں کی محنت و مشقت سے کمیٹی مزید مظبوط ہوگی ساتھ ساتھ مسلمانوں و خاص کر اردو سے متعلق جو بھی مسئلے مسائل ہیں اسے اس کمیٹی کے رکن حل کرنے و کرانے میں محنت کریں گے و عملی جامہ پہنانے میں پورا تعاون کریں گے اتنا ہی نہیں ضلع انتظامیہ و تمام افسران و سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں میں جاکر اردو سے متعلق گفتگو کریں گے ساتھ ساتھ ان اسکولوں میں جو اردو کے اساتذہ کرام ہیں وہ اردو کے ساتھ کس طرح سے پیش آتے یا آ رہے ہیں اس پر گفتگو کریں گے اردو پڑھنے والے بچوں سے گزارش ہے کے آپ اردو پڑھنے کے ساتھ ساتھ چھٹی و سارے معاملات کی درخواست اردو ہی میں دیں۔ کمیٹی سارے مسلمان دکانداروں بھائی و بہنوں سے گزارش کرتی ہے کہ اپنے دکان کا بورڈنگ و گھروں پے نیم پلیٹ اردو میں لگوانے کا کام کریں۔


Wednesday, 22 January 2025

جنتا دل یو نے منی پور میں بی جے پی سے حمایت واپسی کا کیا اعلان

 




بہار میں بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت چلانے والی جنتا دل یو نے منی پور میں بی جے پی کو زوردار جھٹکا دیا ہے۔ نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یو نے ا?ج (22 جنوری) بی جے پی کی منی پور حکومت کو حمایت نہ دینے کا فیصلہ کر سیاسی ہلچل میں اضافہ کر دیا ہے۔ اب ریاستی اسمبلی میں جنتا دل یو کے واحد رکن اسمبلی محمد عبدالناصر اپوزیشن کی بنچ پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔


قابل ذکر ہے کہ تقریباً 2 سالوں سے تشدد کا سامنا کر رہی ریاست منی پور میں نظامِ قانون کو لے کر بی جے پی پر پہلے ہی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ جنتا دل یو کی حمایت واپسی سے حکومت کو خطرہ تو نہیں لیکن یہ ایک جھٹکا ضرور ہے۔ منی پور میں 2022 میں ہوئے اسمبلی انتخاب کے دوران جنتا دل یو نے 6 سیٹیں جیتی تھیں۔ انتخاب کے چند ماہ بعد ہی 5 اراکین اسمبلی بی جے پی میں چلے گئے تھے۔ اس سے برسراقتدار پارٹی بی جے پی کے اراکین اسمبلی کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ جنتا دل یو کے پاس صرف ایک رکن اسمبلی رہ گیا تھا، اور اب موجودہ سیاسی ماحول میں پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بی جے پی کو حمایت نہیں دے گی۔


منی پور کی جنتا دل یو یونٹ کے چیف کیش بیرین سنگھ نے گورنر اجئے کمار بھلّا کو ایک خط لکھا ہے جس میں پارٹی کے فیصلے سے متعلق جانکاری دے دی ہے۔ جنتا دل یو کی حمایت واپسی کا یہ فیصلہ کونراڈ سنگما کی قیادت والی این پی پی کے ذریعہ گزشتہ سال نومبر ماہ میں حمایت واپسی کے فیصلہ کے چند ماہ بعد ہی لیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے منی پور کی بی جے پی حکومت کو بھلے ہی کوئی خطرہ نہ ہو، لیکن حکومت سے متعلق ایک منفی پیغام ضرور گیا ہے۔


کیش بیرین سنگھ نے گورنر کو تحریر کردہ اپنے خط میں لکھا ہے کہ جنتا دل یو کی منی پور یونٹ ریاست میں بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت کی حمایت نہیں کرتی۔ اس لیے ہمارے واحد رکن اسمبلی محمد عبدالناصر کو ایوان میں اپوزیشن رکن اسمبلی مانا جائے۔ حالانکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ نتیش کمار نے منی پور کی بی جے پی حکومت سے حمایت واپسی کا اعلان کیوں کیا۔ اس درمیان پٹنہ سے خبر آرہی ہے کہ پارٹی نے منی پور میں اپنے ریاستی صدر بیرین سنگھ کو بھی عہدہ سے ہٹا دیا ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں مصدقہ طور پر کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔


دہلی فسادات: طاہر حسین کو سپریم کورٹ سے راحت نہیں، عبوری ضمانت پر ججوں کی رائے منقسم

