حکومت نریندرمودی اور ارون جیٹلی اسٹیڈیم کانام بھی تبدیل کرے: کانگریس
نئی دہلی، 6 اگست (پ ا ن)
کانگریس نے راجیوگاندھی کھیل رتن ایوارڈ کانام تبدیل کرکے میجردھیان چند کے نام پررکھنے کے فیصلے کاخیرمقدم کیا لیکن کہا کہ اب حکومت کونریندرمودی اسٹیڈیم اورارون جیٹلی اسٹیڈیم کانام بھی تبدیل کردیناچاہیے۔کانگریس کے میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سورجے والا نے جمعہ کے روز یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ حکومت نے راجیو گاندھی کھیل رتن کا نام تبدیل کیاہی ہے تواسے اب پہلے نریندرمودی اسٹیڈیم اورارون جیٹلی اسٹیڈیم کا نام بھی تبدیل کردیناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ میجردھیان چند کوہاکی کاجادوگرکہا جاتا ہے اورانہیں یہ نام ملک ہی نہیں بلکہ دنیا نے دیا۔ میجردھیان چند کاپوری دنیا میں احترام ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے اس شخصیٹ کانام اپنے چھوٹے سیاسی مقصد کوحاصل کرنے کے لئے کیا ہے اوراس معمولی مقصد کے لئے ان کے نام کا استعمال کرنااچھا نہیں ہے۔ترجمان نے کہا کہ ان کی پارٹی میجردھیان چندکے نام پر ایوراڈکانام رکھنے کاخیرمقدم کرتی ہے اورمطالبہ کرتی ہے کہ اب بھارتیہ جنتاپارٹی کے لیڈران کے نام پر رکھے گئے اسٹیڈیموں کا نام بھی تبدیل کرناچاہیے۔
کسانوں کے معاملے پربحث نہیں، زرعی قانون ختم کرے حکومت:راہل
نئی دہلی،
6 اگست(پ ا ن) کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ان
کی
پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں کسانوں کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں چاہتیں
بلکہ حکومت سے کسان مخالف زرعی تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کامطالبہ کر رہی ہیں۔
مسٹر گاندھی جمعہ کو اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ یہاں جنتر منتر
پر منعقد 'کسان سنسد' میں حصہ لینے کے بعد صحافیوں کے سوال پرکہا کہ اپوزیشن کواب
کسانوں کے مسئلے پر بحث نہیں چاہیے۔ بحث سے اب کام نہیں چلے گا اس لیے حکومت کو
زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو منسوخ کرنا چاہیے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ بحث کا وقت گزر چکا ہے۔ زرعی قانون
کسانوں کے مفاد میں نہیں ہے اس لیے حکومت کومظاہرین کسانوں کی بات مانتے ہوئے
تینوں قوانین کو فوری طور ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔ مسٹر گاندھی سے جب
پوچھاگیا کہ حکومت نے کسانوں کے مسئلے پر بحث کرنے کے لئے تیار ہونے کی بات کی ہے
تومسٹرگاندھی نے کہا، ’’نہیں، نہیں! بحث سے کوئی کام نہیں چلے گا۔ یہ کالے قانون
ہیں۔ ان کو منسوخ کرناپڑے گا۔‘‘
انہوں نے کہا، "آج اپوزیشن جماعتوں نے مل کر کسانوں کے
مسئلے اور ان کالے قوانین کو ہٹانے کے لیے اپنی بھرپور حمایت دی ہے۔پارلیمنٹ میں
آپ جانتے ہیں کیا ہورہا ہے۔ پارلیمنٹ میں ہم پیگاسس کے بارے میں بات کرنا چاہتے
ہیں، وہاں پر وہ پیگاسس کی بات نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ نریندر مودی جی ہر ہندوستانی
کے فون میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہاں پرہم ہندوستان کے تمام کسانوں کو اپنا مکمل تعاون
دینے آئے ہیں۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی زراعت کے
قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا، "کسان ہمارے ملک کی روح
ہیں۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ انہیں کی وجہ سے پارلیمنٹ میں ہیں۔ پارلیمنٹ سے سڑک
تک کسانوں کی آوازاٹھانا ہم سب کا فرض ہے۔ ہم کسانوں کے ساتھ ہیں۔ سیاہ قانون
منسوخ کرو۔‘‘
کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے
کہا کہ پورا اپوزیشن کسانوں کے مطالبات پر متحد ہے۔ انہوں نے کہا، "آج مسٹر
راہل گاندھی سمیت 14 سیاسی جماعتوں کے رہنما جنتر منتر پر کسان سنسد میں شامل
ہوئے۔ کسانوں کی لڑائی کواپناتعاون دیا اور کسانوں کی لڑائی کی حمایت کرنے کے اپنے
فیصلہ کن عزم کا اعادہ کیا۔ کسانوں نے بھی مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم
اعتماد منظور کی۔
لداخ کے زانسکار میں گلیشیئر پیچھے کھسک رہے ہیں: تحقیق
نئی دہلی، 6 اگست
(پ ا ن) درجہ حرارت میں اضافے اور موسم
