رہتي دنيا تك حق وباطل اور امت محمديہ كےگروہ اور يہود ونصاري اور مجوسيوں اوربت پرستوں وغيرہ كا معركہ رہتي دنيا تك ہميشہ رہےگا، اور اہل حق تنگي اورتكليفوں كےباوجود حق پر قائم رہيں گے، يہ سب كچھ سنن كونيہ جو كہ مقدر كي ہوئي اور لكھي جاچكي ہيں ميں سےہے.
اس كا معني يہ نہيں كہ اپنےآپ كو ان كےسپرد كرديا جائےاور گمراہوں كےراستےپر چلنا شروع ہوجائيں، كيونكہ ہميں يہ خبر دي چكي ہے كہ ايسا ضرور ہوگا اسي ليےہميں اس راستےپر چلنےسے ڈرايا گيا اور اسي ليے دين اسلام پر ثابت قدم رہنےكي تلقين كي گئي چاہے گمراہ لوگوں كي جتني بھي كثرت ہوجائے، اور صراط مستقيم سے منحرف لوگ جتني بھي طاقت حاصل كر كےقوي ہوجائيں.
ہميں يہ بتايا جاچكا ہے كہ سعادت مند اورخوشبخت شخص وہ ہے جو حق سےروكنےوالي جتني بھي اشياء ہوں ان سب كےباوجود حق پر ثابت قدم رہے اور استقامت اختيار كرے، ايسے دور ميں جس ميں صحيح عمل كرنے والے كو صحابہ كرام كي مثل پچاس آدميوں كےعمل كا اجروثواب حاصل ہوگا جيسا كہ صحيح حديث ميں ابوثعلبہ خشني رضي اللہ تعالي عنہ نے نبي صلي اللہ عليہ وسلم سےبيان كيا ہے.
اورامت محمديہ ميں كچھ ايسےلوگ بھي ہونگےجو حق سےانحراف كر كے باطل كو صحيح كہيں گےاور دين ميں تغير وتبدل كر كےبدعات كي ايجاد كرليں گے، توايسے لوگوں كي سزا يہ ہے كہ انہيں حوض كوثر سے دور ہٹا ديا جائےگا اوراس كےقريب بھي نہيں پھٹكنےديا جائےگا، جب نيك اور صالح اور استقامت اختيار كرنےوالےلوگ حوض كوثر پر آكر پاني پيئيں گے تو يہ بدعتي بھي وہاں آنےكي كوشش كرينگے ليكن انہيں وہاں سےبھگا ديا جائےگا جيسا كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
( ميں حوض پر تمہارا انتظار كرونگا، اور ميري جانب كچھ لوگ لائے جائيں گے حتي كہ جب ميں ان كي جانب متوجہ ہو كرانہيں دينا چاہوں گا تو ميرے اوران كےمابين ركاوٹ حائل كردي جائےگي تو ميں كہوں گا اے ميرے رب يہ ميرے ساتھي ہيں، تو مجھےكہا جائےگا: آپ كو علم نہيں كہ آپ كےبعد انہوں نےكيا بدعات ايجاد كرليں تھيں )
اور ايك روايت ميں ہےكہ " ميں كہوں گا: جس نےميرے بعد تبديلي كردي اس كےليے دوري ہے.
محمد صلي اللہ عليہ وسلم كےدين ميں تغيروتبدل اور نكارت كا سب سے بڑا مظہر اللہ تعالي كےدشمنوں كي ہر چھوٹے اور بڑے معاملے ميں ترقي اور حضارۃ جيسےناموں كےساتھ ان كي تقليد اور ان كي پيروي كرنا ہے، اور اس كے علاوہ امن وسلامتي سےزندگي بسر كرنا، اور انساني بھائي چارہ اور نئے ورلڈ آرڈر اور عالميت اور كونيت جيسے دھوكہ اور فراڈ پر مبني نعروں كےتحت ان پر عمل كرتےہوئےكفار كي تقليد وپيروي دين ميں تغير وتبدل كا سب سے بڑا مظہر ہے.
اورايك غيرمند مسلمان اس خطرناك بيماري كو امت كےاكثرلوگوں ميں ديكھتا ہے الا وہ شخص اس بيماري سے بچا ہے جس پر اللہ كا رحم ہوا، حتي كہ لوگوں نے ان كےديني شعائر ميں بھي ان كي تقليد اور پيروي كرني شروع كردي ہے، اور خاص كران كي عادات اپناني شروع كرديں ہيں مثلا ان كے تہوار جو كہ من جملہ طريقوں اور منہج ودستور ميں شامل ہيں انہيں اپناليا ہے حالانكہ اللہ تعالي كا فرمان ہے:
{اس حق سےہٹ كر ان كي خواہشوں كےپيچھے نہ جايئے تم ميں سےہر ايك كےلئے ہم نے ايك دستور اور راہ مقرر كردي ہے} المائدۃ ( 48 )
{ہرامت كےليےہم نے عبادت كا ايك طريقہ مقرر كرديا ہے جسے وہ بجا لانے والےہيں} الحج ( 67 ) . يعني ان كےخاص كر ان كےتہوار ہيں.
اورجبكہ بہت سےمسلمان اللہ تعالي كےدشمنوں كے كھوٹےاور ردي مال كي چكاچوند چمك كےدھوكہ ميں آچكےہيں، اور خاص كرنصاري كےبڑے بڑے تہواروں جيسا كہ ميلاد مسيح عليہ السلام جسے كرسمس كہا جاتا ہے اوراسي طرح سال نوكےموقع پرمنايا جانےوالا تہوارمسلمان ان كےممالك ميں ان كے ساتھ ان تہواروں ميں شركت كرتےہيں، بلكہ اس وقت تو بعض نےان تہواروں كو مسلمان ممالك ميں بھي منتقل كرديا ہے- اللہ تعالي اس سےبچائے - بہت بڑي مصيبت اور عظيم آزمائش يہ ہے كہ اس وقت عالمي طور پر جو اور خاص كر عيسائي ممالك ميں سن دو ہزار كےاختتام اور تين ہزارميلادي ميں داخل ہونے كا جشن منانے كي تيارياں جاري ہيں، جبكہ ہرميلادي سال كےآخر ميں بھي زمين ان جشنوں سےلرز رہي ہوتي ہے تو بيسويں صدي كےاختتام كا جشن كيسا ہوگا؟ اس وقت عيسائي امت اس جشن كےليے بہت عظيم تياري ميں لگي ہوئي ہےجو كہ اس كےمناسب ہو.
يہ عيسائي جشن صرف عادت كےمطابق سال نو كي رات والا جشن ہي نہيں ہوگا جيسا كہ عيسائي ممالك اور ان كےديني قبلہ ويٹيگن ميں ہوتا ہے تياري اس كي ہورہي ہے كہ مركزي جشن بيت لحم جو كہ مولد مسيح عليہ الصلاۃ والسلام ہے ميں منايا جائے، تو اس طرح عيسائيوں كےسياسي اور ديني ليڈر جن ميں انجيلي بھي ہونگےاور علماني بھي جواس جشن كو جلا عالمي طور پر ميڈيا ميں جلا بخشيں گے، اور جوں جوں وقت قريب آرہا ہے عالمي صحافت ميں ہر دن نئے سرے سے بحث كي جاتي ہے، اور توقع كي جارہي ہے كہ بيت لحم ميں تين ملين سےزيادہ افراد اكٹھےہونگےجن كي قيادت پوپ جان پال ثاني كرےگا، اور اس عالمي جشن ميں قرب وجوار كےاسلامي ممالك بھي اس اعتبار سےشركت كرينگےكہ عيسائي تہوار كےكچھ شعار ان اور مقامات ان كےممالك ميں بھي پائے جاتےہيں جو كہ ميسح عليہ السلام كےبپتسمہ كي جگہ ہے جہاں انہيں ( يوحنا معمدان ( يحيي عليہ السلام ) نے اردن كےدريا ميں بپتسمہ ( عيسائي رسم ہے ) ديا تھا، بلكہ بہت سے مسلمان اس جشن ميں اس اعتبار سےبھي شركت كرينگے كہ يہ عالمي جشن ہے جو روئےزمين پر بسنےوالے سب لوگوں كےلئے اہم ہے.
ان لوگوں كويہ علم نہيں كہ بيسويں صدي كےاختتام كا يہ جشن ايك نصراني تہوار ہے ( مسيح عليہ السلام كي عيد ميلاد كرسمس جو ہرميلادي سال كےآخر ميں منائي جاتي ہے ) اور اس ميں شركت كرني ان كےديني شعار ميں شركت ہے، اور اس سے فرحت وسرور حاصل كرنا كفر كےشعار اوراس كے ظھور اور غلبہ پر خوشي وسرور ہے، اور اس ميں مسلمان كےعقيدہ اور ايمان كو خطرہ ہے اس ليے كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا صحيح حديث ميں فرمان ہے كہ: " جس نے كسي قوم سےمشابہت اختيار كي وہ انہيں ميں سےہے" توپھر وہ شخص جو ان كےديني شعار ميں شركت كرلے اس كا كيا بنےگا؟
اوريہ ہميں حتما اس بات كي دعوت ديتا ہے كہ ہم كفار كےتہواروں حكم جانيں اور اس سلسلہ ميں مسلمان شخص پر كيا ذمہ داري عائد ہوتي ہے، اور ان كي مخالفت كي كيفيت كيا ہوگي جو كہ ہمارے دين حنيف كےاصولوں ميں سے ايك اصول ہے، بلكہ ان كےتہواروں اور شعائر كا تعارف اس مقصد اور ارادے سے ہو كہ ان تہواروں سےاجتناب كيا جائےاور دوسروں كوبھي اس سے بچايا جائے .
ہم پركفار كےتہواروں كا تعارف حاصل كرنا كيوں ضروري ہے؟
يہ بات متفق عليہ ہے كہ مسلمان شخص كےليے كفار كےحالات جاننا كوئي معني نہيں ركھتا، اور نہ ہي ان كےشعار اور عادات كي معرفت اس كےلئےاہم ہے - جب تك وہ انہيں اسلام كي دعوت نہ دينا چاہے - ليكن جب ان كےشعار جاہل قسم كے مسلمانوں ميں سرايت كررہےہوں اور وہ اس ميں قصدا يا بغير قصد كےپڑ رہے اور اس پر عمل كررہے ہوں تواس وقت ان كي معرفت ضروري ہو جاتي ہے تا كہ ان سےاجتناب كيا جاسكے، اس آخري دور ميں اس كي ضرورت بہت زيادہ ہوگئي ہے جس كےاسباب مندرجہ ذيل ہيں:
1 - كفار سے ساتھ كثرت سے ميل جول اور اختلاط چاہے وہ مسلمان كا ان كےملك ميں حصول تعليم كےجانےكي صورت ميں ہو يا پھر سير وسياحت اور تجارت كےلئےيا كسي اور سبب كي بنا پر، توان كےممالك ميں جانے والے يہ لوگ وہاں ان كےكچھ ديني شعار اور كام ديكھتے ہيں توانہيں يہ كام اچھےلگتے ہيں تويہ ان كي پيروي كرنا شروع كرديتےہيں اور خاص كر نفساتي ہزيمت و شكست كےساتھ اور ان كا كفار كو شديد قسم كي پسنديدگي كي نظروں سے ديكھنا ان كےارادہ كو سلب كرليتا ہے اور ان كےدل ميں فساد پيدا ہوتا ہے جس كي بنا پر دل ميں دين كمزور ہوجاتا ہے.
اسي وجہ سے بہت سے مغربي ثفافت كےدلدادہ لوگ كافروں كو ترقي يافتہ اور مھذب يافتہ لوگ كہتےہيں حتي كہ ان كي عادت اور عادتا كيےجانے والےاعمال ميں بھي ترقي يافتہ مانتےہيں، يا پھريہ اس طريقہ سےہوتا ہے كہ ان كےتہواروں كو غيرمسلم افليات اور گروہوں كےذريعہ اسلامي ممالك ميں ظاہر كيا جاتا ہے جس سے جاہل قسم كےمسلمان لوگ متاثر ہوتےہيں .
2 - معاملہ اوربھي خطرناك اس ليےہوگيا ہے كہ وسائل اعلام يعني ميڈيا جو كہ ہر چيز كو تصوير اور آواز كےساتھ روئے زمين ميں ايك جگہ سےدوسري جگہ منتقل كرنے كي قدرت ركھتا ہے، اور اس ميں كوئي شك نہيں كہ كفار كا ميڈيا اپني عادات اور شعار نشر كرنے ميں مسلمانوں كےميڈيا كي بنسبت زيادہ قوي اور طاقتور ہے اس كےبرعكس مسلمان ميڈيا كےپاس كچھ بھي طاقت نہيں اس طرح كہ بہت سے فضائي چينل دوسروں كےتہوار نشر كرنے ميں لگےہوئے ہيں اور خاص كرعيسائيوں كےتہوار نشر كيےجاتےہيں، اور زيادہ خطرناك بات يہ ہے جس سے معاملہ اور زيادہ خطرناكي اختيار كرچكا ہے كہ بعض علماني تنظيموں نےمسلم ممالك ميں كافروں اور بدعتيوں كےبہت سے تہوار اور شعار اور ان كےجشن كو ترويج دي اور انہيں عرب فضائي چينلوں كےذريعہ دنيا كے سامنےپيش كيا تو اس سے مسلمان دھوكہ كھا گئے كيونكہ يہ مسلمان ممالك سے نشر كيے جارہے اور اسلامي ممالك ميں جشن منائے جارہے ہيں .
3 - مسلمانوں كو تاريخ كےساتھ ساتھ اس مشكل كا سامنا رہا ہے كہ بعض مسلمان غيرمسلموں سےميل جول كي بنا پر ان كےشعار سے متاثر ہوئے جن كي بنا پر مسلمان علماء دين كواس بات كي ضرورت پيش آئي كہ وہ عام مسلمانوں كو مسلمانوں كےعلاوہ دوسروں كےتہواروں اور ان كےشعائر كي تقليد كرنے سے اجتناب كرنے كا كہيں اورانہيں اس سےڈرائيں، مثال كے طور پر ان علماء كرام ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ اور ان كےشاگر علامہ ابن قيم اور حافظ ذہبي اور حافظ ابن كثير رحمہم اللہ تعالي شامل ہيں، يہ سب ايك ہي دور ميں رہے جس ميں مسلمانوں كا دوسري قوموں كےساتھ ميل جول بہت زيادہ تھا اور خاص كر عيسائيوں كےساتھ ، توجاہل قسم كےمسلمان لوگ ان كےبعض ديني شعار اور ان كےتہواروں سے متاثر ہوگئے، لھذا ان علماء كرام نے اس مسئلہ كے متعلق اپني تصانيف ميں بہت زيادہ كلام كي اور بعض نے تو اس مسئلہ ميں عليحدہ كتاب تصنيف كردي جيسا كہ ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے اپني كتاب " اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفۃ اصحاب الجحيم " اور حافظ ذہبي رحمہ اللہ تعالي نے " تشبيہ الخسيس باھل الخميس " جيسا رسالہ تصنيف كيا .
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے ان كےتہوار اوران ميں كيے جانے والے اعمال اور جاہل قسم كےمسلمانوں پراس كا اثر اور ان كےتہواروں كي انواع و اقسام اور اس ميں كونسےشعار اپنائےجاتے اور كيا عادات ہوتي ہيں ان سب كا ذكر بہت طوالت كےساتھ كيا ہے ان سب اشياء كي معرفت سے مسلمان مستغني ہے ليكن اگر اسے كسي سبب يعني بہت سے مسلمان كا ان شعار ميں اہل كتاب كي پيروي كرنا كي بنا پر ضرورت پيش آئے تو وہ ان كي معرفت حاصل كرتا سكتا ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي نے ان كےتہوار بيان كيےاور انہوں نےاسے تحذير يعني بچاؤ كےلئےذكر كيا ہے وہ اس ميں بحث كرتے ہوئےكہتےہيں:
ان كےباطل كي تفصيل جاننا ہماري غرض نہيں، ليكن ہميں يہي كافي ہے كہ ہم برائي كواس ليےپہچانے تاكہ برائي اور مباح اور نيكي ميں تميز كي جا سكے، مستحب اور واجب كا علم ہوجائے، حتي كہ اس معرفت كي بنا پر ہم اس سے بچ كر اس سے اجتناب كريں. جيسےہم سب حرام اشياء كو جانتےہيں، جبكہ ہم پر اس كا ترك كرنا فرض ہے، اور جو شخص برائي كو اجمالي اور تفصيلي طور پر نہيں جانتا وہ اس كےاجتناب كا قصد نہيں كرسكتا، اور واجبات كے خلاف اجمالي معرفت ہي كافي ہے، .
