Saturday, 22 February 2025

یو ایس ایڈ فنڈنگ معاملہ پر کانگریس کا سخت ردعمل، پون کھیڑا کا مودی حکومت سے سوال – ’21 ملین ڈالر کہاں گئے؟‘


 




 کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے اے آئی سی سی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یو ایس ایڈ فنڈنگ کے معاملے پر مودی حکومت سے جواب طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جھوٹ کے کئی چہرے رکھتی ہے اور یو ایس ایڈ کے سلسلے میں پھیلائے گئے جھوٹ کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔


پون کھیڑا نے کہا کہ بی جے پی نے دعویٰ کیا تھا کہ یو ایس ایڈ کا پیسہ انتخابات میں استعمال ہونے کی خبریں یو پی اے حکومت کے دور میں شروع ہوئیں۔ تاہم، اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اس کی تردید کی۔ اس کے بعد کہا گیا کہ یہ فنڈنگ بنگلہ دیش میں گئی، جس کے بارے میں مودی جی کو نہ معلوم ہو، ایسا ممکن نہیں۔


کانگریس لیڈر نے ایک ویڈیو بھی پیش کی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’یہ 21 ملین ڈالر ہم نے اپنے دوست مودی کو دیے‘، اس بیان کے بعد بی جے پی لیڈران خاموش ہو گئے۔ پون کھیڑا نے سوال کیا کہ یہ 21 ملین ڈالر کہاں گئے؟ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان سے واضح ہو چکا ہے کہ یہ رقم مودی کے لیے ووٹر ٹرن آو¿ٹ بڑھانے کے مقصد سے دی گئی۔


پون کھیڑا نے مہاراشٹر میں ووٹنگ کے بعد ووٹ فیصد میں غیرمعمولی اضافے پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ بی جے پی کا ’400 پار‘ کا نعرہ اسی اعتماد پر مبنی تو نہیں تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی جمہوریت کو اس طرح متزلزل نہیں کیا جا سکتا اور یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔




انہوں نے کہا کہ میڈیا میں کہا گیا کہ یو ایس ایڈ کے فنڈنگ کے کوئی شواہد نہیں لیکن اگر برسراقتدار پارٹی ٹرمپ کو سچ مانتی ہے تو پھر اس پر وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس بیرونی ممالک سے فنڈ لے کر حکومت ہند کے خلاف سازش کرتی رہی ہے۔


پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے یو ایس ایڈ فنڈنگ کے مکمل حساب کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2001 سے 2024 تک یو ایس ایڈ نے 2.9 بلین ڈالر فراہم کیے، جس میں سے 44.4 فیصد فنڈنگ مودی حکومت کے دوران آئی۔ 2021 سے 2024 کے درمیان 650 ملین ڈالر آئے، جس کا حساب حکومت کو دینا ہوگا۔


پون کھیڑا نے مزید کہا کہ 2012 میں جب انا ہزارے کی تحریک عروج پر تھی، کیجریوال اپنی پارٹی بنا رہے تھے اور مودی اڈوانی کے خلاف سازش کر رہے تھے، تب یو ایس ایڈ کے ذریعے کتنا پیسہ آیا اور کہاں استعمال ہوا، اس کا انکشاف ہونا چاہیے۔


انہوں نے 1960 میں پنڈت نہرو کے خلاف بیرونی فنڈنگ کے الزامات، نوٹ بندی، کووڈ، اور اسمارٹ سٹی منصوبوں کے تحت یو ایس ایڈ کی جانب سے دیے گئے فنڈز کا بھی حساب مانگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن سیاسی جماعتوں یا اداروں کو غیرملکی امداد ملی، ان کے نام عوام کے سامنے رکھے جائیں۔


آخر میں، پون کھیڑا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو چیلنج کیا کہ وہ ٹرمپ کو فون کر کے ان سے وضاحت طلب کریں کہ انہوں نے 21 ملین ڈالر دینے کا دعویٰ کیوں کیا اور اگر مودی ایسا نہیں کرتے تو انہیں ملک کو بتانا ہوگا کہ یہ پیسہ کہاں گیا۔


مدھیہ پردیش: ریپ کے الزام پر گرایا گیا شفیق انصاری کا گھر! عدالت سے بری، اب انصاف کی مانگ


 





مدھیہ پردیش کے راج گڑھ ضلع میں سابق کونسلر شفیق انصاری کو عدالت نے ریپ کے الزام سے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے پایا کہ ان کے خلاف عائد الزامات جھوٹے تھے اور یہ شکایت ایک سازش کے تحت درج کرائی گئی تھی۔ تاہم، اس مقدمے کے اندراج کے چند دن بعد ہی انتظامیہ نے ان کا مکان مسمار کر دیا تھا، جس پر اب وہ قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتے ہیں۔


ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، شفیق انصاری راج گڑھ کی سارنگ پور نگر پالیکا کے کونسلر تھے۔ مقامی شہریوں نے ایک خاتون کے گھر میں منشیات کے غیر قانونی کاروبار کی شکایت کی تھی، جس پر شفیق انصاری نے بھی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس شکایت کے بعد انتظامیہ نے خاتون کے گھر کو تجاوزات قرار دیتے ہوئے مسمار کر دیا۔ کچھ ہی دنوں بعد، خاتون نے شفیق انصاری پر ریپ کا الزام لگا دیا۔



خاتون کا کہنا تھا کہ 4 فروری 2021 کو شفیق انصاری نے انہیں بیٹے کی شادی میں مدد کا وعدہ کر کے گھر بلایا اور زیادتی کی۔ تاہم، اس واقعے کی ایف آئی آر 4 مارچ 2021 کو درج کرائی گئی۔ رپورٹ درج ہونے کے 10 دن بعد، یعنی 13 مارچ 2021 کو انتظامیہ نے شفیق انصاری کا مکان بھی تجاوزات کے نام پر توڑ دیا۔


راج گڑھ کے فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج چتریندرسنگھ سولنکی نے 14 فروری 2025 کو شفیق انصاری کو بری کر دیا۔ عدالت نے پایا کہ متاثرہ خاتون اور اس کے شوہر کی گواہی میں تضاد تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ خاتون نے ریپ کی شکایت درج کرانے میں بلاجواز تاخیر کی، جو معاملے کو مشکوک بناتی ہے۔


عدالت کے مطابق، خاتون نے اپنے بیٹے کی شادی کے بعد بھی 15 دن تک اس واقعے کا ذکر اپنے شوہر یا بیٹوں سے نہیں کیا اور اس تاخیر کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی۔ مزید برآں، میڈیکل اور سائنسی شواہد بھی ریپ کے الزامات کی تصدیق نہیں کرتے۔


شفیق انصاری نے اپنی بے گناہی ثابت ہونے کے بعد کہا، ”مجھے نشانہ بنایا گیا کیونکہ میں نے علاقے میں غیر قانونی منشیات کے کاروبار کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ خاتون نے بدلہ لینے کے لیے میرے خلاف جھوٹی شکایت درج کرائی۔“




انہوں نے مزید کہا، ”میرے 4000 مربع فٹ کے گھر کو بغیر نوٹس دیے مسمار کر دیا گیا۔ مجھے اپنا دفاع کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ اب میں انصاف کے لیے عدالت جاو¿ں گا اور اپنے تباہ شدہ گھر کے معاوضے کا مطالبہ کروں گا۔“


اب جب کہ عدالت نے شفیق انصاری کو بری کر دیا ہے، وہ اپنے مسمار شدہ مکان کے معاوضے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں انتظامیہ کی کارروائی غیر منصفانہ تھی اور وہ اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔


میرٹھ میں 168 سال پرانی تاریخی مسجد راتوں رات منہدم، متبادل جگہ اور معاوضے کی مانگ

 





میرٹھ: یوپی کے شہر میرٹھ میں 168 سال پرانی ایک تاریخی مسجد کو انتظامیہ نے نصف شب کے وقت بلڈوزر چلا کر منہدم کر دیا۔ یہ مسجد دہلی روڈ پر سروس لین میں واقع تھی اور میٹرو و ریپڈ ریل کاریڈور کے درمیان آ رہی تھی، جس کے باعث حکام نے اسے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔


رپورٹ کے مطابق، دو دن قبل اس مسجد کا بجلی کنکشن منقطع کر دیا گیا تھا، جس کے بعد مقامی مسلمانوں نے خود ہی مسجد کو ہٹانے کی کوشش کی اور ہتھوڑے چلا کر کچھ حصے توڑے۔ تاہم، جمعہ کی رات انتظامیہ نے بلڈوزر لگا کر پوری مسجد کو مسمار کر دیا اور فوراً ملبہ بھی ہٹا دیا گیا، تاکہ میٹرو منصوبے کے لیے جگہ صاف ہو سکے۔




یہ مسجد دہلی روڈ پر جگدیش منڈپ کے قریب واقع تھی اور ایک طویل عرصے سے یہاں قائم تھی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مسجد میٹرو کے تعمیراتی منصوبے میں رکاوٹ بن رہی تھی، جس کی وجہ سے اسے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جانب مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اس کے بدلے متبادل جگہ اور مناسب معاوضہ چاہتے تھے، مگر ان کی مانگ پوری کیے بغیر ہی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔


مسجد گرانے کے دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔ مسجد کے انہدام کی اطلاع ملنے کے بعد علاقے میں تناو¿ کی کیفیت دیکھی گئی، تاہم پولیس اور انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔


اس معاملے پر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسجد کو ہٹانے کا فیصلہ باہمی رضامندی سے کیا گیا اور اس کے پیچھے کوئی اور مقصد نہیں تھا۔ دوسری طرف مسلم نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں مسجد کے لیے نئی جگہ دی جائے اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔



اردو سے صرف انہیں پریشانی ہے جو ہندو-مسلم سیاست کو فروغ دیتے ہیں: اودھیش پرساد

 








ایودھیا: سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے ایودھیا سے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے جمعہ کے روز کہا کہ اردو کسی خاص قوم یا برادری کی زبان نہیں ہے، بلکہ یہ محبت، عزت اور تہذیب کی زبان ہے۔ انہوں نے ا±ردو کو ملک کی سب سے بہترین زبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی زبان ہے جو صدیوں سے مختلف طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔


اودھیش پرساد نے کہا کہ سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں کئی اہم ریکارڈ اردو میں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ درحقیقت اردو سے صرف انہیں پریشانی ہے جو ہندو-مسلم سیاست کو فروغ دیتے ہیں، ورنہ باقی سب کے لیے یہ عام بول چال کی زبان ہے، جس میں ہندی کے کئی الفاظ بھی شامل ہیں۔ لوگ روزمرہ کی گفتگو اور تقاریر میں بھی اس زبان کا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک عام فہم اور مقبول زبان ہے۔



انہوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے 'کٹھ ملّا' والے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ بیان کسی سنت یا سنیاسی کا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا، "اتر پردیش کی تاریخ شاندار رہی ہے، یہاں سے سات وزرائے اعظم منتخب ہو چکے ہیں۔ یہ ریاست ہمیشہ گنگا-جمنی تہذیب کی علامت رہی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ لب و لہجہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کے شایان شان نہیں ہے۔ وہ اس وقت ذہنی دباو¿ میں ہیں، کیونکہ مہاکمبھ میں بے شمار لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے اور اب وہ سوالات کے گھیرے میں ہیں۔ اسی دباو¿ کی وجہ سے وہ غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہے ہیں لیکن ہم ان کی باتوں پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں۔“


واضح رہے کہ اتر پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپوزیشن، خاص طور پر سماجوادی پارٹی، پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایس پی کے رہنما اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں لیکن جب حکومت عام عوام کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات دینے کی کوشش کرتی ہے، تو یہی لوگ اردو مسلط کرنے کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔




یوگی آدتیہ ناتھ نے مزید کہا کہ سماجوادی پارٹی ملک کو 'کٹھ ملّاپن' کی طرف لے جانا چاہتی ہے، جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے ریاست کی مقامی بولیوں، جیسے کہ بھوجپوری، اودھی، برج اور بندیل کھنڈی کو اسمبلی کی کارروائی میں شامل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ ان کے مطابق، یہ بولیاں ہندی کی ذیلی زبانیں ہیں اور ان کی ترقی کے لیے حکومت خصوصی اکیڈمیوں کا قیام عمل میں لا رہی ہے تاکہ ان کو مناسب شناخت اور عزت مل سکے۔


نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ: 15 اموات دم گھٹنے، دو شدید چوٹ اور ایک سر کی چوٹ سے، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف

 





نئی دہلی: نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر حالیہ بھگدڑ کے دوران جاں بحق ہونے والے 18 افراد میں سے 15 کی موت دم گھٹنے کے باعث ہوئی، جبکہ دو افراد کی جان سینے پر شدید چوٹ لگنے اور ایک شخص کی موت سر پر زخم آنے کی وجہ سے ہوئی۔ یہ انکشاف پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا گیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر اموات بھگدڑ کے دوران لوگوں پر پڑنے والے شدید دباو¿ کے سبب واقع ہوئیں۔ متاثرین کے سینے پر دباو¿ کی شدت سے ان کے پھیپھڑے اور دل پر نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں ٹرامیٹک ایسفیکسیہ (Traumatic Asphyxia) اور ہیموریجک شاک (Hemorrhagic Shock) کے سبب جانیں ضائع ہوئیں۔


پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متاثرین کے جسم پر جو زخم پائے گئے ہیں، وہ موت سے پہلے کے ہیں۔ سینے پر دباو¿ کے نتیجے میں بعض افراد کو نیوموتھوریکس (Pneumothorax) بھی ہوا، جس سے ان کا سانس لینا دشوار ہو گیا۔




یہ حادثہ 15 فروری کی رات تقریباً 9:30 بجے پیش آیا، جب نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 13 اور 14 پر اچانک بھگدڑ مچ گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسافروں کے درمیان یہ افواہ پھیل گئی کہ پریاگ راج جانے والی دو ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ بھگدڑ کے دوران کئی مسافر زمین پر گر گئے، جس کے بعد لوگوں کا دباو¿ بڑھتا چلا گیا اور اموات واقع ہوئیں۔


ریلوے حکام کے مطابق، حادثے کے وقت دونوں پلیٹ فارمز پر بے حد بھیڑ تھی، جس کی وجہ سے کچھ لوگ بے ہوش ہو گئے اور حالات بے قابو ہو گئے۔ حادثے کے بعد حکام نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔


حادثے کے بعد ریلوے نے مرنے والوں کے اہل خانہ کو فی کس 10 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو ڈھائی لاکھ روپے اور معمولی زخمیوں کو ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا۔


موسم نے پھر لی کروٹ، 13 ریاستوں میں تیز ہوا کے ساتھ بارش اور برفباری کا الرٹ

 







پچھلے دنوں ہوئی بارش سے ایک بار پھر موسم کا مزاج بدلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ دہلی-این سی آر سمیت پنجاب، اتر پردیش میں درجہ حرارت میں گراوٹ درج ہوئی ہے جس سے لوگوں کو ہلکی ٹھٹھرن کا احساس ہو رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلے تین چار دنوں تک بارش کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ آئی ایم ڈی نے اتر پردیش کے ساتھ ہی بہار اور مشرقی ہند کے 13 ریاستوں میں تیز ہوا کے ساتھ بارش اور اولے گرنے کے امکان کے پیش نظر وارننگ جاری کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کچھ جگہوں پر بجلی بھی گر سکتی ہے۔ ایک تازہ ویسٹرن ڈسٹربینس پیر کو مغربی ہمالیہ کو متاثر کرنے والا ہے جس سے منگل سے شدید برفباری ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی میدانی علاقوں میں بھی ٹھنڈ میں اضافہ ہوگا۔


بنگال اور آس پاس کے علاقوں میں ہفتہ کے آخر میں بارش ہونے کا امکان ہے۔ انڈمان اور نکوبار جزائر گروپ میں اگلے ہفتہ تک وسیع پیمانے پر بارش ہونے کے آثار ہیں۔ پنجاب کے میدانی علاقوں کو چھوڑ کر پورے ملک میں اگلے پانچ دنوں تک درجہ حرارت معمول کے قریب رہے گا۔


راجستھان میں نئے ویسٹرن ڈسٹربینس کے اثر سے گزشتہ 24 گھنٹے میں ہنومان گڑھ ضلع میں سنگریا سمیت کچھ مقامات پر ہلکی بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ باقی ریاست میں موسم عام طور پر خشک بنا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران سنگریا میں 0.5 ملی میٹر بارش ہوئی۔ کچھ دیگر مقامات میں بوندا باندی بھی درج کی گئی۔



ادھر کشمیر میں کئی مقامات پر جمعہ کو تازہ برفباری ہوئی۔ میدانی علاقوں میں رک رک کر بارش ہو رہی ہے۔ افسروں نے بتایا کہ مشہور سیاحتی مقامات گلمرگ، سون مرگ اور پہلگام میں رات بھر برفباری ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اننت ناگ، جوجیلا درہ، بنیہال، سادھنا درہ، کپواڑہ کے ماچھل اور باندی پورا کے راجدان درّے میں بھی برفباری درج کی گئی۔ سری نگر سمیت وادی کے میدانی علاقوں میں رات بھر رک رک بارش ہوئی۔


"عدالت میں دیکھیں گے" ٹرمپ اور ریاست مین کی گورنر کے درمیان براہ راست دھمکیوں کا تبادلہ

 








امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک مین کی گورنر جینٹ ملز کے درمیان وفاقی فنڈز پر گرما گرم جملوں تبادلہ سامنے آیا ہے جس میں صدر دھمکی دی کہ اگر اس نے خواتین کے کھیلوں سے ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو روکنے کے ان کے ایگزیکٹو آرڈر کی تعمیل نہ کی تو وہ ریاست کے فنڈز روک دیں گے۔


یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں ریاستی گورنرز سے اپنے ایگزیکٹو آرڈر کے بارے میں بات کی جس میں خواجہ سراو¿ں کے خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔


ٹرمپ نے کہا کہ "ہم وفاقی قانون ہیں، آپ اسے بہتر کریں کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں تو آپ کو کوئی بھی وفاقی فنڈنگ نہیں ملے گی"۔


ٹرمپ نے مزید کہاکہ "ویسے آپ کی ریاست کے لوگوں جو کسی حد تک لبرل ہیں، مجھے وہاں پر اچھا کر دکھایا۔ وہ خواتین کے کھیلوں میں مردوں کو نہیں چاہتے"۔


ٹرمپ نے استفسار کیا کہ"کیا آپ ایگزیکٹو آرڈر کی تعمیل نہیں کر رہے ہیں؟"۔


اس پر مین کی گورنر نے جواب دیا کہ"ہم آپ کو عدالت میں دیکھیں گے"۔


ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ "میں بھی آپ کو عدالت میں دیکھوں گا، میں اس کا منتظر ہوں۔ یہ واقعی آسان ہونا چاہیے. آپ کی مدت پوری ہونے کے بعد اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونے کا سوچیں، کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ آپ اب بھی اپنے عہدے پر رہیں گی"۔


