Tuesday, 14 January 2025

ہندوستانی بحریہ کو سپرد کرنے سے پہلے ہی حادثہ کا شکار ہوا اڈانی کا ’درشٹی 10‘ ڈرون، گجرات میں چل رہی تھی ٹیسٹنگ

 





ہندوستانی بحریہ کے لیے تیار کیا جا رہا ’درشٹی 10 اسٹارلائنر‘ ڈرون آج ٹیسٹنگ کے دوران حادثہ کا شکار ہو گیا۔ یہ ڈرون اڈانی ڈیفنس کے ذریعہ تیار کیا جا رہا ہے اور ٹیسٹنگ کا عمل گجرات کے پوربندر میں چل رہا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ’درشٹی 10‘ ایک درمیانہ اونچائی اور لمبی صلاحیت والا ڈرون ہے۔ اسے اسرائیلی ڈیفنس فرم ایلبٹ سسٹمز کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈرون 70 فیصد سودیشی ہے اور اس کی صلاحیتِ پرواز 36 گھنٹے ہے۔ 450 کلوگرام تک کا پے لوڈ لے جانے میں اہل یہ ڈرون نگرانی اور خفیہ جانکاری جمع کرنے میں اہم کردار نبھاتا ہے۔ اڈانی ڈیفنس اینڈ ایئرواسپیس کے ذریعہ تیار کیے گئے اس ڈرون کو بحریہ کے سپرد کیے جانے سے عین قبل ٹیسٹنگ کے مقصد سے اڑایا جا رہا تھا، لیکن یہ کریش ہو گیا۔


قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی بحریہ نے پہلے ہی درشٹی 10 کو اپنے بیڑے میں شامل کر لیا ہے۔ یہ ڈرون فوج اور بحریہ کی خفیہ، نگرانی و جاسوسی صلاحیتوں کو بڑھانے کے مقصد سے خریدا گیا تھا۔ ہر ایک ’درشٹی 10‘ ڈرون کی قیمت تقریباً 145 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ اب جب کہ یہ ڈرون حادثہ کا شکار ہو گیا ہے، تو پورے معاملے کی تحقیقات شروع ہو گئی ہے۔ حادثہ زدہ ڈرون کو برآمد بھی کر لیا گیا ہے۔



یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ہندوستانی بحریہ اپنی سمندری سیکورٹی کو لے کر اہم اقدام اٹھا رہی ہے۔ 4 ماہ قبل ’ایم کیو-9 بی‘ سی گارجین ڈرون بھی تکنیکی خرابی کے سبب خلیج بنگال میں حادثہ کا شکار ہو گیا تھا۔ ’درشٹی 10‘ ڈرون کا حادثہ زدہ ہونا فکر کا باعث ضرور ہے، لیکن امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس میں موجود خامی کو دور کیا جائے گا۔

اس درمیان ہندوستانی بحریہ جلد ہی دو جنگی جہاز اور ایک آبدوز اپنے بیڑے میں شامل کرنے جا رہی ہے۔ ان میں کلوری-کلاس کا آخری آبدوز ’واگھ شیر‘، ڈسٹرائیر ’صورت‘ اور فریگیٹ ’نیلگری‘ شامل ہیں۔ یہ ممبئی واقع مجھگاو¿ں ڈاک شپ بلڈرس لمیٹڈ میں تیار ہوئے ہیں۔ بحریہ اپنی جاسوسی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے 31 ایم کیو-9 بی ڈرون خریدنے کے معاہدے پر بھی دستخط کر چکی ہے، جس کا اہم مقصد بحر ہند علاقہ مین چین کی بڑھتی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔


کجریوال کو کچھ نہیں معلوم، کانگریس والے ان کی پیدائش سے ماقبل انگریزوں سے لڑ رہے تھے: شکیل احمد خان






بہار کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی شکیل احمد خان نے منگل (14 جنوری) کو عام آدمی پارٹی کے کنویز اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو سخت انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اروند کیجریوال کو کانگریس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ وہ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے تب کانگریس کے لوگ انگریزوں کی لاٹھیاں کھا رہے تھے۔ انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی کر رہے تھے۔ کانگریس کے لوگ کبھی بھی انگریزوں سے نہیں ڈرے۔ شکیل احمد خان نے کیجریوال کو جاہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئے گی کہ کانگریس کا مطلب ہی ملک ہے۔ اروند کیجریوال اور وزیر اعظم ابھی تک کانگریس کو سمجھ نہیں پائے ہیں۔



کانگریس لیڈر شکیل احمد خان نے کیجریوال کو بڑبولا انسان بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس ملک میں کانگریس کے نام پر 6 لاکھ گھروں میں چراغ جلتا ہے۔ کانگریس ہمارے آبا و اجداد کی پارٹی ہے۔ لیکن جاہل لوگوں کو اس پارٹی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے، جو منہ میں آتا ہے وہ بول جاتے ہیں۔



واضح ہو کہ پیر (13 جنوری) کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے دہلی کے سیلم پور میں ’جے باپو، جے بھیم، جے سنویدھان‘ عنوان کے تحت منعقد عوامی جلسہ سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے جلسہ عام میں وزیر اعظم نریندر مودی اور اروند کیجریوال کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ میں جب بھی ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کرتا ہوں تو مودی اور کیجریوال کچھ بھی نہیں بولتے۔ مودی اور کیجریوال میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ دونوں صرف جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے اروند کیجریوال پر کئی ایشوز کو لے کر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ بدعنوانی کی باتیں تو بہت کرتے ہو لیکن دہلی میں جو بدعنوانی ہوئی ہے اس پر کچھ نہیں بولتے ہو۔ اب آپ ان ایشوز پر بولنے سے بچتے ہو جسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی راہل گاندھی نے کہا تھا کہ اگر کانگریس دہلی میں برسراقتدار ہوئی تو بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے گا۔


قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی پر پلٹوار کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ میں راہل گاندھی کو سمجھتا ہوں۔ وہ کانگریس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ میں ملک کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ساتھ ہی کیجریوال نے کانگریس پر یہ بھی الزام لگایا کہ دہلی میں عآپ کو ہرانے کے لیے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان گٹھ جوڑ ہے۔ واضح ہو کہ کیجریوال کے ذریعہ کانگریس پارٹی پر لگائے گئے مذکورہ الزامات کے جواب میں ہی کانگریس لیڈر شکیل احمد خان نے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ تیز ہواوں کے باعث مزید شدت اختیار کرسکتی ہے

