Monday, 27 January 2025

’گنگا میں ڈبکی لگانے سے غریبی دور ہوگی کیا؟‘، کھڑگے نے ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پوچھا سوال

 







مدھیہ پردیش کے مَہو میں ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کسی
کا نام لیے بغیر کہا کہ ”گنگا میں ڈبکی لگانے سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا کیا؟ غریبی دور ہوگی کیا؟ پیٹ کو کھانا ملے گا کیا؟“ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں کسی کے عقیدہ کو چوٹ نہیں پہنچانا چاہتا ہوں۔ ملک میں بچے اسکول نہیں جا رہے ہیں اور مزدوروں کو مزدوری نہیں مل رہی ہے۔ واضح ہو کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا مذکورہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پیر (27 جنوری) کو مہاکبمھ میں ڈبکی لگائے ہیں۔ امت شاہ پریاگ راج پہنچ کر سادھو-سنتوں کے ساتھ مہاکمبھ میں ڈبکی لگائی۔ اس موقع پر امت شاہ کے ساتھ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی موجود تھے۔


ملکارجن کھڑگے نے پریاگ راج کے مہاکمبھ میں سیاستدانوں کے گنگا میں ڈبکی لگانے کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”لوگ کمپٹیشن میں ڈبکی مار رہے ہیں۔ جب تک ٹی وی میں ڈبکی اچھی نہیں آتی ہے تب تک ڈبکی مارتے رہتے ہیں۔ مذہب پر ہم سبھی کا عقیدہ ہے۔ مذہب ہم سبھی کے ساتھ ہے لیکن مذہب کے نام پر کسی سماج میں غریبوں کا استحصال ہوگا تو ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے۔“ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر نے آگے کہا کہ ”سماج میں لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرنا بابا صاحب کا مقصد تھا اور اسی لیے انہوں نے بہت سے قانون بنائے۔ اگر کسی نے ان کی مکمل طور پر حمایت کی تو وہ پنڈت نہرو اور مہاتما گاندھی نے کی تھی۔ حمایت کے بعد ہی بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ اگر آپ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو متحد ہو کر محنت کرنی چاہیے۔ جب تک آپ متحد نہیں ہوں گے تب تک مندر میں داخلہ نہیں ملے گا۔“



کانگریس صدر نے ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”جب آپ کے بچے شادی کر کے گھوڑے پر سوار ہو کر گاو¿ں سے جاتے ہیں تو وہ حق آپ کو نہیں ملے گا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ مدھیہ پردیش میں پہلے کیا ہوا تھا؟ ایک آدیواسی بچے کے منہ میں پیشاب کر کے اس کو ذلیل کیا گیا تھا۔ واقعہ کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان متاثرہ کے پاو¿ں دھو رہے تھے لیکن پیر دھونے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ جن کے لیے آئین نے جو تحفظ فراہم کیا ہے اس کا استعمال کریں اور ان کی حفاظت کریں تبھی کچھ ہوگا۔“



’ایک دن پورے ملک میں نافذ ہوگا یو سی سی‘، اتراکھنڈ میں یونیفارم سول کوڈ نافذ ہونے پر نائب صدر دھنکھڑ کا اظہارِ خوشی

 




آج اتراکھنڈ وہ پہلی ریاست بن گیا جہاں یو سی سی یعنی یونیفارم سول کوڈ باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ اس تعلق سے ہندوستان کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین بنانے والوں کے خوابوں کو شرمندہ¿ تعبیر کرنے والا قدم بتایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو نہ صرف ملک کے آئین میں موجود پالیسی کے ہدایتی اصولوں کو نافذ کرتا ہے، بلکہ ملک میں جنسی مساوات اور سماجی توازن کو بھی فروغ دے گا۔

