Saturday, 22 February 2025

"عدالت میں دیکھیں گے" ٹرمپ اور ریاست مین کی گورنر کے درمیان براہ راست دھمکیوں کا تبادلہ

 








امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک مین کی گورنر جینٹ ملز کے درمیان وفاقی فنڈز پر گرما گرم جملوں تبادلہ سامنے آیا ہے جس میں صدر دھمکی دی کہ اگر اس نے خواتین کے کھیلوں سے ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو روکنے کے ان کے ایگزیکٹو آرڈر کی تعمیل نہ کی تو وہ ریاست کے فنڈز روک دیں گے۔


یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں ریاستی گورنرز سے اپنے ایگزیکٹو آرڈر کے بارے میں بات کی جس میں خواجہ سراو¿ں کے خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔


ٹرمپ نے کہا کہ "ہم وفاقی قانون ہیں، آپ اسے بہتر کریں کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں تو آپ کو کوئی بھی وفاقی فنڈنگ نہیں ملے گی"۔


ٹرمپ نے مزید کہاکہ "ویسے آپ کی ریاست کے لوگوں جو کسی حد تک لبرل ہیں، مجھے وہاں پر اچھا کر دکھایا۔ وہ خواتین کے کھیلوں میں مردوں کو نہیں چاہتے"۔


ٹرمپ نے استفسار کیا کہ"کیا آپ ایگزیکٹو آرڈر کی تعمیل نہیں کر رہے ہیں؟"۔


اس پر مین کی گورنر نے جواب دیا کہ"ہم آپ کو عدالت میں دیکھیں گے"۔


ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ "میں بھی آپ کو عدالت میں دیکھوں گا، میں اس کا منتظر ہوں۔ یہ واقعی آسان ہونا چاہیے. آپ کی مدت پوری ہونے کے بعد اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونے کا سوچیں، کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ آپ اب بھی اپنے عہدے پر رہیں گی"۔


ملز نے بعد میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ہماری ریاست مین صدر کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر صدر یکطرفہ طور پر مین سکول کے بچوں کو وفاقی فنڈ تک رسائی سے انکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو میری انتظامیہ اور اٹارنی جنرل اس فنڈنگ کو بحال کرنے کے لیے تمام مناسب اور ضروری قانونی کارروائی کریں گے"۔


ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران خواتین کے کھیلوں میں ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں کی شرکت پر بارہا تنقید کر چکے ہیں۔


ان کے حامیوں نے ان کے حال ہی میں منظور کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خواتین کے کھیلوں کو "انصاف بحال" ہو گا۔


ٹرمپ نے اپنے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے محکمہ تعلیم کو ہدایات جاری کی ہیں۔ امریکی صدر کا خیال ہے کہ "تنوع اور شمولیت" کی پالیسی مسلط کرنے سے شہری حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان سکولوں سے وفاقی فنڈنگ روکنے کی توقع ہے جو ان قوانین کی تعمیل نہیں کرتے ہیں۔


سعودی عرب : یورپی یونین کے سفارتخانے نے مملکت کا فاو ¿نڈیشن ڈے پرجوش طریقے سے منایا

 






سعودی عرب کے 22 فروری کو منائے جانے والے فاو¿نڈیشن ڈے کے موقع پر یورپی یونین نے بھی پرجوش طریقے سے خوشی منائی۔ یورپی یونین کے سفیر کرسٹوفر فرناو¿ڈ نے سعودی عرب کے ساتھ یورپی یونین کے تعلقات کی طویل تاریخ اور غیرمعمولی پن کے بارے میں گفتگو کی اور کہا 'ہم سعودی قیادت کے ویڑن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ جس نے مملکت کو ایک خوشحال اور بااثر مملکت کے طور پر دنیا میں پیش کیا ہے۔'


یورپی یونین کو مملکت کی فاو¿نڈیشن ڈے کی تقریبات کی میزبانی پر فخر ہے۔ یہ سعودی عرب کی قومی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ اس لیے آج قومی تعطیل ہے جو ہمیں سعودی عرب اور یورپی یونین کے درمیان گہری دوستی کی یاد دلاتا ہے۔



سفیر نے کہا 'دوطرفہ طور پر، علاقائی سطح پر اور بین الاقوامی ایشوز پر مل کر کام کرنے سے دونوں اطراف کے تعلقات میں غیرمعمولی مضبوطی آئی ہے۔ یہ تعلقات قدرتی اور ارتقائی انداز سے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔'


