E-Paper
- page-8
- page-7
- Page-6
- Page-5
- Page-4
- Page-3
- Page-2
- Page-1
- English News
- Patna Hindi News
- خصوصی ای میگزین/Special E-Magazine
- Home
- BIHAR NEWS
- UP/یوپی
- Advertisement
- classified/کلاسیفائیڈ
- About Us
- PATNA
- Contact Us
- Eid 2026/اسپیشل عید
- کاروباری شخصیات
- Educational institutions/تعلیمی ادارے
- مضامین
- ملکی/بین الاقوامی خبریں
- ریاستی خبریں
- مبارکبادیاں
- سیاسی خبریں
- جاب/کیریئر/سرکاری نوکری
- صحت/Health
Thursday, 22 January 2015
Monday, 3 June 2013
Sunday, 3 February 2013
سائنس/طب/صحت
کمپیوٹر کی کہانی
٭قاضی مشتاق احمد
نیو یارک کی سڑکوں پر رات کے وقت پولیس کوایک کارگلی میں پارک کی
ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ اپنی گشتی گاڑی کے فون سے تھانے سے کارکا نمبرمعلوم کرتا ہے۔
صرف آدھے منٹ کے اندر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کار کس کے نام پررجسٹرڈ ہے اور یہ
گاڑی چوری ہو جانے کی رپورٹ تھانے میں درج ہے۔ یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ گشتی دستہ
ایک منٹ کے اندر ہی قانونی کارروائی شروع کردیتا ہے۔بلجیم کے راستے پرایک خطرناک
حادثے میں ایک نوجوان مر گیا ہے اس کی لاش اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لئے آئی ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ یورپ کے سارے اسپتالوںکو بیک وقت میہا کی جارہی ہے اور فوراً یہ
معلوم ہوجاتا ہے کہ جرمنی کے ایک مریض کو اورلندن کے ایک دوسرے مریض کو بلجیم میں
مرنے والے نوجوان کے گردے کام آسکتے ہیں۔ ایک گھنٹے کے اندرہی ایک گردہ جرمنی
اوردوسرا لندن ہوائی جہاز کے ذریعہ روانہ ہو جاتا ہے اورزندگی و موت کی کشمکش میں
مبتلا دو مریض نئی زندگی پاتے ہیں۔ لندن کی ایک کانفرنس میں شکاگو کا ایک سائنسداں
یکا یک بے ہوش ہوجاتاہے۔ شکاگو کوفوراً فون پرمطلع کیا جاتاہے سائنس داں کے اسپتال
پہنچنے سے پہلے ہی پانچ منٹ کے اندر اندر سیکڑوں میل دور سے اس بے ہوش سائنس داں
کے بارے میں ساری معلومات مل جاتی ہیں کہ اس کے خون کاگروپ کیا ہے۔ اسے کن دواو¿ں سے الرجی ہے۔ آج تک
اسے کون کون سے بیماریاں اور مرض ہوئے ہیں اورسائنس داں کے اسپتال میں داخل ہوتے
ہی علاج شروع ہوجاتا ہے۔یہ سب خیالی قصے نہیں بلکہ سچے واقعات ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ یہ سب اس عظیم
ایجاد کے کرشمے ہیں جسے کمپیوٹر کہتے ہیں۔ آج دنیا میں جو کمپیوٹر استعمال کئے
جارہے ہیں وہ عام طور پرٹی وی کی طرح نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹائپ رائٹر کی
طرح ایک کی بورڈ ہوتا ہے جو کمپیوٹر کے پردے پر نظر آنے والی معلومات فوراً ٹائپ
کر کے اس کی کاپی مہیا کر سکتا ہے۔ کمپیوٹر کا استعمال صرف جمع تفریق کے لئے نہیں
ہوتابلکہ نہایت ہی پیچیدہ حساب حل کرنے کے لئے بھی ہوتاہے۔ اس کی مہیا کی ہوئی
معلومات جس طرح بھی چاہیں استعمال ہوسکتی ہے۔الیکٹرانک کمپیوٹر کا استعمال گذشتہ تیس چالیس برسوں سے ہو رہاہے۔ کہا جاتاہے کہ
تیس ہزار سال قبل از مسیح چینی اور جاپانی لوگ، ایبکس نامی ایک مشین کا استعمال
جمع تفریق کے حساب کے لئے کرتے تھے۔ لکڑی کی چوکھٹ میں تار بٹھائے جاتے تھے اوران
تاروں میں رنگین لکڑی کی گوٹیاں رکھی جاتی تھیں۔ 1642میں بلیز پاسکل نامی ایک
فرانسیسی نے اس میں اور ترقی کی۔ یہ مشین رکشا یا اسکوٹر کے ’آڈومیٹر‘ کی طرح تھی۔
(یہ میٹر فاصلہ بتاتے ہیں یا رکشا کے موٹر کاکرایہ دکھاتے ہیں۔) 1671میں ولیم لائی
نیز نامی ایک جرمن حساب داں نے اسے نیا روپ دیا اور 1694میں اس نے اپنا کام پورا
کیا۔ حساب جمع تفریق کرنے والی مشین ایجاد ہوئی۔ لیکن جدید کمپیوٹر کا موجد ہے
چارلس بیز جو انگلستان کا رہنے والاتھا اس نے 1822میں ’ڈفرنس انجن‘ کے نام سے
کمپیوٹر ایجاد کیا۔ اس کے بعد اس میں مزید اصلاح کر کے اسے انالیٹکل انجن کا نام
دیا اور دھیرے دھیرے جدید کمپیوٹر ایجادہوا۔ آج برٹش ایئرویز 70ملکوں میں 650شہروں
کی بکنگ آفسوں کا کام کمپیوٹر کی مدد سے کرتی ہے۔ ہر روز چالیس ہزارمسافروں کی
بکنگ کا کام ہوتاہے۔ سیکنڈوں میں کمپیوٹر کے ذریعے یہ معلومات مل جاتی ہے کہ
ریزرویشن کے لئے کتنی سیٹیں خالی ہیں۔ اب بینکوں میں بھی کمپیوٹر کا استعمال عام
ہے۔ صرف بٹن دبا کر یہ دیکھا جاسکتاہے کہ بینک کے کھاتے دار کی دستخط اصلی ہے یا
بناوٹی۔ پیسے نکالنے اور جمع کرنے کا حساب بھی کمپیوٹر کرتاہے۔ مقناطیسی چیک
کمپیوٹر میں ڈالتے ہی کھاتے دارکے دستخط چیک کرنے کے بعد اس کے حساب میں چیک کی
رقم ڈال کر پیسے دینے والی مشین سے مطلوبہ رقم نوٹوں اور سکوں کے ذریعے باہر آجاتی
ہے۔
Saturday, 2 February 2013
کیریئر
شیئر بازار ۔تابناک مستقبل کا ضامن
فرمان چودھری 
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج کے اس مقابلہ جاتی دور میں ہماری نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔یہ زمینی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوانوں کی ایک معتد بہ تعداد اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاںلے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں تودوسری جانب نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جو مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی پرورش کا بار گراں اپنے کندھوں پر آجانے کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوگیا اور انہیں کسب معاش کے لئے نکلنا پڑا۔ہم نے ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے ’’نوجوانوں کی دنیا‘‘ کے نام سے ایک کالم شروع کیا ہے،تاکہ وہ تھوڑی اور محنت کرکے اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بناسکیں۔ہم اپنے ہرشمارہ میں قلیل مدتی پروفیشنل کورسز کے بارے میں بات کررہے ہیں اور جاب کے متلاشی اور کریئرسازی کے لئے سرگرداںنوجوانوں کوکورس، اس کی افادیت، مطلوبہ تعلیمی لیاقت اور متعلقہ تعلیمی وتربیتی اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کریںگے۔آج ہم جس کورس کے تعلق سے بات کرنے جارہے ہیں،اس کا نام ہے’شیئر بازار‘
عالم کاری کے اس دور میں روزگار کے متعدد نئے شعبے وجود میں آئے ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس میں آپ گھر بیٹھے تجارت کرسکتے ہیں اور اچھی خاصی دولت کما سکتے ہیں۔ اس ے علاوہ آپ ایکسپرٹ بن کر دوسروں کی رہنمائی بھی کرسکتے ہیں، جس سے آپ کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج کیا ہے:
اسٹاک ایکسچینج وہ بازار ہے جہاں بروکرس عام لوگوں اور اداروں کے شیئر خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ہندوستان کا شیئر بازار اس وقت شاندار نتائج دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سرمایہ کار بلکہ کریئر کی تلاش میں سرگرداں نوجوان بھی شیئر بازار کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بنا رہے ہیں۔ ابھی چند دہائیوں قبل تک اس شعبہ میں صرف ممبئی، کولکاتا اور دہلی کے شیئر بازاروں کے ہی تذکرے ہوتے تھے اور آج حال یہ ہے کہ ملک کے ہر بڑے شہر میں شیئر بازار ہے اور ان ہی بازاروں میں اچھی خاصی ٹریڈنگ بھی ہو رہی ہے۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیئر بازار کا مستقبل تابناک ہے۔
شیئر بازار میں کریئر:
شیئر بازار میں آپ اپنے کریئر کو کئی طرح سے بناسکتے ہیں۔ مثلاً ماہر معاشیات، اکاؤنٹینٹ، معاشی تجزیہ کار، انویسٹ انالسٹ، کیپٹل مارکیٹ انالسٹ، فیوچر پلانرس، سیکورٹی انالسٹ اور ایکوٹی انالسٹ وغیرہ۔
شیئر بازار میں سب سے اہم شخص اسٹاک بروکر ہوتا ہے۔ اسٹاک بروکر کمیشن لے کر کسی شخص یا ادارے کے لیے شیئر خریدنے کا کام کرتا ہے۔ عام زبان میں اسے شیئر دلال بھی کہتے ہیں، چونکہ شیئر بازار کی مشکلات کو سمجھنا، اس کی پیش گوئی کرنا اور اس پیش گوئی کی بنیاد پر نفع ونقصان کو ذہن میں رکھ کر خرید و فروخت کرنا آسان کام نہیں ہے، اس لیے شیئر بازار میں ان دلالوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، جو دلال شیئربازار میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو انجام دیتے ہیں ان کی مارکیٹ میں زیادہ مانگ ہوتی ہے۔ چونکہ یہ کام صلاحیت کے ساتھ مہارت بھی چاہتا ہے، اس لیے اچھا بروکر بننے کے لیے دلچسپی اور لگن کے ساتھ ساتھ غیرمعمولی ذہانت کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔
کچھ اسٹاک بروکر نجی گاہکوں کے لیے کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ تو کچھ مختلف اداروں سے وابستہ ہو کر ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایسے شیئر بروکر جو اداروں کے لیے کام کرتے ہیں، انہیں سیکورٹی ٹریڈر بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ بروکر مالی اداروں کے لیے کنسلٹنسی کا بھی کام کرتے ہیں۔ اداروں کے لیے سیکورٹی خریدنے اور فروخت کرنے والے اسٹاک بروکر کمیشن کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ یہی طریقہ نجی گاہکوں کے ساتھ بھی اپنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جو اسٹاک بروکر کسی مالی ادارے کے لیے مشیر کا کام کرتا ہے، اسے ایک متعین تنخواہ ملتی ہے۔ جہاں تک کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ آمدنی کا سوال ہے تو کسی بھی شیئر بروکر کی کم سے کم آمدنی10ہزار روپے فی ماہ سے زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
اسٹاک بروکر کی طرح سیکورٹی انالسٹ جیسے ماہرین کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، کیوںکہ شیئر بازار ہمیشہ ہی منافع کا کار و بار نہیں ہے، اس میں کئی بار نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ سیکورٹی تجزیہ کار دراصل اس رسک فیکٹر کا تجزیہ کرتا ہے، اس لیے اس کی گائڈ لائن پر ہونے والی سرمایہ کاری میں نقصان کے خطرات کم رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے مختلف کمپنیاں جو الگ الگ شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، سیکورٹی تجزیہ کاروں کی خدمات لیتی ہیں۔ یہ سیکورٹی تجزیہ کار اپنے نتیجے نکالنے کے لیے بازار کو اپنی کسوٹی میں الگ الگ طریقے سے کستے ہیں اور بازار میں نفع ونقصان کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ایک عام سیکورٹی انالسٹ کی آمدنی 10سے 15ہزار روپے فی ماہ کم سے کم ہوتی ہے۔ جب کہ زیادہ سے زیادہ آمدنی کی کوئی حد نہیں ہے، جو سیکورٹی انالسٹ جتنا زیادہ صحیح تجزیہ کرتا ہے، اس کی مارکیٹ ویلیو اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔
شیئر بازار کا ایک اور اہم شخص ایکوٹی انالسٹ ہے۔ یہ ہندوستانی کیپٹل مارکیٹ کی ترقی اور بڑھتی مقابلہ آرائی کے سبب پیدا ہوا نیا پروفیشنل ہے۔ ایکوٹی تجزیہ کار کسی شخص یا ادارے کو سرمایہ کاری کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں۔ ایسے وقت جب بازار کی طاقتیں اثردار کردار ادا کر رہی ہوں، یعنی جب بازار بناؤٹی تیزی یا مندی کا شکار ہو، اس وقت ایکوٹی انالسٹ ہی سرمایہ کار کو بتاتے ہیں کہ انہیں سرمایہ کاری کرنی چاہیے یا نہیں۔
شیئر بازار کے دیگر اہم انسانی وسائل میں انویسٹمنٹ مینجمنٹ، سیکورٹی ریپرزینٹیٹو اور اکاؤنٹ ایگزیکٹیو بھی ہیں۔ ان سب کے لیے بھی شیئر بازار کی سمجھ ہونا ضروری ہے۔
کیسے بنیں اسٹاک بروکر:
اسٹاک ایکسچینج کا ممبر بننے کے لیے آپ کو ایک تحریری امتحان اسٹاک ایکسچینج میں سیکورٹی کے طور پر کچھ رقم جمع کرانا ہوتی ہے۔ آپ چاہیں تو اسٹاک بروکرنگ کمپنی کے ایجنٹ یا ڈیلر کے طور پر کام کر کے تجربہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ بروکنگ کرنے والی بڑی کمپنیاں فائنانس میں مہارت رکھنے والے ایم بی اے ڈگری والوں، چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس اور چارٹرڈ فائنانس انالسٹ کو اولیت دیتی ہیں۔ ایک اسٹاک بروکر کے خاص کاموں میںشیئر بازار کی شرائط کو آسان کرنا اور اپنے گاہک کے لیے تجارتی سرگرمیاں انجام دینا وغیرہ ہیں۔
اسٹاک بروکر ایک ڈیلر اور ایک مشیر کے طور پر کام کرسکتا ہے، جو اپنے علم کی بنیاد پر گاہکوں کو نئے شیئروں کے مستقبل کے بارے میں پوری معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ بازار کے حالات کا تجزیہ کرتا ہے اور اس تجزیہ کی بنیاد پر اپنے گاہک کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ عام طور سے پروفیشنل اہلیت کے ساتھ ایم بی اے اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگری والا کوئی بھی امیدوار اس شعبہ میں اپنا کریئر بناسکتا ہے۔ اس شعبہ میں آمدنی کے لامحدود موا قع ہیں۔
اسٹاک بروکنگ کے ادارے:
1- ممبئی اسٹاک ایکسچینج ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ
اسٹاک ایکسچینج بھون، فورٹ، ممبئی