نائب صدر نے یہ تبصرہ راجیہ سبھا انٹرنشپ پروگرام کے پانچویں بیچ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنی تقریر کے دوران انھوں نے کہا کہ ”آج کا دن نیک اشارہ لے کر آیا ہے۔ اتراکھنڈ نے یونیفارم سول کوڈ کو اپنا کر آئین کے آرٹیکل 44 کو زمین پر اتارا ہے۔ یہ وہ آرٹیکل ہے جو ہندوستانی شہریوں کے لیے پورے ملک میں یکساں قانون یقینی کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔“ اتراکھنڈ حکومت کی دور اندیشی کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی پورا ملک اس سمت میں قدم بڑھائے گا۔

نائب صدر نے یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کرنے والوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کی ہدایت ہے اور اس کی مخالفت کرنا جہالت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”کچھ لوگ سیاسی فائدہ کے لیے قومیت کو خیر باد کہنے میں بھی جھجک نہیں کرتے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ یو سی سی جنسی مساوات اور سماجی انصاف کو فروغ دے گا۔ آئین ساز اسمبلی کی بحثیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے بار بار اس کی ضرورت کو نشان زد کر چکے ہیں۔“


شمالی غزہ کی طرف لوگوں کا سیلاب امڈ آیا، ناقابل فراموش مناظر






خون، تباہی، قتل و غارت اور آنسوو¿ں کے درمیان 15 ماہ کے انتظار کے بعد ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنی امیدو بیم کی کیفیت میں

پیدل غزہ کی پٹی کے شمال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔


شہریوں کی خوشی ناقابل بیان

شمالی غزہ کی پٹی جانے والے بے گھر افراد کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور پٹی کے شمال کی طرف ساحلی ریشد سٹریٹ پر ہجوم لگ گیا۔


اگرچہ شمالی غزہ کی طرف بڑھنے والے شہری ایک گم نام منزل کے مسافر ہیں کیونکہ جنگ کی وجہ سے وہ اپنے گھروں کو کھو چکے ہیں، شمالی علاقہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور یہاں تک کہ زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کی خوشی دیدنی ہے۔


تصاویر میں غزہ کے باشندوں کو ایک دوسرے سے گلے ملتے، ایک دوسرے کو سلام کرتے، اپنے تباہ شدہ گھروں کے سامنے تصویریں کھینچتے اور پھر اپنے راستے پر چلتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔


العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ کی طرف لوگوں کی واپسی اس وقت ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج نے نیٹزارم کے محور سے انخلائ شروع کیا۔ یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہےجو غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔


گذشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیل نے بے گھر افراد کے لیے شمال کی طرف جانے کے لیے اس راہداری کو کھولنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ جب تک حماس اسرائیلی اسیر خاتون اربیل یہود کو رہا نہیں کرتی تب تک بے گھر فلسطینیوں کو شمال کی طرف نہیں جانے دیا جائے گا۔


گھر نہ خیمے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ ہزاروں لوگ نہیں جانتے کہ وہ اپنے گھروں کے ملبے پر کیسے زندگی بسر کریں گے، خاص طور پر چونکہ اقوام متحدہ نے شمالی غزہ کی پٹی میں 80 فیصد عمارتوں کی تباہی کا تخمینہ لگایا ہے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ کچھ خیمے اور قافلے ان میں سے کچھ کو لوگوں کو پناہ دے سکتے ہیں مگر اس وقت ہزاروں خیموں کی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ اچیم سٹینر نے اس سے قبل وضاحت کی تھی کہ "اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں دو تہائی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں 65 سے 70 فیصد کے درمیان عمارتیں مکمل طور پر تباہ یا تباہ ہوچکی ہیں"۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ نے "60 سال کی ترقی کو ختم کر دیا، 42 ملین ٹن ملبے کو ہٹانا ایک خطرناک اور پیچیدہ عمل ہوگا۔