 




غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ لاس اینجلس اور وینٹورا کاو¿نٹی کے زیادہ تر علاقوں میں منگل سے بدھ کی صبح تک 50 سے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔

امریکی حکام نے ’ریڈ فلیگ وارننگ‘ کا اعلان کردیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور پہلے سے لگی آگے میں مزید شدت آسکتی ہے۔

لاس اینجلس کے فائر ڈیپارٹمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کل صبح تک چلنے والی تیز ہواو¿ں کے باعث آگ پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔


وینٹورا میں نئی آگ بھڑک اٹھی

دوسری جانب، لاس اینجلس کے شمال مغرب میں واقع وینٹورا کاو¿نٹی میں سانتا کلارا دریا کے کنارے رات گئے ایک چھوٹی لیکن تیزی سے پھیلنے والی نئی آگ بھڑک اٹھی۔

زمینی عملہ اور متعدد ہیلی کاپٹر اس آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں، جو اب تک 56 ایکڑ سے زیادہ رقبے کو تباہ کر چکا ہے اور ایک گالف کورس بھی اس آگ کی زد میں آچکا ہے تاہم اب تک وہاں کے رہائشیوں کو خطرہ نہیں ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے تیز ہواو¿ں کی پیش گوئی کے پیش نظر 85 ہزار سے زائد فائر فائٹرز نے جنگلات میں لگی دو بدترین آگ پر زمین اور فضا سے قاپو پانے کی کوششیں تیز کیں جس کا مقصد آگ کو رات بھر مزید پھیلنے سے روکنا تھا۔


دیگر کاونٹیوں میں آگ بھجانے والا عملہ تعینات

ریاستی حکام نے گزشتہ روز لاس اینجلس اور جنوبی کیلیفورنیا کی دیگر کاو¿نٹیوں میں آگ بجھانے والے عملے کو پہلے سے ہی تعینات کر دیا تھا۔

لاس اینجلس کاو¿نٹی میڈیکل ایگزامنر کے مطابق آگ لگنے سے اب تک 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ریسکیو عملے کی جانب سے جلے ہوئے گھروں کی تلاشی کا عمل جاری ہے جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی بدترین آگ نے 12 ہزار سے زائد عمارتوں کو تباہ کردیا ہے جب کہ ایک بڑے رقبے کو راکھ اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے۔


آگ سے تباہی

پیر تک لاس اینجلس کاو¿نٹی میں 92 ہزار سے زائد افراد کو انخلا کے احکامات جاری کیے گئے تھے جب کہ مزید 89 ہزار افراد کو انخلا کی وارننگ جاری کی گئی۔

لاس اینجلس کے مغربی کنارے پر لگنے والی ’پیلیسیڈز فائر‘ نے 23 ہزار 713 ایکڑ (96 مربع کلومیٹر) کے رقبہ کو جلا دیا ہے جس پر 14 فیصد قابو پایا گیا ہے۔

کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات اور فائر پروٹیکشن (کیل فائر) کے مطابق شہر کے مشرق میں سان گیبریل پہاڑوں کے دامن میں لگنے والی ’ایٹن فائر‘ نے مزید 14 ہزار 117 ایکڑ (57 مربع کلومیٹر) کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جس پر 33 فیصد قابو پالیا گیا ہے۔

تیسری آگ ’دی ہرسٹ‘ جو 799 ایکڑ (3.2 مربع کلومیٹر) پر پھیلی ہوئی تھی، اس پر 95 فیصد قابو پا لیا گیا تھا جب کہ حالیہ دنوں میں کاو¿نٹی میں لگنے والی دیگر 3 آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی کیلیفورنیا میں 2 مقامات پر ہونے والی ان آتشزدگیوں کو ’پیلیسیڈز فائر‘ اور ’ایٹن فائر‘ کا نام دیا گیا ہے جب کہ اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی وقفہ وقفہ سے آگ کی لپیٹ میں آرہے ہیں جن پر خشک سالی اور تیز ہواو¿ں کی وجہ سے قابو پانا مشکل ہوگیا ہے بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔


یہ بھی پڑھیں ۔کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میںلگی آگ کو بجھانے میں قیدی بھی مصروف



 


لاس اینجلس میں 4000 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثوں کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں خطے کی تباہ کن آگ کے باعث آپریشنز میں مشکلات کا سامنا ہے جن میں سے کچھ دفاتر کی جگہ منتقل کر رہے ہیں اور اپنے گھروں سے محروم ہونے والے عملے کے ارکان کی مدد کر رہے ہیں۔

لاس اینجلس کا علاقہ کیپٹل گروپ، ٹی سی ڈبلیو گروپ، ہیج فنڈز اوک ٹری کیپیٹل اور اریس مینجمنٹ جیسے بڑے صنعتکاروں کا گھر ہے جب کہ مجموعی طور پر لاس اینجلس میں کمپنیاں امریکا کے 132 ٹریلین ڈالر کے عالمی اثاثوں میں سے 4 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا کنٹرول رکھتی ہے، جس میں بانڈ مارکیٹ کے متعدد بڑے نام بھی شامل ہیں۔


کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میںلگی آگ کو بجھانے میں قیدی بھی مصروف

 

california fire





امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والی آگ کو بجھانے کی کوششوں میں صرف امریکی سرکاری ادارے ہی نہیں بلکہ غیر ملکی فائر فائٹرز اور ہزاروں مرد اور خواتین قیدی بھی حصہ لے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پینٹاگون کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آگ بجھانے کی کوششوں میں خصوصی طیارے اور ہیلی کاپٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں جن میں فائر فائٹنگ کے لیے خصوصی نظام نصب کیے گئے ہیں۔

لاس اینجلس میں آگ بجھانے کی کوشش میں حصہ لینے والے قیدیوں کی تعداد 939 اور وہ کیلیفورنیا کے ڈپارٹمنٹ آف کریکشنز اینڈ ریہیبلیٹیشن کے رضاکار پروگرام کا حصہ ہیں۔

رضاکار پروگرام میں قیدیوں کی تعداد منگل کو اس وقت بڑھنا شروع ہوئی جب لاس اینجلس میں لگی آگ قابو سے باہر ہوئی۔