2- انسٹی ٹیوٹ آف فائنانشیل اینڈ انویسٹمنٹ پلاننگ
بی/303وینٹیکس وکاس، اندھیری، ممبئی
3- انسٹی ٹیوٹ آف کمپنی سکریٹریز آف انڈیا
نئی دہلی
4- انسٹی ٹیوٹ آف کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ
1965آریہ سماج روڈ، قرول باغ، نئی دہلی-5
5- آل انڈیا سینٹر فار کیپٹل مارکیٹ اسٹیڈیز اینڈ ریسرچ
ناسک-422005
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج کے اس مقابلہ جاتی دور میں ہماری نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔یہ زمینی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوانوں کی ایک معتد بہ تعداد اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاںلے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں تودوسری جانب نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جو مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی پرورش کا بار گراں اپنے کندھوں پر آجانے کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوگیا اور انہیں کسب معاش کے لئے نکلنا پڑا۔ہم نے ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے ’’نوجوانوں کی دنیا‘‘ کے نام سے ایک کالم شروع کیا ہے،تاکہ وہ تھوڑی اور محنت کرکے اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بناسکیں۔ہم اپنے ہرشمارہ میں قلیل مدتی پروفیشنل کورسز کے بارے میں بات کررہے ہیں اور جاب کے متلاشی اور کریئرسازی کے لئے سرگرداںنوجوانوں کوکورس، اس کی افادیت، مطلوبہ تعلیمی لیاقت اور متعلقہ تعلیمی وتربیتی اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کریںگے۔آج ہم جس کورس کے تعلق سے بات کرنے جارہے ہیں،اس کا نام ہے’شیئر بازار‘
عالم کاری کے اس دور میں روزگار کے متعدد نئے شعبے وجود میں آئے ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس میں آپ گھر بیٹھے تجارت کرسکتے ہیں اور اچھی خاصی دولت کما سکتے ہیں۔ اس ے علاوہ آپ ایکسپرٹ بن کر دوسروں کی رہنمائی بھی کرسکتے ہیں، جس سے آپ کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج کیا ہے:
اسٹاک ایکسچینج وہ بازار ہے جہاں بروکرس عام لوگوں اور اداروں کے شیئر خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ہندوستان کا شیئر بازار اس وقت شاندار نتائج دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سرمایہ کار بلکہ کریئر کی تلاش میں سرگرداں نوجوان بھی شیئر بازار کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بنا رہے ہیں۔ ابھی چند دہائیوں قبل تک اس شعبہ میں صرف ممبئی، کولکاتا اور دہلی کے شیئر بازاروں کے ہی تذکرے ہوتے تھے اور آج حال یہ ہے کہ ملک کے ہر بڑے شہر میں شیئر بازار ہے اور ان ہی بازاروں میں اچھی خاصی ٹریڈنگ بھی ہو رہی ہے۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیئر بازار کا مستقبل تابناک ہے۔
شیئر بازار میں کریئر:
شیئر بازار میں آپ اپنے کریئر کو کئی طرح سے بناسکتے ہیں۔ مثلاً ماہر معاشیات، اکاؤنٹینٹ، معاشی تجزیہ کار، انویسٹ انالسٹ، کیپٹل مارکیٹ انالسٹ، فیوچر پلانرس، سیکورٹی انالسٹ اور ایکوٹی انالسٹ وغیرہ۔
شیئر بازار میں سب سے اہم شخص اسٹاک بروکر ہوتا ہے۔ اسٹاک بروکر کمیشن لے کر کسی شخص یا ادارے کے لیے شیئر خریدنے کا کام کرتا ہے۔ عام زبان میں اسے شیئر دلال بھی کہتے ہیں، چونکہ شیئر بازار کی مشکلات کو سمجھنا، اس کی پیش گوئی کرنا اور اس پیش گوئی کی بنیاد پر نفع ونقصان کو ذہن میں رکھ کر خرید و فروخت کرنا آسان کام نہیں ہے، اس لیے شیئر بازار میں ان دلالوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، جو دلال شیئربازار میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو انجام دیتے ہیں ان کی مارکیٹ میں زیادہ مانگ ہوتی ہے۔ چونکہ یہ کام صلاحیت کے ساتھ مہارت بھی چاہتا ہے، اس لیے اچھا بروکر بننے کے لیے دلچسپی اور لگن کے ساتھ ساتھ غیرمعمولی ذہانت کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔
کچھ اسٹاک بروکر نجی گاہکوں کے لیے کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ تو کچھ مختلف اداروں سے وابستہ ہو کر ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایسے شیئر بروکر جو اداروں کے لیے کام کرتے ہیں، انہیں سیکورٹی ٹریڈر بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ بروکر مالی اداروں کے لیے کنسلٹنسی کا بھی کام کرتے ہیں۔ اداروں کے لیے سیکورٹی خریدنے اور فروخت کرنے والے اسٹاک بروکر کمیشن کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ یہی طریقہ نجی گاہکوں کے ساتھ بھی اپنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جو اسٹاک بروکر کسی مالی ادارے کے لیے مشیر کا کام کرتا ہے، اسے ایک متعین تنخواہ ملتی ہے۔ جہاں تک کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ آمدنی کا سوال ہے تو کسی بھی شیئر بروکر کی کم سے کم آمدنی10ہزار روپے فی ماہ سے زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
اسٹاک بروکر کی طرح سیکورٹی انالسٹ جیسے ماہرین کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، کیوںکہ شیئر بازار ہمیشہ ہی منافع کا کار و بار نہیں ہے، اس میں کئی بار نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ سیکورٹی تجزیہ کار دراصل اس رسک فیکٹر کا تجزیہ کرتا ہے، اس لیے اس کی گائڈ لائن پر ہونے والی سرمایہ کاری میں نقصان کے خطرات کم رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے مختلف کمپنیاں جو الگ الگ شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، سیکورٹی تجزیہ کاروں کی خدمات لیتی ہیں۔ یہ سیکورٹی تجزیہ کار اپنے نتیجے نکالنے کے لیے بازار کو اپنی کسوٹی میں الگ الگ طریقے سے کستے ہیں اور بازار میں نفع ونقصان کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ایک عام سیکورٹی انالسٹ کی آمدنی 10سے 15ہزار روپے فی ماہ کم سے کم ہوتی ہے۔ جب کہ زیادہ سے زیادہ آمدنی کی کوئی حد نہیں ہے، جو سیکورٹی انالسٹ جتنا زیادہ صحیح تجزیہ کرتا ہے، اس کی مارکیٹ ویلیو اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔
شیئر بازار کا ایک اور اہم شخص ایکوٹی انالسٹ ہے۔ یہ ہندوستانی کیپٹل مارکیٹ کی ترقی اور بڑھتی مقابلہ آرائی کے سبب پیدا ہوا نیا پروفیشنل ہے۔ ایکوٹی تجزیہ کار کسی شخص یا ادارے کو سرمایہ کاری کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں۔ ایسے وقت جب بازار کی طاقتیں اثردار کردار ادا کر رہی ہوں، یعنی جب بازار بناؤٹی تیزی یا مندی کا شکار ہو، اس وقت ایکوٹی انالسٹ ہی سرمایہ کار کو بتاتے ہیں کہ انہیں سرمایہ کاری کرنی چاہیے یا نہیں۔
شیئر بازار کے دیگر اہم انسانی وسائل میں انویسٹمنٹ مینجمنٹ، سیکورٹی ریپرزینٹیٹو اور اکاؤنٹ ایگزیکٹیو بھی ہیں۔ ان سب کے لیے بھی شیئر بازار کی سمجھ ہونا ضروری ہے۔
کیسے بنیں اسٹاک بروکر:
اسٹاک ایکسچینج کا ممبر بننے کے لیے آپ کو ایک تحریری امتحان اسٹاک ایکسچینج میں سیکورٹی کے طور پر کچھ رقم جمع کرانا ہوتی ہے۔ آپ چاہیں تو اسٹاک بروکرنگ کمپنی کے ایجنٹ یا ڈیلر کے طور پر کام کر کے تجربہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ بروکنگ کرنے والی بڑی کمپنیاں فائنانس میں مہارت رکھنے والے ایم بی اے ڈگری والوں، چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس اور چارٹرڈ فائنانس انالسٹ کو اولیت دیتی ہیں۔ ایک اسٹاک بروکر کے خاص کاموں میںشیئر بازار کی شرائط کو آسان کرنا اور اپنے گاہک کے لیے تجارتی سرگرمیاں انجام دینا وغیرہ ہیں۔
اسٹاک بروکر ایک ڈیلر اور ایک مشیر کے طور پر کام کرسکتا ہے، جو اپنے علم کی بنیاد پر گاہکوں کو نئے شیئروں کے مستقبل کے بارے میں پوری معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ بازار کے حالات کا تجزیہ کرتا ہے اور اس تجزیہ کی بنیاد پر اپنے گاہک کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ عام طور سے پروفیشنل اہلیت کے ساتھ ایم بی اے اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگری والا کوئی بھی امیدوار اس شعبہ میں اپنا کریئر بناسکتا ہے۔ اس شعبہ میں آمدنی کے لامحدود موا قع ہیں۔
اسٹاک بروکنگ کے ادارے:
1- ممبئی اسٹاک ایکسچینج ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ
اسٹاک ایکسچینج بھون، فورٹ، ممبئی
2- انسٹی ٹیوٹ آف فائنانشیل اینڈ انویسٹمنٹ پلاننگ
بی/303وینٹیکس وکاس، اندھیری، ممبئی
3- انسٹی ٹیوٹ آف کمپنی سکریٹریز آف انڈیا
نئی دہلی
4- انسٹی ٹیوٹ آف کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ
1965آریہ سماج روڈ، قرول باغ، نئی دہلی-5
5- آل انڈیا سینٹر فار کیپٹل مارکیٹ اسٹیڈیز اینڈ ریسرچ
ناسک-422005
کیسے پائیں اپنی پسندیدہ ملازمت
کیری لوئے وینتھل میسی
امریکہ کے یونیورسٹی کیریئر مشیر کہتے ہیں کہ جلد آغاز کریں اور اچھی طرح تیاری کریں۔
ٹرووڈی اسٹین فیلڈ پر روزگار کے خواہش مند ۳۸۰۰۰ افراد کی ذمہ داری ہے اور وہ ان کے ساتھ میل جول کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔
نیو یارک یونیور سٹی میں کیرئیر ڈیولپ منٹ کے واشر مین مرکز میں طلبہ و طالبات کے امور کی اسسٹنٹ وائس پریسیڈنٹ اور ایگز یکٹو ڈائریکٹر اسٹین فیلڈ اپنے طلبہ و طالبات کو اس تعلیمی ادارے میں داخلے کے پہلے دن سے اپنی عملی زندگی کی تیاری شروع کر نے کا مشورہ دیتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’’ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کیرئیر بنانے کی تیاری جس قدر جلد شروع کی جائے اچھی ہے ۔‘‘ جس دن سے طلبہ و طالبات یونیور سٹی آنا شروع کر تے ہیں اسی دن سے واشر مین سینٹر عملی زندگی میں کامیابی کیلئے اقدامات کے سلسلے میں ان کی رہنمائی کر نے لگتا ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ ممکنہ روزگار فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کیسے ربط ضبط کیا جائے اور کس طرح انٹر ویو کا مرحلہ سر کیا جائے۔
اسٹین فیلڈ کہتی ہیں کہ کیرئیر کی تیار ی میں ابتدائی زور امریکہ کے کالجوں میں عملی زندگی کے متعدد ممتاز کیریئر مراکز کے طرز عمل کی شناخت ہے۔ طلبہ و طالبات کیلئے جن سر گرمیوں کا اہتمام کیا جاتاہے ان میں ہر صورت حال میں نیٹ ورکنگ ،قبولیت ،سماجی طور طریقوں کی تر بیت اور عشایئے شامل ہیں اور طلبہ و طالبات کو اس کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ مختلف صورتوں میں ممکنہ آجرین کے ساتھ بات کر نے کی مشق مکمل کر لیں۔ انہیں کسی مخصوص عشایئے کی فضا میں انٹر ویو کے فن کی نزاکتیں سکھائی جاتی ہیں یا اپنی اہلیتوں کو ساٹھ سے نوے سکنڈ کے اندر مختصراًپیش کر نے کا ہنرسکھایا جاتا ہے۔
آجر کمپنی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔
رسمی لباس زیب تن کریں اورجسمانی حرکات و سکنات مثبت رکھیں۔
اپنے آپ کو مثبت طور پر پیش کریں۔
جب کمزوریوں کی بات کررہے ہوں تو بتائیں آپ اس پر کیسے قابو پائیں گے۔ انٹرویو لینے والے کی جانب دیکھ کر بات کریں۔
انٹرویو لینے والے سے پوچھنے کے لئے سوالات تیار کریں۔
© گیٹی امیجز
© گیٹی امیجز
انٹر ویو کی تیاری
امیدوار کوجس صنعت سے دلچسپی ہو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا بہتر ہے۔اگر انٹرویو کا موقع ہے اور صحیح معنوں میں اس انٹر ویو کا جس میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہو، تو اس کاسامنا کر نے سے قبل انٹر ویو کے ہنر کی مشق کے بارے میں اسٹین فیلڈاس بات پر یقین کرتی ہیں کہ عملاً جتنی معلومات حاصل کی جا سکے اور جتنی مشق کی جا سکے اتنا اچھا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس یونیور سٹی میں طلبہ و طالبات کو یونیور سٹی میں باضابطہ ملازمت کر نے والے اسٹاف کیرئیر صلاح کاروں ، رضاکار آجرین اور اس مرکز سے فارغ ہو نے والے طلبہ و طالبات کے ساتھ مشقی انٹر ویو کا موقع بھی پیش کیا جاتاہے۔
اسٹین فیلڈ نے بتایا کہ یہ( مشقی انٹر ویو )طلبہ و طالبات کو حقیقی معنو ں میں شدت سے مشورہ دینے کا ایک موقع ہے۔انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے اندر بہتری لانے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد ہم یہ دیکھنے کیلئے آگے کے اقدامات بھی کرتے ہیں کہ وہ خود کو بہتر بنانے کیلئے صحیح سمت میں قدم بڑھا رہے ہیں یا نہیں۔
امیدوار کوجس صنعت سے دلچسپی ہو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا بہتر ہے۔اگر انٹرویو کا موقع ہے اور صحیح معنوں میں اس انٹر ویو کا جس میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہو، تو اس کاسامنا کر نے سے قبل انٹر ویو کے ہنر کی مشق کے بارے میں اسٹین فیلڈاس بات پر یقین کرتی ہیں کہ عملاً جتنی معلومات حاصل کی جا سکے اور جتنی مشق کی جا سکے اتنا اچھا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس یونیور سٹی میں طلبہ و طالبات کو یونیور سٹی میں باضابطہ ملازمت کر نے والے اسٹاف کیرئیر صلاح کاروں ، رضاکار آجرین اور اس مرکز سے فارغ ہو نے والے طلبہ و طالبات کے ساتھ مشقی انٹر ویو کا موقع بھی پیش کیا جاتاہے۔