ان كا يہ بھي كہنا ہے كہ:
ميں ان كےدين كي منكرات اور بري اشياء اس لئے شمار كي ہيں كہ ميں نےديكھا ہے كہ مسلمانوں كےبعض گروہ اس ميں مبتلا ہوچكےہيں اور ان ميں سے بہت سارے اس سےجاہل ہيں كہ يہ كام نصاري كےدين ميں سےہيں، مجھے ان سب كاموں كا تو علم نہيں جو وہ كرتےہيں بلكہ ميں نےوہ كام ذكر كئےہيں جو بعض مسلمان كرتےہيں اور وہ اصل ميں عيسائيوں سے ليے گئےہيں.
4 - عصرحاضرميں ان كےبعض تہوار بہت بڑے اجتماع ميں بدل چكے ہيں اس كےخصائص وہي پرانےتہوار والے ہيں، اور اس ميں بہت سارے مسلمان بغير كسي علم كےہي شريك ہوجاتےہيں، جيسا كہ كھيلوں كےاولمپك مقابلےہوتےہيں جو كہ اصلا يونانيوں اور پھر روميوں اور پھر عيسائيوں كا تہوار ہے، اور اسي طرح وہ مہرجانات جو خريدوفروخت يا پھر ثقافت وغيرہ كےنام سےمنعقد كئےجاتےہيں حالانكہ اصل ميں مہرجان فارسيوں كا تہوار ہے، اور ان مہرجانوں كا انعقاد كرنےوالے اكثرلوگ اس سےجاہل ہيں.
5 - شر اور برائي كواس ليےجاننا كہ اس سے بچا اوراجتناب كيا جائے، خذيفہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ: لوگ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے خيروبھلائي كےبارہ ميں سوال كيا كرتےتھےاور ميں شروبرائي كے متعلق ان سےاس ڈر كي بنا پر سوال كرتا كہ كہيں مجھے وہ پا نہ لے.
يہ تو ہر ايك كےعلم ميں ہے كہ سب سےعظيم شر اور خطرناك بيماري يہ ہےكہ ايك مسلمان شخص كسي ايسے شعار كا مرتكب ہو جوكفار كےشعار ميں اور ان كي خاص عادات ميں سےہو اور مسلمان اسےجانتا تك نہ ہو حالانكہ ہميں اس سےاجتناب كرنےاوربچنےكا حكم ديا گيا ہے كيونكہ وہ پليدي اور گمراہي ہے.
6 - بہت سے ايسے دعوے اورمنافقت كي آوازوں كي كثرت جو امت مسلمہ كواس كي اصليت سےنكالنا چاہتي اور اس كي شخصيت كا خاتمہ كرنا اور اسے كفار كےمنہج اور طريقہ ميں ڈھالنا چاہتي ہيں، اوراس آوزوں اور دعووں كےبالكل جوتےكے برابر پيروي كرنے والے انسانيت، عالميت، كونيت، اور دوسروں كےساتھ خوش باشي اوراس سے ثقافت كےحصول جيسےكھوكھلےاور غلط نعروں كےتحت اسلامي اقدار كا خاتمہ چاہتےہيں، جس سے حتمي طور پر يہ علم ہوتا ہے كہ دوسرے يعني كافر كےپاس جوگمراہي وضلالت، اور انحراف ہے اسے ننگا كرنےاوراس كي نوسربازي كو ظاہر كرنے اوراس كےخوبصورت پردے جوان قبيح قسم كےدعووں كےصورت ميں ہيں كو چاك كرنےكےليے اسےجاننا ضروري ہوجاتا ہے، تاكہ جو كوئي زندہ رہنا چاہتا ہے تو وہ دليل اور برہان كےساتھ زندہ رہے تاكہ:
{تا كہ جوہلاك ہو دليل پر( يعني يقين جان كر ) ہلاك ہو اور جو زندہ رہے وہ بھي دليل پر ( حق پہچان كر ) زندہ رہے} الانفال ( 42 ).
اور تاكہ محمد صلي اللہ عليہ وسلم كےاتباع وپيروكاروں پر حجت قائم ہو جائے اور وہ دھوكہ اور فراڈ ميں نہ آجائيں.
فرعونوں كےتہوار:
فرعونوں كےتہواروں ميں: باد نسيم سونگھنےكا تہوار، جو كہ ايام كے تقدس كےليےمنايا جاتا ہے ان لوگوں كا قرب اور فال حاصل كرنے كےلئے جو غيراللہ كي عبادت كرتےتھے، شيخ محفوظ نے وہ كچھ ذكركيا ہے جوكچھ ان كےدور ميں فسق وفجوراور ذلت ہوتي رہي ہے، جس سے پيشاني بھي شرم سے جھك جاتي ہے وہ اس طرح كہ كھيت وكھلوان اور خالي جگہيں فاجر وفاسق اور بےحيا لوگوں كي جماعتوں سے اٹ جاتے اور سب بوڑھے بچے اورجوان مرد وعورتيں باغوں اور پاركوں اور نہروں ودرياؤں كي طرف زنا كا ارتكاب كرنےاور شراب نوشي وغيرہ كےلئےكھنچے چلےآتے ان كا گمان تھا كہ اس دن ميں ان كے لئے ہر قسم كي خباثب جائز ہے.
اور اس دن ميں ان كےاوہام ميں يہ بھي تھا كہ: سونے والے شخص كے سر كےنيچے پياز ركھتے اور اسے دروازوں پر يہ گمان كرتےہوئے لٹكاتے كہ اس سے ان كي سستي اور كاہلي اور بدہضمي دور ہوجاتي ہے، فرعونوں كےتہواروں ميں يہ معدود تھا، اور يہ بھي كہا گيا ہے كہ اسے قبطيوں نےايجاد كيا، اس ميں كوئي مانع نہيں كہ يہ دونوں نےہي كيا ہو اور ان ان كي طرف منتقل ہوا ہو اور ابھي بہت سے اہل مصر خاص كر قبطي اس كا جشن مناتے ہيں اوراس ميں بہت سے مسلمان لوگ بھي شركت كرتےہيں.
اور اس آخري دور ميں بہت سے علماني مصنفوں نے اس كےمتعلق لكھا ہے اور اس كي مطالبہ كيا ہے كہ يہ تہوار سركاري طور پر منايا جائےتا كہ فرعونوں كي ثقافت زندہ ہوسكے، اس وقت ميں جبكہ وہ اسلامي شعائر كو تخلف اور ترقي پذير كانام ديتےہيں.
يونانيوں كےتہوار:
يونانيوں كےہاں سال كےبہت سےمہنيےہيں جن كےنام ان كےتہواروں كي مناسبت سےركھےہوئےتھے، اور ان كےتہواروں كا خرچہ غني اور مالدار لوگ برداشت كرتےتھے، ان كےعام اور اكثر تہواروں كا تعلق ان بت پرست دين كے شعائر پر جو كہ كئي ايك معبودوں پر مبني تھا كےساتھ رہا ہے، ان كے تہواروں كي تعداد بہت زيادہ ہوچكي تھي تا كہ وہ ان تہواروں سے زندگي كي تھكاوٹ كو دور كرسكيں، حتي كہ يہ تہوار اتني كثرت سےتھے كہ كوئي بھي مہينہ ايك يا كئي ايك تہواروں سےخالي نہ تھا صرف ايك مہينہ جسے وہ ممكٹريون كا نام ديتےتھےيہ مہينہ تہوار سےخالي رہا.
اور ان كےيہ تہوار فحاشي اور زناكاري، شراب نوشي، اورمطلقا حيواني خواہشات كوپورا كرنے اور جو چاہے كرنے كا نشان بن چكےتھے، جيسا كہ ان تہواروں ميں كئي قسم كي خرافات اور گمراہياں بھي تھيں مثلا ان كا گمان تھا كہ مردوں كي روحيں حاضر ہوتي اور پھر تہوار ختم ہونے پر واپس جاتي يا انہيں دھتكار ديا جاتا ہے .
ان كےمشہور تہواروں ميں مندرجہ ذيل تہوار شامل ہيں:
اولمپك كا تہوار جو كہ اليس ميں ہر چار برس بعد منعقد كيا جاتا ہے اور سب سے پہلا معترف اولمپيئن سن ( 776 ) ميلادي ميں ہوا اور يہ جشن اور تہوار ان كےسب تہواروں اور موسمي اجتماعات سے بڑا ہوتا ہے، اس تاريخ سے ليكر ان مقابلوں پر اولمپك مقابلوں كااطلاق ہونےلگا، اور اس كا ايك وطني رنگ اورقومي مضامين تھے حتي كہ يہ كہا جانےلگا:
كہ يوناني لڑائيوں ميں فتح حاصل كرنے سے زيادہ اولمپك مقابلےجيتنےپر فخر كرتےہيں، اور اس وقت يہ تہوار سب سےبڑا تھا.
كھيلوں كےيہ مقابلےآج تك منعقد ہو رہےہيں اور ان كاانعقاد عيسائي امت ہي اسي پرانےنام اور وراثتي علامات وشعار كےساتھ منعقد كرواتےہيں اس كا علامتي نشان اولمپك مشعل جلانا اور اسے اولمپك كھيليں منعقد كروانے والے ملك منتقل كيا جاتا ہے بلكہ افسوس كےساتھ يہ كہنا پڑتا ہے كہ اب اس مشعل كو جلا كرپوري دنيا ميں گھمايا جاتا ہے.
اور افسوس ہے كہ اب كچھ مسلمان بھي اس ميں شركت كرنا فخر محسوس كرتےہيں، اور اكثر لوگ اس سےغافل ہيں كہ اصل ميں يہ كفار كا بہت بڑا تہوار اور ان كےبت پرست دين ميں مقدس ايام ہيں، لھذا ہم گمراہي اور اندھي تقليد سےاللہ تعالي كي پناہ ميں آتےہيں.
اوريونانيوں كےاور بھي بڑے بڑے تہوار ہيں مثلا ہيلن يونيورسٹي كے تہوار، اورايونيہ يونيورسٹي كےتہوار وغيرہ .
روميوں كے تہوار :
سب امتوں ميں روميوں كےسب سےزيادہ تہوار ہيں وہ اس طرح كہ ايك برس ميں ايك سوسےزيادہ مقدس ايام ہيں جنہيں وہ تہوار سمجھتےہيں، ان ميں ہر ماہ كا پہلا دن بھي شامل ہے، اور يہ بعض تہوار فوت شدگان اور عالم سفلي كي ارواح كي تقديس كے ليے خاص ہيں، ان كےگمان كےمطابق ان كے تہواروں اوران ميں جو كچھ كيا جاتاہے فوت شدگان كے غضب كو ختم كرنے ليےہے.
ان كے مشہور تہوار يہ ہيں:
ہر برس چودہ فروري كواپنےبت پرست دين كےمطابق يہ اعتقاد ركھتے ہوئے حب الہي كا تہوار مناتےہيں اور يہ تہوار ( 1700) برس قبل ايجاد كيا گيا جبكہ روميوں ميں بت پرستي كا دور دورہ تھا اور ان كي حكومت نے بشپ ويلنٹائن جو كہ ايك بت پرست تھا اور پھر عيسائيت قبول كرلي كو پھانسي لگا ديا تھا، لھذا جب روميون نے عيسائيت قبول كي تو انہوں نے اس دن كو شھدائےحب يعني محبت كےدن كا تہوار بنا ديا اور آج تك امريكا اور يورپ ميں يہ تہوار منايا جاتا اور دوستي ومحبت كےشعور كا اعلان كرنے اور مياں بيوي اور محبت كرنے والوں كي محبت كي تجديد كا عہد كرنےكےلئےمناتے ہيں اور اس تہوار كا اجتماعي اور اقتصادي طور پر اہتمام ہونےلگا ہے، اوراب اسے ويلنٹائن ڈے كانام دے ديا گيا ہے.
اور لگتا ہےكہ اسي طرح كا ايك اور تہوار پيدا ہوچكا ہے جو كہ خاوند بيوي يا دومحبت كرنے والوں كا تہوار ہے خاوند بيوي اسے ہربرس اپني شادي كے دن ميں محبت كي تاكيد كےلئےمناتےہيں اور ميل جول كي بنا پر يہ تہوار اب مسلمانوں ميں بھي منتقل ہو چكا ہے، بہت سےمسلمان ممالك ميں خاوند اور بيوي كفار سےمشابہت كرتے ہوئے شادي كي رات ميں خاص كرمناتےہيں، لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلي العظيم.
يہوديوں كےتہوار :
1 - عبري سال كے آخر ميں ہيشا كےنام سےتہوار منايا جاتا ہے اس كے متعلق ان گمان ہے كہ اسميں ذبيح اسحاق عليہ السلام كےبدلےميں فديہ ديا گيا تھا ( ان كے غلط گمان كے مطابق حالانكہ ذبيح تو اسماعيل عليہ السلام ہيں نہ كہ اسحاق عليہ السلام ) اور مسلمانوں يہ تہوار مسلمانوں كےہاں عيدالاضحي كے مقام پر ہے.
2 - صوماريا يا كيبور كا تہوار جسے وہ يوم غفران يعني بخشش كا دن كہتےہيں.
3 - المظلل يا الظلل كا تہوار جو كہ پندرہ تشرين ( 15 اكتوبر ) كو مناتےاور اس ميں درخت كي ٹہنيوں كا سايہ حاصل كرتےہيں اور اسے وہ مريم عذراء كےروزے كے دن كا نام بھي ديتےہيں .
4 – عيد الفطير جو پندرہ نيسان ( 15اپريل ) كو اس مناسبت سےمنايا جاتا ہے كہ تيرہويں صدي قبل ميلادي ميں بني اسرائيل نےمصر ميں غلامي سے فرار اختيار كيا تھا، اور اس تہوار كا قصہ توراۃ كےاصحاح ثاني عشر كے سفر خروج ميں بيان كيا گيا ہے،اس تہوار كي مدت آٹھ دن ہيں اوريہ مقبوضہ فلسطين ميں منايا جاتا ہے، اور اصلاح پسند يہودي اسے اپنےعلاقوں ميں سات دن تك مناتےہيں ، اور اس ميں ان كا ايك جشن بھي ہے جس كا نام ( السيدار ) ہے اور اس تہوار ميں الحقادا كتاب ميں سے بني اسرائيل كےفرار كا قصہ پڑھتےہيں، اور بغير خميرشدہ روٹي كھاتےہيں اس ليے كہ جب بني اسرائيل فرار ہوئے توانہوں نےيہ كھائي تھي كيونكہ ان كےپاس خمير كرنے كا وقت ہي نہيں تھا اور آج تك يہودي اس تہوار ميں يہ روٹي كھاتےہيں.
5 - عيد الاسابيع يا ( العنصرۃ ) يا ( الخطاب ) كا تہوار ان كا گمان ہے كہ يہ وہ دن ہے جس ميں اللہ تعالي نے موسي عليہ السلام سےكلام فرمائي تھي.
6 - يوم التكفير ( كفارہ كا تہوار ) يہودي سال كے دسويں مہينہ ميں منايا جاتا ہے، اس تہوار ميں آدمي نو دن كےليے دوسروں سے كٹ كر عبادت كرتا اورروزے ركھتا ہے اوراسےايام توبہ كانام ديا جاتا ہے.