یوم جمہوریہ کے موقع پہ متھلا انسٹیٹیوٹ میں پرچم کشائی ہوئی



 دربھنگہ:- 76ویں یوم جمہوریہ کے موقع پہ ہر سال کی طرح اس سال بھی متھیلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں چیئرمین ڈاکٹر احمد نسیم آرزو ڈائریکٹر الہلال ہاسپٹل کے ہاتھوں پرچم کشائی کی گئی جس میں جنرل منیجر شمشاد نور سنٹر ہیڈ تنویر امام گوپی کشن امیت منڈل سمرن میڈم محمد سعید انور دانش احمد و ایڈووکیٹ شاہد اطھر کے علاوہ طلبہ و طالبات شامل ہو کر ملک وآئین کے تئی وفاداری کا محبت کا ثبوت  دیتے ہوئے سبھی لوگوں نے کہا کہ ملک ہمارا ہے اور اس کی حفاظت کرنے کے ذمہ داری ہم سبھی لوگوں کی ہے - آج کے دن آئین عمل میں لائی گئی تھی اور اسی آئین کے تحت ہمارا ملک چلتا ہے اور قیامت تک ہمارا ملک آئین کے تئیں چلتا رہے گا-

صاف شفاف چہرہ والے کو ہی اسمبلی میں بھیجا جائے: صبیح محمود

 


دربھنگہ:- یوم جمہوریہ 2025 کے موقع پہ آج دربھنگہ ضلع کے مختلف حلقہ سے مشہور و معروف شخصیات کا آج محمود رہائش گاہ باڑھ سمیلا کیوٹی میں صلاہ مشورہ کا پروگرام انعقاد کیا گیا- جس میں جالے سے صادق آرزو و آمر اقبال کنور بڑھی سے ذوالقرنین عاقل پٹھان کوئی سے ماجد حسین خان ملکی چک سے فیصل اقبال باڑھ سمیلہ سے ڈاکٹر فیروز احمد باقی بصر دربھنگہ شہر سے انجینئر عمر فاروق رحمانی ڈاکٹر احمد نسیم آرزو عیاز احمد فصیح محمود و ایڈوکیٹ شاہد اطہر کے علاوہ سماج کے مختلف حلقے سے لوگ شامل ہوئے۔ اس موقع پہ سبھی لوگوں کے رائے مشورہ سے یہ بات ائی کہ مسلمانوں کا ووٹ تقسیم کر کے غیر سیکولر پارٹیاں جیتنے کا کام کرتی ہے اج بھی کم و بیش 60 فیصد ووٹ سیکولر ہے پھر بھی سیکولر امیدوار کیوں نہیں جیت رہے ہیں؟ صرف اس لیے کہ سیکولر ووٹوں کا تقسیم کرایا جاتا ہے جس کا فائدہ دوسرے پارٹی کو مل جاتا ہے۔ اس لیے اس دفعہ بہار اسمبلی 2025 کے الیکشن میں صاف امیج ایماندار محنتی و عوام الناس میں جانا پہچانا نام رکھنے والے ہی امیدوار کو الیکشن جتا کر اسمبلی میں بھیجنے کا کام کیا جائے گا۔

انفرادی و اجتماعی سطح پر اردو کے فروغ کیلئے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت: آفتاب عالم

 



مظفر پور ( نمائندہ)قومی اساتذہ تنظیم مظفر پور کے صدر شمشاد احمد ساحل، سکریٹری آفتاب عالم کی قیادت میں برہنڈ ہ ، مینا پور ، مظفر پور میں اردو زبان ادب کے فروغ کیلئے تحریک چلائی گئی جس میں علاقے کی نامور شخصیات نے شرکت کی اور اردو کے فروغ کا عزم لیا ۔ اس موقع پر قومی اساتذہ تنظیم کے سکریٹری آفتاب عالم نے کہاکہ اردو زبان کا فروغ نہ صرف ہماری تہذیب و ثقافت کی بقا کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ قومی یکجہتی اور ترقی کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس زبان کے فروغ کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس زبان کے عظیم ورثے سے مستفید ہو سکیں۔ 

انہوں نے مزید کہاکہ جدید دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اردو زبان کو تعلیمی، سائنسی، ادبی، اور ڈیجیٹل میدانوں میں فعال بنانے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوںنے کہاکہ صرف حکومتی سطح سے تو اردو کے فروغ کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے ہی ساتھ ہی انفرادی واجتماعی سطح سے بھی اردو کے فروغ کیلئے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔انہوںنے کہاکہ اسی مقصد کے تحت قومی اساتذہ تنظیم نے یہ عہدلیا ہیکہ اردو کے جو بھی مسائل ہیں اسے حل کیاجائے اور عوام میں اس کیلئے بیداری لائی جائے ۔ 

