Saturday, 28 December 2024

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسومات میں بھوٹان کے بادشاہ اور ماریشش کے وزیر خارجہ کی بھی شرکت





ہندوستان کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسومات آج پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا ہو گئیں۔ اس موقع پر نہ صرف ہندوستان کی سرکردہ سیاسی شخصیات موجود تھیں، بلکہ بیرون ممالک کے بھی کئی اہم شخصیات نے نم آنکھوں کے ساتھ انھیں الوداع کہا۔ بیرون ملکی شخصیات میں بھوٹان کے بادشاہ جگمے کھیسر نامیگل وانگ چک اور ماریشش کے وزیر خارجہ دھننجے رام پھل کا نام قابل ذکر ہے، جنھوں نے دہلی کے نگم بودھ گھاٹ پر منموہن سنگھ کی آخری رسومات میں شرکت کی۔


موصولہ اطلاع کے مطابق ماریشس اور بھوٹان دونوں ہی ممالک نے اپنے قومی پرچم کو 28 دسمبر کے لیے نصف سرنگوں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماریشس کی حکومت نے ڈاکٹر منموہن کے احترام میں 28 دسمبر کو اپنا قومی پرچم نصف جھکا رکھنے کا اعلان کیا اور ایک نوٹ میں ماریشس کے وزیر اعظم نوین چندر رامگولم کے دفتر نے پرائیویٹ سیکٹر سے بھی پرچم کو نصف جھکائے رکھنے کی گزارش کی۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ماریشس کے وزیر اعظم نوین چندر رامگولم نے پورٹ لوئس میں ہندوستانی ہائی کمیشن میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی یاد میں ایک تعزیتی کتاب پر دستخط بھی کیے۔


یہ بھی پڑھیں :منموہن سنگھ کو ریاستی اعزازکے ساتھ قوم نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا، راہل ہر جگہ موجود رہے



جہاں تک بھوٹان کا سوال ہے، وہاں بھی قومی پرچم اآدھا سرنگوں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پورے بھوٹان اور بیرون ملک بھوٹانی سفارت خانوں، مشنز و قونصل خانوں پر آنجہانی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے احترام اور حکومت ہند و ہندوستانی عوام کے ساتھ یکجہتی کی علامت کے طور پر قومی پرچم نصف سرنگوں رکھے جائیں گے۔


اس سے قبل جمعہ کو بھوٹان کے بادشاہ اور ملکہ نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی یاد میں خصوصی دعائیہ تقریب میں شرکت کی تھی۔ بھوٹان کے بادشاہ اور ملکہ نے آنجہانی منموہن سنگھ کی یاد میں کرمی ٹونگچوڈ یا مکھن کے ایک ہزار لیمپ پیش کیے۔ دعائیہ تقریب میں بھوٹان کے وزیر اعظم، ہندوستانی سفیر اور شاہی حکومت و حکومت ہند کے اعلیٰ افسروں نے بھی شرکت کی تھی۔ اسی طرح کی دعائیہ تقریبات تمام 20 جونگ کھاگ میں بھی منعقد کی گئیں۔


منموہن سنگھ کو ریاستی اعزازکے ساتھ قوم نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا، راہل ہر جگہ موجود رہے

 





آنجہانی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی آخری رسومات( دہلی کے نگم بودھ گھاٹ پر سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ پورے ملک نے انہیں بھرے آنسوو¿ں سے الوداع کہا۔ منموہن سنگھ کی آخری رسومات میں جہاں صدر دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ موجود رہے وہیں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سابق وزیر اعظم کے آخری سفر میں ہر جگہ موجود رہے۔


سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسومات آج دہلی کے نگم بودھ گھاٹ پر سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ اس سے پہلے ان کا آخری سفر کانگریس دفتر سے نگم بودھ گھاٹ تک نکالا گیا۔ کانگریس دفتر میں جہان عام لوگوں نے ان کے دیدار کئے وہیں کانگریس کے اعلی رہنماو¿ں نے ان کو خراج عقیدت پیش کی۔


کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتیں ان کی یادگار بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جس پر حکومت نے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس کے لیے ٹرسٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ منموہن سنگھ کا انتقال 26 دسمبر کی رات دہلی کے ایمس اسپتال میں ہوا تھا۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا جسد خاکی نگم بودھ گھاٹ پہنچ گیا ہے۔ ان کے آخری سفر میں سیاسی رہنماو¿ں سمیت کثیر تعداد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور عام لوگ شامل ہوئے۔ 10 برسوں تک ملک کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 92 سال کی عمر میں گزشتہ دنوں انتقال ہو گیا تھا۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسوم میں شامل ہونے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی پہنچے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسوم میں شامل ہونے کے لیے ماریشس کے وزیر خارجہ بھی پہنچے۔ بھوٹان کے راجہ بھی اس موقع پر موجود ہیں۔


ڈاکٹر منموہن سنگھ کا جسد خاکی نگم بودھ گھاٹ پہنچ چکا ہے اور اب تھوڑی دیر میں آخری رسوم کی ادائیگی شروع ہوگی۔ اس سے پہلے کانگریس دفتر سے آرمی کے میموریل ٹرک میں نکلے منموہن سنگھ کے آخری سفر میں راہل گاندھی بھی شامل تھے، جو یاترا کے ساتھ ہی نگم گھاٹ پہنچے۔ آنجہانی منموہن سنگھ کا کنبہ بھی اس دوران موجود تھا۔ منموہن سنگھ کے آخری سفر کے موقع پر لوگوں کا اژدہام دیکھنے کو ملا جو اپنے رہنما کا آخری دیدار کر رہا تھا اور سبھی کی آنکھیں نم تھیں۔ منموہن سنگھ کا آخری سفر کانگریس دفتر سے اکبر روڈ سے انڈیا گیٹ، انڈیا گیٹ سے تلک مارگ، تلک مارگ ہوتے ہوا نکلا۔