 




نئی دہلی: سپریم کورٹ میں بدھ کو 2020 دہلی فسادات کے ملزم اور سابق عام آدمی پارٹی لیڈر طاہر حسین کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت کی دو ججوں پر مشتمل بنچ نے ضمانت کی درخواست پر مختلف آراءکا اظہار کیا۔


جسٹس پنکج متل نے طاہر حسین کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فسادات میں ان کا کردار کلیدی رہا تھا اور ان کے گھر سے اسلحہ برآمد ہوا تھا۔ دوسری جانب جسٹس احسان الدین امان اللہ نے درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ طاہر حسین پانچ سال سے جیل میں ہیں اور انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کو مہم چلانے کا موقع ملنا چاہیے۔



اب یہ معاملہ تین ججوں کی بنچ کو بھیجا گیا ہے، جس کے لیے چیف جسٹس کو نئی بنچ تشکیل دینی ہوگی۔ طاہر حسین نے دہلی اسمبلی انتخابات میں تشہیر کے لیے ضمانت کی درخواست دی تھی۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے انہیں مصطفیٰ باد اسمبلی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔


جسٹس امان اللہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائی کورٹ نے طاہر حسین کو نامزدگی کے لیے پیرول پہلے ہی دی تھی، لہٰذا انتخابی مہم کے باقی دنوں میں انہیں اجازت دی جانی چاہیے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ طاہر حسین انتخابی مہم کے دوران گواہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اب حتمی فیصلہ نئی بنچ کرے گی۔


اننت سنگھ کے قافلہ پر گولیوں کی بوچھار، 60 سے 70 راو ¿نڈ فائرنگ سے علاقہ میں دہشت

 





پٹنہ:بہار کے زورآور لیڈر اننت سنگھ کے قافلے پر قاتلانہ انداز میں اندھا دھند فائرنگ کی خبر سامنے آرہی ہے۔ یہ فائرنگ مکامہ میں ہوئی ہے جہاں اندھا دھند گولیوں کی آواز سے علاقے میں دہشت کا ماحول پھیل گیا ہے۔ بہار میں ’چھوٹے سرکار‘ کے نام سے مشہور اننت سنگھ کے قافلہ میں موجود گاڑیوں پر 60 سے 70 راو¿نڈ فائرنگ کی جانکاری سامنے آئی ہے۔ اس واقعہ کو انجام دینے کا الزام سونو-مونو گینگ پر عائد ہو رہا ہے۔

دراصل اننت سنگھ اور سونو-مونو گینگ کے درمیان پہلے بھی کئی بار ٹکراو¿ ہو چکے ہیں۔ تازہ واقعہ کے بعد علاقے کے لوگوں میں ہی نہیں، پولیس محکمہ میں بھی افرا تفری پیدا ہو گئی۔ فائرنگ واقعہ کے فوراً بعد راجدھانی پٹنہ سے کثیر تعداد میں پولیس فورس کو جائے وقوع پر بھیجا گیا۔ واردات کے وقت مکامہ کے سابق رکن اسمبلی اننت کمار سنگھ ہیمجا گاو¿ں میں عام لوگوں سے ملاقات کر رہے تھے۔ حادثہ میں وہ بال بال بچ گئے، لیکن قافلے میں شامل ایک شخص کو گولی لگی ہے جو سنگین طور پر زخمی ہو گیا ہے۔ اسے علاج کے لیے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

فائرنگ واقعہ کے فوراً بعد کثیر تعداد میں پولیس فورس لے کر باڑھ کے اے ایس پی جائے حادثہ پر پہنچے۔ پھر اننت سنگھ کو ان کے قافلہ کے ساتھ وہاں سے روانہ کر دیا گیا۔ پولیس نے علاقہ میں تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اے ایس پی راکیش کمار کے مطابق جائے وقوع سے کئی کھوکھے برآمد کیے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ واقعہ کے تعلق سے مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 14 اگست کو پٹنہ ہائی کورٹ نے اے کے-47 اور رہائش سے بلیٹ پروف جیکٹ ملنے کے معاملے میں اننت سنگھ کو بری کیا تھا۔ اس کے بعد ان کے خلاف پولیس کے پاس کوئی زیر التوا معاملہ نہیں تھا۔ ایسے حالات میں انھیں گزشتہ سال 16 اگست کو جیل سے رِہائی مل گئی تھی۔


Tuesday, 21 January 2025

کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ، پوچھا- ’لا کمیشن کے ساتھ قابل اعتراض سلوک کیوں؟‘