7 - الہلال الجديد، نئےچاند كاتہوار، يہ تہوار ہر نيا چاند طلوع ہونے پر منايا جاتا تھا وہ اس طرح كہ بيت المقدس ميں سينگ ميں پھونك ماري جاتي اور اس كي خوشي ميں آگ جلائي جاتي تھي.
8 - عيداليوبيل ، اس كا بيان سفر اللاويين ميں كيا گيا ہے.
اس كےعلاوہ بھي ان كےكئي ايك تہوار ہيں جن ميں مشہور يہ ہيں: كاميابي كا تہوار ( البوريم ) اور اسے التبريك ( مباركبادي ) كانام بھي ديتے ہيں.
عيسائيوں كےتہوار :
1 - قيامت كا تہوار: اسے عيد الفصح ( ايسٹر ڈے ) كانام بھي ديا جاتا ہے، اور عيسائيوں كا سب سے اہم سالانہ تہوار ہے، اور اس سے قبل بڑا روزہ ہوتا ہے جو چاليس يوم تك الفصح كےتہوار ( ايسٹر ڈے ) سےقبل تك چلتا ہے، اور يہ تہوار عيسائي مسيح عليہ السلام كي واپسي كي ياد يا انہيں سولي پر لٹكانے كے بعد اس كي قيامت جو كہ ان كي موت كے دو دن بعد كي ياد ميں منايا جاتا ہے،( ان كےاپنے گمان كےمطابق ) اور يہ مختلق قوانين اورشريعتوں كا خاتمہ ہے جو كہ يہ ہيں:
ا - بڑے روزے كي ابتدا جو كہ ايسٹر ڈے سے چاليس يوم كا روزہ ہے اور وہ بدھ كےدن روزہ شروع كرتےہيں جسے وہ رتيلا بدھ كانام ديتےہيں، اس ليے كہ وہ حاضرين كي پيشانيوں پر ريت ركھتےہيں اور باربار يہ دہراتےہيں : ( ہم مٹي سے شروع كرتےہيں اور اس كي طرف پلٹيں گے ) .
ب - پھر اس كےپچاس دنوں بعد پچاسويں يا عنصرہ كےتہوار پر ختم كرتے ہيں .
ج - تكليفوں كا ہفتہ: يہ روزے كي مدت كا آخري ہفتہ ہوتا ہے اور ان حادثات كي طرف اشارہ كرتاہے جو عيسي عليہ السلام كو موت اور ان كي قيامت كي طرف لےگئے، جيسا كہ وہ گمان كرتےہيں .
د - احد العسف، يہ وہ اتوار كا دن ہے جو ايسٹر ڈے سے قبل آئے اور يہ ميسح عليہ السلام كا بيت المقدس ميں كامياب داخل ہونے كي ياد كےطور پر منايا جاتا ہے.
ھ - خميس العہد: يا الصعود عہد والي جمعرات، يہ مسيح عليہ السلام كےآخري كھانےاور ان كي قيد كي طرف اشارہ كرتي ہے.
و ـ الجمعۃ الحزينۃ: غم والا جمعہ، يہ ايسٹر ڈے سے پہلے والا جمعہ ہے اور صليب پر مسيح عليہ السلام كي موت كي طرف اشارہ كرتا ہے( ان كےگمان كےمطابق ) .
ز ـ سبت النور: روشني والا ہفتہ كا دن ، يہ وہ ہفتےكا دن ہے جو ايسٹر ڈے سےقبل آتا ہے، اور مسيح عليہ السلام كي موت كي طرف اشارہ كرتا ہے اور يہ دن مسيح عليہ السلام كا ايسٹر ڈے منانے كےانتظار كا دن ہے، اور يہ ايسٹرڈے كےسارے جشن يوم صعود يا خميس الصعود ( چڑھنےكي جمعرات ) ميں ختم ہو جاتےہيں جہان ہر گرجےميں ميسح عليہ السلام كا آسمان پڑ چرھنے كا قصہ پڑھا جاتا ہے، اور عيسائيوں ميں مذاہب اور ممالك مختلف ہونے كي بنا پر تہوار بھي مختلف اور كئي ايك ہيں، اور وہ سابقہ جمعہ اور جمعرات كو بڑي جمعرات اور بڑا جمعہ كا نام ديتےہيں ، جيسا كہ شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي ذكر كيا ہے، اور حافظ ذھبي رحمہ اللہ تعالي كا رسالہ: ( تشبيہ الخسيس باھل الخميس ) سے بھي يہي جمعرات مراد ہے، اور يہ جمعرات ان كےروزے كا آخري دن ہوتا ہے اور اسے وہ خميس المائدۃ يعني دسترخوان كي جمعرات كا نام بھي ديتےہيں، جو كہ سورۃ المائدۃ ميں اللہ تعالي كےاس فرمان ميں مذكور ہے:
{عيسي بن مريم عليہ السلام نے دعا كي اے اللہ اے ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے كھانا نازل فرما كہ وہ ہمارے لئے يعني ہم ميں جو اول ہيں اور جو بعد كے ہيں سب كے لئے ايك خوشي كي بات ہو }المائدۃ ( 114 )
بہت سے مؤرخين نےذكر كيا ہے كہ ان كےان تہواروں ميں بہت عجيب وغريب كام تھےجن ميں درختوں كےپتےجمع كركےانہيں صاف كرنا اور اس سے غسل كرنا اور انہيں آنكھوں ميں ڈالنا شامل ہے، اور مصر كےقبطي كچھ ايام نيل ميں غسل كرتے اور ان كا يہ گمان تھا كہ اس ميں دم درود ہے.
اور ان كےہاں ايسٹر ڈے بڑے روزے كےافطار كا دن ہے اور ان كا يہ گمان تھا كہ ميسح عليہ السلام سولي چڑھنےكے تين يوم بعد كھڑے ہوئے اور آدميوں كو جہنم سے نجات دلائي، اس كے علاوہ كئي ايك خرافات بھي ہيں جن كا ذكر شمس الدين الدمشقي الذھبي رحمہ اللہ تعالي نےكيا ہے كہ: اس دن اہل حماۃ چھ دنوں كےلئے كام كاج چھوڑ ديتے اور انڈوں كو رنگتےاور كيك تيار كرتےہيں، انہوں نے كئي قسم كے فساد اور اختلاط كي اقسام ذكر كي ہيں جو اس وقت كي جاتي تھيں، اوريہ بھي ذكر كيا ہے كہ اس ميں مسلمان بھي شريك ہوتے اور ان كي تعداد عيسائيوں كي تعداد سے تجاوز كرجاتي ہے، اللہ كي پناہ.
ابن الحاج نےذكر كيا ہےكہ: وہ اعلانيہ طورپر فحش كام كرتےہيں اور انہيں كوئي روكنےوالا نہيں، لگتا ہے كہ اسي چيز نے شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے اس منكر كےخلاف آواز اٹھائي جو انہوں نےمسلمانوں ميں عيسائيوں كے تہواروں ديني شعار ميں ان كي تقليد كركے پيدا كي، انہوں نے اس ميں سے بہت سي اشياء اپني كتاب الاقتضاء ميں ذكر كي ہيں اور اسي طرح امام ذھبي رحمہ اللہ تعالي نے اپنے رسالہ ميں بھي ذكر كيا ہے جس كا ذكر ابھي كيا گيا ہے.
عيسائي آج تك موسم بہار كا چاند مكمل ہونے كےبعد پہلي اتوار كے دن ( 22 مارچ سے 25اپريل تك كےدوران ) جشن مناتےہيں اور ارتھوڈكس چرچ كے پيروكا باقي عيسائيوں سے اس جشن كو دير سےمناتےہيں اور يہ عيسائي سال كےميں شعار اور روزے اور ايام كا مكمل موسم ہے.
2 - مسيح عليہ السلام كي عيد ميلاد يورپي لوگ اسے ( كرسمس ڈے ) كا نام ديتےہيں جو كہ پچيس دسمبر كو عام عيسائيوں مناتے ہيں، اور قبطي كے ہاں يہ ( 29 كيھك ) كےموافق آتا ہے اور يہ زمانہ قديم سے منايا جارہا ہے اور كتب تاريخ ميں بھي مذكور ہے: مقريزي كا كہنا ہے كہ:
قاہرہ اور مصر اور مصر كے سب علاقوں ميں ہم نے عيدميلاد( كرسمس ڈے ) كو بڑے تزك واحتشام سےمناتے ہوئےپايا جس ميں نقش ونگار والي شمعيں فروخت ہوتےہوئےپايا جسے فانوس كا نام ديا جاتا ہے.
عيسائيوں كي يہ عيد ميلاد مولد مسيح كي ياد ميں ہر برس منائي جاتي ہے ، اور اس ميں ان كي كئي ايك عبادات اور شعار بھي ہيں اس طرح كہ وہ گرجا گھروں ميں جا كر خصوصي نمازوں كا اہتمام كرتے ہيں، عيد ميلاد كا قصہ ان كي انجيل ، لوقا اور انجيل متي ميں مذكور ہے اور اس كي سب سے پہلي تقريب ( 336 ) ميلادي ميں منائي گئي اور يہ بت پرستي كےشعار سے متاثرہوئي اس طرح كہ رومي روشني اور فصل كاٹنے كےالہ كا جشن منايا كرتے اور جب روميوں كا سركاري مذھب عيسائت بنا تو عيد ميلاد يورپ ميں روميوں كا سب سے اہم جشن اور تہوار بن گيا اور بشب نيكولس يورپي ممالك ميں عيد ميلاد كےتحفے دينے كي علامت بن گيا، پھرخاص كر بچوں كو تحفے دينے كي علامت بشپ نيكولس كي جگہ پوپ نويل نے لے لي ، اور مختلف ممالك ميں بہت سے مسلمان ان شعار اور عادات سے متاثر ہوئے اس طرح كہ پوپ نويل كي علامت والےتحفے مسلمانوں كي دوكانوں اور ماركيٹوں ميں معروف ہوگئے اور كتنےہي گھر ايسے تھے جن ميں يہ تحفے اور ہديہ جات داخل ہوئے اور كتنے ہي مسلمان بچے پوپ نويل اور اس كے ہديہ جات جاننے لگے، لاحول ولا قوۃ الا باللہ.
اس تہوار ميں عيسائيوں كے كئي ايك شعار اور علامتيں ہيں:
فلسطين اور اس كےاردگرد كےعيسائي عيد ميلاد كےدن بيت لحم ميں جمع ہوتے جہاں مسيح عليہ السلام كي پيدائش ہوئي اور نصف رات كو عبادت كرتےہيں اور ان كےشعار ميں تيس نومبر كي قريب ترين اتوار كو جشن منانا ہے جو كہ بشپ انڈريوس كا تہوار ہے اور يہ عيسي عليہ السلام كےقدوم كا پہلا دن ہے، اور يہ تہوار اپنے جوبن پر اس وقت ہوتا ہے جب نصف رات كو بشپ جاگتےہيں جبكہ گرجا گھروں كو سجايا جاتا اور لوگ عيد ميلاد كے ترانے گاتے ہيں اور تہوار كا موسم ( 6 جنوري ) كو ختم ہوجاتا ہے، اور ان ميں سے بعض كرسمس ٹري كےتنے كو جلاتےہيں پھر غير جلےہوئے حصہ كو محفوظ كرليتے ہيں اور اعتقاد يہ ركھتےہيں كہ يہ جلنا نصيب كو كھينچ ليتا ہے، اور يہ اعتقاد برطانيا، فرانس اور اسكنڈنافي ممالك ميں پايا جاتا ہے.
3 - تہوار الغطاس جو كہ 19جنوري اور قبطيوں كےہاں ماہ طوبہ كي گيارہ تاريخ كومنايا جاتا اور ان كےہاں اس كي اصل يہ ہے كہ يحي بن زكريا عليہما السلام جوان كےہاں يوحنا معدان كےنام سے معروف ہيں انہوں نے مسيح عليہ السلام كواردن كي نہرميں بپتسمہ ( عيسائيوں كےہاں بچےكو غسل دينےكي ايك رسم كانا ہے ) ديا تھا اورجب انہيں غسل ديا تو ان سے روح القدس ملے تھے، تواس لئےعيسائي اپني اولاد كو آج تك پاني ميں غسل ڈبوتےاور سب لوگ جمع ہوكراس ميں اترتےہيں.
مسعودي نےاس تہوار كےمتعلق ذكر كيا ہے كيونكہ يہ تہوار اس كےدور ميں بہت تزك احتشام طريقہ سےمصر كےاندرمنايا جاتا تھا، جس ميں ہزاروں كي تعداد ميں عيسائي اور مسلمان جمع ہو كر دريائے نيل ميں غوطےلگاتےاور ان كا گمان ہے كہ اس طرح بيماريوں سے محفوظ رہا جاتا اور بطورعلاج منترہے اور اسي مفہوم كےمطابق آرتھوڈكس چرچ كےپيروكاريہ تہوار مناتےہيں ليكن كيتھولك اورپروٹسٹينٹ چرچ كےپيروكار اس تہوار كا اور مفہوم ليتےہيں، وہ مفہوم يہ ہےكہ وہ مشرق سےآنےوالے تين اشخاص جنہوں مسيح عليہ السلام كو رضاعت مہيا كي ان كي ياد ميں يہ تہوار مناتےہيں.
اور الغطاس اصل ميں اغريقي كلمہ ہے جس كا معني ظھور ہے اوريہ ايك ديني اصطلاح ہے جو ظھور غير مرئي سےمشتق اور توراۃ ميں بيان ہوا ہے كہ اللہ تعالي نے موسي عليہ السلام كے لئے ايك جلےہوئےدرخت كي شكل ميں تجلي فرمائي، ( اللہ تعالي ان كےقول بلندوبالا اور پاك ہے ) .
سال نوكا تہوار: يہ تہوار ميلادي سال كےآخرميں منايا جاتا ہے، اوراس دور ميں اسےبہت اہميت حاصل ہے، وہ اس طرح كہ عيسائي ممالك اوربعض اسلامي ممالك ميں بھي يہ تہوار منايا جاتاہے، اور يہ تہوار زمين كي ہر جگہ سے باآواز اور باتصوير اسے نشر كيا جاتا ہے اور اخبار اورميگزين اسے صفحہ اول پر جگہ ديتےہيں اور فضائي چينل بھي اسےبڑي اہميت ديتےہيں.
اور اس وقت يہ ملاحظہ كيا جارہا ہے كہ بہت سے مسلمان لوگ جن كے ملكوں ميں يہ عيسائي تہوار نہيں منايا جاتا وہ اس تہوار ميں شركت كے لئے عيسائي ممالك جاتےہيں اور اس ميں ہونےوالے فحش اورحرام كاموں سے فائدہ اٹھانے كي كوشش كرتےہيں اوروہ اس گناہ اور برائي سے غافل ہيں جوكفار كے شعار ميں پائي جاتي ہے.
( 31 ديسمبر ) كےبارہ ميں عيسائيوں كےعجيب وغريب اور باطل اعتقادات اور خرافات پر مبني ہيں اوريہ تہوار بھي اسي طرح خرفات سےبھرا ہوا ہے جس طرح باقي تہواروں ميں خرافات پائي جاتيں ہيں.
اوريہ اعتقادات نئي ترقي ( حضارۃ ) كےمرہون منت ہيں اور ان كےپيدا كردہ ہيں جواپنےآپ كو ترقي يافتہ اور شہري كہتےہيں اور ہماري قوم كے ان منافق صفت لوگوں كےخيالات ہيں جوان عيسائيوں اور غيرمسلموں كےشعار اورعلامات كي اتباع اور پيروي ميں اس طرح برابري كرر ہے جس طرح ايك جوتا دوسرے كےبرابر ہوتا ہے، تاكہ ہم اس كي ضمانت ديں كہ ہم بھي ترقي يافتہ اور شہري زندگي كے دلدادہ ہيں حتي كہ يہ گوري چمڑي اور نيلي آنكھوں والے اس سے راضي ہوجائيں !!
