Thursday, 23 January 2025

اردو کونسل ہند دربھنگہ اکائی کا قیام عمل میں آیا

 



سرپرست سابق اے ڈی ایم نیاز احمد ، صدر مشتاق شمشی،نائب صدر ایڈوکٹ شاہد اطہرو ڈاکٹر ارشد حسین سلفی نامزد

دربھنگہ ( نمائندہ) ا±ردو کونسل ہند کمیٹی کے ناظم اعلیٰ اسلم جاوداں نے اس تنظیم کو مظبوطی فراہم کرنے کی غرض سے پورے صوبے کے ساتھ ساتھ دربھنگہ میں بھی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اس کے لئے انہوں نے اردو کونسل ہند کے دربھنگہ ضلع اکائی کا سرپرست سابق اے ڈی ایم نیاز احمد کو بنایا ہے جبکہ صدر کی زمہ داری مشتاق شمشی کو دی گئی ہے اسی طرح نائب صدر ایڈوکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس و ڈاکٹر ارشد حسین سلفی نامزد کئے گئے ہیں اس کے علاوہ جنرل سکریٹری کے عہدہ پر نسیم احمد رفعت مکی وہیں عرفان احمد پیدل و انجینئر عظمت اللہ ابو سعید کو کمیٹی کا سکریٹری نامزد کیا گیا ہے جبکہ کمیٹی کو مزید بہتر و مظبوطی فراہم کرنے کی غرض سے ناظم اعلیٰ نے جاوید اختر ، ڈاکٹر منور عالم راہی ، قاری محمد شہاب الدین ، سرور حسین صدیقی ، حافظ مزمل الحق ندوی ، امام الدین ندوی ، مولانا امن نواز خان ، سید حامد انور و ماسٹر قیصر احسن کو کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا ہے اردو کونسل ہند دربھنگہ اکائی کی کمیٹی تشکیل دیئے جانے پر دربھنگہ ضلع کے سینکڑوں افراد و دانشوران نے کمیٹی کے دربھنگہ ضلع کے عہدے داران سمیت تمام رکن کو دلی مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کیا ہے کہ ان لوگوں کی محنت و مشقت سے کمیٹی مزید مظبوط ہوگی ساتھ ساتھ مسلمانوں و خاص کر اردو سے متعلق جو بھی مسئلے مسائل ہیں اسے اس کمیٹی کے رکن حل کرنے و کرانے میں محنت کریں گے و عملی جامہ پہنانے میں پورا تعاون کریں گے اتنا ہی نہیں ضلع انتظامیہ و تمام افسران و سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں میں جاکر اردو سے متعلق گفتگو کریں گے ساتھ ساتھ ان اسکولوں میں جو اردو کے اساتذہ کرام ہیں وہ اردو کے ساتھ کس طرح سے پیش آتے یا آ رہے ہیں اس پر گفتگو کریں گے اردو پڑھنے والے بچوں سے گزارش ہے کے آپ اردو پڑھنے کے ساتھ ساتھ چھٹی و سارے معاملات کی درخواست اردو ہی میں دیں۔ کمیٹی سارے مسلمان دکانداروں بھائی و بہنوں سے گزارش کرتی ہے کہ اپنے دکان کا بورڈنگ و گھروں پے نیم پلیٹ اردو میں لگوانے کا کام کریں۔


Wednesday, 22 January 2025

جنتا دل یو نے منی پور میں بی جے پی سے حمایت واپسی کا کیا اعلان

 




بہار میں بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت چلانے والی جنتا دل یو نے منی پور میں بی جے پی کو زوردار جھٹکا دیا ہے۔ نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یو نے ا?ج (22 جنوری) بی جے پی کی منی پور حکومت کو حمایت نہ دینے کا فیصلہ کر سیاسی ہلچل میں اضافہ کر دیا ہے۔ اب ریاستی اسمبلی میں جنتا دل یو کے واحد رکن اسمبلی محمد عبدالناصر اپوزیشن کی بنچ پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔


قابل ذکر ہے کہ تقریباً 2 سالوں سے تشدد کا سامنا کر رہی ریاست منی پور میں نظامِ قانون کو لے کر بی جے پی پر پہلے ہی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ جنتا دل یو کی حمایت واپسی سے حکومت کو خطرہ تو نہیں لیکن یہ ایک جھٹکا ضرور ہے۔ منی پور میں 2022 میں ہوئے اسمبلی انتخاب کے دوران جنتا دل یو نے 6 سیٹیں جیتی تھیں۔ انتخاب کے چند ماہ بعد ہی 5 اراکین اسمبلی بی جے پی میں چلے گئے تھے۔ اس سے برسراقتدار پارٹی بی جے پی کے اراکین اسمبلی کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ جنتا دل یو کے پاس صرف ایک رکن اسمبلی رہ گیا تھا، اور اب موجودہ سیاسی ماحول میں پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بی جے پی کو حمایت نہیں دے گی۔


منی پور کی جنتا دل یو یونٹ کے چیف کیش بیرین سنگھ نے گورنر اجئے کمار بھلّا کو ایک خط لکھا ہے جس میں پارٹی کے فیصلے سے متعلق جانکاری دے دی ہے۔ جنتا دل یو کی حمایت واپسی کا یہ فیصلہ کونراڈ سنگما کی قیادت والی این پی پی کے ذریعہ گزشتہ سال نومبر ماہ میں حمایت واپسی کے فیصلہ کے چند ماہ بعد ہی لیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے منی پور کی بی جے پی حکومت کو بھلے ہی کوئی خطرہ نہ ہو، لیکن حکومت سے متعلق ایک منفی پیغام ضرور گیا ہے۔