آذربائیجان کے طیارہ پر روس نے ہی کیا تھا حملہ، پوتن نے اپنی غلطی کے لیے مانگی معافی

 




روسی صدر ولادمیر پوتن نے آذربائیجان کے صدر سے گزشتہ دنوں پیش آئے اس طیارہ حادثہ پر معافی مانگ لی ہے، جس میں تقریباً 38 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ روسی صدر کے معافی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طیارہ کسی پرندہ سے ٹکر کا نہیں بلکہ روسی حملہ کا شکار ہوا تھا۔ واضح ہو کہ بدھ (25 دسمبر 2024) کو قزاقستان کے شہر اکتاو¿ کے پاس آذربائیجان کا طیارہ خوفناک حادثہ کا شکار ہوا تھا۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ نے جنوبی روس سے اپنی سمت تبدیل کی تھی۔ یہاں روس کو یوکرینی ڈرونز کے حملے کی اطلاع ملی تھی۔ پھر روسی میزائل ڈیفنس سسٹم نے طیارے کو اپنے میزائل کا نشانہ بنا لیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ غلطی سے آذربائیجان کے طیارہ کو ہدف بنایا گیا جس سے کئی جانیں تلف ہو گئیں۔


روس کے کریملن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پوتن نے اس واقعے پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے معافی مانگی ہے۔ انہوں نے اسے ’روسی فضائی حدود میں پیش آنے والا ایک بدقسمت واقعہ‘ قرار دیا۔ ساتھ ہی پوتن نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ کریملن کے مطابق ا±س وقت گروزنی میں یوکرین کے ڈرون حملے ہو رہے تھے جس کی وجہ سے روس کا فضائی دفاعی نظام فعال کیا گیا تھا۔ حالانکہ آذربائیجان کے افسران نے ابتدائی تحقیق کے دوران ہی کہا تھا کہ طیارہ پر کسی بیرونی تکنیک کی مداخلت ہوئی تھی جس کی وجہ سے طیارہ نے اپنا کنٹرول کھو دیا تھا۔ ساتھ ہی تحقیق میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا تھا کہ طیارہ کے پنکھوں میں گولی کے نشان بھی تھے۔



قابل ذکر ہے کہ طیارہ حادثہ پر امریکی افسران نے اپنی تحقیق میں بھی اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے ہی طیارہ کو مار گرایا تھا۔ وائٹ ہاو¿س کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کِربی نے کہا کہ ”ابتدائی تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس طیارے کو روسی فضائی دفاعی نظام نے ہی مار گرایا ہے۔“ حالانکہ انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے کی تحقیق جاری رہے گی۔ واضح ہو کہ حادثے کے بعد روس کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ابتدائی تحقیقات کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ طیارہ پرندے کے ٹکرانے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو گیا تھا، لیکن ماہرین نے اس دعوے کو ا±سی وقت خارج کر دیا تھا۔ اب روسی صدر نے بھی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے اور اس واقعہ کے لیے معافی بھی مانگ لی ہے۔


Friday, 27 December 2024

شاعروں میں علامہ اقبال اور کھانے میں مچھلی ....مزید کیا کیا چیزیں پسند تھیں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو؟

 





ماہر معیشت منموہن سنگھ نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا ہے۔ کل ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ ان کا 33 سالہ سیاسی سفر ایک روشن باب کی مانند رہا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے سرکردہ لیڈران ہی نہیں... دنیا بھر کے سیاسی و سماجی لیڈران کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی عظیم ہستیاں منموہن سنگھ کے انتقال پر اظہارِ رنج و غم کر رہی ہیں۔ منموہن سنگھ کم گو تھے، لیکن ان کی زبان سے جب بھی کوئی الفاظ نکلتے تھے تو وہ اہمیت کے حامل ہوتے تھے۔ ا?ئیے یہاں جانتے ہیں کہ خاموشی کے ساتھ ملک کے لیے کام کرنے والے اس لائق و فائق ہستی کو کھانے میں کیا پسند تھا اور ان کے پسندیدہ رائٹر کون تھے، کس شاعر کی شاعری وہ پسند کرتے تھے اور کون سا رنگ ان کے دل کے قریب تھا۔


:پسندیدہ کھانا

منموہن سنگھ بہت زیادہ کھانے پینے والے انسان نہیں تھے، اور نہ ہی انھیں گوشت خوری عزیز تھی۔ طویل وقت تک منموہن سنگھ کے میڈیا صلاح کار رہے سنجے بارو نے اپنی کتاب ’ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ میں لکھا ہے کہ 2009 میں دوسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد منموہن نے کچھ صحافیوں کو وزیر اعظم رہائش پر کھانے کے لیے مدعو کیا۔ صحافی جب ا?ئے تو منموہن نے بہت تھوڑا کھایا، جس پر سب دیکھتے رہے۔ منموہن نے اس کے بعد خود کہا کہ میں کم ہی کھانا پسند کرتا ہوں۔ کھانے کے بعد منموہن چائے یا کافی لینا پسند کرتے تھے۔


بارون کے مطابق منموہن کھانے میں چپاتی اور پراٹھا ہی اکثر لیا کرتے تھے۔ مچھلی کھانا انھیں سب سے زیادہ پسند تھا، لیکن کبھی کبھی۔ منموہن ذیابیطس کی وجہ سے میٹھا نہیں کھاتے تھے۔ ان کی شریک حیات گرشرن کور بھی یہ یقینی بناتی تھیں کہ منموہن میٹھا نہ کھا پائیں۔ منموہن کو چاول کڑھی اور اچار کھانا بھی پسند تھا۔ منموہن کی بیٹی دمن سنگھ اپنی کتاب میں اس بات کا تذکرہ کرتی ہیں۔ دمن کے مطابق منموہن سنگھ پنجابی اسٹائل میں تیار چاول-کڑھی اور اچار کھانا بہت پسند کرتے تھے۔ وہ اپنے کنبہ کے ساتھ 2 ماہ میں ایک بار فیملی ڈنر پر بھی جاتے تھے۔ اس دوران منموہن بنگالی مارکیٹ کا چاٹ کھانا نہیں بھولتے تھے۔