اسٹین فیلڈ نے بتایا کہ یہ( مشقی انٹر ویو )طلبہ و طالبات کو حقیقی معنو ں میں شدت سے مشورہ دینے کا ایک موقع ہے۔انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے اندر بہتری لانے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد ہم یہ دیکھنے کیلئے آگے کے اقدامات بھی کرتے ہیں کہ وہ خود کو بہتر بنانے کیلئے صحیح سمت میں قدم بڑھا رہے ہیں یا نہیں۔
نیو یارک سٹی میں فور دھم لا اسکول کے مفاد عامہ رسورس سینٹر کے اسسٹنٹ ڈین ٹام شیون ہر نے بتایا کہ وہ اکثر( مشقی) انٹر ویو میں آنے والے طلبہ اور طالبات کو ایسے ہی مشورے دیتے ہیں کہ: آپ اپنے کو مزید بہتر بنائیے۔ شیون ہر نے کہا کہ’’ میں لوگوں کو یہ بتانے میں بہت وقت صرف کر تا ہوں کہ انٹر ویو میں خود نمائی ان کا اپنا کام ہے۔ آپ کو خود یہ کام کر نا ہے ، خودسر ہو نا ،بے خوف او ر اپنے آپ کو فروغ دینے والابنا کر پیش کرنا ہے کیوں کہ انٹر ویو لینے والا نہ صرف اس کی امید کر تا ہے بلکہ آپ سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ آپ یہ سب کچھ کریں گے۔ ‘‘
شیون ہر کہتے ہیں کہ آپ اپنے آپ کو آگے ضرور بڑھائیے لیکن اس عمل میں بھی اپنی حقیقی شخصیت پیش کیجئے۔ کسی بھی حال میں انٹر ویو میں جھوٹ نہ بولئے بلکہ اپنی شخصیت ،ہنر مندی اور تجربے کے مثبت پہلوؤں پرپورا زور ڈالئے۔
اگر کمزوری یا چیلنج کی بات کر نی ہے تو یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ انٹر ویو لینے والا اس کی امید کرے گا کہ اس کمزوری یا چیلنج جیسی رکاوٹ پر قابو پانے کا آپ اپنا طریقۂ کار بھی بیان کریں گے۔
مشقی انٹر ویو سے روزگار کے خواہش مند نو جوانوں کو اپنی جسمانی حرکات وسکنات کو چست درست بنانے کا موقع بھی ملتا ہے۔ شیون ہر کا مشورہ ہے کہ روایتی اور رسمی پوشاک کے سلسلے میں غلطی نہ کی جائے اور جسم کی حرکات و سکنات کو ہمیشہ مثبت رکھا جائے۔
مشقی انٹر ویو سے روزگار کے خواہش مند نو جوانوں کو اپنی جسمانی حرکات وسکنات کو چست درست بنانے کا موقع بھی ملتا ہے۔ شیون ہر کا مشورہ ہے کہ روایتی اور رسمی پوشاک کے سلسلے میں غلطی نہ کی جائے اور جسم کی حرکات و سکنات کو ہمیشہ مثبت رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ بہت اہم ہے کہ ایک خاص انداز سے بیٹھا جائے اور انٹر ویو لینے والوں سے آنکھیں چار رکھی جائیں کیوں کہ اس سے اس پوزیشن میں اور میٹنگ میں رہنے کے سلسلے میں آپ کے جوش ،اعتماد اور دلچسپی کا مظاہرہ ہو تا ہے ۔‘‘
اسٹین فیلڈ اور شیون ہر دونوں اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جس تنظیم میں نوکری تلاش کی جائے اس کے بارے میں تحقیق کر لینے کی اہمیت کو سمجھا جائے۔ بیشتر صورتوں میں اس ادارے کی ویب سائٹ پر تمام بڑی ترغیبات ، مقاصد ، داخلی ساخت اور نمایاں منصوبوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کردی جا تی ہیں : یہ وہ مواد ہے جس سے انٹر ویو دینے والوں کو اس عہدے کیلئے ،جس کی درخواست دی گئی ہو،اپنی قابلیت ظاہر کرنے اور اپنی صلاحیت کو دکھانے کا سامان حاصل ہو جاتا ہے۔
آخر کار اس طرح کا انٹر ویو امید واروں کویہ یقینی بنانے کاموقع دیتا ہے کہ جس عہدہ کیلئے انہوں نے درخواست دی ہے وہ عہدہ ان کی خواہش اور اہلیت دونوں اعتبار سے موزوں ہے۔ اسٹین فیلڈ کی سفارش یہ ہے کہ ایسے کسی موقع کے بارے میں مزید واقفیت حاصل کر نے کے واسطے انٹر ویو دینے والے کو چاہئے کہ وہ اپنے سوالات کی فہرست تیار کر لے۔ اسٹین فیلڈ فوراً ہی ما بعد کی کارروائی کی پر زور سفارش کر تی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’جیسے ہی آپ انٹر ویو د ے کر باہر نکلیں اس انٹر ویو میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے ان میں سے ہر کسی کو ایک فکر انگیز ای میل بھیجیں۔ اپنے بارے میں کچھ ایسی دلچسپ باتیں بتائیں جن کی بنیاد پر آپ کے خیال میں آپ اس عہدے کیلئے پوری طرح مطابقت رکھنے والے امید وار ہیں۔
نیٹ ورکنگ کی ضرورت
اسٹین فیلڈ کا خیال ہے کہ ان کی یونیور سٹی میں یہ جو کیرئیر سینٹر چل رہا ہے اس کا ماڈل خاص کر امریکہ ،آسٹریلیا ، بر طانیہ اور جرمنی کے باہر ابھی تک پوری طرح صورت گر نہیں ہو سکا ہے۔ کوئی طالب علم ہو یا نو جوان فارغ اسے کسی عملی زندگی کیلئے فراہم کئے گئے وسائل تک بہ آسانی رسائی حاصل نہیں ہو تی تو بھی مایوس ہو نے کی ضرورت نہیں۔
اسٹین فیلڈ کا خیال ہے کہ ان کی یونیور سٹی میں یہ جو کیرئیر سینٹر چل رہا ہے اس کا ماڈل خاص کر امریکہ ،آسٹریلیا ، بر طانیہ اور جرمنی کے باہر ابھی تک پوری طرح صورت گر نہیں ہو سکا ہے۔ کوئی طالب علم ہو یا نو جوان فارغ اسے کسی عملی زندگی کیلئے فراہم کئے گئے وسائل تک بہ آسانی رسائی حاصل نہیں ہو تی تو بھی مایوس ہو نے کی ضرورت نہیں۔
انٹرنیٹ اورخاص کر انٹر نیٹ پر دستیاب فیس بک اور لنکڈ ان جیسے سماجی ذرائع ابلاغ کی سائٹوں پر اپنی اپنی دلچسپی کے شعبوں میں لوگوں کو ممکنہ روابط تک بہ آسانی رسائی حاصل ہے۔ ملازمت کے خواہش مند امید وار چاہیں تو اپنے طور پر اپنی یونیور سٹی سے فارغ طلبہ و طالبات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جن کے ذریعہ انہیں ایسے گرو اور صلاح کار حاصل ہو سکتے ہیں جو روزگار کی تلاش میں ان کی مدد کر سکیں اور انہیں انٹر ویو کی مشق سے گزار سکیں۔ اسی طرح کچھ غیر منافع بخش تنظیمیں یا سرکاری ایجنسیاں ایسی ہیں جو روزگار کے وسائل کی پیشکش کر سکتی ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ یہ تلاش مشکل ہو لیکن اسٹین فیلڈ اور شیون ہر دونوں ہی ملازمت کے خواہش مندوں کومشورہ دیتے ہیں کہ وہ مسلسل کوشش کر تے رہیں اور اپنی تلاش میں اختراعیت کی جرأت کریں۔
شیو ن ہر کا کہنا ہے کہ ’’ آپ کے ذہن میں آپ کی پہلی پوزیشن اور اس کے کسی خاص ڈھنگ سے آپ کے کیریئر کو آگے بڑھانے میں مدد گار ہونے کی جو نوعیت ہو ،ویسی ہی پہلی پوزیشن اور مددگار نوعیت آپ کو حاصل ہو بھی جائے یہ ضروری نہیں لیکن ایسی بہت سی صورتیں ہیں جن میں آپ کو اپنے خواب کی تعبیر نظر آسکتی ہے۔‘‘
شیو ن ہر کا کہنا ہے کہ ’’ آپ کے ذہن میں آپ کی پہلی پوزیشن اور اس کے کسی خاص ڈھنگ سے آپ کے کیریئر کو آگے بڑھانے میں مدد گار ہونے کی جو نوعیت ہو ،ویسی ہی پہلی پوزیشن اور مددگار نوعیت آپ کو حاصل ہو بھی جائے یہ ضروری نہیں لیکن ایسی بہت سی صورتیں ہیں جن میں آپ کو اپنے خواب کی تعبیر نظر آسکتی ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آن لائن تجارت کی زمام نئے ہاتھ میں
مائیکل گیلنٹ
سوشل میڈیا مینیجر آن لائن برادریوں میں اپنی کمپنیوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
انٹرنیٹ کے موجودہ دور میں یہ صورتحال ڈرامائی طور پر بدل گئی ہے اور اب کمپنیوں کو ٹوئٹ، فیس بک پوسٹ اور دیگر مواصلات کا جواب دینا پڑتا ہے۔یہ سوالات سماجی ذرائع ابلاغ کے وسائل کے متواتر پھیلتے ہوئے نظام کے توسط سے ان کے پاس آتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام چیزوں سے وہ کیسے نپٹتی ہیں؟ اس مرحلہ میں سوشل میڈیا مینیجر کی خدمات کی ضرورت پڑتی ہے۔
دنیا کی اولین چیف لزننگ افسروں میں سے ایک بیتھ لا پیرے سے ملیں گو کہ اب وہ برانڈ نیٹ ورکس میں اسٹریٹیجسٹ اور سوشل میڈیا ماہر کے طور پر کام کررہی ہیں لیکن بیتھ لا پیرے نسسے روچسٹر، نیویارک میں ایسٹ مین کوڈک کے لئے دو برس چیف لزننگ افسر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس تجربے کے بارے میں گفتگو کی جو یہاں پیش ہے۔
چیف لزننگ افسر کی اصطلاح کہاں سے آئی؟
چیف لزننگ افسر (سی ایل او) کی اصطلاح میرے سابق باس اور گرو ٹام ہوۂن نے رائج کی۔ ایسٹ مین کوڈک ایسی ابتدائی کمپنیوں میں سے ایک ہے جن کے پاس ایک چیف بلاگ نویس ہوا کرتا تھا۔ ہم لوگ فیس بک پر ٹوئٹر پر اور سماج میل جول کے دیگرپلیٹ فارم پر ڈھیر ساری باتیں کرتے تھے اور چیزیں پبلش کرتے تھے۔ جب بات چیت زیادہ بڑھ گئی تو ہمیں لگا کہ ان مذاکرات کی پیمائش، نگرانی اور تحقیق پر کل وقتی توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔
سی ایل او کی حیثیت سے آپ کی ذمہ داریاں کیا تھیں؟
بطور سی ایل او میری ذمہ داری ہر مہینے کوڈک کے بارے میں صارفین اور تجار تی حلقوں میں ۳۰۰,۰۰۰سے زائد نئے تذکروں کو سنبھالنے کے لئے حکمت عملی وضع کرنا، طریقے بنانا اور ٹکنالوجی استعمال کرنا تھا۔اس کام میں اس سوشل میڈیا ذرائع کو محفوظ کرنا اس کی درجہ بندی اور تجزیہ کرنا شامل تھا تاکہ مصنوعات کو بہتر بنایا جائے، گاہک کا تجربہ بھی بہتر کیا جائے، معاملات کی نشاندہی کی جائے ، خامیاں دور کی جائیں اور برانڈ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ بیداری میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔
آپ کو دنیا کی پہلی سی ایل او ہونے پر کیسا محسوس ہوتا ہے؟ اور اس اعزاز کو برقرار رکھنے کے لئے آپ کو کن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا اور کیا انعام ملا؟
یہ کمال کی چیز ہے۔جیسا کہ ہم میں سے بیشتر ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو ابتدائی دنوں میں (سوشل میڈیا میں) آجاتے ہیں، سب سے بڑا چیلنج بیداری کا تھا۔ہمارے صارفین اور گاہکوں کی بیداری۔ حقیقت میں ہویہ رہا تھا کہ ہم لوگ ان کی باتیں سن رہے تھے اور ان سے جو معلومات حاصل ہورہی تھیں ان سے فائدہ اٹھاکر اپنی مصنوعات کو بہتر بنا رہے تھے اور ٹیم میں کام کرنے والوں کو اس سے واقف کرا رہے تھے جو اس وقت تک سوشل میڈیا کے زبردست امکانات سے آگاہ نہیں تھے۔
سی ایل او بننے کے خواہشمندوں کے لئے آپ کا کیا مشورہ ہے؟
سی ایل او کی پوزیشن کے لئے ۴۰۰ سے زیادہ درخواست دہندگان میں سے میرا جو انتخاب ہوا اس کے بہت سے اسباب میں ایک سبب یہ ہے کہ میں نے برانڈ اسٹریٹیجی اور کمیو نکیشنس میں کافی اچھی تعلیم حاصل کی تھی اور ڈیجیٹل کام کاج میں مجھے گہری مہارت حاصل تھی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کے پاس معاملات سے تعلق رکھنے والے مختلف گروپوں جیسے کہ تعلقات عامہ، بازاریابی اور افسروں کے ساتھ موثر طریقے سے بات چیت کرنے کی اہلیت ہو۔اس شعبے میں ڈیزائن پر اچھی نگاہ اور بنیادی ایچ ٹی ایم ایل۔ ایس کیو ایل کا تجربہ اور دیگر ترقیاتی سمجھ اور تجربہ بھی بڑی حصولیابی ہے۔
کیا سی ایل او کی حیثیت سے آپ کے تجربے نے دوسرے کاروبار میں ایک رجحان پیدا کرنے میں مدد دی؟
مجھے لگتا ہے کہ ایسا ہوا۔ صارفین کی ایک آواز ہوتی ہے اور سماجی میل جول کے میڈیا کی بدولت انہیں اب یہ معلوم ہے کہ ان کے پاس اپنی بات کہنے کا ایک واسطہ ہے۔ فورچون میگزین کی سالانہ فہرست میں درج ۵۰۰ بڑی امریکی کمپنیوں میں سے بیشتر کے پاس اس طرح کے کام کے لئے ذمہ دار ایک لزننگ یا انگیج منٹ ٹیم ہے۔ ۔ مائیکل گیلنٹ
سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ
گاہکوں کو مشغول کرنے کے لئے جارڈن میچل کو جو کام کرنا پڑتا ہے وہ کھانے پکانے کے بارے میں اشارے، چست درست رہنے کے گربتانے ، تحریک بخش اقوال پوسٹ کرنے ، کسی خاص شے سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور کوئی دوسری ایسی چیز بھی پوسٹ کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جس سے گاہک کو اس برانڈ کے طرز حیات کا لطف اٹھانے کا بھی موقع ملے۔‘‘ کام کے دن کا بیشتر حصہ فیس بک اور ٹوئٹر پر گزر جاتا ہے جس کے دوران کچھ اصل متن پوسٹ کرنا پڑتا ہے اور اپنی کمپنی کی مصنوعات اور واقعات کے بارے میں گاہک کے ساتھ بات چیت میں بھی مصروف رہنا پڑتا ہے ۔جیسا کہ انہوں نے ہنستے ہوئے بتایا ’’ہم لوگوں سے ہر طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا ’’میں فٹنس تربیت کاروں، بلاگ نویسوں اور ماہرین تغذیہ کو بھی سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مشغول کرنے پر توجہ دیتا ہوں۔ہم لوگ ایسے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں جو اپنے اپنے شعبے میں قائد اور محرک ہیں اور جو ہوسکتا ہے کہ ہمارے برانڈ میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ہم لوگ پوری امید کے ساتھ یہ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں اپنے اثر میں لیکر’ آنسٹ ٹی ‘کے بارے میں جان پہچان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ بات کرنے پر مائل کریں۔‘‘