کیش بیرین سنگھ نے گورنر کو تحریر کردہ اپنے خط میں لکھا ہے کہ جنتا دل یو کی منی پور یونٹ ریاست میں بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت کی حمایت نہیں کرتی۔ اس لیے ہمارے واحد رکن اسمبلی محمد عبدالناصر کو ایوان میں اپوزیشن رکن اسمبلی مانا جائے۔ حالانکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ نتیش کمار نے منی پور کی بی جے پی حکومت سے حمایت واپسی کا اعلان کیوں کیا۔ اس درمیان پٹنہ سے خبر آرہی ہے کہ پارٹی نے منی پور میں اپنے ریاستی صدر بیرین سنگھ کو بھی عہدہ سے ہٹا دیا ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں مصدقہ طور پر کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔


دہلی فسادات: طاہر حسین کو سپریم کورٹ سے راحت نہیں، عبوری ضمانت پر ججوں کی رائے منقسم

 




نئی دہلی: سپریم کورٹ میں بدھ کو 2020 دہلی فسادات کے ملزم اور سابق عام آدمی پارٹی لیڈر طاہر حسین کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت کی دو ججوں پر مشتمل بنچ نے ضمانت کی درخواست پر مختلف آراءکا اظہار کیا۔


جسٹس پنکج متل نے طاہر حسین کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فسادات میں ان کا کردار کلیدی رہا تھا اور ان کے گھر سے اسلحہ برآمد ہوا تھا۔ دوسری جانب جسٹس احسان الدین امان اللہ نے درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ طاہر حسین پانچ سال سے جیل میں ہیں اور انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کو مہم چلانے کا موقع ملنا چاہیے۔



اب یہ معاملہ تین ججوں کی بنچ کو بھیجا گیا ہے، جس کے لیے چیف جسٹس کو نئی بنچ تشکیل دینی ہوگی۔ طاہر حسین نے دہلی اسمبلی انتخابات میں تشہیر کے لیے ضمانت کی درخواست دی تھی۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے انہیں مصطفیٰ باد اسمبلی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔


جسٹس امان اللہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائی کورٹ نے طاہر حسین کو نامزدگی کے لیے پیرول پہلے ہی دی تھی، لہٰذا انتخابی مہم کے باقی دنوں میں انہیں اجازت دی جانی چاہیے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ طاہر حسین انتخابی مہم کے دوران گواہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اب حتمی فیصلہ نئی بنچ کرے گی۔


اننت سنگھ کے قافلہ پر گولیوں کی بوچھار، 60 سے 70 راو ¿نڈ فائرنگ سے علاقہ میں دہشت

 





پٹنہ:بہار کے زورآور لیڈر اننت سنگھ کے قافلے پر قاتلانہ انداز میں اندھا دھند فائرنگ کی خبر سامنے آرہی ہے۔ یہ فائرنگ مکامہ میں ہوئی ہے جہاں اندھا دھند گولیوں کی آواز سے علاقے میں دہشت کا ماحول پھیل گیا ہے۔ بہار میں ’چھوٹے سرکار‘ کے نام سے مشہور اننت سنگھ کے قافلہ میں موجود گاڑیوں پر 60 سے 70 راو¿نڈ فائرنگ کی جانکاری سامنے آئی ہے۔ اس واقعہ کو انجام دینے کا الزام سونو-مونو گینگ پر عائد ہو رہا ہے۔

دراصل اننت سنگھ اور سونو-مونو گینگ کے درمیان پہلے بھی کئی بار ٹکراو¿ ہو چکے ہیں۔ تازہ واقعہ کے بعد علاقے کے لوگوں میں ہی نہیں، پولیس محکمہ میں بھی افرا تفری پیدا ہو گئی۔ فائرنگ واقعہ کے فوراً بعد راجدھانی پٹنہ سے کثیر تعداد میں پولیس فورس کو جائے وقوع پر بھیجا گیا۔ واردات کے وقت مکامہ کے سابق رکن اسمبلی اننت کمار سنگھ ہیمجا گاو¿ں میں عام لوگوں سے ملاقات کر رہے تھے۔ حادثہ میں وہ بال بال بچ گئے، لیکن قافلے میں شامل ایک شخص کو گولی لگی ہے جو سنگین طور پر زخمی ہو گیا ہے۔ اسے علاج کے لیے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

فائرنگ واقعہ کے فوراً بعد کثیر تعداد میں پولیس فورس لے کر باڑھ کے اے ایس پی جائے حادثہ پر پہنچے۔ پھر اننت سنگھ کو ان کے قافلہ کے ساتھ وہاں سے روانہ کر دیا گیا۔ پولیس نے علاقہ میں تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اے ایس پی راکیش کمار کے مطابق جائے وقوع سے کئی کھوکھے برآمد کیے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ واقعہ کے تعلق سے مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 14 اگست کو پٹنہ ہائی کورٹ نے اے کے-47 اور رہائش سے بلیٹ پروف جیکٹ ملنے کے معاملے میں اننت سنگھ کو بری کیا تھا۔ اس کے بعد ان کے خلاف پولیس کے پاس کوئی زیر التوا معاملہ نہیں تھا۔ ایسے حالات میں انھیں گزشتہ سال 16 اگست کو جیل سے رِہائی مل گئی تھی۔


Tuesday, 21 January 2025

کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ، پوچھا- ’لا کمیشن کے ساتھ قابل اعتراض سلوک کیوں؟‘

 








