پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے جمعے کو سعودی کے سفیر نواف بن سعید المالکی اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزابی سے الگ ملاقاتوں میں برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے انڈیا پر دباؤ ڈالیں۔
ایوان وزیر اعظم سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات کی جس میں ’انہوں نے سعودی عرب سمیت برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔‘
ملاقات کے دوران وزیرا عظم نے سعودی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
بیان کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام کے حملے کے بعد جنوبی ایشیا میں امن و امان کی موجودہ صورت حال پر پاکستان کا مؤقف بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مذمت کی ہے۔ ’پاکستان نے گذشتہ برسوں میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بڑی قربانیاں دی ہیں جو کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئی ہیں۔‘
انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے پہلگام واقعے سے پاکستان کو جوڑنے کے بے بنیاد بھارتی الزامات کو یکسر مسترد کیا اور واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے تعاون سے گذشتہ 15 ماہ کی محنت سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد، پاکستان کی کامیابیوں کو خطرے میں ڈالنے اور ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ سے ہٹانے کی بھارتی کوششیں ناقابل فہم ہیں۔‘
سعودی سفیر نے اس اہم معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سفیر سے ملاقات کے بعد جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ’متحدہ عرب امارات سمیت برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کو مائل کریں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
بیان کے مطابق گزشتہ برسوں میں 90,000 ہلاکتوں اور 152 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات کے حوالے سے بے پناہ قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان اپنے مغربی محاذ سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کی عفریت سے نمٹ رہا ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات اور اس کے جارحانہ انداز کا مقصد پاکستان کی توجہ دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں سے ہٹانا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا اس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس واقعے کی قابل اعتماد، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی ضرورت ہے۔‘ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہو۔







