پٹنہ25 دسمبرسدرہ پبلک اسکول پتھر کی مسجد پٹنہ میں سالانہ بزم تقریب کا آغاز اسکول کے ننھے منے بچوں نے تلاوت کلام پاک سے کیا بعد ارزاں حمد ونعت پاک اور دیگر پروگرام بچوں نے پیش کیا۔یہ تقریب نییر صاحب کی صدارت میں ہوئی اور تقریب کی نظامت اساتذہ نے کی اور اس تقریب میں سہر پٹنہ کے نامور شخصیات نے شرکت کی۔۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے اسکول کے بانی نواب عتیق الزماں نے اپنی کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کے بچوں کو تعلیم کی اہمیت بتائی اور کہا کے سدرہ اسکول کو کھولنے کا ہم لوگوں کا ایک خواب تھاجو ہم لوگوں نے ملکر کیا آج سدرہ اکیڈمی کو دیکھکر خوشی ہو رہی ہے کے یہ اس اسکول دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کررہا ہے ایک دن یہ اسکول مذہبی اور عصری تعلیم کا بڑا مرکز بنے گا اس اسکول کے اساتذہ کے ساتھ ڈائریکٹر جناب ذاکر حسین مبارکباد کے مستحق ہیں اس کے بعد انہوں نے طلباءکو انعامات تقسیم کئے جناب شکیل ھاشمی ریاستی اقلیتی صدر ھم پارٹی۔جناب سرور آزاد معروف شوشل ورکر۔جناب ذیشان دائریکٹر بیسٹ اسپوکین انگلش اور دیگر شخصیات نے بھی اپنے مفید مشورہ پیش کئے اور طلباءکی خوب ہمت افزاءکی۔آخر میں اسکول کے ڈائریکٹر ذاکر حسین کے تمام مہمانوں کا شکریہ کے ساتھ تقریب کا اختتام ھوا۔۔
E-Paper
- page-8
- page-7
- Page-6
- Page-5
- Page-4
- Page-3
- Page-2
- Page-1
- English News
- Patna Hindi News
- خصوصی ای میگزین/Special E-Magazine
- Home
- BIHAR NEWS
- UP/یوپی
- Advertisement
- classified/کلاسیفائیڈ
- About Us
- PATNA
- Contact Us
- Eid 2026/اسپیشل عید
- کاروباری شخصیات
- Educational institutions/تعلیمی ادارے
- مضامین
- ملکی/بین الاقوامی خبریں
- ریاستی خبریں
- مبارکبادیاں
- سیاسی خبریں
- جاب/کیریئر/سرکاری نوکری
- صحت/Health
Wednesday, 25 December 2024
صغیرہ فاﺅنڈیشن کے جنرل سکریٹری ابرار احمد شیخ کی والدہ انتہائی علیل ، دعائے صحت کی اپیل
ممبئی : انتہائی افسوس کے ساتھ یہ خبر دی جارہی ہیکہ جناب ابرار احمد شیخ (جنرل سکریٹری صغیرہ فاو¿نڈیشن) کی والدہ ان دنوں بیحد علیل ہیں۔ دربھنگہ سٹی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ محترمہ اچھی عادت و اخلاق سے متصف اور صوم وصلوٰة کی پابند ہیں۔ جملہ مسلمانوں سے گذارش ہیکہ خصوصی دعا فر مائیں اللہ رب العزت انہیں شفائے کاملہ عاجلہ، مستمرہ سے نوازے۔مذکورہ جانکاری محمد ذکریا قمر سرپرست صغیرہ فاﺅنڈیشن گونڈی ممبئی نے دی ہے ۔
Tuesday, 24 December 2024
سید شمائل احمد آج عمرہ کیلئے سعودی عرب ہوں گے روانہ
پٹنہ:پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد 25 دسمبر 2024 کو اپنے تمام اہل خانہ کے ساتھ اپنی رہائش گاہ جمیل کمپاو¿نڈ سمن پورہ راجہ بازار سے سعودی عرب، مکہ اور مدینہ کے 11 روزہ روحانی دورے پر عمرہ کے لیے روانہ ہوں گے۔یہ روحانی دورہ مسلم کمیونٹی کے لوگوں کے لیے ایک نعمت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو وہاں جانے کا موقع دیتا ہے۔ایسے میں پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد بہت پرجوش ہیں کیونکہ زندگی میں کم از کم ایک بار اس مقدس مقام کی زیارت کرنا زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت سمجھی جاتی ہے۔ سید شمائل احمد نے کہا کہ وہ اس مقدس مقام پر جائیں گے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے خاندان، رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوستوں، عزیزوں، جاننے والوں اور ہندوستان کے تمام ساتھیوں کی اچھی صحت، کامیابی اور خیر و عافیت کے لیے دعا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہار اور ہندوستان کے تمام لوگوں کی سلامتی، صحت اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کریں گے۔
