Sunday, 29 December 2024

سابق آئی پی ایس اور سماجی کارکن آچاریہ کشور کنال کا انتقال، نتیش۔لالو سمیت متعدد شخصیات کا اظہار تعزیت

 




پٹنہ :بہار کے سابق آئی پی ایس افسر کشور کنال کا اتوار کو انتقال ہو گیا۔ان کے انتقال پر وزیراعلیٰ نتیش کمار ، سابق وزیراعلیٰ لالو پرساد یادو سمیت متعدد شخصیات نے غم کا اظہار کیا ہے۔ 

 آچاریہ کشور کوآج صبح میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد انہیں مہاویر کینسر اسپتال لے جایا گیا جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کی عمر 74 سال تھی۔ کشور کنال سبکدوش آئی پی ایس افسر تھے اور بہار راجیہ دھارمک نیاس بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر بھی رہے۔ وہ پٹنہ کے مہاویر مندر نیاس کے سکریٹری اور گیان نکیتن نامی اسکول کے بانی بھی تھے۔ مہاویر مندر ٹرسٹ کے سکریٹری کے طور پر انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے مندر کی تعمیر کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ مہاویر ہیلتھ انسٹی چیوٹ، مہاویر کینسر سنستھان، مہاویر نیترالیہ کی بنیاد بھی انہوں نے ہی ڈالی تھی۔ غریبوں کے لیے یہ اسپتال زندگی بخش ثابت ہوئے۔


آچاریہ کشور کنال نے پٹنہ میں مہاویر مندر، مہاویر کینسر اسپتال اور مہاویر واتسلیہ اسپتال قائم کروایا تھا۔ وہ انڈین پرولیس سروس کے مشہور افسر رہے ہیں۔ 1972 میں کشور کنال گجرات کیڈر میں آئی پی ایس افسر بنے تھے۔ ان کی پہلی پوسٹنگ آنند میں ایس پی کے طور پر ہوئی تھی۔ 1978 تک وہ احمد آباد کے پولیس کمشنر بن گئے۔ 1983 میں بہار آنے پر کشور کنال کو پٹنہ کا ایس ایس پی بنایا گیا تھا۔ 2001 میں کشور کنال نے رضاکارانہ طور پر انڈین پولیس سروس سے استعفیٰ دے دیا۔ سبکدوشی کے بعد انہوں نے بہار راجیہ دھارمک نیاس بورڈ کے چیئرمین کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔



آچاریہ کشور کنال کی پیدائش 10 اگست 1950 کو بہار میں مظفرپور کے بروراج گاو¿ں میں ہوئی تھی۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے تاریخ اور سنسکرت میں 1970 میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور 1983 میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ کشور کنال نے دربھنگہ کی سنسکرت یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر بھی کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بہار میں تعلیم اور صحت انتظام بہتر کرنے کے لیے اپنا اہم تعاون دیا۔ ان کے انتقال پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سمیت کئی سیاسی و سماجی رہنماو¿ں نے گہرے غم کا اظہار کیا ہے اور اسے سماج کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔


آچاریہ کشور کنال کی بے وقت موت ایک ناقابل تلافی نقصان ہے: جے ڈی یو

جے ڈی (یو) کے ریاستی ترجمانوں نے آچاریہ کشور کنال کے بے وقت انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور اسے بہار کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میںرکن قانون ساز کونسل کم پارٹی کے چیف ریاستی ترجمان مسٹر نیرج کمار، ریاستی ترجمان ڈاکٹر نیہورا پرساد یادو، مسٹر اروند نشاد، مسٹر ہمراج رام، مسز انجم آرا، مسٹر نول شرما، مسٹر ابھیشیک جھا، مسٹر پرمل کمار اور مسٹر منیش یادو نے کہا کہ انہوں نے سماج کے لیے جو کام کیا ہے وہ سب کے لیے ایک مثال ہے۔

 پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ آچاریہ کشور کنال نہ صرف ایک موثر منتظم تھے بلکہ مذہبی اور سماجی میدان میں بھی ان کا تعاون بے مثال ہے۔ مہاویر مندر کے انتظام کے سربراہ کے طور پر، انہوں نے پٹنہ میں مہاویر کینسر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا، جو شمالی ہندوستان کا ایک بڑا کینسر ہسپتال ہے، اور غریب مریضوں کے لیے مہاویر وتسالیہ جیسے بڑے ہسپتال بنائے، جہاں مریضوں کا بہت کم خرچ پر علاج کیا جاتا ہے۔ آچاریہ کشور کنال نے ہمیشہ غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا اور ان کے دکھ درد کو سمجھا۔ آچاریہ کشور کنال نے بھی کئی تحریریں لکھیں۔ ان کے بے وقت انتقال سے بہار ایک دور اندیش اور آگے کی سوچ رکھنے والی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔



آچاریہ کشور کنال کے انتقال پر لالو ، رابڑی ، تیجسوی سمیت آرجے ڈی لیڈران کا اظہار غم 


آر جے ڈی کے قومی صدر جناب لالو پرسادیادو، سابق وزیر اعلیٰ محترمہ رابڑی دیوی، قائد حزب اختلاف جناب تیجسوی پرساد یادو، رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر میسا بھارتی، سابق وزیر جناب تیج پڑتاپ یادو، ریاستی صدر جگدانند سنگھ، قومی نائب صدر جناب ادے نارائن چودھری، قومی جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی، سابق مرکزی وزیر شری جے پرکاش نارائن یادو، ڈاکٹر مسز کانتی سنگھ، قومی چیف ترجمان پروفیسر منوج کمار جھا، راجیہ سبھا کے رکن اسمبلی شری سنجے یادو، قومی جنرل سکریٹری شری بھولا یادو، سید فیصل علی، بنو یادو، ریاستی نائب صدر اشوک کمار سنگھ، ڈاکٹر تنویر حسن، شری شیو چندر رام، شری سریش پاسوان، ریاستی جنرل سکریٹری شری رنوجے ساہو، خزانچی محمدکامران، ریاستی آر جے ڈی کے چیف ترجمان شری شکتی سنگھ یادو، ریاستی ترجمان اعجاز احمد کے ساتھ۔ آر جے ڈی کنبہ کے دیگر رہنماو¿ں نے مہاویر نیاس پریشد کے سکریٹری آچاریہ کشور کنال کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت سے ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں سماجی میدان میں جو کام کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ ایک اچھے انتظامی افسر ہونے کے علاوہ انہوں نے مہاویر اسپتال اور دیگر اسپتالوں کے ذریعہ سماج کے مفاد میں جو تعاون دیا ہے اسے بہار کے لوگ فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔



24 گھنٹے کے اندر جنوبی کوریا، ناروے اور کینیڈا میں طیارہ حادثہ، 179 افراد جاں بحق








گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 ممالک میں ہوئے طیارے حادثے میں 179 لوگوں نے اپنی جانیں گنوا دی ہیں۔ پہلا طیارہ حادثہ جنوبی کوریا میں ہوا۔ یہاں موآن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 181 مسافرین کو لے جا رہے جیجو ایئر کا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے بعد طیارہ میں آگ لگ گئی جس میں سوار 179 لوگوں کی موت ہو گئی۔ دوسرا طیارہ حادثہ کینیڈا کے ہیلیفیکٹس ایئرپورٹ پر ہوا۔ یہاں ایئر کینیڈا کے ایک طیارہ کی ایئرپورٹ پر خطرناک لینڈنگ ہوئی جس میں طیارہ رنوے سے پھسل گیا اور لینڈنگ گیئر ٹوٹ جانے کی وجہ سے طیارے میں آگ لگ گئی۔ تیسرا حادثہ ناروے کے اوسلو ایئرپورٹ پر ہوا۔



اگر جنوبی کوریا کے طیارے حادثے کی بات کریں تو اتوار کو موآن انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر طیارہ حادثے میں 181 لوگوں میں سے 179 لوگوں کی موت ہو گئی جبکہ 2 لوگوں کو بچا لیا گیا۔ یہ جنوبی کوریا کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا طیارہ حادثہ ہے۔ حادثہ کا شکار 15 سال پرانا طیارہ بوئنگ 737-800 جیٹ تھائی لینڈ کے بینکاک سے آیا تھا۔ یہ حادثہ لینڈنگ گیئر کی خربی کی وجہ سے پیش آیا۔ جنوبی کوریا کی نیشنل فائر ایجنسی کے مطابق حادثے میں ہلاک ہوئے 179 افراد میں 83 خواتین اور 82 مردوں کی شناخت ہوئی ہے باقی کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ جبکہ 2 مسافرین کی جان بچا لی گئی ہے جو حادثے کے بعد بیہوشی کی حالت میں پائے گئے تھے۔



طیارہ کا دوسرا حادثہ کینیڈا میں ہوا جہاں ایئر کینیڈا کی ایک فلائٹ کی ہیلیفیکٹس ایئرپورٹ پر خطرناک لینڈنگ ہوئی ہے۔ لینڈنگ کے دوران گیئر ٹوٹ جانے کی وجہ سے طیارہ میں آگ لگ گئی۔ حالانکہ حادثے میں کسی کے جانی نقصان ہونے کی کوئی خبر اب تک سامنے نہیں آئی ہے۔ تیسرا طیارہ حادثہ ناروے میں ہوا۔ دراصل اوسلو سے اڑان بھڑنے والے طیارہ کے پائلٹوں اور مسافروں نے تیز آواز سنیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق پائلٹوں نے طیارہ کے بائیں انجن سے دھواں نکلتے دیکھا جس کے بعد طیارہ کی ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔ حالانکہ طیارہ رنوے پر کنٹرول نہیں ہو پایا اور رنوے سے پھسل کر گھاس میں جا کر رک گیا۔ طیارہ میں سوار سبھی 182 مسافرین محفوظ ہیں۔


جرمنی کے رکن پارلیمنٹ راہل کمبوج سے ملاقات کے بعد اکھلیش یادو نے ایک بار پھر ای وی ایم پر اٹھایا سوال

 





سماج وادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اترپردیش نے ایک بار پھر ای وی ایم پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے یہ باتیں جرمنی کے فرینکفرٹ سے رکن پارلیمنٹ راہل کمار کمبوج سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔ راہل کمار کمبوج اور اکھلیش یادو کے دوارن لمبی گفتگو ہوئی۔ اکھلیش یادو سے ملاقات کے بعد راہل کمبوج نے کہا کہ اترپردیش کے لیے اکھلیش یادو کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ہے۔ ساتھ ہی راہل نے کہا کہ وہ دوستی کی خاطر اکھلیش یادو سے ملنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بڑے مواقع فراہم ہونے والے ہیں۔ اس کی سمت میں مل کر کام کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان جو دوستی ہے اس کو ایک موقع کے طور پر استعمال کر کے کام کرنے کی ضرورت ہے۔


راہل کمبوج سے ملاقات کرنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے ای وی ایم سے انتخاب کو لے کر ایک بار پھر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی جرمنی میں بیلٹ پیپر کے ذریعہ ووٹنگ ہوتی ہے لیکن ہندوستان میں ای وی ایم کا کھیل جاری ہے۔ وہیں راہل کمار کمبوج نے ای وی ایم کے حوالے سے کہا کہ ہمارے جرمنی میں آج بھی ووٹنگ بیلٹ پیپر سے ہوتی ہے۔ ساتھ ہی راہل نے واضح کر دیا کہ جرمنی میں ہونے والے تمام انتخاب خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے بیلٹ پیپر سے ہی ہوتے ہیں۔ اگر کبھی ووٹوں کی گنتی دوبارہ کی جاتی ہے تو بھی ایک ووٹ کا فرق نہیں آتا ہے۔



شیوپال یادو نے اس دوران کہا کہ ہمارے درمیان جرمنی سے ہمارے مہمان آئے ہیں میں ان کا استقبال کرتا ہوں۔ 2025 میں ہم ملک اور ریاست کے مفاد کے لیے نئی پیش قدمی کریں گے۔ اترپردیش میں 2027 میں سماج وادی حکومت بنانے کے مشن ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ اکھلیش یادو ایک بار پھر ریاست کے وزیر اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہوں جس سے یہاں کے غریبوں اور کسانوں کو موجودہ حکومت کی استحصال سے نجات ملے۔ ساتھ ہی انہوں نے جرمنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی سپریم کورٹ نے ای وی ایم کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ہمارے یہاں ہارنے والے اور جیتنے والے امیدواروں کو ای وی ایم پر بھروسہ ہی نہیں ہو پاتا ہے۔