ملز نے بعد میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ہماری ریاست مین صدر کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر صدر یکطرفہ طور پر مین سکول کے بچوں کو وفاقی فنڈ تک رسائی سے انکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو میری انتظامیہ اور اٹارنی جنرل اس فنڈنگ کو بحال کرنے کے لیے تمام مناسب اور ضروری قانونی کارروائی کریں گے"۔


ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران خواتین کے کھیلوں میں ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں کی شرکت پر بارہا تنقید کر چکے ہیں۔


ان کے حامیوں نے ان کے حال ہی میں منظور کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خواتین کے کھیلوں کو "انصاف بحال" ہو گا۔


ٹرمپ نے اپنے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے محکمہ تعلیم کو ہدایات جاری کی ہیں۔ امریکی صدر کا خیال ہے کہ "تنوع اور شمولیت" کی پالیسی مسلط کرنے سے شہری حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان سکولوں سے وفاقی فنڈنگ روکنے کی توقع ہے جو ان قوانین کی تعمیل نہیں کرتے ہیں۔


سعودی عرب : یورپی یونین کے سفارتخانے نے مملکت کا فاو ¿نڈیشن ڈے پرجوش طریقے سے منایا

 






سعودی عرب کے 22 فروری کو منائے جانے والے فاو¿نڈیشن ڈے کے موقع پر یورپی یونین نے بھی پرجوش طریقے سے خوشی منائی۔ یورپی یونین کے سفیر کرسٹوفر فرناو¿ڈ نے سعودی عرب کے ساتھ یورپی یونین کے تعلقات کی طویل تاریخ اور غیرمعمولی پن کے بارے میں گفتگو کی اور کہا 'ہم سعودی قیادت کے ویڑن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ جس نے مملکت کو ایک خوشحال اور بااثر مملکت کے طور پر دنیا میں پیش کیا ہے۔'


یورپی یونین کو مملکت کی فاو¿نڈیشن ڈے کی تقریبات کی میزبانی پر فخر ہے۔ یہ سعودی عرب کی قومی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ اس لیے آج قومی تعطیل ہے جو ہمیں سعودی عرب اور یورپی یونین کے درمیان گہری دوستی کی یاد دلاتا ہے۔



سفیر نے کہا 'دوطرفہ طور پر، علاقائی سطح پر اور بین الاقوامی ایشوز پر مل کر کام کرنے سے دونوں اطراف کے تعلقات میں غیرمعمولی مضبوطی آئی ہے۔ یہ تعلقات قدرتی اور ارتقائی انداز سے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔'


یورپی یونین کے سفیر نے اس امر کو نمایاں کیا کہ دونوں ملک تاریخی دوستی اور اقدار کا اشتراک رکھتے ہیں۔ دونوں خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ مقاصد رکھتے ہیں۔ '


یورپی سفیر فرناو¿ڈ نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا 'ہم نے فاو¿نڈیشن ڈے کو منانے کا فیصلہ کیا تھا جو مملکت کی شناخت اور تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہم دنوں میں سے ایک دن ہے۔ یہ بڑا آئیڈیل ٹائم ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو متحد کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کے اس دن کے لیے جو سعودی عوام کے لیے بڑا اہم ہے اور یہ دن سعودی قوم کو دوبارہ سے اکٹھا کرنے کے لیے بھی بڑا اہم ہے۔ سفارتخانوں اور ہمارے لیے بھی اس کی بہت اہمیت ہے کہ ہم یہاں ہیں۔ اس لیے ہم ان تقریبات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں تاکہ سعودی ورثے، اقدار اور ثقافت کے قریب ہوجائیں اور اس کی اہمیت کا اعتراف کریں۔ '



یوپی یونین کے سفیر نے کہا ہم آج یہاں دریہ میں موجود ہیں۔ جس کی ایک خاص قدیمی وتاریخی حیثیت ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں مملکت سعودی عرب نے جنم لیا تھا۔ یہ جگہ مملکت کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک کے لیے علامتی حیثیت بھی رکھتی ہے کہ یہاں مملکت کے قدیم ورثے کے آثار ہیں۔ مملکت کا یہ ورثہ میرے دل کے قریب ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں فاو¿نڈیشن ڈے کے سلسلے میں اپنی ٹیم اور مہمانوں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب رہا۔ کیونکہ ہم یہاں پر سعودی ورثے کو لفظوں میں محسوس کرنے آئے ہیں۔ میرے خیال میں یہ تقریب منعقد کرنے کا غیر رسمی مگر زیادہ دلکش طریقہ ہے۔'



ریاض کے 15 اہم سکوائر اور مقامات سابق آئمہ اور بادشاہوں سے منسوب، شاہی فرمان

 





خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ریاض شہر کے 15 اہم چوراہوں اور مقامات کو مملکت کے سابقہ آئمہ اور بادشاہوں کے ناموں پر رکھنے کی تجویز کو منظور کرتے ہوئے شاہی احکامات صادر کردیے ہیں۔


مملکت کے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق ہر برس 22 فروری کو مملکت کا یوم تاسیس منایا جاتا ہے یہ وہ دن ہے جب مملکت کے باقاعدہ قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔


یوم تاسیس کے یادگاری موقع کی مناسبت سے ریاض کے 15 سکوائر اور مقامات کو سابقہ آئمہ اور شاہوں کے نام دیے گئے ہیں ان میں امام محمد بن سعود، امام عبدالعزیز بن محمد، امام سعود بن عبدالعزیز، امام عبداللہ بن سعود چوک ، امام ترکی بن عبداللہ ، امام فیصل بن ترکی، امام عبداللہ بن فیصل، امام عبدالرحمان بن فیصل، شاہ عبدالعزیز، شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ فہد ، شاہ عبداللہ اور شاہ سلمان شامل ہیں۔


یوم تاسیس باعث فخر، مملکت ترقی کی جانب گامزن ہے: شاہ سلمان بن عبدالعزیز

 






خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی پیغام میں قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس دن کو باعثِ فخر قرار دیا ہے۔


سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ایکس اکاونٹ پر جاری پیغام میں کہا ’ہمیں مملکت کے قیام پر فخر ہے جس کی بنیادیں تین صدی قبل امن و امان، انصاف اور خالص عقیدے پر رکھی گئیں۔’ہم اس وقت سے آج تک اسی راستے پرمضبوطی سے قائم ہیں اور وطن عزیز مختلف میدانوں میں ترقی کی جانب گامزن ہے۔‘


واضح رہے سعودی عرب کا یوم تاسیس 3 سو برس قبل قائم ہونے والی اولین سعودی ریاست کی خاطر سعودی امرا، سلاطین اور عوام کی فقید المثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔


شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 27 جنوری 2022 کو شاہی فرمان جاری کیا جس کے مطابق ہر برس 22 فروری کو پہلی سعودی ریاست کے قیام کے حوالے سےاس دن کو منانے کا فیصلہ صادر کیا گیا تھا۔


غزہ کے حوالے سے میرا منصوبہ اچھا لیکن اسے مسلط نہیں کروں گا: ٹرمپ

 








امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے حوالے سے ان کا منصوبہ اچھا ہے لیکن وہ اسے مسلط نہیں کریں گے اور وہ صرف اس کی سفارش کر رہے ہیں۔


ٹرمپ نے مزید کہا کہ غزہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور اگر اس کے باشندوں کو انتخاب کی آزادی دی گئی تو وہ اسے چھوڑ دیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ غزہ ایک شاندار محل وقوع ہے اور اسرائیل کا ماضی میں اسے ترک کردینا قابل اعتراض ہے۔


امریکی صدر ٹرمپ نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ساحلی پٹی کے کچھ حصے مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کو تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کے لیے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اس وقت ان ملکوں کی وضاحت نہیں کی تھی۔ تاہم بعد میں وہ فلسطینی پٹی کو خالی کرنے کے خیال کو برقرار رکھتے ہوئے اسے خریدنے کی بات سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ غزہ کو مستقبل کی ترقی کے لیے ایک اچھے مقام میں بدل دے گا۔


ان کی اس اچانک تجویز کو بین الاقوامی سطح پر اور عرب دنیا کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تمام عرب ملکوں نے فلسطینیوں کے حق واپسی اور غزہ سے ان کی نقل مکانی کو مسترد کردیا۔ مغربی ملکوں اور امریکہ کے اتحادیوں نے بھی واضح کیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی آبادی کی نقل مکانی انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔


دوسری طرف ٹرمپ کی اس تجویز کی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کھل کر حمایت کی اور کہا کہ ٹرمپ کا خیال اچھا اور بے مثال ہے اور ایک معقول حل فراہم کر رہا ہے۔ جمعرات کو مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیفن وٹ کوف نے صورت حال کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے غزہ کے منصوبے کا مقصد فلسطینیوں کو بے گھر کرنا نہیں ہے۔ غزہ کے مستقبل کے بارے میں یہ بات چیت اس نہج پر ہو رہی ہے کہ فلسطینیوں کے لیے بہتر مستقبل کیسے تلاش کیا جائے۔



4 فروری کو ٹرمپ نے تجویز پیش کی کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالے اور مصر اور اردن سمیت دیگر مقامات پر فلسطینیوں کو دوبارہ آباد کرے۔ یہ تجویز بین الاقوامی طور پر مسترد ہو گئی۔ لیکن وِٹکوف نے سعودی خودمختار دولت فنڈ سے منسلک ایک غیر منافع بخش تنظیم کی میزبانی میں میامی میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر ٹرمپ کے تبصرے گزشتہ 50 سالوں میں تجویز کردہ حل کے مقابلے میں زیادہ بہتر تھے۔


انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ نے غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ اسے غیر پھٹنے والے ہتھیاروں سے بھر دیا گیا ہے۔ لوگوں کی واپسی کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ناممکن ہوگیا۔ وِٹکوف نے مزید کہا کہ اس کے لیے بہت زیادہ صفائی، تخیل اور ایک شاندار ماسٹر پلان کی ضرورت ہوگی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نقل مکانی کے لیے کسی منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔ جب صدر اس بارے میں بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہر ایک کو یہ سوچنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ فلسطینی عوام کے لیے کیا بہترین حل ہے۔ وٹ کوف نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر کیا وہ وہاں کسی گھر میں رہنا چاہتے ہیں یا کیا وہ بہتر جگہ پر جانے کا موقع حاصل کرنا پسند کریں گے تاکہ نوکریاں، کاروبار کے مواقع اور بہتر مالی امکانات حاصل کرنے کیے جا سکیں۔


صغیرہ فاﺅنڈیشن کے تحت ضرورت مندوں میں راشن کی تقسیم

 








ہر سال کی طرح امسال بھی صغیرہ فاﺅنڈیشن گونڈوی ممبئی کے تحت 250 غریب محتاج و نادار افراد کے درمیان راشن کی تقسیم بروز منگل 18 فروری سنہ 2025 بمقام سیووڈ سمن ہائیٹس سیکٹر ای ۔۵۰ نیو ممبئی عمل میں آئی۔ راشن میں چاول پانچ کلو، آٹا پانچکلو، مسور دال دو کلو شکر ایک کلو ،نمک ایک کلو، آلو تین کلو، پیاز 2 کلوتیل ایک لیٹر چنا دوکلو، بیسن ایک کلو، کھجور ایک کلو، لچھا ایک کلو شامل کئے گئے ،تقسیم کا سلسلہ تلاوت کلام پاک و دعاو¿ں کے بعد شروع ہوا۔ سمن با ئیٹس کے قرب وجوار یہاں تک کے گونڈوی، مانخورد کے غریب محتاج افراد بھی بڑی تعداد میں وہاں آئے ہوئے تھے ضرورت مند افراد میں ہر مذاہب ہر طبقہ کے نادار افراد موجود تھے۔ صغیرہ فاﺅنڈیشن کے تمام عہدیداران د ممبران راشن کی بخوبی تقسیم کی ترتیب میں شروع سے لیکر آخیر تک مصروف رہے۔ راشن کٹس دینے سے پہلے ہر فرد کے کے آدھار کارڈ کو دیکھا گیا، نام کے ساتھ نمبر نوٹ کئے گئے اور اس بات کا تیقین کیا گیا کہ ضرورت مند افراد راشن کے مستحق ہیں اور حقیقی ہیں۔ صغیرہ فاونڈیشن کے بانی جناب شہنواز احمد شیخ ، صدر جناب قمر الضحی عرف بچو بھائی، نائب صدر جناب فیروز احمد شیخ ،محمد علی شیخ ،جنرل سیکریٹری جناب ابرار احمد شیخ صلاح الدین خان صاحب ،شبیر صاحب، نظام الدین شیخ ،مطیع الرحمن، عتیق الرحمان ، آفتاب صاحب ، زبیر ملتانی، سمی انصاری صاحب کے ہاتھوں غریبوں میں راشن کٹس کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ فاﺅنڈیشن کے بانی جناب شہنو از احمد شیخ اور ان کے برادر بزرگ جناب قمر الضحی صاحبان نے یہ طے کیا ہے کہ رمضان سے پہلے ممبئی اور مضافات میں اور جگہوں پر بھی راشن کے کٹس تقسیم کئے جائنگیں۔ رات کے دس بجے تک راشن کٹس کی تقسیم کا سلسلہ جاری رہا، اس بات کا خیال رکھا گیا کہ کسی ضرورت مند محتاج کی دل آزاری نہ ہو اور ہر کسی نادار کو راشن کا بستہ دیدیا جائے۔ راشن کی تقسیم کے بعد جناب شہنوا از احمد شیخ نے صغیرہ کے وسیع دفتر اور ایک فعال آفس سکریٹری کے تقر کی تجویز پیش کی جنہیں ممبران نے پسند کیا اور جلد ہی اسے عملی شکل دینے کی تجویز پاس ہوئی۔ فاﺅنڈیشن کے بانی شہنو از احمد شیخ نے بے گناہ قیدیوں کی قانونی مدد اور انکی رہائی کے تعلق سے جلد سے جلد وکلاء کی ایک میٹنگ کی تجویز رکھی جسے تمام ممبران نے پسند کیا اور حامی بھی بھری۔ بعد عشائیہ دعا کا اہتمام کیا گیا اور اس طرح یہ تقریب اختتام کو پہنچی۔

