Thursday, 30 January 2025

احمد الشرع کو شام میں عبوری صدر تعینات کردیا گیا: ذرائع

 




اقتدار کے خلا کو پر کرنا، امن برقرار رکھنا اور ریاستی اداروں کی تعمیر آج شام کی ترجیحات ہیں: احمد الشرع


احمد الشرع کو شام میں عبوری دور کے صدر کے طور پر تعینات کردیا گیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شام میں قومی مذاکراتی کانفرنس شرائط کی کمی کی وجہ سے اگلے نوٹس تک ملتوی کر دی گئی ہے۔


شام میں نئی انتظامیہ کے کمانڈر انچیف احمد الشرع نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ شام کی آج کی ترجیحات میں اقتدار کے خلا کو پر کرنا، شہری امن کا تحفظ، ریاستی اداروں کی تعمیر، ترقیاتی اقتصادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے کام کرنا اور شام کی علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت کی بحالی ہے۔


احمد الشرع نے ” شامی فتح کا اعلان“ کے نام سے کانفرنس کی سرگرمیوں کے دوران ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ اور شامی انقلابی فورسز کے گروپوں کی موجودگی میں کہا کہ کچھ ماہ قبل دمشق نے میرے لیے اس طرح کی تیاری کی تھی جیسے ایک سرشار ماں اپنے بچوں کو مدد کی متلاشی نظروں سے دیکھتی ہے، زخموں، ذلتوں اور رسوائی کی شکایت کرتی ہے، خون بہتے ہوئے درد پر فخر کرتی ہے، یہ کہتے ہوئے گرپڑتی ہے کہ اپنے قوم کو قبول کرلو، انہوں نے مزید کہا کہ جس چیز کی آج شام کو ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ماضی میں جس طرح ہم نے اسے آزاد کرنے کا عزم کیا تھا اسی طرح ہم اس کی تعمیر و ترقی کا بھی عزم کریں۔


سرکاری خبر ایجنسی نے کہا ” شامی انقلاب کی فتح کا اعلان" کے عنوان سے کانفرنس کی سرگرمیاں دمشق میں ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ اور شامی انقلابی فورسز کے دھڑوں کی موجودگی میں شروع کی گئیں۔ احمد الشرع نے مزید کہا کہ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اذیت دینے والوں کو آزاد کر دیا۔ یہ ایک عظیم فتح تھی جو بڑی تباہی اور خونریزی کے بعد حاصل ہوئی لیکن شام کی فتح حاصل ہوئی اور وہ رحمت اور عدل سے بھر گیا۔


انہوں نے مزید کہا کہ فتح اپنے آپ میں ایک کام ہے۔ فتح کرنے والوں کا کام بھاری ہے اور ان کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ شام کو آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ ماضی سے زیادہ ہے۔ جس طرح ہم ماضی میں اس کی آزادی کے لیے پرعزم تھے، اسی طرح ہمارا فرض ہے کہہم اس کی تعمیر اور ترقی کا عزم کریں






احمد الشرع کو شام کا عبوری صدر بننے پر سعودی عرب کی مبارکباد

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شام کے عبوری صدر احمد الشرع کو عبوری صدر بننے پر مبارکباد دی ہے۔ اس امر کا اعلان سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' نے جمعرات کے روز کیا ہے۔


خیال رہے شام کے حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ بشار الاسد رجیم کے اقتدار کے خاتمے کے بعد احمد الشرع شام کے عبوری صدر ہوں گے۔ بطور عبوری صدر احمد الشرع عبوری مقننہ تشکیل دیں گے۔

یاد رہے گزشتہ ہفتے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دمشق کا دورہ کیا تھا۔ ان کے اس دورے کے دوران ان کی احمد الشرع سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔

اس موقع پر شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا 'ریاض شام کے نئے حکام کو بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے میں مدد فراہم کرنا چاہتا ہے۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب شام کے ساتھ کھڑا ہے۔

خیال رہے شام کی نئی رجیم نے پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب کا کیا ہے۔

گزشتہ ماہ 'العربیہ' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں احمد الشرع نے کہا تھا کہ ' مملکت شام کے مستقبل کے حوالے سے اہم کردار ادا کرے گی۔'


قرآن پاک نذرِ آتش کرنے والے سلوان مومیکا کا سویڈن میں گولی مار کر قتل

 






قرآن پاک نذرِ آتش کرنے والے بدنام زمانہ عراقی شخص سلوان مومیکا کا آج گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق سلوان مومیکا کو سوڈرٹالجے واقع ہووسجو میں گولی ماری گئی۔ اس کی خبر ملتے ہی سویڈش افسران جائے حادثہ پر پہنچے اور لاش کو قبضے میں لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر سلوان کے قتل کی ویڈیو سی سی ٹی وی میں قید ہو گئی ہے۔ یہ بھی جانکاری سامنے آئی ہے کہ گولی باری سے کچھ دیر قبل ہی سلوان لائیو اسٹریم پر آیا تھا۔

