Monday, 16 March 2026

ایک نیا مشرق وسطیٰ


زید بن کمی



امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے سے دو روز قبل میں نے ایک کالم لکھا تھا۔ جس کا عنوان 'تیس سال بعد مشرق وسطیٰ کیسا نظر آئے گا؟' کوشش یہ تھی کہ حالات کے دھارے کی اس تیز رفتاری کے نتائج اور اثرات کو سمجھا جائے۔ کیونکہ یہ خطہ ایک عرصے سے استحکام کی کمزوری کے بعض مسائل کا شکار چلا آرہا ہے۔ اس میں کئی ایسے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں جو اچانک اور غیر متوقع خرابی کا موجب ہوئے۔


لیکن اب جنگ کے تیزی سے چلنے والے پہیوں نے حقیقت میں حالات کا رخ موڑ دیا ہے۔ اب یہ سوال پہلے سے بھی زیادہ فوری اور واضح شکل میں سامنے آکھڑا ہے۔ موجودہ جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ کس سمت میں ہوگا؟


اس تناظر میں اس سے پہلے کہ ہم یہ سوال اٹھائیں کہ جنگ کا خاتمہ کب ہو گا یا جنگ کے بعد کیسے حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک سادہ سا سوال یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ جنگ شروع کیوں ہوئی؟ بہت سے لوگ جنگ کے سبب کو زیر بحث لانے میں ایرانی جوہری پروگرام کو جوڑتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک ایران سے اسرائیل کو لاحق خظرہ اس جنگ کا سبب بنا ہے۔ اس دوسرے سبب کو اہم جاننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کے بعد اسرائیل کو ایران سے بطور خاص خطرہ محسوس ہونے لگا تھا۔


ان دونوں نکتہ ہائے نظر کے علاوہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ ایرانی جوہری پروگرام نہیں تھا بلکہ وہ سوچ اور فکر بنی ہے جو ایران پر پچھلی تقریبا پانچ دہائیوں سے حکمرانی کرتی چلی آرہی ہے۔ حکمرانی کی یہ ذہنیت اپنے انقلاب کو ایک سیاسی نظریے اور منصوبے کے طور پر برآمد کرنے، علاقائی سطح پر موجود اپنے اثر و رسوخ کو اپنے خیالات اور طرز سیاست کی توسیع کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اس سوچ کو خطے میں ایک مستقل تصادم اور کشیدگی کا ذریعہ بنائے رکھنے کی کوشش میں رہی۔


میرے خیال میں یہ ذہنیت انقلاب کے بانی خمینی اور مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دور تک بھی تبدیل نہ ہو سکی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اب نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں بھی اسی طرح جاری رکھنے کی کوشش کی جائے۔ کیونکہ سالہا سال کی اقتصادی پابندیوں کے باوجود سوچ اور ذہنیت تبدیل نہں ہو سکی ہے۔ ایران معاشی اعتبار سے مکمل طور پر تنہا ہو کر رہ گیا، حتیٰ کہ دنیا میں بہت سی اور بڑی بڑی تبدیلیاں آتی رہیں مگر ایران وہیں پڑا رہا۔


علاقے کے دوسرے ملک اپنے ہاں ترقی و استحکام کی دوسری ترجیحات کے لیے آگے بڑھتے رہے جبکہ ایران ایک مختلف سمت اور الگ نوعیت کی مساوی کے پیچھے لگا رہا۔ استحکام سے پہلے تحفظ اور ترقی سے پہلے تصادم ایران کی حکمت عملی رہی۔


اس وجہ سےعلاقے کو ایک ایسی کشیدگی کا سامنا کرنا پڑا جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ ایران نے 3000 سے زائد میزائل اور ڈرونز علاقے میں داغے ہیں۔ ان میزائلوں اور ڈرونز کا ہدف خلیج ممالک بنے۔ خلیجی ممالک کی توانائی سے متعلق تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ میزائل بمباری اس کے باوجود کی گئی کہ ان ملکوں نے ایران کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ وہ امریکہ کو ایران پرحملہ آور ہونے میں کسی بھی طرح کی سہولت یا مدد نہیں دیں گے۔ یوں ان کی زمینی و فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی۔


ان میں کئی ممالک نے نہ صرف یہ واضح اعلان کر رکھا تھا بلکہ وہ کشیدگی کم کرنے اور افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لیے بھی کوشاں رہے۔ جیسا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بیجنگ معاہدے کے تحت بھی کوششیں سامنے آچکی تھیں۔


کئی خلیجی ملک ایسے بھی رہے جنہوں نے خطے میں معاشی میدان میں ایسے انیشٹو لیے جو ان کی بقائے باہمی کے جذبے کے آئینہ دار تھے۔ جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے سالہا سال تک ایران کے لیے معاشی شعبے میں حیات آفریں اقدامات کیے۔ یہ اس کے باوجود کیے کہ ایران سخت اقتصادی پابندیاں بھگت رہا تھا۔ اسی طرح قطر نے تہران کے ساتھ نمایاں تعلقات کی کوشش کی۔ اومان نے تو ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔


لہٰذا ایران کی طرف سے جاری جنگ کے دوران خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانا سیاسی اور تذویراتی دونوں اعتبار سے کافی غیر منصفانہ رہا۔ مگر اصل سوال اس خاص ذہنیت کے حوالے سے ہے جو اپنے پسندیدہ نظام کو دوسروں پر مسلط کرنے سے جڑی ہوئی ہے۔ کہ دوسرے ملک اور ان کی عوام بھی ایک سوچ اور فکر کے تابع ہو کر اپن زندگی اور نظام کار تشکیل دیں۔ ایران بھی یہی کرتا رہا ہے کہ اس میں اس ذہنیت کی حامل حکمرانی رہی ہے۔


خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانے سے ایرانی طاقت میں اضافہ ہرگز نہیں ہوا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے نئے محاذ کھول لیے ہیں۔ اس منظر نامے کی وجہ سے ایک اور سوال پیدا ہوگیا ہے کہ آج کے ایران کو اس چیز سے زیادہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی نئی قیادت زیادہ مدبرانہ انداز کی حامل ہو۔ ایسی قیادت جو یہ سمجھتی ہو کہ اکیسویں صدی اب میزائلوں کی زیادہ تعداد کی بنیاد پر آگے بڑھنے والی نہیں رہی ہے۔ یہ بھی اہم نہیں رہا ہے کہ کس ملک نے کتنے زیادہ میزائل داغے۔ اصل ضرورت جو اس اکیسویں صدی کی ضرورت ہے وہ ایک پیداواری معیشت کی تشکیل ہے، سیاسی استحکام ہے اور اپنے اردگرد کے ملکوں کے ساتھ سفارتی میدان میں متوازن تعلقات کا اہتمام اور ماحول ہے۔


یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ایران ایسا ملک نہیں جسے وسائل کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس کے پاس معاشی استحکام اور ترقی کے لیے تمام بنیادی عناصر موجود ہیں جو ایران کو ایک بڑی معیشت بنانے کے لیے کافی ہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی معاشی قوت بننے کی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے۔ اس کا جغرافیائی محل وقوع تذویراتی حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اس کی اپنی منڈی بھی وسیع تر ہے کہ یہ آٹھ نو کروڑ کی آبادی کا ملک ہے۔ کثیر جہتی توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے۔ لیکن اس کے یہ وسائل اور ان کا استعمال دہائیوں سے اس خاص سیاسی ویژن کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں جو ملک کی اندرونی ترقی سے زیادہ علاقے میں اثر و رسوخ کو اہم سمجھتے ہیں اور اسی کو اپنی اندرونی ترقی و استحکام کا متبادل سمجھتے ہیں۔


مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تناظر کی طرف پلٹتے ہوئے کہ آج اس خطے میں کیا ہو رہا ہے یہ محض ایک جنگ نہیں ہے۔ بلکہ ہو سکتا ہے یہ خطے کی نئی صورت گری کا آغاز ہو۔ جس میں نئے تزویراتی ماحول کی تشکیل ہو۔ جیسا کہ امریکی مؤرخ جون لیوس گادیس نے ذکر کیا ہے کہ بڑی جنگیں عام طور پر تصادم اور کشیدگی کے خاتمے کا ذریعہ نہیں بنتیں بلکہ یہ تذویراتی ماحول کی تشکیل نو کا باعث بنتی ہیں۔


دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ علاقائی سطح پر ایک مختلف منظر نامے کا سبب بنے گا جو اس سے پہلے یہاں موجود نہیں تھا۔ اسے بیان کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں جاری ان گفتگوؤں کو دیکھا جا سکتا ہے جو 'ایک نیا مشرق وسطیٰ' کے گرد گھومتی ہیں۔ 'ایک نیا مشرق وسطیٰ' کی اصطلاح نئی نہیں ہے۔ امریکی سیاسی بحثوں اور کتب میں دہائیوں سے یہ موضوع موجود رہا ہے۔ تاہم یہ منظر پر نمایاں اس وقت ہوا جب خطے نے اپنے آپ کو بڑی ٹرانسفارمیشن کے دور میں داخل کیا۔


اس کی تہہ میں مرکزی خیال خطے میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے دیکھنا ہے۔ اس میں خطے کے معاشی نیٹ ورکس، سلامتی سے متعلق اتحادوں کو اہمیت دی جاتی ہے بجائے اس کے تصادم کی محوری علامتوں کو۔ امریکی محقق کینتھ پولوک نے بھی اس امر کا جائزہ لیا ہے کہ خطے میں بتدریج معاشی شراکت داری اور سلامتی سے متعلق ارتباط و تعلق کا حوالہ امریکی حکمت عملی بن رہی ہے۔ بجائے اس کے کہ امریکہ نا ختم ہونے والی کشیدگی کو مینیج کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ اس پس منظر میں مشرق وسطیٰ کا یہ علاقہ ریاستی گورنرز کے مختلف ماڈلز کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلا ماڈل یہ کہا جا سکتا ہے کہ اثر و رسوخ میں اضافہ، کھلے تصادم اور کشیدگی سے جنم لیتا ہے۔ اس کے لیے مسلح پراکسیز کا نیٹ ورک ضروری ہوتا ہے۔ نیز جغرافیائی وسعت اور دوسروں پر سیاسی غلبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرا ماڈل سیاسی غلبے اور تصادم کی بجائے ترقی و استحکام اور علاقائی سطح پر معاشی شراکت داری پر مبنی ہے۔