سرماں میں کم برفباری ہونے کی وجہ سے لداخ کے زانسکار میں
واقع پینسلنگپا گلیشیر (پی جی) پیچھے کھسک رہا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گلیشیر درجہ حرارت میں
اضافہ اور سردیوں میں کم برف باری ہونے کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ واڈیا انسٹی
ٹیوٹ آف ہمالیئن جیولوجی (WIHG)، دہرادون، 2015 سے گلیشیئروں کا مطالعہ
کر رہی ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ حکومت ہند کے محکمہ سائنس وٹیکنالوجی کے
ماتحت ہے۔ اس کے تحت، گلیشیروں میں برف جمع ہونے کی صورتحال، برف پگھلنے کی حالت،
ماضی کے موسمی حالات، مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کی کیفیت اور اس خطے کے
گلیشیئروں پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کی
ایک ٹیم نے ہمالیہ کے علاقوں جیسے زانسکار کا مطالعہ کیا جس کے بارے
میں بہت کم معلومات ہیں۔
گلیشیئروں میں برف جمع ہونے کی کیا صورتحال ہے اور اس پر کتنی
برف ہے، اس کا موقع پر معائنہ کیا گیا۔ اس کے لیے بانس سے بنا ہوا ایک پیمانہ
گلیشیر کی سطح پر نصب کیا جاتا ہے۔ یہ کھود کرکے اندر گاڑا جاتا ہے۔
اسی سے برف کی حالت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اسی طرح کا پیمانہ 2016 سے گلیشیر کی
سطح پر موجود تھا۔
پنسلنگپا
گلیشیر پر جمی ہوئی برف پر ماضی اور حال کے زمانے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا
اندازہ لگایا گیا۔ چار سالوں کے دوران میدانی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ
وادی زانسکار میں یہ گلیشیر اوسطا 6.7 پلس مائنس 3 ایم اے
-1 کی شرح سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ یہ مطالعہ میگزين 'ریجنل اینوائرنمنٹ
چینج' میں شائع ہوا ہے۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے گلیشیر کے پیچھے کھسکنےکا سبب درجہ
حرارت میں اضافے اور سردیوں میں کم برف باری بتایا ہے۔
مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برف کی چادر کے اوپر ملبہ
بھی جمع ہے جس کے مضر اثرات بھی ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے
گرمیوں میں گلیشیر کا ایک سرا کھسک جاتا ہے۔ مزید یہ کہ پچھلے تین سالوں
(2016-2019) کے دوران برف جمع ہونے میں منفی رجحان رہا ہے اور برف کا صرف ایک
چھوٹا سا حصہ جمع ہوا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہوا کے درجہ حرارت میں
مسلسل اضافے کی وجہ سے برف کے پگھلنے میں تیزی آئے گی۔
واضح رہے کہ پوری دنیا میں ہوا کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا
ہے۔ امکان ہے کہ گرمیوں کے دورانیہ میں اضافے کی وجہ سے اونچی جگہوں پر برف باری
کے بجائے بارش شروع ہو جائے، جس کی وجہ سے سردی-گرمی کے موسم کا مزاج بھی بدل جائے
گا
ممتاز کھیل رتن ایوارڈ کانام تبدیل کرکے 'میجر دھیان چند کھیل رتن ایوارڈ' کیاگیا
نئی دہلی، 06 اگست
(پ ا ن)ممتاز کھیل رتن
ایوارڈ کانام تبدیل کرکے اب 'میجر دھیان چند کھیل رتن ایوارڈ' کردیا
گیا ہے۔ اس سے پہلے یہ معروف ایوارڈ سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے نام
پر راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک کو فخر کرنے کا موقع
فراہم کرنے والے لمحات کے درمیان کئی ہم وطنوں کی یہ بھی درخواست آئی ہے کہ کھیل
رتن ایوارڈ کا نام میجر دھیان چند جی کے نام سے وقف کیا جائے۔ لوگوں کے
جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب اس کا نام بدل کر میجر دھیان چند کھیل رتن ایوارڈ
رکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ میجر دھیان چند، ہندوستان کے صف اول
کے کھلاڑیوں میں شامل تھے جو ہندوستان کے لیے اعزاز اور فخر کا باعث بنے۔ یہ ہر
لحاظ سے مناسب ہوگا کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا کھیل اعزاز ان کے نام سے
موسوم کیا جائے۔
اولمپک کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی سے
ہم سب انتہائی مسرور ہیں۔خاص طور سے ہاکی میں ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں
نے جس طرح کی قوت ارادی کا مظاہرہ کیا ہے، جیت کے تئیں جس طرح کی وارفتگی اورجوش و
خروش کا مظاہرہ کیا ہے، وہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیےبہت زیادہ حوصلہ
افزاہے۔
No comments:
Post a Comment