مقامی پولیس نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ گولی باری میں ہلاک ہونے والا شخص 38 سالہ سلوان مومیکا ہی ہے۔ سلوان پر کئی مرتبہ قرآن پاک کو نذرِ آتش کرنے کا الزام ہے۔ 2023 میں عیدالاضحیٰ سے عین قبل اس نے سویڈن میں عراقی قرآن کو بھی نذر آتش کیا تھا۔ اس کے لیے سلوان نے باضابطہ انتظامیہ سے اجازت مانگی تھی اور پولیس نے اجازت دے بھی دی تھی۔ اس کے بعد اس نے قرآن پاک کو نذرِ آتش کرتے ہوئے اسلام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔


عراقی باشندہ سلوان مومیکا اسلامی نظریات اور عقیدے کا سخت ناقد تھا۔ سلوان کا کہنا تھا کہ وہ سویڈن کے ناٹو میں شامل ہونے کا مخالف نہیں ہے، بلکہ اسلام کی مخالفت میں قرآن جلانا چاہتے تھے۔ قرآن پاک نذر آتش کرنے سے پہلے اس نے کہا تھا ’سویڈن جاگو۔ یہ جمہوریت ہے۔‘ سلوان کے قرآن جلانے کے بعد کئی مسلم ممالک نے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔ اس مخالفت کے بعد اس نے سویڈن چھوڑ کر ناروے میں پناہ لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ سویڈین کی حکومت نے اس کی ریسیڈنسی پرمٹ (رہنے کی اجازت) کو رد کر دیا تھا۔ سویڈن میں وہ ایک عراقی پناہ گزیں کے طور پر مقیم تھا۔ سویڈن چھوڑنے کی بات پر مومیکا نے کہا تھا کہ سویڈن میں اظہارِ رائے کی آزادی اور حقوق انسانی کا تحفظ ایک بڑا جھوٹ ہے۔



یکساں سول کوڈ معاملے پر اب بہار میں سیاست شروع، بی جے پی نے جلد نافذ کرنے کا کیا مطالبہ، جنتا دل یو کی مخالفت!

 




جے ڈی یو ایم ایل سی خالد انور نے کہا کہ ”اتراکھنڈ میں جو یو سی سی نافذ کیا گیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ اتراکھنڈ میں جبراً مسلمانوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ آئین یو سی سی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔“


بی جے پی اتراکھنڈ کی طرح بہار میں بھی یکساں سِول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ حالانکہ جے ڈی یو نے بی جے پی کے اس مطالبہ کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ بہار میں یو سی سی نافذ نہیں کیا جائے گا۔ جنتا دل یو کے ایک لیڈر کا یہاں تک کہنا ہے کہ ”یو سی سی اتراکھنڈ میں مسلمانوں پر جبراً مسلط کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے سامنے ہم نے اپنا نظریہ گِروی نہیں رکھا ہے۔ مسلمانوں کو بی جے پی خوفزدہ کر رہی ہے۔“ دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال بہار میں اسمبلی انتخاب ہونے والا ہے، ایسے میں یو سی سی ایک بڑا سیاسی ایشو بن سکتا ہے۔



بی جے پی لیڈر اور سینئر ترجمان رنجن پٹیل نے بہار میں یو سی سی نافذ کرنے کا مطالبہ سامنے رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”اتراکھنڈ کی طرح بہار میں بھی یونیفارم سِول کوڈ نافذ کیا جائے۔ پشکر دھامی قابل مبارکباد ہیں۔ اتراکھنڈ یو سی سی نافذ کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ اب پورے ملک میں یو سی سی کا نفاذ ہو۔ تمام مذاہب کے لیے یکساں قوانین ہونے چاہئیں۔ کسی مذہب یا خاص برادری کے لیے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”یو سی سی ایسا قانون ہے جس کا مقصد مذہب، ذات، جنس یا برادی کی بنیاد پر کسی بھی طرح کے امتیاز کو ختم کرنا ہے۔ اس کے نفاذ سے شادی، طلاق، وراثت اور جائیداد کے حقوق جیسے معاملات میں سب کے لیے ایک ہی قانون ہوگا۔ اس کو نافذ کر کے اتراکھنڈ نے تمام ریاستوں کے لیے ایک نظیر پیش کی ہے۔ مسلم طبقہ کو یو سی سی سے کوئی گھبراہٹ نہیں ہے۔ جب سب کے لیے ایک طرح کا قانون ہوگا تو گھبراہٹ کیوں رہے گی۔“