پہلے ماڈل کو دیکھا جائے تو یہ علاقے کو آگ کے شعلوں کی طرف دھکیلتا ہے۔ جو خطے کو ایک تسلسل کے ساتھ جنگوں کے لیے ذرخیز بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاکہ انتہا پسندی اور زیادہ انتہا پسند جنم لے سکیں۔ جس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے خطرات ابھرتے رہیں۔ جبکہ دوسرا ماڈل دلیرانہ فیصلوں کی توقع کرتا ہے۔ تاکہ علاقائی سطح پر پائے جانے والے تنازعات کو طے کیا جائے۔ اس کا آغاز فلسطین و اسرائیل کے تنازعے سے ہو سکتا ہے کہ ملکوں کے درمیان نارمل تعلقات کے لیے دروازے کھولے جائیں۔ ایسی صورت میں ترقی، سیاسی جائزیت کے لیے انتہائی بنیادی ذریعہ بنیں گی اور وہ پیمانے جن پر ریاستیں اپنی صلاحیتوں کا اندازہ کرتی ہیں اور کامیابیوں کی طرف بڑھنے اور استحکام کی پیمائش کرتی ہیں۔ ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ علاقے میں کوئی بھی ایسا نظم یا نظام استحکام نہیں پا سکتا جب تک کہ اس کا جنم یا اظہار خود اسی علاقے سے تعلق نہ رکھتا ہو۔


یہی بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ آیا مشرق وسطیٰ ابھر سکے گا۔ اس کا جواب صرف اگلے برسوں میں ہی مل سکے گا۔ لیکن جو چیزیں پہلے سے واضح اور صاف دکھائی دیتی ہیں کہ خطہ ایک گہری ٹرانسفارمیشن کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والے وقتوں میں خطے کے بارے میں فیصلہ سازی کی میز پر صرف وہ ریاستیں نہیں ہوں گی جو تنازعات کو مینیج کرنے کی ماہر ہوں گی بلکہ وہ بھی میز پر اہم کردار ادا کر سکیں گے جنہوں نے بر وقت یہ سمجھ لیا تھا کہ ترقی کسی بھی جنگ سے زیادہ طاقتور چیز ہوتی ہے۔


 ٹرمپ جزیرہ خرج میں ایرانی تیل پر قبضے پر غور کر رہے ہیں : رپورٹ

امریکی ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے نہ کھولا گیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جزیرہ خرج میں ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔






حکام نے اشارہ دیا کہ اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے زمین پر امریکی افواج کی موجودگی درکار ہوگی، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک اہل کار نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق بعض حکام کا ماننا ہے کہ جزیرہ خرج کے تیل پر کنٹرول ایران کے لیے ایک سخت معاشی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ اس کے تیل کی برآمد کا اہم ترین مرکز ہے۔


یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی بحریہ کے ماتحت کام کرنے والے ادارے 'یو کے ایم ٹی او' (UKMTO) نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ حملوں، جہاز رانی میں مداخلت اور مسلسل عملیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں خطرہ اب بھی برقرار ہے، اگرچہ گذشتہ تین دنوں میں کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ ادارے نے واضح کیا کہ تین ہفتے قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے گرد و نواح میں کم از کم بیس بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔


آبنائے ہرمز کی لمبائی تقریباً 212 کلومیٹر اور چوڑائی 33 سے 55 کلومیٹر کے درمیان ہے، جبکہ اس کی گہرائی 60 سے 100 میٹر تک ہے۔ یہ خصوصیات بڑے بحری جہازوں کے گزرنے کے لیے محفوظ راستے کو انتہائی تنگ بنا دیتی ہیں۔ یہ آبنائے خلیج عرب کو بحیرہ عمان اور بحر ہند سے جوڑتی ہے، جس کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان کا جزیرہ نما مسندم اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔


جہاز رانی کے اعتبار سے اس مقام سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے، ساتھ ہی مائع قدرتی گیس (LNG)، یوریا، ہیلیئم اور ایلومینیم کی بڑی مقدار بھی یہیں سے گزرتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور خود ایران (جن کی بندرگاہیں آبنائے سے باہر بھی ہیں) کے علاوہ قطر، کویت، عراق اور بحرین جیسے ممالک اپنی بیرونی تجارت کے لیے مکمل طور پر اسی آبنائے پر منحصر ہیں۔


ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس نے مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ گذشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ جو ممالک خلیجی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس آبنائے کی حفاظت کریں جہاں سے عالمی توانائی کا 20 فی صد حصہ گزرتا ہے۔


فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا "میں ان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مداخلت کریں اور اپنے علاقوں کی حفاظت کریں، کیونکہ یہ ان کا علاقہ ہے... یہ وہ جگہ ہے جہاں سے وہ اپنی توانائی حاصل کرتے ہیں۔"


ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں سات ممالک سے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ان کے نام نہیں بتائے۔ البتہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک اس میں شریک ہوں گے۔


Sunday, 15 March 2026



شام ڈھلتے ہی پٹنہ کے  بازاروں کی رونق دوبالا

پٹنہ، — ماہِ رمضان اپنے اختتام کے قریب ہے اور عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر بازاروں میں خریداری کا زور بڑھ گیا ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں میں ان دنوں خریداروں کا خاصا ہجوم دیکھنے کو مل رہا ہے۔


