Friday, 6 August 2021

 

حکومت نریندرمودی اور ارون جیٹلی اسٹیڈیم کانام بھی تبدیل کرے: کانگریس

 

 

نئی دہلی، 6 اگست (پ ا ن)

کانگریس نے راجیوگاندھی کھیل رتن ایوارڈ کانام تبدیل کرکے میجردھیان چند کے نام پررکھنے کے فیصلے کاخیرمقدم کیا لیکن کہا کہ اب حکومت کونریندرمودی اسٹیڈیم اورارون جیٹلی اسٹیڈیم کانام بھی تبدیل کردیناچاہیے۔کانگریس کے میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سورجے والا نے جمعہ کے روز یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ حکومت نے راجیو گاندھی کھیل رتن کا نام تبدیل کیاہی ہے تواسے اب پہلے نریندرمودی اسٹیڈیم اورارون جیٹلی اسٹیڈیم کا نام بھی تبدیل کردیناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ میجردھیان چند کوہاکی کاجادوگرکہا جاتا ہے اورانہیں یہ نام ملک ہی نہیں بلکہ دنیا نے دیا۔ میجردھیان چند کاپوری دنیا میں احترام ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے اس شخصیٹ کانام اپنے چھوٹے سیاسی مقصد کوحاصل کرنے کے لئے کیا ہے اوراس معمولی مقصد کے لئے ان کے نام کا استعمال کرنااچھا نہیں ہے۔ترجمان نے کہا کہ ان کی پارٹی میجردھیان چندکے نام پر ایوراڈکانام رکھنے کاخیرمقدم کرتی ہے اورمطالبہ کرتی ہے کہ اب بھارتیہ جنتاپارٹی کے لیڈران کے نام پر رکھے گئے اسٹیڈیموں کا نام بھی تبدیل کرناچاہیے۔

 

 

 

کسانوں کے معاملے پربحث نہیں، زرعی قانون ختم کرے حکومت:راہل



نئی دہلی،

 6 اگست(پ ا ن) کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ان

 کی پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں کسانوں کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں چاہتیں بلکہ حکومت سے کسان مخالف زرعی تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کامطالبہ کر رہی ہیں۔


مسٹر گاندھی جمعہ کو اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ یہاں جنتر منتر پر منعقد 'کسان سنسد' میں حصہ لینے کے بعد صحافیوں کے سوال پرکہا کہ اپوزیشن کواب کسانوں کے مسئلے پر بحث نہیں چاہیے۔ بحث سے اب کام نہیں چلے گا اس لیے حکومت کو زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو منسوخ کرنا چاہیے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ بحث کا وقت گزر چکا ہے۔ زرعی قانون کسانوں کے مفاد میں نہیں ہے اس لیے حکومت کومظاہرین کسانوں کی بات مانتے ہوئے تینوں قوانین کو فوری طور ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔ مسٹر گاندھی سے جب پوچھاگیا کہ حکومت نے کسانوں کے مسئلے پر بحث کرنے کے لئے تیار ہونے کی بات کی ہے تومسٹرگاندھی نے کہا، ’’نہیں، نہیں! بحث سے کوئی کام نہیں چلے گا۔ یہ کالے قانون ہیں۔ ان کو منسوخ کرناپڑے گا۔‘‘


انہوں نے کہا، "آج اپوزیشن جماعتوں نے مل کر کسانوں کے مسئلے اور ان کالے قوانین کو ہٹانے کے لیے اپنی بھرپور حمایت دی ہے۔پارلیمنٹ میں آپ جانتے ہیں کیا ہورہا ہے۔ پارلیمنٹ میں ہم پیگاسس کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں، وہاں پر وہ پیگاسس کی بات نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ نریندر مودی جی ہر ہندوستانی کے فون میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہاں پرہم ہندوستان کے تمام کسانوں کو اپنا مکمل تعاون دینے آئے ہیں۔


کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی زراعت کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا، "کسان ہمارے ملک کی روح ہیں۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ انہیں کی وجہ سے پارلیمنٹ میں ہیں۔ پارلیمنٹ سے سڑک تک کسانوں کی آوازاٹھانا ہم سب کا فرض ہے۔ ہم کسانوں کے ساتھ ہیں۔ سیاہ قانون منسوخ کرو۔‘‘
کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ پورا اپوزیشن کسانوں کے مطالبات پر متحد ہے۔ انہوں نے کہا، "آج مسٹر راہل گاندھی سمیت 14 سیاسی جماعتوں کے رہنما جنتر منتر پر کسان سنسد میں شامل ہوئے۔ کسانوں کی لڑائی کواپناتعاون دیا اور کسانوں کی لڑائی کی حمایت کرنے کے اپنے فیصلہ کن عزم کا اعادہ کیا۔ کسانوں نے بھی مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد  منظور کی۔

 

 

 

لداخ کے زانسکار میں گلیشیئر پیچھے کھسک رہے ہیں: تحقیق



نئی دہلی، 6 اگست 

(پ ا ن) درجہ حرارت میں اضافے اور موسم سرماں میں کم برفباری ہونے کی وجہ سے لداخ کے زانسکار میں واقع  پینسلنگپا گلیشیر (پی جی) پیچھے کھسک رہا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گلیشیر درجہ حرارت میں اضافہ اور سردیوں میں کم برف باری ہونے کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ واڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالیئن جیولوجی (WIHG)، دہرادون، 2015 سے گلیشیئروں کا مطالعہ کر رہی ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ  حکومت ہند کے محکمہ سائنس وٹیکنالوجی کے ماتحت ہے۔ اس کے تحت، گلیشیروں میں برف جمع ہونے کی صورتحال، برف پگھلنے کی حالت، ماضی کے موسمی حالات، مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کی کیفیت اور اس خطے کے گلیشیئروں پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ہمالیہ کے علاقوں جیسے زانسکار کا  مطالعہ کیا جس کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔
گلیشیئروں میں برف جمع ہونے کی کیا صورتحال ہے اور اس پر کتنی برف ہے، اس کا موقع پر معائنہ کیا گیا۔ اس کے لیے بانس سے بنا ہوا ایک پیمانہ گلیشیر کی سطح پر نصب کیا جاتا ہے۔ یہ کھود کرکے  اندر گاڑا جاتا ہے۔ اسی سے برف کی حالت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اسی طرح کا پیمانہ 2016 سے گلیشیر کی سطح پر موجود تھا۔