کانگریس نے منگل کو 23ویں لا (قانون) کمیشن کی تشکیل کا اعلان نہ کیے جانے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ آخر حکومت اس باوقار ادارے کے ساتھ ایسا قابل اعتراض رویہ کیوں اختیار کر رہی ہے؟ پارٹی کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ 22ویں قانون کمیشن کو بغیر کسی رپورٹ پیش کیے 31 اگست 2024 کو ختم کر دیا گیا۔


جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ 21ویں قانون کمیشن، جسے مودی حکومت نے مقرر کیا تھا، نے 31 اگست 2018 کو 182 صفحات پر مشتمل ایک مشاورتی دستاویز جاری کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ”ہندوستانی ثقافت کے تنوع کا جشن منایا جانا چاہیے اور اس عمل میں کسی بھی طبقے یا کمزور گروہ کو محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ لہٰذا اس وقت یکساں سول کوڈ کی ضرورت نہ تو لازمی ہے اور نہ ہی مطلوبہ۔“



انہوں نے مزید کہا کہ 14 جون 2023 کو جاری ایک پریس نوٹ میں 22ویں قانون کمیشن نے یکساں سول کوڈ کا جائزہ لینے کے ارادے کا دوبارہ اعلان کیا تھا، مگر اپنی رپورٹ پیش کرنے سے پہلے ہی اس کمیشن کی مدت ختم کر دی گئی۔


جے رام رمیش نے کہا، ”23ویں قانون کمیشن کا اعلان 3 ستمبر 2024 کو کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس کی تنظیم کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت قانون کمیشن جیسی معزز ادارے کے ساتھ ایسا قابل اعتراض سلوک کیوں کر رہی ہے؟“


دوسری طرف، اتراکھنڈ کابینہ نے پیر کو یکساں سول کوڈ کے قانون کی قواعد کو منظوری دے دی۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ قواعد کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس کے نفاذ کی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔



بی جے پی والے غریبوں کو ’راکشس‘ کی طرح نگل جائیں گے: اروند کیجریوال

 








عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ راون کی فطرت رکھتے ہیں اور اگر دہلی کے عوام نے انہیں منتخب کیا تو یہ غریب طبقے کو ’راکشسوں‘ کی طرح نگل جائیں گے۔



انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں راون کے کردار کی نشاندہی کی تھی کہ راون سونے کا ہرن بن کر آیا اور سیتا میا اس ہرن پر مائل ہو گئیں۔


دریں اثنا، بی جے پی نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مظاہرہ کیا اور کہا کہ ہرن راون نہیں بلکہ ماریچ تھا۔ کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی راون کے کردار کا دفاع کر رہی ہے، جس سے ان کی فطرت آشکار ہوتی ہے۔


انہوں نے دہلی کے جھگیوں میں رہنے والوں اور غریب عوام کو خبردار کیا کہ بی جے پی اگر اقتدار میں آتی ہے تو ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ غریب طبقے کو راون کے انداز میں نگلنے کے درپے ہیں۔



بی جے پی کے کئی لیڈران، جن میں رکن پارلیمنٹ منوج تیواری بھی شامل ہیں، نے اروند کیجریوال پر الزام لگایا کہ انہیں رامائن اور سیتا میا کے بارے میں کچھ نہیں معلوم اور ان کے بیانات سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔



بی جے پی کے کارکنوں نے منگل کو کیجریوال کے گھر کے باہر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔ دوسری طرف، کیجریوال نے بی جے پی کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد عوامی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔



سیف علی خان کو اسپتال سے ملی چھٹی، صحت یاب ہو کر پہنچے گھر

 






بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کو آج ممبئی واقع لیلاوتی اسپتال سے چھٹی مل گئی اور وہ بخیر و عافیت گھر پہنچ گئے۔ 16 جنوری کی علی الصبح گھر میں ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ آج چھٹے دن انھیں ڈاکٹروں نے گھر جانے کی اجازت دے دی اور کرینہ کپور سخت سیکورٹی کے درمیان انھیں لے کر رہائش پر پہنچیں۔


ڈاکٹروں نے آج صبح ہی بیان دیا تھا کہ سیف علی خان اب ٹھیک ہیں اور انھیں اسپتال سے چھٹی دی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹروں نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ اگر اہل خانہ انھیں گھر لے جانا چاہتے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے بعد سیف علی خان کو گھر لے جانے سے متعلق تیاریاں شروع ہو گئیں۔ سیف علی خان کی رہائش پر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور کچھ اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔


واضح رہے کہ سیف علی خان پر 16 جنوری کی صبح حملہ آور نے چاقو سے کئی حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں سیف بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔ ان کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی میں سنگین چوٹیں آئی تھیں۔ لیلاوتی اسپتال پہنچنے کے بعد سیف علی خان کا کئی گھنٹے تک آپریشن چلا اور پھر ڈاکٹروں نے انھیں خطرے سے باہر بتایا۔ ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا کہ حملے سیف کو ریڑھ کی ہڈی کے علاوہ 3 مقامات پر شدید چوٹ پہنچی تھی۔ ان میں 2 زخم ہاتھ پر تھے اور ایک گردن کی دائیں طرف۔


سیف علی خان کی سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے ان کی ریڑھ کی ہڈی میں پھنسی نکیلی چیز نکالی۔ اس نکیلی چیز کو چاقو کا اگلا حصہ بتایا جا رہا ہے۔ سرجری کے بعد سیف علی خان کو 17 جنوری کو آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا۔ طبیعت مزید بہتر ہوتے ہی انھیں نارمل وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ 5 دن اسپتال میں گزارنے کے بعد آج چھٹے دن سیف علی خان کو گھر جانے کی اجازت ملی، اور اب وہ خیر و عافیت سے گھر پہنچ گئے۔