ابرار احمد شیخ جزل سیکریٹری صغیرہ فاﺅنڈ یشن گونڈی



عبیدالرحمن صاحب کو جن سوراج پارٹی اوورسیز کا کوآرڈینیٹر نامزد ہونے پر دلی مبارکباد :ایڈووکیٹ شاہد اطہر

 





 دربھنگہ:- عبید الرحمن صاحب کو جن سوراج پارٹی اوورسیز کے کوآرڈینیٹر کے طور پر نامزد کرکے ڈائریکٹر پرشانت کشور سر اور ریاستی صدر منوج بھارتی جی نے ریاست ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک میں رہنے والے ہندوستانیوں کو یہ پیغام دینے کا کام کیا ہے کہ اگر آپ تعلیم کے لیے جدوجہد کرتے رہیں تو سماج سے اندھیرے کو ہٹا کر روشنی پھیلا سکتے ہیں۔ 


 عبید الرحمن جس طرح سپر 30 کے سروے سروا آنند کمار کے ساتھ مل کر رحمان 30 کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں، یہ کام بہار کی پسماندہ ریاست کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جہاں عبید الرحمان بہار میں تعلیم کے لیے جانے جاتے ہیں، وہیں وہ بہار فاو¿نڈیشن ریاض چیپٹر (سعودی عرب) میں بیرون ملک بھی کافی مقبول ہیں۔ اسی لیے ان سے متاثر ہو کر انہیں جن سوراج پارٹی اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بنایا گیا ہے۔ میں انہیں نامزد کرنے پر پرشانت سر اور منوج سر کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور عبید الرحمن صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں اور ان سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ پارٹی کو وسعت دینے اور تنظیم کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ وہ بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی ضروریات اور مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی کام کریں گے۔ ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ عبیدالرحمن صاحب کا نام بہار اور ہندوستان کے تعلیمی میدان میں ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ انہوں نے معاشرے کے معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقات کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دینے کے لیے بہت سے نمایاں کام کیے ہیں۔ ان کا مقصد پسماندہ بچوں کو ممتاز ( آئی آئی ٹی) اداروں اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لیے تربیت دینا ہے۔


 پرشانت کشور نے بہار کو بہتر سمت اور قیادت دینے کے مقصد سے جن سوراج پارٹی کی بنیاد رکھی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 32 سالوں میں بہار کی ترقی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ آج بھی تعلیم، صحت، روزگار جیسے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ریاستی مہم کمیٹی کے رکن شمشاد نور نے کہا کہ عبید الرحمن صاحب کو جن سوراج اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بنانے سے پارٹی کو ایک نئی توانائی اور سمت ملے گی۔ بیرون ملک میں ان کا 20 سال کا تجربہ اور وہاں بہار فاو¿نڈیشن کے چیئرمین کے طور پر ان کی ساکھ پارٹی کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہوگی۔ ریاستی ورکنگ کمیٹی کے رکن شمشاد ناجمی عرف شمسی نے کہا کہ ان کے تجربے سے جن سوراج پارٹی کے مشن کو تقویت ملے گی اور عالمی سطح پر پارٹی کی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ عبیدالرحمن صاحب نہ صرف ایک بااثر سماجی کارکن ہیں بلکہ ایک ترقی پسند مفکر بھی ہیں۔ اس کا مقصد معاشرے میں تعلیم کے بارے میں بیداری پھیلا کر مثبت تبدیلی لانا ہے۔ 


 عبید صاحب کو مبارکباد دیتے ہوئے خاتون رہنما آمنہ شفیع نے کہا کہ بہار کے عوام ایک طویل عرصے سے ایک نئی قیادت اور نئی سمت کی تلاش میں تھے۔ پرشانت کشور کی قیادت میں پارٹی مضبوط ہوئی اور عبیدالرحمن صاحب، شکیل اشرفی صاحب، ڈاکٹر نیلوفر میڈم اور دیگر شخصیات کی شمولیت سے لوگوں میں نئی امیدیں جگائی ہیں- عبیدالرحمن صاحب کو جن سوراج اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بننے پر ان کے حامیوں اور پارٹی کارکنوں نے تہہ دل سے مبارکباد پیش کی۔ آمنہ شفیع نے کہی کے امید ہے کہ ان کا تجربہ اور قیادت بہار کی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگی۔ عبیدالرحمن صاحب کو مبارکباد دینے والوں میں عامر حیدر، بلٹو ساہنی، شعیب خان، عاقب نذر، ڈاکٹر اقبال حسن ریشو، نرمل مشرا، ارونیش چندر، شوکت علی، علی اکبر، ذاکر علی، پرتیبھا جھا، سریندر سنگھ، فیض احمد ، کریم خان کے علاوہ بڑی تعداد میں جن سوراج پارٹی سے تعلق رکھنے والے سماج کے تمام طبقوں سے شامل ہیں۔