پنسلنگپا گلیشیر پر جمی ہوئی برف پر ماضی اور حال کے زمانے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا اندازہ  لگایا گیا۔ چار سالوں کے دوران میدانی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وادی زانسکار میں یہ گلیشیر اوسطا  6.7  پلس مائنس 3 ایم اے -1 کی شرح سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ یہ مطالعہ  میگزين 'ریجنل اینوائرنمنٹ چینج' میں شائع ہوا ہے۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے گلیشیر کے پیچھے کھسکنےکا سبب درجہ حرارت میں اضافے اور سردیوں میں کم برف باری بتایا ہے۔

مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برف کی چادر کے اوپر ملبہ بھی جمع  ہے جس کے   مضر اثرات بھی ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے گرمیوں میں گلیشیر کا ایک سرا کھسک جاتا ہے۔ مزید یہ کہ پچھلے تین سالوں (2016-2019) کے دوران برف جمع ہونے میں منفی رجحان رہا ہے اور برف کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ جمع ہوا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہوا کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے برف کے پگھلنے میں تیزی آئے گی۔
واضح رہے کہ پوری دنیا میں ہوا کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امکان ہے کہ گرمیوں کے دورانیہ میں اضافے کی وجہ سے اونچی جگہوں پر برف باری کے بجائے بارش شروع ہو جائے، جس کی وجہ سے سردی-گرمی کے موسم کا مزاج بھی بدل جائے گا

 

 

 

 

ممتاز کھیل رتن ایوارڈ کانام تبدیل کرکے 'میجر دھیان چند کھیل رتن ایوارڈ' کیاگیا



نئی دہلی، 06 اگست

(پ ا ن)ممتاز   کھیل رتن ایوارڈ کانام تبدیل کرکے اب 'میجر دھیان چند کھیل رتن ایوارڈ'  کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے یہ معروف  ایوارڈ سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے نام پر راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک کو فخر کرنے کا موقع فراہم کرنے والے لمحات کے درمیان کئی ہم وطنوں کی یہ بھی درخواست آئی ہے کہ کھیل رتن ایوارڈ کا نام میجر دھیان چند جی کے نام سے  وقف کیا جائے۔ لوگوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب اس کا نام بدل کر میجر دھیان چند کھیل رتن ایوارڈ رکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ میجر دھیان چند، ہندوستان کے صف اول کے کھلاڑیوں میں شامل تھے جو ہندوستان کے لیے اعزاز اور فخر کا باعث بنے۔ یہ ہر لحاظ سے مناسب ہوگا کہ ہمارے ملک  کا سب سے بڑا کھیل اعزاز ان کے نام سے موسوم کیا جائے۔
اولمپک کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی سے ہم سب انتہائی مسرور ہیں۔خاص طور سے ہاکی میں  ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں نے جس طرح کی قوت ارادی کا مظاہرہ کیا ہے، جیت کے تئیں جس طرح کی وارفتگی اورجوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے، وہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیےبہت زیادہ حوصلہ افزاہے۔

 

Sunday, 23 August 2020

ا ردو قلمکاروں کو مالی امداد، کرناٹک اردو اکادمی کا مستحسن قدم

 

 

 

 

 

 

اردو قلمکاروں کو مالی امداد، کرناٹک اردو اکادمی کا مستحسن قدم

گلبرگہ 23اگست(پ ۔ ا۔ ن ) ڈاکٹر ماجد داغی معتمد انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ نے بتایا کہ کرناٹک اردو اکادمی بنگلور نے کرناٹک کے شعرائ، ادباء،صحافی، آرٹسٹ، ڈرامہ فنکار، قوالی وغزل سنگرس کو کووڈ 19 مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔کرناٹک اردو اکامی کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کرناٹک کے قلمکار اور فنکاروں سے خواہش کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس اسکیم سے استفادہ کریں۔ درخواست فارم میں جوشرائط دی گئی ہیں ان کی تکمیل کرتے ہوئے 31 اگست تک درخواست فارم دفتر اکادمی پہنچ جانا چاہیئے۔ مزید تفصیلات اور درخواست فارم کرناٹک اردو اکادمی کے ویبسائٹ www.karnatakurduacademy.orgسے حاصل کئے جاسکتے ہیں یا درخواست فارم دفتر انجمن ترقی اردو ہند روبرو کے بی ین اسپتال اسٹیشن روڈ گلبرگہ سے بھی دوپہر ایک تا پانچ بجے کے دوران حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 
 
