امیر ہونے کا ایک کامیاب نسخہ
اخلاقی زوال کے شکار ذرائع ابلاغ
منیر احمد خلیلی
سادہ الفاظ میں خبروں کے جمع کرنے، لکھنے اور ان کو نشر یا شائع کرنے کے نظام یا شعبے کا نام صحافت یا میڈیا ہے۔ ذرا وسیع معنوں میں وہ قرأتی، سمعی اور بصری ذرائع جن کے ذریعے حادثات و واقعات، مسائل اور رجحانات و میلانات کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں ان کی سند اور صداقت کے بارے میں تحقیق کی جاتی ہے اور پھر ان کو اخبارات و رسائل، ریڈیو، ٹی وی یا انٹرنیٹ پر نشر کیا جاتا ہے، میڈیا کی تعریف میں آتے ہیں۔ موجودہ دور میں نیوز میڈیا کا دائرہ اتنی وسعت حاصل کر چکا ہے کہ اطلاعات و معلومات اور آراء افکار کو عوام تک پہنچانے کا یہ واحد ذمہ دار یا ٹھیکے دار بن گیا ہے۔ لفظ میڈیا کے رواج عام سے پہلے اس نظام کے لیے اردو میں صحافت اور انگریزی میں Journalism کی اصطلاح عام تھی جو فرانسیسی زبان کے Journal اور لاطینی زبان کے Diurnal سے ماخوذ تھی جس کا مطلب روزنامہ ہے۔ قدیم روم میں The Acta Diuma ہاتھ سے لکھے ہوئے خبری بلیٹن کو کہا جاتا تھا جو کسی اہم پبلک مقام پر رکھ یا پہنچا دیا جاتا تھا اور لوگ وہاں جمع ہو کر اسے پڑھتے اور اس دن کی تازہ خبر سے آگاہ ہوتے تھے یہ گویا دنیا کا پہلا اخبار تھا لیکن انگریزی زبان کا پہلا اخبار Daily Courant مانا جاتا ہے جو ۱۷۰۲ء سے ۱۷۳۵ء تک شائع ہوتا رہا۔
اقرائی ذرائع میں کبھی صرف کتابیں، رسالے اور اخبارات شامل تھے، فلم اور ڈرامے نے سمعی اور بصری پہلو کا اضافہ کیا اور اسے ایک نئی جہت بخشی۔ آج انٹرنیٹ کا جن بوتل سے نکل کر ان سب پر چھا گیا ہے اس نے لوگوں کی توجہ جرائد و کتب سے ہٹا دی ہے۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ عشرے سے مطالعہ کے ذوق اور سرگرمی پر جو دھند گہری ہوئی جارہی ہے اسی بوتل کا دھواں ہے جس سے یہ جن نکلا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں انٹرنیٹ ایجاد ہوا اور اس کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ استعمال شروع ہوا وہاں تو کتاب خوانی کے رجحان میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ہر ماہ ہی نہیں ہر ہفتے کسی نہ کسی موضوع پر کوئی کتاب چھپتی ہے اور Best Seller کا درجہ پاکر لاکھوں قارئین کے ہاتھوں میں اور مطالعہ کی میز پر پہنچ جاتی ہے، لیکن ہماری نگاہیں انٹرنیٹ سے ایسی خیرہ ہوئی ہیں کہ اس کے سوا کچھ اور سجھائی ہی نہیں دے رہا ہے۔
اخبارات اور رسائل کے بعد ریڈیو میڈیا کا حصہ بنا۔ اس سے حالات و حوادثات سے آگہی اور تفریح کے امکانات میں اور وسعت آئی۔ ہمارے ہاں ۷۰ء کے عشرے میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کی آمد ہوئی۔ پھر رنگین ٹی وی نے آکر واقعات و شخصیات کو متحرک اور Live حالت میں ناظرین کے سامنے پیش کرنا شروع کیا تو اس کے اثرات کا دائرہ اور زیادہ پھیل گیا۔ اب واقعات محض خبروں کی صورت میں نہیں بلکہ اپنی اصلی صورت میں نگاہوں کے سامنے آنے لگے۔ اس وقت سمعی اور بصری ذرائع ابلاغ کی برادری میں ایک اور رکن یعنی موبائل فون کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔
میڈیا کا دائرہ کار یا ذمہ داری
میڈیا کی ذمہ داریوں میں معروضی انداز میں خبر دینا، حالات سے باخبر رکھنا، واقعات کے پس منظر پر روشنی ڈالنا حقائق کی تہہ تک پہنچنا، انسانی معلومات سے تھوڑا آگے جاکر اس کے شعور کو بیدار کرنا، ایک خاص نہج پر رائے سازی اور معاشرتی تقاضوں کے مطابق لوگوں کے رویوں اور رجحانات کی تعمیر (Trend Setting) کرنا شامل ہیں۔ جدید دور کے میڈیا نے خبر دینے کے ساتھ خبر لینے کو بھی اپنے مقاصد میں شامل کر لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میڈیا جہاں ہر طبقے ہر گروہ اور ہر سیاسی پارٹی، مذہبی جماعت اور سماجی تنظیم کی سرگرمیوں کی معروضی انداز میں خبریں دیتا ہے وہاں وہ عوامی نمائندگی کرتے ہوئے ان جماعتوں اور تنظیموں اور گروہوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر ان کا مواخذہ اور محاسبہ بھی کرتا ہے تاکہ ان کی کوئی پالیسی اور سرگرمی قومی مفاد اور سماجی بہبود کے منافی نہ ہو۔ میڈیا کی اسی اہمیت کے باعث اس کو جمہوری نظام کا اہم ترین ستون شمار کیا جاتا ہے۔
ان مقاصد کو سامنے رکھا جائے تو میڈیا کا کردار بڑا مقدس نظر آتا ہے۔ جس طرح ناولوں اور ڈراموں میں برائی اور اچھائی کی کشمکش میں برائی کو اس انداز میں پیش کیا جاتا تھا کہ پڑھنے والوں کے دل میں ہیرو سے عقیدت اور ہمدردی پیدا ہوجاتی تھی اور Villain شر و فساد کا نمائندہ بن کر سامنے آتا اور اس سے نفرت کے جذبات ابھرتے تھے۔