مسٹر آفتاب نے یہ بھی کہاکہ اردو میں بھی کافی مواقع ہیں ۔ضروت ہے کہ ان مواقع سے فائدہ اٹھایاجائے اور اپنی روزہ مرہ کی زندگی میں اردو کو استعمال کیاجائے ۔ اس موقع پر محمد آدم ، عبدالجبار، حسیب الرحمن ،مولانا امان اللہ ،مولانا الفت ، محی الدین ، افسر، نصراللہ وغیرہم نے بھی اپنے خیالات پیش کئے۔ 


Friday, 24 January 2025

وقف بل: ’فون آیا اور ہمیں معطل کر دیا گیا‘، جے پی سی میں شامل اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کا سنگین الزام، اوم برلا کو لکھا خط

 




’وقف (ترمیمی) بل 2024‘ کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل جے پی سی کی میٹنگ میں 24 جنوری (جمعہ) کو زوردار ہنگامہ ہوا۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن کے 10 اراکین پارلیمنٹ کو ایک دن کے لیے معطل بھی کر دیا گیا۔ اس معاملے میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ کچھ کمیٹی اراکین نے میڈیا کے سامنے بیان میں کمیٹی چیئرمین جگدمبیکا پال پر سنگین الزام عائد کیا ہے، اور معطل اراکین پارلیمنٹ نے اوم برلا کو مشترکہ خط لکھ کر اپنے اعتراضات کا اظہار بھی کیا ہے۔

ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے آج میٹنگ میں ہوئے ہنگامہ کے بعد کہا کہ ”جب میٹنگ چل رہی تھی تو جے پی سی چیئرمین کے پاس لگاتار فون آ رہے تھے۔ ایک فون آیا جس کے بعد ہمیں معطل کر دیا گیا۔“ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے چیئرمین کو حکومت کی طرف سے ہدایت دی جا رہی تھی۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن اراکین نے جگدمبیکا پال پر کارروائی کو ایک تماشہ بنانے، منمانی کرنے اور اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ حکومت کی اعلیٰ سطح سے ہدایت لے رہے ہیں۔


اپوزیشن میں ہوئے ہنگامہ اور پھر بڑھی سیاسی ہلچل کے درمیان کمیٹی سے معطل اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھ کر کمیٹی چیئرمین کی کارگزاری اور طور طریقوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ 27 جنوری کو مجوزہ میٹنگ ملتوی کی جائے۔ جے پی سی اراکین اے راجہ، کلیان بنرجی، اسدالدین اویسی، نصیر حسین، ارونت ساونت، گورو گگوئی، محمد جاوید، عمران مسعود، محب اللہ ندوی، ایم عبداللہ کی طرف سے لکھے گئے اس خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیئرمین منمانے طریقے سے میٹنگوں کی تاریخیں بدلتے رہے ہیں۔ جمعہ کو ہوئی میٹنگ میں جب کمیٹی میں شامل اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اس پر اعتراض ظاہر کیا اور اپنی بات رکھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انھوں نے اپوزیشن کے 10 اراکین کو معطل کر دیا۔


معطل کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ ان کے اعتراضات کے باوجود پہلے تو 24 اور 25 جنوری کو جے پی سی کی میٹنگ طے کی گئی، اور پھر جمعہ کی صبح بتایا گیا کہ 25 جنوری کی میٹنگ 27 جنوری کو ہوگی۔ ناراض اراکین کا کہنا ہے کہ پہلے کے طے شیڈول کی بنیاد پر اراکین پارلیمنٹ نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنے پروگرام مقرر کر لیے ہیں، ایسے میں میٹنگ کی تاریخ تبدیل ہونے سے مشکل ہو رہی ہے۔ خط لکھنے والوں نے میٹنگ 29 جنوری کی جگہ 30 جنوری کو کرائے جانے کی گزارش کی ہے تاکہ سبھی اراکین اس اہم بل پر اپنی بات رکھ سکیں۔