’لہسن کبھی 40 روپے تھا، آج 400 روپے‘: راہل گاندھی
نئی دہلی : ہندوستان میں بڑھتی مہنگائی کے درمیان راہل گاندھی نے سبزی مارکیٹ کا دورہ کر سبزیوں کی قیمت جاننے کی کوشش کی۔ اس کی ویڈیو راہل گاندھی نے اپنے یوٹیوب چینل اور ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو کے ذریعہ راہل گاندھی نے مودی حکومت کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے جو ہمیشہ عوامی مفاد میں کام کرنے کا دعویٰ کرتی رہتی ہے۔ 24 دسمبر کو ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی گئی اس ویڈیو کے ساتھ راہل گاندھی نے لکھا ہے ”لہسن کبھی 40 روپے تھا، آج 400 روپے ہے۔ بڑھتی مہنگائی نے بگاڑا عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ۔ کمبھ کرن کی نیند سو رہی حکومت۔“
تقریباً 6 منٹ کی اس ویڈیو کو کانگریس نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کیا ہے۔ اس کے ساتھ لکھا ہے کہ ”کبھی 40 روپے کلو فروخت ہونے والا لہسن ا?ج 400 روپے کلو ہے۔ بڑھتی مہنگائی نے عام لوگوں کا بجٹ بگاڑ دیا ہے۔ ساگ سبزی، تیل، آٹا سب مہنگا ہے۔ لیکن مودی حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ وہ کمبھ کرن کی نیند میں مست ہے۔“ اس ویڈیو میں راہل گاندھی کچھ خواتین کے ساتھ نظر آ رہے ہیں جو سبزی کی بڑھتی قیمت کے سبب ہو رہی پریشانی کا تذکرہ کرتی ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی سبزی مارکیٹ میں سبزی فروش سے الگ الگ سبزیوں کی قیمت پوچھ رہے ہیں۔ راہل گاندھی کے قریب کھڑی ایک خاتون مزاحیہ انداز میں کہتی ہے کہ ”سونا سستا ہوگا، لیکن لہسن نہیں۔“ یہ بات سن کر راہل گاندھی مسکرائے بغیر نہیں رہ پاتے۔ ایک دیگر خاتون کہتی نظر ا?تی ہے کہ ”شلجم جو (کچھ دنوں پہلے) 40-30 روپے کلو مل جاتے تھے، وہ آج 60 روپے کلو بتا رہے ہیں، مٹر کی قیمت تو 120 روپے کلو ہے۔“
راہل گاندھی جس سبزی مارکیٹ کا دورہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں، وہ گری نگر کا ہے۔ راہل گاندھی اس سبزی مارکیٹ میں موجود کچھ خواتین سے بات کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ ”مہنگائی ہر سال بڑھتی جا رہی ہے، اس سے آپ پر دباو¿ بڑھتا ہوگا؟“ جواب میں خواتین نے حامی بھری اور کہا کہ ”مہنگائی بہت بڑھی ہے۔“ مہنگائی سے پریشان ایک خاتون کہتی ہے کہ ہمارا بجٹ بہت بگڑ رہا ہے۔ تنخواہ نہیں بڑھ رہی، لیکن مہنگائی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ کسی چیز کی قیمت اگر بڑھ گئی تو پھر وہ کم ہونے کا نام نہیں لیتی۔
راہل گاندھی کے ساتھ سبزی منڈی میں خریداری کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ پہلے لہسن ایک کلو خریدتی تھی، لیکن اب 400 روپے قیمت ہونے پر ایک پاو¿ خرید کر کام چلانا پڑتا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ آلو اور پیاز جیسی بنیادی سبزیوں کی قیمت بھی ہمیشہ بڑھی ہوئی رہتی ہے۔ ایک دیگر خاتون نے بتایا کہ پہلے وہ سبزی لینے ا?تی تھی تو 5-4 سبزیاں خریدتی تھی، لیکن آج 2 سبزیاں لے کر ہی گھر واپس جا رہی ہیں۔ مٹر کی قیمت کے بارے میں خاتون نے بتایا کہ پہلے سیزن میں 60 روپے کلو تک مل جاتے تھے، لیکن اس مرتبہ 120 روپے کلو ہے۔
راہل گاندھی نے جب ایک خاتون سے یہ سوال کیا کہ انھیں کیا لگتا ہے، مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟ جواب میں اس نے کہا کہ ”جو حکومت بیٹھی ہوئی ہے، وہ اس طرف دھیان ہی نہیں دیتی۔ وہ تو صرف اپنی تقریروں میں لگے ہوئے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ عوام کی کیا حالت ہے۔ حکومت یہ نہیں سوچتی کہ نارمل کھانا بھی اتنا مہنگا ہو گیا ہے، تو لوگ کس طرح کھائیں گے۔“