قارئین فطری طور پر ہیرو کی فتح اور ولن کی ذلت و رسوائی کی تمنا کرتے اور اس کے روپ میں مجسم باطل کو کیفر کردار تک پہنچا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ عین اسی طرح میڈیا پر کرپٹ اور گھٹیا ذہنیت و اخلاق کے سیاستداں اور بگاڑ اور فساد کی قوتیں اور معاشرے میں پھیلے ہوئے دیگر تخریبی عناصر کو بے نقاب کر کے ان کو انجام تک پہنچانے کی مہم خیر اور بھلائی کے غلبے کی مہم ہے۔ قومی ذمہ داری کے اعتبار سے ملک و قوم کی اساسات سے ہم آہنگ اعتقادات اور نظریات و افکار اور تعمیری رجحانات و میلانات کو فروغ دینا میڈیا کا اصل کام سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح ایک استاد سے یہ توقع کرنا بعید ازامکان ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو برائی کی تعلیم دے گا اور جرائم کا عادی بنائے گا اسی طرح میڈیا کے بارے میں یہ سوچنا انوکھی بات سمجھی جاتی تھی کہ وہ ان اخلاقی رویوں اور افکار و معتقدات کا پرچار کرے گا جو قومی مقاصد سے متصادم ہوں۔
جو معیارات و اصول اب قصۂ پارینہ ہیں
ایک وقت تھا، جب ایک مشن کے سوا میڈیا کا کوئی اور کردار تصور میں ہی نہیں آسکتا تھا۔ ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں سامراج سے آزادی کی جدوجہد کو اس وقت کے پرنٹ میڈیا کا سب سے بڑا جہاد سمجھا جاتا تھا۔ مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد اور ایسی ہی دیگر شخصیات کا قلمی جہاد وہ وقیع کارنامہ تھا جس کے ذریعے انہوں نے تاریخ میں اپنا روشن کردار رقم کرایا اور قوم و ملت کے محبوب و محترم قرار پائیں۔ اس زمانے میں روزنامہ صحافت کا کچھ زیادہ چلن نہیں تھا۔ متعدد وقیع دینی اور علمی ماہنامے اپنی ایک پہچان رکھتے تھے۔ اکثر ماہنامے اپنے عالی قدر مدیروں کی رحلت کے بعد بند ہوگئے۔
فکری یکجہتی، اپنے خاص آدرش کے تحت ذہن سازی اور رائے اور فکر کی تشکیل سب کا مشترک مطمع نظر تھا۔ اپنے نظریے اور فکر کی پاسداری میں اس دور کے مدیرانِ کرام بڑی قربانیاں دیتے تھے، جیلیں کاٹتے اور بھاری جرمانے بھرتے تھے مگر اس طرح کی ہر تلخی اور ترشی ان کے نشہ جدوجہد آزادی اور جنون مقاصد کو اور بڑھا دیتی تھی۔ وہ اپنے نظریے اور اصول اور اپنے نصب العین پر کسی سودے بازی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ وہ نہ بکتے تھے اور نہ جھکتے تھے۔ ان کے نزدیک قلم کی حرمت پر حِرص و ہوس کی آنچ آنے دینا ماں بہن کی آبرو بیچنے کے مترادف تھا۔ ان کے الفاظ اتنی بڑی قیمت رکھتے تھے کہ کوئی ان کی قیمت لگانے کی ہمت ہی نہیں کرتا تھا۔ وہ فقر و فاقہ اور مشکلات و مصائب کی حالت میں بھی اپنے اصولوں سے غذا اور روشنی پاتے تھے۔ یہی ان کی قوت کا راز تھا۔ کردار کے کھرے پن کا اپنا ایک وزن اور اثر ہوتا ہے۔ مولانا محمد علی جوہرؒ سے بڑھ کر کون سامراج دشمن ہو سکتا تھا اور کس نے انگریز کو چیلنج کرنے کی اس سے بڑی جسارت کی ہوگی لیکن یہی چیز ان کی اس عظمت کی دلیل تھی، جس کے اعتراف میں انگریز وائسرائے صبح دم اپنے ناشتے کی میز پر سب سے پہلے ’’کامریڈ‘‘ دیکھنا پسند کرتا تھا۔
معیار زبان و بیان بھی روبہ زوال
وقت گزرنے کے ساتھ ہر چیز کی قیمت و قامت گھٹنے لگی۔ صحافت یا مروجہ اصطلاح میں میڈیا کی اصولی آب و تاب بھی ایک گہن کی لپیٹ میں آگئی ہے۔ بیان کی لذت اور شائستگی اور زبان کی مہارت کے لحاظ سے بھی اب وہ معیار خواب و خیال ہو کر رہ گیا ہے جو صحافت کے ان اساتین نے قائم کیا تھا۔ ان میں سے اکثر اپنے وقت کے نامور ادیب اور شاعر تھے۔ بات صرف اردو ہی تک محدود نہیں ہے، مولانا ظفر علی خان اور مولانا محمد علی جوہر اور دوسرے کئی عظیم صحافیوں کو انگریزی زبان پر بھی کامل قدرت حاصل تھی۔ مشہور تھا کہ کئی انگریز مولانا محمد علی جوہر کی انگریزی پڑھ کر اپنی لغوی غلطیاں دور کرتے تھے۔ پھر اپنی تہذیبی جڑوں کے ساتھ ان کا رشتہ بہت گہرا تھا۔ سیرت و کردار کے لحاظ سے بڑے اُجلے تھے آج میڈیا سے وابستہ خواتین و حضرات کے کردار میں وہ بلندی اور مقاصد میں وہ رفعت غائب ہو گئی ہے جو ماضی میں صحافی کی پہچان تھی۔ اب ذہن اور قلم دونوں پر For Sale یعنی برائے فروخت کا لیبل لگا کر صحافی اپنے دفتروں میں بیٹھتے ہیں۔
کالی بھیڑوں کا ریوڑ