اس معاملے میں جنتا دل یو کے ایم ایل سی خالد انور نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”اتراکھنڈ میں جو یو سی سی نافذ کیا گیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ قانون اتراکھنڈ میں جبراً مسلمانوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ آئین یو سی سی کی اجازت نہیں دیتا۔ اتراکھنڈ حکومت مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے یہ قانون لائی ہے۔“ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ”بہار میں یہ کبھی نافذ نہیں ہوگا۔ بی جے پی کے سامنے ہم لوگوں نے اپنا نظریہ گروی نہیں رکھا ہے۔ یو سی سی پر کبھی بھی مرکزی حکومت کی حمایت نہیں کریں گے۔ بی جے پی لیڈران سوچ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو ڈرا کر اقتدار حاصل کر لیں گے۔“



’ہم جان دے سکتے ہیں لیکن بی جے پی-آر ایس ایس سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے‘:راہل گاندھی

 



راہل گاندھی نے کہا کہ مودی جی نفرت پھیلاتے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کی عوام تقسیم ہو جائے اور پھر آپ کی دولت اڈانی و امبانی جیسے لوگوں کو دی جا سکے۔


کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے جمعرات کو بادلی میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کیا۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی اور کیجریوال میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں ریزرویشن اور دلت مخالف ہیں، دونوں ہی اقتدار کی طاقت صرف اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ”میں اپنی جان دے سکتا ہوں، لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس سے کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔“

بادلی اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار اور دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو کے لیے انتخابی تشہیر کرنے بادلی پہنچے راہل گاندھی نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر ملک میں نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے دعویٰ کیا کہ جن لوگوں نے مہاتما گاندھی کو گولی ماری تھی ان کے نظریات آج ہندوستان کو چلا رہے ہیں۔ عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ”آپ کبھی مت بھولیے گا کہ آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوتا ہے، آئین کو کون بچاتا ہے اور آپ سے سچ کون بولتا ہے۔ کانگریس پارٹی نے آپ سے وعدہ کیا تھا منریگا دیں گے، کھانے کا حق دیں گے، قرض معاف کریں گے، کرناٹک کی خواتین کے لیے مفت بس سروس دیں گے، کرناٹک و تلنگانہ میں خواتین کے اکاو¿نٹس میں براہ راست پیسہ دیں گے، چھتیس گڑھ میں کسانوں کو دھان کی صحیح قیمت دیں گے... کانگریس پارٹی نے ان سبھی وعدوں کو پورا کیا۔ کانگریس پارٹی کبھی جھوٹے وعدے نہیں کرتی۔ یہ اس لیے کیونکہ کانگریس پارٹی اور عوام کا رشتہ محبت و بھائی چارے کا رشتہ ہے۔“

راہل گاندھی نے عآپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف ستھری سیاست کی بات کرنے والے سابق وزیر اعلیٰ نے سب سے بڑا آبکاری گھوٹالہ کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ”کیجریوال جی کچھ سال قبل سیاست میں آئے تھے۔ بجلی کے کھمبے پر چڑھ گئے تھے، چھوٹی گاڑی میں گھومتے تھے۔ آج کل وہی کیجریوال جی شیش محل میں رہتے ہیں۔“

جمنا میں گندے پانی کا تذکرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کیجریوال نے 5 سال پہلے جمنا کو صاف کرنے کا وعدہ کیا تھا جو اب تک وفا نہیں ہو سکا۔ وہ کہتے ہیں کہ ”کیجریوال جی جمنا کا پانی چھوڑو، لوگوں کے گھروں میں جو پانی آ رہا ہے وہی پانی پی کر دکھا دو۔“ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ کیجریوال دراصل مودی جی کے ہی نئے ورڑن ہیں۔ دونوں کھوکھلی باتیں کرتے ہیں، دونوں ایک پر ایک جھوٹ بولتے ہیں، دونوں ریزرویشن اور دلت مخالف ہیں، دونوں بہوجنوں کی شراکت داری نہیں چاہتے، دونوں اقتدار کی طاقت بس اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔



بہار میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر تبادلہ خیال

 




 پٹنہ(پریس ریلیز) شکتی انفوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ، واحد 5 اسٹار ٹیلی سافٹ ویئر، جو گزشتہ 25 سالوں سے ٹیلی کے ساتھ سرکاری اور بڑے اکاو¿نٹس پارٹنر کے طور پر کام کر رہا ہے، نے پٹنہ میں ٹیلی سلوشنز کے ڈائریکٹر تیجس گوئنکا کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کا اہتمام کیا۔ یہ میٹنگ شکتی انفوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے دفتر، نمائش روڈ، پٹنہ میں ہوئی جہاں کمپنی کے ڈائریکٹر روشن ڈھنڈھاریا کے ساتھ بہار کے بازار کو سمجھنے کے لیے بات چیت کی گئی۔ اس کا مقصد سافٹ ویئر میں نئی خصوصیات لانے کے لیے درکار معلومات جمع کرنا اور بہار میں نئے روزگار فراہم کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنا تھا۔ اس موقع پر، ٹیلی 6.0 کا نیا ورڑن لانچ کیا گیا جس میں بینک سے متعلق خصوصیات شامل ہیں جو بینکنگ کے عمل کو مزید آسان بنائیں گی۔ نیز، GSTR 2A اور 2B کو ٹیلی ڈیٹا بیس کے ساتھ ملانے کی سہولت بھی شامل کی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں کمپنی کے نمائندے تبریز حیات، ندیم احمد، کمار مونو، ودیوت جیوتی چکرورتی، آشیش کمار سنگھ، ابھے کمار سنگھ، مکرند بھاسکر اور منیش موجود تھے۔ یہ ڈائیلاگ بہار کی کاروباری ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے جو مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سافٹ ویئر میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کو شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے روزگار پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔


بھاگلپور کے کھرمن چک میںں دی جاوید حبیب سیلون کا آغاز

 




 بھاگلپور (پریس ریلیز) بین الاقوامی شہرت یافتہ ہیئر اینڈ بیوٹی سیلون جاوید حبیب نے ایس ایس ٹاور، کھرمنچک، بھاگلپور میں اپنے پریمیم سیلون کا آغاز کیا۔ اس لگڑری سیلون میں صارفین کو بال، بیوٹی، میک اپ، ناخن وغیرہ تمام سہولیات میسر ہوں گی۔ سیلون کا افتتاح بھاگلپور کی میئر بسندھرا لال، بالوں کے عالمی ماہر جاوید حبیب، ماسٹر فرنچائزی بہار اروند کمار، فرنچائزی مالکان ابھے کمار گپتا اور راجکمار گپتا، وارڈ کونسلر اشونی جوشی مونٹی، بی جے پی ضلع صدر سنتوش ساہ، بی جے پی رکن چندن ٹھاکر نے مشترکہ طور پر کیا۔ یہ ربن کاٹ کر اور چراغ جلا کر کیا گیا تھا۔ اس موقع پر موجود بالوں کے ماہر جاوید حبیب نے کہا کہ سردیوں کا موسم چل رہا ہے اور ہم سب اپنے بالوں اور جلد کے حوالے سے پریشان ہیں۔ اس موسم میں اپنے بالوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ نم ہو جاتے ہیں۔ بالوں کو گرم پانی سے دھونا ایک عام غلطی ہے جو لوگ کرتے ہیں۔ گرم پانی آپ کی کھوپڑی کو خشک کر دیتا ہے، جس سے خارش اور خشکی ہوتی ہے۔ اپنے بالوں کو ٹھنڈے پانی سے دھونا آپ کے بالوں کو مزید نقصان سے بچاتا ہے۔ بہترین کنڈیشنر یہ ہے کہ اپنے بالوں کو دھونے سے صرف 10 منٹ پہلے تھوڑا سا تیل لگائیں ورنہ ہفتے میں ایک بار ہیئر سپا کے لیے جائیں۔ باقاعدگی سے فیشل مناسب غذائیت کے ساتھ آپ کے چہرے کو چمکدار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

 فرنچائز کے مالکان ابھے کمار گپتا اور راج کمار گپتا نے کہا کہ اس سیلون میں ہمارے پاس صفائی، ڈی ٹی اے این اور ہربل فیشل سروس کی وسیع رینج موجود ہے۔ اس نئے سیلون میں آپ یہ تمام سہولیات بہترین حفظان صحت، اقدامات اور انتہائی حفاظت کی ضمانت کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تمام جاوید حبیب سیلونز میں ایک لگڑری فارمیٹ سیلون ہے جہاں آپ کو خوبصورتی کی تمام سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے قابل رسائی طریقے سے حاصل ہوں گی۔ ماسٹر فرنچائزی بہار اروند کمار نے کہا کہ جاوید حبیب ہندوستان میں فلاح و بہبود پھیلانے والے سرکردہ بالوں اور بیوٹی سیلونز میں سے ایک ہیں۔ کمپنی کے پورے ہندوستان میں تقریباً 1000+ سیلون ہیں۔ کمپنی بہار - جھارکھنڈ میں پرجوش شراکت داروں کو مدعو کر رہی ہے تاکہ وہ اس سیلون میں شامل ہو سکیں اور اس کے فوائد حاصل کر سکیں۔


الحراءپبلک اسکول شاہ گنج، پٹنہ میں کوئز کا انعقاد

 



مورخہ30جنوری: الحراءپبلک اسکول شاہ گنج کے پرنسپل سیدندیم احمدنے پریس اعلانیہ میں بتایا کہ اسکول انتظامیہ کی یہ کوشش رہی ہے کہ بچے ہر شعبہ میںاپنی مضبوط گرفت بنائے رکھیں۔ اس کے لئے اسکول میں مختلف سرگرمیاں مثلاً کراٹے، ثقافتی پروگرام، تحریر ی ،تقریری،بیت بازی، کرکٹ ، آرٹ اور پینٹنگ مقابلے مختلف مواقع سے ہوتے رہتے ہیںتاکہ بچوں کے اندر تعلیم کے ساتھ دیگر صلاحیتیں پیدا ہوںاور ان میں احساس کمتری پیدا نہ ہو۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کوئز کنٹیسٹ بھی ہے۔ اس مقابلے کی تیاری کرانے میںاساتذہ اور بچے بھی خوب دل جمعی کے ساتھ مصروف رہے۔کوئز کو دو segmentمیں تقسیم کیا گیا تھا پہلا سیگمنٹ طالبات اور دوسرا طلبا کے ما بین ہوا اور کامیاب طلبا و طالبات کو مہمانان خصوصی کے ہاتھوں سند، میڈل اورٹرافی سے نوازاگیا۔