جارڈن میچل اس طرف اشارہ کرنے میں عجلت سے کام لیتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا انتظام صرف ہر منٹ ٹوئٹ کرنے یا انٹرنیٹ پر اپنی مصنوعات کے بارے میں ممکنات پر شورو غل مچانے سے مختلف کام ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم لوگ گاہکوں اور بلاگ نویسوں کے ساتھ کچھ لو کچھ دو کا تعلق بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ہماری مصنوعات کے بارے میں تبصرہ لکھنا چاہتا ہے تو ہم اسے ضروری اشیا فراہم کرتے ہیں۔ ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو زیادہ صحیح ڈھنگ سے پیش کرسکیں۔ اور ہمارے نام کو شامل کرکے جو عوامی بات چیت ہوسکتی ہے اس میں ہم بھی شریک ہوں۔‘‘
سوشل میڈیا بطور کیریئر
مقامی کتب خانوں سے لیکر کثیر قومی کمپنیوں تک تمام تنظیمیں زیادہ تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ پر مشغول ہورہی ہیں۔ میچل نے بتایا ’’جو تنظیم آنے والے دنوں کا منظر نامہ دیکھ رہی ہے اور سوشل میڈیا کے اثرات کو سمجھتی ہے اور اس سے بھی واقف ہے کہ ان اثرات کے ساتھ اس پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ سوشل میڈیا کا انتظام کرنے والے اسٹاف پر پیسے خرچ کرتی ہے۔‘‘انہوں نے مزید اشارہ کیا کہ سوشل میڈیا کے لئے کام کرنے والے پیشہ ور کارکن ایک دوسرے سے رابطہ میں اور کچھ سیکھتے رہتے ہیں۔
سوشل مینیجمنٹ کے اندر
جا رڈن میچل اوردیگر سوشل میڈیا مینیجروں کے لئے کام کے اوقات اکثر کام کاج کے معمول کے گھنٹوں سے فاضل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’سوشل میڈیا میں کام کرنا ایک جاری عمل اورمکالمہ ہوتا ہے اس کی بنیاد منصوبے پر ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کبھی بند نہیں ہوتا۔ اس لئے اکثر اختتام ہفتہ کے دنوں میں مکالمے کو جاری رکھنا پڑتا ہے اور خاص طور پر اگر یہ کسی گاہک کی ضرورت کی تکمیل سے تعلق رکھتا ہو تو ضرور رکھنا پڑتا ہے۔ ‘‘
میچل نے اپنے موبائل فون پر ایک خصوصی نوٹی فکیشن سٹ اپ لگا رکھا ہے۔ جو انہیں ان پیغامات کے بارے میں باخبر کرتا ہے جو پیغامات اس وقت آرہے ہوں جب وہ دفتر میں نہ ہوں۔ انہوں نے بتایا ’’جب مجھے ایسا کوئی نوٹی فکیشن ملتا ہے کہ ٹوئٹ پر یا فیس بک پر کچھ ایسا آیا ہے جو قابل اعتراض ہے یا جس کا جواب دینا ضروری ہے تو میں فوراً اس کا جواب دینے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں اور یہ نہیں دیکھتا کہ تب کیا وقت ہو رہاہے۔‘‘
تنخواہوں سے متعلق ویب سائٹ payscale.com میں سوشل میڈیا مینیجروں کی سالانہ تنخواہ امریکہ میں ۳۰,۰۰۰ڈالر سے ۷۰,۰۰۰ڈالر تک بتائی گئی ہے۔ جبکہ ایک اور ویب سائٹ simplyhired.com پر اوسط تنخواہ۵۷,۰۰۰ڈالربتائی گئی ہے۔
۔ مائیکل گیلنٹ
میچل نے اپنے موبائل فون پر ایک خصوصی نوٹی فکیشن سٹ اپ لگا رکھا ہے۔ جو انہیں ان پیغامات کے بارے میں باخبر کرتا ہے جو پیغامات اس وقت آرہے ہوں جب وہ دفتر میں نہ ہوں۔ انہوں نے بتایا ’’جب مجھے ایسا کوئی نوٹی فکیشن ملتا ہے کہ ٹوئٹ پر یا فیس بک پر کچھ ایسا آیا ہے جو قابل اعتراض ہے یا جس کا جواب دینا ضروری ہے تو میں فوراً اس کا جواب دینے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں اور یہ نہیں دیکھتا کہ تب کیا وقت ہو رہاہے۔‘‘
تنخواہوں سے متعلق ویب سائٹ payscale.com میں سوشل میڈیا مینیجروں کی سالانہ تنخواہ امریکہ میں ۳۰,۰۰۰ڈالر سے ۷۰,۰۰۰ڈالر تک بتائی گئی ہے۔ جبکہ ایک اور ویب سائٹ simplyhired.com پر اوسط تنخواہ۵۷,۰۰۰ڈالربتائی گئی ہے۔
۔ مائیکل گیلنٹ
اگر آپ سوشل میڈیا مینیجر کی حیثیت سے اپناکیریئر بنانا چاہتے ہیں تو میچل کا مشورہ یہ ہے کہ آپ ایسے برانڈ اور تنظیم کے بارے میں سوچیں جن کو آپ پسند کرتے ہیں اور جن کے کام کرنے کے طریقے کا آپ نے مطالعہ کیا ہے۔انہوں نے سوال کیا ’’کونسی چیز ان کے کام آتی ہے یا کسی کسٹمر یا حمایتی کے طور پر آپ کس چیز سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہ سننے میں ہوسکتا ہے کہ سیدھا سادہ لگے ، بے لطف لگے لیکن اپنے آپ کو اس جگہ پر رکھنا اور سچ مچ اس کے بارے میں سوچنا کہ کونسی چیز آپ کو متوجہ کرتی ہے، آپ کے لئے بہت کارآمد ثابت ہوگا‘‘۔ میچل کے لئے اور دیگر کمپنیوں میں ان کے ہم رتبہ بہت سے دوسرے لوگوں کے لئے سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ کا انتظام ایک انتہائی مزیدار پیشہ ہے جس کا مستقبل بہت روشن ہے۔انہوں نے کہا ’’ لوگوں نے اب سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ کی بنیادی باتوں کو اور اس وسیلہ کے معتبر اثرات کو سمجھنا شروع کیا ہے۔ اس وقت پہلے کے مقابلے میں لوگ ایسا سمجھنے
لگے ہیں کہ کوئی برانڈ صرف صرفے کا نہیں بلکہ طرز حیات کا معاملہ ہے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو اب مسلسل پھول پھل رہا ہے۔‘‘
یہ مضمون اسپین سے ماخوذ ہے
Friday, 1 February 2013
فلمی ستارے/سلیبریٹز/کھیل/کھلاڑی۔
میں نے کہا تھا پرینکا سٹار بنے گی: گوندا
گوندا اور پرینکا کی آٹھ سال پرانی فلم ریلیز ہونے والی ہے
بالی وڈ کے معروف اداکار گوندا آٹھ سال قبل پرینکا چوپڑہ کے ساتھ ایک فلم میں آئے تھے جس کا نام تھا 'دیوانہ میں دیوانہ'۔ کسی سبب وہ فلم ریلیز نہ ہو سکی۔ بہر حال اب وہ فلم ریلیز کی جا رہی ہے۔
اس موقعے پر گوندا نے کہا کہ جب فلم کے ڈائرکٹر کے سی بوکاڈیا نے انھیں پہلی بار فون پر بتایا تھا کہ فلم کی ہیروئن پرینکا ہیں تو انھوں نے کہا تھا کہ پرینکا بالی وڈ میں چھا جائیں گی۔
گوندا کی یہ بات سچ ثابت ہو چکی ہے کیونکہ آٹھ سال بعد آج پرینکا چوپڑہ کا نام بالی وڈ کی بہترین اداکاراؤں میں لیا جاتا ہے۔
پہلے مضمون پڑھو، پھر سوال کرو: شاہ رخ
شاہ رخ نے کہا کہ شہرت کی قیمت تو چکانی پڑتی ہے
ایک معروف فلمی ستارہ ہونے کی قیمت سب کو چکانی پڑتی ہے۔ یہ بات کہی شاہ رخ خان نے۔ حال ہی میں انھوں نے ایک میگزن کے لیے جو مضمون لکھا ہے اس کے سبب وہ ذرا مشکل حالات میں پھنس گئے ہیں۔
شاہ رخ خان نے اپنی مسلم شناخت پر جو لکھا اسے لوگوں نے ذرا مختلف نظریے سے دیکھا اور اسی وجہ سے کئی اطراف سے اس مضمون کے خلاف آواز اٹھنے لگی۔
شاہ رخ خان نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جو کچھ لکھا اس میں ایسا کچھ بھی نہیں جیسا کہ لوگ سمجھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر تنقید کی کہ لوگ ان کے مضمون کو بغیر پڑھے ہی سوال اٹھا رہے ہیں۔
مائیکل جیکسن ، سب سے زیادہ آمدنی والے فنکاروں میں تاحال سرفہرست
واشنگٹن
مائیکل جیکسن ان فنکاروں میں شامل ہیں جن کا جسم توابدی نیند سوجاتا ہے لکین ان کا فن برسوں زندہ رہتا ہے۔ مائیکل جیکسن کو اس دنیا سے گزرے دو برس سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن دنیا آج بھی ان کے فن کی معترف ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ مائیکل جیکسن رواں سال بھی اس دنیا میں اپنا وجود نہ رکھنے کے باوجود سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے فنکاروں میں سر فہرست ہیں۔
دنیا بھر کی شخصیات کے مالیاتی اموراورا عداد وشمارکا سالانہ جائزہ لینے والی شہرہ آفاق ویب سائٹ ”فوربس ڈاٹ کام“ کے مطابق مائیکل جیکسن کی کامیاب ترین میوزک البم ”تھریلر“ سے گزشتہ سال 17کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ یہی البم انہیں سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے پاپ میوزک کے فنکاروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر برقرار رکھے ہوئے ہے ۔
”فوربس ڈاٹ کام“ نے ماضی کے انتہائی مشہوراور حالیہ برسوں میں انتقال کرجانے والے فنکاروں کی ایک فہرست ترتیب دی ہے جن کی مختلف البمز نے اکتوبر 2010ء سے اکتوبر2011ء کے دوران کم از کم ساٹھ لاکھ ڈالرتک کی آمدنی حاصل کی ہے۔
اس فہرست میں ”کنگ آف پوپ “مائیکل جیکسن پہلے نمبر پر رہے جبکہ ”کنگ آف روک این رول“ کا خطاب رکھنے والے سنگر ایلویس پریسلے دوسرے نمبر پر ہیں ۔ایلویس پریسلے کی المبز سے پانچ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوئی، جبکہ مارلن منرو 2 کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی آمدنی کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہیں۔ چوتھے نمبر پر رہے چارلس شلز ،جن کی آمدنی ڈھائی کروڑ ڈالر رہی۔
مارچ 2011ء میں انتقال کرجانے والی الزبتھ ٹیلر”وائٹ ڈائمنڈ“سے حاصل ہونے والی ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر کی آمدنی کے ساتھ پانچویں نمبر پرہیں
دیش/بدیش
فوج
کے منحرف اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ
دبئی ۔ ایجنسی
Ø
شام میں بشار الاسد حکومت
کے خلاف سرگرم جیش الحر میں سرکاری فوج کے منحرف اہلکاروں کی تعداد میں روز بروز
اضافہ ہو رہا ہے تاہم حال ہی میں بشار الاسد کے خلاف نبرد آزما جیش الحر کی صفوں
میں منفرد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ اضافہ ایک شامی جنرل کی صاحبزادی کی شکل
میں ہے کہ جو اپنے والد سے ملنے والی فوجی تربیت کو انہی کی زیر کمان لڑنے والی
سرکاری فوج کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی میں استعمال کر رہی ہیں۔العربیہ ٹی وی کی
ایک رپورٹ کے مطابق تیس سالہ امیرہ العرعور حلب میں جیش الحر بریگیڈ میں سیکنڈ ان
کمان ہیں۔ اس حیثیت میں وہ فوجی کارروائیوں کے لئے احکامات جاری کر رہی ہے۔ امیرہ
کے والد شامی فوج میں جنرل تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو بچن سے ہی فوجی تربیت دینا
شروع کر دی تھی۔ امیرہ العرعور اپنے والد کے ہمراہ فوجی تربیتی کیمپوں میں جایا
کرتی تھیں۔ گولا بارود پھینکنے میں وہ اپنے والد کی مدد کیا کرتی تھیں۔جیش الحر پر
اسلام پسندوں کے ممکنہ کنٹرول کے بعد اس سپاہ کی صفوں میں خواتین کی شرکت کے
امکانات معدوم ہو چلے تھے، لیکن امیرہ العرعور کی بطور ڈپٹی بریگیڈ کمانڈر تقرری
سے ایسے خدشات دم توڑ رہے ہیں۔ امیرہ کی اہم اسٹرٹیجک کمان پوسٹ پر تعیناتی کی
پہلے بہت زیادہ مخالفت کی گئی، تاہم نوجوان خاتون کمانڈر نے ماہر پیشہ ور فوجیوں
سے اپنی اہلیت کا لوہا جلد ہی منوا لیا۔امیرہ العرعور نے حلب میں جیش الحر کی
بریگیڈ کمانڈر کے طور پر اپنی تقرری کے حوالے سے کہا کہ یہ پھولوں کی سیج نہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرد فوجیوں کو جب میری ملک سے محبت کا یقین ہونے لگا تو
انہوں نے ایک خاتون کمانڈر کے احکامات ماننے میں ہچکچاہٹ ختم ہوتی گئی۔
ملک میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران اور ملک کے پیچیدہ سیاسی منظر نامے نے شامی عورت کے سیاسی معاملات میں کردار کو نمایاں کیا کیونکہ وہ بھی ملک میں خونریزی رکوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی تھیں۔اس سے قبل بھی متعدد شامی خواتین جیش الحر میں فائٹر کے طور پر شامل ہو چکی تھیں۔ ان میں ثوبیہ کنفانی نامی خاتون وطن کی محبت میں کینیڈا کی پرآئش زندگی چھوڑ کر میدان جنگ کی سختیاں جھیلنے آئیں۔ انہوں نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو میں جیش الحر کی فائٹر خواتین میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ شامی خواتین کی بڑی تعداد ملک کے مخلتف محاذوں پر جیش الحر کے فوجیوں کو لاجسٹک مددفراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔
ملک میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران اور ملک کے پیچیدہ سیاسی منظر نامے نے شامی عورت کے سیاسی معاملات میں کردار کو نمایاں کیا کیونکہ وہ بھی ملک میں خونریزی رکوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی تھیں۔اس سے قبل بھی متعدد شامی خواتین جیش الحر میں فائٹر کے طور پر شامل ہو چکی تھیں۔ ان میں ثوبیہ کنفانی نامی خاتون وطن کی محبت میں کینیڈا کی پرآئش زندگی چھوڑ کر میدان جنگ کی سختیاں جھیلنے آئیں۔ انہوں نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو میں جیش الحر کی فائٹر خواتین میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ شامی خواتین کی بڑی تعداد ملک کے مخلتف محاذوں پر جیش الحر کے فوجیوں کو لاجسٹک مددفراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔
جوتا جمع کرنے کا عالمی ریکارڈ
واشنگٹن…این
جی ٹی… امریکی شہر واشنگٹن میں شہریوں نے مل کر 16ہزار 4سو 7 جوتے جمع کرکے
عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔اس عالمی کارنامے کو سر انجام دینے کیلئے امریکہ
بھر سے بچوں اور بڑوں نے جوتوں کی 16ہزار 4سوسے زائد جو ڑیوں کو جمع کرکے ایک
کھلے میدان میں ترتیب سے رکھ کر جوتوں کے سمندر میں تبدیل کر دیا۔گینز ریکارڈ کی
انتظامیہ نے آکر ان جو توں کی جوڑیوں کو ایک ایک کر کے گنا اور ورلڈریکارڈ بکس
میں شامل کر لیا ہے ۔
|
بغداد میں دھماکہ 22ہلاک
بغداد۔،ایجنسیاں
اطلاعات کے مطابق بغداد سے پچیس کلومیٹر دور واقع قصبے تاجی میں سوموار کو ایک خودکش بمبار نے القاعدہ مخالف ملیشیا صحوہ کے ارکان کو نشانہ بنایا ہے۔وہ ایک دفتر کے باہر اپنی تن خواہیں لینے کے لیے قطار میں کھڑے تھے کہ اس دوران بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔
بغداد کے کاظمیہ اسپتال کے عملے نے بم دھماکے میں بائیس افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر صحوہ ملیشیا کے ارکان ہیں اور ان میں دو فوجی بھی شامل ہیں۔بم حملے میں آٹھ فوجیوں سمیت چوالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔
تاجی میں یہ بم دھماکا شمالی شہر کرکوک میں پولیس ہیڈکوارٹرز پر خودکش بم حملے کے ایک روز بعد ہوا ہے۔اس حملے میں پینتیس افراد ہلاک اور کم سے کم نوے زخمی ہوگئے تھے۔ سوموار کی رات کرکوک میں تشدد کے ایک اور واقعہ میں مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے چار افراد کو ہلاک کردیا۔
درایں اثناء بغداد کے مغربی علاقے جہاد میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں پولیس کا ایک لیفٹیننٹ ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوگئے۔فوری طور پر کسی گروپ نے عراق میں ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن عراقی حکام نے القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیم'' ریاست اسلامی عراق'' پر ان حملوں کا الزام عاید کیا ہے۔
واضح رہے کہ جنوری میں عراق میں بم دھماکوں، خودکش بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں دوسو چھیالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔گذشتہ سال ستمبر کے بعد ایک ماہ میں عراق میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔
لندن۔ ،ایجنسیاں
طالبان سے مذاکرات کے سلسلے رہنمائوں کا اتحاد
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور ان کے افغان ہم منصب حامد کرزئی نے لندن میں سہ فریقی مذاکرات کے بعد اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ چھے ماہ کے اندر افغانستان میں امن سمجھوتے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی میزبانی میں دونوں صدور نے سوموار کو لندن میں سہ فریقی مذاکرات میں افغان طالبان کے لیے قطر میں ایک رابطہ دفتر کھولنے سے بھی اتفاق کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ''صدر کرزئی ،صدر زرداری اور وزیراعظم کیمرون نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ طالبان اور افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے درمیان مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے دوحہ میں ایک دفتر کھولنے کی حمایت کرتے ہیں''۔
لندن کے نواح میں برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر ہونے والے ان مذاکرات میں مسلح افواج اور انٹیلی جنس کے سربراہوں نے بھی شرکت کی ہے اور ان کا بڑا مقصد 2014ء میں افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
برطانوی حکومت کی ایک خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ ''اس سہ فریقی عمل سے طالبان کو واضح پیغام جائے گا کہ وہ اب ہرکسی کے لیے موقع ہے کہ وہ افغانستان میں پرامن سیاسی عمل میں شرکت کرے''
۔
سہ روزہ بین الاقوامی ورکشا پ
رامپور(ایجنسی) رضا لائبریری کے کانفرنس ہال خیابان رضا میں سہ روزہ بین الاقوامی پرکشاپ بعنوان”مخطوطہ شناسی ، فہرست سازی اور تحفظ “سیمنار کا افتتاح شمع روشن کرکے ڈاکٹر انیس انصاری وائس چانسلر خواجہ معین الدین چشتی اردو، عربی، فارسی یونیورسٹی لکھنو ¿ نے کیا افتتاحی تقریب کا آغاز ڈاکٹر سید انوار الحسن نے کلام ربانی سے کیا اور سید نوید قیصر شاہ نے بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر رضالائبریری پروفیسر سید محمد عزیزالدین حسین ہمدانی نے کہا کہ ایک ساتھ تین موضوعات پر ابھی تک ہندوستان میں کہیں بھی اس نوعیت کا سیمنار نہیں ہواہے ۔ اس لئے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ مخطوطات کی حفاظت کی ذمہ داری کسی ایک فرد پرعائد نہیں ہوتی ہے ۔ بلکہ ہر شخص اس کے تحفظ کا ذمہ دارہے۔ انہوںنے کہا سب سے زیادہ سعودیہ عربیہ میں مخطوطات کے ذخیرے موجود ہیں۔ زمانہ کے بدلتے مخطوط کو بھی بیماریاں لگتی ہیں اور وہ بھی بوسیدہ ہوجاتے ہیں اسی لےے اس کے رکھ رکھاو ¿ اور اس کی حفاظت کے جدید طریقے بھی رائج کےے جاتے ہیں۔ ڈائریکٹر عزیزالدین نے کہا کہ ایران میں چا رمنزلہ لیب صرف اس کام کے لئے گئی ہے کہ مخطوطات کا تحفظ کیاجاسکے انہوںنے یہ بھی کہا کہ رامپور کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ رضا لائبریری میں اپنی نوعیت کی بہترین لیبارٹی صرف مخطوط کی حفاظت کے لئے بنائی گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بوسید ہ مخطوطات کو نئی زندگی دینے کے لئے قسم قسم کے آلات مہیا کےے جاتے ہیںانہوںنے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ حیدرآباد ،لکھنو ¿ اور رامپور کے نوابین کے ذریعہ ہزاروں کی تعداد میں مخطوطات موجود ہیں جن کی حفاظت اب ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ اپنے صدارتی خطبہ میں ڈاکٹر انیس انصاری(IAS)نے کہا کہ مخطوط ہمارا قومی سرمایہ ہیں جس کے تحفظ کی ذمہ داری ہمارے اوپر لازم ہے۔ انہوںنے کہا کہ مخطوط پر دنیا میں بہت کام ہواہے لیکن ابھی بھی اتنا کام نہیں ہواہے جتنا کہ ہونا چاہےے۔ اس کا حق ادا کرنے کے لئے ہمیں اپنے کچھ ذاتی وقت نکالنے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے اس بات کو بھی واضح کیا کہ مخطوط کا دوسری زبانوں میں ترجمہ ابھی تک نہیں ہوپایا ہے جس کی وقت کو بہت ضرورت ہے ۔واضح رہے کہ رضا لائبریری کے علاوہ بعض دیگر اداروں نے بھی اپنے ذخائر مخطوطات کی جامع فہرست شائع کی ہے وہیں رضا لائبریری نے عربی، فارسی اور اردو مخطوطات کی تقریباً نو جلدیں شائع کی ہیںاور مخطوطات کی جامع فہرست شائع کرنے کے منصوبہ کے تحت یہاں مسلسل فہرست سازی کی خدمات انجام دی جارہی ہیں۔ اس سیمنار میں رامپور کے علاوہ ملک کے مختلف مقامات اور ایران وعراق وغیرہ ممالک کے بھی نمائندے شرکت کررہے ہیں۔ سیمنار کے کوآرڈینٹیر ارون کمار سکسینہ نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔
ادبی مضامین/Adbi Article
امیر ہونے کا ایک کامیاب نسخہ
بھائی جان میں نے تین کروڑ بیس لاکھ روپے کی دوکان خرید لی ہے۔
جمعہ 26 جنوری کو جب شرجیل نے لاہور سے فون کیا تو اتنا جوش وخروش میں تھا کہ میرا حال احوال دریافتکرنا بھی بھول گیا۔ پوچھا کہ اس وقت کہاں ہیں؟
” کراچی میں” میں نے جواب دیا دو دن بعد لاہور پہنچوں گا۔
بولا ” لاہور پہنچتے ہی مجھے فون کیجئے گا” میں نے حامی بھر لی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس کامیانی پر مجھے اطمینان قلب محسوس ہوا۔
دس سال قبل شرجیل نے ” ایم ایس سی” کر لی تو حاندانی حالات کے باعث جاب یا بزنس اس کی شدید ضرورت تھی
شرجیل ایک روز کہنے لگا بھائی جان کوئی ٹھوس اور قابل عمل حل بتائیں کہ میں اپنے پاوں پر کھڑا ہو جاوں۔
میں نے توقف اور غوروخوض کے بعد کہا تین دن بعدمیں اسلام آباد جا رہا ہوں میرے ساتھ چلنا۔
اور پھر ہم بزرگ دوست “قاضی صاحب” کے پاس گئے۔ قاضی صاحب حکیم اور روحانی دانشور ہیں۔
قاضی صاحب کو مسلہ بتایا تو بڑے اطمینان سے مسئلہ سنتے رہے۔ کمرے میں خاموشی چھاگئی تو بولے شرجیل صاحب آپ حوصلہ مند دکھائی دیتے ہیں۔آپ دو کام کریں کوئی چھوٹا موٹا دھندا کرلیں اور دوسرا یہ کہ جو بھی کریں اس میں اللہ تعالٰی کو اپنے ساتھ بزنس پاٹنر بنالیں۔ شرجیل نے میری طرف اور میں نے شرجیل کی طرف حیرت سے دیکھا۔ قاضی صاحب نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا ” یہ کام مردوں کا ہے ، صرف عزم با لجزم رکھنے والا مرد ہی کر سکتا ہے اگر کاروبار کے نیٹ پرافٹ میں پانچ فیصد اللہ تعالٰی کا شیئر رکھ کر اللہ تعالی کے بندوں کو دے دیا کریں اور کبھی بھی اس میں ہیرا پھیری نہ کریں تو لازما آپ کا کاروبار دن رات چوگنی ترقی کرتا رہے گا۔
واپسی پر لگتا تھا شرجیل اس پر عمل نہیں کرے گا لیکن اس نے کمال حیرت سے عمل کر دکھایا”۔
مجھے یاد ہے یہ 1997 کا سال تھا ،اس کے پاس صرف ایک ہزار روپیہ تھا ، اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا
اسی ایک ہزار روپے سے اس نے بچوں کے پانچ سوٹ خریدے اور انار کلی بازار میں ایک شیئرنگ سٹال پر رکھ دیے۔
دو دن میں تین سو روپے پرافٹ ہواتھا تین سو روپے میں سے اس نے پانچ پرسنٹ اللہ تعالی کی راہ میں دے دیئے تھے۔
پھر اور سوٹ خریدتا اور اصل منافع میں سے پانچ پرسنٹ اللہ تعالی کے نام کا شیئر مخلوق پر خرچ کرتارہا۔ یہ پانچ پرسنٹ بڑھتے بڑھتے چھ ماہ بعد 75 روپے روزانہ کے حساب سے نکلنے لگے یعنی روزانہ کی آمدنی تقریبا سات سو روپے ہو گئی ایک سال بعد ڈیڑھ سو روپے ، تین سال بعد روزانہ پانچ پرسنٹ کے حساب سے تین سو روپے نکلنے لگے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ تین سال بعد اسے روزانہ چھ ہزار بچنا شروع ہو گئے تھے۔ اب سٹال چھوڑ کر اس نے دوکان لے لی تھی۔ جب فون آیا تو میرا پہلا سوال یہی تھا کہ اب روزانہ پانچ پرسنٹ کتنا نکل رہا ہے؟
اس نے بتایا کہ روزانہ ایک ہزار نکل آتا ہے جو خلق خدا پر خرچ کر دیتا ہے۔گوہا اب آمدنی روزانہ بیس ہزار روپے ہے
یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالی کے ساتھ ” بزنس” میں اس نے آج تک بےایمانی نہیں کی۔
قاضی صاحب نے بتایا تھا کہ جس کاروبار میں اللہ تعالی کو پارٹنر بنالیا جائے یعنی اللہ تعالی کی مخلوق کا حصہ رکھ لیا جائے وہ ہمشہ پھلتا پھولتا ہے۔بشرطیکہ انسان کہ اندر تکبر نہ ہو ” عاجزی ہو” انہوں نے سچ ہی کہا تھا کہ کاروبار اتنا چل نکلتا ہے کہ ایک وقت آتا ہے جب بندہ سوچتا ہے ، میرا کافی روپیہ لوگوں میں مفت میں تقسیم ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ دولت مند بننے کا یہ نسخہ انہیں بزرگوں سے منتقل ہوا ہے اور کبھی بھی یہ نسخہ ناکام نہیں ہوا۔۔۔۔۔ ماشا اللہ
ہماری زبان میں اصطلاح ہے ” دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنا” آیئے جائزہ لیتے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین افراد کا کیا وطیرہ ہے۔
51 سالہ ٹی وی میزبان ” اوہراہ دنفرے ” ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی مالک ہے وہ سالانہ ایک لاکھ ڈالر بے سہارا بچوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کرتی ہے۔۔۔۔دولت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اٹلی کے سابق وزیراعظم “سلویابرلسکونی” اپنے ملک کے سب سے امیر اور دنیا کے دس امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ مشہور زمانہ فٹبال کلب ” اے سی میلان” انہی کی ملکیت ہے۔ وہ دس ارب ڈالر کے مالک ہیں ، سالانہ تقریبا پانچ کروڑ ڈالر غریب ملکوں کو بھیجتے ہیں۔۔۔ دولت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کمپیوٹر پرسنیلٹی ” بل گیٹس” اس وقت دنیا کے امیر ترین شخص ہیں ان کی دولت کا اندازہ 96 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، وہ اپنی آرگنائزیشن “بل اینڈ اگیٹس فاونڈیشن” کے پلیٹ فارم سے سالانہ 27 کروڑ ڈالر انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔۔۔۔دولت تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔
مشہورومعروف یہودی ” جارج ساروز” دس ارب ڈالر سے زائد کے مالک ہیں ہر سال دس کروڑ ڈالر انسانی فلاحی اداروں کو دیتے ہیں۔۔۔ دولت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اور جہاں تذکرہ دولت وثروت کا ہوتو اس وقت مکمل نہیں ہوتا جب تک یہودی قوم کا تذکرہ نہ کیا جائے۔
قارئین کرام کےلئے یہ بات بڑی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ صرف ایک کروڑ یہودی دنیا کی 60 پرسنٹ دولت کے مالک ہیں جب کہ چھ ارب انسان 40 پرسنٹ دولت پر تصرف رکھتے ہیں۔ نیز انٹرنیشنل پرنٹ اور میڈیا کے اہم ترین 90 پرسینٹ ادارے ان کے ہیں مثلاآءایم ایف،نیویارک ٹائمز، فنانشل ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ریڈرزڈائجسٹ، سی این این، فاکس ٹی وی، وال سڑیٹ جرنل، اے ایف پی، اے پی پی، سٹار ٹی وی کے چاروں سٹیشن سب یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ شائد ہم میں سے چند ایک نے ہی اس بات پر غور کیا ہوکہ یہودیوں کی دن دوگنی رات چوگنی دولت بڑھنے کا راز کیا ہے؟
عقدہ یہ کھلا کہ ہزاروں سال سے یہ قوم اس بات پر سختی سے قائم ہے کہ ہر یہودی اپنی آمدنی کا 20 پرسنٹ لازمی طور پر انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کرتا ہے۔
پاکستان میں ایک مثال منشی محمد کی بھی ہے۔
آپ بہت غریب تھے، بڑی مشکل سے گزربسر ہوتی تھی ایک دن آپ نے فیصلہ کرلیا کہ اپنی آمدنی کا 4 پرسینٹ اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کروں گا۔