اور ان اعتقادات ميں يہ بھي شامل ہے كہ: جو شخص اس رات نصف شب گزرنے كےبعد شراب كا آخري گلاس پيئےگا اس كےنصيب اچھےہوں گے، اور اگر وہ وہ كنوارہ ہو توشب اس رات بيدار رہنےوالوں ميں اپنےدوست واحباب ميں سب سےپہلےاس كي شادي ہوگي، اور سال نو كےتہوار پر بغير كسي تحفے كے كسي كے گھر ميں داخل ہونا بہت منحوس شمار كيا جاتا ہے، سال نو كےدن گردو غبار كي صفائي كرنےسے اچھےنصيب بھي ختم ہو جاتےہيں، اور اس دن برتن اور كپڑے دھونا بھي نحوست ميں شمار كيا جاتا ہے، اور كوشش كي جاتي ہے كہ سال نوكےتہوار كي رات بھر آگ جلتي رہے اسے اچھےنصيب كي علامت شمار كيا جاتاہے، اس كےعلاوہ اور بہت سي بےہودہ خرافات ہيں.
اس كےعلاوہ بھي عيسائيوں كےكئي ايك تہوار ہيں، جن ميں سےكچھ تو قديم اور كچھ نئےايجاد كردہ ہيں، اوركچھ ايسےتہوار ہيں جوانہوں نے اپنےسے قبل يونانياور روميوں سے ليےہيں، اوركچھ ايسےتہوار ہيں جوان كےدين ميں تھےاورپھرمٹ كرناپيد ہوگئے، اوران تہواروں كچھ تہوار توبڑے اور ان كےليے بہت اہم ہيں اور كچھ ايسےبھي ہيں جو چھوٹےاوركچھ چرچ اورمذہب كے پيروكاروں ميں كم اہميت ركھتےہيں.
اورہر مذہب اورفرقہ والوں كےخاص تہوار ہيں جوان كےچرچوں اور پادريوں اور بشپوں كےساتھ خاص ہيں جودوسرے مذہب كےپيروكار تسليم نہيں كرتے، لھذا پروٹسٹنٹ فرقہ كےپيروكار دوسرے چرچوں كےپيروكاروں كےتہوار كونہ تو تسليم كرتےاورنہ ہي اس پر ايمان ركھتےہيں، ليكن وہ بڑے بڑے تہواروں مثلا ايسٹر ڈے اور ميلاد مسيح عليہ ( كرسمس ڈے ) اور سال نو اور غطاس ( بپتسمہ يعني غوطے لگانےكا ) تہوار ان سب پر متفق ہيں اگرچہ اس ميں كيےجانےوالےكاموں اور شعار ميں اختلاف پايا جاتا ہے، ياپھر بعض اسباب اورتفصيلات اوراس كي جگہ اور وقت كےمتعلق بھي اختلاف پايا جاتا ہے.
فارسيوں كےتہوار:
1 - نوروز كا تہوار: اور نوروز كامعني جديد اور نيا ہے، يہ چھ دن منايا جاتا ہے، جب وہ كسري ( يہ فارسيوں كےبادشاہ كا لقب ہوتا تھا ) كےدور ميں تھے، پہلےپانچ ايام ميں وہ لوگوں كي ضروريات پوري كرتے اور چھٹےاور آخري دن كو اپنےاور اپنےمصاحبين كےلئے مخصوص كرتےاوراس ميں اس ميں انس ومحبت كي مجلسيں قائم كرتےاوراسے نوروز الكبير يعني بڑے نوروز كانا ديتے تھےاوريہ ان كا سب سےبڑا تہوار ہے.
پہلےلوگوں نےذكر كيا ہے كہ سب سےپہلےنوروز كاتہوار حمشيد الملك نے منايا تھا اور اس كےدور ميں ہي ھود عليہ السلام مبعوث ہوئےتھے، اور دين كو بدلا جاچكا تھا، جب حمشيد بادشاہ بنا تواس نے دين كي تجديد كي اور عدل وانصاف كوعام كيا، توجس دن وہ تخت بادشاہي پر براجمان ہوا اسے نوروز كا نام ديا گيا، اورجب سات سوبرس كي عمر كو پہنچا اور اس دوران نہ تو وہ بيمارہوا اور نہ ہي كوئي سردرد اور تكليف ہوئي تو جابر اورسركش ہوگيا، اوراس نےاپنا ايك مجسمہ بنا كر اپنے گورنروں كوبھيجا تا كہ وہ اس كي تعظيم كريں، اورعوام نے اس كي عبادت كرنا شروع كردي اوراس كي شكل جيسےبت بنا لئے، توان پريمن كےعمالقہ ميں سے ضحاك العلواني نے حملہ كركےاسےقتل كرديا جيساكہ تاريخ ميں اس كا ذكر ملتا ہے.
اورفارس كےلوگوں ميں سےكچھ ايسے بھي ہيں جو يہ گمان كرتےہيں كہ نوروز وہ دن ہے جس ميں اللہ تعالي نے نور پيدا فرمايا، اورنوروز كو فارسي سال كا سال نوشمار كيا جاتا ہے، جو كہ گيارہ مارچ كےدن موافق ہے، اوران كےعوام كي عادت تھي كہ اس رات وہ آگ جلاتےاور اس كي صبح پاني چھڑكتےتھے.
اور بہائي فرقےكےلوگ بھي نوروزكاتہوار مناتےہيں، وہ اس لئے كہ ان كےانيس روزوں كي مدت ختم ہوتي ہے جو كہ ( انيس آذار يعني مارچ ) ميں مناتےہيں.
اور قبطيوں كےہاں بھي نوروز منايا جاتا ہے جو كہ سال كا پہلادن ہوتا اور اس كانام بادنسيم سونگھنےكاتہوار ( عيد شم النسيم ) ركھا ہوا ہے، ان كےہاں اس كي مدت بھي چھ يوم ہے جو (6حزيران يعني 6جون ) سے شروع ہوتاہے، اوراس تہوار كا ذكر فرعونوں كےتہواروں ميں بھي گزرچكا ہے، لھذا اس ميں كوئي مانع نہيں كہ يہ قبطيوں كا تہوار ہو اور انہوں فرعونوں كي ثقافت وآثار سےليا ہو اورخاص كر يہ سب مصر ميں ہے.
2 - مہرجان كا تہوار: كلمہ مہرجان ( مہر) اور ( جان ) كا مركب ہے اور اس كا معني وفا كا بادشاہ ہے، اس تہوار كي اصل يہ ہےكہ افريڈن كي ضحاك علواني جس نے حمشيد الملك تہوار نوروز كےباني كو قتل كيا تھا پر فتح اور كاميابي كي خوشي منائي جاتي ہے، اور يہ بھي كہا جاتاہےكہ: موسم خزاں كے اعتدال كا جشن ہے، اس ميں كوئي مانع نہيں كہ جوكچھ پہلےذكر كيا ہے وہي اس تہوار كي اصل ہوليكن موسم خزاں كےاعتدال كا وقت اس جشن كےوقت ہو تويہ اسي موسم ميں منايا جانےلگا، تواس طرح اس تہوار كا جشن ( سرياني مہينہ تشرين الاول كي 26تاريخ ) يعني 26اكتوبر كو منايا جاتا ہے، اور يہ پہلےتہوار كي طرح چھ دن كا ہوتا ہے.
اورچھٹےروز بڑا مہرجان مناتےہيں، وہ اس اور نوروز كےتہوارميں كستوري، عنبر اور عود ہندي اور زعفران، كافور وغيرہ كا ہديہ پيش كرتےاوران دونوں تہواروں ميں اسلام كےاندر ہديہ جات دينےكي يہ رسم سب سے پہلے حجاج بن يوسف ثقفي نےشروع كي، اور اسي طرح جاري رہي حتي كہ عمربن عبدالعزيز رحمہ اللہ تعالي نے اسےختم كيا.
اورسب سے بڑي آزمائش اور مصيبت يہ ہے كہ مسلمان بھي اس وقت اپنے بہت سےاجتماعات اورجشن وخوشيوں اور اجتماعي ثفافتي اور اقتصادي اجتماعات بلكہ حتي كہ دعوتي اجتماعات كو بھي مہرجان كےنام سےموسوم كرنے لگےہيں اور كہاجاتا ہے كہ ثفافتي مہرجان، اورخريدوفروخت كا مہرجان ، اور كتابوں كا مہرجان، اور دعوتي مہرجان، اوراس طرح كےكئي اوراعلانات ديكھنےاور سننےميں آتےرہتےہيں اور ہم بہت سي عبارتيں سنتےہيں جواس بت پرستي والي اصطلاح ( مہرجان ) سےنكلتي ہيں جو كہ آگ كےپجاريوں كا تہوار ہے.
لہذا اس فارسي شعار اورعلامت كا مسلمانوں كےاجتماعات پر اطلاق كرنا جائز نہيں اور اس سےمنع كيا گيا ہے جس كےاستعمال سےاجتناب ضروري ہے، اور اس كےمقابلےميں بہت سےمباح الفاظ اور عبارتيں ہيں جنہيں استعمال كركےاس سےمستغني ہوا جاسكتا ہےجولفظا اور معنا دونوں اعتبار سےاس سےبھي بہتر اور اس سےمستغني كرديتےہيں.
مسلمانوں كا كفار كےتہواروں ميں كفار سےمشابہت كرنا:
تشبہ اورمشابہت كي تعريف:
الشبہ لغت عرب ميں مثل اور شابہہ واشبہہ يعني اس جيسا بنا اور فلاں نے اس طرح اس كي مشابہت اختيار كي، اور كسي دوسرے كےمشابہ ہوا، كام ميں اس كي مماثلت اختيار كي .
اور تشبيہ: تمثيل كو كہتےہيں، اور لغت ميں الفاظ قريب قريب ہيں اس ميں سے ہي ہےكہ: المماثلۃ، المحاكاۃ، المشاكلۃ، الاتباع, الموافقۃ، التاسي, التقليد ان سب الفاظ كےمعني اس لفظ كےساتھ خاص ہيں ليكن لفظ تشبہ ميں يہ سب مشترك ہيں .
اور اصطلاح ميں اس كا معني يہ ہےكہ:
غزي الشافعي نےاس كي اصطلاحي تعريف كرتےہوئےكہا ہے:
تشبہ يہ ہے كہ مشابہت كرنےوالا انسان اس كي مشابہت اختيار كرنے كي كوشش كرتا ہے جس سےمشابہت اختيار كي جارہي ہو، اور اس كي شكل وصورت اور صفات وغيرہ اخيتار كرنا يہ قصدا اور عملا تكلف كےساتھ كيا جاتا ہے.
كفار سےمشابہت اختيار كرنےكاحكم:
ہمارے دين كےعظيم اصولوں ميں ايك عظيم اصول اسلام اور مسلمانوں سےدوستي اور كفر اوركافروں سےدشمني اور برات كااظہار كرنا اصول دين ہے، اور اس برات ودشمني كي حتمي اور فيصلہ كن چيز يہ ہے كہ مسلمان كي كفار سے تميز ہوتي ہے اور وہ ان سےعليحدہ نظر آئے، وہ اپنےدين كےساتھ عزت محسوس كرے اور دين اسلام پر فخركرےچاہےكفار كي حالت كتني بھي زيادہ اچھي اور بہتر نظر آتي ہو اور وہ كتنےبھي طاقتور ہي كيوں نہ نظر آئيں اور وہ كتني ہي ترقي اور حضارۃ اختيار كرليں، اوراس كےمقابلےميں مسلمان كےحالات كتنےبھي كمزور اور ان ميں تفرق ہو، لہذا كسي بھي حالت ميں كفار كي قوت وطاقت اور مسلمانوں كي كمزوري وناتواني كو كفار كي تقليد اور ان كي اتباع وپيروي كا ذريعہ بنانا جائز نہيں، اور نہ اسے كفار كي مشابہت اختيار كرنے كا جواز بنايا جاسكتا ہے،جيسا كہ آج كل كچھ منافق شكست خوردہ قسم كےلوگ اس كي دعوت ديتےپھرتےہيں .
كيونكہ جن نصوص ميں كفار سےمشابہت اختيار كرنےاور ان كي تقليد سے منع كيا ہے ان نصوص ميں كمزوري اور قوت وطاقت كےمابين فرق نہيں كيا گيا اس لئےكہ مسلمان اس بات كي طاقت ركھتا ہے كہ وہ اپنےدن اسلام كےساتھ دوسروں سے مميز اورامتياز ہو اور دين اسلام پر فخر كرے حتي كہ كمزوري اور ترقي پذيري كي حالت ميں يہ كام كرسكتا ہے.
اور اسلام پر فخر اور اس كےساتھ عزت حاصل كرني كي دعوت توہمارے پروردگار اور رب ذوالجلال نےدي ہے اور اسے سب سےبہتر بات اور قول اور بہتر اوراچھا فخر شمار كيا ہے .
فرمان باري تعالي ہے:
{اور اس سےزيادہ اچھي بات والا كون ہے جو اللہ كي طرف بلائے اور نيك كام كرے اوركہے كہ ميں يقينا مسلمانوں ميں سےہوں}حم السجدۃ ( 33 )
اور مسلمان كو كافر سے متميز ہونے كي اہميت كي بنا پر ہي يہ حكم ديا گيا ہے كہ وہ ہر دن كم از كم سترہ بار اللہ تعالي سے يہ دعا كيا كرے كہ اے اللہ مجھے كافروں كےطريقہ اور راستہ سے بچا كرركھ اور اسے صراط مستقيم كي ہدايت نصيب فرما اوراسےاس پر ثابت قدم ركھ:
فرمان باري تعالي ہے:
{ہميں صراط مستقيم كي ہدايت نصيب فرما، ان لوگوں كي راہ جن پر تو نے انعام فرمايا نہ كہ ان لوگوں كي راہ جن پر تيرا غضب نازل ہوا اور نہ ہي گمراہ لوگوں كي راہ }الفاتحۃ ( 6 - 7 ).
اوركتاب وسنت ميں بہت سي نصوص ايسي نصوص ہيں جو كفار سے مشابہت اختيار كرنےسے روكتي اور منع كرتي ہيں، اور يہ بيان كرتي ہيں كہ ايسا كرنا گمراہي اور ضلالت ہے، لھذا جو كوئي بھي كفار كي تقليد اور پيروي كرتا ہے وہ ان كي گمراہي ميں ان كي تقليد اور پيروي كررہا ہے.
ارشاد باري تعالي ہے:
{پھر ہم نے آپ كو دين كي ( ظاہر ) راہ پر قائم كرديا توآپ اسي پر لگے رہيں اور نادانوں كي خواہشوں كي پيروي ميں نہ پڑيں} الجاثيۃ ( 18 )
اور ايك دوسرےمقام پر رب ذوالجلال كا فرمان ہے:
{اور اگر آپ نےان كي خواہشوں كي پيروي كرلي اس كےبعد كہ آپ كےپاس علم آچكا ہے تواللہ ( عذابوں ) سے آپ كو نہ توكوئي حمائتي ملےگا اور نہ ہي بچانےوالا}الرعد ( 37 ) .
اور ايك مقام پر فرمان باري تعالي ہے:
{اورتم ان لوگوں كي طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دليلں آجانے كےبعد بھي تفرقہ ڈالا اور اختلاف كيا انہيں لوگوں كے لئے بڑ عذاب ہے}آل عمران ( 105 ) .
اوراللہ تعالي مومنوں كو اس كي دعوت ديتا ہے كہ اس كےذكر اور قرآن مجيد كي آيات كي تلاوتت كےوقت خشوع اختيار كيا كرو اور اس كےبعد فرمايا:
{اور انكي طرح نہ ہوجائيں جنہيں ان سے پہلے كتاب دي گئي تھي پھر جب ان پر ايك زمانہ دراز گزرگيا تو انكے دل سخت ہوگئے اور ان ميں بہت سے فاسق ہوہيں}الحديد ( 16 ) .