شام ڈھلتے ہی بازاروں کی رونق دوبالا ہو جاتی ہے اور لوگ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں کپڑے، جوتے اور دیگر ضروری اشیا کی خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر سبزی باغ، کھیتان مارکیٹ، پٹنہ مارکیٹ، ہتھوا مارکیٹ، باقر گنج، گاندھی میدان، راجہ بازار، بورنگ روڈ، عالم گنج، سلطان گنج، اور پھلواری شریف کے بازاروں میں شام کے وقت غیر معمولی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔



دکانداروں کے مطابق عید قریب آنے کے ساتھ ہی خریداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور رات گئے تک بازاروں میں چہل پہل برقرار رہتی ہے۔ شہر کے بیشتر بازار ان دنوں عید کی تیاریوں کے باعث روشنیوں اور گہما گہمی سے جگمگا رہے ہیں۔




Wednesday, 24 September 2025

تاریخی صداقت آشرم میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے: عطاءالرحمن




 پٹنہ،( پریس ریلیز ) کانگریس کے سنیئر لیڈر ایڈووکیٹ عطاءالرحمن نے کہاکہ کانگریس پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ پہلی بار بہار کی سرزمین پر تاریخی صداقت آشرم میں منعقد ہو رہی ہے، جو ہندوستانی آزادی کی جدوجہد کا اہم مرکز رہا ہے۔ یہ میٹنگ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات ثابت ہوگی۔

انہوںنے کہاکہ یہ اجلاس کانگریس پارٹی کی جمہوری قدروں، عوامی مسائل پر توجہ اور ملک کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے اجتماعی عزم کا مظہر ہے۔ ورکنگ کمیٹی کے اس اجلاس میں کانگریس کے اعلیٰ رہنما راہل گاندھی، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور صدر ملکا ارجن کھڑگے سمیت دیگر معزز قائدین شریک ہوئے، جن کی کوششوں نے پارٹی کو ایک بار پھر عوامی تحریک کی شکل دے دی ہے۔

 مسٹر رحمن نے کہاکہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اور حال ہی میں ووٹر ادھیکار یاترا سے لے کر پرینکا گاندھی کی زمینی جدوجہد اور سونیا گاندھی کے تجربے تک، سبھی رہنماو¿ں کی قربانیاں اور محنت کانگریس کے کارکنوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ صدر ملکا ارجن کھڑگے کی مضبوط قیادت پارٹی کو نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔

 انہوں نے کہاکہ اس میٹنگ سے یہ پیغام جائے گا کہ کانگریس پارٹی آج بھی عوامی مسائل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے کانگریس کی پالیسیوں اور عزم کو مزید تقویت ملے گی۔

ہمیں یقین ہے کہ صداقت آشرم کی اس تاریخی میٹنگ کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور بہار سمیت پورے ملک میں کانگریس کارکنوں کو نئی توانائی، جوش اور اعتماد کے ساتھ عوامی جدوجہد میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے گا۔

صداقت آشرم میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں کانگریس کو نئی توانائی، اعتماد اور جدوجہد کا حوصلہ دے گی: ہیمنت چترودی

 



پٹنہ(پریس ریلیز) بانکی پور اسمبلی حلقہ کے ممکنہ امیدوار اور بلاک صدر ہیمنت چترویدی نے کہاکہ تاریخی صداقت آشرم میں آزادی کے بعد پہلی بار کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہونا نہ صرف بہار کے لیے فخر کی بات ہے بلکہ پورے ملک کی جمہوریت کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سے آزادی کی تحریک کو نئی توانائی ملی تھی، اور آج ایک بار پھر یہی سرزمین کانگریس کو نئی جہت دینے جا رہی ہے۔

اس اجلاس میں شرکت کرنے والے پارٹی کے قد آور رہنماراہل گاندھی، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور صدر ملکا ارجن کھڑگے نے پارٹی کی مضبوطی، اتحاد اور عوامی مسائل پر جدوجہد کو نیا رخ دیا ہے۔ ان سب کی مشترکہ کوششوں سے کانگریس ایک بار پھر عوام کی امیدوں کا مرکز بن رہی ہے۔

راہل گاندھی کی عوامی یاترا، پرینکا گاندھی کی بھرپور مہمات، سونیا گاندھی کی بصیرت اور ملکا ارجن کھڑگے کی قیادت، پارٹی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ اجلاس عوام کو یہ یقین دلاتا ہے کہ کانگریس ہر طبقے کسانوں، مزدوروں، طلبہ، خواتین اور پچھڑے طبقات کے ساتھ کھڑی ہے۔

ہم کارکنان پ±ر اعتماد ہیں کہ صداقت آشرم کی یہ میٹنگ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں کانگریس کو نئی توانائی، اعتماد اور جدوجہد کا حوصلہ دے گی۔ آنے والے وقت میں اس کے اثرات سیاست اور عوامی تحریکوں پر نمایاں طور پر دیکھے جائیں گے۔

Monday, 8 September 2025

بانکی پور اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے مضبوط دعویدار ہیں ہیمنت چترویدی



پٹنہ/08 ستمبر : بہار اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی سیاسی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔ تمام بڑی پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ایسے میں بانکی پور اسمبلی حلقے میں کانگریس کے بلاک صدر اور ممکنہ امیدوار ہیمنت چترویدی کو سب سے مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے۔