اب تک یہ آگ ہزاروں مکانات کو تباہ اور 37 ہزار ایکڑ زمین کو جلا کر راکھ کر چکی ہے۔ اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرنے میں ہزاروں ایمرجنسی کارکنان مصروف ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس آگ کے سبب گیارہ افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی ریاست میں 35 ایسے فائر کیمپس ہیں جہاں قیدی اپنی قید بھی کاٹتے ہیں اور تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ ان میں دو کیمپس ایسے ہیں جو کہ صرف خواتین کے لیے مختص ہیں۔

اس رضاکار پروگرام میں رجسٹرڈ قیدیوں کی تعداد ایک ہزار 870 ہے جس میں سے 900 سے زیادہ قیدی سرکاری فائر فائٹرز کے ساتھ مل کر جنوبی کیلیفورنیا میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پینٹاگون کی ترجمان سبرینا سنگھ نے رپورٹرز کو بتایا تھا کہ اس آپریشن میں نیوی کے 10 ہیلی کاپٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں جن میں پانی پھینکنے والے نظام بھی نصب ہیں جبکہ دیگر سی 130 طیارے بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پینٹاگون حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کیونکہ یہ آگ عام طور فائر فائٹنگ سیزن کے دوران نہیں لگی، اس لیے کچھ سی 130 طیاروں میں دوبارہ موڈیلر ایئر بورن فائر فائٹنگ سسٹم کے یونٹس فٹ کیے گئے ہیں تاکہ ان کارگو طیاروں کو فائر فائٹنگ کے قابل بنایا جا سکے۔

دوسری جانب ہمسایہ ملک میکسیکو کی جانب سے امریکہ میں اس آگ سے نمٹنے کے لیے 70 فائر فائٹرز اور ریلیف ورکرز بھیجے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ملک کینیڈا کی جانب سے فائر فائٹرز بھیجے گئے ہیں جبکہ امریکہ کی دیگر ریاستوں کے فائر فائٹنگ محکموں سے بھی اہلکاروں کو لاس اینجلس بھیجا گیا ہے۔

گورنر نیوسم کی جانب سے سنیچر کو کہا گیا ہے کہ انھوں نے لاس اینجلس میں کیلی فورنیا نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کی تعداد بڑھا کر 1700 کر دی ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ 'ہم اس آگ کے خلاف ردِ عمل دینے کے لیے وسائل جمع کر رہے ہیں۔ کیلی فورنیا نیشنل گارڈ کے مرد و خواتین دن رات کام کر کے لاس اینجلس کے رہائشیوں کی اس ضرورت کے وقت میں مدد کر رہے ہیں۔'

ادھر قیدی بھی آگ کو بجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔کیلیفورنیا کی حکومت ان قیدیوں کو روزانہ پانچ سے 10 ڈالر ا±جرت دیتی ہے اور انھیں کسی بھی ہنگامی حالت میں کام کرنے کے لیے اضافی ایک ڈالر دیا جاتا ہے لیکن انھیں ملنے والے ا±جرت حکومتی فائر فائٹرز کو ملنے والی تنخواہ سے بہت کم ہے جو کہ سالانہ لاکھوں ڈالرز کماتے ہیں۔

رائل رامی نامی ایک سابق قیدی کہتے ہیں کہ ’آپ لوگوں (قیدیوں) کو اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں چند کوڑیاں ملتی ہیں۔‘

'اگر آپ آگ بجھانے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں تو آپ کو کوئی فوائد نہیں ملتے۔ آپ کو کوئی انعام نہیں ملے گا اور نہ ہی آپ کو ایک فائر فائٹر تسلیم کیا جائے گا۔'

تاہم رامی کہتے ہیں کہ یہ کم ا±جرت بھی باقی ریاستی جیلوں میں مشقت کے ذریعے ملنے والی رقم سے زیادہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان فائر کیمپس میں 'پِکنک جیسا ماحول' ہوتا ہے اور یہاں کیلیفورنیا میں دیگر جیلوں کے مقابلے میں کھانا بھی بہتر ملتا ہے۔

سی ڈی آر سی کا کہنا ہے کہ ان کیمپس میں شرکت کرنے والے قیدی کچھ خدمات کے ذریعے اپنی قید کا دورانیہ بھی کم کروا سکتے ہیں۔

تاہم سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو اس پروگرام کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔

رامی کہتے ہیں کہ جیل سے رہائی کے بعد ریاستی کیمپس میں تربیت حاصل کرنے والے قیدی اکثر فائر فائٹنگ کی ملازمت کے لیے اپلائی کرتے ہیں لیکن انھیں ملازمت پر نہیں رکھا جاتا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'یہاں توہین یا ہتک کا عنصر موجود ہے۔ جب لوگ فائر فائٹر کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے دماغ میں ایک ہیرو کی تصویر آتی ہے نہ کہ کسی ایسی شخص کی جو جیل میں بند رہا ہو۔'

رامی نے اسی سب کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک ادارے کی بنیاد رکھی تھی جس کا مقصد قیدی فائر فائٹرز کے مسائل کو حل کرنا اور کیلیفورنیا میں فائر فائٹرز کی کمی کو پورا کرنا تھا۔

اس وقت لاس اینجلس میں پانچ مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے جس کے نتیجے مِیں اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

ریاستی حکام نے وسائل کی کمی کے سبب سات ہزار 500 ایمرجنسی ورکرز کو دور دراز علاقوں سے بھی ب±لوا لیا ہے، جن میں نیشنل گارڈ اور کینیڈا سے بلوائے گئے فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔

وہاں لگی آگ پر قابو پانا اس وقت بھی مشکل ہو رہا ہے اور پیلیسیڈز اور ایٹون نامی آگ نے 35 ہزار ایکڑ زمین کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔



Sunday, 12 January 2025

طلباء کے مفاد میں جیل جانا پڑا تو جاؤں گا لیکن بی پی ایس سی سے معافی نہیں مانگوں گا: گرو رحمان

 




پٹنہ، 12 جنوری:بہار کے غریب پس منظر سے آنے والے طلباء کی تعلیم اور روزگار کے لیے وقف کہے جانے والے گرو رحمٰن نے بہار پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کے 70ویں سول سروس امتحان میں 'نارملائزیشن' کے خلاف احتجاج کے دوران کیے گئے تبصروں کو لے کر بی پی ایس سی کی نوٹس کے بارے میں  آج واضح کیا کہ اگر انہیں امیدواروں کے مفاد میں جیل جانا پڑا تو وہ جائیں گے لیکن کمیشن سے معافی نہیں مانگیں گے۔