راہل گاندھی سبزی منڈی کا دورہ کرنے کے بعد ایک خاتون کی رہائش پر بھی گئے۔ وہاں ایک ضعیف خاتون نے مہنگائی بڑھنے سے ہو رہی پریشانیوں کے بارے میں بتایا۔ ضعیفہ نے کہا کہ اگر کسی کو 20 ہزار تنخواہ ملتی ہے تو اس میں مکان کا کرایہ، ناشتہ کھانا، بچوں کی تعلیم وغیرہ کیسے ممکن ہے۔ دفتر میں کام کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ گزشتہ دو تین سالوں سے اس کی تنخواہ نہیں بڑھی، لیکن مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ گھر چلانا مشکل ہے۔ اس گھر میں چائے پیتے ہوئے راہل گاندھی نے الگ الگ خواتین سے مختلف مسائل پر بات کی، اور بیشتر نے کھانے پینے کی چیزوں کی بڑھتی قیمتوں کو سب سے بڑا مسئلہ بتایا۔
بہار اور کیرالہ کے گورنر کی ہوئی ’ادلا-بدلی‘
آج ملک کی کچھ ریاستوں کو نیا گورنر ملا گیا ہے۔ کچھ گورنرس کو ایک ریاست سے دوسری ریاست بھیجا گیا ہے اور اڈیشہ کے گورنر رگھوبر داس کو اس ذمہ داری سے سبکدوش کیا گیا ہے۔ راشٹرپتی بھون کے ذریعہ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اڈیشہ کے گورنر رگھوبر داس کا استعفیٰ منظور کر لیا۔ ان کی جگہ اب ہری بابو اڈیشہ کے گورنر ہوں گے، جو کہ پہلے میزورم کے گورنر تھے۔ رگھوبر داس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ’مین اسٹریم کی سیاست‘ میں پھر سے واپسی کر سکتے ہیں۔
بہار اور کیرالہ کو لے کر بڑی خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ ان دونوں ریاستوں کے گورنر کی ’ادلا-بدلی‘ ہو گئی ہے۔ یعنی کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان اب بہار کے گورنر ہوں گے، اور بہار کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر اب کیرالہ کے گورنر ہوں گے۔ عارف محمد خان کو 6 ستمبر 2019 کو کیرالہ کا گورنر بنایا گیا تھا۔ وہ اکثر اپنے بیانات اور فیصلوں کی وجہ سے سرخیوں میں رہے۔ بہار میں ان کی کارکردگی کیسی رہتی ہے، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ خاص طور پر آئندہ سال بہار اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت سازی میں کوئی رسہ کشی ہوتی ہے تو پھر عارف محمد خان کا کردار بہت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
جنرل وی کے سنگھ اور اجئے کمار بھلّا ایسے دو نام ہیں جن کی تقرری حقیقی معنوں میں نئے گورنر کے طور پر ہوئی ہے۔ سابق داخلہ سکریٹری اجئے بھلا کو منی پور کا گورنر بنایا گیا ہے، جبکہ جنرل وی کے سنگھ میزورم کے گورنر بنائے گئے ہیں۔ داخلہ سکریٹری کے طور پر اجئے کمار بھلّا کی مدت کار 22 اگست 2024 کو ہی ختم ہوئی ہے۔ وہ آسام-میگھالیہ کیڈر کے 1984 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔ مودی حکومت نے انھیں 2019 میں مرکزی داخلہ سکریٹری مقرر کیا تھا۔ نومبر 2020 میں انھیں سبکدوش ہونا تھا، لیکن مرکزی حکومت کی طرف سے بھلّا کو لگاتار 4 مرتبہ سروس میں توسیع دی گئی۔
جنرل وی کے سنگھ کی بات کریں تو وہ غازی آباد سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ بی جے پی نے 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں جنرل وی کے سنگھ کو غازی آباد سیٹ سے میدان میں اتارا تھا اور انھوں نے جیت حاصل کی تھی۔ وہ گزشتہ حکومت میں وزیر مملکت برائے خارجہ بنائے گئے تھے۔ 2024 کے انتخاب میں پارٹی نے انھیں ٹکٹ نہیں دیا۔ اس کے بعد سے ہی جنرل وی کے سنگھ کو لے کر طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ اب انھیں میزورم کا گورنر بنایا گیا ہے تو قیاس آرائیوں کا بازار بھی بند ہو گیا ہے۔
پارٹی اور تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے دیانتداری سے رکنیت سازی مہم چلائیں: تیجسوی پرساد یادو