یورپی یونین کے سفیر نے اس امر کو نمایاں کیا کہ دونوں ملک تاریخی دوستی اور اقدار کا اشتراک رکھتے ہیں۔ دونوں خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ مقاصد رکھتے ہیں۔ '


یورپی سفیر فرناو¿ڈ نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا 'ہم نے فاو¿نڈیشن ڈے کو منانے کا فیصلہ کیا تھا جو مملکت کی شناخت اور تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہم دنوں میں سے ایک دن ہے۔ یہ بڑا آئیڈیل ٹائم ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو متحد کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کے اس دن کے لیے جو سعودی عوام کے لیے بڑا اہم ہے اور یہ دن سعودی قوم کو دوبارہ سے اکٹھا کرنے کے لیے بھی بڑا اہم ہے۔ سفارتخانوں اور ہمارے لیے بھی اس کی بہت اہمیت ہے کہ ہم یہاں ہیں۔ اس لیے ہم ان تقریبات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں تاکہ سعودی ورثے، اقدار اور ثقافت کے قریب ہوجائیں اور اس کی اہمیت کا اعتراف کریں۔ '



یوپی یونین کے سفیر نے کہا ہم آج یہاں دریہ میں موجود ہیں۔ جس کی ایک خاص قدیمی وتاریخی حیثیت ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں مملکت سعودی عرب نے جنم لیا تھا۔ یہ جگہ مملکت کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک کے لیے علامتی حیثیت بھی رکھتی ہے کہ یہاں مملکت کے قدیم ورثے کے آثار ہیں۔ مملکت کا یہ ورثہ میرے دل کے قریب ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں فاو¿نڈیشن ڈے کے سلسلے میں اپنی ٹیم اور مہمانوں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب رہا۔ کیونکہ ہم یہاں پر سعودی ورثے کو لفظوں میں محسوس کرنے آئے ہیں۔ میرے خیال میں یہ تقریب منعقد کرنے کا غیر رسمی مگر زیادہ دلکش طریقہ ہے۔'



ریاض کے 15 اہم سکوائر اور مقامات سابق آئمہ اور بادشاہوں سے منسوب، شاہی فرمان

 





خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ریاض شہر کے 15 اہم چوراہوں اور مقامات کو مملکت کے سابقہ آئمہ اور بادشاہوں کے ناموں پر رکھنے کی تجویز کو منظور کرتے ہوئے شاہی احکامات صادر کردیے ہیں۔


مملکت کے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق ہر برس 22 فروری کو مملکت کا یوم تاسیس منایا جاتا ہے یہ وہ دن ہے جب مملکت کے باقاعدہ قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔


یوم تاسیس کے یادگاری موقع کی مناسبت سے ریاض کے 15 سکوائر اور مقامات کو سابقہ آئمہ اور شاہوں کے نام دیے گئے ہیں ان میں امام محمد بن سعود، امام عبدالعزیز بن محمد، امام سعود بن عبدالعزیز، امام عبداللہ بن سعود چوک ، امام ترکی بن عبداللہ ، امام فیصل بن ترکی، امام عبداللہ بن فیصل، امام عبدالرحمان بن فیصل، شاہ عبدالعزیز، شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ فہد ، شاہ عبداللہ اور شاہ سلمان شامل ہیں۔


یوم تاسیس باعث فخر، مملکت ترقی کی جانب گامزن ہے: شاہ سلمان بن عبدالعزیز

 






خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی پیغام میں قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس دن کو باعثِ فخر قرار دیا ہے۔


سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ایکس اکاونٹ پر جاری پیغام میں کہا ’ہمیں مملکت کے قیام پر فخر ہے جس کی بنیادیں تین صدی قبل امن و امان، انصاف اور خالص عقیدے پر رکھی گئیں۔’ہم اس وقت سے آج تک اسی راستے پرمضبوطی سے قائم ہیں اور وطن عزیز مختلف میدانوں میں ترقی کی جانب گامزن ہے۔‘


واضح رہے سعودی عرب کا یوم تاسیس 3 سو برس قبل قائم ہونے والی اولین سعودی ریاست کی خاطر سعودی امرا، سلاطین اور عوام کی فقید المثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔


شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 27 جنوری 2022 کو شاہی فرمان جاری کیا جس کے مطابق ہر برس 22 فروری کو پہلی سعودی ریاست کے قیام کے حوالے سےاس دن کو منانے کا فیصلہ صادر کیا گیا تھا۔


غزہ کے حوالے سے میرا منصوبہ اچھا لیکن اسے مسلط نہیں کروں گا: ٹرمپ

 








امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے حوالے سے ان کا منصوبہ اچھا ہے لیکن وہ اسے مسلط نہیں کریں گے اور وہ صرف اس کی سفارش کر رہے ہیں۔


ٹرمپ نے مزید کہا کہ غزہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور اگر اس کے باشندوں کو انتخاب کی آزادی دی گئی تو وہ اسے چھوڑ دیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ غزہ ایک شاندار محل وقوع ہے اور اسرائیل کا ماضی میں اسے ترک کردینا قابل اعتراض ہے۔


امریکی صدر ٹرمپ نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ساحلی پٹی کے کچھ حصے مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کو تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کے لیے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اس وقت ان ملکوں کی وضاحت نہیں کی تھی۔ تاہم بعد میں وہ فلسطینی پٹی کو خالی کرنے کے خیال کو برقرار رکھتے ہوئے اسے خریدنے کی بات سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ غزہ کو مستقبل کی ترقی کے لیے ایک اچھے مقام میں بدل دے گا۔


ان کی اس اچانک تجویز کو بین الاقوامی سطح پر اور عرب دنیا کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تمام عرب ملکوں نے فلسطینیوں کے حق واپسی اور غزہ سے ان کی نقل مکانی کو مسترد کردیا۔ مغربی ملکوں اور امریکہ کے اتحادیوں نے بھی واضح کیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی آبادی کی نقل مکانی انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔


دوسری طرف ٹرمپ کی اس تجویز کی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کھل کر حمایت کی اور کہا کہ ٹرمپ کا خیال اچھا اور بے مثال ہے اور ایک معقول حل فراہم کر رہا ہے۔ جمعرات کو مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیفن وٹ کوف نے صورت حال کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے غزہ کے منصوبے کا مقصد فلسطینیوں کو بے گھر کرنا نہیں ہے۔ غزہ کے مستقبل کے بارے میں یہ بات چیت اس نہج پر ہو رہی ہے کہ فلسطینیوں کے لیے بہتر مستقبل کیسے تلاش کیا جائے۔



4 فروری کو ٹرمپ نے تجویز پیش کی کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالے اور مصر اور اردن سمیت دیگر مقامات پر فلسطینیوں کو دوبارہ آباد کرے۔ یہ تجویز بین الاقوامی طور پر مسترد ہو گئی۔ لیکن وِٹکوف نے سعودی خودمختار دولت فنڈ سے منسلک ایک غیر منافع بخش تنظیم کی میزبانی میں میامی میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر ٹرمپ کے تبصرے گزشتہ 50 سالوں میں تجویز کردہ حل کے مقابلے میں زیادہ بہتر تھے۔


انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ نے غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ اسے غیر پھٹنے والے ہتھیاروں سے بھر دیا گیا ہے۔ لوگوں کی واپسی کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ناممکن ہوگیا۔ وِٹکوف نے مزید کہا کہ اس کے لیے بہت زیادہ صفائی، تخیل اور ایک شاندار ماسٹر پلان کی ضرورت ہوگی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نقل مکانی کے لیے کسی منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔ جب صدر اس بارے میں بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہر ایک کو یہ سوچنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ فلسطینی عوام کے لیے کیا بہترین حل ہے۔ وٹ کوف نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر کیا وہ وہاں کسی گھر میں رہنا چاہتے ہیں یا کیا وہ بہتر جگہ پر جانے کا موقع حاصل کرنا پسند کریں گے تاکہ نوکریاں، کاروبار کے مواقع اور بہتر مالی امکانات حاصل کرنے کیے جا سکیں۔


صغیرہ فاﺅنڈیشن کے تحت ضرورت مندوں میں راشن کی تقسیم

 