بی پی ایس سی کی لیگل نوٹس پر جب ان کا موقف جاننے کے لئے اتوار کو خبر رساں ایجنسی یو این آئی نے  گرو رحمان سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے واضح کیا، ’’میں کسی بھی حالت میں معافی نہیں مانگوں گا۔ طلبہ کے مفاد کے لیے جیل جانے کو تیار ہوں۔ کمیشن کے سیکرٹری اور چیئرمین جھوٹے ہیں۔ میں نے نارملائزیشن کی مخالفت کی  تھی اور اب بھی کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ تاہم، انہوں نے بی پی ایس سی سے 70ویں مشترکہ ابتدائی امتحان (پی ٹی) کو مکمل طور پر منسوخ کرنے اور دوبارہ امتحان منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔


مسٹر رحمان نے کہا کہ بی پی ایس سی کے چیئرمین مُن بھائی پرمار اور سکریٹری ستیہ پرکاش شرما نے 30 اکتوبر 2024 کو پٹنہ کے متعدد کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے اساتذہ کے ساتھ میٹنگ کی اور 70 ویں سول سروسز امتحان کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ کمیشن کے چیئرمین اور سکریٹری نے نارملائزیشن سے متعلق طلباء سے بات چیت کے لئے 15 نومبر 2024 کو پٹنہ کے باپو آڈیٹوریم میں ایک میٹنگ بلانے کی یقین دہانی کرائی، لیکن یہ میٹنگ نہیں بلائی گئی۔ بالآخر ہم نے مجبوری میں 6 دسمبر سے نارملائزیشن کی مخالفت شروع کردی۔


گرو رحمان نے کہا، "بی پی ایس سی اور اس کے عہدیدار ہمیشہ اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں سے پیچھے ہٹتے رہے۔ اس کے باوجود میں نے کبھی بھی کمیشن کے عہدیداروں کے خلاف کوئی تضحیک آمیز تبصرہ نہیں کیا ہے۔ نیزبی پی ایس سی کے 70ویں سول سروسز امتحان کے نوٹیفکیشن میں، پوائنٹ دو سے ٹھیک پہلے 'نوٹ' کے تین نمبر پوائنٹ میں واضح طورپر نارملائزیشن نافذ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب اگر ہم نے اس کی مخالفت کی تو ہم نے کیا غلط کیا، پھربھی کمیشن نے قانونی نوٹس بھیجا ہے تو میں اس کا جواب ضرور دوں گا۔ تاہم، انہوں نے ایک بار پھر دہرایا، "طلباء کے مفاد میں مجھے جیل بھی جانا پڑے، تو میں جانے کے لئے تیار ہوں لیکن کمیشن سے معافی نہیں مانگوں گا۔"


قابل ذکر ہے کہ بی پی ایس سی نے گرو رحمان کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ یہ نوٹس بی پی ایس سی کی جانب سے پٹنہ ہائی کورٹ کے وکیل وویک آنند امرتیش نے بھیجا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا، "آپ ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ابتدا میں نارملائزیشن کے بارے میں افواہ پھیلائی تھی، جس میں کہا گیاتھا کہ آپ کو ڈر ہے کہ بی پی ایس سی نارملائزیشن کو نافذ کرنے جا رہا ہے۔ نارملائزیشن کی آڑ میں مندرجہ بالا توہین آمیز تبصرے کرکے اور نیوز بائٹ دے کر آپ نے امیدواروں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرکے اور کمیشن و اس کے عہدیداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاکر سستی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ مندرجہ بالا توہین آمیز بیانات کے پیچھے آپ کے بدنیتی پر مبنی ارادے کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ آپ کا امیدواروں کی فلاح و بہبود سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بلکہ آپ کمیشن کے حوالے سے افواہیں پھیلا کر امیدواروں اور عام لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔


کمیشن نے کہا کہ حقائق اور حالات کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ گرو رحمان بے بنیاد اور ہتک آمیز ریمارکس کرکے بی پی ایس سی اور اس کے افسران کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے گرو رحمان سے درخواست ہے کہ وہ پندرہ دنوں کے اندر کمیشن اور اس کے افسران سے غیر مشروط عوامی معافی مانگیں اور مستقبل میں کوئی قابل اعتراض تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔


جی 2اسٹال الیکون 2025 میں مختلف قسم کے جدید برقی آلات کی نمائش کیا

 




پٹنہ۔(پریس ریلیز) بہار الیکٹرک ٹریڈ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام الیکون 2025 کے جی2 اسٹال پر بہت سے جدید الیکٹریکل مصنوعات کی نمائش کی گئی جو نہ صرف بہترین بلکہ کفایتی بھی تھیں اور لوگوں نے انہیں پسند کیا۔ کمپنی کے ڈائریکٹر ہتیش جین نے کہا کہ جی2 ممبئی اور احمد آباد میں تیار کیا جاتا ہے اور بہار میں بہت سے جدید الیکٹرک پروڈکٹس لانچ کیے جائیں گے جو جدید، پرکشش اور اقتصادی بھی ہوں گے۔ کمپنی کے ڈائریکٹر ہتیش جین نے کہا کہ مستقبل میں کمپنی بہت سے جدید برقی آلات تیار کرے گی جو جدید، مفید اور کفایتی ہوں گے۔ بہار میں کمپنی کے سی اینڈ ایف، اریمان موٹانا اور نمن اگروال نے کہا کہ ہماری تقسیم بہار کے کونے کونے میں جی ٹو کے تمام پاور پروڈکٹس فراہم کرے گی۔


اسمبلی الیکشن پوری تیاری کے ساتھ لڑیں گے تجمل حسین

 