پٹنہ:بہار پردیش راشٹریہ جنتا دل کے ریاستی دفتر کے کرپوری آڈیٹوریم میں راشٹریہ جنتا دل کی رکنیت سازی مہم کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شری تیجسوی پرساد یادو نے کہا کہ راشٹریہ جنتا دل کی رکنیت سازی مہم سب کے درمیان چلانی ہے۔اور ایک کروڑ ممبر بنانے کا جو ہدف پہلے سے مقرر کیا گیا ہے اسے ہر حال میں پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ممبر سازی مہم کو خاص طور پر استحصال زدہ، محروم، مظلوم، دلتوں، قبائلیوں، کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے درمیان مضبوطی سے چلانا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی نے مائی بہن ما ا سکیم کے تحت 2500 روپے دینے کا اعلان کیا ہے، اس کے ساتھ 200 یونٹ مفت بجلی، سوشل سیکورٹی پنشن کی رقم 400 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے کئے جانے کے علاوہ نوجوانوں کو نوکری اورروزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار اور طلباءکے مسائل کو ہر گھر تک پہنچانے کا عہد کرنا ہو گا۔ اس کے لیے جس کو بھی ممبر شپ دی جائے اسے بتایا جائے کہ مہاگٹھ بندھن حکومت کی 17 مہینوں میں حاصل کردہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ملازمت اور روزگار کے کاموں کے بارے میں بھی سبھی تک معلومات پہنچائی جائیں۔ تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے ہم سب کو سنجیدگی دکھانی ہوگی اور آپس میں تال میل پیدا کرکے ایمانداری سے پارٹی کی پالیسیوں اور اصولوں اور لالو جی کے خیالات کو ہر گھر تک پہنچانا ہوگا۔
دھکا مکی کر کانگریس کے امبیڈکر سمان مارچ کو روکنا جمہوریت پرشدید حملہ : ڈاکٹر اکھلیش سنگھ
پٹنہ:آئین کے معماربابا صاحب بھیم راو امبیڈکر کی یاد میں آج کانگریس کی جانب سے ملک گیر سمان مارچ کا انعقاد کیا گیا، جس کے تحت آج دار الحکومت پٹنہ میں یار پور باگھ مورتی مندر کے نزدیک امبیڈکر مجسمہ کے قریب، گردنی باغ، پٹنہ سے شہید اسمارک سکریٹریٹ تک سمان مارچ کا انعقاد کیا گیا۔
دارالحکومت پٹنہ میں یہ مارچ پٹنہ میٹروپولیٹن کانگریس اور پٹنہ ضلع کے دونوں دیہی کانگریس پارٹی نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا۔ جس میں بہار کانگریس کے ریاستی صدر ڈاکٹر اکھلیش سنگھ نے بھی شرکت کی۔بہار کانگریس صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ کی قیادت میں وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے ایوان کے اندر بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر کے خلاف استعمال کیے گئے نازیبا الفاظ کے خلاف ایک مارچ نکالا گیا۔ اس مارچ کو مقامی پولیس انتظامیہ نے آگے بڑھنے سے روک دیا جس کے بعد افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ مارچ روکنے کے بعد ریاستی صدر اکھلیش سنگھ کی قیادت میں کانگریس کے ہزاروں کارکن سڑک پر بیٹھ گئے۔ جس کے باعث یہ احتجاجی مارچ دھرنا میں بدل گیا۔ اس کے بعد کانگریس نے انتظامیہ کے خلاف خاموش احتجاج کے بعد دوبارہ امبیڈکر کے مجسمے پر گلپوشی کر سمان مارچ کا اختتام کیا۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کی جانب سے اپوزیشن کی آواز کو دبائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جس طرح انتظامیہ نے کانگریس کارکنوں کو مارچ کرنے سے روکا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک اور ریاست میں آمریت کی صورتحال ہے، انہوں نے کہا کہ جب تک وزیر داخلہ امت شاہ استعفیٰ نہیں دے دیتے کانگریس کا احتجاج جاری رہے گا۔
انہوں نے کہاکہ ملک میں انتشار کا ماحول بنا کر آئینی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ایوان میں بابا صاحب کے بارے میں اہانت آمیز بات کرنے کی جسارت کرنے والے وزیر داخلہ کو فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے طنزیہ کہا کہ پہلے استعفے اخلاقی بنیادوں پر مانگے جاتے تھے لیکن اب اس حکومت نے اخلاقیات کا گلا گھونٹ دیا ہے اور ایوان کے اندر ہی ملک کے عظیم قائدین کی توہین اور تذلیل پر تلی ہوئی ہے۔ اب تک بی جے پی کے لیڈر ملک میں آئین کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہے تھے اور اب آئین کے معمار بابا صاحب کے خلاف ایسے زیادتی کر کے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انہیں ملک کے عظیم ہیروز کا کوئی احترام نہیں ہے۔ وہ جدوجہد آزادی کے عظیم ہیروز کا بھی احترام نہیں کرتے۔