ڈاکٹر ماجد داغی نے محترمہ عائشہ فردوس رجسٹرار کرناٹک اردو اکیڈمی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کرناٹک اردواکیڈمی کے اعلان کی تفصیلات میں اردو میڈیم سے میٹرک میں نمایاں نشانات حاصل کرنے والے اور پی یو کے طلبہ جنہوں نے مضمون اردو اختیار کیا رقمی انعامات کے اعلان کے ساتھ ساتھ ایم اے اردو کے زیرِ تعلیم طلبہ کو 25 ہزار اسکالرشپ کا اعلان بھی کیا ہے جو نہ صرف طالب علموں کی حوصلہ افزائی ہے بلکہ اردو زبان کے فروغ کے لئے بھی ایک موثر ترغیب ہے۔انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کرناٹک اردواکیڈمی بنگلور کے ان قابلِ قدر اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے محترمہ عائشہ فردوس کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہے۔ڈاکٹر ماجد داغی نے کہا کہ محترمہ عائشہ فردوس کے مستحسن اعلانات کے بعد ریاست کے اردو داں طبقہ سے ان کی کی گئی ہمدردانہ اپیل بھی اردو زبان کے فروغ اور استحکام کے لئے لائقِ تحسین اور قابلِ تقلید گزارش ہے کہ جس میں وہ اہلِ اردو کو اپنے بچوں کو اردو اسکولوں میں داخل کروانے کی درخواست کی ہے۔اور ساتھ ہی ساتھ انگریزی یا کنڑا میڈیم اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ سے اردو مضمون اختیار کرنے کی بھی پر زور اپیل کی ہے کہ مضمون اختیاری تھرڈ لنگویج کی حیثیت سے اردو کا انتخاب کیا جاسکتا ہے اور کالجوں میں اردو مضمون موجود نہ ہو تو اس کیلئے والدین اور مقامی اردو تنظیمیں کالج کی انتظامیہ سے رجوع ہوکر اردو مضمون رائج کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے اردو تعلیم کو فروغ دینے کی ہر سطح پرکوشش کا آغاز کرنے کی شاندار پہل کی ہے اور اس خصوص میں اردو تنظیموں کو بھی متوجہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اردو زبان کی اہمیت اور ضرورت سے متعلق والدین کو بھی آگاہ کریں اور اس طرح سماج میں اردو تہذیب، اردو زبان و ادب کے سلسلے میں بیداری پیدا کریں۔انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ،کرناٹک اردو اکاڈمی کی ان کوششوں کی ستائش کے ساتھ بھر پور تعاون کا یقین دلاتی ہے۔

 

Sunday, 2 August 2020


گوپال گنج میں تالاب میں ڈوب کر نوجوان کی موت
 
گوپال گنج 02 اگست ( پ ان ) بہار میں گوپال گنج ضلع کے کٹیا تھانہ علاقہ میں اتوار کو تالاب میں ڈوب کر ایک نوجوان کی موت ہوگئی ۔ پولیس ذرائع نے یہاں بتایاکہ کرمینی گاﺅں باشندہ ویکا س پرجاپتی (14) گھاس کاٹنے کے لئے چور میںگیا تھا ۔ جہاں پیر پھسل جانے سے وہ تالاب میں گر گیا ۔ گاﺅں والوںنے نوجوان کو تالاب سے باہر نکالا اور اسے کٹیا ریفرل اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ گوپال گنج صدر اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد لاش اہل خانہ کو سونپ دی گئی ہے ۔


Tuesday, 21 July 2020

مدھیہ پردیش کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر صدر ، نائب صدر ، وزیراعظم ، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع ، سمیت متعدد رہنماﺅں نے تعزیت کا ظہار کیا


مدھیہ پردیش کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر صدر ، نائب صدر ، وزیراعظم ، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع ، سمیت متعدد رہنماﺅں نے تعزیت کا ظہار کیا

    نئی دہلی پٹنہ صدر رام ناتھ کووند نے منگل کو مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ٹوئٹر کے توسط سے اپنے تعزیتی پیغام میں مسٹر کووند نے کہا”ہم نے ایک عظیم شخصیت کھو دی ہے جو مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کے انتقال کے ساتھ لکھنو ¿ کی ثقافت اور قومی لگاو ¿ کا ایک حیرت انگیز اتصال تھے“۔صدر نے کہا ”میں ان کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتاہوں۔ ان کے اہل خانہ اور دوستوں سے میری گہری تعزیت ہے“۔

  مدھیہ پردیش کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر صدر ، نائب صدر ، وزیراعظم ، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع ، سمیت متعدد رہنماﺅں نے تعزیت کا ظہار کیا

    نائب صدر جمہوریہ ایم وینکئیا نائیڈو نے مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بہترین سیاست اور روایات کا علم بردار بتایا ہے۔مسٹر نائیڈو نے منگل کو یہاں جاری ایک پیغام میں کہا کہ مسٹر ٹنڈن نے اپنی عوامی زندگی میں کئی عہدوں پر کام کیا،وہ روایات کے علم بردار تھے۔انہوں نے کہا،”مدھیہ پردیش کے گورنر مسٹر لال جی ٹنڈن کے انتقال کی خبر پر دکھی ہوں۔سینئر رہنما،سماجی کارکن اور لکھنو ¿ علاقے کی لوک روایتوں اور تاریخ میں خاص دلچسپی رکھنے والے ٹنڈن جی لمبے وقت تک اترپردیش مقننہ کے رکن رہے اور اترپردیش حکومت میں بھی متعدد فرائض کو انجام دیا۔“مسٹر نائیڈو نے کہا،”ٹنڈن جی اچھے سیاسی کی مہذب رایتوں کے علم بردار تھے۔



    وزیرا عظم نریندر مودی نے بھی اپنے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا'آنجہانی ٹنڈن کو آئینی معاملات میں کافی مہارت حاصل تھی۔انہوں نے اٹل جی کے ساتھ ایک لمبا عرصہ گذارا تھا۔ اس تکلیف کی گھڑی میں آنجہانی کے اہل خانہ اور ان کے خیرخواہوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتا ہوں'۔


    مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کی موت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کی موت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اورملک کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔مسٹر ٹنڈن کی موت پر تعزیت کرتے ہوئے شاہ نے ٹوئٹ کیا ”بی جے پی کے سینئر رہنما اور مدھیہ پردیش کے گورنرلال جی ٹنڈن کے انتقال سے مجھے شدید دکھ ہوا ہے۔ ٹنڈن کی پوری زندگی اترپردیش میں عوامی خدمت کے لئے وقف تھی۔ تنظیم کی توسیع میں انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا“۔انہوں نے کہا” بطورسماجی خدمتگارلال جی ٹنڈن جی نے ہندوستانی سیاست پر گہری چھاپ چھوڑی۔ ان کی موت ملک اور بی جے پی کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ میں ایشورسے آنجہانی کی آتماکی شانتی کیلئے دعا گو ہوں۔


    بہار کے گورنر پھاگو چوہان نے مدھیہ پردیش کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کیا اور کہاکہ مسٹر ٹنڈن نے بہا ر میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی کوشش کو رفتار عطا کی ۔مسٹر چوہان نے منگل کو یہاں اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ بہار کے گورنر رہ چکے مسٹر ٹنڈ ن ایک مشہور لیڈر ، ماہر ایڈمنسٹریٹر اور عظیم اسکالراور مصنف تھے ۔ ان کے انتقال سے ہندوستانی سیاست ۔ سماجی زندگی کو ناقابل تلافی نقصان ہواہے ۔ مسٹر ٹنڈن نے بہار میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ ۔ کوششوں کو خصوصی رفتار عطا کی ۔ اتر پردیش میں بھی لکھنﺅ کے رکن پارلیمنٹ اور ریاست کے مختلف محکموں کے وزیر کے عہدے پر رہتے ہوئے ان کی خدمات فراموش ہیں۔گورنر نے آنجہانی کے روح کی تسکین اور ان کے کنبہ کے اراکین اور ان کے مداحوں کو صبر کی قوت عطا کرنے کی دعا کی ۔


     وزیر اعلی نتیش کمار نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ آنجہانی لال جی ٹنڈن ایک مقبول رہنما ، تجربہ کار ایڈمنسٹریٹر اور نامور ماہر تعلیم تھے۔ بہار کے گورنر کی حیثیت سے ان کی مدت کار ناقابل فراموش ہوگی۔ انہوں نے بہار میں اعلی تعلیم کی ترقی کو رفتاردی ۔ اترپردیش میں بھی انہوں نے لکھنو ¿ کے رکن پارلیمنٹ اور ریاست کے مختلف محکموں کے وزیر کے عہدے پر فائز ہوتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو مو ¿ثر طریقے سے نبھایا۔آنجہانی لال جی ٹنڈن سے میرے ذاتی تعلقات تھے اور ان کے انتقال کی خبر سن کر مجھے بہت صدمہ پہنچاہے۔
     بہار کے نائب وزیراعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے سنیئر لیڈر سشیل کمار مودی نے ریاست کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر منگل کو گہری تعزیت کا اظہار کیا ۔مسٹر مودی نے یہاں اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ مسٹر ٹنڈن کے انتقال سے بی جے پی کے ساتھ ۔ ساتھ ہندوستانی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان ہواہے ۔ وہ تاعمر پارٹی کے نظریات سے منسلک رہے اور انہوں نے تنظیم کو مضبوط کرنے میں ہمیشہ فعال کر دار ادا کیا ۔ نائب وزیراعلیٰ نے آنجہانی کے روح کی تسکین اورا ن کے حامیوں ، بہی خواہوں اور اہل خانہ کو صبر کی قوت عطا کرنے کی دعا کی ہے ۔ 



جھارکھنڈکے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے مدھیہ پردیش کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ مسٹر سورین نے منگل کو یہاں کہاکہ بہار کے سابق گورنر مسٹر ٹنڈن حساس طبیعت کے مالک تھے ۔ تجربہ کار ایڈمنسٹریٹر کے طور پر انہوں نے اپنی خاص شناخت بنائی تھی۔ ان کے انتقال سے ناقابل تلافی نقصان ہواہے ۔ انہوں نے آنجہانی کے روح کی تسکین اور اہل خانہ ولواحقین کو غم کے ان ایام میں صبر کی قوت عطا کرنے کی دعا کی ہے ۔ 



    مرکزی وزیر تجاروت و صنعت پیوش گوئل نے مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کی موت پر اظہارِ تعزیت کیا اور کہا کہ مسٹر لال جی ٹنڈن کو تیز طرار رہنما کے طور پر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا،’ مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کی موت کی خبر سن کر بہت تکلیف ہوئی۔ انھیں ایک تیز طرار عوامی رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بی جے پی کی تنظیمی توسیع میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ مالک انھیں اپنے قدموں میں جگہ دے‘۔ 


    راجستھان کے گورنر کلراج مشر نے کہا ہے کہ،”محترم لال جی ٹنڈن کا انتقال میرے لئے ذاتی نقصان ہے۔اپنی تکلیف کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر پارہا ہوں۔ہم نے ایک خاندان کی طرح بہت وقت تک ساتھ کام کیا اور دکھ سکھ کے ساتھی رہے۔مسٹر مشر نے کہا ہے کہ اپنے سیاسی زندگی میں انہوں نے ہمیشہ پوری ایمانداری اور سپردگی سے کام کیا۔وہ ہر ایک کارکن کے لئے متاثر کن شخصیت تھے۔ ادھر گورنر مسٹر مشر کی جانب سے لکھنﺅ کے ضلع کلیکٹر کے ذریعہ مرحوم ٹنڈن کی میت پر پھولوں کی مالا پیش کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کی گئی۔