ہیمنت چترویدی کی سب سے بڑی طاقت ان کی عوامی مقبولیت اور زمینی سطح پر مضبوط گرفت ہے۔ علاقے کے عوامی مسائل کے حل کے لیے وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اور عوامی خدمت کو اپنی ترجیح مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ انہیں اپنے درمیان ایک سچے خادم کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

کانگریس کی پالیسیوں اور عوامی فلاحی اسکیموں کو گھر گھر پہنچانے میں بھی وہ مسلسل سرگرم ہیں۔ پارٹی کے اندر بھی ان کی لیڈرشپ اور تنظیمی صلاحیت کی کھلے دل سے تعریف کی جا رہی ہے۔

اگرچہ اس سیٹ پر کانگریس کی جانب سے کئی اور چہرے اپنی دعویداری پیش کر رہے ہیںمگر عوامی حمایت اور طویل سماجی خدمت کے سبب ہیمنت چترویدی کو سب سے آگے تصور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان بھی ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور امکان ہے کہ آنے والے بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی بڑی امیدیں انہی سے وابستہ ہوں گی۔

Sunday, 7 September 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی جانب سے صحت بیداری ہفتہ کا انعقاد کیا گیا۔

 








پٹنہ : ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ طبی کالج  و اسپتال پٹنہ نے آج مورخہ 07 ستمبر بروز اتوارایک پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کالج میں ستمبر کے پہلے ہفتے میں طبی کالج کے اسپتال کے احاطہ میں او پی ڈی میں پہنچنے والے مریضوں کے درمیان عمومی صحت بیداری مہم چلائی گئی۔اس کے ذریعہ لوگوں کو ایک صحت مند طرز زندگی، امراض سے تحفظ کے تدابیر اور ایک صحت مند سماج کی تعمیر کے تعلق سے جانکاری فراہم کی گئی، پرچے بانٹے گئے اور پوسٹر کے ذریعہ سمجھایا گیا۔ یہ پروگرام ایک ستمبر سے 07 ستمبر تک چلنا تھا  البتہ 07 ستمبر کو اتوار ہونے کی وجہ سے اس صحت بیدار مہم کا اختتام 06 ستمبر بروز سنیچر ہی کر دیا گیا۔ 

بتاتا چلوں کہ اس صحت بیداری ہفتہ کا انعقاد گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے صد سالہ جشن کے ضمن میں کیا گیا تھا۔ اس مہم کے  چیرمین ڈاکٹر محمد نجیب الرحمن تھے جب کہ پورے پروگرام کی سرپرستی کالج ہذا کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) محمد محفوظ الرحمن کر رہے تھے۔ اس پوری مہم میں مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا جس میں 01 ستمبر کو شعبہ معالجات کے پی جی اسکالر ڈاکٹر  راحت پروین اور نہال اشرف نے ٹیکہ کاری (ویکسینیشن )  کے بارے میں لوگوں بیدار کیا۔ 02 ستمبر کو ڈاکٹر زاہد اور ڈاکٹر مظفر سلیمان نے ذیابیطس شکری  اور اس سے تحفظ کے اپائے سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ 03 ستمبر کو ڈاکٹر ہلال انور اور ڈاکٹر شاہد امام نے ضغط الدم قوی (ہائپرٹنشن) سے عوام کو روبرو کرایا۔ اسی طرح سے 04 ستمبر کو ڈاکٹر مظفر سلیمان اور ڈاکٹر نہال اشرف نے سمن مفرط (موٹاپا)  اور اس کے انجام سے عوام کو بیدار کیا۔ آخر دن بروز سنیچر فقر الدم (انیمیا)  اور اس کے علامت سے اس کی فوری پہچان کرنے اور اور اس کے بچائو سےلوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے ڈاکٹر کے ایم سوچیتا اور داکٹر نہال  اشرف نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ 

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے صد سالہ جشن میں ہر ماہ مختلف اقسام کے پروگرام منعقد کئے جانے ہیں جس کا مقصد عوام تک یونانی طریقہ علاج کو پہنچانا، یونانی ڈاکٹروں کو اس طریقہ علاج میں باکمال بنانا ، اور طلباء کو بھی اپنی پیتھی میں اعتماد کے ساتھ علاج و معاالجہ کرنے کی تلقین دلانا شامل ہے۔اسی صد سالہ جشن کے تحت اس ماہ مزید تین پروگرام ہونے ہیں جس میں گرین انیشیٹیو کے طور پر پیڑ پودھے لگائیں جائیں گے اور صاف صفائی کا اہتمام کیا جائےگا۔ 21 ستمبر کو ورلڈ الزائیمر ڈے منایا جانا ہے اور اسی ماہ کالج ہذا کے فارغین کے ساتھ آن لائن میٹینگ کا اہتمام کیا جانا ہے جس سے کہ 2026 میں صد سالہ میں ان کا کیا رول ہوگا اس پر لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