 دربھنگہ:- ضلع جن سوراج پارٹی کے صدر بلٹو ساہنی جی کی صدارت میں ریاستی جن سوراج پارٹی کور کمیٹی ممبر اور دربھنگہ کے ضلع انچارج محمد تجمل حسین صاحب کی نگرانی میں ایڈوکیٹ شاہد اطہر بانی ممبر کے رہائشی دفتر میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ریاستی مہم کمیٹی کی رکن شمشاد نور، ضلع سکریٹری ذاکر علی، خواتین لیڈر آمنہ شفیع، نگر صدر ارونیش چندرا، نگر نائب صدر محمد شوکت اور سینئر رکن سہیل احمد خان نے شرکت کی۔  اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع انچارج تجم الحسین نے کہا کہ تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے فوری طور پر تیاریاں کی جائیں اور اسمبلی انتخابات پوری تیاری اور حکمت عملی کے ساتھ لڑیں گے۔ جس میں متھیلا سمیت بہار کے تمام اضلاع میں جن سوراج کے امیدواروں کے لیے ایک لہر پیدا کی جائے گی، تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اسمبلی امیدوار الیکشن جیت سکیں-  اس کے ساتھ ہی ضلع صدر نے اعلان کیا کہ تمام ریاستی عہدیداروں اور تمام ضلعی کمیٹی کے عہدیداروں کو 15 جنوری 2025 بروز بدھ دوپہر 12 بجے سے پارٹی آفس میں ایک میٹنگ رکھی گئی ہے جس میں سبھی عہدیداران کو شرکت کرنی ہوگی۔ پروگرام میں ضلع انچارج کا والہانہ استقبال کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ضلعی انچارج اسمبلی الیکشن کے لیے جو بھی گائیڈ لائنز دیں گے ان کو 100% پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی- اس موقع پر بانی رکن اور ریاستی ورکنگ کمیٹی کے رکن ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں امیدوار بننے کا حق جن سوراج نے ہر کسی کو دیا ہے جس کے لیے کچھ طریقہ کار ہے۔ اس عمل کو مکمل کرنے کے بعد ہائی کمان امیدوار بنانے کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گی، تمام جن سراجی کو اس کا ساتھ دینا ہوگا اور امیدواروں کے حمایت میں لہر پیدا کی جائیگی اور بہار میں بدعنوانی کررہی سرکار  بی پی ایس سی کے طلبہ کے مستقبل سے کھیل رہی سرکار  تعلیم، روزگار اور صحت کے مسائل سے کھیل رہی سرکار کو ہٹا کر جن سوراج کی حکومت بنانی ہوگی اور بہار کو ترقی کی پٹڑی پر لانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

گیان بھون میں انڈیا انٹرنیشنل میگا ٹریڈ فیئر کاہوا افتتاح

 





 پٹنہ (پریس ریلیز) جی ایس مارکیٹنگ ایسوسی ایٹس اور بنگال چیمبر کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر انڈیا انٹرنیشنل میگا ٹریڈ فیئر کے نویں ایڈیشن کا سنیچر کو گیان بھون میں افتتاح کیا گیا۔ اس میگا تجارتی میلے کا افتتاح مہمان خصوصی پٹنہ کی میئر سیتا ساہو نے کیا۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے میئر سیتا ساہو نے کہا کہ اس تجارتی میلے کا آغاز ریاست کی اقتصادی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ میگا ایونٹ بلاشبہ کاروبار کے زبردست مواقع فراہم کرے گا۔ دریں اثنا، ایونٹ کوآرڈینیٹرز، بنگال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اراکین چدروپ شاہ اور تپن گھوش نے بتایا کہ بین الاقوامی مصنوعات کی وسیع تعداد سے مزین اس دس روزہ نمائش میں پچیس ہزار سے زائد بین الاقوامی مصنوعات فروخت کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میلہ خاص طور پر پٹنہ کے شہریوں کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ 10 جنوری سے 20 جنوری 2025 تک جاری رہنے والی اس نمائش میں ہندوستان کی 12 ریاستوں کے ساتھ دنیا کے 8 ممالک بشمول افغانستان، ملائیشیا، ایران، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، دبئی، ترکی اور یقیناً ہندوستان شرکت کر رہے ہیں۔ میلے کا انعقاد ایک شاندار نمائشی ماحول میں کیا گیا ہے جس میں ہندوستان اور بیرون ملک سے 25000 سے زیادہ منفرد مصنوعات کی نمائش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میلہ صبح 11 بجے سے رات 9 بجے تک کھلا رہے گا جس میں صارفین کے لیے مفت داخلہ ہوگا۔


بہار انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے آڈیٹوریم میں دو روزہ ٹیچنگ جاب فیئر ۔ 2025 کا افتتاح

 




ہل کے تحت ایجوکیشن اسٹارٹ اپ ایڈور نے دو روزہ "ٹیچنگ جاب فیئر - 2025" کا شاندار آغاز کیا۔ میلے کا افتتاح سابق مرکزی وزیر اور ممبر پارلیمنٹ روی شنکر پرساد، روبن ہسپتال کے چیئرمین بیبھا سنگھ؛ ڈاکٹر ستیہ جیت کمار سنگھ؛ چیتنا سمیتی کے ممبران نے مشترکہ طور پر شیلپن کے بانی رمبھا جھا اور ایڈوڈر کے ڈائریکٹر پریم اوجھا کی طرف سے شمع روشن کر کے پروگرام کا افتتاح کیا۔ آنے والے مہمانوں نے کہا کہ یہ تقریب بہار کے تعلیمی شعبے کو ایک نئی سمت فراہم کرے گی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوڈور کے ڈائریکٹر پریم اوجھا نے کہا کہ 11 اور 12 جنوری کو منعقد ہونے والے اس دو روزہ میلے کا مقصد پورے بہار میں اساتذہ کو روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام میں پورے بہار سے پرائیویٹ اسکول حصہ لے رہے ہیں، جو واک ان انٹرویو کے ذریعے اساتذہ کو روزگار کے بہترین مواقع فراہم کریں گے۔ ہماری اس تقریب سے اساتذہ کو روزگار کے اچھے مواقع میسر آئیں گے جس سے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی دور ہو گی اور قابل اور تجربہ کار اساتذہ کی بدولت تعلیمی سطح میں نمایاں بہتری آئے گی۔ یہ پروگرام نہ صرف تدریسی برادری کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ طلباء کو بہتر تعلیمی تجربہ بھی فراہم کرے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ اپنے کیریئر میں کامیابی حاصل کریں اور بچوں کی بہتر تعلیم کو یقینی بنائیں۔ ہماری طرف سے منعقد کیے گئے تربیتی سیشنز اور کیریئر کونسلنگ اساتذہ کو اپنی صلاحیتوں کی شناخت اور ان کو بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔ ہم اسے ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں اساتذہ کو نہ صرف روزگار ملے گا بلکہ پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون بھی حاصل ہوگا۔ پریم اوجھا نے کہا کہ اس تقریب میں روبن میموریل ہسپتال کو بطور ہیلتھ پارٹنر خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے جو اساتذہ اور مہمانوں کو صحت سے متعلق خدمات فراہم کرے گا۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس تدریسی جاب فیئر کے دوران ہر ایک کی صحت کا بھی خیال رکھا جائے۔ اس میلے میں شیمفورڈ فیوچرسٹک اسکول، نوادہ، نیشنل پبلک اسکول، کٹیہار، اے وی ایم پبلک اسکول، کٹیہار، اینگلو ایسٹرن انٹرنیشنل اسکول، ویشالی، گیانودیا گروکل اسکول، پٹنہ، شانتی مشن اکیڈمی، سہرسہ، سینٹ پال پبلک اسکول، بیگوسرائے، پریذیڈنسی۔ گلوبل اسکول، پٹنہ، اسکائی ویڑن پبلک اسکول، لکھیسرائے، گیان جیوتی رہائشی اسکول، آرا، آر پی ایس کانوینٹ اسکول، نوادہ، ادویت مشن ہائی اسکول، بنکا، وویکانند وی آئی پی اسکول، اورنگ آباد، سینٹ جان سیکنڈری اسکول، بکسر، چندر شیل ودیا پیٹھ، مظفر پور، انکرم اسکول جیسے روبوٹکس، پٹنہ وغیرہ نے نمایاں حصہ لیا۔