    لکھنو ¿ پارلیمانی حلقے سے رکن پارلیمان و وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے منگل کو مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کے انتقال پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے لکھنو ¿ پہنچے۔مسٹر سنگھ نے یہاں دوپہر میں پہنچ کر آنجہانی کے جسد خاکی پر گلپوشی کی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔وزیر دفاع نے کہا کہ لال جی ٹنڈن کے ہمارے درمیان سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہونا ان کا ذاتی طو سے نقصان ہے۔ وہ میرے سرپرست کے طور پر رہے۔ریاست کی سیاست میں بی جے پی کو اونچائی دینے میں ان کا کافی اہم کردار رہا ہے۔ ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا کہ ہمارا کوئی خیر خواہ لکھنو ¿ میں موجود ہے۔ہر کارکن سوچتا تھا کہ جب لکھنو ¿ جائیں گے اگر کوئی نہیں ملے گا تو بھی ٹنڈن جی تو ضرور ملیں گے وہ ہماری سنیںگے اور اس کا حل نکالیں گے۔


    تمل ناڈوکے گورنر بنواری لال پروہت نے گورنر لال جی ٹنڈن کے انتقال پر گہرے دکھ کااظہارکرتے ہوئے انہیں عظیم سیاستداں، موثر منتظم اوربڑا انسان قرار دیا۔گورنر ہاو ¿س سے جاری ریلیز میں کہاگیا ہےکہ مسٹرپروہت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ”مسٹر ٹنڈن کے انتقال سے مجھے گہرا صدمہ اور دکھ پہنچا ہے۔“ انہوں نے کہاکہ مسٹرٹنڈن نے اپنی پوری زندگی ملک کے لئے بالخصوص اترپردیش کے لوگوں کے لئے وقف کردیا۔ ان کاانتقال ملک کے لوگوں کے لئے غیر معمولی نقصان ہے۔


    آندھر پردیش کے گورنر وشوابھوشن ہری چندن نے مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کی موت پر گہرے صدمہ کا اظہار کیا ۔گورنر نے دومعیادوں کے لئے اترپردیش قانون ساز کونسل کے لیڈر و تین معیادوں کے لئے اسمبلی کے رکن کے ساتھ ساتھ یوپی حکومت میں وزیر کے طورپر ان کی خدمات کو یاد کیا۔مسٹر ہری چندن نے کہاکہ لال جی ٹنڈن 15ویں لوک سبھا میں رکن تھے۔مدھیہ پردیش کے گورنر کے طورپر ان کے اقدامات یاد رکھے جائیں گے جو ریاست کی یونیورسٹیوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے ان کی جانب سے کئے گئے تھے۔گورنر نے لال جی ٹنڈن کے غمزدہ ارکان خاندان سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔


    واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے بزرگ لیڈر مسٹر ٹنڈن کا منگل کی صبح اتر پردیش کے دار الحکومت لکھنﺅ میں انتقال ہوگیا ۔ وہ 85 سال کے تھے ۔ وہ گذشتہ کئی دنوں سے بیمار تھے اور ان کا لکھنﺅ کے ایک اسپتال میں علاج چل رہا تھا ۔ ان کی آخری رسومات آج شام ادا کی جائے گی ۔

بہار کے مغربی چمپارن کے قریب 70 گاﺅں میں سیلاب کا پانی داخل


 بہار کے مغربی چمپارن کے قریب 70 گاﺅں میں سیلاب کا پانی داخل


بہار کے مغربی چمپارن کے قریب 70 گاﺅں میں سیلاب کا پانی داخل



بگہا 21 جولائی . نیپال میں مسلسل ہورہی شدید باش کے مابین بہار میں مغربی چمپارن ضلع کے والمیکی نگر بیراج سے منگل کو چھوڑے گئے ساڑھے چار لاکھ کیوسک پانی سے گنڈک ندی میں آئی طغیانی سے سیلاب کا پانی ضلع کے قریب 70 گاﺅں پھیل گیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے منگل کو یہاںبتایاکہ والمیکی نگر بیراج سے گنڈک ندی میں ساڑھے چارلاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا ۔ اس سے علاقہ میں سیلاب نے خوفناک صورتحال اختیارکرلی ہے ۔ اس سے مغربی چمپارن ضلع کے ندی کے سرحدی ٹھکراہا ، بھتہا ، مدھوبنی اور پپراسی بلاکوں کے نشیبی علاقوںمیں رہائش پذیر قریب ستر گاﺅں میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے ۔


 انتظامیہ کی جانب نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر ان سبھی متاثرہ گاﺅں کے لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے میں مددکی جارہی ہے ۔گنڈک ندی کے کنارے واقع انتہائی اہم پپرا سی پشتہ کے کئی مقامات پر پانی کا زبردست دباﺅ ہے ۔ اس پشتہ کے بھتہا ریٹائرڈ لائن 32.38 پوائنٹ پر گنڈک ندی کا زبردست دباﺅ برقرار ہے ۔ یہاں آبی وسائل محکمہ کے انجینئروں کی ٹیم مسلسل چوکسی برت رہی ہے ۔ سیلاب کی وجہ سے والمیکی نگر کے جھنڈا ٹولہ واقع سرحدی سیکوریٹی فورس ( ایس ایس بی ) کی 21 ویں بٹالین کیمپ میں سیلاب کا پانی داخل ہوجانے سے جوانوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔

 والمیکی نگر ہوائی اڈہ میں بھی سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے ۔ وہیں چکھنی گرام کے نزدیک نیشنل ہائی وے نمبر 727 سیلاب سے تباہ ہوگیا ہے جس سے بڑی گاڑیوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہو گئی ہے ۔ وہیں ضلع کے شمالی علاقہ میں پہاڑی ندیاں مسان ، بھلوئی ، سنگا ، کاپر ، رگھیا نے بھی زبردست تباہی مچا رکھی ہے ۔ کئی مقامات پر دیہی سڑکیں کٹ گئی ہیں اور پل۔ پلیا برباد ہو گیا ہے ۔ سیلاب کی شدت کو دیکھتے ہوئے بگہا میں این ڈی آرایف کی ٹیم تعینات کر دی گئی ہے اور متعلقہ سرکل افسر اور بلاک ڈیولپمنٹ افسر سیلاب متاثرہ علاقوں میں مسلسل چوکسی برت رہے ہیں۔




