Friday, 1 February 2013

دیش/بدیش



فوج کے منحرف اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ

دبئی ۔ ایجنسی
Ø    شام میں بشار الاسد حکومت کے خلاف سرگرم جیش الحر میں سرکاری فوج کے منحرف اہلکاروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے تاہم حال ہی میں بشار الاسد کے خلاف نبرد آزما جیش الحر کی صفوں میں منفرد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ اضافہ ایک شامی جنرل کی صاحبزادی کی شکل میں ہے کہ جو اپنے والد سے ملنے والی فوجی تربیت کو انہی کی زیر کمان لڑنے والی سرکاری فوج کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی میں استعمال کر رہی ہیں۔العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق تیس سالہ امیرہ العرعور حلب میں جیش الحر بریگیڈ میں سیکنڈ ان کمان ہیں۔ اس حیثیت میں وہ فوجی کارروائیوں کے لئے احکامات جاری کر رہی ہے۔ امیرہ کے والد شامی فوج میں جنرل تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو بچن سے ہی فوجی تربیت دینا شروع کر دی تھی۔ امیرہ العرعور اپنے والد کے ہمراہ فوجی تربیتی کیمپوں میں جایا کرتی تھیں۔ گولا بارود پھینکنے میں وہ اپنے والد کی مدد کیا کرتی تھیں۔جیش الحر پر اسلام پسندوں کے ممکنہ کنٹرول کے بعد اس سپاہ کی صفوں میں خواتین کی شرکت کے امکانات معدوم ہو چلے تھے، لیکن امیرہ العرعور کی بطور ڈپٹی بریگیڈ کمانڈر تقرری سے ایسے خدشات دم توڑ رہے ہیں۔ امیرہ کی اہم اسٹرٹیجک کمان پوسٹ پر تعیناتی کی پہلے بہت زیادہ مخالفت کی گئی، تاہم نوجوان خاتون کمانڈر نے ماہر پیشہ ور فوجیوں سے اپنی اہلیت کا لوہا جلد ہی منوا لیا۔امیرہ العرعور نے حلب میں جیش الحر کی بریگیڈ کمانڈر کے طور پر اپنی تقرری کے حوالے سے کہا کہ یہ پھولوں کی سیج نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرد فوجیوں کو جب میری ملک سے محبت کا یقین ہونے لگا تو انہوں نے ایک خاتون کمانڈر کے احکامات ماننے میں ہچکچاہٹ ختم ہوتی گئی۔
ملک میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران اور ملک کے پیچیدہ سیاسی منظر نامے نے شامی عورت کے سیاسی معاملات میں کردار کو نمایاں کیا کیونکہ وہ بھی ملک میں خونریزی رکوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی تھیں۔اس سے قبل بھی متعدد شامی خواتین جیش الحر میں فائٹر کے طور پر شامل ہو چکی تھیں۔ ان میں ثوبیہ کنفانی نامی خاتون وطن کی محبت میں کینیڈا کی پرآئش زندگی چھوڑ کر میدان جنگ کی سختیاں جھیلنے آئیں۔ انہوں نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو میں جیش الحر کی فائٹر خواتین میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ شامی خواتین کی بڑی تعداد ملک کے مخلتف محاذوں پر جیش الحر کے فوجیوں کو لاجسٹک مددفراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔
جوتا جمع کرنے کا عالمی ریکارڈ
واشنگٹن…این جی ٹی… امریکی شہر واشنگٹن میں شہریوں نے مل کر 16ہزار 4سو 7 جوتے جمع کرکے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔اس عالمی کارنامے کو سر انجام دینے کیلئے امریکہ بھر سے بچوں اور بڑوں نے جوتوں کی 16ہزار 4سوسے زائد جو ڑیوں کو جمع کرکے ایک کھلے میدان میں ترتیب سے رکھ کر جوتوں کے سمندر میں تبدیل کر دیا۔گینز ریکارڈ کی انتظامیہ نے آکر ان جو توں کی جوڑیوں کو ایک ایک کر کے گنا اور ورلڈریکارڈ بکس میں شامل کر لیا ہے ۔


بغداد میں دھماکہ 22ہلاک
بغداد۔،ایجنسیاں
عراق کے دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع قصبے تاجی میں ایک خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں بائیس افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بغداد سے پچیس کلومیٹر دور واقع قصبے تاجی میں سوموار کو ایک خودکش بمبار نے القاعدہ مخالف ملیشیا صحوہ کے ارکان کو نشانہ بنایا ہے۔وہ ایک دفتر کے باہر اپنی تن خواہیں لینے کے لیے قطار میں کھڑے تھے کہ اس دوران بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔
بغداد کے کاظمیہ اسپتال کے عملے نے بم دھماکے میں بائیس افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر صحوہ ملیشیا کے ارکان ہیں اور ان میں دو فوجی بھی شامل ہیں۔بم حملے میں آٹھ فوجیوں سمیت چوالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔
تاجی میں یہ بم دھماکا شمالی شہر کرکوک میں پولیس ہیڈکوارٹرز پر خودکش بم حملے کے ایک روز بعد ہوا ہے۔اس حملے میں پینتیس افراد ہلاک اور کم سے کم نوے زخمی ہوگئے تھے۔ سوموار کی رات کرکوک میں تشدد کے ایک اور واقعہ میں مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے چار افراد کو ہلاک کردیا۔
درایں اثناء بغداد کے مغربی علاقے جہاد میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں پولیس کا ایک لیفٹیننٹ ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوگئے۔فوری طور پر کسی گروپ نے عراق میں ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن عراقی حکام نے القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیم'' ریاست اسلامی عراق'' پر ان حملوں کا الزام عاید کیا ہے۔
واضح رہے کہ جنوری میں عراق میں بم دھماکوں، خودکش بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں دوسو چھیالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔گذشتہ سال ستمبر کے بعد ایک ماہ میں عراق میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔

لندن۔ ،ایجنسیاں

طالبان سے مذاکرات کے سلسلے رہنمائوں کا اتحاد

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور ان کے افغان ہم منصب حامد کرزئی نے لندن میں سہ فریقی مذاکرات کے بعد اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ چھے ماہ کے اندر افغانستان میں امن سمجھوتے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی میزبانی میں دونوں صدور نے سوموار کو لندن میں سہ فریقی مذاکرات میں افغان طالبان کے لیے قطر میں ایک رابطہ دفتر کھولنے سے بھی اتفاق کیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی ،پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون۔برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''تمام فریقوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ آیندہ چھے ماہ میں امن سمجھوتے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے''۔ تینوں لیڈروں نے طالبان پر زوردیا کہ وہ ایک دفتر کھولنے اور مذاکرات کے آغازکے لیے ضروری اقدامات کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ''صدر کرزئی ،صدر زرداری اور وزیراعظم کیمرون نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ طالبان اور افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے درمیان مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے دوحہ میں ایک دفتر کھولنے کی حمایت کرتے ہیں''۔
لندن کے نواح میں برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر ہونے والے ان مذاکرات میں مسلح افواج اور انٹیلی جنس کے سربراہوں نے بھی شرکت کی ہے اور ان کا بڑا مقصد 2014ء میں افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
برطانوی حکومت کی ایک خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ ''اس سہ فریقی عمل سے طالبان کو واضح پیغام جائے گا کہ وہ اب ہرکسی کے لیے موقع ہے کہ وہ افغانستان میں پرامن سیاسی عمل میں شرکت کرے''
۔

سہ روزہ بین الاقوامی ورکشا پ
رامپور(ایجنسی) رضا لائبریری کے کانفرنس ہال خیابان رضا میں سہ روزہ بین الاقوامی پرکشاپ بعنوان”مخطوطہ شناسی ، فہرست سازی اور تحفظ “سیمنار کا افتتاح شمع روشن کرکے ڈاکٹر انیس انصاری وائس چانسلر خواجہ معین الدین چشتی اردو، عربی، فارسی یونیورسٹی لکھنو ¿ نے کیا افتتاحی تقریب کا آغاز ڈاکٹر سید انوار الحسن نے کلام ربانی سے کیا اور سید نوید قیصر شاہ نے بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر رضالائبریری پروفیسر سید محمد عزیزالدین حسین ہمدانی نے کہا کہ ایک ساتھ تین موضوعات پر ابھی تک ہندوستان میں کہیں بھی اس نوعیت کا سیمنار نہیں ہواہے ۔ اس لئے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ مخطوطات کی حفاظت کی ذمہ داری کسی ایک فرد پرعائد نہیں ہوتی ہے ۔ بلکہ ہر شخص اس کے تحفظ کا ذمہ دارہے۔ انہوںنے کہا سب سے زیادہ سعودیہ عربیہ میں مخطوطات کے ذخیرے موجود ہیں۔ زمانہ کے بدلتے مخطوط کو بھی بیماریاں لگتی ہیں اور وہ بھی بوسیدہ ہوجاتے ہیں اسی لےے اس کے رکھ رکھاو ¿ اور اس کی حفاظت کے جدید طریقے بھی رائج کےے جاتے ہیں۔ ڈائریکٹر عزیزالدین نے کہا کہ ایران میں چا رمنزلہ لیب صرف اس کام کے لئے گئی ہے کہ مخطوطات کا تحفظ کیاجاسکے انہوںنے یہ بھی کہا کہ رامپور کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ رضا لائبریری میں اپنی نوعیت کی بہترین لیبارٹی صرف مخطوط کی حفاظت کے لئے بنائی گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بوسید ہ مخطوطات کو نئی زندگی دینے کے لئے قسم قسم کے آلات مہیا کےے جاتے ہیںانہوںنے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ حیدرآباد ،لکھنو ¿ اور رامپور کے نوابین کے ذریعہ ہزاروں کی تعداد میں مخطوطات موجود ہیں جن کی حفاظت اب ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ اپنے صدارتی خطبہ میں ڈاکٹر انیس انصاری(IAS)نے کہا کہ مخطوط ہمارا قومی سرمایہ ہیں جس کے تحفظ کی ذمہ داری ہمارے اوپر لازم ہے۔ انہوںنے کہا کہ مخطوط پر دنیا میں بہت کام ہواہے لیکن ابھی بھی اتنا کام نہیں ہواہے جتنا کہ ہونا چاہےے۔ اس کا حق ادا کرنے کے لئے ہمیں اپنے کچھ ذاتی وقت نکالنے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے اس بات کو بھی واضح کیا کہ مخطوط کا دوسری زبانوں میں ترجمہ ابھی تک نہیں ہوپایا ہے جس کی وقت کو بہت ضرورت ہے ۔واضح رہے کہ رضا لائبریری کے علاوہ بعض دیگر اداروں نے بھی اپنے ذخائر مخطوطات کی جامع فہرست شائع کی ہے وہیں رضا لائبریری نے عربی، فارسی اور اردو مخطوطات کی تقریباً نو جلدیں شائع کی ہیںاور مخطوطات کی جامع فہرست شائع کرنے کے منصوبہ کے تحت یہاں مسلسل فہرست سازی کی خدمات انجام دی جارہی ہیں۔ اس سیمنار میں رامپور کے علاوہ ملک کے مختلف مقامات اور ایران وعراق وغیرہ ممالک کے بھی نمائندے شرکت کررہے ہیں۔ سیمنار کے کوآرڈینٹیر ارون کمار سکسینہ نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔

No comments:

Post a Comment