پٹنہ،20 ستمبر(پریس ریلیز): پارس ہسپتال میں ایک 19 سالہ لڑکی کے دل میں موجود ٹیومر کا انویسیو کارڈیک سرجری کے ذریعہ کامیاب علاج کیا گیا۔یہ ٹیومر اس کے لیفٹ ایٹریئم میں واقع تھا، جو دل کے دونوں اطراف کو الگ کرتا ہے۔ ٹیومر کومنیملی انویسیو کارڈیک سرجری تکنیک کے ساتھ تین گھنٹے تک کامیاب ا?پریشن کے بعد نکالا گیا۔ اب لڑکی مکمل طور پر صحت مند ہے۔یہ ا?پریشن پورے بہار کے لیے منفرد اور نیا تھا۔ منیملی انویسیو کارڈیک سرجری کو ڈاکٹروں کی ایک بہت ہی تجربہ کار، جانکار ٹیم سنبھالتی ہے جو ہر ممکن احتیاط اور دیکھ بھال کے ساتھ سرجری کرتی ہے۔اس سلسلے میں پارس اسپتال کے کارڈیک سرجری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اروند گوئل کا کہنا ہے کہ ایک 19 سالہ لڑکی کو برین اسٹروک کی شکایت پر اسپتال ریفر کیا گیا تھا۔ جانچ کے دوران پتہ چلا کہ ان کے دل کے بائیں ایٹریم میں ٹیومر ہے۔ جسے طبی زبان میں لیفٹ ایٹریل مکسوما کہتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی غیر کینسر والی رسولی ہے۔ جس کے ذرات ٹوٹ کر جسم کے کسی بھی حصے میں جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ حالت مریض میں ایک سنگین صورتحال پیدا کرتی ہے۔نئی ٹیکنالوجی کم سے کم ناگوار کارڈیک سرجری ہے۔ڈاکٹر اروند گوئل نے کہا کہ کارڈیک سرجری کا نام سنتے ہی لوگ اوپن ہارٹ سرجری کے بارے میں سوچتے ہیں۔ لڑکی کے گھر والوں کو بھی یہی بات پریشان کر رہی تھی۔ ہم نے انہیں سمجھایا کہ ہم دل کے ا?پریشن کے لیےہم نئی تکنیک مینملی انویسیو کارڈیک سرجری اپنا رہے ہیں۔ جس میں چھوٹے چیروں اور خصوصی ا?لات کی مدد سے دل کی سرجری کی جا سکتی ہے۔ تین گھنٹے کے ا?پریشن میں ہم نے دل میں موجود رسولی کو مکمل طور پر نکال دیا۔ ڈاکٹر اتل موہن (ہیڈ ا?ف ڈیپارٹمنٹ اور سینئر کنسلٹنٹ - کارڈیک سرجری) اور ڈاکٹر شوبھنکر پرمانک (کنسلٹنٹ - کارڈیالوجی) بھی ا?پریشن میں شامل تھے۔ مریض صحت مند ہیں، انہیںڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ڈاکٹر سوہاس اردھے ریجنل ڈائریکٹر (ایسٹ) کا کہنا ہے کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم مریض کا وقت اور پیسہ دونوں بچا سکیں، ہمارے تجربہ کار ڈاکٹروں کی اخلاقی مدد ہمیں اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سرجری کرنے میں مریض کی ہمت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے ہسپتال کی بنیاد کو مضبوط رکھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔سرجری کروانے والی غزالہ پروین کا کہنا ہے کہ میں بہت خوفزدہ تھی لیکن ا?پریشن کے بعد میں 4 دن میں گھر چلی گئی اور اب میں بالکل ٹھیک ہوں، ڈاکٹروں نے مجھے پورے طریقہ کار کے بارے میں بہت اچھی طرح سمجھایا، اور سرجری غزالہ کا کہنا ہے کہ "میرے خاندان اور میں میری زندگی میں امید پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ میری صحت یابی کا پورا خیال رکھنے پر ڈاکٹروں اور پارس ہسپتال کی شکر گزار ہوں۔واضح ہو کہ پارس ایچ ایم ا?ر ا?ئی ہسپتال، پٹنہ بہار اور جھارکھنڈ کا پہلا کارپوریٹ ہسپتال ہے۔ 350 بستروں پر مشتمل پارس ایچ ایم ا?ر ا?ئی ہسپتال میں تمام طبی سہولیات، ایمرجنسی کی سہولت، ٹرسٹیری اور کوٹرنری کیئر، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ڈاکٹروں کے ساتھ جدید ترین کینسر سنٹر ایک ہی جگہ پر ہیں۔
No comments:
Post a Comment