BIHAR #,GANDAK#, FLOOD #,BSF#,WALMIK NAGAR





Wednesday, 15 July 2020

بزمِ صدف کے اہم کارکن عرفان اللہ کی والدہ کا انتقال

بزمِ صدف کے اہم کارکن عرفان اللہ کی والدہ کا انتقال



پٹنہ/دوحہ بزمِ صدف انٹرنیشنل کے سرگرم کارکن دوحہ، قطر شاخ کے پروگروام کوآرڈینیٹر محمد عرفان اللہ کی والدہ محترمہ خالدہ پروین کے انتقال پربزمِ صدف انٹرنیشنل نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ 

آج یہاں جاری ایک ریلیز کے مطابق بزمِ صدف کے سرپرست اعلی محمد صبیح بخاری، چیئرمین شہاب الدین احمد، ڈائرکٹر صفدر امام قادری، بین الاقوامی کوآرڈینیٹر احمد اشفاق اور دوحہ، قطر کے ارکان میں عمران اسد، ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی دانش، مقصود انور اور اوم پرکاش پریدہ کے ساتھ ساتھ ہندستانی شاخ کے سکریٹری ڈاکٹر محمد زاہد الحق، ڈاکٹر ظفر امام، دلی شاخ کے صدر ڈاکٹر واحد نظیر اور میڈیا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر تسلیم عارف نے اپنے ایک سرگرم رکن کی مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ ہونے کا یقین دلایا ہے اور مرحومہ کے لیے خدا سے ان کے درجات بلند کرنے کی دعا کی ہے۔ 


بزم صدف انٹرنیشنل کے چیرمین شہاب الدین احمد نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں مسٹر عرفان اللہ کے ساتھ ہماری ساری ہمدردی ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحومہ کی مغفرت کرتے ہوئے جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا کرے۔ انہوں نے کہاکہ مرحومہ صوم صلوۃ کی پابند، نیک اور مخیر تھیں۔


واضح رہے کہ بزمِ صدف انٹرنیشنل کے سرگرم کارکن دوحہ، قطر شاخ کے پروگروام کوآرڈینیٹر محمد عرفان اللہ کی والدہ محترمہ خالدہ پروین کا پینسٹھ برس کی عمر میں کل ان کے آبائی وطن بتیا، مغربی چمپارن میں ایک مختصر علالت کے بعد انتقال ہوا۔ محلہ بسوریا کے قبرستان میں وہ دفن ہوئیں۔دو برس قبل ان کے شوہر محمد رسول صاحب 21/جولائی 2018ء کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے تھے۔ پسماندگان میں محمد عرفان اللہ کے علاوہ دوسرے صاحب زادے رضوان اللہ اور دو دختران شاہینہ اور نجمہ کے علاوہ پوتے پوتیاں اور نواسے موجود ہیں۔ محمد عرفان اللہ کورونا کے مسائل کی وجہ سے قطر سے ہندستان نہیں آسکے اور تجہیز و تکفین میں شامل نہ ہوسکے۔


Tuesday, 30 June 2020



سبزی باغ شاہراہ کی تعمیر شروع ہونے سے عوام میں مسرت و شادمانی

متحرک و فعال نوجوان وارڈ کونسلر اسفر احمد اور سابق ایم ایل سی انور احمد پیش پیش




پٹنہ (قمرالحسن) پٹنہ کے قلب سبزی باغ وارڈ چالیس کی شاہراہ پر تعمیراتی کام زورو شور سے جاری و ساری ہے ۔ جس سے لوگوں میں کافی خوشی کا ماحول ہے ۔ کیونکہ شاہراہ کے بن جانے سے عوام کو آمد ورفت میں مزید سہولیات ہوںگی ۔ وارڈ چالیس کی ترقی میں نوجوان و متحرک وارڈ کونسلر اسفر احمد پیش پیش ہیں جن کی کوششوں سے یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچنے والا ہے ۔ ساتھ ہی سابق ایم ایم ایل سی اور عوامی کوآپریٹیو بینک کے چیئرمین انور احمد کی بھی کوششوں کی بدولت یہ کام ہو پایا ہے ۔ مسٹر انور احمد اور مسٹر اسفر دونوں عوامی کاموں میں کافی متحرک و فعال نظر آتے ہیں۔ اور عوامی خدمات کے تئیں ان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ ابھی کچھ دن قبل راشن کارڈ بنانے سمیت وارڈ کی صاف صفائی میں جناب انور احمد اور اسفر احمد ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ اور وارڈ کی ترقی میں ان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔
واضح رہے کہ کافی دنوں سے یہ شاہراہ خستہ حال تھی اور عوام کو بارش کے دنوں میں کافی مشقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا لہذ جب سے اس شاہرا ہ پر کام شروع ہوا ہے لوگوں میں خوشی کا ماحول ہے اور یہ سب وارڈ کونسلر جناب اسفر احمد کی کوششوں سے ہو پایا ہے ۔