آپ بازار میں کھڑے ہوکر کپڑا بیچنے لگے اور باقاعدگی سے اپنے منافع کا 4 پرسینٹ اللہ کے بندوں پر خرچ کرنا شروع کردیا۔کچھ عرصہ بعداپ نے ایک پاور لوم لگالی اور تھوڑے ہی عرصہ میں ترقی کرتے ہوئے فیکٹری کے مالک بن گئے۔ آپ نے اپنے منافع کے 4 پرسنٹ کو مستحق مریضوں پر خرچ کرنا شروع کر دیا اور ایک دن ایسا بھی آیاکہ منشی محمد نے چار کروڑ روپے کی لاگت سے منشی محمد ہسپتال لاہور بناکرحکومت کے حوالے کر دیا، اس ہسپتال کا افتتاح جرنل محمد ضیاالحق نے کیا تھا۔
کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے زمانے میں دو بھاءتھے جنہیں ایک وقت کا کھانا میسرآتا تھاتو دوسرے وقت فاقہ کرنا پڑتا تھا۔ ایک دن انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی خدمت میں عرض کیا
آپ جب کوہ طور پر تشریف لے جائیں تو اللہ تعالیٰ سے عرض کریں کہ ہماری قسمت میں جو رزق ہے وہ ایک ہی مرتبہ عطا کر دیا جائے تاکہ ہم پیٹ بھر کر کھالیں” چنانچہ بارگاہ الہیٰ میں دعا قبول ہوءاور دوسرے دن انسانی شکل میں فرشتوں کے ذریعے تمام رزق دونوں بھائیوں کو پہنچا دیا گیا۔
انہوں نے پیٹ بھر کر تو کھایا لیکن رزق خراب ہونے کے ڈر سےانہوں نےتمام رزق اللہ تعالیٰ کے نام پر مخلوق خدا میں تقسیم کر دیا۔ اگلے دن پھر ملائکہ کے ذریعے انہیں رزق مہیا کر دیا گیاجو کہ شام کو پھر مخلوق خدا میں تقسیم کر دیا گیا اور روزانہ ہی خیرات ہونے لگی۔
حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے باگاہ خداوندی میں عرض کیا۔۔۔۔ یا باری تعالی ان دونوں بھائیوں کی قسمت میں تو تھوڑاسا رزق تھا۔ پھر یہ روزانہ انہیں بہت سا رزق کیسے ملنے لگ گیا؟
ندا آئی موسیٰ جو شخص میرے نام پر رزق تقسیم کر رہا ہے اسے میں وعدے کے مطابق دس گنا رزق عطا کرتا ہوں۔ یہ روزانہ میرے نام پر خیرات کرتے ہیں اور میں روزانہ انہیں عطا کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
“جو شخص میرے نام پر ایک درہم خرات کرتا ہے اس میں دس درہم عطا کرتا ہوں۔ جو ایک بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے ، اسے دس کا کھانا ملتا ہے۔ اپنے رزق کو بڑھاو۔گھٹاو نہیں”
یہ شنید نہیں۔۔۔ دید ہے کہ اصل منافع میں سے پانچ فیصد ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والا بہت جلد دولت مند بن جاتا ہے۔۔
اخلاقی زوال کے شکار ذرائع ابلاغ
منیر احمد خلیلی
سادہ الفاظ میں خبروں کے جمع کرنے، لکھنے اور ان کو نشر یا شائع کرنے کے نظام یا شعبے کا نام صحافت یا میڈیا ہے۔ ذرا وسیع معنوں میں وہ قرأتی، سمعی اور بصری ذرائع جن کے ذریعے حادثات و واقعات، مسائل اور رجحانات و میلانات کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں ان کی سند اور صداقت کے بارے میں تحقیق کی جاتی ہے اور پھر ان کو اخبارات و رسائل، ریڈیو، ٹی وی یا انٹرنیٹ پر نشر کیا جاتا ہے، میڈیا کی تعریف میں آتے ہیں۔ موجودہ دور میں نیوز میڈیا کا دائرہ اتنی وسعت حاصل کر چکا ہے کہ اطلاعات و معلومات اور آراء افکار کو عوام تک پہنچانے کا یہ واحد ذمہ دار یا ٹھیکے دار بن گیا ہے۔ لفظ میڈیا کے رواج عام سے پہلے اس نظام کے لیے اردو میں صحافت اور انگریزی میں Journalism کی اصطلاح عام تھی جو فرانسیسی زبان کے Journal اور لاطینی زبان کے Diurnal سے ماخوذ تھی جس کا مطلب روزنامہ ہے۔ قدیم روم میں The Acta Diuma ہاتھ سے لکھے ہوئے خبری بلیٹن کو کہا جاتا تھا جو کسی اہم پبلک مقام پر رکھ یا پہنچا دیا جاتا تھا اور لوگ وہاں جمع ہو کر اسے پڑھتے اور اس دن کی تازہ خبر سے آگاہ ہوتے تھے یہ گویا دنیا کا پہلا اخبار تھا لیکن انگریزی زبان کا پہلا اخبار Daily Courant مانا جاتا ہے جو ۱۷۰۲ء سے ۱۷۳۵ء تک شائع ہوتا رہا۔
اقرائی ذرائع میں کبھی صرف کتابیں، رسالے اور اخبارات شامل تھے، فلم اور ڈرامے نے سمعی اور بصری پہلو کا اضافہ کیا اور اسے ایک نئی جہت بخشی۔ آج انٹرنیٹ کا جن بوتل سے نکل کر ان سب پر چھا گیا ہے اس نے لوگوں کی توجہ جرائد و کتب سے ہٹا دی ہے۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ عشرے سے مطالعہ کے ذوق اور سرگرمی پر جو دھند گہری ہوئی جارہی ہے اسی بوتل کا دھواں ہے جس سے یہ جن نکلا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں انٹرنیٹ ایجاد ہوا اور اس کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ استعمال شروع ہوا وہاں تو کتاب خوانی کے رجحان میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ہر ماہ ہی نہیں ہر ہفتے کسی نہ کسی موضوع پر کوئی کتاب چھپتی ہے اور Best Seller کا درجہ پاکر لاکھوں قارئین کے ہاتھوں میں اور مطالعہ کی میز پر پہنچ جاتی ہے، لیکن ہماری نگاہیں انٹرنیٹ سے ایسی خیرہ ہوئی ہیں کہ اس کے سوا کچھ اور سجھائی ہی نہیں دے رہا ہے۔
اخبارات اور رسائل کے بعد ریڈیو میڈیا کا حصہ بنا۔ اس سے حالات و حوادثات سے آگہی اور تفریح کے امکانات میں اور وسعت آئی۔ ہمارے ہاں ۷۰ء کے عشرے میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کی آمد ہوئی۔ پھر رنگین ٹی وی نے آکر واقعات و شخصیات کو متحرک اور Live حالت میں ناظرین کے سامنے پیش کرنا شروع کیا تو اس کے اثرات کا دائرہ اور زیادہ پھیل گیا۔ اب واقعات محض خبروں کی صورت میں نہیں بلکہ اپنی اصلی صورت میں نگاہوں کے سامنے آنے لگے۔ اس وقت سمعی اور بصری ذرائع ابلاغ کی برادری میں ایک اور رکن یعنی موبائل فون کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔
میڈیا کا دائرہ کار یا ذمہ داری
میڈیا کی ذمہ داریوں میں معروضی انداز میں خبر دینا، حالات سے باخبر رکھنا، واقعات کے پس منظر پر روشنی ڈالنا حقائق کی تہہ تک پہنچنا، انسانی معلومات سے تھوڑا آگے جاکر اس کے شعور کو بیدار کرنا، ایک خاص نہج پر رائے سازی اور معاشرتی تقاضوں کے مطابق لوگوں کے رویوں اور رجحانات کی تعمیر (Trend Setting) کرنا شامل ہیں۔ جدید دور کے میڈیا نے خبر دینے کے ساتھ خبر لینے کو بھی اپنے مقاصد میں شامل کر لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میڈیا جہاں ہر طبقے ہر گروہ اور ہر سیاسی پارٹی، مذہبی جماعت اور سماجی تنظیم کی سرگرمیوں کی معروضی انداز میں خبریں دیتا ہے وہاں وہ عوامی نمائندگی کرتے ہوئے ان جماعتوں اور تنظیموں اور گروہوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر ان کا مواخذہ اور محاسبہ بھی کرتا ہے تاکہ ان کی کوئی پالیسی اور سرگرمی قومی مفاد اور سماجی بہبود کے منافی نہ ہو۔ میڈیا کی اسی اہمیت کے باعث اس کو جمہوری نظام کا اہم ترین ستون شمار کیا جاتا ہے۔
ان مقاصد کو سامنے رکھا جائے تو میڈیا کا کردار بڑا مقدس نظر آتا ہے۔ جس طرح ناولوں اور ڈراموں میں برائی اور اچھائی کی کشمکش میں برائی کو اس انداز میں پیش کیا جاتا تھا کہ پڑھنے والوں کے دل میں ہیرو سے عقیدت اور ہمدردی پیدا ہوجاتی تھی اور Villain شر و فساد کا نمائندہ بن کر سامنے آتا اور اس سے نفرت کے جذبات ابھرتے تھے۔
قارئین فطری طور پر ہیرو کی فتح اور ولن کی ذلت و رسوائی کی تمنا کرتے اور اس کے روپ میں مجسم باطل کو کیفر کردار تک پہنچا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ عین اسی طرح میڈیا پر کرپٹ اور گھٹیا ذہنیت و اخلاق کے سیاستداں اور بگاڑ اور فساد کی قوتیں اور معاشرے میں پھیلے ہوئے دیگر تخریبی عناصر کو بے نقاب کر کے ان کو انجام تک پہنچانے کی مہم خیر اور بھلائی کے غلبے کی مہم ہے۔ قومی ذمہ داری کے اعتبار سے ملک و قوم کی اساسات سے ہم آہنگ اعتقادات اور نظریات و افکار اور تعمیری رجحانات و میلانات کو فروغ دینا میڈیا کا اصل کام سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح ایک استاد سے یہ توقع کرنا بعید ازامکان ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو برائی کی تعلیم دے گا اور جرائم کا عادی بنائے گا اسی طرح میڈیا کے بارے میں یہ سوچنا انوکھی بات سمجھی جاتی تھی کہ وہ ان اخلاقی رویوں اور افکار و معتقدات کا پرچار کرے گا جو قومی مقاصد سے متصادم ہوں۔
جو معیارات و اصول اب قصۂ پارینہ ہیں
ایک وقت تھا، جب ایک مشن کے سوا میڈیا کا کوئی اور کردار تصور میں ہی نہیں آسکتا تھا۔ ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں سامراج سے آزادی کی جدوجہد کو اس وقت کے پرنٹ میڈیا کا سب سے بڑا جہاد سمجھا جاتا تھا۔ مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد اور ایسی ہی دیگر شخصیات کا قلمی جہاد وہ وقیع کارنامہ تھا جس کے ذریعے انہوں نے تاریخ میں اپنا روشن کردار رقم کرایا اور قوم و ملت کے محبوب و محترم قرار پائیں۔ اس زمانے میں روزنامہ صحافت کا کچھ زیادہ چلن نہیں تھا۔ متعدد وقیع دینی اور علمی ماہنامے اپنی ایک پہچان رکھتے تھے۔ اکثر ماہنامے اپنے عالی قدر مدیروں کی رحلت کے بعد بند ہوگئے۔
فکری یکجہتی، اپنے خاص آدرش کے تحت ذہن سازی اور رائے اور فکر کی تشکیل سب کا مشترک مطمع نظر تھا۔ اپنے نظریے اور فکر کی پاسداری میں اس دور کے مدیرانِ کرام بڑی قربانیاں دیتے تھے، جیلیں کاٹتے اور بھاری جرمانے بھرتے تھے مگر اس طرح کی ہر تلخی اور ترشی ان کے نشہ جدوجہد آزادی اور جنون مقاصد کو اور بڑھا دیتی تھی۔ وہ اپنے نظریے اور اصول اور اپنے نصب العین پر کسی سودے بازی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ وہ نہ بکتے تھے اور نہ جھکتے تھے۔ ان کے نزدیک قلم کی حرمت پر حِرص و ہوس کی آنچ آنے دینا ماں بہن کی آبرو بیچنے کے مترادف تھا۔ ان کے الفاظ اتنی بڑی قیمت رکھتے تھے کہ کوئی ان کی قیمت لگانے کی ہمت ہی نہیں کرتا تھا۔ وہ فقر و فاقہ اور مشکلات و مصائب کی حالت میں بھی اپنے اصولوں سے غذا اور روشنی پاتے تھے۔ یہی ان کی قوت کا راز تھا۔ کردار کے کھرے پن کا اپنا ایک وزن اور اثر ہوتا ہے۔ مولانا محمد علی جوہرؒ سے بڑھ کر کون سامراج دشمن ہو سکتا تھا اور کس نے انگریز کو چیلنج کرنے کی اس سے بڑی جسارت کی ہوگی لیکن یہی چیز ان کی اس عظمت کی دلیل تھی، جس کے اعتراف میں انگریز وائسرائے صبح دم اپنے ناشتے کی میز پر سب سے پہلے ’’کامریڈ‘‘ دیکھنا پسند کرتا تھا۔
معیار زبان و بیان بھی روبہ زوال
وقت گزرنے کے ساتھ ہر چیز کی قیمت و قامت گھٹنے لگی۔ صحافت یا مروجہ اصطلاح میں میڈیا کی اصولی آب و تاب بھی ایک گہن کی لپیٹ میں آگئی ہے۔ بیان کی لذت اور شائستگی اور زبان کی مہارت کے لحاظ سے بھی اب وہ معیار خواب و خیال ہو کر رہ گیا ہے جو صحافت کے ان اساتین نے قائم کیا تھا۔ ان میں سے اکثر اپنے وقت کے نامور ادیب اور شاعر تھے۔ بات صرف اردو ہی تک محدود نہیں ہے، مولانا ظفر علی خان اور مولانا محمد علی جوہر اور دوسرے کئی عظیم صحافیوں کو انگریزی زبان پر بھی کامل قدرت حاصل تھی۔ مشہور تھا کہ کئی انگریز مولانا محمد علی جوہر کی انگریزی پڑھ کر اپنی لغوی غلطیاں دور کرتے تھے۔ پھر اپنی تہذیبی جڑوں کے ساتھ ان کا رشتہ بہت گہرا تھا۔ سیرت و کردار کے لحاظ سے بڑے اُجلے تھے آج میڈیا سے وابستہ خواتین و حضرات کے کردار میں وہ بلندی اور مقاصد میں وہ رفعت غائب ہو گئی ہے جو ماضی میں صحافی کی پہچان تھی۔ اب ذہن اور قلم دونوں پر For Sale یعنی برائے فروخت کا لیبل لگا کر صحافی اپنے دفتروں میں بیٹھتے ہیں۔
کالی بھیڑوں کا ریوڑ
میڈیا میں اب کالی بھیڑوں نے جگہ بنالی ہے۔ کردار کی بلندی میں آج کے صحافی مذکورہ بالا بزرگوں سے کوئی نسبت نہیں رکھتے۔ ان کی نظریاتی بینائی بہت کمزور ہے۔ اغراض کے بندوں اور ناتراشیدہ ذہنوں کے لشکر اس شعبے میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ ہمیشہ ہری گھاس پر نگاہ رکھتے ہیں۔ جدھر چارہ زیادہ ملتا ہے ادھر چلے جاتے ہیں۔ میڈیا مراکز نے بھی صحافیوں کو خریدنے کی منڈیاں لگا رکھی ہیں۔ ایک خاتون یا حضرت صبح ایک چینل پر خبریں پڑھتے نظر آتے ہیں تو شام کو کسی دوسرے چینل پر جھلک دکھاتے ہیں۔ اینکر اور کالم نویس کبھی ایک چینل یا اخبار کے مالکان کے کلمے پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ذرا بھاؤ بڑھ جائے تو اسی زبان اور لہجے میں دوسری انتظامیہ کے قصیدے شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی ایک جماعت کے حامی ہوتے ہیں تو کبھی دوسری کے دسترخوان کی خوشہ چینی میں لگ جاتے ہیں۔
پی سائی ناتھ انگریزی اخبار Hindu کے دیہی امور کے ایڈیٹر ہیں اور عوامی مسائل اور مشکلات سے بحث کرتے ہیں۔ ۳۰ جون کو نئی دہلی میں Mass Media پر اپنے ایک لیکچر میں انہوں نے ایسی باتیں کی ہیں جو میڈیا سے تعلق رکھنے والی ایک معتبر شخصیت کی طرف سے بڑی تلخ حقیقت کے بارے میں شہادت کا درجہ رکھتی ہیں۔
۱۔ میڈیا اب کوئی مقدس مشن نہیں بلکہ یہ اب کارپوریٹ سیکٹر کا حصہ ہے۔
۲۔ میڈیا کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے معیشت کے مختلف شعبوں میں زبردست مفادات ہیں۔ ان کی اولین ترجیح مفادات کی حفاظت ہے۔
۳۔ میڈیا کمپنیوں یا اداروں کے ایڈیٹر، رپورٹر، کالم نگار اور دیگر قلم کار ان کمپنیوں کے تنخواہ دار کارندے ہیں۔ ان کا اولین کام اپنے مالکان کے مفادات کا تحفظ ہے۔