میڈیا میں اب کالی بھیڑوں نے جگہ بنالی ہے۔ کردار کی بلندی میں آج کے صحافی مذکورہ بالا بزرگوں سے کوئی نسبت نہیں رکھتے۔ ان کی نظریاتی بینائی بہت کمزور ہے۔ اغراض کے بندوں اور ناتراشیدہ ذہنوں کے لشکر اس شعبے میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ ہمیشہ ہری گھاس پر نگاہ رکھتے ہیں۔ جدھر چارہ زیادہ ملتا ہے ادھر چلے جاتے ہیں۔ میڈیا مراکز نے بھی صحافیوں کو خریدنے کی منڈیاں لگا رکھی ہیں۔ ایک خاتون یا حضرت صبح ایک چینل پر خبریں پڑھتے نظر آتے ہیں تو شام کو کسی دوسرے چینل پر جھلک دکھاتے ہیں۔ اینکر اور کالم نویس کبھی ایک چینل یا اخبار کے مالکان کے کلمے پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ذرا بھاؤ بڑھ جائے تو اسی زبان اور لہجے میں دوسری انتظامیہ کے قصیدے شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی ایک جماعت کے حامی ہوتے ہیں تو کبھی دوسری کے دسترخوان کی خوشہ چینی میں لگ جاتے ہیں۔
پی سائی ناتھ انگریزی اخبار Hindu کے دیہی امور کے ایڈیٹر ہیں اور عوامی مسائل اور مشکلات سے بحث کرتے ہیں۔ ۳۰ جون کو نئی دہلی میں Mass Media پر اپنے ایک لیکچر میں انہوں نے ایسی باتیں کی ہیں جو میڈیا سے تعلق رکھنے والی ایک معتبر شخصیت کی طرف سے بڑی تلخ حقیقت کے بارے میں شہادت کا درجہ رکھتی ہیں۔
۱۔ میڈیا اب کوئی مقدس مشن نہیں بلکہ یہ اب کارپوریٹ سیکٹر کا حصہ ہے۔
۲۔ میڈیا کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے معیشت کے مختلف شعبوں میں زبردست مفادات ہیں۔ ان کی اولین ترجیح مفادات کی حفاظت ہے۔
۳۔ میڈیا کمپنیوں یا اداروں کے ایڈیٹر، رپورٹر، کالم نگار اور دیگر قلم کار ان کمپنیوں کے تنخواہ دار کارندے ہیں۔ ان کا اولین کام اپنے مالکان کے مفادات کا تحفظ ہے۔
۴۔ جھوٹ بولنااور پھیلانا ان صحافیوں کی حالیہ ’’صحافتی اخلاقیات‘‘ کے تحت ایک پیشہ ورانہ مجبوری بن گئی ہے۔ پی سائی ناتھ نے اس کے لیے Structural Compulsion to lie کی اصطلاح استعمال کی۔
۵۔ میڈیا کی کمپنیاں اور ادارے بڑی بڑی تجارتی کمپنیوں کے ساتھ ایک طرح سے مفادات کے ساجھی اور ساتھی ہیں۔ صحافی انہی کے مفاد میں اسٹوریاں گھڑتے اور سنسنی خیز انداز میں ان کو پھیلاتے ہیں تاکہ ٹی وی چینلوں کی ٹی پی آر بڑھے۔
۶۔ نقد رقوم کے عوض (Paid News) خبروں اور سیکنڈوں کی اشاعت میڈیا میں پھیلنے والی بہت بڑی لعنت ہے جس میں بڑے بڑے نامور رپورٹر، ٹی وی اینکر، تبصرہ نگار اور کالم نویس ملوث ہیں۔ ان کی تحریروں میں اب نہ معروضیت ہے اور نہ غیر جانبداری، وہ وہی لکھتے ہیں جس کا اشارہ ان کے مالکان کی طرف سے ہوتا ہے۔
(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ ۱۰؍ستمبر ۲۰۱۰ء)
http://www.irak.pk
حماقتیں
ممتاز میر
ہم برسوں سے یہ سمجھتے آرہے ہیں کہ انسان کے عقائد اسکی فطرت یا کہئے اس کی نفسیات بناتے ہیں۔دوسرے مذاہب کی تو بات ہی کیا خود مسلمانوں میں اب ڈھیر سارے عقائد کے حامل لوگ مل جائیں گے اورجو جتنا اسلام کی شاہراہ اعتدال سے دور ہوگا اسی قدر اسکی فطرت بھی مسخ ہوگی ۔اسی لئے مسلمانوں کے درمیان ایسے لوگوں کا وجودبھی ملے گا جو صحابہءکرامؓکے برعکس آپس میں سخت اور دشمنوں کے لئے نرم ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کو انسانوں کے لئے آسان بنایا ہے وہ کہتے ہیں کہ قرآن کو سمجھنا ہر ایک کے لئے ممکن نہیںہے۔ اسلئے ہم نے اپنے پچھلے کئی مضامین میں لکھا ہے خصوصاً گینگ ریپ کے احتجاجی ڈرامے کے تناظر میںکہ اسلامی قوانین پرعمل کرنا یا اس کو نافذ کرنا تو آج مسلمانوں کے لئے ممکن نہیںتو وہ کیا اپنا سکتے ہیں جنھوں نے قرآن کو پڑھا نہیں حدیث کو سمجھا نہیں جو نہیں جانتے کہ قرآن و حدیث مل کر کس قسم کاماحول کس طرح کی اخلاقی اقدار پیدا کرتے ہیں۔ہم نے اس وقت یہی کہا تھا کہ وطن عزیز میں باسی کڑھی کو اکثر ابال آتا رہتا ہے ۔ہمارے سیاستداں کیا عدالتیں بھی status quo برقرار رکھنے میں ماہر ہیں۔یہ ابال یہ جوش کچھ دنوں میں دب جاتا ہے اور پھر کچھ دنوںمیں سب کچھ جوں کا توں ہو جاتا ہے ۔مگر افسوس ہمارا خیال غلط ثابت ہوا ۔ہم ہندوستانی تو اس سے بھی آگے کی چیز ہیں۔ ۶۱ دسمبر کی شام دہلی میں چلتی بس میں ایک ۳۲ سالہ پیرا میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی واردات ہوئی ۔عصمت دری کی یہ واردات اتنی بے دردی کے ساتھ انجام دی گئی کہ طالبہ کچھ دنوں بعد راہیءملک عدم ہو گئی۔طالبہ بچ جاتی اگر اسے عوام یا پولس بر وقت طبی امداد پہونچا دیتے ۔عوام تو خیر غیر ذمہ دار ہوتی ہے مگر پولس نے پوری پوری ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اسے کئی گھنٹوں تڑپنے دیا اور یہ طے کرتے رہے کہ بچی جہاں پڑی ہے وہ جگہ کس پولس اسٹیشن کی ذمے داری ہے ۔