Friday, 7 February 2020

9فروری کو معہدالہدی الاسلامی سپول کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کانفرنس 
سپول 07 فروری (قمر الحسن) معہدالہدی الاسلامی عبد اللہ نگر سپول کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کانفرنس بتاریخ 09 فروری 2020 بروز اتوار بعد نماز عصر تا وقت مناسب کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ جس میں ملک کے مشہور ومعروف علماءکرام کی شرکت متوقع ہے ۔ جن میں شیخ عبد العلیم السلفی ، شیخمحمد جرجیس سراجی چتروی ، حافظ معروف اعظم ریاضی حال مقیم قطر، ، شیخ امان اللہ المدنی ، شیخ نظام الدین المدنی ، فیروز عالم الندوی ، غازی بن عبد السمیع امیر امارت اہل حدیث ، شیخ عبد اللہ اسحاق ، آفتاب عالم محمد ی ،سیف الرحمن ، شیخ خورشید عالم مدنی نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار ، شیخ انعام الحق مدنی ، شیخ محمد ابراہیم مدنی ،شیخ عبد الرحمن السلفی ، شیخ منصور عالم السلفی ، قاری شمشاد ، شیخ توحید عالم السلفی ، شمیم اختر فیضی ، شیخ عبد السلام ندوی ، شیخ اکرام الحق ، شیخ محمد داﺅد ، شمشیر عالم ، مجاہدالاسلام ، عبدالقادر وغیرہم کی شرکت متوقع ہے۔ مذکورہ باتیں شیخ قمر الہدی اسلامی مدیر معہد الہدی الاسلامی عبد اللہ نگر سپول نے اپنے ایک اخباری بیان میںکہی ہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے برداران اسلام سے گذارش کی ہے کہ کثیر تعداد میں کانفرس میں شریک ہوکر علماءکرام کے مواعظ حسنہ سے مستفید ہوں اور معہد کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیکر ثواب دارین کے مستحق ہیں۔ خواتین کیلئے پردہ کا معقول انتظام ہے ۔ 

Saturday, 28 September 2019

Benefits of turmeric ہلدی کے بیشمار فائدے



ہلدی کھانے کا رنگ اور ذائقہ ہی بہتر نہیں کرتی بلکہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ 
ساتھ مضبوط اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ بھی ہے۔

Benefits of turmeric ہلدی کے بیشمار فائدے

 Turmeric benefits for skin

Benefits of turmeric ہلدی کے بیشمار فائدے

جگر کی صفائی

ہم عام طور پر جو کھاتے ہیں، خصوصاً آج کے دور میں، وہ غذا اکثر کیمیکلز، کیڑے مار ادویات اور دیگر آلودگی کی زد میں آتی ہے اور اس کے زہریلے اثرات جگر اور گردوں سمیت جسمانی نظام میں اکھٹے ہوجاتے ہیں جو کہ مختلف امراض کا باعث بنتے ہیں، تاہم ہلدی کا استعمال ان اثرات کو ختم کرتا ہے اور جگر کی صفائی کرکے اسے ٹھیک رکھتا ہے۔

جلد جگمگائے

ہلدی جلد کے مردہ خلیات کی صفائی کے لیے بہترین ہے اور یہ جلد کو جوانی جیسی چمک دینے میں مدد دیتی ہے۔ ہلدی کو دودھ یا دہی میں ملائیں اور اچھی طرح مکس کرکے چہرے یا جسم کے کسی حصے پر لگائیں۔ اسے خشک ہونے تک کے لیے چھوڑ دیں اور نیم گرم پانی سے صاف کردیں، جبکہ اس دوران چہرے کو نرمی سے مساج بھی کرتے رہیں۔

انفیکشن سے تحفظ

ہلدی طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ اور جراثیم کش مصالحہ ہے جو مختلف انفیکشنز جیسے ای کولی (جو کہ شدید انفیکشن، معدے کے درد، ہیضے اور دیگر مسائل کا باعث بنتا ہے) کی روک تھام کرتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

یہ مصالحہ ڈائٹنگ کی کوشش کو فائدہ ضرور پہنچا سکتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلدی کے استعمال سے چوہوں میں چربی کے ٹشوز کی نشوونما میں کمی دیکھنے میں آئی، جس سے جسمانی وزن کم ہوا۔ ہلدی کا کھانے میں زیادہ استعمال اس ورم سے بچاتا ہے جو کہ موٹاپے کا باعث بنتا ہے جبکہ چربی گھلنے کی رفتار کو بھی ذرا تیز کردیتا ہے۔

جوڑوں کی تکلیف میں کمی کا امکان

ہلدی میں موجود پولی فینول ایسا اینٹی آکسائیڈنٹ ہے جو کہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہلدی جوڑوں کے درد، اکڑن اور سوجن میں کمی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جوڑوں کے امراض کے شکار افراد ڈاکٹر کے مشورے سے ہلدی پا?ڈر کے کیپسول استعمال کرکے ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔

مزاج خوشگوار بنائے

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ ہلدی جسمانی ورم کے خلاف مفید ہے اور یہ ورم ہی ڈپریشن میں اہم کردار بھی ادا کرتا ہے۔ کچھ سال پرانی ایک تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ جب ماہویسی کے شکار افراد کو آٹھ ہفتے تک دن میں روزانہ 500 ملی گرام ہلدی کا استعمال کرایا گیا تو ان کے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوئے۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ہلدی ڈپریشن کی علامات کو کم کرنے کے لیے انتہائی موثر مصالحہ ہے۔

بلڈشوگر کنٹرول کرے

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلدی کا استعمال بلڈ گلوکوز یا بلڈ شوگر لیول کم اور کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، خصوصاً ایسے افراد میں جو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار ہوں، بلڈ شوگر لیول مستحکم رہنے سے ان میں ذہابیطس کی دیگر پیچیدگیوں کاخطرہ بھی کم ہوتا ہے جیسے گردوں کے امراض یا اعصابی نظام کو نقصان پہنچنا۔ اسی طرح یہ مصالحہ ذیابیطس کا شکار ہونے سے بھی بچاسکتا ہے مگر اس حوالے سے سائنسدانوں نے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