راجد کو صرف مسلمانوں کے ووٹوں سے محبت ہے مسلمانوں سے نہیں : شاہد اطہر











 دربھنگہ:- آر جے ڈی کے بانی ر
کن اور شہری اسمبلی حلقہ کے سابق ایم ایل اے جناب سلطان احمد کے انتقال پر پارٹی کے ہائی کمان یا لالو خاندان کے کسی رکن کی غیر موجودگی، جب کہ حیاگھاٹ اسمبلی کے سابق ایم ایل اے جناب ہری نندن یادو کی آخری رسومات میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو، سابق نائب وزیر اعلیٰ کی شرکت یہ ثابت کر رہا ہے کہ راجد کو صرف مسلمانوں کے ووٹوں سے محبت ہے مسلمانوں سے نہیں ۔ یہ باتیں دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے ممکنہ امیدوار اور جن سوراج پارٹی بہار کے ایگزیکٹو ممبر ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آج ایک پریس ریلیز میں کہیں۔ ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ یہ آر جے ڈی کا پہلا معاملہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر محمد شہاب الدین صاحب کی موت پر بھی ایسا ہی کیا گیا تھا، جو لالو خاندان کے لیے باعث فخر تھے اور جنہوں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر پارٹی کو متحد رکھا تھا۔ آخر کب تک ریاست میں مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہے گا؟ ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آفت و غم  کے اس موقع پر ہم سب جناب ہری نندن یادو جی کے اہل خانہ کے ساتھ گہرے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے راجد کے ضلع صوبہ و قومی اقلیتی لیڈر سے پوچھا ہے کہ آج جو ہوا ہے وہ کیا کل آپ کے لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کیا؟ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے مزید کہا کہ کیا آر جے ڈی کو صرف یادو کی پارٹی سمجھا جائے؟ بہار اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور آر جے ڈی والے مسلمانوں کے پاس آئیں گے اور ان سے ہمدردی کی بات کریں گے لیکن حقیقت میں کچھ اور ہی نظر آرہا ہے۔ آر جے ڈی مسلم ووٹ چاہتی ہے لیکن ان کے دکھ درد میں شریک نہیں بن سکتی۔ شہری اسمبلی کے ممکنہ امیدوار ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ دربھنگہ شہری اسمبلی کا ایک ایک مسلمان آر جے ڈی کے خلاف اور جن سوراج کے امیدوار کو ووٹ دے کر سابق ایم ایل اے جناب سلطان احمد صاحب کے گھر نہ آنے کا بدلہ لے گا۔

Tuesday, 2 September 2025

پٹنہ میں یونانی طب کے فروغ کیلئے تاریخی معاہدہ


سی سی آر یو ایم دہلی اور گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے درمیان مفاہمت نامہ پر دستخط



پٹنہ:ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن ( آر آر آئی یوایم )، پٹنہ میں آج ایک تاریخی مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن (سی سی آر یوایم)، نئی دہلی، وزارت آیوش، حکومت ہند اور گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ کے درمیان طے پایا۔

یہ ایم او یو یونانی طب کے شعبے میں تحقیقی تعاون، علمی ترقی اور اختراعات کو فروغ دینے کی سمت ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

تقریب کی رونق میں اضافہ کرنے والے معززین میں ڈاکٹر این۔ظہیر احمد، ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر یوایم، وزارت آیوش پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن، پرنسپل، گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ ،پروفیسر شہنواز اختر، سینئر فیکلٹی ممبر ،ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر، آر آر آئی یو ایم پٹنہ ، ڈاکٹر وہاب علی، سائنٹسٹ ایف ، آر ایم آئی آر ایم ایس پٹنہ، ڈاکٹر محمد منظر عالم، ریسرچ آفیسر (یونانی)، ڈاکٹر عبدالرشید، ریسرچ آفیسر (یونانی)، اس کے علاوہ سی سی آر یو ایم ہیڈکوارٹر کے نوڈل افسران اور مختلف ذیلی اداروں کے انچارج بھی آن لائن ج±ڑے، جس سے اس تقریب کو مزید وسعت اور اہمیت حاصل ہوئی۔

یہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ دونوں اداروں کو درج ذیل مقاصد میں مضبوطی فراہم کرے گی: ثبوت پر مبنی طریقہ علاج کے ذریعے صحت خدمات کو مو¿ثر بنانا۔تعلیمی و تحقیقی میدان میں اعلیٰ معیار کو فروغ دینا۔ یونانی طب میں اختراعات اور جدید تحقیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا۔ مشترکہ تحقیقی پروجیکٹس اور تعاون پر مبنی اقدامات۔* صلاحیت سازی اور ہنر مندی کے نئے مواقع پیدا کرنا۔ روایتی علم اور جدید سائنس پر مبنی مربوط ہیلتھ ماڈل تیار کرنا۔

یہ معاہدہ یونانی طب کے میدان میں قومی سطح پر تعاون، سائنسی فکر اور علمی خوشحالی کی جانب ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔


Monday, 1 September 2025

انجمن بہار کے ذریعہ 75 طلباء و طالبات نے داخلہ کے لیے فارم جمع کیا ڈاکٹر احمد نسیم آرزو

 