اس ميں كوئي شك نہيں كہ كفار سے محبت ومودت كي سب سے بڑي دليل ان كي مشابہت ہے، اور يہ عقيدہ الولاء والبراء يعني كفار اور كفر سے برات كےعقيدہ كےمخالف اوراس كےنواقض ميں سےہے، اور پھر اللہ تعالي نے تو مومنوں كوكفار سےمحبت اور دوستي كرنےسے منع فرمايا اور ان سےدوستياں اورمحبت كرنا انہيں ميں سےہونےكا سبب قرار ديا ( اللہ اس سےمحفوظ ركھے) اللہ سبحانہ وتعالي ارشاد فرماتاہے:
{اے ايمان والو! م يہود ونصاري كو دوست مت بناؤ يہ تو آپس ميں ہي ايك دوسرے كےدوست ہيں ، تم ميں سے جو كوئي بھي ان ميں سے كسي ايك كےساتھ دوستي كرےگا وہ بےشك انہيں ميں سے ہے، اللہ تعالي ظالموں كو ہرگز راہ راست نہيں دكھاتا}المائدۃ ( 51 )
اور ايك دوسرے مقام پر كچھ اس طرح فرمايا:
{اللہ تعالي پر اور قيامت كےدن پر ايمان ركھنےوالوں كو آپ اللہ تعالي اور اس كےرسول كي مخالفت كرنےوالوں سے محبت ركھتےہوئے ہرگز نہيں پائيں گے اگرچہ وہ انكے باپ يا ان كے بيٹے يا ان كےبھائي يا ان كے كنبہ اور قبيلہ كے عزيزہي كيوں نہ ہوں}المجادلۃ ( 22 ) .
شيخ الاسلام ابن تميمہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
مشابہت باطن ميں محبت ومودت اور دوستي پيدا كرتي ہے، جيساكہ باطن ميں محبت ظاہري طور پر مشابہت پيدا كرتي ہے.
اور سورۃ المجادلۃ كي مندرجہ بالا آيت پر تعليق چڑھاتےہوئے كہتےہيں:
اللہ سبحانہ وتعالي نے خبر دي ہےكہ كوئي بھي ايسا نہيں جو كافر سے محبت كرتا ہو، لھذا جس نےبھي كافر سے محبت كي وہ مومن نہيں. اور ظاہري مشابہت مودت ومحبت كا پيش خيمہ ہےتواس لئےمشابہت حرام ہوگي.
اور نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ انہوں نےفرمايا:
( جس كسي نے بھي كسي قوم سے مشابہت اختيار كي وہ انہي ميں س ہے ) سنن ابو داود كتاب اللباس حديث نمبر (1204 ) مسند احمد ( 2 / 5 ) اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے الاقتضاء ( 1 / 42 ) ميں اس كي سند كو جيد قرار ديا ہے، اور ديكھيں الفتاوي ( 52/ 133 ) اور فتح الباري ( 6 /89) ميں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالي نے اس كي حسن اسناد والي مرسل سےتائيد كي ہےاور سيوطي رحمہ اللہ نےاسےحسن كہا اور علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح الجامع ( 5206 ) ميں اسےصحيح كہاہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ حديث اس كي كم از كم حالت يہ ہےكہ كفار سےمشابہت كي تحريم كا تقاضاكرتي ہے اگرچہ حديث كا ظاہر مشابہت اختيار كرنےوالے كےكفر كا متقاضي ہے. جيسا كہ اللہ تعالي كےاس فرمان ميں ہے:
{اور تم ميں سے جو كوئي بھي ان كےساتھ دوستي لگائے وہ انہيں ميں سے ہے}المائدۃ ( 51 ) . ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 732 ) .
اور امام صنعاني رحمہ اللہ كہتےہيں :
جب لباس ميں كوئي كافر كي مشابہت اختيار كرے اور اس سےوہ يہ اعتقاد ركھےكہ وہ بھي اس جيسا ہوجائےگا تو اس نےكفر كيا، اور اگر وہ يہ اعتقاد نہ ركھےتواس ميں فقہاء كا اختلاف ہے: كچھ تواسے كافر كہتےہيں جو كہ حديث كا ظاہر ہے، اوركچھ كہتےہيں كہ وہ كافر نہيں ہوا، ليكن اسے سزا دي جائےگي .ديكھيں سبل السلام ( 8 / 842 ) .
اور كفار سےمشابہت اختيار كرنے كا موضوع بہت طويل ہے، ليكن ہم نے جوكچھ اوپركي سطور ميں نصوص بيان كي ہيں انشاء اللہ اس ميں ہي كفائت ہے اور مقصد حاصل ہوجاتا ہے.
كفار كےتہواروں ميں كفار كي مشابہت كي چندايك صورتيں:
كفار كي مختلف قوميں اور مذاہب ہونےكي بنا پر ان كےتہوار بھي مختلف اور كئي قسم كےہيں، ان ميں سےكچھ تو ديني اور ان كےدين كےبنيادي تہوار ہيں يا پھر انہوں نےنئےايجاد كرلئےہيں، اور ان كےبہت سے تہوار تو صرف عادات اور مختلف مواقع كي طور پرہيں جن كي بنا پر انہوں نے يہ تہوار ايجاد كرلئےمثلا قومي تہوار وغيرہ ان كےتہواروں كي اقسام انواع كوذيل ميں پيش كرتےہيں:
اول: ديني تہوار جنہيں وہ اللہ تعالي كا قرب حاصل كرنے كےلئے مناتے ہيں، مثلا: غطاس ( يعني غوطےلگانےكا تہوار) اور ايسٹرڈے، اور ميلاد مسيح ( كرسمس ) وغيرہ اس ميں مسلمان كي مشابہت دو طرح سےہے:
1 - مسلمانوں كا اس ان تہواروں ميں شريك ہونا، مثلا اگر بعض گروہ اور غيرمسلم اقليات مسلمانوں كےملك ميں اپنےيہ تہوار منائيں تو اس ميں بعض مسلمان شريك ہوں جائيں، جيسا كہ شيخ الاسلام ابن تيمہ اور امام ذہبي رحمہ اللہ كے دور ميں ہوا، اور اس وقت بھي بہت سے مسلمان ممالك ميں ہو رہا ہے، اور اس سےبھي زيادہ قبيح حركت يہ ہےكہ كچھ مسلمان ان تہواروں ميں شركت كرنے كےلئے كفار ممالك جاتےہيں، چاہے اس شركت كا سبب شھواني ہو يا پھر بعض كفار كي دعوت قبول كرتےہوئے، جيسا كہ كفار ممالك ميں بسنے والےبعض مسلمان ان كي دعوت قبول كرتے ہوئے ان تہواروں ميں شركت كرتےہيں، اورجس طرح بعض بڑي كمپنيوں كےمالك اور بڑے تاجر حضرات ان كي دعوت دينے والے كا خيال ركھتےہوئےيا پھر كسي دنياوي مصلحت كے پيش نظر ان كي دعوت قبول كرتےہيں، مثلا تجارتي معاہدےوغيرہ.
تويہ سب حرام ہے اور ڈر ہے كہ كہيں مندرجہ ذيل حديث كي بنا پركفر تك نہ لےجائے:
" جس نے بھي كسي قوم سےمشابہت اختيار كي وہ انہي ميں سے ہے"
اور ايسا كرنے والے نے ايسي چيز ميں شريك ہونے كا قصد كيا ہے جو ان كا ديني شعار اور علامت ہے.
2 - ان كےيہ تہوار مسلمان ممالك منتقل كرنا: جو كوئي شخص بھي كفار ممالك ميں ان كےتہواروں ميں شريك ہوتا رہا اور اسےاپني جہالت اورايماني كمزوري اور قلت عمل كي بناپر ان كےيہ تہوار پسندآئےاور اچھےلگےتواس وجہ سے وہ ان ميں سےكچھ تہوار اور ديني شعار مسلمانوں كےملك ميں منتقل كر دے، جيسا كہ اس وقت بہت سے مسلمان ممالك ميں ميلادي سال كےسال نو كا تہوار منايا جارہا ہے، تويہ قسم پہلي قسم سے بھي زيادہ قبيح ہے اس وجہ سے كہ انہوں نےان تہواروں ميں شريك ہونےپر ہي بس نہيں كي بلكہ ان تہواروں كو مسلمان ممالك ميں بھي منتقل كرنا چاہتےہيں.
دوم:
وہ تہوار جواصلا كفار كےشعار ميں سےتھےاور پھر عالمي عادات اور جشن وتقريبات ميں بدل گئے، مثلا يونانيوں كےہاں اولمپك كا تہوار، جيسا كہ اس وقت يہي ظاہر ہوتا ہے كہ يہ عالمي كھيلوں كےمقابلے ہيں، تواس ميں مشاركت دو وجہوں سےہے:
1 - كفار ممالك ميں اس كي تنظيمات اورسركلراورشعار ميں حاضر ہونا جيسا كہ اس وقت بہت سےاسلامي ممالك مختلف كھيلوں ميں حصہ لينے كے ليےوفد روانہ كرتےہيں.
2 - ان تہواروں كو مسلمان ممالك ميں منتقل كرنا، مثلا اگر كچھ اسلامي ممالك اولمپك كھليں اپنےملك ميں منعقد كروانا چاہيں.
دونوں معاملے ان ميں شركت يا پھر انہيں مسلمان ممالك ميں منعقد كروانا مندرجہ ذيل اسباب كي بنا پرحرام ہيں:
ا ـ اصل ميں يہ اولمپك كھيليں بت پرستي والا تہوار ہے جو كہ يونانيوں كےتہوار ميں سے ايك تہوار تھا جيسا كہ اوپر بيان كيا جا چكا ہے، اور امت يونان كےہاں يہ تہوار سب سےعظيم اور اہم تھا، اور پھر يونانيوں سے روميوں اور ان سے عيسائيوں وراثت ميں حاصل كيا.
ب - يہ ذاتي طور پر اس نام سے موسوم ہے جو يونانيوں كےتہوار كےطور پر معروف تھا.
اور اس كا صرف كھيلوں كےمقابلوں ميں تبديل ہوجانا اس كےاصلا بت پرستي كا تہوار ہونے كو ختم نہيں كرديتا، اس كي دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:
ثابت بن ضحاك رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےدور ميں ايك شخص نے نذر ماني كا وہ بوانہ نامي جگہ پر اونٹ ذبح كرےگا، تو وہ شخص نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےپاس آيا اوركہنےلگا ميں نے بوانہ ميں اونٹ ذبح كرنے كي نذر ماني ہے تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
كيا وہاں جاہليت كےبتوں ميں كوئي بت تھا جس كي عبادت كي جاتي تھي؟ تو صحابہ نےجواب ديا نہيں، تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: كيا وہاں كوئي ان كےتہواروں ميں سے كوئي تہوار منايا جاتا تھا؟ تو صحابہ كرام نےجواب ديا نہيں، تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
اپني نذر پوري كرو كيونكہ اللہ تعالي كي معصيت ونافرماني ميں نذر پوري نہيں اور نہ ہي اس ميں جس ابن آدم مالك ہي نہ ہو.
اسے ابوداود نے كتاب الايمان والنذور ( 3133 ) ميں روايت كيا ہے، اور ايك روايت ميں ہے كہ: سوال كرنےوالي عورت تھي ( 2133) اور طبراني نے طبراني الكبير ( 1431 ) روايت كي ہے.
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ سند صحيحين كي شرط پر ہے اوراس كي سند كےسب رجال ثقہ ہيں اور يہ سند عنعنۃ كےبغير متصل ہے، ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 634 ) اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالي نےبلوغ المرام (5041 ) ميں اسےصحيح كہاہے.
تونبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے اصل كا اعتبار كيا، اوراس كھيلوں كے مقابلےاولمپك كي اصل بھي ايك بت پرستوں كا تہوار ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ اس بات كا تقاضا كرتا ہے كہ اس مكان كا مشركوں كےتہواركي جگہ ہونا وہاں ذبح كرنے ميں مانع ہےاگرچہ اس نےنذر بھي مان ركھي تھي، اسي طرح اس كا بتوں والي جگہ ہونا بھي مانع ہے، وگرنہ كلام منظم اوراچھي طرح تفصيل طلب نہ كرتے، اور يہ تو معلوم ہي ہے كہ يہ اس جگہ كي تعظيم كي بنا پر تھا جس كي تعظيم وہاں تہوار مناكر كرتےيا وہاں تہوار ميں ان كي شركت يا ان كے تہوار كےشعار كوزندہ كرنےكےلئے، اور اس طرح جبكہ فعل كي جگہ يا بنفسہ فعل يا اس كےوقت كےعلاوہ كچھ نہيں .... ، اور جب ان كےتہوار كي جگہ كي تخصيص ممنوع ہے، توپھر ان كا تہوار كيسا ہوگا؟ " ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 344 ) .
يہاں ہمارامسئلہ اولمپك كےتہوار كي جگہ يا وقت نہيں بلكہ وہ بعنيہ تہوار ہے جو اصل نام سےموسوم ہے اور اس ميں جوكچھ ہوتا ہے مثلا اولمپك مشعل جلانا جو كہ اس تہوار كا ايك شعار اورعلامت ہے اوريہ اس كا وقت بھي ہے كيونكہ يونانيوں كےہاں ہر چار برس بعد يہ تہوار منايا جاتا تھا، اور اسي طرح آج اولمپك كھيليں بھي ہر چار سال بعد منعقد كي جاتي ہيں، لھذا يہ اپنے اصل اور نام اور وقت كےاعتبار سے تہوار ہي ہے اور اس ميں شركت كرني بت پرست تہوار اورپھر عيسائي تہوار ميں شركت ہے، اور اولمپك كھيلوں كے مقابلے كسي مسلمان ملك ميں منعقد كروانےكا مطالبہ اس بت پرست تہوار كو مسلمان ممالك ميں منتقل كرنا ہي ہے.
سوم:
كفار نےجن ايام اور ہفتوں كوايجاد كيا ہے ان كي دو قسميں ہيں:
1 - جن كي ان كےہاں ديني اعتبار سےاصل ملتي ہےاورپھروہ عادت ميں بدل چكےہيں جن كےساتھ كوئي دنياوي مصلحت مرتبط ہے، اس كي مثال مزدوروں كا عالمي دن جو كہ درخت كےپجاريوں نےايجاد كيا تھا، اور پھر روميوں كےہاں يہ بت پرستي كا تہوار بن گيا اور پھر فرنسيوں ميں منتقل ہو كر چرچ سے وابستہ ہوا جتي كہ اشراكيت كا دور دورا ہوا تو اس نے اس كي دعوت ديني شروع كي اور يہ عالمي اور سركاري دن بن گيا، حتي كہ بہت سے اسلامي ممالك ميں بھي سركاري دن بن چكا ہے، لھذا اسےتہوار بنا كراور كام بند كركے چھٹي كرنےكي حرمت ميں كوئي شك نہيں :
ا ـ اس كا اصلا ايك ديني اور بت پرست تہوار ہونا.
ب ـ اس كا سال ميں ايك معين دن يكم مئي ثابت ہونا.
ج ـ كفار كےخصائص ميں ان كي مشابہت كي علت كا پايا جانا.
2 - اس تہوار كي دين ميں كوئي اصل نہ ہو، مثلا صحت كا عالمي دن، اور نشہ ختم كرنےكا عالمي دن، اور ناخواندگي ختم كرنے كاعالمي دن، اس طرح كےدوسرے ايام اور ہفتےجونئےايجاد كيےگئےہيں. تويہ بھي دوحالتوں سےخالي نہيں:
ا ـ يہ كہ وہ دن يا ہفتہ عالمي طور پر سال ميں معلوم ہو، اور ہرسال اسي دن ہوتا ہو جيسا كہ بنكوں كا عالمي دن، اور اس طرح كےدوسرے ايام جو منائےجاتےہيں، اس ميں دو علتيں ہيں:
ـ وہ دن ثابت ہو اور ہرسال بعينہ اسي دن آئے .
ـ كفار سےمشابہت كي علت اس لئےكہ اس كي ايجاد انہوں نےكي ہے.