اشتعال انگیز گیت معاملہ میں عمران پرتاپ گڑھی کو ملی ’سپریم‘ راحت، عدالت عظمیٰ نے گجرات حکومت کو بھیجا نوٹس

 





مشہور و معروف شاعر اور کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کو آج اس وقت سپریم کورٹ سے ایک بڑی راحت ملی جب عدالت عظمیٰ نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو رد نہ کرنے سے متعلق گجرات ہائی کورٹ کے فیصلہ پر ایک اہم تبصرہ کیا۔ گجرات کے جام نگر میں منعقد اجتماعی شادی کی ایک تقریب کے پس منظر میں مبینہ قابل اعتراض گیت کے ساتھ ایڈٹ کی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے معاملے میں عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں کہا ہے کہ عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف سزا کی کوئی بھی کارروائی نہیں ہوگی۔



جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس ا±جول بھوئیاں کی بنچ نے عمران پرتاپ گڑھی کے ذریعہ داخل عرضی پر گجرات حکومت اور شکایت دہندہ کشن بھائی دیپک بھائی نندا کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں اسی معاملے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر رد نہیں ہوگی۔ اس فیصلہ کے خلاف عمران پرتاپ گڑھی نے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا جہاں سے انھیں راحت ملی ہے۔



دراصل جام نگر کے باشندہ کشن نندا کی شکایت پر عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران نے 29 دسمبر 2024 کو اجتماعی شادی تقریب میں شامل ہونے کے 3 دن بعد 2 جنوری 2025 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی۔ اس ویڈیو میں عمران پرتاپ گڑھی کو پھولوں کی بارش کے درمیان لوگوں کا استقبال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کے بیک گراو¿نڈ میں سنائی دے رہی گیت کے الفاظ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے اور تشدد بھڑکانے والے ہیں۔


پولیس سپرنٹنڈنٹ پریم سکھ دیلو کے مطابق اس ویڈیو پر کچھ لوگوں نے تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے ویڈیو کا موازنہ شام اور عراق سے کر دیا ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ ویڈیو میں آواز غالباً عمران پرتاپ گڑھی کی ہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران پر بی این ایس کی دفعہ 57 بھی لگائی گئی ہے، جو 10 یا زیادہ لوگوں کو جرم کرنے کے لیے اکسانے سے متعلق ہے۔ اس دفعہ کے تحت 7 سال تک کی جیل ہو سکتی ہے۔



جس اجتماعی شادی کا تذکرہ شکایت دہندہ نے کیا ہے، وہ الطاف خافی کے یوم پیدائش پر منعقد ہوا تھا۔ اس میں 51 جوڑوں کی شادی ہوئی تھی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کو اس تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو معاملے میں جب ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تھی تو انھوں نے گجرات ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ اس وقت جسٹس سندیپ بھٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ”جانچ ابھی شروعاتی مرحلہ میں ہے، مجھے بی این ایس 2023 کی دفعہ 528 یا آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت اپنی طاقتوں کا استعمال کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے۔ یہ عرضی خارج کی جاتی ہے۔“



ٹرمپ ایکشن موڈ میں ،51 امریکی افسران کے خلاف کی گئی کاروائی

 








امریکہ کے 47ویں صدر کی شکل میں حلف لینے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ ’ایکشن موڈ‘ میں دکھائی دے رہے ہیں۔ انھوں نے 20 جنوری کو حلف برداری کے فوراً بعد ہی کئی بڑے فیصلے لیے اور کچھ اہم کاغذات پر دستخط بھی کیے۔ اس درمیان انھوں نے اپنے ’پرانے دشمنوں‘ سے بدلہ لینا بھی شروع کر دیا ہے۔


موصولہ اطلاع کے مطابق 51 امریکی افسران کے خلاف کارروائی ہوئی ہے اور ان سبھی کا تعلق ایک خاص کیس سے رہا ہے۔ دراصل سابق صدر جو بائڈن کے بیٹے ہنٹر بائڈن کے کیس میں مدد کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ اس کارروائی کے بعد کہا جانے لگا ہے کہ ٹرمپ کسی بھی طرح سے اپنے دشمنوں کو معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔




بہرحال، ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیا جس میں 51 سابق انٹلیجنس افسران کی سیکورٹی منظوری کو رد کر دیا گیا۔ ان افسران نے دعویٰ کیا تھا کہ ہنٹر بائڈن کے لیپ ٹاپ سے متعلق رپورٹنگ میں 2020 کے انتخاب سے پہلے روسی منفی تشہیر کے ’کلاسک امبارک‘ تھے۔ کئی سابق افسران بہت پہلے ہی سبکدوش ہو چکے ہیں اور اب ان کے پاس کوئی ایکٹیو کلیئرنس نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس قدم کا ان کے کیریئر پر محدود اثر ہو سکتا ہے۔ پھر بھی اس حکم سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ قومی سیکورٹی اور انٹلیجنس پیشہ وروں کو سزا دینے کے اپنے دعووں پر کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال جون میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ٹرمپ نے خط پر دستخط کرنے والے 51 سابق افسران کے بارے میں کہا تھا کہ ”ان کے عمل کے لیے ان پر مقدمہ چلانا جانا چاہیے۔“ اب ایگزیکٹیو آرڈر میں قومی انٹلیجنس ڈائریکٹر کو وہائٹ ہاو¿س کو ایک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے جسے 90 دنوں میں پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔



غور کرنے والی بات یہ ہے کہ خط پر اوباما اور بش دونوں انتظامیہ کے کئی سرکردہ سابق افسران نے دستخط کیے تھے، جن میں قومی انٹلیجنس کے سابق ڈائریکٹر جم کلیپر، سابق سی آئی اے ڈائریکٹر جان برینن اور سابق کارگزار سی آئی اے ڈائریکٹر جان میکلاگھلن اور مائیکل موریل شامل تھے۔ خط لکھے جانے کے 4 سال بعد اس کو لکھنے والے ریپبلکن اراکین پارلیمنٹ اور ٹرمپ کے ساتھیوں کے لیے ایک اہم ہدف بن گئے ہیں۔



ٹرمپ نے پہلے ہی روز بولے 20 سے زائد جھوٹ، امریکی میڈیا کا دعویٰ

 



ڈونالڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو دوسری دفعہ امریکی صدر کے طور پر حلف برداری کی۔ اس سے قبل وہ 2017 سے 2021 کے درمیان بھی امریکہ کے صدر رہ چکے ہیں۔ اپنی دوسری مدت کار کے لیے حلف لینے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے 2 مرتبہ مل سے خطاب کیا۔ ایک طرف جہاں امریکی میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ ان دونوں خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران پہلے ہی روز ڈونالڈ ٹرمپ نے 20 سے زیادہ جھوٹ بولے ہیں، وہیں دوسری جانب امریکی میڈیا اب ان حقائق کی جانچ کر رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کب اور کون سا جھوٹ بولا ہے۔


امریکی روزنامہ ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کار میں کل 30،573 جھوٹ یا جھوٹے و گمراہ کن دعوے کیے تھے اور اب یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا ٹرمپ اس مدت کار میں گزشتہ مدت کار کے دوران بولے گئے جھوٹ کا ریکارڈ توڑ دیں گے۔ وہیں ’سی این این‘ کے مطابق نومنتخب امریکی صدر نے اپنی دوسری مدت کار کے پہلے روز 20 جھوٹ بولے ہیں۔ یہ جھوٹ معیشت، ہجرت، خارجہ امور، الیکٹرانک گاڑیوں اور 2020 کے انتخاب سے متعلق ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی روزنامہ ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ گزشتہ مدت کار کے پہلے 100 دنوں میں نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 492 مشکوک دعوے یا جھوٹ یا جھوٹے و گمراہ کن دعوے کیے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی میڈیا نے ٹرمپ کے بار بار جھوٹ بولنے کی عادت کی پہچان کرنے کے لیے ان کی پہلی مدت کار میں ’ٹرتھ-او میٹر‘ شروع کیا تھا تاکہ ان کے جھوٹ اور غلط دعووں کی اصل تعداد شمار کی جا سکے۔



’بہار حکومت پاسوان برادری کے خلاف‘، پشوپتی پارس وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف سڑک پر اترے

 




راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کے سربراہ پشوپتی پارس اب کھل کر بہار کی نتیش حکومت کے خلاف سڑک پر اتر گئے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے ابھی تک باضابطہ طور پر این ڈی اے سے الگ ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ پشوپتی پارس کی ناراضگی اس وجہ سے زیادہ ہے کہ این ڈی کی جانب سے لگاتار انھیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ منگل (21 جنوری) کو آر ایل جے پی کے صدر پشوپتی پارس اور ان کے بھتیجے ر پارٹی کے ریاستی صدر پرنس راج گردنی باغ واقع مقامِ احتجاج پر پہنچے جہاں دفعدار چوکیدار کے مطالبات پر اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی ان دونوں نے احتجاج کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور حکومت بہار پر جم کر حملہ بولا۔


واضح ہو کہ گزشتہ ایک سال سے دفعدار چوکیدار اپنے 7 نکاتی مطالبات کو لے کر بہار حکومت کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ان لوگوں کا اہم مطالبہ یہ ہے کہ پہلے جو دفعدار چوکیدار کی بحالی ہوتی تھی اس کے بعد ان کے زیر کفالت لوگوں کو بحال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن بہار حکومت نے اس میں تبدیلی کی ہے اور اس کی بحالی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ دفعدار چوکیدار لگاتار اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس میں زیادہ تر دلت طبقہ کے لوگ ہیں اور اس میں بھی 80 فیصد سے زیادہ پاسوان سماج کے لوگ ہیں۔



2025 میں ہونے والے بہار اسمبلی انتخاب کے پیش نظر سبھی سیاسی پارٹیوں نے تیاریاں شروع کر دی ہے۔ ایسے میں پشوپتی پارس کے لیے بھی یہ ایک بہترین موقع ہے کیونکہ ان کی پہچان ایک پاسوان لیڈر کے طور پر ہے۔ کچھ روز قبل چراغ پاسوان نے بھی دفعدار چوکیداروں کے مطالبات کے حوالے سے سرگرمی دکھائی تھی اور وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی تھی۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے ابھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اس درمیان ا?ج دفعدار چوکیدار کے احتجاجی مقام سے خطاب کرتے ہوئے پشوپتی پارس نے کہا کہ ”95 فیصد اس میں پاسوان سماج کے لوگ ہیں۔ بہار حکومت پاسوان سماج کے خلاف ہے اور اس کے حقوق کو صلب کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی ہم لوگ پ±رزور مخالفت کرتے ہیں۔“ پشوپتی پارس نے مزید کہا کہ ”ہم بہار حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دفعدار چوکیدار کی بحالی کے لیے پہلے جو طریقہ کار تھا وہی نافذ کیا جائے۔“


قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ ماہ سے این ڈی اے میں پشوپتی پارس کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے اور 2025 میں ریاستی اسمبلی انتخاب بھی ہونا ہے۔ ایسے میں پشوپتی پارس کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ احتجاج کر رہے دفعدرا چوکیدار کی حمایت کر کے اپنی سیاسی زمین کو مضبوط کریں۔ چونکہ اس احتجاج میں زیادہ تر پاسوان سماج کے لوگ ہی ہیں، اس لیے پشوپتی پارس کو ان کی حمایت کرنے کا فائدہ مل سکتا ہے۔



مودی حکومت کے پاس درپیش سنگین مسائل کا حل کیوں نہیں ہے؟

 






سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد



ملک کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف روپے کی گرتی ہوئی قدر اور بڑھتی ہوئی افراط زر ہے تو دوسری طرف اقتصادی ترقی کا گرتا معیارہے، ان چیلنجز کے درمیان حکومت کی غیر دانشمندانہ اور غیر ہمدردانہ پالیسی بھی معیشت کو تباہی کی جانب لے جا رہی ہے، گذشتہ کچھ عرصے سے ہندوستانی روپے کی قدر، ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، جن دنوں روپے کی قدر میں کمی کو اقتصادی بد انتظامی کی علامت سمجھا جاتا تھا،ان دنوں مودی نے منموہن سنگھ کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا،منموہن سنگھ معاشیات کے ماہرتھے،ا نکے دور میں ملک کو کبھی شرمندگی اور ندامت سے دوچار نہیں ہونا پڑا،انھوں نے انتہائی نازک حالات میں ملک کو معاشی بحران سے نکالا تھا،مودی کی موجودہ حکومت اور منموہن کی گذشتہ حکومت میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ انکے پاس درپیش مسائل کا حل تھا اور انکے پاس کسی سنگین مسئلے کا نہیں ہے۔

2014 کے انتخابات میں مودی نے عوام سے یہ کہا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد روپے کو 40 کے مقابلے میں مستحکم کیا جائے گا،لیکن موجودہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، آج ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 86 روپے 69 پیسے تک گر چکی ہے،جو مودی سرکار کے اقتصادی منصوبوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے،عالمی منڈی میں امریکی معیشت کی بحالی،بے روزگاری میں کمی اور امریکی سود کی شرحوں میں استحکام نے ڈالر کو تقویت دی ہے،اس کے برعکس ہندوستانی معیشت کی ترقی کی رفتار سست روی کا شکار ہوچکی ہے،روزگار کے مواقع میں کمی، قوت خرید میں جمود، اور بازار میں طلب کی کمی نے روپیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے،مزید یہ کہ روسی تیل پر امریکی پابندیوں نے ہندوستان کی تیل کی درآمد لاگت میں اضافہ کردیا ہے جس سے غیر ملکی تجارتی خسارہ مزید بڑھ گیا ہے،یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے چکر کو جنم دے رہے ہیں جس سے نکلنا بہت آسان نہیں ہے،معاشی مشکلات کے درمیان ہندوستان کے زر مبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ رہاہے،مینو فیکچرنگ انڈسٹری کو در آمدی خام مال کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے،جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں بےحساب اورہوش ربا اضافہ ہورہا ہے،مہنگائی کا عفریت کیسے سرچڑھ  کربول رہاہے،اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 10 تا 15 فیصد  کا اضافہ کر دیا گیا  ہے،شہرحیدرآباد کے بیگم بازار جیسے بڑے بازاروں میں جہاں خریدی میں کمی آئی ہے،وہیں دیہی  علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی خریدی کے ساتھ قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ہے،صرف چار ماہ میں خردنی تیل کی قیمتوں میں  فی کلو 10 تا 30 روپے کا اضافہ ہو گیا،ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جنگی ماحول اور درآمدی تیل پر مرکزی حکومت کی جانب سے وصول کی جانے والی ڈیوٹی بڑھا دینے سے پام آئل کی قیمت اچانک 94 روپے سے بڑھ کر 140 روپے تک پہنچ گئی ہے،اس کی قیمتوں میں بھی ہر دو تین دن میں نظر ثانی ہورہی ہے،سن فلاور آئل فی لیٹر 145 روپے سے 160روپئے، پھلی کا تیل 160 روپے سے زیادہ فروخت ہو رہا ہے،پکوان کے لیے دالیں انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں،تمام اقسام کی دالوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے،مونگ دال 100 روپے فی کلو ،تل 170 روپے ،گڑ 70 روپے ،نیا چاول 60 روپے فی کلو ،پرانا چاول 70 روپئے سے زیادہ فی کلو فروخت ہورہاہے،معیاری لہسن فی کلو 450 سے 500 روپئے فروخت ہورہا ہے،ترکاری کی قیمتوں میں بھی اسی سطح پر اضافہ ہو رہا ہے،شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے ہر دیہات میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں،ایک ہفتے کے دوران اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں پانچ تا 10 فیصد کا اضافہ  ہو گیا ہے،جس کی وجہ سے عوام مالی بوجھ کا سامنا کر نے پر مجبور ہے،یہ تومہنگائی کی بات تھی،اب ملک میں  بے روزگاری کی صورتحال کیاہے؟اسے جاننے کےلئے یہ رپورٹ پڑھئے 

