زید بن کمی
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے سے دو روز قبل میں نے ایک کالم لکھا تھا۔ جس کا عنوان 'تیس سال بعد مشرق وسطیٰ کیسا نظر آئے گا؟' کوشش یہ تھی کہ حالات کے دھارے کی اس تیز رفتاری کے نتائج اور اثرات کو سمجھا جائے۔ کیونکہ یہ خطہ ایک عرصے سے استحکام کی کمزوری کے بعض مسائل کا شکار چلا آرہا ہے۔ اس میں کئی ایسے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں جو اچانک اور غیر متوقع خرابی کا موجب ہوئے۔
لیکن اب جنگ کے تیزی سے چلنے والے پہیوں نے حقیقت میں حالات کا رخ موڑ دیا ہے۔ اب یہ سوال پہلے سے بھی زیادہ فوری اور واضح شکل میں سامنے آکھڑا ہے۔ موجودہ جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ کس سمت میں ہوگا؟
اس تناظر میں اس سے پہلے کہ ہم یہ سوال اٹھائیں کہ جنگ کا خاتمہ کب ہو گا یا جنگ کے بعد کیسے حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک سادہ سا سوال یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ جنگ شروع کیوں ہوئی؟ بہت سے لوگ جنگ کے سبب کو زیر بحث لانے میں ایرانی جوہری پروگرام کو جوڑتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک ایران سے اسرائیل کو لاحق خظرہ اس جنگ کا سبب بنا ہے۔ اس دوسرے سبب کو اہم جاننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کے بعد اسرائیل کو ایران سے بطور خاص خطرہ محسوس ہونے لگا تھا۔
ان دونوں نکتہ ہائے نظر کے علاوہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ ایرانی جوہری پروگرام نہیں تھا بلکہ وہ سوچ اور فکر بنی ہے جو ایران پر پچھلی تقریبا پانچ دہائیوں سے حکمرانی کرتی چلی آرہی ہے۔ حکمرانی کی یہ ذہنیت اپنے انقلاب کو ایک سیاسی نظریے اور منصوبے کے طور پر برآمد کرنے، علاقائی سطح پر موجود اپنے اثر و رسوخ کو اپنے خیالات اور طرز سیاست کی توسیع کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اس سوچ کو خطے میں ایک مستقل تصادم اور کشیدگی کا ذریعہ بنائے رکھنے کی کوشش میں رہی۔
میرے خیال میں یہ ذہنیت انقلاب کے بانی خمینی اور مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دور تک بھی تبدیل نہ ہو سکی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اب نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں بھی اسی طرح جاری رکھنے کی کوشش کی جائے۔ کیونکہ سالہا سال کی اقتصادی پابندیوں کے باوجود سوچ اور ذہنیت تبدیل نہں ہو سکی ہے۔ ایران معاشی اعتبار سے مکمل طور پر تنہا ہو کر رہ گیا، حتیٰ کہ دنیا میں بہت سی اور بڑی بڑی تبدیلیاں آتی رہیں مگر ایران وہیں پڑا رہا۔
علاقے کے دوسرے ملک اپنے ہاں ترقی و استحکام کی دوسری ترجیحات کے لیے آگے بڑھتے رہے جبکہ ایران ایک مختلف سمت اور الگ نوعیت کی مساوی کے پیچھے لگا رہا۔ استحکام سے پہلے تحفظ اور ترقی سے پہلے تصادم ایران کی حکمت عملی رہی۔
اس وجہ سےعلاقے کو ایک ایسی کشیدگی کا سامنا کرنا پڑا جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ ایران نے 3000 سے زائد میزائل اور ڈرونز علاقے میں داغے ہیں۔ ان میزائلوں اور ڈرونز کا ہدف خلیج ممالک بنے۔ خلیجی ممالک کی توانائی سے متعلق تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ میزائل بمباری اس کے باوجود کی گئی کہ ان ملکوں نے ایران کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ وہ امریکہ کو ایران پرحملہ آور ہونے میں کسی بھی طرح کی سہولت یا مدد نہیں دیں گے۔ یوں ان کی زمینی و فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی۔