یومِ اردو کے دن اردو زبان پر روک لگانے والے رجسٹرار کرنل کامیش کو فوراً کیا جائے برخواست : محمد رفیع

 





پٹنہ، 12/ جنوری(پریس ریلیز ) مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی کے ڈیولپمنٹ افسر ڈاکٹر انعام ظفر شمسی کے اردو زبان کے استعمال کی وجہ سے یومِ اردو کے دن تنخواہ روکنے کا حکم رجسٹرار کرنل کامیش نے دیا ہے۔ دراصل رجسٹرار کرنل کامیش نے کسی بات کی وضاہت طلب کی تھی جس کا جواب انہوں اردو میں دیا تو اردو دشمن رجسٹرار کرنل کامیش چراغ پا ہو گئے اور انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ سرکاری زبان ہندی اور انگریزی ہے انعام ظفر کے خلاف وجہ بتانے کے لئے مکتوب جاری کر دیا جس کا جواب بھی انہوں نے پھر سے اردو زبان میں ہی دیا اور یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اور مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی میں خصوصی طور پر اردو زبان کے استعمال پر پابندی لگانا گویا فصل گل میں نکہت گل پر پابندی عائد کرنے کے مترادف ہے۔ یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہی ہے۔ 10 جنوری، یومِ اردو و سالار اردو الحاج غلام سرور کے یومِ پیدائش کے دن ہی الحاج غلام سرور کے سچے جانشیں و ان کے کئی کتابوں کے مرتب کرنے والی شخصیت، بہار اسمبلی میں شعبہ اردو کے بانی سابق اڈمنسٹریٹیو افسر و غلام سرور کے اردو تحریکوں کے سچے خادم ڈاکٹر محمد انعام ظفر شمسی کے خلاف آمرانہ کاروائی کرتے ہوئے ان کی تنخواہ پر روک لگانے کا حکم صادر کر دیا۔ جناب رفیع نے کہا کہ جب مجھے ان باتوں کی خبر معتبر ذرائع سے ہوئی تو میں نے ڈاکٹر محمد انعام ظفر صاحب سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے اردو زبان کے استعمال سے روکنے کی کوشش میرے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی سازش ہے جس سے میں نے معزز وائس چانسلر پروفیسر محمد عالمگیر صاحب کو اردو زبان میں ہی اپنی عرض داشت پیش کر کے رجسٹرار صاحب کے اس آمرانہ حکم کو منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے اور جناب ظفر نے صاف لفظوں میں ہم سے کہا ہے کہ اردو نہیں تو ہم نہیں۔ اس لئے میں معزز چانسلر و گورنر آف بہار کے ساتھ اردو دوست معزز وزیر اعلی بہار جناب نتیش کمار سے مانگ کرتا ہوں کے ایسے اردو دشمن رجسٹرار کرنل کامیش کو عربی فارسی یونیورسٹی جس کی بنیاد ہی عربی فارسی و اردو زبان کا فروغ دینا ہے سے جلد از برخواست کیا جائے اور بہار کی دوسری سرکاری زبان اردو کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرنے کے خلاف ان پر مناسب کارروائی کی جائے۔ 


روٹری کلب آف پٹنہ کنکر باغ کے ذریعہ کمبل تقسیم

 




پٹنہ ،12 جنوری ،(پریس ریلیز):روٹری کلب آف پٹنہ کنکر باغ کے ذریعہ نالندہ ضلع کے مایارگڑھ میں ضرورت مندوں کے مابین کمبل تقسیم کیا گیا ۔ اس کی اطلاع دیتے ہوئے مذکورہ کلب کے صدر راج کشور نے بتایا کہ اس پروگرام میں 300 غریب خاندانوں میں کمبل تقسیم کیے گئے جس سے سردیوں کے موسم میںضرورتمندوں کو بڑی راحت ملے گی۔ اس پرو گرام میں تعاون کرنے والی کلب کی نائب صدر ڈاکٹر رینو موار اور ان کے خاندان کا یہ اقدام کمیونٹی کے تعاون کی ایک مثال ہے۔ مزید برآں8 کلب کے اراکین، گاؤں کے سربراہ اور دیگر معززین کی شرکت نے اس پروگرام کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔روٹری پریوار سماج میں انسان دوستی اور اتحاد کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے اس طرح کی تقریبات کا انعقادکرتی رہتی ہے ۔ 

محبان اردو نے ہندوستان کی پہلی مسلم معلمہ فاطمہ شیخ کو ان کی یوم پیدائش پر یاد کیا

 