اوم برلا کو لکھے گئے خط میں دستخط کنندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ ”ہم نے اہم باتوں کو مہذب طریقے سے چیئرمین کے سامنے رکھا، حالانکہ انھوں نے اس پر جواب دینے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس درمیان چیئرمین نے کسی سے فون پر بات کی اور اچانک حیرت انگیز طریقے سے انھوں نے چیختے ہوئے ہماری معطلی کا حکم صادر کر دیا۔“ خط میں لوک سبھا اسپیکر سے کہا گیا ہے کہ ”ہمارا ماننا ہے جے پی سی چیئرمین کو کمیٹی اراکین کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس لیے استدعا ہے کہ جے پی سی چیئرمین کو کارروائی شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے چلانے کی ہدایت دی جائے۔“


وقف ترمیمی بل: جے پی سی اجلاس میں ہنگامہ، حزب اختلاف کے 10 ارکان پارلیمنٹ معطل

 






وقف ترمیمی بل پر قائم شدہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کے اجلاس کے دوران ٹی ایم سی کے رکن کلیان بنرجی اور بی جے پی کے ایم پی نشی کانت دوبے کے درمیان لفظی جنگ ہوئی، جس کے بعد کمیٹی کے 10 اپوزیشن ارکان کو ایک دن کے لیے معطل کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں ہنگامہ اس وقت ہوا جب کلیان بنرجی نے اجلاس کو اتنی جلدی بلانے پر سوال اٹھایا، جس پر نشی کانت دوبے نے سخت اعتراض کیا اور دونوں رہنماو¿ں کے درمیان شدید تکرار شروع ہو گئی۔ اس کے بعد اجلاس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔


کلیان بنرجی کا کہنا تھا کہ اجلاس کی اتنی جلدی کیا ضرورت تھی؟ انھوں نے اس پر سوال اٹھایا کہ آیا اس بل پر جلدی فیصلے کی کوئی خاص وجہ ہے؟ ان کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نشی کانت دوبے نے کہا کہ حکومت نے اس بل کو اہمیت دی ہے اور اس پر جلدی فیصلے کی ضرورت ہے۔ دونوں کے درمیان یہ بات چیت اتنی بڑھ گئی کہ دونوں کے درمیان لفظوں کا تبادلہ شدید ہو گیا اور اس کی وجہ سے اجلاس کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔


جیسے ہی یہ تنازعہ بڑھا، کمیٹی نے اپوزیشن کے 10 ارکان کو معطل کر دیا، جنہوں نے اس بحث میں مداخلت کی تھی۔ ان ارکان کی معطلی نے اجلاس کی فضا کو مزید متنازعہ بنا دیا اور اجلاس کو 27 جنوری تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔



اس اجلاس میں کشمیر کے مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق بھی اپنے اعتراضات پیش کرنے کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس کے علاوہ کچھ مزید اہم شخصیات بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گی، جن میں ’لائیرز فار جسٹس‘ گروپ بھی شامل ہے۔


اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن نشی کانت دوبے نے کہا کہ وقف بل کا مقصد مسلمانوں کی بہتری کے لیے ہے اور اس کے ذریعے وقف کے اداروں میں شفافیت لانا مقصود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کو جلد پاس کرنا ضروری ہے تاکہ وقف کے اداروں کے انتظام میں بہتری لائی جا سکے اور اس کے ذریعے ملک کے مسلمانوں کی فلاح کی جا سکے۔


دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے مفادات کے خلاف ہے اور اس کے ذریعے حکومت وقف کے اداروں پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بل میں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔



آئندہ اسمبلی انتخابات میں میتھیلانچل سمیت پورے بہار میں جن سوراج کا لہر قائم ہوگا: ایڈووکیٹ صبیح

 