اور كيا ان عالمي دنوں جن ميں انسانيت كےلئےخيروبھلائي ہے كيا اس كي اجازت دي جاسكتي ہے، اور ميں كوئي مفر نہيں كہ مسلمان دنيا كےساتھ ان ايام ميں شريك ہوں جبكہ ان كي عدم مشاركت سے ان كي مصلحت فوت ہوجائے گي مثلا صحت كا عالمي دن، اور نشہ كےخلاف عالمي دن، جو كہ ديني طور پر نہيں بلكہ تنظيمي طور پر ہيں، اگرچہ ان ميں تہوار كي صفات پائي جاتي ہيں كہ ہر برس آتا اور جمع ہونا، اورخوشي كرنا، مجھےتويہي لگا ہے كہ اس ميں بحث اوراجتھاد ہواور مصلحتوں اور فساد كو سامنےركھيں، كيونكہ اس ميں مسلمانوں كو كسي مشورہ كا حق نہيں اور نہ ہي ان كي رائے كا اعتبار كيا جاتا ہے، بلكہ پوري دنيا پر ٹھونس ديا گيا اورجيسا كہ معلوم ہےكہ مسلمان كمزور ہيں.
ب ـ كہ سال ميں كوئي دن يا ہفتہ ثابت نہ ہو بلكہ وہ كسي مصلحت يا معين نظم كےتحت منتقل ہوتا رہے، تواس سے تہوار كي علت ختم ہوجاتي ہے جو كہ ايك محدد اور معين دن ميں آناہے، ليكن اس ميں ايك علت مشابہت باقي ہے، اگر تو يہ كفار كي ايجاد ہے اور پھر مسلمانوں ميں منتقل ہوئي تو كيا يہ حرام مشابہت ميں شامل ہے؟ يا كہ حلال مشابہت ميں تويہ اداري ترتيب وتنظيم كي طرح اور كمپنيوں اور انجنسيوں كےسالانہ حساب وكتاب كےدن كي طرح ہوگا؟
يہ بھي محل نظرميں ہے، اگرچہ مجھےابتدائي طور پر يہ ظاہرہوتا ہے كہ اس ميں كوئي حرج نہيں اس كي وجوہات مندرجہ ذيل ہيں:
ـ يہ كسي ايك معين دن ميں ثابت نہيں كہ جب بھي وہ دن آئے تويہ بھي منايا جائے، تواس طرح تہوار كي علامت ختم ہوگئي.
ـ انہيں تہوار كا نام نہيں ديا جاتا، اور نہ ہي جمع ہونےكےاعتبار سے تہوار كي صفت پائي جاتي ہے.
ـ اس كا ہدف راہنمائي اور نفع مند اہداف حاصل كرنےہيں.
ـ اس كےمنع كرنے سے بہت سےاجتماعات جو كہ وقتا فوقتا آتےرہتےہيں ان كا منع كرنا لازم آئےگا، ميرے خيال ميں ايسا كوئي نہيں كہتا، مثلا خانداني اور دعوتي، اورملازمتي اجتماعات وغيرہ.
اس ميں كوئي ايسي علت نہيں جواسے حرام كرے سوائےاس كےيہ اصلا كفار كي جانب سے ہيں اور مسلمانوں ميں منتقل ہوئےہيں، اوريہ مصيبت عام ہوچكي اور كفار وغيركفار كےہاں پھيل چكےہيں، لہذا مسلمانوں ميں پھيل جانےكي بنا پر كفار كي خصوصيت ختم ہوچكي ہے.
خلاصہ يہ ہےكہ: يہ كفار كےدين اور ان كےاعتقادات ميں سےنہيں اور نہ ہي ان كي عادات اور خصائص اور عرف ميں سےہيں اورنہ ہي اس ميں تعظيم اور اجتماع پايا جاتا ہے، اور نہ ہي يہ معلوم ايام كےتہوار ہيں كہ جب بھي يہ ايام آئيں تو يہ تہوار بھي آئيں، تويہ ان سب نظموں كےمشابہ ہوئے جن ميں كوئي مصلحت پائي جاتي ہو.
چہارم:
كفار سےمشابہت كي صورتوں ميں سےايك صورت يہ بھي ہے كہ: مسلمانوں كےتہوار ايسي اشياء سےبدل جائيں جوكفار كےتہواروں سےمشابہ ہوں: اس لئےكہ مسلمانوں كےتہواروں ميں يہ امتياز ہے كہ يہ شعار ہيں اور اللہ تعالي كےشكر اور اس كي تعظيم اوراطاعت وفرمانبرداي پر دلالت كرتےہيں، اور اس كےساتھ ساتھ اس ميں اللہ تعالي كي نعمت پر خوشي ہوتي اور اس نعمت كو اللہ تعالي كي معصيت اور نافرماني ميں صرف نہيں كيا جاتا، اور اس كےبرعكس كفار كےتہوار كا امتياز يہ ہےكہ ان ميں ان كےباطل شعار اور ان كے بتوں كي تعظيم ہوتي ہے جن كي وہ اللہ تعالي كےعلاوہ عبادت كرتےہيں، اور اس كےساتھ ساتھ حرام شھوت ميں منہمك ہوتےہيں .
اور انتہائي افسوس كےساتھ كہنا پڑتا ہے كہ: بہت سےعلاقوں ميں مسلمانوں نےاس ميں كفار سےمشابہت اختيار كرلي ہے، اور اپني عيدوں كو اللہ تعالي كي اطاعت وفرمانبرداي اور شكر سےبدل كر معصيت ونافرماني اور اللہ تعالي كي نعمتوں كي ناشكري كےموسم بنا لئےہيں ، وہ اس طرح عيد الفطر اور عيد الاضحي دونوں كي راتوں كو موسيقي اور گانوں اور فسق وفجور اور مرد وعورت كي مخلوط مجالس قائم كركےبسر كرتےہيں، اور اس كےعلاوہ جوكچھ وہ عيد كي خوشي گردانتےہيں جيسےكفار اپنےتہواروں ميں فسق وفجور كرتےہيں.
كفار كےتہواروں سے اجتناب كرنا واجب ہے:
ا ـ ان تہواورں ميں جانےسےاجتناب:
اہل علم كا كفار كےتہواروں ميں شركت كرنےاور اس ميں كفار سےمشابہت اختيار كرنے كي حرمت پر اتفاق ہے، احناف ، مالكيہ، اورشافعي، اور حنابلہ كا يہي مذہب ہے .
ديكھيں: الاقتضاء ( 2/ 425 ) احكام اہل الذمۃ لابن قيم ( 2 / 227-527 ) اور التشبہ المنھي عنہ في الفقہ الاسلامي ( 533 ).
اس كي حرمت كےدلائل بہت زيادہ ہيں جن ميں سےكچھ ذيل ميں ذكر كئےجاتےہيں:
1 - مشابہت اختيار كرنے كي نہي كےجتنےبھي دلائل ہيں جن ميں سے كچھ كا مندرجہ بالا سطور ميں ذكر ہو چكا ہے.
2 - صحابہ اور تابعين كرام كےدور ميں اس ميں حاضر نہ ہونےپر اجماع منعقد ہوچكا ہے، اوراجماع كي دليل دو وجہ سےہے:
ا ـ يہ كہ يہودي ، عيسائي اورمجوسي ابھي تك مسلمانوں كےعلاقوں ميں جزيہ دے كر رہتےاور اپنےتہوار مناتےہيں، اور وہ جوكچھ كرتےہيں بہت سے نفسوں ميں قائم ہے، پھر پہلےدور ميں كوئي مسلمان اس ميں سے كسي بھي تہوار ميں شركت نہيں كرتےتھے، اور اگر امت مسلمہ كےدلوں ميں اس كي كراہت اور نہي كا قيام نہ كيا جاتا توايسا بہت زيادہ ہوتا، جبكہ فعل كىتقاضے كي موجودگي اور اس كےعدم نفي كےساتھ لامحالہ واقع ہوتا اور مقتضي واقع ہوا ہے، تومانع كي موجودگي معلوم ہوگئي اور يہاں مانع دين ہے اور يہ معلوم ہوا كہ دين دين اسلام ہے اور وہي موافقت ميں مانع ہے اور وہي مطلوب ہے. ديكھيں: الاقضاء ( 1 / 454 ) .
ب ـ عمررضي اللہ تعالي عنہ كي شروط جن پر صحابہ كرام اور ان كےبعد فقہاء متفق ہيں كہ اہل كتاب ميں سےذمي لوگ دالاسلام ميں اپنےتہوار ظاہر نہيں كريں گے.
لھذا جب مسلمان انہيں مسلمان ملك ميں تہوار ظاہر كرنےسےمنع كرنےپرمتفق ہيں، توپھر مسلمانوں كا ان تہواروں كومنانا كيسےجائز ہوسكتا ہے؟ كيا مسلمان كا يہ فعل كافر كےفعل سےزيادہ سخت مظہر نہيں ہوگا؟ ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 454 ) .
3 ـ عمر رضي اللہ تعالي عنہ كا يہ قول:
عجميوں كي زبان نہ سيكھو، اورنہ ہي مشركوں كےتہوار كےموقع پر ان كےچرچوں ميں نہ جاؤ كيونكہ ان پر اللہ كي ناراضگي نازل ہوتي ہے.
ديكھيں: مصنف عبدالرزاق ( 9061 ) سنن الكبري للبيھقي (9 / 432 ) .
4 ـ عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالي عنہما كا قول ہے:
جس نےعجميوں كےملكوں ميں عمارت بنائي اور ان كا نوروز اور مہرجان تہوار منائےاور ان سےموت تك مشابہت اختيار كي تو قيامت كےروز انہي كے ساتھ اٹھائےجائيں گے.
ديكھيں: سنن الكبري ( 9 / 432 ) ابن تيميہ نےالاقتضاء ( 1 / 854 ) ميں اسے صحيح كہا ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
عمر رضي اللہ تعالي عنہ نےان كي زبان سيكھنےاور صرف ان كےتہوار كے موقع پرگرجوں ميں داخل ہونےسےمنع كيا ہے، توپھر ان كےبعض افعال كيسے كيے جاسكتےہيں، يا پھر ايسےكام كرنے جوان كےديني تقاضوں كےمطابق ہيں؟
كيا عمل ميں ان كي موافقت كرنا زبان كي موافقت سےبڑھ كرنہيں ہے؟ كيا ان كےتہوار كےكچھ اعمال سرانجام دينے ان كےتہوار والے دن گرجےميں داخل ہونےسے زيادہ بڑا كام نہيں؟
اوران كےتہوار كے دن ان كےاعمال كي وجہ سے ان پر ناراضگي كا نزول ہوتا ہے تو پھر جو كوئي بھي ان كےاعمال يا كچھ اعمال ميں شريك ہو تو كيا اس نےاپنےآپ كو اس سزا كا مستحق نہيں كيا ؟ ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 854 )
شيخ الاسلام عبداللہ بن عمرو رضي اللہ تعالي عنہما كےقول پر تعليق كرتےہوئےكہتےہيں:
اور يہ اس بات كامتقاضي ہےكہ ان مجموعي امور ميں مشاركت كي وجہ سے اسےكافر بنا ديا، يا پھر اسےكبيرہ گناہ كا مرتكب بنا ديا جو كہ آگ كو واجب كرديتا ہے اگر پہلا اس كےلفظ سےظاہرہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 954 )
ب ـ كفار كےافعال ميں ان كي موافقت سےاجتناب كرنا:
بعض مسلمان كفاركےتہواروں ميں تو شريك نہيں ہوسكتےليكن وہ اس جيسے ہي اعمال كرتےہيں جووہ تہواروں ميں كرتےہيں، اور يہ بھي مشابہت ميں سےہي ہے جو كہ حرام اور مذموم ہے .
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں: مسلمانوں كے لئےان اعمال ميں سے كوئي عمل كرنا بھي حلال نہيں جو كفار كےتہواروں كےساتھ خاص ہيں، نہ تو كھانےاور لباس ميں اور نہ ہي غسل اور آگ جلانا اور نہ ہي اس دن كام بند كرنےيا پھر عبادت وغيرہ كرنا، اور نہ ہي وليمہ كرنا اور تحفےتحائف دينے اور اس تہوار ميں ممد ومعاون اشياء فروخت كرنا بھي حلال نہيں، اور نہ ہي بچوں كووہ كھيل كھيلنےكي اجازت ديني چاہئے جو وہ اپنےتہواروں ميں كھيلتےہيں اور نہ مجمل طور پر زينت كا اظہار كرنا، اور ان كےلئے جائزنہيں كہ وہ ان كے تہواروں كو ان كےكسي بھي شعار كےساتھ خاص كريں، بلكہ مسلمانوں كےہاں كفار كےتہوار بھي عام ايام جيسے ہي ہونےچاہئے.
ديكھيں: مجموع الفتاوي ( 52 / 923 ) .
امام ذہبي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
لھذا جب عيسائيوں اور يہوديوں ميں سےہرايك كا تہوار خاص اور عليحدہ ہو تواس ميں مسلمان شريك نہيں ہوگا، جس طرح مسلمان ان كےقبلہ اور شريعت ميں شريك نہيں اسي طرح اس ميں بھي شريك نہيں.
ديكھيں: تشبيہ باہل الخسيس، بحوالہ مجلۃ الحكۃ عدد نمبر (4 ) صفحہ نمبر ( 391 ) .
اور ابن تركماني حنفي نے مجموعي طور پر وہ اعمال ذكر كئےہيں جو مسلمان لوگ عيسائيوں كےتہوار ميں كرتےہيں، خرچہ زيادہ كرنا، اور بچوں كو باہر گھمانا پھرانا، اور يہ ذكر كرنےكےبعد ابن تركماني كہتےہيں:
بعض حنفي علماء كا كہنا ہے: جو كچھ بيان كيا گيا ہے جس نےيہ كام كيا اور توبہ نہ كي تووہ كافر اور ان جيسا ہي ہے، اور امام مالك رحمہ اللہ تعالي كے بعض اصحاب كا كہنا ہےكہ: جس نے نوروزكےدن تربوز توڑا گويا كہ اس نے خنزير ذبح كيا . ديكھيں: اللمع في الحوادث والبدع ( 1 / 492 ) .
ج ـ ان سواريوں سےاجتناب كرنا جن پر وہ سوار ہو كران تہواروں ميں جاتےہيں:
امام مالك رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں: " ان كےساتھ ان كشتيوں ميں سوار ہونا مكروہ ہے جن ميں سوار ہو كروہ تہوار ميں شركت كرنےجاتےہيں، كيونكہ ان پر غضب اور لعنت نازل ہوتي ہے" ديكھيں: اللمع في الحودث والبدع ( 1 / 492 ) .
ابن قاسم رحمہ اللہ تعالي سے ان كشتيوں ميں سوار ہونےكےمتعلق پوچھا گيا جن ميں عيسائي سوار ہو كراپنےتہواروں ميں جاتےہيں، تو انہوں نے اسے ناپسند كيا كہ كہيں ان كےشرك كي بنا بر جس پروہ جمع ہوئےہيں ان پر غضب نازل ہوتا ہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 625 ) .
د ـ ان كے تہواروں انہيں تحفےنہ دينا يا خريد وفروخت كر كےان كےتہواروں ميں ان كي معاونت كرنا:
ابوحفص حنفي رحمہ اللہ كہتےہيں:
جس نےبھي اس تہوار ميں مشرك كواس تہوار كي تعظيم كرتےہوئے انڈا ديا اس نےاللہ تعالي كےساتہ كفر كا ارتكاب كيا. ديكھيں فتح الباري لابن حجر عسقلاني رحمہ اللہ ( 2 / 315 ) .
اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتےہيں:
ابن قاسم نے اسےمكروہ جانا ہےكہ مسلمان شخص كسي عيسائي كو ان كےتہوار كےموقع پر كوئي تحفہ يا تحفے كا بدلا دے، اور اسے ان كےتہوار كي تعظيم اور ان كے كفي كي مصلحت پر كفار كا تعاون گردانا ہے، كيا آپ يہ نہيں ديكھتےكہ مسلمانوں كےلئے ان كےتہواروں ميں استعمال ہونےوالي كوئي بھي فروخت كرني جائز نہيں، نہ توانہيں گوشت اور نہ ہي سالن اور نہ لباس اور كپڑے فروخت كيےجاسكتےہيں، اور نہ ہي انہيں كوئي سواري وغيرہ عاريتا ديني جائز ہے جسےوہ اپنےتہوار ميں استعمال كريں اوران كےتہوار كےليئے كوئي بھي ايسي چيز ديني جائز نہيں جو ان كےتہوار كےلئےممد ومعاون ثابت ہوتي ہو، كيونكہ يہ ان كےشرك كي تعظيم اور ان كےكفر پر معاونت ہے، اور مسلمان حكمرانوں كو چاہئے كہ وہ مسلمانوں كوايسا كرنے سےروكيں، امام مالك وغيرہ رحمہ اللہ كا يہي قول ہے، ميرے علم ميں نہيں كہ اس ميں كوئي اختلاف كيا گيا ہو. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 625 - 725) .
اور ابن تركماني رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
ان كي تقريبات اور تہوار ميں مسلمان ان كےساتھ بيٹھنےاور ذبح اور كھاناتيار كرنےاور انہيں عاريتا سواري وغيرہ مہيا كرنے پر گنہگار ہوگا. ديكھيں: اللمع في الحوادث ( 1 / 492 ) .
ھ ـ كفار كےتہواروں ميں مشابہت اختيار كرنےوالے مسلمان شخص كي مشابہت اختيار كرنےميں مدد ومعاونت كرني:
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
جس طرح ہم ان كےتہواروں ميں ان كي مشابہت نہيں كرسكتےاسي طرح اس ميں مشابہت اختيار كرنےوالےمسلمان شخص كي معاونت اور مدد بھي نہيں كي جاسكتي، بلكہ اس سےمنع كيا جائےگا، لھذا جس نےبھي خلاف عادت ان كےتہواروں ميں دعوت كي تواس كي يہ دعوت بھي قبول نہيں كي جائےگي، اور مسلمانوں ميں سےجس نےبھي اس تہوار كےعلاوہ باقي بھي باقي اوقات ميں خلاف عادت ان تہواروں كےموقع پر كوئي تحفہ اور ہديہ وغيرہ ديا اس كا تحفہ بھي قبول نہيں كيا جائےگا، اور خاص كر جب يہ تحفہ ايسا ہو جس ميں ان كفار سےمشابہت ہوتي ہو، جيساكہ ہم بيان بھي كرچكےہيں، اور اسي طرح مسلمان كسي دوسرے مسلمان شخص كو كوئي ايسي چيز مثلا لباس ، كھانا، وغيرہ فروخت نہ كرے جس سے ان كےساتھ مشابہت اختيار كرنےميں تعاون اور مدد لي جاتي ہو، اس لئےكہ ايسا كرنا برائي ميں تعاون ہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 915 - 025 ) .
د ـ كفار كو ان كےتہوار كي مباركباد دينا:
ابن قيم رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
كفركےساتھ مختص شعار كي مباركباد دينا بالاتفاق حرام ہے، مثلا ان كے تہواروں اور ان كےروزے كي مبارك ديتےہوئےيہ كہا جائےكہ" آپ كوعيد مبارك ہو" يا آپ اس عيد سےخوش ہوں وغيرہ مباركبادي كےالفاظ ادا كرنے، مباركباد دينا والا اگركفر سے بچ جائےگا ليكن ايسا كرنا حرام ہے اوريہ ايسے ہي ہے كہ جيسےكسي شخص كو صليب كےسامنےسجدہ كرنےكي مباركباد دي جائے، بلكہ اللہ تعالي كےہاں تويہ شراب نوشي اور قتل كرنےزنا كاري كرنےكي مباركباد دينے سےبھي بڑھ كرناراضگي اور غضب والي چيز ہے .
بہت سےايسےلوگ جنہيں دين كي كوئي قدر نہيں وہ ان كاموں ميں پڑ جاتےہيں اور انہيں اس فعل كي قباحت اور برائي كا علم تك نہيں ہوتا، لھذا جس نےبھي كسي كو كسي برائي يا بدعت يا كفر كرنےپر مباركباد دي تواس نے اپنے آپ كو اللہ كےغضب اورناراضگي كا مستحق ٹھرايا، اہل علم ميں اہل ورع اورتقوي والے لوگ ظالم قسم كےلوگوں كو گورنري اور جاہل قسم كےلوگوں كو منصب قضاء اور فتوي اور تدريس وغيرہ دينےكامنصب حاصل ہونے كي مباركباد دينےسےاجتناب كرتےتھےتا كہ اللہ تعالي كي ناراضگي اور غضب سےبچا جاسكے اور ان كي آنكھوں سےگرنےسےبچ سكيں. اھ ديكھيں احكام اہل الذمۃ ( 1 / 144 - 244 ) .
كفار كوان كےديني تہواروں كي مباركباد دينا حرام ہےاس وجہ كہ ابن قيم رحمہ اللہ تعالي نےذكر كيا ہےكہ:
ايسا كرنےميں اس بات كا اقرار اور رضامندي ہے كہ جس دين اور گمراہي پروہ ہيں وہ صحيح ہے اگرچہ وہ اپنے لئے اس كفر پر راضي نہيں، ليكن مسلمان پر حرام ہےكہ وہ كفر كےشعار پر راضي ہو اور اس كي كسي دوسرے كو مباركباد دے ، كيونكہ اللہ تعالي اس سےراضي نہيں ہوتا جيسا كہ مندر جہ ذيل فرمان ميں اللہ تعالي نےارشاد فرمايا:
{اگر تم كفر كروگے تو ياد ركھو اللہ تعالي تم سب سےبےنياز ہے اور وہ اپنے بندوں كےلئے كفر پر راضي نہيں ہوتا اور تم شكر كرو گے تو وہ تمہارے لئےراضي ہوگا} الزمر ( 7 ) .
{آج ميں نے تمہارے دين كو كامل كرديا ہے اور تم پر اپنا انعام بھرپور كرديا ہے اورتمہارے لئے اسلام كےدين ہونےپر رضامند ہوگيا} المائدۃ ( 3 )
اور كفار كواس كي مباركباد ديني حرام ہے، چاہے وہ اس كےساتھ ملازمت كرتےہوں يا نہ اور جب وہ ہميں اپنےتہواروں كي مباركباد ديں تو ہم اسےقبول نہيں كرينگےاور جواب نہيں دينگے، كيونكہ يہ ہمارے تہوار اور عيديں نہيں ، اور اس لئےكہ يہ تہوار ايسےہيں جن پر اللہ تعالي راضي نہيں ہوتا، اس لئے كہ يا تو يہ تہوار ان كےدين ميں بدعات اور نئےايجاد كردہ ہيں، يا پھر مشروع ، ليكن يہ سب دين اسلام جس كو دے كر اللہ تعالي نے محمد صلي اللہ عليہ وسلم كو سب انسانيت كےلئے مبعوث فرمايا اس دين كےساتھ منسوخ ہوچكےہيں، اور اسي كےبارہ ميں اللہ تعالي كا ارشاد ہے:
{اور جو كوئي بھي دين اسلام كےعلاوہ كوئي اور دين تلاش كرے گا اس كا وہ دين قبول نہيں كيا جائےگا اور وہ آخرت ميں نقصان اٹھانےوالوں ميں سے ہو گا} آل عمران ( 85 ) .
اور اس تہواروں كي مناسبت سے كي جانےوالي دعوتيں بھي مسلمان كے لئے قبول كرنا حرام ہيں ، اس لئےكہ يہ مباركباد دينےسےبھي بڑي چيز ہے كيونكہ اس سے ان كےتہوار ميں مشاركت ہوتي ہے اورجس نےبھي ايسا كيا وہ گنہگار ہوگا چاہے اس نے يہ كام كسي كا لحاظ ركھتےہوئےكيا يا پھر محبت اور حياء كي بنا پر ياكسي اور سبب كي وجہ سے، كيونكہ اللہ تعالي كےدين ميں مداہنت اور مل ملا كر كام كرنےميں كفار كو تقويت حاصل ہوتي ہے اور وہ اپنے دين پر خوش ہوتے اور فخر محسوس كرتےہيں .
ديكھيں: مجموع فتاوي ورسائل فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين جمع وترتيب فہد سلمان ( 3 / 54 - 64 ) .
مسئلۃ:
اگر كوئي مسلمان اس طرح كا جشن منانا چاہے ليكن ان كےتہوار سے پہلے يا بعد ميں منائےتاكہ ان سےمشابہت نہ ہو؟
جواب : يہ بھي مشابہت كي ايك قسم ہے جو كہ حرام ہے كيونكہ كشي چيز كي حرمت اس ميں داخل ہے، اور تہوار سےپہلے اور تہوار كےبعد ان ايام ميں جواس تہوار كي بنا پر كرتےہيں يا پھر اس تہوار منانےكي جگہ كےآس پاس اس تہوار كےلئےجوكچھ ہوتا ہے ، يا اس تہوار كےاعمال كي بنا پر جو اعمال كئے جاتےہيں ان سب كا حكم بھي اس تہوار كا ہي حكم ہے، لھذا اس ميں كوئي چيز بھي نہيں كي جائےگي، كيونكہ بعض لوگ ان كےتہوار كےدنوں ميں ہوسكتا ہے كوئي كام كرنےسے رك جائيں مثلا جمعرات جسے وہ عہد كي جمعرات يا اوپڑ چڑھنےكي جمعرات كہتےہيں جو كہ نصاري كےتہوار ( ايسٹر ڈے ) كےشعار ميں سے ہے اور اسے بڑي جمعرات كا نام ديتےہيں ، اور ميلاد ( كرسمس ) تو يہ مسلمان شخص اپنےگھروالوں اور بچوں سے كہے كہ تمہارے لئے ميں يہ كسي اور مہينہ يا ہفتہ ميں بناؤں گا، اور اس كا اصل محرك تو ان كفار كا تہوار ہي ہے كيونكہ يہ تہوار نہ ہوتا تو وہ اس كا مطالبہ ہي كرتے، لھذا يہ بھي مشابہت ميں ہي شامل ہوگا . ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 315 ).
ھ ـ ان كےتعبدي نام اور اصطلاحات كےاستعمال سےاجتناب:
اگر بغير كسي حاجت اور ضرورت كے عجمي زبان اور لہجہ ميں گفتگو كرنا اس علت كي بنا پر منع كيا گيا ہے كہ اس سےان كےساتھ مشابہت ہوتي ہے، توپھر ان كےتہواروں كےنام يا ان كےشعارات كي اصطلاحات كا استعمال كرنا بدرجہ اولي ممنوع ہوا، مثلا ہر بڑے اجتماع پر مہر جان كا لفظ بولنا جائز نہيں كيونكہ يہ فارس كا ايك ديني تہوار ہے.
امام بيھقي رحمہ اللہ تعالي نے روايت كيا ہےكہ:
علي رضي اللہ تعالي عنہ كونوروز كا تحفہ ديا گيا تو انہوں كہا يہ كيا ہے؟ تو انہيں جواب ميں كہنےلگے: اے اميرالمومنين يہ نوروز تہوار كا تحفہ ہے تو علي رضي اللہ تعالي عنہ نےكہا: ہر دن كو فيروز بناؤ. ابو اسامہ كہتےہيں كہ علي رضي اللہ تعالي عنہ نے نوروز كہنا پسند نہ كيا تو اسے فيروز كہا، اسےامام بيھقي نے السنن الكبري ( 9 / 532 ) ميں روايت كيا ہے.
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
اور علي رضي اللہ عنہ نےتو ان كےتہوار كےنام كي موافقت ناپسند كي وہ ان كا انفرادي تہوار تھا، تو پھر عمل ميں ان كي موافقت كيسےہوگي ؟ ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 954 ) .
اور يہ بيان كيا جا چكا ہے كہ يہ لفظ عربي نہيں اور عربي زبان ميں بہت سے ايسےالفاظ ہيں جواس لفظ سے مستغني كرديتےہيں اوراس سے بہتر اور اچھے ہيں.
ان كےتہواروں ميں كفار كےتحفے قبول كرنے كا حكم :
اوپر كي سطور ميں يہ بيان ہوچكا ہے كہ كفار كےتہوار كےموقع پر انہيں تحفے دينا جائز نہيں كيونكہ ايسا كرنا ان كےباطل ميں ان كي اعانت ومدد ہے، اور يہ بھي بيان ہوچكا ہے كہ ان كے تہوار ميں ان كي مشابھت كرنے والے مسلمان شخص كا تحفہ قبول كرنا بھي جائز نہيں كيونكہ اس كا تحفہ قبول كرنےميں اس كي مشابہت ميں اس كا تعاون اور اس كا اقرار ہےكہ اس نےصحيح كام كيا ہے اوراس حرام فعل كو سرانجام دينےميں اس پر عدم انكار ہے.
ليكن اگر كافر شخص اپنےتہوار كےموقع پر مسلمان شخص كو تحفہ دے تو وہ تحفہ اس كےعلاوہ دوسرے تحفہ كي طرح ہي ہے، اس لئے كہ اس ميں ان كفر ميں اعانت اور مدد نہيں ، ليكن يہ مسئلہ اختلافي ہے اور اس ميں تفصيل پائي جاتي ہے جو حربي اور ذمي كافر كا تحفہ قبول كرنےپر مبني ہے.
يہ علم ميں ركھيں كہ ان كےتحفے دو قسم كےہيں:
1 - ان كےتہوار كي بنا پر ذبح كئے جانےوالے گوشت كےعلاوہ كوئي اور تحفہ ہو مثلا مٹھائي ، پھل وغيرہ كےاستعمال كرنےميں اختلاف ہے جو كافر عمومي تحفہ قبول كرنےپرمبني ہے، اور ظاہر يہي ہے كہ يہ جائز ہے جيسا كہ اوپر بيان ہوچكا ہے كہ علي رضي اللہ تعالي عنہ نے يہ تحفہ قبول كيا، اور اس لئے بھي كہ حديث ميں وارد ہے كہ ايك عورت نے عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا سے كہا:
ہمارےكچھ مجوسي رضاعي رشتہ دار ہيں ، اور وہ اپني عيد كےموقع پر ہيں تحفے بھيجتےہيں : تو عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا كہنےلگيں:
جوكچھ اس تہوار كےلئے ذبح كيا گيا ہو وہ نہ كھاؤ ليكن ان كےدرختوں سےكھاليا كرو.
ديكھيں مصنف ابن ابي شيبہ كتاب الاطعمۃ ( 5 / 521 ) حديث نمبر ( 16342)، اور الاقتضاء ميں ہے كہ ( ان لنا آظارا ) الاقتضاء كےمحقق كہتےہيں كہ ہوسكتا ہے اس سے رضاعي رشتہ دار مراد ہوں .
اور ابو برزہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ:
ان كےكچھ رہائشي مجوسي تھے جونوروز اورمہرجان كےتہوار كےموقع پر انہيں كچھ تحفے بھيجا كرتےتو ابو برزہ اپنےگھروالوں كو كہتے كہ پھل كھالو اور اس كےعلاوہ جوكچھ ہے وہ واپس كردو. مصنف ابن ابي شيبہ حديث نمبر ( 26342 ) .
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ سب اس پر دلالت كرتا ہے كہ ان كا ہديہ قبول كرنےميں ان كےتہوار كي كوئي تاثير نہيں، بلكہ اس كا تہوار اور غير تہوار ميں حكم برابر ہے اس لئےكہ اس ميں ان كےكفريہ شعار ميں ان كا كوئي تعاون نہيں. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 455 - 555 ) .