ہر سال کی طرح امسال بھی صغیرہ فاﺅنڈیشن گونڈوی ممبئی کے تحت 250 غریب محتاج و نادار افراد کے درمیان راشن کی تقسیم بروز منگل 18 فروری سنہ 2025 بمقام سیووڈ سمن ہائیٹس سیکٹر ای ۔۵۰ نیو ممبئی عمل میں آئی۔ راشن میں چاول پانچ کلو، آٹا پانچکلو، مسور دال دو کلو شکر ایک کلو ،نمک ایک کلو، آلو تین کلو، پیاز 2 کلوتیل ایک لیٹر چنا دوکلو، بیسن ایک کلو، کھجور ایک کلو، لچھا ایک کلو شامل کئے گئے ،تقسیم کا سلسلہ تلاوت کلام پاک و دعاو¿ں کے بعد شروع ہوا۔ سمن با ئیٹس کے قرب وجوار یہاں تک کے گونڈوی، مانخورد کے غریب محتاج افراد بھی بڑی تعداد میں وہاں آئے ہوئے تھے ضرورت مند افراد میں ہر مذاہب ہر طبقہ کے نادار افراد موجود تھے۔ صغیرہ فاﺅنڈیشن کے تمام عہدیداران د ممبران راشن کی بخوبی تقسیم کی ترتیب میں شروع سے لیکر آخیر تک مصروف رہے۔ راشن کٹس دینے سے پہلے ہر فرد کے کے آدھار کارڈ کو دیکھا گیا، نام کے ساتھ نمبر نوٹ کئے گئے اور اس بات کا تیقین کیا گیا کہ ضرورت مند افراد راشن کے مستحق ہیں اور حقیقی ہیں۔ صغیرہ فاونڈیشن کے بانی جناب شہنواز احمد شیخ ، صدر جناب قمر الضحی عرف بچو بھائی، نائب صدر جناب فیروز احمد شیخ ،محمد علی شیخ ،جنرل سیکریٹری جناب ابرار احمد شیخ صلاح الدین خان صاحب ،شبیر صاحب، نظام الدین شیخ ،مطیع الرحمن، عتیق الرحمان ، آفتاب صاحب ، زبیر ملتانی، سمی انصاری صاحب کے ہاتھوں غریبوں میں راشن کٹس کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ فاﺅنڈیشن کے بانی جناب شہنو از احمد شیخ اور ان کے برادر بزرگ جناب قمر الضحی صاحبان نے یہ طے کیا ہے کہ رمضان سے پہلے ممبئی اور مضافات میں اور جگہوں پر بھی راشن کے کٹس تقسیم کئے جائنگیں۔ رات کے دس بجے تک راشن کٹس کی تقسیم کا سلسلہ جاری رہا، اس بات کا خیال رکھا گیا کہ کسی ضرورت مند محتاج کی دل آزاری نہ ہو اور ہر کسی نادار کو راشن کا بستہ دیدیا جائے۔ راشن کی تقسیم کے بعد جناب شہنوا از احمد شیخ نے صغیرہ کے وسیع دفتر اور ایک فعال آفس سکریٹری کے تقر کی تجویز پیش کی جنہیں ممبران نے پسند کیا اور جلد ہی اسے عملی شکل دینے کی تجویز پاس ہوئی۔ فاﺅنڈیشن کے بانی شہنو از احمد شیخ نے بے گناہ قیدیوں کی قانونی مدد اور انکی رہائی کے تعلق سے جلد سے جلد وکلاء کی ایک میٹنگ کی تجویز رکھی جسے تمام ممبران نے پسند کیا اور حامی بھی بھری۔ بعد عشائیہ دعا کا اہتمام کیا گیا اور اس طرح یہ تقریب اختتام کو پہنچی۔

ابرار احمد شیخ جزل سیکریٹری صغیرہ فاﺅنڈ یشن گونڈی



عبیدالرحمن صاحب کو جن سوراج پارٹی اوورسیز کا کوآرڈینیٹر نامزد ہونے پر دلی مبارکباد :ایڈووکیٹ شاہد اطہر

 





 دربھنگہ:- عبید الرحمن صاحب کو جن سوراج پارٹی اوورسیز کے کوآرڈینیٹر کے طور پر نامزد کرکے ڈائریکٹر پرشانت کشور سر اور ریاستی صدر منوج بھارتی جی نے ریاست ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک میں رہنے والے ہندوستانیوں کو یہ پیغام دینے کا کام کیا ہے کہ اگر آپ تعلیم کے لیے جدوجہد کرتے رہیں تو سماج سے اندھیرے کو ہٹا کر روشنی پھیلا سکتے ہیں۔ 


 عبید الرحمن جس طرح سپر 30 کے سروے سروا آنند کمار کے ساتھ مل کر رحمان 30 کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں، یہ کام بہار کی پسماندہ ریاست کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جہاں عبید الرحمان بہار میں تعلیم کے لیے جانے جاتے ہیں، وہیں وہ بہار فاو¿نڈیشن ریاض چیپٹر (سعودی عرب) میں بیرون ملک بھی کافی مقبول ہیں۔ اسی لیے ان سے متاثر ہو کر انہیں جن سوراج پارٹی اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بنایا گیا ہے۔ میں انہیں نامزد کرنے پر پرشانت سر اور منوج سر کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور عبید الرحمن صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں اور ان سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ پارٹی کو وسعت دینے اور تنظیم کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ وہ بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی ضروریات اور مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی کام کریں گے۔ ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ عبیدالرحمن صاحب کا نام بہار اور ہندوستان کے تعلیمی میدان میں ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ انہوں نے معاشرے کے معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقات کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دینے کے لیے بہت سے نمایاں کام کیے ہیں۔ ان کا مقصد پسماندہ بچوں کو ممتاز ( آئی آئی ٹی) اداروں اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لیے تربیت دینا ہے۔