دربھنگہ:- بہار جن سوراج پارٹی کے بانی رکن و ممبر ایکٹنگ کمیٹی بہار ایڈووکیٹ صبیح محمود نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں فرقہ پرست اور بچوں کے مستقبل سے کھیلنے والی جدیو و بھاجپا سرکار کا خاتمہ ہو جائے گا چونکہ متھلانچل سمیت پورے بہار میں بانی پرشانت کشور جی کے نگرانی میں بدلاؤ  کی لہر دور رہی ہےـ آج متھلانچل کے دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے دورہ پہ انے کے بعد پارٹی کے بانی رکن و دربھنگہ شہر سے ممکنہ امیدوار ایڈووکٹ شاہد اطہر سے اپنے رہائش گاہ پہ ملاقات کرنے کے بعد جاری پریس ریلیز میں بتایاـ ایڈووکیٹ صبیح محمود نے کہا کہ لوگوں میں بہت ناراضگی اور نا امیدی کی کرن ظاہر ہو رہی ہے کہ پورا پانچ سال کا مدت ختم ہونے کو ہے اور جگہ بہ جگہ ترقی کا معاملات رکا ہوا ہے وہیں ابھی کل کی بات ہے کہ ضلع ایجوکیشن افسر بتیا کے گھر پہ کرپشن سے لوٹا ہوا پیسہ کا امبار ملا ہے جس کو گنتی کرنے کے لیے مشین بھی کم پڑ گئی ہے ـ اس موقع پہ ایڈووکٹ شاہد اطہر نے کہا کہ اگر پارٹی اور دربھنگہ کی عوام چاہے گی تو میں ان کی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پورے دم خم کے ساتھ الیکشن لڑوں گا وہیں شاہد اطہر نے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لیے پیسہ معنی نہیں نہیں رکھتی ہے ہاں عوام کا پیار سب سے بڑی طاقت ہے وقت انے پہ عوام اپنے ممبر اسمبلی سے پورے مدت کا حساب کتاب مانگے گی اور ان کو اس کا حساب دینا ہی پڑے گاـ

Thursday, 23 January 2025

’برتنوں کی قیمت سن کر آپ کا دماغ چکرا جائے گا‘، مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے ’برتن گھوٹالہ‘ پر کانگریس کا طنز

 





مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں کروڑوں روپے کے ’برتن گھوٹالہ‘ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے تازہ گھوٹالہ کو مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں گھوٹالے کا ’نیا ریکارڈ‘ قرار دیا ہے۔ کانگریس نے ہندی نیوزی چینل ’ٹی وی 9 بھارت وَرش‘ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے گھوٹالہ کرنے میں نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ آپ بھلے ہی چمچ 15-10 روپے میں خریدتے ہوں، لیکن مدھیہ پردیش حکومت میں خریدے گئے برتنوں کی قیمت سن کر آپ کا دماغ چکرا جائے گا۔“


دراصل یہ گھوٹالہ آنگن باڑی کے لیے خریدے گئے برتنوں کے ساتھ ہوا ہے۔ کانگریس نے اس تعلق سے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”یہاں آنگن باڑی کے لیے کروڑوں روپے کے ہزاروں برتن خریدے گئے، جن میں 1 چمچ 810 روپے میں خریدا گیا، 1 کرچھی 1348 روپے میں خریدی گئی، 1 جگ 1247 روپے میں خریدا گیا۔“ ریاست میں برسراقتدار طبقہ پر حملہ کرتے ہوئے کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”یہ مدھیہ پردیش کی حکومت میں کروڑوں روپے کا گھوٹالہ ہے۔ لگتا ہے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت پی ایم مودی کے فنڈے پر ہی آگے بڑھ رہی ہے– عوام کو لوٹو-موج اڑاو¿۔“



سنگرولی ضلع میں پیش آئے اس گھوٹالہ کے تعلق سے جب ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ راجندر شکلا سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ”ہماری حکومت بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹولرنس کی پالیسی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اگر (بدعنوانی کا) کوئی معاملہ سامنے ا?تا ہے، تو ضروری کارروائی کی جاتی ہے۔ قصوروار پائے جانے پر سزا بھی دی جاتی ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ جس معاملے کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، اس کی حقیقت بھی پتہ کی جائے گی۔ بی جے پی حکومت کے تحت اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سیاسی تحفظ نہیں دیا جاتا۔