اس دوران سابق وزیر کرپاناتھ پاٹھک، امبوج کشور جھا، پٹنہ میٹروپولیٹن صدر ششی رنجن، دیہی صدر سمیت کمار سنی اور ایگزیکٹو صدر گرجیت سنگھ نے پٹنہ ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کی اور صدر کے نام ایک میمورنڈم پیش کیا۔
کانگریس کا امبیڈ کرسمان مارچ کامیاب ، مجاہدین آزادی اور ملک کے عظیم ہیروز کا احترام کیاجائے : عطاءالرحمان
پٹنہ(پریس ریلیز ) کانگریس کے سنیئر لیڈر ایڈووکیٹ عطاءالرحمان نے کہاکہ کانگریس کا امبیڈ کر سمان مارچ انتہائی کامیاب رہا ۔ انہوںنے کہاکہ آئین کے معمار باباصاحب ڈاکٹر بھیم راﺅ کے خلاف وزیر داخلہ امت شاہ کا بیان انتہائی قابل مذمت ہے ۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ کیونکہ وہ ملک کے ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں انہیں اس طرح کا بیان دینا کسی طرح زیب نہیں دیتا ہے ۔ وہ بھی پارلیمنٹ کے اندر اس طرح کی بات کرنا تو انتہائی شرمناک ہے ۔ کانگریس ان کے اس بیان کی شدید مذمت کرتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ آج ملک کے عظیم مجاہد ین آزادی کی موجودہ بی جے پی حکومت کے سرکردہ لیڈران تحقیر کر رہے ہیں جو کہ کسی بھی طرح سے مناسب نہیںہے ۔ خاص کر جب کوئی آئینی عہدے پر فائز ہو تو ایسے شخص کو تو سوچ سمجھ کر بیان دینا چاہئے۔ آج افسوس ہوتاہے کہ وزیر اعظم سے لیکر چھٹ بھیا نیتا سبھی ایک ہی طرح کی بولی بولتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہیکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھا جائے ۔ آپسی میل محبت سے رہا جائے ، مجاہدین آزادی اور ملک کے عظیم ہیروز کی قدر کی جائے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھاجائے ۔
Monday, 23 December 2024
بیٹی کے سسرال میں رشتہ داروں اور دوستوں کا طویل وقت تک ٹک جانا بے رحمی: کلکتہ ہائی کورٹ
کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلہ میں بیٹی کی سسرال میں اس کے گھر والوں اور دوستوں کے طویل وقت تک (بغیراجازت) رہ جانے کو بے رحمی قرار دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اسی بنیاد پر 19 دسمبر کو ایک شخص کو طلاق کی منظوری دے دی۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ شوہر کی مرضی کے خلاف بیوی کے دوستوں یا رشتے داروں کا طویل وقت تک اس کے گھر میں رہنا بے رحمی ہے۔ کئی بار ایسے حالات میں جبکہ بیوی خود بھی گھر میں نہیں ہے، رشتے داروں کی وہاں موجودگی سے عرضی دہندہ کی زندگی پر گہرا اثر پڑا ہوگا۔ خاتون کے شوہر نے شادی کے تین سال بعد سال 2008 میں ہی طلاق کی عرضی فائل کی تھی۔
ان دونوں کی شادی مغربی بنگال کے نابا دویپ میں ہوئی تھی۔ بعد میں 2006 میں یہ دونوں کولا گھاٹ چلے آئے، جہاں شوہر کام کرتا تھا۔ پھر 2008 میں بیوی کولکاتہ کے نارکیل ڈانگہ چلی گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہاں پر رہنا اس کے لیے زیادہ بہتر ہے، کیونکہ یہ سیالدہ سے نزدیک پڑتا ہے، جہاں وہ کام کرتی ہے۔ حالانکہ پوچھ تاچھ کے دوران اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے شوہر سے دور اس لیے ہوئی کیونکہ وہ بے بس ہو گئی تھی۔
2008 میں کولا گھاٹ واقع شوہر کے گھر سے بیوی کے چلے جانے کے بعد بھی اس کا کنبہ اور ایک دوست وہیں ٹھہرے رہے۔ 2016 میں بیوی ا±تر پارا چلی گئی۔ شوہر کا کہنا ہے کہ بیوی کا اس سے دور رہنا بے رحمی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے یہ بھی کہا کہ بیوی کسی طرح کا تعلق رکھنے یا پھر بچے پیدا کرنے کی خواہش مند نہیں ہے۔
سنیئر کانگریسی لیڈر عطاءالرحمان کی دختر اقرا نے اوپن مائنڈ س برلااسکول کے کھیلوں کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی
ہمیں اپنی مسجدوں کوایک مرکز بنا کر موجودہ اور مستقبل کے نسل کی سماجی تعلیمی ، اور معاشی بہتری کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے : ڈاکٹر عبد القدیر
مساجد کو نبوی دور کے طرزپربنانے کیلئے جامع تحریک کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے: مقررین
ممبئی :مساجد کو نبوی دور کے طرزپربنانے کیلئے جامع تحریک کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورمیں مسجد نبوی صرف عبادات، ذکر و تلاوت تک محدود نہیں تھی بلکہ دنیوی معاملات کا بھی مرکز رہی۔جس سے انسانی فلاح وبہبود اور معاشرے کی بہتری کے ساتھ ساتھ تہذیب کے دائرے میں رہ کر کھیل کود اور تفریح کا سامان بھی مہیا کرایا جاتاتھااورہمیں بھی مسجد نبوی کی طرز پر اپنی مساجد کو کمیونٹی کی ترقی کا مرکز بنانے کی جانب توجہ دینا چاہئیے،ان خیالات کا اظہار مقررین نے گلوبل کیئر فاو¿نڈیشن کی زیر نگرانی ایک کتابچے' مثالی مسجد'کے اجراء کے جلسہ میں کیا۔
جنوبی ممبئی میں واقع اسلام جمخانہ (مرین لائنس) سیلی بریشن ہال میں اس تعلق سے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدرجلسہ انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہا کہ مساجد کی اہمیت اور افادیت پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسجد نبوی جہاں عبادات کا مرکز بھی وہیں دار القضاء بھی تھا، دار الشفاءبھی تھا ، انسانیت کی نفع رسانی اور تمام امور خیر کی انجام دہی کا عالمی نمونہ بھی۔ مسجدیں ہمیں وقت پابندی کا بھی درس دیتی ہیں،جہاں سے وقت پر اذان اور وقت پر جماعت کا بہر صورت اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس لئے علماءکو حالات کے تناظر میں سوچنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کئی مثالیں بھی پیش کیں اور معاشرے کی بدحالی کا بھی ذکر کیا۔اس لیے ضروری ہے کہ مساجدکو ایک ایسا مرکز بنایا جائے کہ نوجوانوں میں بہتری لائی جاسکے۔صدر اسلام جمخانہ ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے کہا کہ اس سلسلہ میں عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ اس میں ٹرسٹیان کارول اہم ہوناچاہئیے۔ایک کتاب کا اجراءکافی نہیں ہے ، اس کے لئے ہمیں لوگوں کو مسجد سے جوڑنا ہوگا۔
شاہین انسٹی ٹیوٹ بیدرکے روح رواں ڈاکٹر عبد القدیرموجودہ نسل کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہماری یہ نسل ہی اصل ہے، یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنی مسجدوں کوایک مرکز بنا کر اپنی موجودہ اور مستقبل کی نسل کی سماجی تعلیمی ، اور معاشی بہتری کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔بلکہ سنجیدگی سے ان کی بہتر تربیت پرغور کرنا ہوگا۔اس ضمن میں تاخیر نقصان دہ ثابت ہوگی۔
سینئر پولیس افسر قیصر خالد نے کہا کہ بیرون ملک اور خصوصی طور پر یورپ اور ملائیشیا کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں عملی طورپر مثالی مسجد بنانا چاہئیے۔انہوں نے مزیدکہاکہ کسی دوست کے ملاقات ہوتی ہے تو برسوں کا تعلق اور یادیں تازہ ہو جاتی ہیں،اور تعلیمی اداروں کو یاد کیاجاتا ہے،ہمیں اس طرح کاتعلق مساجد سے وابستہ کرنا چاہئیے۔مساجد کوکچھ دیرکے لئے ہی استعمال کرتے ہیں۔آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم جب ہجرت کے بعدمدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی ، یہ واضح پیغام ہے کہ آپ کی تہذیبی زندگی کا مرکز تھی،مسجد نبوی میں مشورے اور منصوبہ سازی کی جاتی تھی ،جنگ میں زخمیوں کا علاج ہوتااورخیر کے کام بھی انجام دیئے جاتے تھے۔ اس واضح رہنمائی اور ہدایت کے باوجود ہم کورے ہیں۔