اگر غیر ذمے داری کا ثبوت دیتے ہوئے پولس اسپتال پہونچا دیتی توسوچئے وہ زندہ لاش بن کر نہ رہتی ۔اس کے لئے جنھوں نے احتجاج کیا وہ اسے طعنے دے دے کر جیتے جی نہ مارتے ۔اسلئے پولس نے اسے مرنے دیا تو کیا برا کیا۔حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بار بھی پولس کو انعام دے ۔پولس بھی اور حکومت بھی اس بات کی عادی ہے کہ وہ انعامات کے لئے جھوٹے کارنامے گھڑتی ہے یہ تو سچا کارنامہ ہے ۔ہم پہلے بھی کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اس دنیا پر حکومت صرف دو ہی قومیں کر سکتی ہیں[۱]مومن[۲]کسی حد تک عیسائی ۔اپنے ماتحتین کو دوسروں پر ظلم کی آزادی دیکر یہ سمجھناکہ وقت پڑنے پر یہ ہمارے کام آسکیں گے جہالت ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکمرانوں کو انسانون کی نفسیات ہی نہیںسمجھتی۔تو صاحب اس بار منافق عوام کا احتجاج ذرا تگڑا ہو گیا اور حکومت کے ہاتھ پاو ¿ں پھول گئے ۔ان حالات سے نکلنے کے لئے حکومت کے پاس ایک بڑا آزمودہ نسخہ ہے ۔کمیٹی یا کمیشن کا ”گٹھن “۔سو اس بار بھی حکومت نے ریٹائرڈ جسٹس جے ایس ورما کی سربراہی میں ایک تین نفری کمیشن بنا دیا کہ وہ ایک ماہ میں جائزہ لے کرفوری رپورٹ دیں کہ زنا بالجبر،اجتماعی زنا بالجبر اور قتل کی کیا سزا ہو سکتی ہے ۔اور ریٹائرڈ جسٹس ورما صاحب نے واقعی فرض ادا کر دیا ۔انھوں نے جو سفارشات پیش کی ہیںوہ دیکھکر دل خوش ہو گیا ۔انھوں نے عوامی رائے کے بالکل برعکس زانیوں کو سزائے موت دینے سے انکار کر دیا ہے ۔حالانکہ ہماری عدالتیںبغیر کسی ثبوت کے صرف رائے عامہ کے اطمینان کی خاطر بے گناہوں کو سزائے موت دیدیتی ہے ۔ہم کم علم ہیں بہت ممکن ہے کہ اس قسم کے فیصلے صرف کشمیریوں کے لئے Reserve ہوں۔کشمیر ہمارے ملک کا وہ انگ ہے جسے اٹوٹ انگ بنائے رکھنے کے لئے اس طرح کے فیصلے دینے ضروری ہوںورنہ یہ ہمارے منصفین کی عادت نہیںاسی لئے جناب جسٹس جے ایس ورما نے زانیوں کو سزائے موت نہ دینے کی سفارش کی ہے ۔بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ۰۲ سال سے لیکر تا عمر قید تک کی سزا دی جانی چاہئے۔ہمیں انصاف کی مصلحتیں کیا معلوم۔ججس تو بڑے دانشور ہوتے ہیں۔ہم نے جناب ورما صاحب کے کئی فوٹو دیکھے ہیں۔ماشاءاللہ چہرے بشرے سے بڑے ذہین معلوم ہوتے ہیںممکن ہے ان کے نزدیک یہ بات ہو کہ جس طرح زنا کی شکار لڑکی عمر بھر تڑپتی رہتی ہے نہ جیتی ہے نہ مرتی ہے بالکل اسی طرح زانی کو بھی تڑپ تڑپ کر جینا چاہئے۔۔اور اگر اثر رسوخ کا مالک ہو تو قانون کے لمبے ہاتھوں کو توڑ کر چھوٹا بنانے کا ہنر آتا ہو توچند سال جیل میں گزار کر آزاد ہونا اس کا حق ہے ۔آگے جسٹس صاحب مزید فرماتے ہیں کہ ازدواجی بندھن میں بندھا ہو نے کایہ مطلب نہیں کہ شوہر بیوی کو Rape نہیں کر سکتا ۔اگر بیوی یہ شکایت کرے کہ شوہر نے اس کے ساتھ مباشرت بالجبر کیا ہے تو اسے بھی مجرم ٹہرایا جاناچاہئے۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ اسے خانگی جرائم کی فہرست میں رکھا جائے ۔جسٹس صاحب نے اپنی بات میں مزید وزن پیدا کرنے کے لئے لکھا ہے زانی زانی ہوتا ہے چاہے متاثرہ کے ساتھ اس کا جو بھی رشتہ ہو(ہندو،۸۲ جنوری)جناب جسٹس ورما صاحب کے ان لاجواب فرمودات پرجو تبصرے آئے ہیں وہ بھی لاجواب ہیں۔۔محترمہ گا ندھی کا کہنا ہے کہ marital rape (ازدوجی زنا) ایک احمقانہ خیال ہے ۔یہ تو شادی کے ادارے کو ہی ختم کردے گا۔جناب آتما گاندھی بھی ازدواجی زنا کو احمقانہ ہی تصور کرتے ہیںوہ بھی کہتے ہیں کہ پھر شادی کے ادارے کی ضرورت ہی کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ سفارش حکومت کو شادی شدہ جوڑوںکے بیڈ روم میں داخل کردے گی ۔آخر میں وہ تبصرہ جسے پڑھکر خودہمارے چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ہم سمجھتے تھے کہ خوش مزاجی ،بذلہ سنجی صرف اردو والوں کا حق ہے مگر اس تبصرے کو پڑھکر ہم نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا۔محترمہ کویتا کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شوہر کا ہمبستری سے پہلے بیوی سے تحریری اجازت لینا چاہئے اور اسے ہمہ وقت اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہئے۔اس کے بعد بھی ضروری نہیں کہ بیوی شوہر کو بلیک میل نہ کرے وہ کہہ سکتی کہ یہ تحریر اس سے زبر دستی لی گئی ہے ۔یا یہ کہ یہ تو کسی اور وقت کی مباشرت کے وقت لی گئی تھی ۔وہ مزید کہتی ہیں کہ یہ حالات بیڈ روم کا ویڈیو گرافک ریکارڈرکھنے تک لے جائیں گے ۔اللہ رحم کرے ۔ وطن عزیز کے ارباب حل و عقد معاشرے کو نہ جانے کہاں تک لے جائیں گے ۔