شمالی ہندوستان میں سردی کی شدت، درجہ حرارت میں 5 ڈگری تک کمی

 



شمالی ہندوستان میں موسم سرما کی شدت بڑھ رہی ہے، جہاں آئندہ دنوں میں درجہ حرارت میں 3 سے 5 ڈگری سیلسیس تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق دہلی-این سی آر، پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش سمیت دیگر ریاستوں میں شدید سردی پڑنے والی ہے۔ دہلی میں کہرے کی موٹی تہہ نے سردی میں اضافہ کردیا ہے اور درجہ حرارت 12 ڈگری تک گر گیا ہے۔



آئی ایم ڈی کے مطابق، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے مختلف حصوں میں برفباری کی توقع ہے، جبکہ چمبا، کلو، منڈی اور کنور کے علاقوں میں 30 دسمبر سے 2 جنوری کے دوران شدید سردی کی لہر دیکھی جا سکتی ہے۔کشمیر میں اس وقت سخت ترین سردی کا دورانیہ ‘چلہ کلاں’ جاری ہے، جس کے تحت گلمرگ اور پہلگام میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے جا چکا ہے۔ گلمرگ میں درجہ حرارت منفی 8.0 ڈگری اور پہلگام میں منفی 8.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ سری نگر میں درجہ حرارت منفی 0.2 ڈگری رہا، جو معمول سے 2 ڈگری زیادہ ہے۔



ہماچل پردیش میں برفباری اور بارش کی توقع ہے، خاص طور پر شمالی چمبا، کنور اور اسپیتی کے علاقوں میں۔ پنجاب اور ہریانہ میں کہرے کی شدت بڑھے گی، جبکہ شیت لہر کی پیشگوئی 30 دسمبر سے کی گئی ہے۔اتر پردیش میں بھی موسم مزید سرد ہونے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، یوپی کے چند علاقوں میں ہلکی بارش ہوگی، اور درجہ حرارت میں 6 ڈگری تک کمی ہو سکتی ہے۔ بارش کے بعد موسم خشک ہوگا لیکن سردی کی شدت بڑھ جائے گی۔


بانگ درا ہندوستان کی تاریخ میں سیاسی اہمیت کا حامل: پر وفیسر عبدالحق

 





بانگ درا اقبال کا اولین اردو مجموعہ کلام ہے یہ کتاب اقبال کی فکر کے ارتقا ئی مراحل کا پتا دیتی ہے سالِ رواں بانگ درا کی اشاعت کا سواں سال ہے ایک صدی گزرنے کے بعد بھی فکر اقبال کی تازگی ماند نہیں پڑی ہے بانگ درا زندہ متن ہے۔ زندہ متن وقت کے ساتھ بدلتے طرز تفہیم کو نئے سرے سے غورو فکر کی دعوت دیتاہے،نیا حوصلہ اور نئے ولولے عطا کرتا ہے ان خیالا ت کا اظہارسمینار کے کنوینر پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام ”بانگ درا“ کی اشاعت کے سو سال مکمل ہونے پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پر وگرام سے قبل سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی وفات پر قراداد پیش کی گئی -منموہن سنگھ کو ان کی اقبال شیدائی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ ہمارے سابق وزیر اعظم کو دیوناگری نہیں آتی تھی اس لیے وہ نستعلیق میں ہی پڑھتے تھے اور علامہ اقبال کے شیدائی تھے، انھوں نے پارلیمنٹ میں جتنے بھی اشعار پڑھے اتفاق سے سبھی اقبال کے ہی تھے۔ اس موقع پر یہی دعا گو ہوں کہ اللہ ان کی روح کو سکون بخشے۔



افتتاحی تقریب میں پروفیسر شہاب الدین ثاقب نے کلیدی خطبہ پیش کر تے ہوئے کہا کہ اقبال سے پہلے اردو نظموں کا دائرہ بہت محدود تھا۔ موضوع و اسلوب دونوں اعتبار سے اقبال اپنی نظموں میں منفرد و یکتا نظر ا?تے ہیں۔ اقبال کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی نظموں میں متضاد کیفیات و منظرنگاری کو پیش کرتے ہیں، اگرچہ وہ انگریزی مفکرین سے متاثر تھے لیکن انھوں نے اپنی شاعری کو قرآن اور اسوہ رسول پر مرکوز رکھا۔ بطور مہمانِ خصوصی پروفیسر رحمت یوسف زئی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اقبال جتنے اہم کل تھے، ا?
ج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔ بیسویں صدی اقبال کی صدی تھی۔ اقبال نے جس نظام کا خواب دیکھا وہ نظامِ عدل و انصاف تھا جو اسلام پر مبنی تھا۔

صدراتی خطاب میں پروفیسر عبدالحق نے اردو اکادمی دہلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس ادارہ کی اولیت ہے کہ اس قسم کا پروگرام منعقد کیا۔انہوں نے بانگ درا پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانگ درا ہندوستان کی تاریخ میں سیاسی اہمیت کا حامل ہے، بیسویں صدی کی ابتدائی پچیس سال کی ہندوستانی تاریخ کی تخلیقی مثال ہے، اسی زمانے میں اقبال پہلا شاعرہے جس کے اشعار محاوروں کی شکل میں زبان زد و عام ہوئے۔


انڈیگو فلائٹ میں تاخیر سے ممبئی ایئر پورٹ پر 16 گھنٹے پھنسے رہے 100 مسافر، ایئر لائن نے مانگی معافی






ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تقریباً 100 مسافر 16 گھنٹے تک پھنسے رہے۔ ان مسافروں کو استنبول جانے والی فلائٹ میں سفر کرنی تھی لیکن تکنیکی وجوہات کی وجہ سے پرواز میں تاخیر ہو گئی۔ بعد میں انڈیگو نے مسافروں کو ہوئی اس پریشانی کے لیے معافی مانگی ہے۔ فلائٹ نمبر 6 ای 17 صبح 6 بج کر 55 منٹ پر استنبول کے لیے پرواز بھرنے والی تھی۔ بعد میں ایئر لائنس نے اعلان کیا کہ ایک دوسرا طیارہ 11 بجے پرواز بھرے گا۔