ان میں کئی ممالک نے نہ صرف یہ واضح اعلان کر رکھا تھا بلکہ وہ کشیدگی کم کرنے اور افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لیے بھی کوشاں رہے۔ جیسا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بیجنگ معاہدے کے تحت بھی کوششیں سامنے آچکی تھیں۔
کئی خلیجی ملک ایسے بھی رہے جنہوں نے خطے میں معاشی میدان میں ایسے انیشٹو لیے جو ان کی بقائے باہمی کے جذبے کے آئینہ دار تھے۔ جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے سالہا سال تک ایران کے لیے معاشی شعبے میں حیات آفریں اقدامات کیے۔ یہ اس کے باوجود کیے کہ ایران سخت اقتصادی پابندیاں بھگت رہا تھا۔ اسی طرح قطر نے تہران کے ساتھ نمایاں تعلقات کی کوشش کی۔ اومان نے تو ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
لہٰذا ایران کی طرف سے جاری جنگ کے دوران خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانا سیاسی اور تذویراتی دونوں اعتبار سے کافی غیر منصفانہ رہا۔ مگر اصل سوال اس خاص ذہنیت کے حوالے سے ہے جو اپنے پسندیدہ نظام کو دوسروں پر مسلط کرنے سے جڑی ہوئی ہے۔ کہ دوسرے ملک اور ان کی عوام بھی ایک سوچ اور فکر کے تابع ہو کر اپن زندگی اور نظام کار تشکیل دیں۔ ایران بھی یہی کرتا رہا ہے کہ اس میں اس ذہنیت کی حامل حکمرانی رہی ہے۔
خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانے سے ایرانی طاقت میں اضافہ ہرگز نہیں ہوا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے نئے محاذ کھول لیے ہیں۔ اس منظر نامے کی وجہ سے ایک اور سوال پیدا ہوگیا ہے کہ آج کے ایران کو اس چیز سے زیادہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی نئی قیادت زیادہ مدبرانہ انداز کی حامل ہو۔ ایسی قیادت جو یہ سمجھتی ہو کہ اکیسویں صدی اب میزائلوں کی زیادہ تعداد کی بنیاد پر آگے بڑھنے والی نہیں رہی ہے۔ یہ بھی اہم نہیں رہا ہے کہ کس ملک نے کتنے زیادہ میزائل داغے۔ اصل ضرورت جو اس اکیسویں صدی کی ضرورت ہے وہ ایک پیداواری معیشت کی تشکیل ہے، سیاسی استحکام ہے اور اپنے اردگرد کے ملکوں کے ساتھ سفارتی میدان میں متوازن تعلقات کا اہتمام اور ماحول ہے۔
یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ایران ایسا ملک نہیں جسے وسائل کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس کے پاس معاشی استحکام اور ترقی کے لیے تمام بنیادی عناصر موجود ہیں جو ایران کو ایک بڑی معیشت بنانے کے لیے کافی ہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی معاشی قوت بننے کی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے۔ اس کا جغرافیائی محل وقوع تذویراتی حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اس کی اپنی منڈی بھی وسیع تر ہے کہ یہ آٹھ نو کروڑ کی آبادی کا ملک ہے۔ کثیر جہتی توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے۔ لیکن اس کے یہ وسائل اور ان کا استعمال دہائیوں سے اس خاص سیاسی ویژن کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں جو ملک کی اندرونی ترقی سے زیادہ علاقے میں اثر و رسوخ کو اہم سمجھتے ہیں اور اسی کو اپنی اندرونی ترقی و استحکام کا متبادل سمجھتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تناظر کی طرف پلٹتے ہوئے کہ آج اس خطے میں کیا ہو رہا ہے یہ محض ایک جنگ نہیں ہے۔ بلکہ ہو سکتا ہے یہ خطے کی نئی صورت گری کا آغاز ہو۔ جس میں نئے تزویراتی ماحول کی تشکیل ہو۔ جیسا کہ امریکی مؤرخ جون لیوس گادیس نے ذکر کیا ہے کہ بڑی جنگیں عام طور پر تصادم اور کشیدگی کے خاتمے کا ذریعہ نہیں بنتیں بلکہ یہ تذویراتی ماحول کی تشکیل نو کا باعث بنتی ہیں۔
دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ علاقائی سطح پر ایک مختلف منظر نامے کا سبب بنے گا جو اس سے پہلے یہاں موجود نہیں تھا۔ اسے بیان کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں جاری ان گفتگوؤں کو دیکھا جا سکتا ہے جو 'ایک نیا مشرق وسطیٰ' کے گرد گھومتی ہیں۔ 'ایک نیا مشرق وسطیٰ' کی اصطلاح نئی نہیں ہے۔ امریکی سیاسی بحثوں اور کتب میں دہائیوں سے یہ موضوع موجود رہا ہے۔ تاہم یہ منظر پر نمایاں اس وقت ہوا جب خطے نے اپنے آپ کو بڑی ٹرانسفارمیشن کے دور میں داخل کیا۔
اس کی تہہ میں مرکزی خیال خطے میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے دیکھنا ہے۔ اس میں خطے کے معاشی نیٹ ورکس، سلامتی سے متعلق اتحادوں کو اہمیت دی جاتی ہے بجائے اس کے تصادم کی محوری علامتوں کو۔ امریکی محقق کینتھ پولوک نے بھی اس امر کا جائزہ لیا ہے کہ خطے میں بتدریج معاشی شراکت داری اور سلامتی سے متعلق ارتباط و تعلق کا حوالہ امریکی حکمت عملی بن رہی ہے۔ بجائے اس کے کہ امریکہ نا ختم ہونے والی کشیدگی کو مینیج کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ اس پس منظر میں مشرق وسطیٰ کا یہ علاقہ ریاستی گورنرز کے مختلف ماڈلز کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلا ماڈل یہ کہا جا سکتا ہے کہ اثر و رسوخ میں اضافہ، کھلے تصادم اور کشیدگی سے جنم لیتا ہے۔ اس کے لیے مسلح پراکسیز کا نیٹ ورک ضروری ہوتا ہے۔ نیز جغرافیائی وسعت اور دوسروں پر سیاسی غلبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرا ماڈل سیاسی غلبے اور تصادم کی بجائے ترقی و استحکام اور علاقائی سطح پر معاشی شراکت داری پر مبنی ہے۔
پہلے ماڈل کو دیکھا جائے تو یہ علاقے کو آگ کے شعلوں کی طرف دھکیلتا ہے۔ جو خطے کو ایک تسلسل کے ساتھ جنگوں کے لیے ذرخیز بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاکہ انتہا پسندی اور زیادہ انتہا پسند جنم لے سکیں۔ جس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے خطرات ابھرتے رہیں۔ جبکہ دوسرا ماڈل دلیرانہ فیصلوں کی توقع کرتا ہے۔ تاکہ علاقائی سطح پر پائے جانے والے تنازعات کو طے کیا جائے۔ اس کا آغاز فلسطین و اسرائیل کے تنازعے سے ہو سکتا ہے کہ ملکوں کے درمیان نارمل تعلقات کے لیے دروازے کھولے جائیں۔ ایسی صورت میں ترقی، سیاسی جائزیت کے لیے انتہائی بنیادی ذریعہ بنیں گی اور وہ پیمانے جن پر ریاستیں اپنی صلاحیتوں کا اندازہ کرتی ہیں اور کامیابیوں کی طرف بڑھنے اور استحکام کی پیمائش کرتی ہیں۔ ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ علاقے میں کوئی بھی ایسا نظم یا نظام استحکام نہیں پا سکتا جب تک کہ اس کا جنم یا اظہار خود اسی علاقے سے تعلق نہ رکھتا ہو۔
یہی بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ آیا مشرق وسطیٰ ابھر سکے گا۔ اس کا جواب صرف اگلے برسوں میں ہی مل سکے گا۔ لیکن جو چیزیں پہلے سے واضح اور صاف دکھائی دیتی ہیں کہ خطہ ایک گہری ٹرانسفارمیشن کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والے وقتوں میں خطے کے بارے میں فیصلہ سازی کی میز پر صرف وہ ریاستیں نہیں ہوں گی جو تنازعات کو مینیج کرنے کی ماہر ہوں گی بلکہ وہ بھی میز پر اہم کردار ادا کر سکیں گے جنہوں نے بر وقت یہ سمجھ لیا تھا کہ ترقی کسی بھی جنگ سے زیادہ طاقتور چیز ہوتی ہے۔