:پسندیدہ رائٹر

معیشت کی پڑھائی کرنے والے منموہن سنگھ کے پسندیدہ رائٹر فرانس کے سیاستداں اور رائٹر وکٹر ہیوگو تھے۔ منموہن اکثر ہیوگو کے نام اور ان کے اقوال کا ذکر کرتے تھے۔ 1991 میں بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہیوگو کے ایک قول کے ذریعہ منموہن نے پوری دنیا کو ایک پیغام دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ زمین پر کوئی بھی شخص اس نظریہ کو نہیں روک سکتا جس کا وقت ا? گیا ہے۔ منموہن اس بات کو کئی بار دہراتے رہے۔ 2006 میں صحافی چارلی روز کو دیے ایک انٹرویو میں منموہن نے کہا تھا کہ ہیوگو کی باتیں ہندوستان کے لیے موزوں ہے۔ منموہن نے کہا تھا کہ ہندوستان کو اب پوری دنیا میں ابھرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے، ہندوستان کی طاقت کا اندازہ اب دنیا کو ہے۔

یہ بھی پڑھیں : علم ودانش اور انکساری کی علامت ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے لیڈر سے ہم محروم ہو گئے : سونیا گاندھی



:پسندیدہ شعبہ

منموہن سنگھ کی شہرت بھلے ہی وزیر مالیات کے طور پر ملی تھی، لیکن ان کی معاشی لبرلائزیشن پالیسی کا ا?ج بھی تذکرہ ہوتا ہے۔ منموہن سنگھ نے لائسنس راج کو ختم کیا تھا جس سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھے۔ حالانکہ شعبہ مالیات سے زیادہ منموہن کو شعبہ? تعلیم میں کام کرنا پسند تھا۔ ریڈیف کو دیے ایک انٹرویو میں منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ ا?پ کو کون سا محکمہ چاہیے، تو میں جواب دوں گا ’محکمہ تعلیم‘۔ میں چاہتا ہوں کہ نئے لوگوں کے لیے کام کروں۔ 1996 میں دیے گئے اس انٹرویو میں منموہن سنگھ نے وزیر اعظم بننے کی خواہش بھی ظاہر کی تھی، اور ا?گے چل کر ان کی یہ خواہش پوری بھی ہوئی۔


:پسندیدہ رنگ

منموہن سنگھ کا پسندیدہ رنگ نیلا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر نیلی پگڑی پہنے نظر آتے تھے۔ 2013 میں کیمبرج میں انھوں نے اس تعلق سے انکشاف بھی کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ”شروع سے ہی نیلا رنگ میرا پسندیدہ ہے۔ اس رنگ کی پگڑی پہننے کی وجہ سے میرے دوست مجھے نیلی پگڑی والے بلاتے تھے۔“ منموہن نے یہ بھی بتایا تھا کہ نیلے رنگ کی پگڑی پہننے سے انھیں کیمبرج کی بھی یاد ا?تی رہتی ہے، کیونکہ کیمبرج کا بھی ’تھیم کلر‘ بلو یعنی نیلا ہی ہے۔



:پسندیدہ شاعر

منموہن سنگھ کے پسندیدہ شاعر کی بات کریں تو وہ شاعر مشرق علامہ اقبال تھے۔ پارلیمنٹ میں منموہن سنگھ نے ان کے 2 مشہور اشعار کے ذریعہ اپوزیشن کو خاموش کرنے کا کام کیا تھا۔ راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا ’کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری، صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا‘۔ کچھ ایسا ہی شاعرانہ انداز انھوں نے لوک سبھا میں اختیار کیا تھا جب ا±س وقت کی اپوزیشن لیڈر سشما سوراج نے منموہن حکومت پر حملہ کرتے ہوئے شاعری کے ذریعہ پوچھا تھا کہ:


تو ادھر ادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کی قافلہ کیوں لٹا


مجھے رہزنوں سے گلا نہیں، تیری رہبری کا سوال ہے


اس کے جواب میں منموہن نے کہا تھا:


مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں


تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ


ویسے منموہن نے کچھ دوسرے شعرائ کے اشعار بھی کئی مواقع پر کہے ہیں۔ مثلاً 2013 میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے بحث کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے مرزا غالب کا شعر ’ہم کو ان سے ہے وفا کی امید/ جو نہیں جانتے وفا کیا ہے‘ پڑھا تھا۔



علم ودانش اور انکساری کی علامت ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے لیڈر سے ہم محروم ہو گئے : سونیا گاندھی

 



کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر آج ایک تعزیتی پیغام جاری کیا۔ اس پیغام میں انھوں نے کہا کہ ”ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال سے ہم ایک ایسے لیڈر سے محروم ہو گئے ہیں جو علم و دانش، بڑپن اور انکساری کی علامت تھے، جنھوں نے پورے دل اور دماغ سے ہمارے ملک کی خدمت کی۔ وہ کانگریس پارٹی کے لیے ایک روشن و محبوب راہنما ثابت ہوئے، ان کی ہمدردی اور دور اندیشی نے لاکھوں ہندوستانیوں کی زندگی کو بدل دیا اور انھیں مضبوط بنایا۔“ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ”انھیں ہندوستانیوں کے ذریعہ پاک و صاف دل اور تیز ذہن کے لیے پیار کیا جاتا تھا، ان کے صلاح مشوروں کو ہمارے ملک کے سیاسی حلقوں میں انتہائی سنجیدگی سے سنا جاتا تھا اور ان کا بہت احترام تھا۔“


سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ ”وہ ایک ایسے شخص تھے جن کا دنیا بھر کے لیڈران اور دانشور احترام کرتے تھے۔ عالمی لیڈران انھیں ایک عالم اور ایک عظیم شخصیت والے سیاسی لیڈر کی شکل میں دیکھتے تھے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جس بھی عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی، انھوں نے اس عہدہ کو اہم شناخت دی اور کام کرتے ہوئے ہندوستان کے وقار کو بلند کیا۔ میرے لیے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال ایک بڑا ذاتی خسارہ ہے۔“

تعزیتی پیغام میں سونیا گاندھی آگے لکھتی ہیں کہ ”وہ میرے دوست، فلسفی اور گائیڈ تھے۔ وہ اپنے رویہ میں بہت ہی نرم مزاج، لیکن اپنے اقدار کے تئیں پرعزم تھے۔ سماجی انصاف، سیکولر و جمہوری اقدار کے تئیں ان کے عزائم گہرے اور اٹوٹ تھے۔ ان کے ساتھ تھوڑا سا بھی وقت گزارنے سے ان کی علم و دانشوری کا احساس ہوتا تھا۔ ان سے ملنے والا ان کی ایمانداری سے متاثر ہوتا تھا اور ان کی حقیقی انکساری کا احساس بھی بخوبی ہوتا تھا۔“


ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتی پیغام میں سونیا گاندھی لکھتی ہیں کہ ”وہ ہماری قومی زندگی میں ایک ایسا خلا چھوڑ گئے ہیں جسے کبھی بھرا نہیں جا سکتا۔ ہم کانگریس پارٹی میں اور ہندوستان کے لوگ ہمیشہ اس بات پر فخر کریں گے اور اظہارِ تشکر کریں گے کہ ہمارے پاس ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے لیڈر تھے، جن کا ہندوستان کی ترقی میں تعاون لاجواب ہے۔“





کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج عقیدت پیش، تعزیتی قرارداد منظور

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش، کے سی وینوگوپال اور پرینکا گانددھی سمیت دیگر سرکردہ کانگریس لیڈران کی موجودگی میں آج کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ یہ میٹنگ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو تعزیت پیش کرنے کے مقصد سے ہوئی جس میں تعزیتی قرارداد منظور ہوا۔

اس میٹنگ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ ہندوستان کے سیاسی اور معاشی منظرنامہ میں ایک عظیم شخصیت تھے۔ ان کے تعاون نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور معیشت کے شعبہ میں انھوں نے جو کچھ کیا، اس سے دنیا بھر میں انھیں عزت و احترام حاصل ہوا۔ میٹنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈی ریگولیشن، نجکاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو حوصلہ بخشنے کی اپنی پالیسیوں کے ذریعہ سے منموہن سنگھ نے ہندوستان کی تیز رفتار معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔ ان کی قیات میں ہندوستان تیزی سے بڑھتی معیشت کی شکل میں ابھرا۔ انھوں نے عالمی شعبہ میں ہندوستان کی حالت کو مضبوط کیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے عام آدمی کے فلاح پر بھی توجہ مرکوز کی۔

سی ڈبلیو سی کی اس میٹنگ میں منموہن سنگھ کی کارگزاریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک سیاسی لیڈر کی شکل میں اپنے تعاون کے علاوہ منموہن سنگھ ایک قابل احترام ماہر تعلیم بھی تھے۔ انھوں نے ماہر معیشت کے طور پر ہندوستان کی پالیسیوں کا خاکہ تیار کرنے میں مدد کی۔ ایک ماہر معیشت کی شکل میں ان کے دانشمندانہ کاموں اور اقوام متحدہ و ریزرو بینک آف انڈیا جیسے اداروں میں ان کے تعاون نے ان معاشی اصلاحات کی بنیاد رکھی جنھیں انھوں نے بعد میں ایک پالیسی کی شکل میں فروغ دیا۔ ڈاکٹر سنگھ کی معیشت سے متعلق گہری سمجھ اور تعلیم کے تئیں ان کے عزائم نے لاتعداد طلبا، دانشوروں اور پالیسی سازوں کو ترغیب دی۔




سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات پر جمعیہ علماء ہند کا خراج عقیدت

نئی دہلی: صدر جمعیہ علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کا نقصان عظیم قرار دیا ہے۔ مولانا مدنی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایک ممتاز ماہر معاشیات، قابل سیاست داں اور فاضل رہنما کی حیثیت سے ملک کی ترقی اور استحکام میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی قیادت میں ملک میں نہ صرف اقتصادی اصلاحات کی بنیاد پڑی بلکہ امن و ترقی اور سب کے لیے انصاف کی مضبوط روایت کو فروغ ملا۔


مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ انھوں نے اپنی غیر متنازعہ شخصیت، بردباری اور عوامی خدمت کے جذبے سے ایک مثال قائم کی، وہ سیاست میں شائستگی اور اصول پسندی کے ایک روشن نمونہ تھے، جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ وہ جمعیہ علماء ہند کی قیادت بالخصوص فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی سے خاص تعلق رکھتے تھے۔ بحیثیت ممبر پارلیمنٹ حضرت فدائے ملت کے ساتھی بھی رہے۔ اس خاکسار کے ساتھ بھی شفقت کا معاملہ کرتے تھے۔ جمعیہ علماءہند کے مطالبے پر انھوں نے سچر کمیٹی تشکیل دی اور سچر کمیٹی کے کچھ اہم مطالبات کو نافذ کرنے کی بھی کوشش کی۔ ان کے انتقا ل پر جمعیہ علماء ہند ان کے اہل خانہ، تمام محبین سے دلی ہمدردی کا اظہا رکرتی ہے۔






سچن تندولکر بھی منموہن سنگھ کی موت پر ہوئے غمگین،
محمد شامی نے بتایا دور اندیش و عظیم لیڈر