ایئر لائنس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ ہماری پرواز 6 ای 17 جو ممبئی سے استنبول جانے والی تھی، تکنیکی وجوہات سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ بیان میں آگے کہا گیا ہے کہ بد قسمتی سے مسئلہ کو حل کرنے اور اسے منزل مقصود تک بھیجنے کی ہماری تمام کوششوں کے باوجود ہمیں بالآخر پرواز منسوخ کرنی پڑی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرواز میں کم سے کم تین بار تاخیر ہوئی۔ اس دوران مسافروں کو تین بار اتارا اور چڑھایا گیا۔ فائنل ڈپارچر ٹائم کی جانکاری دینے سے پہلے یہ سب ہوتا رہا، وہیں مسافروں میں شامل کچھ طلبا نے ایئرپورٹ پر مظاہرہ شروع کر دیا۔ اطلاع کے مطابق ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یا تو ایئر لائن ٹکٹ کے پیسے ری فنڈ کرے یا پھر دوسرے طیارہ کا انتظام کرے۔

لوگوں نے پرواز میں ہو رہی تاخیر کو لے کر سوشل میڈیا پر بھی شکایت درج کرائی۔ سونم سہگل نامی ایک یوزر نے 'ایکس' پر لکھا کہ میرا بھائی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 12 گھنٹے سے پھنسا ہوا ہے۔ یہ سب ہو رہا ہے انڈیگو اور ان کے اسٹاف کے اَن پروفیشنل رویے کی وجہ سے۔ سونم نے آگے لکھا ہے کہ سب سے پہلے استنبول جانے والی فلائٹ میں تاخیر ہوئی۔ اس کے بعد انہیں کئی بار فلائٹ میں بٹھایا گیا اور پھر اتارا گیا۔ ان کے مطابق اسٹاف کا رویہ بہت خراب تھا۔ ری شیڈولنگ اور ری فنڈنگ کے بارے میں کوئی جواب نہیں مل رہا ہے۔ 492 مسافر انتظار کر رہے ہیں اور انہیں بنیادی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔


Saturday, 28 December 2024

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسومات میں بھوٹان کے بادشاہ اور ماریشش کے وزیر خارجہ کی بھی شرکت





ہندوستان کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسومات آج پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا ہو گئیں۔ اس موقع پر نہ صرف ہندوستان کی سرکردہ سیاسی شخصیات موجود تھیں، بلکہ بیرون ممالک کے بھی کئی اہم شخصیات نے نم آنکھوں کے ساتھ انھیں الوداع کہا۔ بیرون ملکی شخصیات میں بھوٹان کے بادشاہ جگمے کھیسر نامیگل وانگ چک اور ماریشش کے وزیر خارجہ دھننجے رام پھل کا نام قابل ذکر ہے، جنھوں نے دہلی کے نگم بودھ گھاٹ پر منموہن سنگھ کی آخری رسومات میں شرکت کی۔


موصولہ اطلاع کے مطابق ماریشس اور بھوٹان دونوں ہی ممالک نے اپنے قومی پرچم کو 28 دسمبر کے لیے نصف سرنگوں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماریشس کی حکومت نے ڈاکٹر منموہن کے احترام میں 28 دسمبر کو اپنا قومی پرچم نصف جھکا رکھنے کا اعلان کیا اور ایک نوٹ میں ماریشس کے وزیر اعظم نوین چندر رامگولم کے دفتر نے پرائیویٹ سیکٹر سے بھی پرچم کو نصف جھکائے رکھنے کی گزارش کی۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ماریشس کے وزیر اعظم نوین چندر رامگولم نے پورٹ لوئس میں ہندوستانی ہائی کمیشن میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی یاد میں ایک تعزیتی کتاب پر دستخط بھی کیے۔


یہ بھی پڑھیں :منموہن سنگھ کو ریاستی اعزازکے ساتھ قوم نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا، راہل ہر جگہ موجود رہے



جہاں تک بھوٹان کا سوال ہے، وہاں بھی قومی پرچم اآدھا سرنگوں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پورے بھوٹان اور بیرون ملک بھوٹانی سفارت خانوں، مشنز و قونصل خانوں پر آنجہانی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے احترام اور حکومت ہند و ہندوستانی عوام کے ساتھ یکجہتی کی علامت کے طور پر قومی پرچم نصف سرنگوں رکھے جائیں گے۔


اس سے قبل جمعہ کو بھوٹان کے بادشاہ اور ملکہ نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی یاد میں خصوصی دعائیہ تقریب میں شرکت کی تھی۔ بھوٹان کے بادشاہ اور ملکہ نے آنجہانی منموہن سنگھ کی یاد میں کرمی ٹونگچوڈ یا مکھن کے ایک ہزار لیمپ پیش کیے۔ دعائیہ تقریب میں بھوٹان کے وزیر اعظم، ہندوستانی سفیر اور شاہی حکومت و حکومت ہند کے اعلیٰ افسروں نے بھی شرکت کی تھی۔ اسی طرح کی دعائیہ تقریبات تمام 20 جونگ کھاگ میں بھی منعقد کی گئیں۔


منموہن سنگھ کو ریاستی اعزازکے ساتھ قوم نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا، راہل ہر جگہ موجود رہے

 





آنجہانی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی آخری رسومات( دہلی کے نگم بودھ گھاٹ پر سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ پورے ملک نے انہیں بھرے آنسوو¿ں سے الوداع کہا۔ منموہن سنگھ کی آخری رسومات میں جہاں صدر دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ موجود رہے وہیں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سابق وزیر اعظم کے آخری سفر میں ہر جگہ موجود رہے۔


سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسومات آج دہلی کے نگم بودھ گھاٹ پر سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ اس سے پہلے ان کا آخری سفر کانگریس دفتر سے نگم بودھ گھاٹ تک نکالا گیا۔ کانگریس دفتر میں جہان عام لوگوں نے ان کے دیدار کئے وہیں کانگریس کے اعلی رہنماو¿ں نے ان کو خراج عقیدت پیش کی۔


کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتیں ان کی یادگار بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جس پر حکومت نے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس کے لیے ٹرسٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ منموہن سنگھ کا انتقال 26 دسمبر کی رات دہلی کے ایمس اسپتال میں ہوا تھا۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا جسد خاکی نگم بودھ گھاٹ پہنچ گیا ہے۔ ان کے آخری سفر میں سیاسی رہنماو¿ں سمیت کثیر تعداد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور عام لوگ شامل ہوئے۔ 10 برسوں تک ملک کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 92 سال کی عمر میں گزشتہ دنوں انتقال ہو گیا تھا۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسوم میں شامل ہونے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی پہنچے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسوم میں شامل ہونے کے لیے ماریشس کے وزیر خارجہ بھی پہنچے۔ بھوٹان کے راجہ بھی اس موقع پر موجود ہیں۔