 پرشانت کشور نے بہار کو بہتر سمت اور قیادت دینے کے مقصد سے جن سوراج پارٹی کی بنیاد رکھی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 32 سالوں میں بہار کی ترقی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ آج بھی تعلیم، صحت، روزگار جیسے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ریاستی مہم کمیٹی کے رکن شمشاد نور نے کہا کہ عبید الرحمن صاحب کو جن سوراج اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بنانے سے پارٹی کو ایک نئی توانائی اور سمت ملے گی۔ بیرون ملک میں ان کا 20 سال کا تجربہ اور وہاں بہار فاو¿نڈیشن کے چیئرمین کے طور پر ان کی ساکھ پارٹی کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہوگی۔ ریاستی ورکنگ کمیٹی کے رکن شمشاد ناجمی عرف شمسی نے کہا کہ ان کے تجربے سے جن سوراج پارٹی کے مشن کو تقویت ملے گی اور عالمی سطح پر پارٹی کی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ عبیدالرحمن صاحب نہ صرف ایک بااثر سماجی کارکن ہیں بلکہ ایک ترقی پسند مفکر بھی ہیں۔ اس کا مقصد معاشرے میں تعلیم کے بارے میں بیداری پھیلا کر مثبت تبدیلی لانا ہے۔ 


 عبید صاحب کو مبارکباد دیتے ہوئے خاتون رہنما آمنہ شفیع نے کہا کہ بہار کے عوام ایک طویل عرصے سے ایک نئی قیادت اور نئی سمت کی تلاش میں تھے۔ پرشانت کشور کی قیادت میں پارٹی مضبوط ہوئی اور عبیدالرحمن صاحب، شکیل اشرفی صاحب، ڈاکٹر نیلوفر میڈم اور دیگر شخصیات کی شمولیت سے لوگوں میں نئی امیدیں جگائی ہیں- عبیدالرحمن صاحب کو جن سوراج اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بننے پر ان کے حامیوں اور پارٹی کارکنوں نے تہہ دل سے مبارکباد پیش کی۔ آمنہ شفیع نے کہی کے امید ہے کہ ان کا تجربہ اور قیادت بہار کی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگی۔ عبیدالرحمن صاحب کو مبارکباد دینے والوں میں عامر حیدر، بلٹو ساہنی، شعیب خان، عاقب نذر، ڈاکٹر اقبال حسن ریشو، نرمل مشرا، ارونیش چندر، شوکت علی، علی اکبر، ذاکر علی، پرتیبھا جھا، سریندر سنگھ، فیض احمد ، کریم خان کے علاوہ بڑی تعداد میں جن سوراج پارٹی سے تعلق رکھنے والے سماج کے تمام طبقوں سے شامل ہیں۔



Thursday, 20 February 2025

مصر کے صدر السیسی سعودی عرب کے دورے پر روانہ،غزہ سے متعلق پیش رفت پر بات کریں گے

 









مصر کے سرکاری ٹی وی نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی سعودی عرب روانہ ہو رہے ہیں اور توقع ہے کہ وہ وہاں غزہ سے متعلق پیش رفت پر بات کریں گے۔


عرب ریاستیں جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے پر تبادلہ ¿ خیال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جو ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے زیرِ قبضہ پٹی کی تعمیرِ نو کی تجویز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے۔



سعودی عرب:ولی عہد کی طرف سےخلیجی سربراہان،شاہ عبداللہ دوم اورصدرالسیسی کوریاض آنے کی دعوت

 





خلیجی ملکوں کے سربراہان کے ساتھ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم جمعہ کے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ریاض پہنچیں گے۔ یہ خبر سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ' ایس پی اے ' نے جمعرات کو رپورٹ کی ہے۔