ہندوستان کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر ہندوستان کا ہر طبقہ غمگین دکھائی دے رہا ہے۔ مایہ ناز سابق کرکٹر سچن تندولکر اور موجودہ مایہ ناز تیز گیندباز محمد شامی نے بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال کو ملک کے لیے بڑا خسارہ قرار دیا ہے۔ آج ان دونوں ہی شخصیات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آنجہانی سابق وزیر اعظم کے تئیں اپنا خراج عقیدت پیش کیا۔

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال 92 سال کی عمر میں 26 دسمبر کی شب راجدھانی دہلی واقع ایمس میں ہوا۔ ان کے پسماندگان میں بیوی گرشرن کور اور 3 بیٹیاں ہیں۔ آج صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، وزیر اعظم نریندر مودی سمیت برسراقتدار و حزب اختلاف طبقہ کے سرکردہ لیڈران نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا آخری دیدار کیا اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

سچن تندولکر نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ”ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کا انتقال ہندوستان کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے۔ ہمارے ملک کے لیے ان کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال پر اظہارِ غم کرتے ہوئے میری دعائیں ان کے اہل خانہ اور احباب کے ساتھ ہیں۔ اوم شانتی۔“

دوسری طرف محمد شامی نے بھی تعزیتی پیغام کے لیے ’ایکس‘ کا استعمال کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ”وہ (ڈاکٹر منموہن سنگھ) ایک سچے، دور اندیش اور عظیم لیڈر تھے۔ ہندوستان کی ترقی اور ان کی قیادت میں ان کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے کنبہ اور احباب کے تئیں میری گہری ہمدردی۔ بھگوان ان کی روح کو سکون دے۔“




Thursday, 26 December 2024

سی ڈبلیو سی کے اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات 2024 میں دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے

 





بیلگاوی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات 2024 میں دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے اور الیکشن کمیشن کی شفافیت پر سوال اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا، ”مہاراشٹر کی 118 نشستوں پر 72 لاکھ نئے ووٹرز شامل کیے گئے، جن میں سے 102 نشستیں بی جے پی نے جیتیں۔ یہ غیرمعمولی ہے اور اس میں دھاندلی کا شبہ ہے۔“


کانگریس رہنما نے مزید کہا، ”ووٹنگ لسٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں اور اس کے نتیجے میں بی جے پی کو غیر منصفانہ فائدہ ہوا۔“ انہوں نے زور دیا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹرز کا اضافہ عام بات نہیں اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔


خیال رہے کہ کانگریس کے ایک وفد نے حال ہی میں الیکشن کمیشن سے ملاقات کی تھی اور ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”47 لاکھ نئے ووٹرز شامل کیے گئے اور لاکھوں کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں۔“ تاہم، الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ 39 لاکھ نئے ووٹرز شامل ہوئے، جو نوجوانوں کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہے۔



راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کی اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ”یہ تعداد غیرمعمولی ہے اور دھاندلی کا اشارہ دیتی ہے۔“ ان کے مطابق، انتخابات کے نتائج کو شفافیت کے اصولوں کے مطابق جانچنے کی ضرورت ہے۔


راہل گاندھی کے بیان کے بعد سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس کے دیگر رہنماو¿ں اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی ان کے الزامات کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب، بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد انتخابی نتائج پر شک پیدا کرنا ہے۔


یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سی ڈبلیو سی اجلاس میں تنظیمی اصلاحات اور 'آئین بچاو¿ یاترا' کے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ کانگریس نے زور دیا ہے کہ جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ راہل گاندھی نے اجلاس کے دوران کہا کہ ”آئندہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ جمہوری عمل متاثر ہو سکتا ہے۔”


وزیراعلیٰ نتیش کمار کے دور اقتدار میں اقلیتوںکیلئے جتنے کام کئے گئے اتنے کبھی نہیں کئے گئے : میجر اقبال حیدر

 


بہار کی اقلیتی برادری کو ان کے حقوق دلانے میں نتیش کا اہم کردار : اشرف انصاری

میجر اقبال حیدر ، اشرف انصاری کی قیادت میں اقلیت ترقیاتی سفرکاکارواں رواں دواں




پٹنہ26 دسمبر ( پریس ریلیز )بہار ریاستی جنتادل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو ) کے جنرل سکریٹری اور اقلیتی سیل کے انچارج میجر اقبال حیدر اور بہار ریاستی جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ریاستی صدر اشرف انصاری کی مشترکہ قیادت میں آج اقلیت ترقیاتی سفر کا کارواں دربھنگہ ضلع کے مریا ، نوٹولیا ، بہیڑا ، پیٹھان کوئی ، شیودھارا پہنچا ۔ جہاں لوگوںنے کارواں کا انتہائی پرجوش انداز میں استقبال کیا ۔ 

اس موقع جے ڈی یو جنرل سکریٹری اور اقلیتی سیل کے انچارج میجر اقبال حیدر نے کہاکہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کے انیس سالہ دور اقتدار میں اقلیتوں کیلئے جتنے کام کئے گئے اتنے کبھی نہیں کئے گئے ۔ وزیراعلیٰ نے تمام طبقات کی بھلائی کیلئے کام کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ذات ایک ہمہ جہت اور ترقیاتی شخصیت ہے ۔ 

مسٹر حیدرنے کہاکہ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بغیر کسی بھید بھاﺅ کے تمام طبقات کا خیال رکھا ہے ۔ ریاست کی ترقی اور ہم آہنگی میں نتیش کمار کا اہم کر دار ہے ۔ ہم لوگ اسی وجہ سے آج وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ترقیاتی کاموں بالخصوص وزیراعلیٰ نے اقلیتی برادری کیلئے جوکارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں اس کو گاﺅں گاﺅں پہنچانے کیلئے کمر بستہ ہیں۔ 