الزائمر کا خطرہ کم کرے

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلدی کا استعمال درمیانی عمر میں یاداشت اور مزاج کو بہتر بنا کر الزائمر امراض کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہلدی میں پائے جانے والا زرد رنگ کا مرکب یا curcumin ممکنہ طور پر دماغی ورم کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ الزائمر امراض اور ڈپریشن جیسی بیماری کا باعث بنتا ہے۔

کینسر سے بچنے کا امکان بڑھائے

ہلدی ورم کش مصالحہ ہے اور جانوروں پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ورم کو کنٹرول کرنا کینسر کے بڑھنے کے عمل کو سست کرسکتا ہے بلکہ کینسر سے بھی بچاسکتا ہے اور ہاں کیموتھراپی کے عمل کو بھی زیادہ موثر بناسکتا ہے۔
خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ کم کرے
خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج وغیرہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات کا باعث بنتے ہیں، امراض قلب کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک جسماین ورم ہے اور ہلدی ورم کش مصالحہ ہے۔ ورم کش خصوصیات کی وجہ سے یہ مصالحہ شریانوں کے امراض سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے جس سے فالج اور دل کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

کیل مہاسے اور ورم کو صاف کرے

ہلدی کا استعمال کیل مہاسوں کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اسے اکثر چہرے پر لگانا کیل مہاسوں کے نشانات اور ورم کو دور کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

خراشوں اور جلنے کے زخموں کے خلاف مفید

ہلدی چونکہ قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات کی حامل ہے اور خراشوں، زخموں اور جلنے وغیرہ کے لیے مفید ہے، جو کہ مرہم کا کام کرتی ہے۔

بڑھتی عمر کی روک تھام

ہلدی اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ ہے جو کہ جسم کے اندر مضر صحت اجزاءکو بڑھنے سے روکتا ہے اور خلیات کو نقصان سے پہنچا کر عمر بڑھنے سے آنے والی تنزلی کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی طرح یہ نئے خلیات کی نشوونما میں بھی مددگار ہے جس سے بڑھتی عمر کے اثرات کو کسی حد تک زائل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

چہرے کے غیرضروری بالوں کو کم کرے

یہ خواتین کے لیے کافی اہم ہے اور ہلدی چہرے کے غیر ضروری بالوں کی نشوونما کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے 1/4 چمچ ہلدی کو ایک چمچ بیسن میں مکس کریں اور پانی ڈال کر پیسٹ بنالیں۔ اسے چہرے پر پندرہ منٹ لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں۔ اگر اس ٹوٹکے کو معمول بنالیا جائے تو ایک ماہ کے اندر نمایاں فرق دیکھا جاسکے گا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، قارئین اس سے متعلق اپنے ڈاکٹرسے بھی ضرور مشورہ لیں۔












Benefits of turmeric
Turmeric does not only improve the color and taste of food but also has strong antioxidant spices.

Turmeric does not only improve the color and taste of food but also has strong antioxidant spices.

v Countless benefits of turmeric

Ø Cleaning the liver
What we usually eat, especially in today's diet, is often subjected to chemicals, pesticides and other contamination, and its toxic effects accumulate in the body's system, including the liver and kidneys, which cause various diseases. Causes, however, using turmeric eliminates these effects and keeps the liver clean.

Ø Turmeric benefits for skin

Turmeric is excellent for cleansing dead skin cells and helps it shine on the skin. Mix turmeric in milk or yogurt and mix well and apply it on face or body part. Leave it to dry and rinse with semi-warm water, while also massaging the face gently.




Ø Protection from infection
Turmeric is a powerful antioxidant and antibacterial spice that prevents various infections such as E. coli (which can cause severe infections, gastrointestinal pain, diarrhea and other problems).

Ø Turmeric benefits weight loss
It can definitely benefit the spice dieting effort. One study found that the use of turmeric resulted in a decrease in fat tissue development in mice, leading to a reduction in body weight. Excessive use of turmeric in food protects against swelling which leads to obesity, while also speeding up the dissolution of fat.

Ø Possibility of reducing discomfort of the joints
Poly phenol in turmeric is an antioxidant that has anti-inflammatory properties. Various medical research reports have shown that turmeric is capable of reducing joint pain, stiffness and swelling. People suffering from arthritis can get relief using turmeric-based fear capsules at the doctor's advice.

Ø Make the mood pleasant
As mentioned above, turmeric is useful against bodily edema and it also plays an important role in depression. A recent study revealed that turmeric is the most effective spice to reduce the symptoms of depression.


Ø Control the blood sugar
One study found that the use of turmeric helps lower and control blood glucose or blood sugar levels, especially in people who are diabetic type two, staying at high blood sugar levels may be at risk of other complications of diabetes. Is also less likely to cause kidney diseases or damage to the nervous system. Similarly, the spices can also prevent diabetes, but scientists have emphasized the need for further research.





Ø Nail cleanses acne and edema
The use of turmeric not only prevents nail acne but also helps to relieve the symptoms and edema of nail acne frequently.

Ø Useful against bruises and burns wounds
Since turmeric has naturally occurring bacterial properties and is useful for measles, wounds and burns, etc., it acts as an ointment.


Ø Preventing the aging
Turmeric is an antioxidant spice that prevents harmful health components from growing inside the body and prevents aging from damage to the cells. It is also helpful in the development of new cells, which helps to reduce the effects of aging.

Ø Reduce unnecessary hair of the face
It is important for women and helps prevent unnecessary facial hair growth. For this purpose, mix 1/4 teaspoon turmeric into a spoon basin and pour water and make a paste. Let it remain on the face for fifteen minutes and then wash. If this point is normalized, a significant difference will be seen within a month.

Note: This article is for general information; readers should consult your doctor.