پٹنہ:محبان اردو( عاشقان اردو کا گہوارہ) تنظیم کے سیکرٹری محمد پرویز انور نے پریس ریلیز جاری کر بتایا کہ فاطمہ شیخ جن کو ہندوستان کی پہلی مسلم معلمہ یعنی لیڈی ٹیچر ہونے کا شرف حاصل ہے, جن کی پیدائش 9 جنوری 1831 کو پونے مہاراشٹر میں ہوئی تھی, ان کو یاد کرنے کے لیے ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے کے دفتر فلیٹ نمبر 264 7th فلور گرینڈ اپارٹمنٹ ڈاک بنگلہ چوراہا پٹنہ میں ایک محفل آراستہ کی- اس محفل میں پٹنہ شہر کے نامور حضرات نے شرکت کی ،جن کے نام اس طرح ہیں ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے، جناب ارشد فیروز چیئرمین گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ، پروفیسر شکیل احمد قاسمی شعبہ اردو اور ینٹل کالج پٹنہ سٹی , جناب پرویز اردو لائبری،پروفیسر اسلم زیڈ اے اسلامیہ کالج سیوان ،علامہ اقبال کالج کے افتاب احمد،محمد حسنین، سیاست دان او میش کمار،عبدالقیوم انصاری صاحب کے پوتے تنویر انصاری، محمد عالمگیر نظامی،اطیب علی، معروف شاعر سید شاہ جمال کاکوی، نامور صحافیوں کی جماعت بھی وہاں موجود تھی جن میں انوار الہدی اسحاق اثر نواب عتیق الزماں ہارون رشید حافظ ضیاء اللہ سید جاوید خورشید انور کے نام اہم ہین- اس پروگرام کی صدارت جناب ارشد فیروز صاحب نے کی ۔اسپیکر کی ذمہ داری پروفیسر شکیل احمد قاسمی صاحب نے نبھائی, نظامت کے فرائض محبان اردو کے سیکرٹری محمد پرویز انور نے انجام دیے- مہمان خصوصی ڈاکٹر اظہار احمد صاحب رہے-

اس تقریب میں محترمہ فاطمہ شیخ کے خواتین کے تعلیم کے سلسلے میں کیے گئے کنٹریبیوشن کو یاد کیا گیا, بی بی فاطمہ شیخ کو یاد کرتے ہوئے جلسے کے صدر جناب ارشد فیروز صاحب نے فرمایا کہ ہندوستان کی پہلی لیڈی ٹیچر ساوتری بائی پھولے کا ساتھ فاطمہ شیخ نے بڑھ چڑھ کر دیا انہوں نے بتایا کہ فاطمہ شیخ نے اپنی پراپرٹی ساوتری بھائی پھولے کو ڈونیٹ کر دیا تاکہ اس عمارت میں اسکول چل سکے وہ دروازے دروازے گھوم کر بچیوں کو تعلیم کی طرف بلاتی تھیں اور تعلیم کی اہمیت گھر گھر جا کر لوگوں کو سمجھایا کرتیں - جناب احمد فیروز صاحب نے موجود شرکا کو یہ پیغام دیا کہ گورنمنٹ اردو لائبریری میں محترمہ فاطمہ شیخ کی ایک تصویر نمایا ںجگہ پر چسپاں کی جائیںگی تاکہ لوگوں کو معلو ہوسکے کہ تقریبا 200 سال پہلے مسلم معاشرے سے ایک خاتون تعلیمی بیداری کی علمبردار تھی, انہوں نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ محبان اردو کے سیکرٹری محمد پرویز انور مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے فاطمہ شیخ کی تعلیمی بیداری کے لیے کیے گئے خدمات کو یاد کرنے کے لیے اس محفل کو سجایا محمد پرویز انور نے فرمایا کہ اس تقریب کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر اظہار احمد صاحب کا بھی بڑا ہاتھ ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے دفتر کے سینٹرل ہال کو تقریب کے انعقاد کے لیے فراہم کیا۔

 مزید محمد پرویز انور نے اپنی گفتگو میں جناب ارشد فیروز صاحب کا بھی تہہ دل سے شکریہ کیا جنہوں نے اس تقریب کی صدارت قبول کی اور بڑے جوش و خروس کے ساتھ جلسے میں شامل ہوئے اور اپنی قیمتی رائے اور معلومات اپنی تقریر کے ذریعے لوگوں کے بیچ شیئر کی , پروفیسر شکیل احمد قاسمی صاحب نے اپنی تقریرمیں کہا کہ اپنے قوم کی نمایاں شخصیت اور ان کے کارنامے کو یاد کرنا بہت ضروری ہے , تب ہی تو ہماری نسل یہ جان سکے گی کہ ہمارے بڑوں نے ماضی میں ہمارے معاشرے کے لیے کتنی قربانیاں دیں, پروفیسر شکیل احمد قاسمی صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ فاطمہ شیخ ایوارڈ کے نام سے اسکولوں اور کالجوں میں بچیوں کے بیچ فاطمہ شیخ ایوارڈ دیا جائے جو ان کے علمی صلاحیت کو سراہنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہو - محمد پرویز انور نے فرمایا کہ ہمیں یہ چاہیے کہ فاطمہ شیخ کی تصویر اور ان کے بارے میں معلوماتی کتابچہ وزیر اعلی وزیر تعلیم اور گورنر کو پیش کیا جائے اور فاطمہ شیخ کی تصویر کو ان کے دفتر میں لگانے کی مانگ کی جائے اور تعلیم کے حلقے میں نمایاں کام کرنے والی کسی خاتون کو فاطمہ شیخ ایوارڈ دیا جائے- معروف صحافی انوار الہدی صاحب نے فاطمہ شیخ کے بارے میں تفصیلی جانکاری شرکا کے بیچ شیئر کی, اسحاق اثر صاحب کی تقریر کو بھی لوگوں نے بہت سراہا جو کہ چھوٹی مگر بہت معلوماتی تھی حافظ ضیاء اللہ صاحب نے کہا کہ ہمارا ملک ساوتری بائی پھولے کو تو یاد رکھ رہا ہے لیکن ہمارے قوم کی ایک خاتون جس نے ساوتری بھائی پھولے کے ساتھ شانہ بشانہ قدم سے قدم ملا کر چلی ان کو بھول گیا ہے میں محمد پرویز انور کی تعریف کرتا ہوں جنہوں نے فاطمہ شیخ کو یاد کرنے کے لیے اس تقریب کا انعقاد کیا۔تنویر انصاری صاحب نے فاطمہ شیخ کے بارے میں بڑی گہرائی سے مطالعہ کر اپنی تحقیقی تقریر کو لوگوں کے بیچ پیش کیا جس کی وہاں موجود لوگوں نے بہت تعریف کی- خورشید انور صاحب نے پورے پروگرام کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جسے وہ اپنے یوٹیوب چینل پر پیش کریں گے- جناب ارشد فیروز صاحب کی صدارتی خطبے نے تمام لوگوں کا دل جیت لیا اور موجود لوگوں نے ان کی شمولیت کو تہہ دل سے سراہا- اخر میں پروگرام جناب پرویز صاحب کی شکریہ کی تجویز کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ڈاکٹر اظہار احمد صاحب نے محفل میں موجود شرکا کی دل کھول کر ضیافت کی جس کی لوگوں نے دل کی گہرائیوں سے پذیرائی کی۔محبان اردو منتظمہ کمیٹی:- صدر نسرین خاتون نائب صدر پروفیسر تنویر احسن نظامی شبیر زبیری و ہنا شبیر سیکرٹری محمد پرویز انور مشیر ہ سید شاہ جمال کاکوی, ممبران پروفیسر سعد اللہ قادری شاداب عالم و محمد نایاب۔