 جنتا دل یو اقلیتی سیل کے ریاستی صدر اشرف انصاری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بہار کی اقلیتی برادری کو ان کے حقوق دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سماج کے تمام طبقات کو ترقی کے دھارے میں شامل کرکے سماجی انصاف کے ساتھ ترقی کی نادر مثال پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ریاست میں امن اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ پورے ملک میں ایسا وزیر اعلیٰ کبھی نہیں ہوا۔اس موقع پر بنیاد ی طور پر زاہد حسین ، انصار بکھو، ابوالخیر ، نواب اختر ، عرفان خان ، خواجہ فرید الدین رستم ، افتخار احمد گلزار ، ڈاکٹر شہنواز ، محمد کلام موجود تھے ۔

جیسس میری اسکول میں سائنس ایگزیبیشن میں آیان احمد نے آواز کی شناخت کا نظام پیش کیا



 دربھنگہ (محمد شرف عالم) جیسس میری اسکول میں سائنس ایگزیبیشن کا انعقاد کیا گیا ۔جس کا افتتاح وزیر مدن سہنی نے کیا اور سبھی لوگوں نے سائنس کو آگے بڑھانے کی بات کی سائنس سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ اس ایگزیبیشن میں آیان  احمد درجہ اٹھ نے آواز کی شناخت کا نظام پیش کیا۔ جس میں آواز کے ذریعہ گیٹ کو کھولا اور بند کیا پریکٹیکل کر دکھایا اس کی ذہانت سے سبھی لوگ متاثر ہوئے۔

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 92 سال کی عمر میں انتقال

 




ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اور کانگریس کے سینئر رہنما ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کی خبر نے ہندوستان بھر میں گہرے غم کی لہر دوڑا دی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال جمعرات کی شام دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں ہوا، جہاں انہیں حالت بگڑنے کے بعد ایمرجنسی شعبہ میں داخل کرایا گیا تھا۔


منموہن سنگھ کی صحت گزشتہ کچھ دنوں سے خراب تھی اور ان کی حالت تشویش ناک تھی۔ جمعرات کی شام انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ کچھ وقت تک زیر علاج رہے لیکن بدقسمتی سے ان کی زندگی بچائی نہ جا سکی اور وہ انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات کی اطلاع اسپتال کے ذرائع نے دی۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت، بشمول پرینکا گاندھی، بھی ایمس دہلی میں ان کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے پہنچی تھیں۔



منموہن سنگھ کی وفات کے بعد ہندوستانی سیاست میں ایک بڑی شخصیت کے چلے جانے کا سانحہ پیش آیا ہے۔ وہ ہندوستان کے ایک عظیم ماہر اقتصادیات اور ایماندار سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہندوستان کی اقتصادی اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا اور 1991 میں اقتصادی لبرلائزیشن کی پالیسیوں کا آغاز کیا۔ ان کی قیادت میں ہندوستان نے عالمی اقتصادی منظر نامے پر اپنی پوزیشن مستحکم کی۔


وہ 2004 سے 2014 تک ہندوستان کے وزیر اعظم رہے اور ان کی حکومت میں ہندوستان نے معاشی ترقی کی ایک نئی راہ اختیار کی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں ہندوستان کی معیشت میں تیز تر ترقی ہوئی اور ملک نے عالمی سطح پر اپنے آپ کو ایک اقتصادی طاقت کے طور پر تسلیم کرایا۔ ان کی پالیسیوں کا اثر آج تک محسوس کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ہندوستان کی اقتصادی پوزیشن اور عالمی تجارت میں ہندوستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔



ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سیاسی زندگی میں ان کی ایمانداری اور اصولوں کی پیروی نے انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کا کردار نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سیاست میں بھی اہم تھا۔ ان کی قیادت میں ہندوستان نے عالمی اقتصادی بحرانوں کے باوجود ترقی کی اور کئی اہم عالمی اداروں میں ہندوستان کی پوزیشن کو مستحکم کیا۔


ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات کے بعد ان کے خاندان کے افراد، دوستوں اور تمام مداحوں کے لیے یہ ایک سخت آزمائش ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی رہنمائی کا اثر آنے والی نسلوں پر بھی مرتب ہوگا۔ ان کا انتقال ہندوستان کی سیاست اور معیشت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، جس کا خلا بھرنا مشکل ہوگا۔



Wednesday, 25 December 2024

الحراءپبلک اسکول شاہ گنج پٹنہ میں سالانہ اسپورٹس

 




پٹنہ23دسمبر : الحراءپبلک اسکول ، شاہ گنج کے سالانہ اسپورٹس اپنے طے شدہ وقت کے مطابق پٹنہ سیٹی کے گلزار باغ اسٹیڈیم میں ہوا۔ اسپورٹس کا افتتاح باضابطہ قرآن کی تلاوت سے ہوا۔ مختلف کھیلوں کا یہ مقابلہ اودھیش کمار جی کی نگرانی اور رہنمائی میں ہوا۔ اسپورٹس انچارج سکندر خان کے مطابق درجہ نرسری تا درجہ دہم کے طلباءوطالبات نے حصہ لیا اور اسپورٹس کے مختلف میدانوں جیسے ٹگ آف وار ، میوزیکل ، شوٹنگ، شاٹ پ±ٹ، اسپون ماربل ریس، ٹافی ریس، ٹائم ریس وغیرہ میںاپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔



اسکول کے پرنسپل سید ندیم احمد نے بتایا کہ اسکول ھذا روز اول سے بچوں کی ہمہ جہت ترقی کے لئے کوشاں رہا ہے، اس لئے جہاں نصاب پر پوری توجہ دی جاتی ہے وہیں انکی ہمہ جہت ترقی کے لئے ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کی مخفی صلاحیتوںکو ابھارنے کی بھی کوشش کی جا!تی ہے جیسے مختلف قسم کے تقریری و تحریری مقابلے، مباحثہ ، مضمون نویسی ،کوئز ، کیرم ،کرکٹ میچ و کراٹے کے مقابلے بھی کرائے جاتے ہیں۔سالانہ کھیل کا اہتمام بھی اسکول کے پروگرام کا ایک حصہ ہے۔واضح رہے کہ اسکول کے سالانہ کھیل کود کے تمام مقابلے دو گروپ اور دو حصوں پر مشتمل تھے۔ درجہ نرسری سے درجہ دہم تک کےتمام بچے اوربچیاں اس کھیل مقابلے میں شریک ہوئے۔کھیل کا یہ مقابلہ صبح 8?بجے سے شروع ہوکر شام 4بجے تک اختتام پذیر ہوا۔