محترمہ کویتا نے جو کچھ لکھا ہے حیرت ہے کہ ریٹائرڈجسٹس جناب جے ایس ورما کی نظر وہاں تک کیونںنہیں گئی ۔وہ ایک دانشور ہیں ماہر قانون ہیںان کو تو اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ کونسا قانون سماج کے لئے مفید ہو سکتا ہے اور اس کے مضمرات کیا ہو سکتے ہیں۔مگر جیسا کہ ہم ابتداءمیں لکھ چکے ہیں کہ سارا مسئلہ عقائد کا ہے ۔یہاں جو ذہنیت بن چکی ہے وہ یہ کرتی ہے کہ جب اعصاب پر عورت سوار ہو تو دماغ کی کھڑکیاں بند کرکے قوانین بنائے جاتے ہیں۔مثلاً 498A یہ قانون نو بیاہتا کی ہمدردی میں بنایا گیا تھا مگر ہو یہ رہا ہے کہ ایک عورت کی ہمدردی میںکئی عورتوں کو جیل کی ہوا کھلائی جارہی ہے ۔ہم درجنوں رپورٹیں ایسی پڑھ چکے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ بہوئیں اسے عموماً بلیک میلنگ ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔یہاں ۴ شادیاں کرنے کو تو پاپ تصور کیا جاتاہے مگر رکھیل رکھنے کی کھلی آزادی ہے اور اسمیں آسانیاں فراہم کرنے کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے ۔ہم جنسی کی آزادی دیکر عورتوں کے حقوق مارے جارہے ہیں۔اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب عورتوں سے ہمدردی کے نام پر کیا جا رہا ہے Live-in Relationship کی اجازت دیکر اس سے اس کے حقوق چھینے جارہے ہیں۔ایک بیوی ایک بہو ایک ماںکی عزت احترام اور پیار چھینا جا رہا ہے ۔جب ہم خود اپنے معاشرے میں جنسی انارکی پھیلا رہے ہیں تو سچ ہے جسٹس صاحب کس منہ سے مجرمین کو موت کی سزا کی سفارش کر سکتے ہیں۔
تاریخ کوروڈیہ مصنفہ ڈاکٹر ارشد جمیل پر ایک نظر
احتشام الحق
دارالعلوم احمدیہ سلفیہ، دربھنگہ
ہر عہد کی اپنی مخصوص شناخت ہوتی ہے۔اکثر تویہ اپنی روایت کے حصہ اور تسلسل کے طور پر ہی پہچانی جاتی ہے لیکن جب کسی عہد میں اعلی اقدار وروایات کے سنہرے سلسلے سابقہ عہدوں کی اقدار وروایات سے متمیز ہونے لگتے ہیں تویہ اس عہدکی انفرادیت بن جاتی ہے اورکبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض علاقوں میں کسی عہد میں یہ تسلسل بھی باقی نہیں رہ پاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی عہد کی اہمیت اسی وقت تسلیم کی جائے جب اس کی باقیات زمانے اور صدیوں بعد بھی آنے والی نسلوں کو نظر آتے رہیں یا تاریخ میں اس عہد کے اجتہادی یا تحریکی کارنامے نظر آئیں۔ اکثر باقیات کا تعلق تو کسی عہد کے شخص یا اشخاص معین ہی سے ہوا کرتا ہے لیکن ہر عہد میں ایسے بہترے اشخاص ہوتے رہے ہیں جو ایسے تہذیبی آثار چھوڑجاتے ہیں جن کا احساس وادراک ان کی موجودہ نسلوں کے شعور کی بالیدگی سے ہوتا ہے۔ در حقیقت تاریخ میں ایسے ہی افراد اصل اہمیت کے حامل ہیں۔ کیوں کہ یہ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جو انسانیت کی اس عظیم روایت کو آگے بڑھاتے رہے ہیں جن سے حضرت انسان اشرف المخلوقات کے رتبہ پر فائز ہوئے ہیں۔ لیکن اس تلخ حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے افراد ہمیشہ پائیدار یادداشتوں سے نظر انداز کئے جاتے رہے ہیں اور اگر ایسے کاموں کی طرف کبھی توجہ دی گئی ہے تو ایسے ہی افراد کی طرف سے جن کی نگاہوں میں تہذیب واقدار کی تعمیر وتشکیل ، بقا اور حفاظت مہتم بالشان کام ہو اور جنہوں نے سماج کے ارتقا کے لیے اسے ضروری خیال کیا ہو۔
”کورو ڈیہ “ ضلع بھاگلپور کی ایک ایسی ہی مردم خیر بستی ہے جو تاریخی اور علمی اہمیت کی حامل ہے۔ اس بستی اور اس کے اہالیان کے اجتہادی، علمی اور تحریکی کارنامے تاریخ میں تو جگہ پانے کے لائق ہیں ہی ساتھ ہی ایسی عظیم ہستیاں بھی یہاں ہر دور میں موجود رہی ہیں جنہوں نے نسل انسانی کی وراثت کو اپنے اسلاف سے حاصل کرکے اسے نئے اور مزید بالیدہ شعور کے ساتھ آنے والی نسلوں کے سپرد کیا ہے۔”تاریخ کوردو ڈیہ“جلد اول ڈاکٹر ارشد جمیل کی تازہ ضخیم کتاب ہے جس میں کوروڈیہ کے ۸۴۳ اشخاص کو ان کے ناموں کی سرخی کے ساتھ مختلف عناوین کے تحت جگہ دی گئی ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جن کے نقوش پا تاریخ میں اجتماعی جدو جہد کے لیے نظر آتے ہیں اور ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے انسانیت کی اعلی قدروں کی حفاظت کی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کا ان کا امین ومحافظ بنایا ہے۔