دوسری طرف مدھیہ پردیش کانگریس ترجمان عباس حفیظ کا کہنا ہے کہ ”یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت پہلے بھی بلوں میں اضافہ کر مہنگی کیٹرنگ اشیائ کا استعمال کر چکی ہے۔ یہاں تو ہر روز بدعنوانی کا ایک نیا معاملہ سامنے ا? رہا ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ ”اس وقت موہن یادو حکومت کو انتہائی بدعنوان حکومت کہا جا رہا ہے۔“


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں سنگرولی ضلع کے محکمہ برائے ترقی خواتین و اطفال میں برتن گھوٹالہ کا یہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ 1500 آنگن باڑیوں کے نام پر 5 کروڑ روپے کا یہ برتن گھوٹالہ کیا گیا ہے۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ 10 روپے میں ملنے والی چمچ کی قیمت 810 روپے لگائی گئی ہے۔ اس حساب سے 46500 چمچ 3 کروڑ 76 لاکھ 65 ہزار روپے میں خریدی گئیں۔ اتنا ہی نہیں ایک سروِنگ چمچ کی قیمت 1348 روپے بتائی گئی ہے۔ اس طرح 6200 سروِنگ چمچ 83 لاکھ 57 ہزار 600 روپے میں خریدی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں پانی پینے والے ایک جگ کی قیمت 1247 روپے لگائی گئی ہے۔ 3100 جگ کی خریداری ہوئی ہے جس کی مجموعی قیمت 38 لاکھ 65 ہزار 700 روپے ہے۔ کچھ مزید برتن بھی خریدے گئے ہیں اور اس کی قیمت بھی بہت زیادہ بتائی گئی ہے۔



مودی حکومت کی غلط پالیسیوں سے مہنگائی اور بے روزگاری میں ہوا بے تحاشہ اضافہ: جے رام رمیش

 






کانگریس نے ایک بار پھر مہنگائی اور بے روزگاری کے حوالے سے مودی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے جمعرات (23 جنوری) کو کہا کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی مہنگائی اور بے روزگاری نے نچلے اور متوسط طبقات کے خاندانوں کے لیے زندگی کو بہت مشکل کر دیا ہے۔ جے رام رمیش نے مزید کہا کہ ملک کو اب ایسے بجٹ کی ضرورت ہے جو بڑھتی مہنگائی سے راحت دے۔ جے رام رمیش کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیے گئے پوسٹ کے مطابق گزشتہ 10 سالوں میں مہنگائی نے عام لوگوں کی جیبیں خالی کر دی ہیں۔


کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر کیے گئے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”موڈانی حکومت نے گزشتہ 10 سالوں میں صرف اپنے امیر دوستوں کا خیال رکھا ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی مسلسل مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جس نے نچلے اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے زندگی کو کافی مشکل بنا دیا ہے۔ دودھ، آٹا، دال، پٹرول، ڈیزل اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔“ جے رام رمیش یہ بھی کہتے ہیں کہ ”ای ایم آئی اور روزمرہ کی ضرورتوں کا بوجھ ہر گھر پر بڑھتا جا رہا ہے۔ ملک کو اب مہنگائی سے راحت دینے والا بجٹ چاہیے۔ کیا حکومت عوام کی تکلیفیں سن کر کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی؟“


قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے بدھ (22 جنوری) کو دعویٰ کیا تھا کہ کوارٹر-2 جی ڈی پی کی شرح نمو کوئی جھٹکا نہیں ہے بلکہ معیشت میں واضح کساد بازاری ہے اور وبائی امراض کے بعد کی تیزی، ترقی میں اضافے کے لیے کافی نہیں ہے۔ وہیں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی مودی حکومت پر ان کی اقتصادی پالیسیوں کے متعلق حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی معنوں میں ترقی تب ہوگی جب ہر شخص ترقی کرے گا۔ تجارت کے لیے ایک مناسب ماحول ہوتا ہے، ٹیکس کا منصفانہ نظام ہوتا ہے اور مزدوروں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