اقبال میمن ،صدر میمن فیڈریشن نےکہا کہ ہم سب کو اس طرف توجہ دے کر کام کرنا ہوگا تبھی ہم مقصد حاصل کر سکیں گے۔ ابتدائ میں گلوبل کیئر فاو¿نڈیشن کے سربراہ عابد احمد نے کتابچے کی تالیف کا مقصد بتایااور کہاکہ اس کے ذریعے مساجد کے متولیان اور ائمہ کرام کو ترغیب دلانا ہے کہ وہ مساجد کو نماز ، تلاوت قرآن اور دیگر عبادات کے ساتھ ایک مثالی کمیونٹی مراکز میں تبدیل کریں اور نوجوانوں کی فکر کریں۔ ملت کے درد مندوں کی خواہش ہے کہ مساجد میں نبوی طرز پر مثبت تبدیلی لائی جائے ، یہ اس وقت ممکن ہے جب ہم سب عملبکتیں گے،ورنہ کچھ نہیں ہوگا۔
مولانا اعجاز احمد کشمیری نے کہا کہ ائمہ کے احوال اور مسجد کے تقدس پر بھی ہماری نگاہ ہواور ائمہ کے احوال اور ان کے معاشی حالات پر بھی توجہ دی جائے۔انہیں خود کفیل بنایاجاسکے امام ایک سربراہ کی حیثیت رکھے۔اور مساجد کا تقدس بھی پامال نہ ہو۔ مفتی محمد اشفاق قاضی ،جامع مسجد نے کہا کہ جن خطوط پر کوشش کرنے کیلئے گفتگو کی گئی اور کتابچہ کا اجراء عمل میں آیا ، اس طرزپر کسی حد تک جامع مسجد میں کام ہو رہا ہے۔ اورسب سے اہم بطور خاص وقتا فوقتا غیر مسلم بھائیوں کو مسجد اور مسجد کی سرگرمیوں سے متعارف کرایا جاتاہے۔ اس نشست سے ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر، اے ایم پی کے صدرعامر ادریسی اور سنئیر سوشل ورکرسعید خان نے بھی خطاب کیا،صحافی سرفراز آرزو ،جاویدجمال الدین،عبدالقادر چودھری،شہباز صدیقی،بھی پیش پیش تھے۔
Sunday, 22 December 2024
اتل خودکشی معاملے میں نیا موڑ، نکیتا کا الزام، اتل سبھاش کی تین گرل فرینڈز تھیں؟
اتل سبھاش کی موت کا معاملہ ہر روز نیا موڑ لے رہا ہے۔ اتل سبھاش کی ملزم بیوی نکیتا سنگھانیہ نے پولیس پوچھ تاچھ کے دوران متوفی اتل کے کردار پر سنگین الزامات لگائے ہیں جب کہ اتل سبھاش کے بھائی نے نکیتا کے دعوو¿ں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ ثبوت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔
پولس پوچھ تاچھ کے دوران نکیتا سنگھانیہ نے متوفی اتل کے کردار پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ نکیتا نے دعویٰ کیا ہے کہ اتل کی تین گرل فرینڈ تھیں۔ وہ ان خواتین پر بھاری رقم خرچ کرتا تھا۔ اپنی خاندانی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا۔ نکیتا نے کہا، "اتل نے میرے ساتھ ٹھیک سے برتاو¿ نہیں کیا اور ہماری شادی شدہ زندگی تناو¿ کا شکار تھی۔ اس کے باہر کے معاملات ہمارے جھگڑوں کی بڑی وجہ تھے۔"
اتل سبھاش کے بھائی نے نکیتا کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ نکیتا کے دعووں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "یہ الزامات صرف اتل کی شبیہ کو خراب کرنے اور معاملے کو موڑنے کے لیے لگائے جا رہے ہیں۔ ہم پہلے ہی اپنے بھائی کی موت پر صدمے میں ہیں اور اس طرح کے الزامات ہمارے درد کو بڑھا رہے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ اتل کا کردار بے داغ تھا۔ جو الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ صرف توجہ ہٹانے اور سچ کو چھپانے کے لیے ہیں۔ پولیس نکیتا سنگھانیہ کے الزامات کی جانچ کر رہی ہے۔ اتل کی موت کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔
اے آئی انجینئر اتل سبھاش نے حال ہی میں بنگلورو میں خودکشی کر لی تھی۔ اتل اصل میں اتر پردیش کا رہنے والا تھا اور بنگلورو میں رہ رہا تھا۔ خودکشی کے بعد اتل کے بھائی کی شکایت پر پہلی ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس معاملے میں اتل کی بیوی اور اس کے خاندان کے چار افراد کے خلاف خودکشی کے لیے اکسانے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔
اُجالا فاؤنڈیشن نے قاسم خورشید کو امیر خسرو ایوارڈ سے نوازا
پٹنہ