ڈاکٹر منموہن سنگھ کا جسد خاکی نگم بودھ گھاٹ پہنچ چکا ہے اور اب تھوڑی دیر میں آخری رسوم کی ادائیگی شروع ہوگی۔ اس سے پہلے کانگریس دفتر سے آرمی کے میموریل ٹرک میں نکلے منموہن سنگھ کے آخری سفر میں راہل گاندھی بھی شامل تھے، جو یاترا کے ساتھ ہی نگم گھاٹ پہنچے۔ آنجہانی منموہن سنگھ کا کنبہ بھی اس دوران موجود تھا۔ منموہن سنگھ کے آخری سفر کے موقع پر لوگوں کا اژدہام دیکھنے کو ملا جو اپنے رہنما کا آخری دیدار کر رہا تھا اور سبھی کی آنکھیں نم تھیں۔ منموہن سنگھ کا آخری سفر کانگریس دفتر سے اکبر روڈ سے انڈیا گیٹ، انڈیا گیٹ سے تلک مارگ، تلک مارگ ہوتے ہوا نکلا۔



آذربائیجان کے طیارہ پر روس نے ہی کیا تھا حملہ، پوتن نے اپنی غلطی کے لیے مانگی معافی

 




روسی صدر ولادمیر پوتن نے آذربائیجان کے صدر سے گزشتہ دنوں پیش آئے اس طیارہ حادثہ پر معافی مانگ لی ہے، جس میں تقریباً 38 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ روسی صدر کے معافی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طیارہ کسی پرندہ سے ٹکر کا نہیں بلکہ روسی حملہ کا شکار ہوا تھا۔ واضح ہو کہ بدھ (25 دسمبر 2024) کو قزاقستان کے شہر اکتاو¿ کے پاس آذربائیجان کا طیارہ خوفناک حادثہ کا شکار ہوا تھا۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ نے جنوبی روس سے اپنی سمت تبدیل کی تھی۔ یہاں روس کو یوکرینی ڈرونز کے حملے کی اطلاع ملی تھی۔ پھر روسی میزائل ڈیفنس سسٹم نے طیارے کو اپنے میزائل کا نشانہ بنا لیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ غلطی سے آذربائیجان کے طیارہ کو ہدف بنایا گیا جس سے کئی جانیں تلف ہو گئیں۔


روس کے کریملن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پوتن نے اس واقعے پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے معافی مانگی ہے۔ انہوں نے اسے ’روسی فضائی حدود میں پیش آنے والا ایک بدقسمت واقعہ‘ قرار دیا۔ ساتھ ہی پوتن نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ کریملن کے مطابق ا±س وقت گروزنی میں یوکرین کے ڈرون حملے ہو رہے تھے جس کی وجہ سے روس کا فضائی دفاعی نظام فعال کیا گیا تھا۔ حالانکہ آذربائیجان کے افسران نے ابتدائی تحقیق کے دوران ہی کہا تھا کہ طیارہ پر کسی بیرونی تکنیک کی مداخلت ہوئی تھی جس کی وجہ سے طیارہ نے اپنا کنٹرول کھو دیا تھا۔ ساتھ ہی تحقیق میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا تھا کہ طیارہ کے پنکھوں میں گولی کے نشان بھی تھے۔



قابل ذکر ہے کہ طیارہ حادثہ پر امریکی افسران نے اپنی تحقیق میں بھی اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے ہی طیارہ کو مار گرایا تھا۔ وائٹ ہاو¿س کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کِربی نے کہا کہ ”ابتدائی تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس طیارے کو روسی فضائی دفاعی نظام نے ہی مار گرایا ہے۔“ حالانکہ انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے کی تحقیق جاری رہے گی۔ واضح ہو کہ حادثے کے بعد روس کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ابتدائی تحقیقات کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ طیارہ پرندے کے ٹکرانے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو گیا تھا، لیکن ماہرین نے اس دعوے کو ا±سی وقت خارج کر دیا تھا۔ اب روسی صدر نے بھی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے اور اس واقعہ کے لیے معافی بھی مانگ لی ہے۔


Friday, 27 December 2024

شاعروں میں علامہ اقبال اور کھانے میں مچھلی ....مزید کیا کیا چیزیں پسند تھیں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو؟

 





ماہر معیشت منموہن سنگھ نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا ہے۔ کل ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ ان کا 33 سالہ سیاسی سفر ایک روشن باب کی مانند رہا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے سرکردہ لیڈران ہی نہیں... دنیا بھر کے سیاسی و سماجی لیڈران کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی عظیم ہستیاں منموہن سنگھ کے انتقال پر اظہارِ رنج و غم کر رہی ہیں۔ منموہن سنگھ کم گو تھے، لیکن ان کی زبان سے جب بھی کوئی الفاظ نکلتے تھے تو وہ اہمیت کے حامل ہوتے تھے۔ ا?ئیے یہاں جانتے ہیں کہ خاموشی کے ساتھ ملک کے لیے کام کرنے والے اس لائق و فائق ہستی کو کھانے میں کیا پسند تھا اور ان کے پسندیدہ رائٹر کون تھے، کس شاعر کی شاعری وہ پسند کرتے تھے اور کون سا رنگ ان کے دل کے قریب تھا۔


:پسندیدہ کھانا

منموہن سنگھ بہت زیادہ کھانے پینے والے انسان نہیں تھے، اور نہ ہی انھیں گوشت خوری عزیز تھی۔ طویل وقت تک منموہن سنگھ کے میڈیا صلاح کار رہے سنجے بارو نے اپنی کتاب ’ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ میں لکھا ہے کہ 2009 میں دوسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد منموہن نے کچھ صحافیوں کو وزیر اعظم رہائش پر کھانے کے لیے مدعو کیا۔ صحافی جب ا?ئے تو منموہن نے بہت تھوڑا کھایا، جس پر سب دیکھتے رہے۔ منموہن نے اس کے بعد خود کہا کہ میں کم ہی کھانا پسند کرتا ہوں۔ کھانے کے بعد منموہن چائے یا کافی لینا پسند کرتے تھے۔