ٹیولپ پلازہ ، شاہ گنج کے وسیع و عریض لان میںاسکول کے طلباء و طالبات کا شاندار کوئز کنٹسٹ ہوا۔جس میں مہمانان کی حیثیت سے انگریزی کے مشہور استاد ارشد نظامی اور روز نامہ تاثیر کے سب ایڈیٹر محمد مشتاق خان وغیرہ شریک ہوئے۔ اس موقع پرارشد نظامی صاحب نے اپنی مختصرگفتگو میں طلباء و طالبات کو مقابلہ میںاس کے ضابطہ کا پاس و لحاظ رکھنے،بچوں کی حاضر دماغی اور ان کے معلومات عامہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیںمبارک باد دی۔الحراء پبلک اسکول ، شاہ گنج کے ڈائرکٹرنذیر احمد نے اپنی گفتگو میںطلباو طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔پروگرام کے بہتر انعقاد پر منتظمین اور تمام اساتذہ¿ کرام کو مبارک باد دی اور کوئز مقابلہ میںکامیاب ہونے والے بچوں کو دعاﺅں سے نوازا اور آئے ہوئے تمام مہمانوں ، گارجین حضرات اور اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔

کوئیز انچارج حسن شاہد اور شاذیہ احمدنے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا ہے کہ درجہ ہفتم تا دہم کے درمیان کوئز مقابلہ احسن طریقے سے اختتام کو پہنچا۔ساتھ ہی تمام شرکائ کے ساتھ ساتھ منتظمین بالخصوص نظر الاسلام ندوی، اقبال احمد، ، محمد احتشام الدین ،محمد صابرحسین، عبد الرحمٰن، ابوالکلام، نورالزماں، عزیر احمد ، ریاض الماس،عتیق الرحمٰن، صوفیہ سلطانہ ، ہما فاطمہ، شائقہ نیازی، وغیرہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

کوئز مقابلہ میں شریک طلبہ و طالبات کے نام یہ ہیں: (علامہ اقبال ٹیم )محمد طفیل ریاض، محمد زید حق، ناظر امام ، عبدالحمید ، محمد دلشاد انصاری، (مولانا آزاد ٹیم)محمد رافع، زید اختر انصاری، محمد منتخب الحسن ، محمد توحید شمس ، شاکر امام، (سر سید احمد ٹیم) مائرہ جبیں، ناہدہ پروین، عبیرہ تحریم فاطمہ، عظمیٰ رحمٰن، وانیہ ظفر، (پنڈت جواہر لال نہرو ٹیم) صدف فاطمہ، ضحی ناز، سکینہ امتیاز، شاریہ سہیل ، ناصرین پروین۔ واضح رہے کہ ان چاروں ٹیموں کے درمیان کوئز کمپٹیشن ہوا۔ دو ٹیمیں فائنل میں پہنچی جس میں حکم صاحبان کے فیصلے کے مطا بق سر سید احمد ٹیم کو فاتح قرار دیا گیا۔


گورنمنٹ طبی کالج میں عالمی یوم جذام کے موقع پر بیداری پروگرام کا انعقاد

 



پٹنہ :30جنوری 2025 کو عالمی یوم جذام کے موقع پر شعبہ ماہیت الامراض ،گورنمنٹ طبی کالج واسپتال کی جانب سے بیداری پروگرام کا انعقادکیا گیا۔

پروگرام کی شروعات تلاوت قران پاک سے ہوئی، ڈاکٹر محمد نعمت اللہ نے تلاوت کی۔یہ پروگرام ڈاکٹرمحفوظ الرحمان پرنسپل گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ مہما ن خصوصی پروفیسر محفوظ الرحمان کا استقبال شعبہ کے سینئر استاذ پروفیسر توحید کبریا نے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ شعبہ علم الادویہ کے صدر، ڈاکٹر محمد انس نے پروگرام کے آرگنائزنگ چیئرمین ڈاکٹر محمد شمیم اختر ،صدر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج واسپتال کاپھولوں کا گلدستہ پیش کر کے استقبال کیا، پی جی اسکالر ڈاکٹر سعدیہ تبسم نے پی پی ٹی کے توسط سے جزام کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔جس میں اس نے اس مہلک مرض کی روک تھا م ،علاج اور عوامی شعور کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتا یا کہ جذام ایک دائمی اور متعدی بیماری ہے جو مائکوبیکٹریم لیپری نامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیماری جلد، اعصاب، آنکھوں اور سانس کی نالی کو متاثر کر تی ہے، جس کے نتیجے میں جلد پر دھبے اوراعصاب متاثر ہوتے ہیں۔بر وقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جسمانی معذوری پیدا ہو تی ہے۔ بر وقت تشخیص اور مکمل علاج سے اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اس کے پھیلاو¿ کو روکا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر محمد شمیم اختر نے اپنے خطاب میں یونانی طب کے تناظر میں جذام کی تشخیص، اس کے اسباب اور علاج پر تفصیل سے روشنی ڈالی، جس سے حاضرین کو اس مرض کے بارے میں ایک نئی بصیرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس امر کو بھی یقینی بنایا کہ پروگرام کے ذریعے جذام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور معاشرے میں اس حوالے سے بیداری پیدا کی جائے۔ ان کی انتھک محنت، تنظیمی صلاحیت اور علمی کاوشوں نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس پر وہ بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔



اس پروگرام کے سرپرست و مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد محفوظ الرحمان نے اس مرض کے سماجی اثرات اور مدر ٹریسا کی اس سلسلہ میں دی جانے والی خدمات کا خصوصی طور پر ذکر کیا نیز طب یونانی میں اس کے علاج و معالجہ پر موجود معلومات کا تذکرہ کیا۔ اسکے علاوہ سابق پرنسپل پروفیسر توحید کبریا نے بھی پروگرام کے شرکاءسے خطاب کیا ، شعبہ علم الادویہ کے صدر و ایسوسیٹ پروفیسر ڈاکٹر محمدانس نے اس مرض پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس مرض میں استعمال ہونے والی ادویہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کی بیداری کی اہمیت پر زور دیا۔ عالمی یوم جذام کے اس بیداری پروگرام میں ڈاکٹر سیلیش کمار پنکج بھی موجود تھے اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس مرض کی تشخیص و تفتیش پر جدید طبی معلومات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اس پروگرام کے کوآرڈینیٹرکے فرائض،پی جی اسکا لر ڈاکٹر تنویر نور، ڈاکٹرمحمد نعمت اللہ نے انجام دیا اور پی جی اسکالر ڈاکٹر ندیم اخترنے پروگرام کی نظامت کی۔اخیر میں اسسٹنٹ پروفیسر جناب ڈاکٹر ادیب احمد نے اس پروگرام کی کامیابی پر مہمانان خصوصی ،آرگنازنگ چیئرمین ،کوارڈینیٹر اور شرکاء کا شکریہ کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔

قومی اساتذ تنظیم مظفر پور کے ضلع سکریٹری آفتاب عالم نے ”تحفظ اردو زبان واب “کے سلسلے میں لوگوں سے ملاقات کی

 




میناپور (مظفرپور) :قومی اساتذہ تنظیم کے ضلع سکریٹری آفتاب عالم نے مجھولیا، میناپور کے جناب اشرف، جناب علاءالدین انصاری، جناب زین الدین، جناب عباس علی انصاری وغیرہ صاحبان سے تحریک "تحفظ اردو زبان و ادب" کے سلسلے میں ملاقات کی اور انہیں تحریک کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا نیز انکی خدمت میں اسٹکر وغیرہ پیش کرتے ہوئے اس تحریک کو آگے بڑھانے کی اپیل کی-تمام حضرات نے مثبت جواب دیا۔


Tuesday, 28 January 2025

دہلی اسمبلی انتخابات: طاہر حسین کو پولیس تحویل میں رہتے ہوئے تشہیر کی اجازت، ہر رات جیل واپس لوٹنا ہوگا

 






سپریم کورٹ نے دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے اے آئی ایم آئی ایم (آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین) کے امیدوار اور دہلی فسادات کے ملزم طاہر حسین کو پولیس تحویل میں رہتے ہوئے تشہیر کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے کئی شرائط عائد کرتے ہوئے کہا کہ طاہر حسین کو دن کے وقت پولیس کی نگرانی میں تشہیر کے لیے باہر جانے اور ہر رات جیل واپس لوٹنے کی اجازت ہوگی۔


عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ طاہر حسین کو روزانہ 2.47 لاکھ روپے سکیورٹی اخراجات کے طور پر جمع کرانے ہوں گے۔ تین ججوں پر مشتمل بنچ، جس میں جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سنجے کرول اور جسٹس سندیپ مہتا شامل تھے، نے طاہر حسین کی 29 جنوری سے 3 فروری تک انتخابات کی تشہیر کے لیے پولیس تحویل کی درخواست قبول کی۔



حسین کے وکیل سدھارتھ اگروال نے عدالت میں دلیل دی کہ انتخابات کے لیے صرف چار پانچ دن باقی ہیں، اس لیے ان کے مو¿کل کو پولیس تحویل میں رہتے ہوئے ووٹروں سے رابطہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حسین اپنا قیام کسی ہوٹل میں کریں گے اور گھر نہیں جائیں گے۔


ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حسین کی فسادات میں ملوث ہونے کی سنگین نوعیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عدالت نے ان سے کہا کہ سکیورٹی انتظامات اور اخراجات کے متعلق ہدایات پیش کریں۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب 22 جنوری کو سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے حسین کی عبوری ضمانت پر متفقہ فیصلہ نہیں دیا تھا۔



واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے 14 جنوری کو طاہر حسین کو ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر مصطفیٰ باد نشست سے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کے لیے پولیس تحویل کے ساتھ پیرول دی تھی۔ طاہر حسین دہلی 2020 فسادات کے دوران آئی بی کے ملازم انکت شرما کے قتل کے معاملے میں بھی ملزم ہیں۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔


ٹرمپ کی ڈپورٹیشن پالیسی سے ہالی ووڈ اداکارہ سیلینا گومیز ہوئیں غمزدہ، پھوٹ پھوٹ کر رونے کا ویڈیو وائرل

 




ہالی ووڈ گلوکار اور اداکارہ سیلینا گومیز اس وقت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ دراصل سیلینا نے اپنی اپنی انسٹا گرام اسٹوری پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی۔ جس میں انہیں پھوٹ پھوٹ کر روتا ہوا دیکھا گیا تھا۔ سیلینا کے رونے کی وجہ امریکہ کے 47 ویں صدر بنے ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی ڈپورٹیشن پالیسی ہے۔


امریکہ میں ٹرمپ کی حکومت شروع ہونے کے ساتھ ہی ایمیگریشن انفورسمنٹ پر تیزی سے کام شروع ہو گیا ہے۔ 26 جنوری کو امریکہ میں ٹرمپ کے حکم کے بعد کئی ایجنسیوں نے ہزاروں ایمیگرینٹس کو گرفتار کیا ہے۔ اسی پر بات کرتے ہوئے سیلینا گومیز نے ایک جذباتی ویڈیو شیئر کی تھی۔


اپنے جاری کیے گئے ویڈیو کے کیپشن میں سیلینا نے لکھا تھا، 'مجھے معاف کر دینا'۔ ساتھ ہی انہوں نے میکسیکو کے پرچم والی ایموجی بھی لگائی تھی۔ امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہ رہے تارکین وطن کی گرفتاری اور انہیں ان کے ملک واپس بھیجنے کے عمل پر سیلینا نے بات کی۔


انہوں نے کہا "میرے سبھی لوگوں پر حملہ ہو رہا ہے، بچے بھی محفوظ نہیں ہیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے، مجھے معاف کر دیجیے۔ کاش! میں کچھ کر پاتی، لیکن میں نہیں کر سکتی، مجھے نہیں پتہ کہ کیا کرنا چاہیے۔ میں ہر چیز آزماو¿ں گی، وعدہ کرتی ہوں"۔ یہ کہتے ہوئے سیلینا گومیز پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔ حالانکہ بعد میں انہوں نے اپنے اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا۔


دراصل اپنی ویڈیو شیئر کرنے کے بعد سیلینا گومیز کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یوزرس نے گومیز کو ٹرول کرنا شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا۔ خود کو ملی تنقید کے جواب میں انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری پر پیغام لکھا 'ظاہر طور پر لوگوں کے لیے ہمدردی دکھانا ٹھیک نہیں ہے۔'

واضح ہو کہ امریکہ میں 26 جنوری کے دن ایمیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے 956 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ یہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد کا سب سے بڑا نمبر ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا مقصد امریکہ میں رہ رہے غیر دستاویز تارکین وطن کو باہر نکالنا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں میں زبردست ڈر کا ماحول ہے۔


فلسطینیوں کی جبری ہجرت پر ٹرمپ کا اصرار ... بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں ؟

 






اگرچہ مصر اور اردن فلسطینیوں کی بیرون ملک جبری ہجرت کے منصوبوں کو مسترد کر چکے ہیں تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے باہر منتقلی کی تجویز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ مصری صدر کے ساتھ اس موضوع پر بات کر چکے ہیں۔


دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہر اور بین الاقوامی قانون سے متعلق امریکی اور یورپی انجمنوں کے رکن ڈاکٹر محمد محمود مہران کا کہنا ہے کہ جبری ہجرت کی صورت میں فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے باہر ہمسایہ ممالک منتقلی کے حوالے سے امریکی صدر کا بیان بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرائم پر اکسانے کے مترادف ہے۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے خصوصی بیان میں ڈاکٹر مہران کا کہنا تھا کہ چوتھا جنیوا کنونشن اپنے آرٹیکل 49 میں مقبوضہ اراضی سے افراد کی انفرادی یا اجتماعی جبری منتقلی کو قطعا ممنوع قرار دیتا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی فوجداری عدالت کا 'روم اسٹیچو' اپنے آرٹیکل 8 میں جبری ہجرت کو جنگی جرم کا درجہ دیتا ہے جس پر عدالتی کارروائی لازم ہے۔