کھیل کود کے تعلق سے ننھے منے بچے اور بچیوں میں کافی جوش و خروش پایا جا رہا تھا۔نیز حصہ لینے والے بچوں کی حوصلہ افزائی دیگر طلباء و طالبات کے ساتھ اساتذہ کرام بھی کر رہے تھے۔ درجہ اول تادرجہ دہم کے لڑکوں کا مقابلہ بہت دلچسپ تھا۔ ہر گروپ کے لئے شوٹنگ ، شاٹ پ±ٹ ،فراگ جمپ ، سلو سائیکل ریس ، ڈسکست تھرو وغیرہ جیسے مقابلے رکھے گئے تھے۔سب سے دلچسپ مقابلہ کھیل ختم ہونے سے قبل اسکول کے الفافا ہاﺅس، اقراء ہاوئس ، السبیل ہاﺅس، العصر ہاوئس کے ما بین ٹگ ا?ف وار کھیلا گیاجس کو دیکھ کر تمام بچے اور بچیاں اپنی تالیوں کے گڑ گڑاہٹ سے اس مقابلے میں حصہ لینے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شہرعظیم آباد کی معتبر شخصیات میں محترمہ کرن مہتا جی (وارڈ پارشد) ، سلطان آزاد (مشہور رائٹر)، محمد ظفر(جرنلسٹ) ، زاہد حسین (جدیو کے فعال کارکن)، جناب بختیار صاحب (انگریزی کے استاد)، محمد سبحان ، ارشد نظام (انگریزی کے استاد) صاحبان نے شرکت فرماکر سالانہ اسپورٹس میں شریک بچوں کے لئے حوصلہ افزائی کی سبب بنی۔تمام مہمانوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ الحرا ءایک ایسا اسکول ہے جو کھلاڑیوں کی بہت احسن طریقے سے تعظیم کرتا ہے۔مہمانوں نے اسکول کے بچے اور بچیوں کے کھیل کود کے جذبے اور جوش و خروش کو کافی سراہا اور اسکول انتظامیہ کو بہتر اسپورٹس کرانے پر مبارک باد دی۔ واضح رہے کہ مہمانوں کی آمد سے قبل ہی گلزار باغ کا خوبصورت گراﺅنڈ رنگ برنگ جھنڈوں سے دلہن کی طرح بچے اور بچیوں کے اسپورٹس کے لئے سج دھج کر بالکل تیار تھا۔ اور مہمانوں کی آمد نے اس کے حسن میں مزیدچار چاند لگا دیا۔ سالانہ کھیل کودکے ا س پروگرام کو خوب سے خوب تر بنانے میں تمام اساتذہ کرام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اسکول کے ڈائرکٹر نذیر احمد نے تمام حصہ لینے والے بچوں اور بچیوں کو ان کی شاندار کارکردگی اور کامیابی کے لئے دلی مبارک باد دی۔ واضح رہے کہ جیتنے والے تمام بچوں کو مقابلوں کو فوراً بعد ہی انعامات سے نوازا گیا۔ 


محمد رفیع کو "بھارت رتن " دیا جائے:ڈاکٹر اظہار احمد




پٹنہ (پریس ریلیز) محمد رفیع کو بھارت رتن ایوارڈ دیا جائے اور ان کے یوم پیدائش 24 دسمبر کو سرکاری سطح پر "بھارتیہ گیت دیوس " کا اعلان کیا جائے۔ مذکورہ مطالبہ محبان اردو کے ذریعے منعقد شہرت یافتہ گلوکار، موسیقی کار، نغمہ نگار، اور غزل کار محمد رفیع کے صد سالہ یوم پیدائش تقریب میں سابق ایم ایل اے ڈاکٹر اظہار احمد ، گورنمنٹ اردو لائبریری کے چیئرمین جناب ارشد فیروز، اردو ایکشن کمیٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر انوار الہدیٰ و اسحاق اثر سمیت تمام شرکاءنے مرکزی اور ریاستی حکومت سے کیا۔ اس پروگرام میں بااتفاق رائے یہ بھی طئے پایا کہ جلد ہی بڑے پیمانے محمد رفیع کو یاد کرنے کیلئے ایک محفل سجائی جائے گی جس میں ملک گیر پیمانے پر نامور شخصیات کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ چونکہ محمد رفیع نے ہر سماج کیلئے گیت، سنگیت اور بھجن گائے ہیں اس لئے اس طرح کے پروگرام سے سماجی خیرسگالی مزید مستحکم ہوگی اور ہم اپنے محبوب گلوکار کو سچا خراجِ عقیدت پیش کر سکیں گے۔ اپنے خطاب میں مہمان خصوصی ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے نے کہا کہ محمد رفیع نے دنیا بھر میں اپنی جادوئی آواز سے بھارت کا نام روشن کیا ہے لہذا ہم مرکزی اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں بعد از مرگ بھارت رتن سے نوازا جائے اور ہر سال 24دسمبرکو ان کے یوم پیدائش کے دن سرکاری سطح پر پروگرام منعقد کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ ان کی اس تجویز کا تمام شرکاء نے تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے استقبال کیا۔ صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے گورنمنٹ اردو لائبریری کے چئیرمین جناب ارشد فیروز نے کہا کہ محمد رفیع اتنے بڑے گلوکار تھے کہ آج تک ان کی جادوئی آواز کی کوئی نقل یا بدل پیش نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ مشہور گلوکار سونو نگم نے ایک جگہ کہا کہ میں تصور کرتا ہوں کہ اگر بھگوان کی کوئی آواز ہوتی تو وہ محمد رفیع جیسی ہوتی۔انہوں نے کہا کہ محمد رفیع نے اردو، ہندی، بنگلہ، پنجابی، اودھی اور بھوجپوری سمیت متعدد زبانوں میں گانا گایا۔ ان کے ایک ہی شاگرد مہیندر کپور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میرے بڑے بھائی شاہد احمد محمد رفیع کے بہت بڑے فئین تھے۔ انہوں نے اپنے انتقال سے قبل 27 اگست کو اپنے موبائل سے محمد رفیع کا آخری پوسٹ کیا تھا جو آج میرے پاس موجود ہے۔ جناب فیروز نے اپنی آواز میں محمد رفیع کا دو نغمہ پیش کر کے محفل کو رفیع مئے کردیا۔ ایڈوکیٹ استوش نے بھی ایک بھجن پیش کیا۔ نظامت کر رہے پرویز انور نے بھی کئی گیت اور غزل پیش کیا جبکہ ڈاکٹر شگفتہ پروین نے "بابل کی دعائیں لیتی جا" گا کر سب کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ اسحاق اثر نے سب سے پہلے محمد رفیع کی شخصیت پر کلیدی خطبہ پیش کیا۔ پروگرام سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر انوار الہدیٰ، نواب عتیق الزماں، ڈاکٹر شگفتہ پرویز، فیضان علی، مشتاق احمد، محمد شارق، راجیش کمار، ایڈوکیٹ استوش، محمد حسنین محمد نوشاد اور آفتاب احمد کے اسماء گرامی قابل ذکر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔



عزت مآب گورنر عارف محمد خان کا بہار میں خیر مقدم



پٹنہ

اُردو ہندی کے عالمی شہرت یافتہ ادیب شاعر ماہرِ تعلیم سابق ہیڈ لینگویجز ایس سی ای آر ٹی بہار ڈاکٹر قاسم خورشید نے بہار کے نئے گورنر عزت مآب عارف محمد خان سے متعلق شادمانی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہندوستانی آئین کی یہی خوبصورتی ہے کہ ہم ذمّہ داری کے ساتھ فطری طور پر کسی بھی آئینی عہدے کی عزت افزائی کرتے ہیں در اصل یہ عقیدت یا وقار صرف آئین کا نہیں ہوتا بلکہ پورے جمہوری نظام کا ہوتا ہے جس میں ہر اک شہری کو حقوق اور فرائض دونوں حاصل ہوا کرتے ہیں_  صدر جمہوریہ ہند کو پہلا شہری ہونے کا حق حاصل ہے اور صوبائی سطح پر یہی حق گورنر کو بھی حاصل ہوتا ہے ۔میرے لیے یہ خبر بہُت ہی خوشی کی ہے کہ جب عزت مآب کیرالا کے گورنر تھے تو مُجھے اُن کے دست مبارک ہندی کے اعلیٰ ترین اعزاز ساہتیہ مارتنڈ ایوارڈ سے نوازے جانے کا شرف حاصل ہوا تھا ان کی دعائیں اور نیک خواہشات میرے ساتھ رہی ہیں ڈاکٹر قاسم خورشید نے پھر جذبات سے لبریز ہوکر انتہائی مودبانہ لہجے میں یہ بھی کہا کہ بہار کے گورنر کے طور پر ہم خصوصی طور پر عزت مآب عارف محمد خان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور مکمل یقین بھی ہے کہ بہار کی ترقی میں مزید اضافہ ہونے کے ساتھ اور خوبصورت دانشورانہ ماحول بھی بنے گا کیونکہ اُن کی علمی بصیرت اور تقریر کی لذت کا بھی زمانہ قائل ہے

لارڈ بدھا کوسی فارمیسی کالج میں جدید طلباء و طالبات کااستقبالیہ تقریب ۔

 سوپول (محمد نظام الدین اشاعتی)



لارڈ بدھا کوسی فارمیسی کالج میں جدید طلباء و طالبات کے استقبال کے لۓ ایک تقریب کا اہتمام کیاگیا جس میں کثیر تعداد میں ڈاکٹروں اور دانشوروں کی شرکت ہوئی مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسر شیلیندر کمار سنگھ سابق پرنسپل جی پی آئی پٹنہ، مہتاب عالم اسسٹنٹ ایم جی ایم، ڈاکٹر کلیانی سنگھ، صدر لارڈ بدھا کوسی میڈیکل اینڈ فارمیسی کالج سہرسہ اور ڈاکٹر رفیق  تشریف لائے۔ پروگرام کا آغاز پرنسپل ڈاکٹر نیاز عالم اور دیگر مہمانوں نے چراغ جلا کر کیا۔  اس موقع پر  طلباء و طالبات نے دلچسپ پروگرام پیش کیا  جس میں ڈانس، میوزک، طبلہ وغیرہ شامل ہے ۔ کشیش، ریشبھ فریشر، نشا ایم ایس اسپارک، دیو کمار کو مسٹر اسپارک منتخب کیا گیا۔  اس موقع پر  ڈاکٹر سرفراز کو عالمی سائنسدانوں کے گروپ میں شامل ہونے پر اعزاز سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر اویناش کمار سنگھ، ڈاکٹر آریہ ودیادھری، سنیل کمار سنگھا، سنجیو کمار سنگھ، مرتضیٰ اقبال ،ستیندر کمار سنگھ، اسعدعالم ،سچن کمار سنگھ، شیوکانت ٹھاکر، ستیم پریاد رشی، محمد سہراب عالم ،اومپی کماری، سومیا بھاردواج، اکھل کمار۔ اور سنٹو جی وغیرہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کۓ ‌