کتاب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ موضع کوروڈیہ ایک قدیم بستی ہے جو عہد اسلامیہ میں عصمت اللہ پور کے نام سے جانی جاتی تھی اور جس کے آثار وباقیات اب بھی اس مقام پر پائے جاتے ہیں جو ”ڈیہ“ کے نام سے موسوم موجودہ آبادی سے متصل تقریبا سو بیگھ کی غیر آبادیا ویران اراضی پر مشتمل ہے جس”کی باقیات میں عہد مغلیہ کے سکے، پختہ مکان کی بنیادیں، ایک عدد پختہ کنواں، تالاب پر پختہ گھاٹ بطور آثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔ ایک پختہ عمارت کی شکستہ دیواریںاب بھی اس کی عظمت رفتہ کی گواہ ہیں۔ مختلف قسم کے آلات، ظروف اور دیگر آثار بھی وقتا فوقتا دستیاب ہوئے ہیں۔ “ شاہ عالم بادشاہ ثانی کے عہد کے سکہ کو خود مصنف نے بھی دیکھا ہے۔ اس بستی کی عظمت ، قدامت اور تاریخی حیثیت اس سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ اس بستی کی ایک معزز شخصیت قاضی نعیم اللہ شاہ عالم بادشاہ ثانی (۶۰۸۱ء۔۹۵۷۱) کے عہدمیںعہدہ قضاءپر مامور تھے اور ان کے خاندان کے کئی افرادمثلا قاضی صبیح اللہ، قاضی فتح اللہ اور قاضی حبیب اللہ وغیرہ اس عہدہ پر مامور ہوتے رہے تھے۔ اسی خاندان کی ایک اہم شخصیت مولانا محمد یونس کی تھی جنہوں نے ابھی حال ہی ۰۳ جون ۰۱۰۲ئ میں وفات پائی ہے ۔ مولانا موصوف کے پاس اس زمانے کی مہریں بھی موجود تھےں۔ دوسری شخصیت مرزا عبد اللہ بیگ کی تھی جو عہد مغلیہ کے آخری دور میں کہیں صوبہ دار تھے، ان کو سبک دوشی پر جاگیر میں تین سو بیگھ زمین عطا ہوئی جس میں ۴۴۱ بیگھ زمین کورد ڈیہ میں تھی۔
اس کے علاوہ اس بستی کی تاریخی اہمیت کا سب سے سنہرا باب اس کا قومی وملی اور تعلیمی تحریکو ں میں حصہ ہے۔ یہ علاقہ معاشی طور پر کسی طورسے ہمیشہ خوش حال رہا ہے ۔ اس لیے ابتدا سے ہی تعلیم کی طرف توجہ رہی ہے۔ اس گاو ¿ں کے بیشتر افراد تعلیم یافتہ ہیں۔ ابتدا سے تعلیمی رجحان مذہبی رہا ہے۔ لہذا اہالیان بستی کا دارالعلوم دیوبند سے تعلیم کے تعلق سے ایک قدیم رشتہ ملتا ہے۔ اسی رشتہ کی وجہ سے جہد آزادی میں بھی ان کی شرکت رہی ہے۔ چنانچہ مصنف علماءدیوبند خصوصا شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے ضمنا ذکر کے بعد لکھتے ہیں ”آپ کی ذات سے بھاگلپور کا یہ مشرقی علاقہ جمعیة العلما ءاور کانگریس کا ایک گڑھ بن گیا او ریہ علاقہ متحدہ قومیت اور وطنی وحدت کا حامی رہا۔ اس علاقے نے دو قومی نظریہ کی کبھی حمایت نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر اس علاقے سے ہجرت کے نام پر کوئی آبادی منتقل نہیں ہوئی ۔“ جد وجہد آزادی کے ساتھ ساتھ دارالعلوم دیوبند سے اس علاقہ کے فیضیاب طلبہ نے تعلیمی سرگرمیوں کو بھی اتنا تیز رکھا کہ علاقہ کی ہر بستی میں اچھے اچھے اداروں کو قیام عمل میں آیا جنہوں نے اپنے عمدہ نظام تعلیم وتربیت کی وجہ سے اپنی منفرد پہچان بنائی ۔ اور ان میں پڑھنے والے طلبہ نے اپنے اپنے وقتوں میں قوم وملت کی عظیم خدمات انجام دیں۔ انہی خدمات کا صلہ ہے کہ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ، مولانا محمد سہول عثمانیؒ، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہویؒ، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ،مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ، مولانا سید اسعد مدنیؒ ، مولانا خلیل احمدؒ اور مولانا اشفاق احمد جیسی ہندوستان کی متبرک شخصیتوںنے اپنے قدوم میمنت لزوم سے اس بستی کو زینت ووقار بخشا ہے۔ ان اداروں میں اعلی تعلیم کا انتظام تھا۔ جن میں اپنے فن کے ماہر اور طاق علماءمسند درس پر فائز تھے ۔ خود مصنف نے عالم تک کی تعلیم ان ہی مقامی اداروں میں حاصل کی ہے۔
بہر کیف یہ کتاب کورو ڈیہ کے ساتھ ساتھ اس علاقہ کے دوسری بستیوں کے بارے میں تاریخی معلومات فراہم کرتی ہے ۔ جیساکہ مصنف نے خود لکھا ہے ”تاریخ کورو ڈیہہ“ محض ایک علامت ہے ورنہ علاقے کی ہر ایک بستی مستقل اپنی تاریخ رکھتی ہے۔“
مصنف کا آبائی مکان کورو ڈیہ ہے ۔اور انہوں نے فاضل سے یونیورسٹی تک کی تعلیم پٹنہ ہی میں حاصل کی اور اس کے دو تین سالوں کی ملازمت کے بعدتقریبا ۰۳ سالوں سے بحیثیت ریڈریونیورسٹی شعبہ اردو للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ میں ملازمت کررہے ہیں۔گو کہ یہ کتاب کورو ڈیہ کی تاریخ بیان کرنے کے لیے لکھی گئی ہے لیکن اس کتاب کا سب سے اہم اور دلچسپ باب ”داستاں میری“ ہے ۔ اس باب میں مصنف نے اپنے احوال وکوائف کے ساتھ ان اداروں کے تذکرے جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی، اساتذہ کے حالات اور اپنی ملازمت کے عہد کے دربھنگہ کے حالات کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ یہ کتاب اس حیثیت سے بھی بہت دلچسپ ہے کہ ان کے دور طالب علمی کے پٹنہ اور اس وقت کی علمی شخصیات کے بارے میں وافر معلومات حاصل کرنے باوثوق ذریعہ ہے۔ خاص طور پر وہاں کے ادارے مثلا بہار مدرسہ بورڈ کے حالات تشکیل کے وقت سے تاحال تاریخی حیثیت سے جاننے کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدرسہ بورڈ سے مصنف کانہ صرف بہت قدیم تعلق ہے بلکہ آج کا بہار مدرسہ بورڈ مصنف اور ان کے رفقاءکی جدو جہد کاہی ثمرہ ہے۔ خود مصنف اظہار عالم (آئی پی ایس) رضوان الحق ندوی کے بعد اولڈ بوائز ایسو سیئشن کا سکریڑی رہے ہیں۔ ساتھ ہی مدرسہ شمس الہدی پٹنہ، عربک اورپرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، اور پٹنہ یونیورسٹی کے بارے میں جو معلومات فراہم کی گئی ہے وہ بھی استنادی حیثیت رکھتی ہیں۔یہ کتاب مصنف کے رفقا کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتی ہے جو اعلی عہدوں پر فائز ہوئے ہیں اور روشن علمی وادبی کارنامے بھی ان سے منسوب ہیں ۔
پٹنہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اساتذہ کے بارے میں معلومات اور تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ گرچہ یہ شخصیتیں انتہائی معروف اور مستند ہیں اور ان کے بارے میں دوسری کتابوں میں معلومات ملتی ہیں لیکن اس کتاب میں بیان شدہ معلومات کا تعلق مصنف سے ذاتی ہے اور اس میں دوسرے شریک نہیں ہیں اس لیے بہت سی باتیںدوسری تحریروں میں نہیں آسکی ہیں ۔ اس باعث ان شخصیتوں کے افکار وخیالات کو جاننے کا یہ ایک اہم ذریعہ ہے۔
اسی باب میں انہوں اپنے عہد ملازمت کے دربھنگہ کا ذکر کیا ہے ۔ اس میں دربھنگہ اور دربھنگہ میں قیام پذیر پچاس سے زائد شخصیتوں کے حالات ، دربھنگہ کے اقلیتی ادارے ، دربھنگہ سے نکلنے والے رسائل وجرائد کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔افراد واشخاص کے ذکر میں مصنف نے کسی تعصب سے کام نہیں لیا اور جس سے جس طرح متاثر ہوئے ہیں بالکل اسی طرح بیان کردیا ہے۔ دربھنگہ سے مصنف کا لگاو ¿ انتہائی گہرا ہے اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے دربھنگہ علم وادب دوست شاعر شاداں فاروقی کے سانحہ ارتحال پر اظہار تاسف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”آپ کی موت نے اس شہر نگاراں کو ایسا کم مایہ کردیا کہ کہیں نظر نہیں ٹھہرتی“۔ دربھنگہ ہی کے ذکر کے ساتھ انہوں نے ایسی علمی وادبی شخصیات کا ذکر بھی کیا ہے جن کا تعلق دربھنگہ سے نہیں رہا ہے لیکن چونکہ ان کے عہد ملازمت میں ان سے مصنف کے تعلقات استوار ہوئے یا ملاقات ہوئی یا ان کا انتقال ہو اجن سے مصنف متاثر ہوئے ۔ ایسا لگتا ہے کہ بعض واقعات اور شخصیات سے متعلق انہوں نے اپنی یاد داشتیں شامل کی ہیں جنہوں نے انہیں متاثر کیا ہے۔ یہ حصہ بھی بہر حال معلومات کے اعتبار سے انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے دربھنگہ کا ذکر کرتے ہوئے ۷۸۹۱ اور ۴۰۰۲ کے سیلاب بلاخیز اور ان کی تباہیوں کا ذکر بھی تفصیل سے کیا ہے۔ ایسے واقعات اپنے وقت میں اخبارات میں نمایاں ہو کر شائع ہوتے ہیں لیکن جلد ہی بھلادیئے جاتے ہیں۔ کتاب میں اس کا ذکر آنے والوں وقتوں میں ان حالات کے جاننے کے لیے یقینا اہم ہوگا۔
جب اس کتاب پر ایک نظر ڈالی جاتی ہے تو سب سے پہلے کوروڈیہ کی سوسالہ قدیم تاریخی مسجد کے اندر اور باہر کا منظر پیش کرتی ہوئی تصویریں ہیں۔ یہ تصویرں بتاتی ہیں کہ مسجد فن تعمیر کے اعتبار سے بڑی خوبصورت اور قدیم فن کا نمونہ ہے۔اس کے بعد مصنف کے استاد پروفیسر مطیع الرحمن کے ہاتھوں سے تیار شدہ اس کا علاقہ نقشہ دیا گیا ہے۔اس کے بعد مصنف کا پیش لفظ ہے ۔ مقدمہ پروفیسر لطف الرحمن نے لکھا ہے اور ”یادوں کی جستجو کا سلسلہ “کے عنوان سے جناب حقانی القاسمی کی لکھی ہوئی تقریظ ہے۔ پھر ”یادوں کے چراغ “کے عنوان سے گاو ¿ں کی ۱۴ اہم رفتگاں شخصیات کے بارے میں تاثرات ہیں ۔ ”ذکر ہم نفساں“ کے تحت گاو ¿ں کے موجودہ ۰۷علما کے احوال وآثار دیئے گئے ہیں ۔ اس کے بعد کا باب” داستاں میری “ ہے جس میں مصنف اور ان سے متعلق مقامات، حالات واقعات اور شخصیات کا تذکرہ ہے۔ ”کاروان شوق “کے تحت ابجدی ترتیب میں گاو ¿ں کے ۷۱۱حفاظ کے نام مع ولدیت گنائے گئے ہیں۔” حجاج کرام “ کے تحت گاو ¿ں کے ۰۲۱ مرد وخواتین حجاج کے نام مع ولدیت یا شوہر کے نام کے ساتھ پہلے ، دوسرے اور تیسرے حج کے سنین اور سنہ وفات کے ساتھ گنائے گئے ہیں۔ پھر” سرچشمہ ¿ ہدایت “کے تحت بشمول بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ، مولانا مظہرالحق عربی وفارسی یونیورسٹی اور عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پٹنہ کے علاوہ ہ بہار اور بہار سے باہر دارالعلوم دیوبند اور ندوة العلماءلکھنو ¿ جیسے گیارہ مدارس کے بارے میں واقفیت فراہم کی گئی جن سے اس گاو ¿ں کے لوگوں نے اکتساب فیض کیا ہے۔ بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی کو مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے تحت رکھا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہار مدرسہ بورڈ اور MMAPUکی حیثیت مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے ذکر کے بغیر نہیں ہوسکتی ہے۔ دراصل ان کا قیام شمس الہدی کی تعلیمی سرگرمیوں کا ہی حصہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کتاب میں علاقے کے جن مدارس کا ذکر ہوا ہے انہیں دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ بہار مدرسہ بورڈ کے حالات کے ذکر میں بورڈ کی تشکیل کے وقت بہار گزٹ کے جاری کردہ نوٹیفیکیشنوں کے عکس بھی دیئے گئے ہیں۔ اسی میں مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے ۵اور عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے۰۱ نامور اساتذہ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد” کورد ڈیہ ۔ جلوہ گاہ عارفاں“ کے تحت ۹ علماءربانیین کا تذکرہ ہے جنہوں نے اس گاو ¿ں کا مختلف اوقات میں معائنہ مشاہدہ کیا ہے۔ ”نقشہائے دگر“ کے تحت بعض علمی وادبی اور سیاسی شخصیتوں کے خطوط اور دوسری تحریروں کے عکس ہیں جن میں ایک استقبالیہ نظم بھی شامل ہے۔ ان خطوط میں سے بعض خود مصنف کے نام ہیں تو بعض دوسری شخصیتوں کے۔ بعض خطوط مدرسہ بورڈ کی سرگرمیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی باب کے آخر میں ڈاکٹر رضوان الحق ندوی کی تحریر ہے جو مصنف کی دختر کی شادی کے موقع سے اس گاو ¿ں کا سفر نامہ ہے۔یہ تحریر اس گاو ¿ں کے تہذیبی رکھ رکھاو ¿ اور آپسی لگاو ¿ کو سمجھنے کے لیے بڑا اہم ہے۔ اس کتاب کا ایک اہم ”باب رشتوں کی تلاش“ ہے۔ اس وقت جب کہ انساب کی اہمیت ختم ہوتی جارہی مصنف نے اپنے گاو ¿ں کے شجرے جو آٹھ خاندانوں پر مشتمل ہے ،بڑی محنت سے ترتیب دیئے ہیں بعض خاندان کے شجرے ۷ حصوں میں بیان ہوئے ہیں۔ علم الانساب کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو عالمی اخوت پیدا کرنے کے لیے اس کی افادیت مسلم ہے۔ اور اخیر میں ڈاکٹر عبد المنان طرزی اور ڈاکٹر منصور عمر کے تاریخی قطعات ہیں۔
جیساکہ اوپر ذکر ہوا یہ کتاب موضع کوروڈیہ کی تاریخ ہے اور بقول مصنف کہ تاریخ کوروڈیہ تو ایک علامت ہے ورنہ یہ کورو ڈیہ کے پورے مضافات کے بارے میں معلومات کا خزانہ ہے۔ اسی طرح داستاں میری میں انہوں نے اپنے حالات بیان کرنے کا التزام کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے اس میں مصنف کا تذکرہ واقعات کے تاروں کو ملانے کے لیے ہی کیا گیا ہے۔ اگر ان کی شخصیت کو نکال دیا جائے تب بھی یہ کتاب یاد داشتوں یا ایک تذکرہ کی شکل میں مکمل ہوسکتی ہے۔ کہیں بھی مصنف نے اپنی ذات کو فوکس نہیں کیا ہے۔
جہاں تک اس کتاب کے تاریخی ہونے کی بات ہے تو اس کی حیثیت اس طرح تاریخی ہے کہ اس میں بیان ہونے والے واقعات وحقائق تاریخی اور مستند ہیں ۔ ورنہ یہ کتاب تذکرہ ہے جس میں ان کے دور طالب علمی کا پٹنہ اور دور ملازمت کے دربھنگہ کے اہم اداروں اور شخصیتوں کا ذکر کہیں تفصیل سے تو کہیں اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور پر اس میں مدرسہ شمس الہدی ، بہار مدرسہ بورڈ ، مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی اور عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، پٹنہ کے بارے انتہائی معلوماتی اور مستند دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر قومی وملی تحریک میں ضلع بھاگلپور کے حصہ کا جائزہ لیا جائے تو جنوبی مشرقی بھاگلپور کے علاقہ کی سرگرمی جاننے کے لیے یہی کتاب ایک واحد ذریعہ ہوگا۔
واقعی مصنف نے یہ کتاب لکھ کر اپنے اسلاف کی خدمات کو محفوظ کردیا ہے۔ مصنف نے یہ کتاب اسی لیے لکھی ہے کہ ”موجودہ نسل اپنے ماضی اور اپنے بزرگوں کی خدمات سے دور ہوتی جارہی ہے۔“ مصنف کا خیال ہے کہ ”قومیں اپنے ماضی سے زندہ رہتی ہیں جن کا کوئی ماضی نہیں تاریخ اس کو فراموش کردیتی ہے۔ ”تاریخ کوروڈیہ“ کھوئے ہوو ¿ں کی جستجو اور یادوں کی بازیافت کا ایک سلسلہ ہے۔“
No comments:
Post a Comment