 








کانگریس نے منگل کو 23ویں لا (قانون) کمیشن کی تشکیل کا اعلان نہ کیے جانے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ آخر حکومت اس باوقار ادارے کے ساتھ ایسا قابل اعتراض رویہ کیوں اختیار کر رہی ہے؟ پارٹی کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ 22ویں قانون کمیشن کو بغیر کسی رپورٹ پیش کیے 31 اگست 2024 کو ختم کر دیا گیا۔


جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ 21ویں قانون کمیشن، جسے مودی حکومت نے مقرر کیا تھا، نے 31 اگست 2018 کو 182 صفحات پر مشتمل ایک مشاورتی دستاویز جاری کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ”ہندوستانی ثقافت کے تنوع کا جشن منایا جانا چاہیے اور اس عمل میں کسی بھی طبقے یا کمزور گروہ کو محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ لہٰذا اس وقت یکساں سول کوڈ کی ضرورت نہ تو لازمی ہے اور نہ ہی مطلوبہ۔“



انہوں نے مزید کہا کہ 14 جون 2023 کو جاری ایک پریس نوٹ میں 22ویں قانون کمیشن نے یکساں سول کوڈ کا جائزہ لینے کے ارادے کا دوبارہ اعلان کیا تھا، مگر اپنی رپورٹ پیش کرنے سے پہلے ہی اس کمیشن کی مدت ختم کر دی گئی۔


جے رام رمیش نے کہا، ”23ویں قانون کمیشن کا اعلان 3 ستمبر 2024 کو کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس کی تنظیم کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت قانون کمیشن جیسی معزز ادارے کے ساتھ ایسا قابل اعتراض سلوک کیوں کر رہی ہے؟“


دوسری طرف، اتراکھنڈ کابینہ نے پیر کو یکساں سول کوڈ کے قانون کی قواعد کو منظوری دے دی۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ قواعد کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس کے نفاذ کی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔



بی جے پی والے غریبوں کو ’راکشس‘ کی طرح نگل جائیں گے: اروند کیجریوال

 








عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ راون کی فطرت رکھتے ہیں اور اگر دہلی کے عوام نے انہیں منتخب کیا تو یہ غریب طبقے کو ’راکشسوں‘ کی طرح نگل جائیں گے۔



انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں راون کے کردار کی نشاندہی کی تھی کہ راون سونے کا ہرن بن کر آیا اور سیتا میا اس ہرن پر مائل ہو گئیں۔


دریں اثنا، بی جے پی نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مظاہرہ کیا اور کہا کہ ہرن راون نہیں بلکہ ماریچ تھا۔ کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی راون کے کردار کا دفاع کر رہی ہے، جس سے ان کی فطرت آشکار ہوتی ہے۔


انہوں نے دہلی کے جھگیوں میں رہنے والوں اور غریب عوام کو خبردار کیا کہ بی جے پی اگر اقتدار میں آتی ہے تو ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ غریب طبقے کو راون کے انداز میں نگلنے کے درپے ہیں۔



بی جے پی کے کئی لیڈران، جن میں رکن پارلیمنٹ منوج تیواری بھی شامل ہیں، نے اروند کیجریوال پر الزام لگایا کہ انہیں رامائن اور سیتا میا کے بارے میں کچھ نہیں معلوم اور ان کے بیانات سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔



بی جے پی کے کارکنوں نے منگل کو کیجریوال کے گھر کے باہر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔ دوسری طرف، کیجریوال نے بی جے پی کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد عوامی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔



سیف علی خان کو اسپتال سے ملی چھٹی، صحت یاب ہو کر پہنچے گھر

 






بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کو آج ممبئی واقع لیلاوتی اسپتال سے چھٹی مل گئی اور وہ بخیر و عافیت گھر پہنچ گئے۔ 16 جنوری کی علی الصبح گھر میں ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ آج چھٹے دن انھیں ڈاکٹروں نے گھر جانے کی اجازت دے دی اور کرینہ کپور سخت سیکورٹی کے درمیان انھیں لے کر رہائش پر پہنچیں۔


ڈاکٹروں نے آج صبح ہی بیان دیا تھا کہ سیف علی خان اب ٹھیک ہیں اور انھیں اسپتال سے چھٹی دی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹروں نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ اگر اہل خانہ انھیں گھر لے جانا چاہتے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے بعد سیف علی خان کو گھر لے جانے سے متعلق تیاریاں شروع ہو گئیں۔ سیف علی خان کی رہائش پر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور کچھ اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔


واضح رہے کہ سیف علی خان پر 16 جنوری کی صبح حملہ آور نے چاقو سے کئی حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں سیف بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔ ان کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی میں سنگین چوٹیں آئی تھیں۔ لیلاوتی اسپتال پہنچنے کے بعد سیف علی خان کا کئی گھنٹے تک آپریشن چلا اور پھر ڈاکٹروں نے انھیں خطرے سے باہر بتایا۔ ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا کہ حملے سیف کو ریڑھ کی ہڈی کے علاوہ 3 مقامات پر شدید چوٹ پہنچی تھی۔ ان میں 2 زخم ہاتھ پر تھے اور ایک گردن کی دائیں طرف۔


سیف علی خان کی سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے ان کی ریڑھ کی ہڈی میں پھنسی نکیلی چیز نکالی۔ اس نکیلی چیز کو چاقو کا اگلا حصہ بتایا جا رہا ہے۔ سرجری کے بعد سیف علی خان کو 17 جنوری کو آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا۔ طبیعت مزید بہتر ہوتے ہی انھیں نارمل وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ 5 دن اسپتال میں گزارنے کے بعد آج چھٹے دن سیف علی خان کو گھر جانے کی اجازت ملی، اور اب وہ خیر و عافیت سے گھر پہنچ گئے۔



اشتعال انگیز گیت معاملہ میں عمران پرتاپ گڑھی کو ملی ’سپریم‘ راحت، عدالت عظمیٰ نے گجرات حکومت کو بھیجا نوٹس

 





مشہور و معروف شاعر اور کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کو آج اس وقت سپریم کورٹ سے ایک بڑی راحت ملی جب عدالت عظمیٰ نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو رد نہ کرنے سے متعلق گجرات ہائی کورٹ کے فیصلہ پر ایک اہم تبصرہ کیا۔ گجرات کے جام نگر میں منعقد اجتماعی شادی کی ایک تقریب کے پس منظر میں مبینہ قابل اعتراض گیت کے ساتھ ایڈٹ کی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے معاملے میں عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں کہا ہے کہ عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف سزا کی کوئی بھی کارروائی نہیں ہوگی۔



جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس ا±جول بھوئیاں کی بنچ نے عمران پرتاپ گڑھی کے ذریعہ داخل عرضی پر گجرات حکومت اور شکایت دہندہ کشن بھائی دیپک بھائی نندا کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں اسی معاملے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر رد نہیں ہوگی۔ اس فیصلہ کے خلاف عمران پرتاپ گڑھی نے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا جہاں سے انھیں راحت ملی ہے۔



دراصل جام نگر کے باشندہ کشن نندا کی شکایت پر عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران نے 29 دسمبر 2024 کو اجتماعی شادی تقریب میں شامل ہونے کے 3 دن بعد 2 جنوری 2025 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی۔ اس ویڈیو میں عمران پرتاپ گڑھی کو پھولوں کی بارش کے درمیان لوگوں کا استقبال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کے بیک گراو¿نڈ میں سنائی دے رہی گیت کے الفاظ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے اور تشدد بھڑکانے والے ہیں۔


پولیس سپرنٹنڈنٹ پریم سکھ دیلو کے مطابق اس ویڈیو پر کچھ لوگوں نے تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے ویڈیو کا موازنہ شام اور عراق سے کر دیا ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ ویڈیو میں آواز غالباً عمران پرتاپ گڑھی کی ہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران پر بی این ایس کی دفعہ 57 بھی لگائی گئی ہے، جو 10 یا زیادہ لوگوں کو جرم کرنے کے لیے اکسانے سے متعلق ہے۔ اس دفعہ کے تحت 7 سال تک کی جیل ہو سکتی ہے۔



جس اجتماعی شادی کا تذکرہ شکایت دہندہ نے کیا ہے، وہ الطاف خافی کے یوم پیدائش پر منعقد ہوا تھا۔ اس میں 51 جوڑوں کی شادی ہوئی تھی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کو اس تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو معاملے میں جب ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تھی تو انھوں نے گجرات ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ اس وقت جسٹس سندیپ بھٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ”جانچ ابھی شروعاتی مرحلہ میں ہے، مجھے بی این ایس 2023 کی دفعہ 528 یا آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت اپنی طاقتوں کا استعمال کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے۔ یہ عرضی خارج کی جاتی ہے۔“