بارون کے مطابق منموہن کھانے میں چپاتی اور پراٹھا ہی اکثر لیا کرتے تھے۔ مچھلی کھانا انھیں سب سے زیادہ پسند تھا، لیکن کبھی کبھی۔ منموہن ذیابیطس کی وجہ سے میٹھا نہیں کھاتے تھے۔ ان کی شریک حیات گرشرن کور بھی یہ یقینی بناتی تھیں کہ منموہن میٹھا نہ کھا پائیں۔ منموہن کو چاول کڑھی اور اچار کھانا بھی پسند تھا۔ منموہن کی بیٹی دمن سنگھ اپنی کتاب میں اس بات کا تذکرہ کرتی ہیں۔ دمن کے مطابق منموہن سنگھ پنجابی اسٹائل میں تیار چاول-کڑھی اور اچار کھانا بہت پسند کرتے تھے۔ وہ اپنے کنبہ کے ساتھ 2 ماہ میں ایک بار فیملی ڈنر پر بھی جاتے تھے۔ اس دوران منموہن بنگالی مارکیٹ کا چاٹ کھانا نہیں بھولتے تھے۔


:پسندیدہ رائٹر

معیشت کی پڑھائی کرنے والے منموہن سنگھ کے پسندیدہ رائٹر فرانس کے سیاستداں اور رائٹر وکٹر ہیوگو تھے۔ منموہن اکثر ہیوگو کے نام اور ان کے اقوال کا ذکر کرتے تھے۔ 1991 میں بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہیوگو کے ایک قول کے ذریعہ منموہن نے پوری دنیا کو ایک پیغام دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ زمین پر کوئی بھی شخص اس نظریہ کو نہیں روک سکتا جس کا وقت ا? گیا ہے۔ منموہن اس بات کو کئی بار دہراتے رہے۔ 2006 میں صحافی چارلی روز کو دیے ایک انٹرویو میں منموہن نے کہا تھا کہ ہیوگو کی باتیں ہندوستان کے لیے موزوں ہے۔ منموہن نے کہا تھا کہ ہندوستان کو اب پوری دنیا میں ابھرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے، ہندوستان کی طاقت کا اندازہ اب دنیا کو ہے۔

یہ بھی پڑھیں : علم ودانش اور انکساری کی علامت ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے لیڈر سے ہم محروم ہو گئے : سونیا گاندھی



:پسندیدہ شعبہ

منموہن سنگھ کی شہرت بھلے ہی وزیر مالیات کے طور پر ملی تھی، لیکن ان کی معاشی لبرلائزیشن پالیسی کا ا?ج بھی تذکرہ ہوتا ہے۔ منموہن سنگھ نے لائسنس راج کو ختم کیا تھا جس سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھے۔ حالانکہ شعبہ مالیات سے زیادہ منموہن کو شعبہ? تعلیم میں کام کرنا پسند تھا۔ ریڈیف کو دیے ایک انٹرویو میں منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ ا?پ کو کون سا محکمہ چاہیے، تو میں جواب دوں گا ’محکمہ تعلیم‘۔ میں چاہتا ہوں کہ نئے لوگوں کے لیے کام کروں۔ 1996 میں دیے گئے اس انٹرویو میں منموہن سنگھ نے وزیر اعظم بننے کی خواہش بھی ظاہر کی تھی، اور ا?گے چل کر ان کی یہ خواہش پوری بھی ہوئی۔


:پسندیدہ رنگ

منموہن سنگھ کا پسندیدہ رنگ نیلا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر نیلی پگڑی پہنے نظر آتے تھے۔ 2013 میں کیمبرج میں انھوں نے اس تعلق سے انکشاف بھی کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ”شروع سے ہی نیلا رنگ میرا پسندیدہ ہے۔ اس رنگ کی پگڑی پہننے کی وجہ سے میرے دوست مجھے نیلی پگڑی والے بلاتے تھے۔“ منموہن نے یہ بھی بتایا تھا کہ نیلے رنگ کی پگڑی پہننے سے انھیں کیمبرج کی بھی یاد ا?تی رہتی ہے، کیونکہ کیمبرج کا بھی ’تھیم کلر‘ بلو یعنی نیلا ہی ہے۔



:پسندیدہ شاعر

منموہن سنگھ کے پسندیدہ شاعر کی بات کریں تو وہ شاعر مشرق علامہ اقبال تھے۔ پارلیمنٹ میں منموہن سنگھ نے ان کے 2 مشہور اشعار کے ذریعہ اپوزیشن کو خاموش کرنے کا کام کیا تھا۔ راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا ’کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری، صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا‘۔ کچھ ایسا ہی شاعرانہ انداز انھوں نے لوک سبھا میں اختیار کیا تھا جب ا±س وقت کی اپوزیشن لیڈر سشما سوراج نے منموہن حکومت پر حملہ کرتے ہوئے شاعری کے ذریعہ پوچھا تھا کہ:


تو ادھر ادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کی قافلہ کیوں لٹا


مجھے رہزنوں سے گلا نہیں، تیری رہبری کا سوال ہے


اس کے جواب میں منموہن نے کہا تھا:


مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں


تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ


ویسے منموہن نے کچھ دوسرے شعرائ کے اشعار بھی کئی مواقع پر کہے ہیں۔ مثلاً 2013 میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے بحث کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے مرزا غالب کا شعر ’ہم کو ان سے ہے وفا کی امید/ جو نہیں جانتے وفا کیا ہے‘ پڑھا تھا۔



علم ودانش اور انکساری کی علامت ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے لیڈر سے ہم محروم ہو گئے : سونیا گاندھی

 



کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر آج ایک تعزیتی پیغام جاری کیا۔ اس پیغام میں انھوں نے کہا کہ ”ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال سے ہم ایک ایسے لیڈر سے محروم ہو گئے ہیں جو علم و دانش، بڑپن اور انکساری کی علامت تھے، جنھوں نے پورے دل اور دماغ سے ہمارے ملک کی خدمت کی۔ وہ کانگریس پارٹی کے لیے ایک روشن و محبوب راہنما ثابت ہوئے، ان کی ہمدردی اور دور اندیشی نے لاکھوں ہندوستانیوں کی زندگی کو بدل دیا اور انھیں مضبوط بنایا۔“ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ”انھیں ہندوستانیوں کے ذریعہ پاک و صاف دل اور تیز ذہن کے لیے پیار کیا جاتا تھا، ان کے صلاح مشوروں کو ہمارے ملک کے سیاسی حلقوں میں انتہائی سنجیدگی سے سنا جاتا تھا اور ان کا بہت احترام تھا۔“


سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ ”وہ ایک ایسے شخص تھے جن کا دنیا بھر کے لیڈران اور دانشور احترام کرتے تھے۔ عالمی لیڈران انھیں ایک عالم اور ایک عظیم شخصیت والے سیاسی لیڈر کی شکل میں دیکھتے تھے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جس بھی عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی، انھوں نے اس عہدہ کو اہم شناخت دی اور کام کرتے ہوئے ہندوستان کے وقار کو بلند کیا۔ میرے لیے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال ایک بڑا ذاتی خسارہ ہے۔“

تعزیتی پیغام میں سونیا گاندھی آگے لکھتی ہیں کہ ”وہ میرے دوست، فلسفی اور گائیڈ تھے۔ وہ اپنے رویہ میں بہت ہی نرم مزاج، لیکن اپنے اقدار کے تئیں پرعزم تھے۔ سماجی انصاف، سیکولر و جمہوری اقدار کے تئیں ان کے عزائم گہرے اور اٹوٹ تھے۔ ان کے ساتھ تھوڑا سا بھی وقت گزارنے سے ان کی علم و دانشوری کا احساس ہوتا تھا۔ ان سے ملنے والا ان کی ایمانداری سے متاثر ہوتا تھا اور ان کی حقیقی انکساری کا احساس بھی بخوبی ہوتا تھا۔“


ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتی پیغام میں سونیا گاندھی لکھتی ہیں کہ ”وہ ہماری قومی زندگی میں ایک ایسا خلا چھوڑ گئے ہیں جسے کبھی بھرا نہیں جا سکتا۔ ہم کانگریس پارٹی میں اور ہندوستان کے لوگ ہمیشہ اس بات پر فخر کریں گے اور اظہارِ تشکر کریں گے کہ ہمارے پاس ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے لیڈر تھے، جن کا ہندوستان کی ترقی میں تعاون لاجواب ہے۔“





کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج عقیدت پیش، تعزیتی قرارداد منظور

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش، کے سی وینوگوپال اور پرینکا گانددھی سمیت دیگر سرکردہ کانگریس لیڈران کی موجودگی میں آج کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ یہ میٹنگ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو تعزیت پیش کرنے کے مقصد سے ہوئی جس میں تعزیتی قرارداد منظور ہوا۔

اس میٹنگ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ ہندوستان کے سیاسی اور معاشی منظرنامہ میں ایک عظیم شخصیت تھے۔ ان کے تعاون نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور معیشت کے شعبہ میں انھوں نے جو کچھ کیا، اس سے دنیا بھر میں انھیں عزت و احترام حاصل ہوا۔ میٹنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈی ریگولیشن، نجکاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو حوصلہ بخشنے کی اپنی پالیسیوں کے ذریعہ سے منموہن سنگھ نے ہندوستان کی تیز رفتار معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔ ان کی قیات میں ہندوستان تیزی سے بڑھتی معیشت کی شکل میں ابھرا۔ انھوں نے عالمی شعبہ میں ہندوستان کی حالت کو مضبوط کیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے عام آدمی کے فلاح پر بھی توجہ مرکوز کی۔

سی ڈبلیو سی کی اس میٹنگ میں منموہن سنگھ کی کارگزاریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک سیاسی لیڈر کی شکل میں اپنے تعاون کے علاوہ منموہن سنگھ ایک قابل احترام ماہر تعلیم بھی تھے۔ انھوں نے ماہر معیشت کے طور پر ہندوستان کی پالیسیوں کا خاکہ تیار کرنے میں مدد کی۔ ایک ماہر معیشت کی شکل میں ان کے دانشمندانہ کاموں اور اقوام متحدہ و ریزرو بینک آف انڈیا جیسے اداروں میں ان کے تعاون نے ان معاشی اصلاحات کی بنیاد رکھی جنھیں انھوں نے بعد میں ایک پالیسی کی شکل میں فروغ دیا۔ ڈاکٹر سنگھ کی معیشت سے متعلق گہری سمجھ اور تعلیم کے تئیں ان کے عزائم نے لاتعداد طلبا، دانشوروں اور پالیسی سازوں کو ترغیب دی۔




سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات پر جمعیہ علماء ہند کا خراج عقیدت

نئی دہلی: صدر جمعیہ علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کا نقصان عظیم قرار دیا ہے۔ مولانا مدنی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایک ممتاز ماہر معاشیات، قابل سیاست داں اور فاضل رہنما کی حیثیت سے ملک کی ترقی اور استحکام میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی قیادت میں ملک میں نہ صرف اقتصادی اصلاحات کی بنیاد پڑی بلکہ امن و ترقی اور سب کے لیے انصاف کی مضبوط روایت کو فروغ ملا۔


مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ انھوں نے اپنی غیر متنازعہ شخصیت، بردباری اور عوامی خدمت کے جذبے سے ایک مثال قائم کی، وہ سیاست میں شائستگی اور اصول پسندی کے ایک روشن نمونہ تھے، جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ وہ جمعیہ علماء ہند کی قیادت بالخصوص فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی سے خاص تعلق رکھتے تھے۔ بحیثیت ممبر پارلیمنٹ حضرت فدائے ملت کے ساتھی بھی رہے۔ اس خاکسار کے ساتھ بھی شفقت کا معاملہ کرتے تھے۔ جمعیہ علماءہند کے مطالبے پر انھوں نے سچر کمیٹی تشکیل دی اور سچر کمیٹی کے کچھ اہم مطالبات کو نافذ کرنے کی بھی کوشش کی۔ ان کے انتقا ل پر جمعیہ علماء ہند ان کے اہل خانہ، تمام محبین سے دلی ہمدردی کا اظہا رکرتی ہے۔






سچن تندولکر بھی منموہن سنگھ کی موت پر ہوئے غمگین،
محمد شامی نے بتایا دور اندیش و عظیم لیڈر