۴۔ جھوٹ بولنااور پھیلانا ان صحافیوں کی حالیہ ’’صحافتی اخلاقیات‘‘ کے تحت ایک پیشہ ورانہ مجبوری بن گئی ہے۔ پی سائی ناتھ نے اس کے لیے Structural Compulsion to lie کی اصطلاح استعمال کی۔
۵۔ میڈیا کی کمپنیاں اور ادارے بڑی بڑی تجارتی کمپنیوں کے ساتھ ایک طرح سے مفادات کے ساجھی اور ساتھی ہیں۔ صحافی انہی کے مفاد میں اسٹوریاں گھڑتے اور سنسنی خیز انداز میں ان کو پھیلاتے ہیں تاکہ ٹی وی چینلوں کی ٹی پی آر بڑھے۔
۶۔ نقد رقوم کے عوض (Paid News) خبروں اور سیکنڈوں کی اشاعت میڈیا میں پھیلنے والی بہت بڑی لعنت ہے جس میں بڑے بڑے نامور رپورٹر، ٹی وی اینکر، تبصرہ نگار اور کالم نویس ملوث ہیں۔ ان کی تحریروں میں اب نہ معروضیت ہے اور نہ غیر جانبداری، وہ وہی لکھتے ہیں جس کا اشارہ ان کے مالکان کی طرف سے ہوتا ہے۔
(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ ۱۰؍ستمبر ۲۰۱۰ء)
http://www.irak.pk
حماقتیں
ممتاز میر
ہم برسوں سے یہ سمجھتے آرہے ہیں کہ انسان کے عقائد اسکی فطرت یا کہئے اس کی نفسیات بناتے ہیں۔دوسرے مذاہب کی تو بات ہی کیا خود مسلمانوں میں اب ڈھیر سارے عقائد کے حامل لوگ مل جائیں گے اورجو جتنا اسلام کی شاہراہ اعتدال سے دور ہوگا اسی قدر اسکی فطرت بھی مسخ ہوگی ۔اسی لئے مسلمانوں کے درمیان ایسے لوگوں کا وجودبھی ملے گا جو صحابہءکرامؓکے برعکس آپس میں سخت اور دشمنوں کے لئے نرم ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کو انسانوں کے لئے آسان بنایا ہے وہ کہتے ہیں کہ قرآن کو سمجھنا ہر ایک کے لئے ممکن نہیںہے۔ اسلئے ہم نے اپنے پچھلے کئی مضامین میں لکھا ہے خصوصاً گینگ ریپ کے احتجاجی ڈرامے کے تناظر میںکہ اسلامی قوانین پرعمل کرنا یا اس کو نافذ کرنا تو آج مسلمانوں کے لئے ممکن نہیںتو وہ کیا اپنا سکتے ہیں جنھوں نے قرآن کو پڑھا نہیں حدیث کو سمجھا نہیں جو نہیں جانتے کہ قرآن و حدیث مل کر کس قسم کاماحول کس طرح کی اخلاقی اقدار پیدا کرتے ہیں۔ہم نے اس وقت یہی کہا تھا کہ وطن عزیز میں باسی کڑھی کو اکثر ابال آتا رہتا ہے ۔ہمارے سیاستداں کیا عدالتیں بھی status quo برقرار رکھنے میں ماہر ہیں۔یہ ابال یہ جوش کچھ دنوں میں دب جاتا ہے اور پھر کچھ دنوںمیں سب کچھ جوں کا توں ہو جاتا ہے ۔مگر افسوس ہمارا خیال غلط ثابت ہوا ۔ہم ہندوستانی تو اس سے بھی آگے کی چیز ہیں۔ ۶۱ دسمبر کی شام دہلی میں چلتی بس میں ایک ۳۲ سالہ پیرا میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی واردات ہوئی ۔عصمت دری کی یہ واردات اتنی بے دردی کے ساتھ انجام دی گئی کہ طالبہ کچھ دنوں بعد راہیءملک عدم ہو گئی۔طالبہ بچ جاتی اگر اسے عوام یا پولس بر وقت طبی امداد پہونچا دیتے ۔عوام تو خیر غیر ذمہ دار ہوتی ہے مگر پولس نے پوری پوری ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اسے کئی گھنٹوں تڑپنے دیا اور یہ طے کرتے رہے کہ بچی جہاں پڑی ہے وہ جگہ کس پولس اسٹیشن کی ذمے داری ہے ۔اگر غیر ذمے داری کا ثبوت دیتے ہوئے پولس اسپتال پہونچا دیتی توسوچئے وہ زندہ لاش بن کر نہ رہتی ۔اس کے لئے جنھوں نے احتجاج کیا وہ اسے طعنے دے دے کر جیتے جی نہ مارتے ۔اسلئے پولس نے اسے مرنے دیا تو کیا برا کیا۔حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بار بھی پولس کو انعام دے ۔پولس بھی اور حکومت بھی اس بات کی عادی ہے کہ وہ انعامات کے لئے جھوٹے کارنامے گھڑتی ہے یہ تو سچا کارنامہ ہے ۔ہم پہلے بھی کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اس دنیا پر حکومت صرف دو ہی قومیں کر سکتی ہیں[۱]مومن[۲]کسی حد تک عیسائی ۔اپنے ماتحتین کو دوسروں پر ظلم کی آزادی دیکر یہ سمجھناکہ وقت پڑنے پر یہ ہمارے کام آسکیں گے جہالت ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکمرانوں کو انسانون کی نفسیات ہی نہیںسمجھتی۔تو صاحب اس بار منافق عوام کا احتجاج ذرا تگڑا ہو گیا اور حکومت کے ہاتھ پاو ¿ں پھول گئے ۔ان حالات سے نکلنے کے لئے حکومت کے پاس ایک بڑا آزمودہ نسخہ ہے ۔کمیٹی یا کمیشن کا ”گٹھن “۔سو اس بار بھی حکومت نے ریٹائرڈ جسٹس جے ایس ورما کی سربراہی میں ایک تین نفری کمیشن بنا دیا کہ وہ ایک ماہ میں جائزہ لے کرفوری رپورٹ دیں کہ زنا بالجبر،اجتماعی زنا بالجبر اور قتل کی کیا سزا ہو سکتی ہے ۔اور ریٹائرڈ جسٹس ورما صاحب نے واقعی فرض ادا کر دیا ۔انھوں نے جو سفارشات پیش کی ہیںوہ دیکھکر دل خوش ہو گیا ۔انھوں نے عوامی رائے کے بالکل برعکس زانیوں کو سزائے موت دینے سے انکار کر دیا ہے ۔حالانکہ ہماری عدالتیںبغیر کسی ثبوت کے صرف رائے عامہ کے اطمینان کی خاطر بے گناہوں کو سزائے موت دیدیتی ہے ۔ہم کم علم ہیں بہت ممکن ہے کہ اس قسم کے فیصلے صرف کشمیریوں کے لئے Reserve ہوں۔کشمیر ہمارے ملک کا وہ انگ ہے جسے اٹوٹ انگ بنائے رکھنے کے لئے اس طرح کے فیصلے دینے ضروری ہوںورنہ یہ ہمارے منصفین کی عادت نہیںاسی لئے جناب جسٹس جے ایس ورما نے زانیوں کو سزائے موت نہ دینے کی سفارش کی ہے ۔بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ۰۲ سال سے لیکر تا عمر قید تک کی سزا دی جانی چاہئے۔ہمیں انصاف کی مصلحتیں کیا معلوم۔ججس تو بڑے دانشور ہوتے ہیں۔ہم نے جناب ورما صاحب کے کئی فوٹو دیکھے ہیں۔ماشاءاللہ چہرے بشرے سے بڑے ذہین معلوم ہوتے ہیںممکن ہے ان کے نزدیک یہ بات ہو کہ جس طرح زنا کی شکار لڑکی عمر بھر تڑپتی رہتی ہے نہ جیتی ہے نہ مرتی ہے بالکل اسی طرح زانی کو بھی تڑپ تڑپ کر جینا چاہئے۔۔اور اگر اثر رسوخ کا مالک ہو تو قانون کے لمبے ہاتھوں کو توڑ کر چھوٹا بنانے کا ہنر آتا ہو توچند سال جیل میں گزار کر آزاد ہونا اس کا حق ہے ۔آگے جسٹس صاحب مزید فرماتے ہیں کہ ازدواجی بندھن میں بندھا ہو نے کایہ مطلب نہیں کہ شوہر بیوی کو Rape نہیں کر سکتا ۔اگر بیوی یہ شکایت کرے کہ شوہر نے اس کے ساتھ مباشرت بالجبر کیا ہے تو اسے بھی مجرم ٹہرایا جاناچاہئے۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ اسے خانگی جرائم کی فہرست میں رکھا جائے ۔جسٹس صاحب نے اپنی بات میں مزید وزن پیدا کرنے کے لئے لکھا ہے زانی زانی ہوتا ہے چاہے متاثرہ کے ساتھ اس کا جو بھی رشتہ ہو(ہندو،۸۲ جنوری)جناب جسٹس ورما صاحب کے ان لاجواب فرمودات پرجو تبصرے آئے ہیں وہ بھی لاجواب ہیں۔۔محترمہ گا ندھی کا کہنا ہے کہ marital rape (ازدوجی زنا) ایک احمقانہ خیال ہے ۔یہ تو شادی کے ادارے کو ہی ختم کردے گا۔جناب آتما گاندھی بھی ازدواجی زنا کو احمقانہ ہی تصور کرتے ہیںوہ بھی کہتے ہیں کہ پھر شادی کے ادارے کی ضرورت ہی کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ سفارش حکومت کو شادی شدہ جوڑوںکے بیڈ روم میں داخل کردے گی ۔آخر میں وہ تبصرہ جسے پڑھکر خودہمارے چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ہم سمجھتے تھے کہ خوش مزاجی ،بذلہ سنجی صرف اردو والوں کا حق ہے مگر اس تبصرے کو پڑھکر ہم نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا۔محترمہ کویتا کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شوہر کا ہمبستری سے پہلے بیوی سے تحریری اجازت لینا چاہئے اور اسے ہمہ وقت اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہئے۔اس کے بعد بھی ضروری نہیں کہ بیوی شوہر کو بلیک میل نہ کرے وہ کہہ سکتی کہ یہ تحریر اس سے زبر دستی لی گئی ہے ۔یا یہ کہ یہ تو کسی اور وقت کی مباشرت کے وقت لی گئی تھی ۔وہ مزید کہتی ہیں کہ یہ حالات بیڈ روم کا ویڈیو گرافک ریکارڈرکھنے تک لے جائیں گے ۔اللہ رحم کرے ۔ وطن عزیز کے ارباب حل و عقد معاشرے کو نہ جانے کہاں تک لے جائیں گے ۔
محترمہ کویتا نے جو کچھ لکھا ہے حیرت ہے کہ ریٹائرڈجسٹس جناب جے ایس ورما کی نظر وہاں تک کیونںنہیں گئی ۔وہ ایک دانشور ہیں ماہر قانون ہیںان کو تو اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ کونسا قانون سماج کے لئے مفید ہو سکتا ہے اور اس کے مضمرات کیا ہو سکتے ہیں۔مگر جیسا کہ ہم ابتداءمیں لکھ چکے ہیں کہ سارا مسئلہ عقائد کا ہے ۔یہاں جو ذہنیت بن چکی ہے وہ یہ کرتی ہے کہ جب اعصاب پر عورت سوار ہو تو دماغ کی کھڑکیاں بند کرکے قوانین بنائے جاتے ہیں۔مثلاً 498A یہ قانون نو بیاہتا کی ہمدردی میں بنایا گیا تھا مگر ہو یہ رہا ہے کہ ایک عورت کی ہمدردی میںکئی عورتوں کو جیل کی ہوا کھلائی جارہی ہے ۔ہم درجنوں رپورٹیں ایسی پڑھ چکے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ بہوئیں اسے عموماً بلیک میلنگ ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔یہاں ۴ شادیاں کرنے کو تو پاپ تصور کیا جاتاہے مگر رکھیل رکھنے کی کھلی آزادی ہے اور اسمیں آسانیاں فراہم کرنے کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے ۔ہم جنسی کی آزادی دیکر عورتوں کے حقوق مارے جارہے ہیں۔اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب عورتوں سے ہمدردی کے نام پر کیا جا رہا ہے Live-in Relationship کی اجازت دیکر اس سے اس کے حقوق چھینے جارہے ہیں۔ایک بیوی ایک بہو ایک ماںکی عزت احترام اور پیار چھینا جا رہا ہے ۔جب ہم خود اپنے معاشرے میں جنسی انارکی پھیلا رہے ہیں تو سچ ہے جسٹس صاحب کس منہ سے مجرمین کو موت کی سزا کی سفارش کر سکتے ہیں۔
تاریخ کوروڈیہ مصنفہ ڈاکٹر ارشد جمیل پر ایک نظر
احتشام الحق
دارالعلوم احمدیہ سلفیہ، دربھنگہ
ہر عہد کی اپنی مخصوص شناخت ہوتی ہے۔اکثر تویہ اپنی روایت کے حصہ اور تسلسل کے طور پر ہی پہچانی جاتی ہے لیکن جب کسی عہد میں اعلی اقدار وروایات کے سنہرے سلسلے سابقہ عہدوں کی اقدار وروایات سے متمیز ہونے لگتے ہیں تویہ اس عہدکی انفرادیت بن جاتی ہے اورکبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض علاقوں میں کسی عہد میں یہ تسلسل بھی باقی نہیں رہ پاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی عہد کی اہمیت اسی وقت تسلیم کی جائے جب اس کی باقیات زمانے اور صدیوں بعد بھی آنے والی نسلوں کو نظر آتے رہیں یا تاریخ میں اس عہد کے اجتہادی یا تحریکی کارنامے نظر آئیں۔ اکثر باقیات کا تعلق تو کسی عہد کے شخص یا اشخاص معین ہی سے ہوا کرتا ہے لیکن ہر عہد میں ایسے بہترے اشخاص ہوتے رہے ہیں جو ایسے تہذیبی آثار چھوڑجاتے ہیں جن کا احساس وادراک ان کی موجودہ نسلوں کے شعور کی بالیدگی سے ہوتا ہے۔ در حقیقت تاریخ میں ایسے ہی افراد اصل اہمیت کے حامل ہیں۔ کیوں کہ یہ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جو انسانیت کی اس عظیم روایت کو آگے بڑھاتے رہے ہیں جن سے حضرت انسان اشرف المخلوقات کے رتبہ پر فائز ہوئے ہیں۔ لیکن اس تلخ حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے افراد ہمیشہ پائیدار یادداشتوں سے نظر انداز کئے جاتے رہے ہیں اور اگر ایسے کاموں کی طرف کبھی توجہ دی گئی ہے تو ایسے ہی افراد کی طرف سے جن کی نگاہوں میں تہذیب واقدار کی تعمیر وتشکیل ، بقا اور حفاظت مہتم بالشان کام ہو اور جنہوں نے سماج کے ارتقا کے لیے اسے ضروری خیال کیا ہو۔
”کورو ڈیہ “ ضلع بھاگلپور کی ایک ایسی ہی مردم خیر بستی ہے جو تاریخی اور علمی اہمیت کی حامل ہے۔ اس بستی اور اس کے اہالیان کے اجتہادی، علمی اور تحریکی کارنامے تاریخ میں تو جگہ پانے کے لائق ہیں ہی ساتھ ہی ایسی عظیم ہستیاں بھی یہاں ہر دور میں موجود رہی ہیں جنہوں نے نسل انسانی کی وراثت کو اپنے اسلاف سے حاصل کرکے اسے نئے اور مزید بالیدہ شعور کے ساتھ آنے والی نسلوں کے سپرد کیا ہے۔”تاریخ کوردو ڈیہ“جلد اول ڈاکٹر ارشد جمیل کی تازہ ضخیم کتاب ہے جس میں کوروڈیہ کے ۸۴۳ اشخاص کو ان کے ناموں کی سرخی کے ساتھ مختلف عناوین کے تحت جگہ دی گئی ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جن کے نقوش پا تاریخ میں اجتماعی جدو جہد کے لیے نظر آتے ہیں اور ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے انسانیت کی اعلی قدروں کی حفاظت کی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کا ان کا امین ومحافظ بنایا ہے۔
کتاب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ موضع کوروڈیہ ایک قدیم بستی ہے جو عہد اسلامیہ میں عصمت اللہ پور کے نام سے جانی جاتی تھی اور جس کے آثار وباقیات اب بھی اس مقام پر پائے جاتے ہیں جو ”ڈیہ“ کے نام سے موسوم موجودہ آبادی سے متصل تقریبا سو بیگھ کی غیر آبادیا ویران اراضی پر مشتمل ہے جس”کی باقیات میں عہد مغلیہ کے سکے، پختہ مکان کی بنیادیں، ایک عدد پختہ کنواں، تالاب پر پختہ گھاٹ بطور آثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔ ایک پختہ عمارت کی شکستہ دیواریںاب بھی اس کی عظمت رفتہ کی گواہ ہیں۔ مختلف قسم کے آلات، ظروف اور دیگر آثار بھی وقتا فوقتا دستیاب ہوئے ہیں۔ “ شاہ عالم بادشاہ ثانی کے عہد کے سکہ کو خود مصنف نے بھی دیکھا ہے۔ اس بستی کی عظمت ، قدامت اور تاریخی حیثیت اس سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ اس بستی کی ایک معزز شخصیت قاضی نعیم اللہ شاہ عالم بادشاہ ثانی (۶۰۸۱ء۔۹۵۷۱) کے عہدمیںعہدہ قضاءپر مامور تھے اور ان کے خاندان کے کئی افرادمثلا قاضی صبیح اللہ، قاضی فتح اللہ اور قاضی حبیب اللہ وغیرہ اس عہدہ پر مامور ہوتے رہے تھے۔ اسی خاندان کی ایک اہم شخصیت مولانا محمد یونس کی تھی جنہوں نے ابھی حال ہی ۰۳ جون ۰۱۰۲ئ میں وفات پائی ہے ۔ مولانا موصوف کے پاس اس زمانے کی مہریں بھی موجود تھےں۔ دوسری شخصیت مرزا عبد اللہ بیگ کی تھی جو عہد مغلیہ کے آخری دور میں کہیں صوبہ دار تھے، ان کو سبک دوشی پر جاگیر میں تین سو بیگھ زمین عطا ہوئی جس میں ۴۴۱ بیگھ زمین کورد ڈیہ میں تھی۔