Friday, 10 January 2025

ڈاکٹر ریحان غنی غلام سرور ایوارڈ و عبدالسلام انصاری بیتاب صدیقی ایوارڈ سے ہوئے سرفراز

 




پٹنہ،  یوم اردو تقریب کے موقع پر قومی اساتذہ تنظیم بہار نے اردو کے بے لوث خادم، اردو تحریکوں کی جان، مشہور و معروف صحافی، روزنامہ تصدیق کے مدیر اعلی و نائب صدر اردو ایکشن کمیٹی بہار کو قومی اساتذہ تنظیم بہار نے ان کو تحریکی، صحافتی و سماجی خدمات کے لئے الحاج غلام سرور ایوارڈ سے نوازا۔ ڈاکٹر ریحان غنی 1952میں پھلواری شریف میں پیدا ہوئے۔ وہیں ہائی اسکول سے 1967میں میٹرک اور پٹنہ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1978 میں شیر بہار غلام سرور کے اخبار سے صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے قبل وہ ان کی اردو تحریک سے جڑ چکے تھے۔ ریحان غنی 1981 سے 1983 تک اور پھر 1985 سے 1991 تک قومی آواز پٹنہ ایڈیشن کے شعبہ ادارت سے وا بستہ رہے۔ درمیان میں محکمہ راج بھاشا کے تحت سہرسہ بلاک آفس میں اردو مترجم کے عہدے پر فائز رہے۔ قومی آواز بند ہونے کے بعد وہ مختلف اخبارات سے وابستہ رہے جن میں انقلاب جدید پٹنہ، نیا اردو سما چار ناگپور، اقرا کلکتہ، پندار پٹنہ میں بھی صحافتی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس وقت وہ روزنامہ تصدیق کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ ان کی اب تک دو کتابیں" قوس قزح"اور " اردوئے معلیٰ کی ادبی خدمات" منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کا کالم" دو ٹوک " بہت مشہور ہے۔ ان کی صحافتی خدمات 43 سال پر محیط ہیں۔

دوسری جانب ہردلعزیز و بہت ہی متحرک و فعال افسر و سماجی، ملی خدمتگار، جو اردو، عربی و فارسی زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے فکرمند رہنے والے جناب عبدالسلام انصاری سیکریٹری بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ و ڈپٹی ڈائریکٹر سیکنڈری ایجوکیشن بہار کو عربی، فارسی زبان کے اساتذہ کی بحالی کرانے میں اہم رول ادا کرنے و اردو زبان کی ترقی کے لئے بیتاب رہنے کے اعتراف میں قومی اساتذہ تنظیم بہار نے بیتاب صدیقی ایوارڈ سے نوازہ ہے۔ عبدالسلام انصاری کے والد اسکول میں استاد تھے اور انہوں نے بہت سادہ زندگی گزارا ہے۔ ان کا ہر خواس و عام سے دوستانہ تعلق رہتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیشہ وارانہ زندگی کی شروعات ایک استاد کی حیثیت سے کی تھی پھر وہ عدالت میں پیش کار ہوئے اور اپنی لگن و محنت کے بوتے فارسی زبان کے ساتھ بہار پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا۔ پہلے تو انہوں نے اڈمنیسٹریشن کے شعبہ میں خدمات انجام دئے پھر وہ تعلیمی شعبہ کے افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے لگے۔ جناب انصاری کو اسی شعبہ میں مقبولیت حاصل ہوئی، اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے انہوں نے بڑے خدمات انجام دئے ہیں۔ عربی زبان کے اساتذہ کی بحالی کی جو روایت بہار میں قائم ہوئی ہے اس کے لئے قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع کے ساتھ جناب عبدالسلام انصاری کو بھی اعزاز جاتا ہے۔ وہ سرکاری اسکولوں کے ساتھ ہی پرائیویٹ اسکولوں میں بھی اردو زبان کو لازمی طور پر پڑھوانے کے لئے فکرمند رہتے ہیں۔ ڈاکٹر ریحان غنی و عبدالسلام انصاری کو وزیر اقلیتی فلاح زماں خان و سابق ایم پی راجیہ سبھا ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے مشترکہ طور پر قومی اساتذہ تنظیم بہار کے صدر تاج العارفین ، کنوینر محمد رفیع اور سیکریٹری محمد تاج الدین کی موجودگی میں دی ایوارڈ سے نوازہ، اس موقع پر الحاج ارشاد اللہ چیئرمین بہار سنی وقف بورڈ پٹنہ، امتیاز احمد کریمی، پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی اور ایم ایل سی آفاق احمد وغیرہ موجود تھے۔ اردو آبادی میں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے اس فیصلے سے پوری اردو آبادی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ڈاکٹر ریحان غنی و عبدالسلام انصاری کو ایوارڈ ملنے پر ڈاکٹر احمد اشفاق کریم، امتیاز احمد کریمی، پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی، اشرف فرید، تاج العارفین، محمد رفیع، محمد تاج الدین، ڈاکٹر انوار الھدیٰ، اشرف النبی قیصر، منہاج ڈھاکوی، عبدالباقی صدیقی ، آفتاب عالم سکریٹری قومی اساتذہ تنظیم مظفر پور اور عظیم الدین انصاری وغیرہ نے مبارکباد پیش کی ہے۔