ہندوستان کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر ہندوستان کا ہر طبقہ غمگین دکھائی دے رہا ہے۔ مایہ ناز سابق کرکٹر سچن تندولکر اور موجودہ مایہ ناز تیز گیندباز محمد شامی نے بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال کو ملک کے لیے بڑا خسارہ قرار دیا ہے۔ آج ان دونوں ہی شخصیات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آنجہانی سابق وزیر اعظم کے تئیں اپنا خراج عقیدت پیش کیا۔

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال 92 سال کی عمر میں 26 دسمبر کی شب راجدھانی دہلی واقع ایمس میں ہوا۔ ان کے پسماندگان میں بیوی گرشرن کور اور 3 بیٹیاں ہیں۔ آج صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، وزیر اعظم نریندر مودی سمیت برسراقتدار و حزب اختلاف طبقہ کے سرکردہ لیڈران نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا آخری دیدار کیا اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

سچن تندولکر نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ”ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کا انتقال ہندوستان کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے۔ ہمارے ملک کے لیے ان کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال پر اظہارِ غم کرتے ہوئے میری دعائیں ان کے اہل خانہ اور احباب کے ساتھ ہیں۔ اوم شانتی۔“

دوسری طرف محمد شامی نے بھی تعزیتی پیغام کے لیے ’ایکس‘ کا استعمال کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ”وہ (ڈاکٹر منموہن سنگھ) ایک سچے، دور اندیش اور عظیم لیڈر تھے۔ ہندوستان کی ترقی اور ان کی قیادت میں ان کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے کنبہ اور احباب کے تئیں میری گہری ہمدردی۔ بھگوان ان کی روح کو سکون دے۔“




Thursday, 26 December 2024

سی ڈبلیو سی کے اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات 2024 میں دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے

 





بیلگاوی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات 2024 میں دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے اور الیکشن کمیشن کی شفافیت پر سوال اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا، ”مہاراشٹر کی 118 نشستوں پر 72 لاکھ نئے ووٹرز شامل کیے گئے، جن میں سے 102 نشستیں بی جے پی نے جیتیں۔ یہ غیرمعمولی ہے اور اس میں دھاندلی کا شبہ ہے۔“


کانگریس رہنما نے مزید کہا، ”ووٹنگ لسٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں اور اس کے نتیجے میں بی جے پی کو غیر منصفانہ فائدہ ہوا۔“ انہوں نے زور دیا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹرز کا اضافہ عام بات نہیں اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔


خیال رہے کہ کانگریس کے ایک وفد نے حال ہی میں الیکشن کمیشن سے ملاقات کی تھی اور ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”47 لاکھ نئے ووٹرز شامل کیے گئے اور لاکھوں کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں۔“ تاہم، الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ 39 لاکھ نئے ووٹرز شامل ہوئے، جو نوجوانوں کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہے۔



راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کی اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ”یہ تعداد غیرمعمولی ہے اور دھاندلی کا اشارہ دیتی ہے۔“ ان کے مطابق، انتخابات کے نتائج کو شفافیت کے اصولوں کے مطابق جانچنے کی ضرورت ہے۔


راہل گاندھی کے بیان کے بعد سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس کے دیگر رہنماو¿ں اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی ان کے الزامات کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب، بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد انتخابی نتائج پر شک پیدا کرنا ہے۔


یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سی ڈبلیو سی اجلاس میں تنظیمی اصلاحات اور 'آئین بچاو¿ یاترا' کے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ کانگریس نے زور دیا ہے کہ جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ راہل گاندھی نے اجلاس کے دوران کہا کہ ”آئندہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ جمہوری عمل متاثر ہو سکتا ہے۔”


وزیراعلیٰ نتیش کمار کے دور اقتدار میں اقلیتوںکیلئے جتنے کام کئے گئے اتنے کبھی نہیں کئے گئے : میجر اقبال حیدر

 


بہار کی اقلیتی برادری کو ان کے حقوق دلانے میں نتیش کا اہم کردار : اشرف انصاری

میجر اقبال حیدر ، اشرف انصاری کی قیادت میں اقلیت ترقیاتی سفرکاکارواں رواں دواں




پٹنہ26 دسمبر ( پریس ریلیز )بہار ریاستی جنتادل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو ) کے جنرل سکریٹری اور اقلیتی سیل کے انچارج میجر اقبال حیدر اور بہار ریاستی جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ریاستی صدر اشرف انصاری کی مشترکہ قیادت میں آج اقلیت ترقیاتی سفر کا کارواں دربھنگہ ضلع کے مریا ، نوٹولیا ، بہیڑا ، پیٹھان کوئی ، شیودھارا پہنچا ۔ جہاں لوگوںنے کارواں کا انتہائی پرجوش انداز میں استقبال کیا ۔ 

اس موقع جے ڈی یو جنرل سکریٹری اور اقلیتی سیل کے انچارج میجر اقبال حیدر نے کہاکہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کے انیس سالہ دور اقتدار میں اقلیتوں کیلئے جتنے کام کئے گئے اتنے کبھی نہیں کئے گئے ۔ وزیراعلیٰ نے تمام طبقات کی بھلائی کیلئے کام کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ذات ایک ہمہ جہت اور ترقیاتی شخصیت ہے ۔ 

مسٹر حیدرنے کہاکہ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بغیر کسی بھید بھاﺅ کے تمام طبقات کا خیال رکھا ہے ۔ ریاست کی ترقی اور ہم آہنگی میں نتیش کمار کا اہم کر دار ہے ۔ ہم لوگ اسی وجہ سے آج وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ترقیاتی کاموں بالخصوص وزیراعلیٰ نے اقلیتی برادری کیلئے جوکارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں اس کو گاﺅں گاﺅں پہنچانے کیلئے کمر بستہ ہیں۔ 

 جنتا دل یو اقلیتی سیل کے ریاستی صدر اشرف انصاری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بہار کی اقلیتی برادری کو ان کے حقوق دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سماج کے تمام طبقات کو ترقی کے دھارے میں شامل کرکے سماجی انصاف کے ساتھ ترقی کی نادر مثال پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ریاست میں امن اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ پورے ملک میں ایسا وزیر اعلیٰ کبھی نہیں ہوا۔اس موقع پر بنیاد ی طور پر زاہد حسین ، انصار بکھو، ابوالخیر ، نواب اختر ، عرفان خان ، خواجہ فرید الدین رستم ، افتخار احمد گلزار ، ڈاکٹر شہنواز ، محمد کلام موجود تھے ۔