 دربھنگہ:-  اس سال 2025 میں انجمن بہار کے ذریعہ متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں مفت داخلہ کے لیے 75 سے زائد طلبہ و طالبات نے صرف دو دنوں میں انسٹیٹیوٹ میں آ کر فارم جمع کیا ہے کل سے فارم کی جانچ کی جائے گی یہ باتیں انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین و الہلال ہاسپٹل کے ڈائریکٹر احمد نسیم آرزو نے جاری پریس ریلیز میں بتایا ڈاکٹر آرزو نے آگے بتایا کہ جن طلبہ و طالبات کو مفت داخلہ کے لیے منتخب کیا جائے گا ان کا کلاس بتاریخ 8 ستمبر 2025 بروز سوموار سے شروع کرایا جائے گا ڈاکٹر آرزو نے بتایا کہ یہ اپنے آپ میں ایک تاریخ قائم ہو گئی ہے کہ صرف سنیچر اور سوموار یعنی 2 دن میں بہار کے مختلف اضلاع سے کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے متھلا اسٹیثٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں نام لکھوانے کے مقصد سے کثیر تعداد فارم جمع کیا معلوم ہو کہ متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں سبھی کورسز میں سیٹ لیمیٹڈ ہونے کی وجہ اور بہت ہی زیادہ  فارم جمع ہونے کی وجہ سے فارم جانچ کی جائے گی فارم جانچ کی کاروائی کے بعد سبھی طلبہ و طالبات کو ادارے سے خبر بھیجی جائے گی یہ خبر چاہے فارم کا سلیکشن نام لکھانے کے لیے ہو یا نہ ہو ویسے طلبہ و طالبات جن کا اس سال کسی وجہ کر فارم سلیکشن نہیں ہوتا ہے تو اگلے سال ان بچوں کو نام لکھوانے کے لیے اول ترجیح دی جائے گی

Sunday, 31 August 2025

ووٹر ادھیکار یاترا کی اختتامی تقریب میںگٹھ بندھن کی تمام اتحادی جماعتوں کے نمائندے شرکت کریں گے: کھیڑا

 



پٹنہ 31 اگست : آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا چیف اور سینئر لیڈر پون کھیڑا نے اتوار کو کہا کہ بہار میں انڈیا اتحادکی ووٹرادھیکاریاترا ریاست کے شہریوں اور رائے دہندوں کی حمایت سے بہت کامیاب رہی ہے اور یکم ستمبر کو اس کی اختتامی تقریب میں تمام اتحادی جماعتوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔

مسٹر کھیڑا نے کہا کہ یاترا کے آخری دن اختتامی تقریب میں شیو سینا سے سنجے راوت اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ایم پی یوسف پٹھان کے آنے سے اتحاد کی زیادہ تر پارٹیوں کی نمائندگی مکمل ہو جائے گی۔

پریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے میڈیا سربراہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ بیان کہ ووٹر لسٹ خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے بعد بہت کم شکایات آئی ہیں غلط ہے اور اعداد و شمار کے مطابق 89 لاکھ تحریری شکایات درج کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اتحاد اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

مسٹر کھیڑا نے کہا کہ اس قدرافراتفری ہے کہ 65 لاکھ ووٹروں نے 89 لاکھ تحریری شکایات درج کرادیں ہیں۔ الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے شکایات سے بچنے کی پوری کوشش کی، لیکن پھر بھی لوگوں نے اپنی شکایات کا پولندہ بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کوسونپ دیا۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے لوگوں سے ذاتی طور پر شکایات درج کرانے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ایک منصوبہ بند حکمت عملی تھی، تاکہ شکایات کو کم کیا جاسکے۔

کانگریس کے میڈیا سربراہ نے کہا کہ ایس آئی آر کے وقت آدھار کارڈ کو قبول نہیں کرنے کی وجہ سے ووٹروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سے شناخت کے طور پر زمین کے کاغذات، رہائشی اور ذات کے سرٹیفکیٹ مانگے گئے۔ جن ووٹرز کے پاس یہ کاغذات نہیں تھے وہ اپنے بلاک میں ڈویلپمنٹ آفیسر کے دفتر کے چکر لگاتے رہے لیکن وہاں بھی انہیں بتایا گیا کہ نئے سرٹیفکیٹ اور کاغذات انتخابات کے بعد بنائے جائیں گے۔

مسٹر کھیڑا نے کہا کہ جب ووٹر ریویژن شروع ہوا تو کہا گیا کہ بہار میں بہت سے درانداز آئے ہیں اور یہاں تک کہ مرے ہوئے لوگوں کو بھی فہرست سے نکالنا ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی فہرست میں کوئی درانداز نہیں ملا اور بہت سے مردہ ووٹروں کو ووٹرادھیکار یاترا کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ چائے پیتے دیکھا گیا۔

مسٹر کھیڑا نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ بہار میں 20 فیصد ووٹروں کے نام حذف کیے جائیں گے۔ یہ ایک مقررہ نمبر تھا جسے بی جے پی اور الیکشن کمیشن حذف کرنے کا کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل 90540 بوتھوں پر 65 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کئے گئے ہیں۔ اس فہرست میں وہ ووٹرز شامل ہیں جو نقل مکانی کر گئے، فوت ہو گئے، اپنے پتے سے غائب تھے اور دو جگہوں پر رجسٹرڈ تھے۔ اس فہرست کے باوجود، بہت سے ووٹروں کے پاس اب بھی دو ای پی آئی سی موجود ہیں، بہت سے مردہ لوگ اب بھی زندہ ہیں اور کئی کو دستاویزات کے نام پر ووٹر لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔

کانگریس کے میڈیا سربراہ نے کہا کہ اگر بہار میں درانداز آئے ہیں تو وزیر داخلہ امت شاہ کو ووٹروں کو ہراساں کرنے سے پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کاغذات الیکشن کمیشن کو بھیجے جا رہے ہیں اور اگر تصحیح کی آخری تاریخ یکم ستمبر کے بعد بھی حالات نہیں بدلتے ہیں تو کانگریس اور اس کا اتحاد نئے سرے سے یہ لڑائی شروع کرے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اگلا قدم کیا ہوگا، مسٹر کھیڑا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا نیا رویہ سامنے آنے کے بعد نئی حکمت عملی کا خلاصہ کریںگے۔

کانگریس کے میڈیا سربراہ نے کہا کہ بہار میں بی جے پی خوفزدہ ہے اور اسی خوف کی وجہ سے ان کے کارکنوں نے کچھ دن پہلے صداقت آشرم پر دو وزراءکی قیادت میں حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ کانگریس پر نہیں بلکہ بہار کی صدیوں پرانی وراثت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صداقت آشرم مولانا مظہر الحق نے بنایا تھا اور ملک کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد اپنے آخری دنوں میں یہاں مقیم تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے درمیان لڑائی سو سال پرانی ہے اور مزید سو سال تک جاری رہے گی۔

کانگریس کے میڈیا ہیڈ نے کہا کہ نئی تحقیق میں کچھ اور انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایس آئی آر کے دوران غریبوں اور محروموں کے نام حذف کئے گئے لیکن اس کے ساتھ 7613 ایسے بوتھ ہیں جہاں سے 70 فیصد خواتین کے نام بھی حذف کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل نئے انکشافات نے بی جے پی کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں اور اس کا اثر نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں محسوس ہوگا۔

مسٹرکھیڑا نے آخر میں طنز کیا کہ وزیر اعظم مودی کی امریکہ کے ساتھ جگل بندی ختم ہو گئی ہے اور وزیر اعظم دوبارہ چین کے سب سے بڑے لیڈر کے ساتھ ہاتھی پر گھومتے نظر آئیں گے۔






ووٹرادھیکار یاترا میں شامل ہونے کو تیار ہے پٹنہ مہانگر کانگریس کارکنان: ششی رنجن

 




پٹنہ مہا نگر کانگریس یاترا کو کامیاب بنانے کیلئے پوری طرح پر عزم: ہیمنت چترویدی


پٹنہ، 31 اگست:یکم ستمبر کو منعقد ہونے جا رہے ووٹرس ادھیکار یاتراکے اختتامی تقریب میں پٹنہ مہانگر کانگریس کے ہزاروں کارکن بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شامل ہوں گے۔ یہ بات پٹنہ مہانگر کانگریس کمیٹی کے صدر ششی رنجن نے پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر مہانگر کانگریس صدر ششی رنجن کے ساتھ تمام اہم صدور اور عہدیداران کی موجودگی رہے گی۔ اسی کے ساتھ بانکی پور اسمبلی کے ممکنہ امیدوار ہمنت چترویدی بھی اپنے سیکڑوں حامیوں کے ساتھ پروگرام میں شامل ہوں گے اور یاترا کو تاریخی بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کے عزم کو دہرایا۔

ہمنت چترویدی نے کہا کہ یہ یاتراآئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ایک عوامی تحریک کی علامت بنے گی اور پٹنہ مہانگر کانگریس اسے کامیاب بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔پریس کانفرنس کے دوران منوج منڈل، کملیش پانڈے، نیرج پنڈت وغیرہ بھی موجود تھے۔


Friday, 29 August 2025

کانگریس دفتر پر بی جے پی کارکنان کی جانب سے حملہ انتہائی قابل مذمت : عطاءالرحمن

 







پٹنہ( پریس ریلیز )کانگریس کے سنیئر لیڈر اویڈووکیٹ محمد عطاءالرحمن نے آج کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے غنڈہ عناصر کی جانب سے کانگریس دفتر پر کی گئی پتھر بازی اور لاٹھی حملہ انتہائی شرمناک اور جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔ کانگریس پارٹی اس بزدلانہ حرکت کی سخت مذمت کرتی ہے۔

 مسٹر رحمن نے کہاکہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کانگریس کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت اور ووٹرادھیکار یاترا“کی تاریخی کامیابی سے خوف زدہ ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں اس یاترا کو غیر معمولی عوامی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور عوام جس جوش و خروش کے ساتھ کانگریس کے ساتھ کھڑے ہیں، اس نے بی جے پی کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

کانگریس لیڈر مسٹر رحمن کا کہنا ہے کہ یہ عوامی حمایت دراصل راہل گاندھی کی انتھک محنتوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے، جو دن رات عوام کے مسائل اجاگر کرنے اور جمہوریت کی بقا کے لیے میدان میں ہیں۔

بی جے پی کو یہ بخوبی علم ہے کہ کانگریس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ان کے سیاسی زوال کی نشانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بوکھلاہٹ میں وہ پرتشدد کارروائیوں پر اتر آئی ہے۔ مگر یاد رہے، ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ تو کانگریس پیچھے ہٹے گی اور نہ ہی عوام کی آواز دبائی جا سکے گی۔