خبر رساں ادارے کے مطابق عرب ممالک کے یہ یہ رہنما خطے کی موجودہ صورت حال کے اس اہم موقع پر باہمی مشاورت کا اہتمام کریں گے۔ اس سے قبل عرب وزرائے خارجہ کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس اسی ماہ کے دوران مصر میں ہو چکا ہے جو غزہ سے فلسطینیوں کو مصر اور اردن منتقل کرنے کے امریکی منصوبے کے پس منظر میں منعقد کیا گیا تھا۔جس کے بعد مصری وزیر خارجہ اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم الگ الگ امریکہ کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔


لیکن خبر رساں ادارے ' ایس پی اے ' کے مطابق ولی عہد کی دعوت پر ان رہنماو¿ں کا مشترکہ مگر غیر رسمی نوعیت کا اجلاس ہو گا۔ یہ ان رہنماو¿ں کی معمول کی نجی دوستانہ طرز کی ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات ہوگی۔ اس غیر رسمی اور دوستانہ ملاقاتوں کا اہتمام کئی برسوں سے کیا جا رہا ہے۔ جو مضبوط برادرانہ تعلقات کا مظہر ہوتی ہیں۔


ان دوستانہ ملاقاتوں میں باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے امکانات کو آگے بڑھانے کے امور پر غور کیا جاتا ہے اور باہمی دلچسپی کے امور کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔


' ایس پی اے ' کے مطابق خلیجی ملکوں اور مصر و اردن کے درمیان تعاون کے علاوہ اگلی غیر معمولی عرب سربراہ کانفرنس جو 4 مارچ کو غزہ کے سلسلے میں مصر کی طرف سے بلائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں جمعہ کے روز کی غیر رسمی ملاقات کے دوران دیگر کئی امور پر بھی عرب سربراہان کے درمیان تبادلہ خیال ہوگا۔



اسمبلی انتخابات میں نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دیے جائیں گے : ڈاکٹر اکھیلیش

 



پٹنہ، 20 فروری :بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نوجوان کارکنوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دے کر ان کا حق دلائے گی۔ بہار کی سیاست میں نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہمیشہ میرا مقصد رہا ہے تاکہ بہار میں متحرک قیادت کی کمی محسوس نہ ہو۔ یہ باتیں بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھیلیش پرساد سنگھ نے کہی۔ وہ بہار پردیش یوتھ کانگریس کی جانب سے منعقدہ 'شنکھناد پردیش ایگزیکٹو میٹنگ' میں خطاب کر رہے تھے۔ اس پروگرام کا انعقاد بنیادی طور پر بہار کے نومنتخب انچارج کرشنا اللہ وار±و کے استقبال کے لیے کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کرشناالاروفی الحال یوتھ کانگریس کے قومی انچارج بھی ہیں۔

بہار کانگریس کے انچارج الا رونے مختلف اضلاع سے آئے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاگٹھ بندھن میں ملنے والی سیٹوں کی فکر کیے بغیر، یوتھ کانگریس کے کارکنان 'چلو پنچایت، چلو گاو¿ں' پروگرام کو تیز کریں، کیونکہ سیاست میں زمین یہی سے تیار ہوتی ہے اور آپ کا مستقبل بھی اسی سے طے ہوتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نکارہ کارکنوں کو پانچ دن کے اندر تنظیم سے نکال دیا جائے گا۔

یوتھ کانگریس کے محمد شہید نے کہا کہ بہار پردیش یوتھ کانگریس کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔جبکہ ریاستی یوتھ کانگریس کے صدر شیور پرکاش غریب داس نے کرشنا الار±و کے پہلی بار پٹنہ آمد پر ان کا استقبال کیا اور یوتھ کانگریس کی تنظیم میں مضبوط شمولیت اور انتخابات میں مناسب ٹکٹ تقسیم کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر محمد شہید، سمرات کیشری جینا، روشنی کوشل جیسوال موجود رہے۔پروگرام کی صدارت بہار پردیش یوتھ کانگریس کے صدر شیور پرکاش غریب داس نے کی۔مزید منو جین، سابق ایم ایل اے امیت کمار ٹنا، سابق یوتھ کانگریس صدر گنجن پٹیل، ابھیشیک رنجن، ابو تنویر، وکاس جھا، بٹو یادو، مکل یادو، وویک چوبے، صدام عارف نواز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 


اسمارٹ رائیڈنگ کے تجربے میں انقلابی تبدیلی لانے کے لیے پیور ای وی اور جیو تھنگز کے درمیان شراکت

 



رائے پور، فروری : بھارت کے معروف ٹو وہیلر مینوفیکچررز میں سے ایک، پیور ای وی نے اپنے الیکٹرک وہیکلز میں سمارٹ ڈیجیٹل کلسٹر اور ٹیلی میٹکس کو شامل کرنے کے لیے جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی جیو تھنگز لمیٹڈ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد جدید آئی او ٹی سلوشنز، مستحکم کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل انٹیگریشن کے ذریعے صارف کے تجربے کو نئی جہت دینا ہے۔