بین الاقوامی قانون کے ماہر کے مطابق Additonal Protocal 1 کا آرٹیکل 85 شہری آبادی کی جبری منتقلی کو سنگین خلاف ورزی قرار دے کر اس کے خلاف عدالتی کارروائی کو لازم گردانتا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت اس نوعیت کے جرائم پر قانونی کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔


ڈاکٹر مہران نے واضح کیا کہ عالمی سلامتی کونسل کی 1967 میں منظور شدہ قرار داد 242 باور کراتی ہے کہ کسی سرزمین پر بزور طاقت قبضہ کرنا قانونا جائز نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 1(2) اسی امر کی تصدیق کرتا ہے۔ منشور کے مطابق اقوام اور عوام کو اپنے راستے کے فیصلے کا حق حاصل ہے۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق سے متعلق عالمی اعلان کا آرٹیکل 13 ہر فرد کو اپنی ریاست کی حدود کے اندر آمد و رفت اور اپنے قیام کی جگہ منتخب کرنے کا حق دیتا ہے۔


ڈاکٹر مہران نے بتایا کہ شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی سمجھوتا (ICCPR) اپنے پہلے آرٹیکل میں باور کراتا ہے کہ اقوام کو اپنا راستہ چننے اور اپنے ملک کی قدرتی دولت اور وسائل کے آزادانہ استعمال کا حق حاصل ہے۔ لہذا فلسطینی قوم بھی اپنی قانونی مزاحمت میں اسی موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔


یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد چھڑنے والی جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے تقریبا 24 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے۔


غزہ کے فلسطینیوں کی کوئی بھی جبری ہجرت قابل قبول نہیں ہے : فرانس

 




فرانس کے وزیر خارجہ جان نویل بارو کا کہنا ہے کہ غزہ کی آبادی کو عرب ممالک میں آباد کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز دو خود مختار ریاستوں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پر امن باہمی بقائ کے مفہوم سے متصادم ہے۔ انھوں نے کہا کہ فرانس دو ریاستی حل پر زور دیتا ہے اور پیرس کے نزدیک غزہ کے فلسطینیوں کی کوئی بھی جبری ہجرت "نا قابل قبول" ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے ریڈیو کے ذریعے دیے گئے بیان میں کہا کہ "مصر اور اردن ہمیشہ یہ باور کراتے رہے ہیں کہ وہ اس طرح کے حل کے خلاف ہیں، جہاں تک فرانس کا تعلق ہے تو ہمیں یقین ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام دو ریاستی حل کا تقاضا کرتا ہے جہاں فلسطین اور اسرائیل پہلو بہ پہلو رہیں۔ لہذا فلسطینیوں کی ہمسایہ ممالک جبری ہجرت مجھے اس فیصلے کے ساتھ ہم آہنگ نظر نہیں آتی"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹڑمپ نے 25 جنوری کو صحافیوں سے گفتو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ کی پٹی کی وہ آبادی جو اسرائیل کے حالیہ فوجی آپریشن میں اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں، انھیں عرب ممالک میں آباد کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کے خیال کے مطابق 15 لاکھ افراد کو غزہ کی پٹی سے باہر آباد کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس معاملے پر اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ الثانی سے بھی بات کی ہے۔


قاہرہ اور عمّان حکومتوں نے ایک بار پھر غزہ کی پٹی کی آبادی کو منتقل کرنے کے لیے اسرائیل یا اس کے علاوہ کسی اور کی منصوبہ بندی کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ جبری ہجرت کی دوسری مہم ہے۔

اس سلسلے میں مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے کل پیر کے روز ان جبری ہجرت کی کوششوں پر اپنے ملک کی تشویش کا اظہار کیا جن کا مقصد ہمسایہ ممالک میں عوام کو نشانہ بنانا ہے۔ بدر کے مطابق خطے میں سیاسی اور انسانی صورت ابتری کا شکار ہے۔ ان میں سیاسی تنازعات اور بحرانات کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شامل ہیں۔

مصری وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ یہ عوامل بے گھر افراد اور مہاجرین میں اضافے میں اپنے کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مصر کی جانب مہاجرین کے بہاو¿ میں اضافہ ہو رہا ہے جو پہلے ہی 90 لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کا میزبان ہے۔

دوسری جانب اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے پیر کے روز ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ اردن کی مملکت فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے بارے میں کسی بھی بات چیت کو مسترد کرتی ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ اردن اس موقف کے سامنے ڈٹا رہے گا۔

پارلیمنٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے الصفدی کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے لیے متبادل وطن سے متعلق ہر بات مسترد شدہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اردن اردنیوں کا ہے اور فلسطین فسلطینیوں کا ہے اور قضیہ فلسطین کا حل فلسطینی مٹی پر ہی ہو گا۔