 "ہندوستان میں ملازمتوں کا بحران لگاتار ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے،لوگوں کو امیدیں تھی کہ نئے سال میں تھوڑی راحت ملے گی، لیکن حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر 10 میں سے 8 لوگ ملازمت تلاش کر رہے ہیں،نصف سے زیادہ یعنی  55 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ نئے سال میں ملازمت تلاش کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے،لنکڈ ان کے ذریعہ کی گئی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے،دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان کے 69 فیصد ایچ آر پروفیشنلز کا ماننا ہے کہ ہنر مند ملازمین کو تلاش کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے،یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی ملازمت تلاش کرنے والے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا،حالانکہ 37 فیصد لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ سال 2025 میں نوکری تلاش نہیں کررہے،اس کے باوجود 58 فیصد لوگ یہ امید کر رہے ہیں کہ اس سال ملازمت کا بازار بہتر ہوگا اور وہ نئی ملازمت حاصل کرسکیں گے،بہت سے لوگ الگ الگ جگہوں پر ایک ساتھ ملازمت کے لیے درخواست دے رہے ہیں،49فیصد لوگ پہلے سے کہیں زیادہ نوکریوں کے لئے عرضی داخل کر رہے ہیں، لیکن انہیں بہت کم جواب مل رہے ہیں، 27 فیصد ایچ آر پروفیشنلز روزانہ تین سے پانچ گھنٹے صرف درخواستیں دیکھ رہے ہیں،جبکہ 55 فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں جو درخواستیں موصول ہوتی ہیں ان میں مہارت نہیں ہوتی،لنکڈ ان انڈیا کا کیریئر ایکسپرٹ نرجیتا بنرجی کے مطابق ملازمت کا بازار کافی مشکل ہے لیکن یہ    ہندوستان کو ان کی ملازمت تلاش کرنے کے طریقوں میں سوچ سمجھ کر بدلاؤ کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے،ساتھ ہی اپنا لنکڈ ان پروفائل اپڈیٹ رکھنا اور ایسے رولز پر دھیان دینا جو واقعات آپ کی مہارت سے میل کھاتے ہوں، قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں  60 فیصد لوگ نئے سیکٹر میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں،وہیں 39 فیصد اس سال نئی مہارت سیکھنے کی تیاری میں ہے " 