پیور ای وی اپنے الیکٹرک وہیکلز میں جیو تھنگز اسمارٹ ڈیجیٹل کلسٹرز کا استعمال کرے گا، جن میں اینڈ ٹو اینڈ آئی او ٹی سلوشنز شامل ہوں گے تاکہ ان کی کارکردگی اور انٹرایکٹوٹی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ 4G کنیکٹیویٹی سے لیس ٹیلی میٹکس کے اضافے کی بدولت صارفین کو حقیقی وقت میں اپنے وہیکل کی کارکردگی کی نگرانی کرنے اور مزید مو¿ثر آپریشن کے لیے مفید ڈیٹا حاصل کرنے کی سہولت ملے گی۔

جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال

جیو تھنگز 4G اسمارٹ ڈیجیٹل کلسٹر اینڈرائیڈ اوپن سورس پروجیکٹ (AOSP) پر مبنی AvnionOS کا استعمال کرتا ہے۔ یہ ریئل ٹائم ڈیٹا اینالیٹکس، ٹو وہیلر انٹرفیس کسٹمائزیشن اور فل ایچ ڈی+ ٹچ اسکرین ڈسپلے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ انقلابی ڈیجیٹل کلسٹر OEMs (اورجینل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز) کو اپنے پروڈکٹس میں جدید آئی او ٹی سلوشنز کو تیزی سے شامل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

جیو آٹوموٹیو ایپ سوئٹ (JAAS) ایک اور جدید انٹیگریٹڈ سلوشن ہے، جو ٹو وہیلر صارفین کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ پروڈکٹس اور سروسز کی ایک رینج پیش کرتا ہے۔ اس میں جیو اسٹور، میوزک اسٹریمنگ، ویب براو¿زنگ، ہینڈز فری وائس اسسٹنٹ، نیویگیشن اور گیمنگ جیسی سہولتیں شامل ہیں۔

پیور ای وی کے بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نشانت ڈونگری نے کہا:"ہمارے وہیکلز میں ‘Exploring JioThings’ کی جدید آئی او ٹی صلاحیتوں کا اضافہ، پیور ای وی کی پروڈکٹس کو اعلیٰ انڈسٹری معیارات تک پہنچانے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمارا ہدف اپنے وہیکلز کی کارکردگی اور انٹرایکٹوٹی کو بڑھا کر الیکٹرک موبیلٹی کے تصور کو نئے سرے سے متعارف کرانا ہے۔ یہ اقدام EV ایکو سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور صارفین کو بہترین کنیکٹیویٹی، فنکشنلٹی اور سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔”

جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کے صدر آشیش لوڈھا نے کہا:"ہمیں پیور ای وی کے ساتھ شراکت داری کر کے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ کمپنی الیکٹرک موبیلٹی اسپیس میں جدت اور معیار کی ہماری سوچ سے ہم آہنگ ہے۔ ہمارے جدید آئی او ٹی سلوشنز کے ذریعے، ہم پیور ای وی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ صارفین کو بہترین الیکٹرک ٹو وہیلر تجربہ فراہم کیا جا سکے، جو نئی کنیکٹیویٹی اور کارکردگی کے معیار طے کرے گا۔ یہ شراکت داری الیکٹرک ٹو وہیلر انڈسٹری کے مستقبل کی تشکیل اور پائیدار ٹرانسپورٹ سلوشنز کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی۔”


اڈانی-اسکون مہاپرساد: دنیا کا سب سے درست فوڈ ڈسٹریبیوشن سسٹم، کھانے کا ضیاع نہ ہونے کے برابر

 





اڈانی اور اسکون نے کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے مضبوط نظام بنایا

اڈانی گروپ اور اسکون مل کر پریاگ راج کمبھ میلہ کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں مہاپرساد کی تقسیم کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اڈانی گروپ نے روزانہ 1 لاکھ عقیدت مندوں کو کھانا فراہم کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکون کے باورچی خانے میں سارا دن سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ لاکھوں افراد تک پہنچنے والے اس پرساد کی سب سے نمایاں خصوصیت کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے کی جانے والی منصوبہ بندی اور کاوشیں ہیں۔ اسکون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی بھی حالت میں کھانے کا ضیاع 2 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے دیا جاتا۔