پورے وقار اور بلند ترین معیار و اقدار کے ساتھ اُردو ہندی کی انتہائی محترم شخصیت جن کا رب العزّت پر مصمم یقین رہا اور اپنے بچپن میں ہی والد کی شفقت سے محروم ہونے کے بعد انتہائی مشکل ترین حالات سے گزرتے ہوئے سخت تگ و دو کے بعد اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی اپنی طالب علمی کے زمانے سے ہی درس و تدریس کے ساتھ تخلیقی سفر شروع کیا اور ملک اور بیرون ملک کے رسائل اور جرائد میں شائع بھی ہوتے رہے پھر کڑے وقت میں رشتوں کی بے اعتنائیوں کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہارے اور کم عمری میں ہی ہندوستان گیر سطح پر سروس کمیشن سے مشتہر کلاس ون آفیسر کے واحد عہدے پر فائز ہوکر ایک تاریخ بھی رقم کی اور بحیثیت صدر شعبہ اور انچارج ڈائریکٹر بھی اپنی صلاحیتوں سے بےحد متاثر کیا وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سربراہی میں یوم تعلیم اور بہار دیوس کی شروعات سے ہی نیشنل سیمینار مشاعرہ کوی سمیلن کے کنوینر کے طور پر لگاتار اپنی خدمات دیں- خود قومی اور بین الاقوامی سیمینار مشاعرے میں مدعو کیے جاتے رہے جن میں حال میں ہی بحرین کا عالمی مشاعرہ اُن کی تخلیقی بصیرت کا غماز ہے- ڈاکٹر قاسم خورشید کی اُردو ہندی اور انگریزی میں 23 سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں امسال ہی اُن کا دو شعری مجموعہ "دل کی کتاب"(اُردو)اور "دستکیں خاموش ہیں"(ہندی)بےحد مقبول ہو رہے ہیں ڈاکٹر قاسم خورشید اعزازی طور پر مُختلف ادبی سماجی تعلیمی اور ثقافتی ادارے کے چیئرمین وائس چیئر مین سیکرٹری ممبر مشاورتی بورڈ بھی ره چکے ہیں مختلف قومی اور بین الاقوامی اعزاز و اکرام سے بھی نوازے جاچکے ہیں اور بڑی بات یہ ہے کہ پوری فعالیت و شدّت کے ساتھ فلاحی کاموں سے جڑے ہوئے بھی ہیں اُن کی ایسی ہی متعدّد خدمات کو ملحوظ رکھتے ہوئے فلاحی ثقافتی ادبی ثقافتی تنظیم اُجالا فاؤنڈیشن نے سال 2024 کا بےحد پرکشش اور اعلیٰ امیر خسرو ایوارڈ ڈاکٹر قاسم خورشید کو دینے کا فیصلہ کیا جسے انتہائی خوبصورت عالیشان تقریب میں پٹنہ کے بہترین سماجی رہنما جناب ششی شیکھر رستوگی نے عنایت کیا - قاسم خورشید کے اس ایوارڈ پر کثیر تعداد میں اُردو ہندی کی ہر دلعزیز شخصیتوں مداحوں اور سامعین نے پرجوش خیر مقدم کیا محترم ششی شیکھر رستوگی نے کہا کہ یہ ہمارے لیے انتہائی خوشی اور فخر کی بات ہے کہ ڈاکٹر قاسم خورشید جیسی محترم شخصیت کا تعلق بہار سے ہے اور انہوں نے پوری دنیا میں صوبے کا سر بلند کیا ہے ان کے لیے بہُت ساری دعائیں اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ساتھ ہی فاؤڈیشن کے روحِ رواں اور بچوں کی تعلیم نیز ادبی ثقافتی کاموں کیلئے فاؤنڈیشن کے روحِ رواں جناب معین ابر اور اُنکی بڑی ٹیم کو بھی اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ڈاکٹر قاسم خورشید نے فرط جذبات سے لبریز ہوتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب ہر گوشے سے دعائیں اور محبتیں مل رہی ہُوں سوائے اللہ کا شُکر ادا کرنے کے زبان اور بھی کچھ کہنے سے قاصر رہتی ہے میرے لیے یہ اعزاز اس لیے بڑا ہے کہ حضرت امیر خسرو ہندوستانی تہذیب کے ایسے شاعر تھے جن کے روحانی کیف سے بھی زمانہ واقف ہے اور جب تک ہم محبت وطنیت اور روحانیت سے سرشار رہیں گے حضرت امیر خسرو ہماری ملی وراثت کا حصہ رہیں ہے میں اُجالا فاؤنڈیشن کو اور محترم معین ابر اور اُن کے ہم نوا کو امیر خسرو کی یاد میں اس ایوارڈ کی تفہیم کے لیے بھی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں
ڈاکٹر قاسم خورشید کو امیر خسرو ایوارڈ دیے جانے پر ہر طرف سے پذیرائی جاری ہے
اس موقع پر ڈاکٹر قاسم خورشید کی صدارت میں ایک شاندار مشاعرے اور کوی سمیلن کا بھی انعقاد عمل میں آیا جس میں مطیع الرحمان ساحل ارادھنا پرساد وریندر ناتھ وبھاتسو طلعت پروین کاظم رضا پربھات کمار دھون شبانہ عشرت چندر پرکاش اور ناظمِ مشاعرہ کوی سمیلن نسیم احمد نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو یادگار بناتے ہوئے ہندوی کے سب سے بڑے شاعر امیر خسرو کو بھی بہترین خراج دیا