اس کے علاوہ اس بستی کی تاریخی اہمیت کا سب سے سنہرا باب اس کا قومی وملی اور تعلیمی تحریکو ں میں حصہ ہے۔ یہ علاقہ معاشی طور پر کسی طورسے ہمیشہ خوش حال رہا ہے ۔ اس لیے ابتدا سے ہی تعلیم کی طرف توجہ رہی ہے۔ اس گاو ¿ں کے بیشتر افراد تعلیم یافتہ ہیں۔ ابتدا سے تعلیمی رجحان مذہبی رہا ہے۔ لہذا اہالیان بستی کا دارالعلوم دیوبند سے تعلیم کے تعلق سے ایک قدیم رشتہ ملتا ہے۔ اسی رشتہ کی وجہ سے جہد آزادی میں بھی ان کی شرکت رہی ہے۔ چنانچہ مصنف علماءدیوبند خصوصا شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے ضمنا ذکر کے بعد لکھتے ہیں ”آپ کی ذات سے بھاگلپور کا یہ مشرقی علاقہ جمعیة العلما ءاور کانگریس کا ایک گڑھ بن گیا او ریہ علاقہ متحدہ قومیت اور وطنی وحدت کا حامی رہا۔ اس علاقے نے دو قومی نظریہ کی کبھی حمایت نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر اس علاقے سے ہجرت کے نام پر کوئی آبادی منتقل نہیں ہوئی ۔“ جد وجہد آزادی کے ساتھ ساتھ دارالعلوم دیوبند سے اس علاقہ کے فیضیاب طلبہ نے تعلیمی سرگرمیوں کو بھی اتنا تیز رکھا کہ علاقہ کی ہر بستی میں اچھے اچھے اداروں کو قیام عمل میں آیا جنہوں نے اپنے عمدہ نظام تعلیم وتربیت کی وجہ سے اپنی منفرد پہچان بنائی ۔ اور ان میں پڑھنے والے طلبہ نے اپنے اپنے وقتوں میں قوم وملت کی عظیم خدمات انجام دیں۔ انہی خدمات کا صلہ ہے کہ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ، مولانا محمد سہول عثمانیؒ، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہویؒ، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ،مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ، مولانا سید اسعد مدنیؒ ، مولانا خلیل احمدؒ اور مولانا اشفاق احمد جیسی ہندوستان کی متبرک شخصیتوںنے اپنے قدوم میمنت لزوم سے اس بستی کو زینت ووقار بخشا ہے۔ ان اداروں میں اعلی تعلیم کا انتظام تھا۔ جن میں اپنے فن کے ماہر اور طاق علماءمسند درس پر فائز تھے ۔ خود مصنف نے عالم تک کی تعلیم ان ہی مقامی اداروں میں حاصل کی ہے۔
بہر کیف یہ کتاب کورو ڈیہ کے ساتھ ساتھ اس علاقہ کے دوسری بستیوں کے بارے میں تاریخی معلومات فراہم کرتی ہے ۔ جیساکہ مصنف نے خود لکھا ہے ”تاریخ کورو ڈیہہ“ محض ایک علامت ہے ورنہ علاقے کی ہر ایک بستی مستقل اپنی تاریخ رکھتی ہے۔“
مصنف کا آبائی مکان کورو ڈیہ ہے ۔اور انہوں نے فاضل سے یونیورسٹی تک کی تعلیم پٹنہ ہی میں حاصل کی اور اس کے دو تین سالوں کی ملازمت کے بعدتقریبا ۰۳ سالوں سے بحیثیت ریڈریونیورسٹی شعبہ اردو للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ میں ملازمت کررہے ہیں۔گو کہ یہ کتاب کورو ڈیہ کی تاریخ بیان کرنے کے لیے لکھی گئی ہے لیکن اس کتاب کا سب سے اہم اور دلچسپ باب ”داستاں میری“ ہے ۔ اس باب میں مصنف نے اپنے احوال وکوائف کے ساتھ ان اداروں کے تذکرے جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی، اساتذہ کے حالات اور اپنی ملازمت کے عہد کے دربھنگہ کے حالات کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ یہ کتاب اس حیثیت سے بھی بہت دلچسپ ہے کہ ان کے دور طالب علمی کے پٹنہ اور اس وقت کی علمی شخصیات کے بارے میں وافر معلومات حاصل کرنے باوثوق ذریعہ ہے۔ خاص طور پر وہاں کے ادارے مثلا بہار مدرسہ بورڈ کے حالات تشکیل کے وقت سے تاحال تاریخی حیثیت سے جاننے کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدرسہ بورڈ سے مصنف کانہ صرف بہت قدیم تعلق ہے بلکہ آج کا بہار مدرسہ بورڈ مصنف اور ان کے رفقاءکی جدو جہد کاہی ثمرہ ہے۔ خود مصنف اظہار عالم (آئی پی ایس) رضوان الحق ندوی کے بعد اولڈ بوائز ایسو سیئشن کا سکریڑی رہے ہیں۔ ساتھ ہی مدرسہ شمس الہدی پٹنہ، عربک اورپرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، اور پٹنہ یونیورسٹی کے بارے میں جو معلومات فراہم کی گئی ہے وہ بھی استنادی حیثیت رکھتی ہیں۔یہ کتاب مصنف کے رفقا کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتی ہے جو اعلی عہدوں پر فائز ہوئے ہیں اور روشن علمی وادبی کارنامے بھی ان سے منسوب ہیں ۔
پٹنہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اساتذہ کے بارے میں معلومات اور تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ گرچہ یہ شخصیتیں انتہائی معروف اور مستند ہیں اور ان کے بارے میں دوسری کتابوں میں معلومات ملتی ہیں لیکن اس کتاب میں بیان شدہ معلومات کا تعلق مصنف سے ذاتی ہے اور اس میں دوسرے شریک نہیں ہیں اس لیے بہت سی باتیںدوسری تحریروں میں نہیں آسکی ہیں ۔ اس باعث ان شخصیتوں کے افکار وخیالات کو جاننے کا یہ ایک اہم ذریعہ ہے۔
اسی باب میں انہوں اپنے عہد ملازمت کے دربھنگہ کا ذکر کیا ہے ۔ اس میں دربھنگہ اور دربھنگہ میں قیام پذیر پچاس سے زائد شخصیتوں کے حالات ، دربھنگہ کے اقلیتی ادارے ، دربھنگہ سے نکلنے والے رسائل وجرائد کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔افراد واشخاص کے ذکر میں مصنف نے کسی تعصب سے کام نہیں لیا اور جس سے جس طرح متاثر ہوئے ہیں بالکل اسی طرح بیان کردیا ہے۔ دربھنگہ سے مصنف کا لگاو ¿ انتہائی گہرا ہے اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے دربھنگہ علم وادب دوست شاعر شاداں فاروقی کے سانحہ ارتحال پر اظہار تاسف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”آپ کی موت نے اس شہر نگاراں کو ایسا کم مایہ کردیا کہ کہیں نظر نہیں ٹھہرتی“۔ دربھنگہ ہی کے ذکر کے ساتھ انہوں نے ایسی علمی وادبی شخصیات کا ذکر بھی کیا ہے جن کا تعلق دربھنگہ سے نہیں رہا ہے لیکن چونکہ ان کے عہد ملازمت میں ان سے مصنف کے تعلقات استوار ہوئے یا ملاقات ہوئی یا ان کا انتقال ہو اجن سے مصنف متاثر ہوئے ۔ ایسا لگتا ہے کہ بعض واقعات اور شخصیات سے متعلق انہوں نے اپنی یاد داشتیں شامل کی ہیں جنہوں نے انہیں متاثر کیا ہے۔ یہ حصہ بھی بہر حال معلومات کے اعتبار سے انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے دربھنگہ کا ذکر کرتے ہوئے ۷۸۹۱ اور ۴۰۰۲ کے سیلاب بلاخیز اور ان کی تباہیوں کا ذکر بھی تفصیل سے کیا ہے۔ ایسے واقعات اپنے وقت میں اخبارات میں نمایاں ہو کر شائع ہوتے ہیں لیکن جلد ہی بھلادیئے جاتے ہیں۔ کتاب میں اس کا ذکر آنے والوں وقتوں میں ان حالات کے جاننے کے لیے یقینا اہم ہوگا۔
جب اس کتاب پر ایک نظر ڈالی جاتی ہے تو سب سے پہلے کوروڈیہ کی سوسالہ قدیم تاریخی مسجد کے اندر اور باہر کا منظر پیش کرتی ہوئی تصویریں ہیں۔ یہ تصویرں بتاتی ہیں کہ مسجد فن تعمیر کے اعتبار سے بڑی خوبصورت اور قدیم فن کا نمونہ ہے۔اس کے بعد مصنف کے استاد پروفیسر مطیع الرحمن کے ہاتھوں سے تیار شدہ اس کا علاقہ نقشہ دیا گیا ہے۔اس کے بعد مصنف کا پیش لفظ ہے ۔ مقدمہ پروفیسر لطف الرحمن نے لکھا ہے اور ”یادوں کی جستجو کا سلسلہ “کے عنوان سے جناب حقانی القاسمی کی لکھی ہوئی تقریظ ہے۔ پھر ”یادوں کے چراغ “کے عنوان سے گاو ¿ں کی ۱۴ اہم رفتگاں شخصیات کے بارے میں تاثرات ہیں ۔ ”ذکر ہم نفساں“ کے تحت گاو ¿ں کے موجودہ ۰۷علما کے احوال وآثار دیئے گئے ہیں ۔ اس کے بعد کا باب” داستاں میری “ ہے جس میں مصنف اور ان سے متعلق مقامات، حالات واقعات اور شخصیات کا تذکرہ ہے۔ ”کاروان شوق “کے تحت ابجدی ترتیب میں گاو ¿ں کے ۷۱۱حفاظ کے نام مع ولدیت گنائے گئے ہیں۔” حجاج کرام “ کے تحت گاو ¿ں کے ۰۲۱ مرد وخواتین حجاج کے نام مع ولدیت یا شوہر کے نام کے ساتھ پہلے ، دوسرے اور تیسرے حج کے سنین اور سنہ وفات کے ساتھ گنائے گئے ہیں۔ پھر” سرچشمہ ¿ ہدایت “کے تحت بشمول بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ، مولانا مظہرالحق عربی وفارسی یونیورسٹی اور عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پٹنہ کے علاوہ ہ بہار اور بہار سے باہر دارالعلوم دیوبند اور ندوة العلماءلکھنو ¿ جیسے گیارہ مدارس کے بارے میں واقفیت فراہم کی گئی جن سے اس گاو ¿ں کے لوگوں نے اکتساب فیض کیا ہے۔ بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی کو مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے تحت رکھا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہار مدرسہ بورڈ اور MMAPUکی حیثیت مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے ذکر کے بغیر نہیں ہوسکتی ہے۔ دراصل ان کا قیام شمس الہدی کی تعلیمی سرگرمیوں کا ہی حصہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کتاب میں علاقے کے جن مدارس کا ذکر ہوا ہے انہیں دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ بہار مدرسہ بورڈ کے حالات کے ذکر میں بورڈ کی تشکیل کے وقت بہار گزٹ کے جاری کردہ نوٹیفیکیشنوں کے عکس بھی دیئے گئے ہیں۔ اسی میں مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے ۵اور عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے۰۱ نامور اساتذہ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد” کورد ڈیہ ۔ جلوہ گاہ عارفاں“ کے تحت ۹ علماءربانیین کا تذکرہ ہے جنہوں نے اس گاو ¿ں کا مختلف اوقات میں معائنہ مشاہدہ کیا ہے۔ ”نقشہائے دگر“ کے تحت بعض علمی وادبی اور سیاسی شخصیتوں کے خطوط اور دوسری تحریروں کے عکس ہیں جن میں ایک استقبالیہ نظم بھی شامل ہے۔ ان خطوط میں سے بعض خود مصنف کے نام ہیں تو بعض دوسری شخصیتوں کے۔ بعض خطوط مدرسہ بورڈ کی سرگرمیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی باب کے آخر میں ڈاکٹر رضوان الحق ندوی کی تحریر ہے جو مصنف کی دختر کی شادی کے موقع سے اس گاو ¿ں کا سفر نامہ ہے۔یہ تحریر اس گاو ¿ں کے تہذیبی رکھ رکھاو ¿ اور آپسی لگاو ¿ کو سمجھنے کے لیے بڑا اہم ہے۔ اس کتاب کا ایک اہم ”باب رشتوں کی تلاش“ ہے۔ اس وقت جب کہ انساب کی اہمیت ختم ہوتی جارہی مصنف نے اپنے گاو ¿ں کے شجرے جو آٹھ خاندانوں پر مشتمل ہے ،بڑی محنت سے ترتیب دیئے ہیں بعض خاندان کے شجرے ۷ حصوں میں بیان ہوئے ہیں۔ علم الانساب کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو عالمی اخوت پیدا کرنے کے لیے اس کی افادیت مسلم ہے۔ اور اخیر میں ڈاکٹر عبد المنان طرزی اور ڈاکٹر منصور عمر کے تاریخی قطعات ہیں۔
جیساکہ اوپر ذکر ہوا یہ کتاب موضع کوروڈیہ کی تاریخ ہے اور بقول مصنف کہ تاریخ کوروڈیہ تو ایک علامت ہے ورنہ یہ کورو ڈیہ کے پورے مضافات کے بارے میں معلومات کا خزانہ ہے۔ اسی طرح داستاں میری میں انہوں نے اپنے حالات بیان کرنے کا التزام کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے اس میں مصنف کا تذکرہ واقعات کے تاروں کو ملانے کے لیے ہی کیا گیا ہے۔ اگر ان کی شخصیت کو نکال دیا جائے تب بھی یہ کتاب یاد داشتوں یا ایک تذکرہ کی شکل میں مکمل ہوسکتی ہے۔ کہیں بھی مصنف نے اپنی ذات کو فوکس نہیں کیا ہے۔
جہاں تک اس کتاب کے تاریخی ہونے کی بات ہے تو اس کی حیثیت اس طرح تاریخی ہے کہ اس میں بیان ہونے والے واقعات وحقائق تاریخی اور مستند ہیں ۔ ورنہ یہ کتاب تذکرہ ہے جس میں ان کے دور طالب علمی کا پٹنہ اور دور ملازمت کے دربھنگہ کے اہم اداروں اور شخصیتوں کا ذکر کہیں تفصیل سے تو کہیں اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور پر اس میں مدرسہ شمس الہدی ، بہار مدرسہ بورڈ ، مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی اور عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، پٹنہ کے بارے انتہائی معلوماتی اور مستند دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر قومی وملی تحریک میں ضلع بھاگلپور کے حصہ کا جائزہ لیا جائے تو جنوبی مشرقی بھاگلپور کے علاقہ کی سرگرمی جاننے کے لیے یہی کتاب ایک واحد ذریعہ ہوگا۔
واقعی مصنف نے یہ کتاب لکھ کر اپنے اسلاف کی خدمات کو محفوظ کردیا ہے۔ مصنف نے یہ کتاب اسی لیے لکھی ہے کہ ”موجودہ نسل اپنے ماضی اور اپنے بزرگوں کی خدمات سے دور ہوتی جارہی ہے۔“ مصنف کا خیال ہے کہ ”قومیں اپنے ماضی سے زندہ رہتی ہیں جن کا کوئی ماضی نہیں تاریخ اس کو فراموش کردیتی ہے۔ ”تاریخ کوروڈیہ“ کھوئے ہوو ¿ں کی جستجو اور یادوں کی بازیافت کا ایک سلسلہ ہے۔“
Subscribe to:
Comments (Atom)