اسکون کے باورچی خانے میں مہاپرساد کی تیاری کا عمل رات 2 بجے کے قریب شروع ہو جاتا ہے۔ اسکون کے سیوک (رضاکار) نکھل بتاتے ہیں کہ ہم روز صبح اس کام کے لیے نکلتے ہیں اور تقریباً 500 کوئنٹل سبزیاں خریدی جاتی ہیں۔ یہ خریداری اچانک نہیں ہوتی بلکہ ایک دن پہلے سے منصوبہ بندی کر لی جاتی ہے کہ پرساد میں کیا پیش کیا جائے گا۔ آنے والے دن کی منصوبہ بندی بھی مکمل طور پر تیار رکھی جاتی ہے۔

پرساد کی تیاری کے ساتھ ہی کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے بھی ایک خاص حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔ اس کے لیے 4 افراد کی ایک خصوصی ٹیم ہے جو مسلسل کھانے کی کھپت کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ یہ ٹیم ہر گھنٹے میں کھانے کی کھپت کا جائزہ لیتی ہے۔ اندازے کے مطابق کمبھ میلے میں ایک مقام پر ایک گھنٹے میں تقریباً 800 سے 1000 افراد مہاپرساد کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی جانچا جاتا ہے کہ لوگ کتنی مقدار میں کھا رہے ہیں۔ پرساد تقسیم کرنے والی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق، عام طور پر جب لوگ بیٹھ کر کھاتے ہیں تو فی کس مقدار تقریباً 750 گرام ہوتی ہے، جبکہ کھڑے ہو کر یا چلتے پھرتے کھانے کی صورت میں یہ مقدار 350-400 گرام تک کم ہو جاتی ہے۔

اڈانی-اسکون کی مہاپرساد تقسیم کرنے والی ٹیم کے پاس زوماٹو اور سوئیگی جیسے فوڈ ایپس کے ٹریکنگ سسٹم نہیں ہیں، لیکن پھر بھی تقسیم کا عمل مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے 4-5 افراد پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو باورچی خانے سے باہر جانے والے کھانے کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔ جہاں جہاں مہاپرساد تقسیم کیا جا رہا ہے، وہاں موجود ٹیم کے ارکان وقتاً فوقتاً کھانے کی دستیابی اور کھپت کی اطلاع دیتے رہتے ہیں۔

شام ہوتے ہی تمام تقسیم مراکز سے بچا ہوا کھانا اکٹھا کر کے دوبارہ 6 سے 7 بجے تک بانٹ دیا جاتا ہے۔ ایک ٹیم یہ بھی چیک کرتی ہے کہ کھانے کی کوالٹی برقرار ہے یا نہیں۔ اگر کسی وجہ سے کھانے کو واپس لانا ممکن نہ ہو تو اڈانی اور اسکون کے رضاکار ٹریفک جام میں پھنسے یا پیدل چلنے والے افراد میں اسے تقسیم کر دیتے ہیں۔

یہ تمام اقدامات اس مقصد کے تحت کیے جا رہے ہیں کہ کھانے کا ایک دانہ بھی ضائع نہ ہو۔ اڈانی گروپ نے اسکون کے ساتھ مل کر روزانہ 1 لاکھ افراد میں مہاپرساد تقسیم کرنے کا ہدف رکھا ہے، جو کمبھ میلے کے اختتام تک جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ، اڈانی گروپ گیتا پریس کے ساتھ مل کر 1 کروڑ آرتی سنگرہ بھی تقسیم کر رہا ہے۔


خواتین کو بااختیار بنانے کے معاملے میں بہار ایک سرکردہ ریاست: شیلا منڈل

 




پٹنہ، 20 فروری :جمعرات کو جنتا دل (یونائیٹڈ) کے ریاستی دفتر، پٹنہ میں منعقدہ عوامی سماعت پروگرام میں بہار حکومت کی معزز وزیر برائے ٹرانسپورٹ، محترمہ شیلا منڈل نے ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے لوگوں کے مسائل کو سنا اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات دیں۔

اس موقع پر معزز ایم ایل سی سنجے کمار سنگھ عرف گاندھی جی اور پارٹی کے ریاستی جنرل سیکریٹری ارون کمار سنگھ بھی موجود تھے۔

اس دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معزز وزیر محترمہ شیلا منڈل نے کہا کہ معزز وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے خواتین کے بااختیار بنانے کے میدان میں جو تاریخی اقدامات کیے ہیں، ان کی پذیرائی نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے ہمارا بہار آج ایک سرکردہ ریاست ہے۔