2 - يہ كہ ان كا تحفہ تہوار كےلئےذبح كردہ گوشت ہو تو يہ نہيں كھانا چاہئے اس كي دليل عائشہ رضي اللہ تعالي اور ابوبرزہ رضي اللہ تعالي عنہ كے اثر ہيں جو اوپر بيان كئےجا چكےہيں، اور اس لئے كہ يہ كفريہ شعار پر ذبح كيا گيا ہے . ديكھيں الاقتضاء ( 2 / 455 - 555)
ز ـ كفار كےتہواروں كي مخالفت ميں ان كےتہوار كےدن خصوصا روزہ ركھنا:
اس ميں علماء كرام كا اختلاف ہے:
1 - ان كي مخالفت ميں تہوار كےدن روزہ ركھنےميں كوئي كراہت نہيں، ليكن يہ قول ضعيف ہے.
2 - روزہ ركھنےكےلئے ان كےتہوار كا دن خاص كرنا صحيح نہيں، كيونكہ ان كےتہوار تعظيم كي جگہ ہيں اور كسي اور دن كےعلاوہ خاص كراس دن روزہ ركھنےميں اس تہوار كي تعظيم ميں كفار كي موافقت ہے.
ابن قدامہ رحمہ اللہ تعال كہتےہيں:
اور ہمارے اصحاب كا بھي كہنا ہے كہ: نوروز اور مہرجان كےايام كو روزے كےلئےخاص اورانفرادي حيثيت دينا مكرہ ہے، كيونكہ يہ دونوں دن كفار كي تعظيم كےدن ہيں، لھذ كسي اور دن كےعلاوہ صرف انہيں روزے كےلئےخاص كرنا اس تہوار كي تعظيم ميں كفار كي موافقت ہے لھذا اس كا روزہ ركھنا مكروہ ہوا، جيسا كہ ہفتےكا دن، اس پر قياس كرتےہوئے كفار كےہرتہوار يا جسےوہ تعظيم ديتےہوں اس كا روزہ ركھنا صحيح نہيں. ديكھيں: المغني لابن قدامۃ ( 4 / 924 ) اور الاقتضاء ( 2 / 975 ) .
يہ حكم تواس ميں ہے كہ اگر اس دن كا خصوصا روزہ ركھاجائے كيونكہ يہ ان كا تہوار ہے، ليكن اگر كس شخص كا بغير كسي قصد كے نذر يا نفلي روزہ اس دن يعني ان كےتہوار ميں آجائے تواس ميں كوئي حرج نہيں. ديكھيں: حاشيۃ ابن قاسم علي الروض المربع ( 3 / 64 ) .
اور ان كےتہواروں ميں كفار كي مخالفت كا ضابطہ اور قانون يہ ہےكہ: اصلا اس تہوار كےدن كوئي نيا كام نہ كرے، بلكہ يہ دن بھي اس كےلئےباقي عام دنوں جيسا ہي ہونا چاہئے. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 815 ) .
لہذا ان كےتہوار ميں چھٹي كركےكام وغيرہ بند نہ كرے، اور نہ ہي اس كي كوئي خوشي كرے اور اسي طرح اس دن كوروزہ يا غم وغيرہ كےلئےبھي خاص نہ كرے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي نے ايسي كلام ذكر كي ہے جس سےتشابہ اختيار كرنےكا ضابطہ اورقانون وضع ہوسكتا ہے:
اور تشبہ يہ ہےكہ: كوئي عمل يا فعل اس لئےكيا جائےكہ وہ انہوں نےكيا اور يہ نادر ہے اور جس نےبھي كسي فعل ميں اس لئے كسي دوسرے كي پيروي كي كہ اس اس كي غرض تھي اور اصل ميں وہ فعل كسي دوسرے سے ليا گيا ہو، ليكن جس نے كوئي كام كيا اور اتفاقا يہ فعل كسي دوسرے نےبھي كيا اور اس نےيہ عمل يا فعل صاحب عمل سےنہ ليا ہو تواس كي مشابہت ہونا محل نظر ہے، ليكن اس سےاس لئےمنع كيا جاسكتا ہے كہ يہ كام مشابہت كا ذريعہ نہ بن جائےاوراس ميں جو مخالفت پائي جاتي ہے اس كي وجہ سےمنع كيا جاسكتا ہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 242 ) .
جو كچھ شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي نےذكر كيا ہےاس كي بنا پر جو كچھ وہ كرتےہيں اس كي موافقت كي دو قسميں ہيں:
1 ـ كفار كےساتھ مشابہت اختيار كرنا، اور يہ مشابہت كسي بھي غرض سے ہو تويہ حرام ہے.
2 ـ ان كےمشابہ ہونا: يہ وہ مشابہت ہے جو بغير كسي قصد وارادہ كے ہو، ليكن ايسا كرنےوالے كےلئےاس كا بيان اور اس پرانكار كرنا چاہئے كہ اگر وہ اس سےبچ جائےتو بہتر ہے وگرنہ وہ حرام مشابہت ميں پڑ جائےگا، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضي اللہ تعالي عنہما بيان كرتے ہيں كہ:
رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے زرد رنگ كے دو كپڑے ديكھے اور فرمانےلگے: يقينا يہ كفار كےكپڑوں ميں سے ہيں، لھذا تم اسے نہ پہننا.
اور ايك روايت ميں ہے كہ: كيا تيري والدہ نےاس كا حكم ديا ہے؟ ميں نے عرض كيا ان كودھولوں؟ تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: بلكہ انہيں جلا دو.
دونوں روايتيں امام مسلم رحمہ اللہ تعالي نے صحيح مسلم كتاب اللباس والزينۃ ميں بيان كيں ہيں ديكھيں صحيح مسلم حديث نمبر ( 7702 ) .
قرطبي رحمہ اللہ تعالي كہتے ہيں:
يہ اس كي دليل ہے كہ انہيں پہننے سے منع كرنے كي علت كفار سے مشابہت ہے. ديكھيں: المفھم لما اشكل من تلخيص مسلم ( 5 / 993 ) .
حديث سےيہ ظاہر ہوتا ہے كہ عبد اللہ رضي اللہ تعالي عنہ كو علم نہيں تھا كہ يہ كفار كےلباس سےمشابہ ہے، ليكن اس كےباوجود نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے اس سےمنع كيا اوراس كا شرعي حكم بيان فرمايا.
يہ تواس وقت ہے جب كسي چيز كي اصل كفار سےہو، ليكن جب اس كا علم نہ ہو كہ يہ چيز كفار كي اصل ميں سے ہے بلكہ وہ كام كفار بھي كرتے ہوں اور ان كےعلاوہ دوسرے بھي كرتےہوں توايسا لگتا ہے كہ يہ مشابہت نہيں.
ليكن شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي سد ذريعہ اور مسلمان كو مشابہت سے بچانےكي وجہ سےاس سے بھي منع كرنے كي رائے ركھتےہيں، اور اس لئےبھي كہ اس سےركنےكامقصد كفار كي مخالفت ہے.
كفار كےتہوار اور منافقين :
1 - ايك عرب ملك ميں اشتراكي بعث پارٹي نے بھوك اورخشكي كو دليل بنا كر قرباني ختم كرنےكا مطالبہ كيا، اور اس كي طرف دعوت دينےوالوں نے بہت بڑے بڑے بينر لگائے جن پر لكھا تھا:
بھوكے اور فقراء اوربےلباس لوگوں كےلئےايك قرباني كے چھترے كي قيمت جمع كرائيں.
ديكھيں: مجلۃ الاستجابۃ عدد نمبر ( 4 ) ربيع الثاني 1406هـ
اور عيدالاضحي سلامتي و امن سےگزر گئي اور مسلمانوں نےاس ملك ميں قرباني كي، پھر جب عيد ميلاد ( كرسمس ) اور سال نو كا تہوار قريب آيا تو اس كےجشن كي تيارياں شروع ہوگئيں اور پھر جب سال نو اور كرسمس كا تہوار آيا تو اس ملك ميں سركاري طور پر چھٹياں بڑے عظيم الشان جشن اور راتوں كوشور شرابا منايا گيا اور اس جشن ميں پيش پيش رہنے والے لوگ اشتراكي بعث پارٹي كے عہديداران شامل تھے جنہيں نصاري كےتہوار نے انہيں بھوكوں اورفقراء اور بےلباس ننگےلوگوں كےحالات ہي بھلا دئے، انہيں اس طرح كےلوگوں كےحالات صرف مسلمانوں كي عيد پر ہي ياد آتےہيں !!!
2 ـ ان ميں سےايك نے ہفتہ وار كالم لكھا جس كا عنوان ( درگزر ) تھا، اس ميں ايسي كلام لكھي جواس كےدل كي بيماري اور ديني كمزوري كي عياں كر رہي تھي، اورجو يہ تسامح اور درگزر چاہتا تھا وہ عيسائي تہوار كرسمس اور سال نو كےتہوار كي مناسبت سےتھا، اپنے آپ كو ہوشيار اور چالاك سمجھنےوالے نے جوكچھ كہا اس ميں سے يہ تھا كہ:
لہذا يہ انساني بھائي چارہ اور اخوت ساري بشريت كو عام ہے، اور تفرقہ و دشمني لڑائي كےوقت كےعلاوہ نہيں ہوگي، اور جب مسلمانوں كي جماعت كسي دوسري جماعت سےدشمني كرے توپھر اپنےآپ كےدفاع كےلئے لڑائي اور دشمني مشروع ہے، باوجود اس كےكہ بعض دہشت گرد اور تشدد پسند جماعتيں اس آگ كو ايسي تفسيرو آراء سے بھجانا چاہتي ہيں جو انسانوں كے مابين كراہيت اور بائيكاٹ پر ابھارتي ہيں، وہ ان باتوں كو عام تقريبات ميں كرتےہيں جو عالمي طور پر منائي جاتي ہيں، اور كسي دوسرے كو مباركباد دينا اسلام اور صحيح راہ سےانحراف شمار كرتےہيں، - ميري زندگي كي قسم ـ يہ وہ تو محبت كي اشاعت ہے نہ كہ بغض وعناد كي وہ قربت كي اشاعت ہے نہ كہ نفرت و دوري كي.
كالم نگار اپني اس اندھي اور شكست خوردہ درگزري كوبيان كرنے كا سلسلہ جاري ركھتےہوئےجو كالموں ميں مكمل ہوئي تا كہ عيسائيوں كےسارے تہواروں كو محيط ہو جس كي محبت اس كےدل ميں گھر كر چكي ہے لھذا وہ دوسرے كالم ميں كہتا ہے:
لھذا اصل تو نيكي يعني درگزر اور عدل وانصاف ہے، اور رہي دشمني تو يہ ان لوگوں كےخلاف ہے جنہوں نے ہمارے خلاف لڑائي كا اعلان كر ركھا ہے، اور رہا مسئلہ اديان مختلف ہونے كا تواس ميں روز قيامت اللہ تعالي كا عدل اور اس كي رحمت ہوگي، اور يہ كہنا كہ يہ درگزر اورتسامح غيرمسلموں كے ساتھ دوستي اور موالاۃ ہے اس قول كو علما نےاس كہہ كر رد كيا ہے كہ:
ممنوع دوستي و موالاۃ تويہ ہے كہ ان جنہوں نےمسلمانوں كےخلاف اعلان جنگ كر ركھا ہے ان كےساتھ اعلانيہ جنگ ميں دوستي نہ كي جائے كيونكہ اس وقت يہ عظيم خيانت ہوگي، اور اس وقت كسي ايك مسلمان شخص كےلئے ان كي مدد ونصرت كرنا اور انہيں اپنےدوست بنانا حلال نہيں جنہيں اپنے راز كي باتيں بتائيں جائيں.
ديكھيں: عربي اخبار عكاز تاريخ ( 28 / 8 / 1418 هـ ) ( 5 /9/ 1418هـ)
تو يہ كلام گمراہي وضلالت اور اسلام ميں شك اور كفر كو صحيح كہنے كے علاوہ كچھ نہيں ، اللہ تعالي اس سےبچا كرركھے.
پھر وہ اپنےتيسرے كالم ميں بےہودہ اور گھٹيا قسم كي تہمتيں لگاتا ہے جيسا كہ انگريز كےان ايجنٹوں اوربھڑيوں كي عادت ہے كہ وہ اپنے اداريوں اورمقالات اور كالموں وغيرہ ميں لكھتےہيں كہ جو بھي اس كي صحافتي فقاہت ميں اس كي موافقت نہيں كرتا وہ دہشت گرد اور خون بہانےوالا اورحدسےتجاوز كرنےوالا ہے.
ميں يہ خيال نہيں كرتا تھا كہ امت كي حالت اس ذلت و رسوائي تك پہنچ سكتي ہے، اور نہ ہي پيروي اور شكست اس شرمناك حد تك پہنچ سكتي ہے، ليكن جب وسائل اعلام پرنٹ اور اليكٹرانك ميڈيا پر اس طرح كے ہوس پرست اورموٹرين قسم كي لوگ چھائےہوئے ہوں تو پھر اس كےعلاوہ اور كيا توقع كي جاسكتي ہے؟
اس امت كےحالات كا شكوہ اللہ كي جانب ہي ہے جس امت كا عقيدہ الولاء والبراء دوستي اور دشمني اور اس كا طريقہ اور منہج ايسي صحافت اور ميڈيا كے ذريعہ مقرر كيا جاتا ہو جس پر ايسےلوگ چھائےہوں جو فنون لطيفہ اور كھيلوں كي اكيڈمي سے فراغت پانے والےہوں جن كي اكثر ثقافت فنكاروں اور رقاصوں اور گانےوالے موسيقاروں اور كھلاڑيوں كےنام پر مشتمل ہو.
پھر افسوس كہ چند ہفتوں بعد بيسويں صدي كےاختتام كا جشن منانے كےمتعلق كيا كچھ لكھيں گے؟
بلاشبہ وہ اپني عادت كےمطابق سب مسلمانوں كو اس ميں شريك ہونے كي دعوت ہي دينگے، تا كہ اسلام كو بنياد پرست دين يا دقيا نوسي باتيں قرار نہ ديا جائے، اور اس لئے لكھيں گے كہ دنيا كےلئےثابت كرسكيں كے وہ ترقي يافتہ مسلمان ہيں جس ميں كفايت ہے تا كہ ان سے صليب اور بچھڑے كےبچاري راضي اور خوش ہوجائيں، ہلاكت وتباہي ہے پھر ہلاكت وتباہي و بربادي ہے اس شخص كےلئے جس نے اس عالمي جشن ميں مسلمانوں كي شركت كا انكار كيا، كيونكہ اسے بنياد پرست اور اصول پرست اور حد سے تجاوز كرنےوالے اور دہشت گر اور خون بہانےوالے جيسے القاب اورتہمت كا سامنا كرنا پڑے گا.
اور ان شكست خوردہ ذہن كےمالك لوگوں سے كوئي بعيد نہيں كہ ان سے اس جشن ميں شركت كي جواز كے تيار شدہ اور عام فتوے جاري ہوں اور صحافي اسے ليكر اس كےساتھ ہزاروں جھوٹ ملا كر صحافت ميں شائع كريں تا كہ مسلمانوں كو اس جشن ميں شركت پرمطمئن كرسكيں، كہ اسلام نے اپني درگزري اور تسامح اور اساني كي بنا پر كفر كےشعار ميں شركت كي اجازت دے دي ہے، تا كہ ہم كفار كےجذبات مجروع نہ كريں، اور ان كےجشن كي صفائي ميں كوئي گند نہ اچھاليں جو وہ بيسويں صدي كےخاتمہ پر منانے رہے ہيں، ايسي صدي جس ميں زمين كےكونے كونےپريہوديوں اور عيسائيوں كےہاتھوں عقيدہ اور ديني كي جنگ ميں مسلمان كا خون كيا جا رہا ہے، جس كا كوئي بدلہ لينےوالا نہيں، اور كوسوو كي خبريں اس جشن سے كوئي دور نہيں كيونكہ يہ اس عيسائي صدي كےآخري برس ميں وقوع پذير ہوا !!!
ديكھيں: مجلۃ البيان ( عربي ) عدد نمبر ( 143- 144 )
ماخوذ:اسلام سوال جواب
عام قارئین کے فائدہ کیلئے میں نے اسے پوسٹ کیاہے