مودی کے اقتدار میں آتے ہی ہندوستانی معیشت کےحوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے گئے اور ترقی کے خوابوں کی ایسی تصویر کشی کی گئی جو حقیقت سے کوسوں دور تھی، کہا گیا کہ ہندوستان تیزی سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے جا رہا ہے مگر یہ دعوی محض لفاظی اور الفاظ کی بازیگری ثابت ہوئے،قومی شماریاتی دفتر کی حالیہ رپورٹ نے ان خوابوں کی قلعی کھول دی ہے،گذشتہ 7 جنوری 2025 کو جاری ہونے والے تخمینے کے مطابق مالی سال 25۔ 2024  میں ہندوستانی معیشت کی شرح نمو 6.4 فیصد تک سمٹ جانے کا امکان ہے،جو گذشتہ سال کی 8.2فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے،یہ شرح نمو،وبائی بحران کے بعد کی سب سے کم سطح پر ہے اور حکومت کی پالیسیوں کے کھوکھلے پن کا پردہ فاش کرتی ہے،حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت کے بلند بانگ دعوے،عوام کی زندگیوں میں خوشیاں نہیں بلکہ پریشانیوں کا انبار لے کر آئے ہیں،عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں مگر حکومت کے ترقیاتی وعدے محض تقریروں تک محدود ہیں،معیشت کی یہ گرتی ہوئی حالت صرف ایک عدد نہیں بلکہ اس معاشی نظام کی ناکامی کی کہانی ہے جو بلند بانگ دعووں کے سہارے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے،سوال یہ ہے کہ جن خوابوں کا وعدہ تھا وہ عوام کے لیے اب سراب کیوں ثابت ہورہے ہیں، 6.4فیصد کی شرح نمو کو مثبت سمجھا جا رہا ہے لیکن اگر اس کو تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف ایک سست رفتار ترقی کی علامت ہے،2014 میں جب مودی حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تو معیشت کی شرح 7.4 فیصدتھی،اس کے بعد معیشت میں سست روی آتی گئی، یہ کبھی  6.8 فیصد تک کم ہوئی اور کبھی 3.9 فیصد تک نیچے چلی گئی،2016 میں مودی کے تغلقی فرمان کے تحت نوٹ بندی،2017 میں غیر منظم طریقے سے جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد معیشت میں جو تعطل آیا وہ ابھی تک مکمل طور پر نہیں ٹوٹ سکا ہے،اس کے علاوہ کرونا وائرس کے دوران کیے گئے حکومت کے احمقانہ فیصلوں نے تو معیشت کو تہ و بالا کر کےرکھ دیا ہے،21۔2020میں معیشت 5.8فیصد تک سکڑ گئی،22۔2021 میں تو معیشت میں 9.7 فیصد کا عارضی اضافہ دیکھنے کو ملا، لیکن اس کے باوجود معیشت کے بنیادی مسائل حل نہ ہوسکے ،اب25 ۔2024 میں ترقی کی شرح کا تخمینہ صرف 6.4 فیصد ہے،یہ معاشی سست روی غریب عوام کےلئے کئی چیلنجز کا سامنا پیدا کرتی ہے،بے روزگاری کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے،نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کا فقدان اور اجرتوں میں کمی سے ان کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے اور نوجوان خودکشیاں کررہے ہیں،عوام کی قوت خرید میں کمی آرہی ہے جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں اشیاء اور روزمرہ کی ضرورتوں کے سامان کی مانگ میں کمی آئی ہے،یہ صورتحال پیداوار اور نجی سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو گئی ہے،جب نجی سرمایہ کار خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں تو معیشت میں سرمایہ کاری کی کمی اور پیداوار میں کمی کا سامنا ہوتا ہے،اسی کا نتیجہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو رہی ہے، وزیراعظم مودی نے ہمیشہ پانچ ٹریلن ڈالر کی معیشت کا خواب دکھایا ہے لیکن یہ خواب حقیقت میں تبدیل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے،اگر ہم عالمی سطح پر ہندوستانی معیشت کی پوزیشن کا جائزہ لیں تو اس میں حقیقت اور خواب کے درمیان بہت بڑا فرق نظر آتا ہے،مالی سال 25۔2024میں برائے نام جی ڈی پی کی 9.7 فیصد شرح نمو کے باوجود اسے کوئی غیر معمولی کامیابی نہیں کہا جا سکتا،کسی بھی ملک کےلئے الگ تھلگ رہ کر ترقی کرنا ممکن نہیں ہے،دنیا کے بدلتے حالات اور تجارت کا خیال رکھتے ہوئے کرنسی کی قدرکبھی کبھی گرائی جاتی ہے،اس کے باوجود کرنسی کی قدر کم ہوتی ہے تو تشویش میں اضافہ ضرور ہوتا ہے،آج دنیا جس دور سے گزر رہی ہے اور جوعالمی حالات ہیں،اس میں یہ تشویش فطری ہے کہ ہمارے روپے کی قدر کم کیوں ہورہی ہے؟ روپیے کی قدر اس حد تک گرجانا کہ ایک ڈالر کے مقابلے 86 روپے ہو جانا تشویش کی بات ہے،یہ روپے کی قدر میں اب تک کی سب سے بڑی گراوٹ اور کمی ہے،بدقسمتی سے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں نہ صرف ناقص ہیں بلکہ ان میں مستقبل کےلئے کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی،معاشی اصلاحات کو صرف دعوؤں تک محدود رکھا گیا ہے اورعملی اقدامات میں شفافیت کی بڑی اور واضح کمی ہے،روپے کی گرتی ہوئی قدر اور افراط زر کے سنگین مسائل کے باوجود حکومت کی توجہ صرف انتخابی سیاست پرمرکوزرہی ہے،نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے بجائے حکومتی اقدامات نے مزید غیر یقینی کی کیفیت پیدا کی ہے،مالیاتی اصلاحات کے بغیر ملک کی معیشت کو مستحکم کرنا ممکن نہیں ہے،اس کے علاوہ صارفین کے اخراجات کو بڑھانے کے لئے ٹیکس ڈھانچے میں تبدیلی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے،ہندوستانی معیشت اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے،روپے کی گرتی ہوئی قدر افراط زر کی بلند شرح اور معیشت کی سست رفتار ترقی ایسے مسائل ہیں، جنہیں صرف مؤثر اور جامع پالیسیوں کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے،اپوزیشن میں بیٹھی کانگرس پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ مودی حکومت کی نامناسب پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان میں سرمایہ کاروں کا اعتمادختم ہوتا جا رہا ہے،مودی حکومت عرصہ دراز سے یہ دعوی کرتی آرہی ہے کہ وہ کاروباری افراد کی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کی خواہاں ہے،مرکزی حکومت کا یہ بھی دعوی رہا ہے کہ ہندوستان میں کاروبار یا بزنس کرنے والوں سے متعلق امور میں آسانی پیدا کی جائے گی لیکن  ایک دہے کے دوران اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے،ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف پرائیویٹ انویسٹمنٹ سے متعلق امور میں ہی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں،جس کی وجہ سے دوسرے افراد کے لئے مشکلات اور مسائل پیدا ہوتے جا رہے ہیں،جے رام رمیش نے اس سلسلے میں محاصل جی ایس ٹی، اور انکم ٹیکس کا تذکرہ کیا اورکہا کہ ٹیکس ٹریریزم ،ہندوستان کی خوشحالی کےلئے ایک بڑا خطرہ بن گیا ہے،اس کے علاوہ بزنس کرنے والوں کے لئے اس سے مشکلات بھی پیدا ہوتی جا رہی ہیں، 10 برسوں کے دوران جی ڈی پی رینج میں 20 تا 25 فیصد کی کمی ہوئی ہے ،17.5لاکھ ہندوستانیوں نے ایک دہے سے زائد عرصے کے دوران دوسرے ملک کی شہریت حاصل کر لی ہے، 2022 اور 2025 کے دوران تخمینا21 ہزار 300 ڈالر ملین نائرس، ہندوستان سے چلے گئے،اس طرح کے واقعات کی تین وجوہات ہیں،جی ایس ٹی کا پیچیدہ طریقہ کار بھی اس میں شامل ہے،رمیش نے  مزید دعوی کیا کہ حکومت کی نامناسب پالیسیوں کی وجہ سے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور بڑے دولت مند ہندوستان چھوڑ چکے ہیں،مشاہروں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان کی نمو میں کمی آتی جارہی ہے،وزارت زراعت کے ڈیٹا کے مطابق  جب یوپی اے برسراقتدارتھی،ایگریکلچر لیبر کے لئے حقیقی مشاہرے میں 6.8 فیصد ہر سال اضافہ ہوتا رہا،مودی حکومت نے اسے کم کردیا اور اب یہ 1.3 فیصد ہو کررہ گیاہے،اب جبکہ26 ۔2025  کا مرکزی بجٹ عنقریب پیش کیا جانے والا ہے  حکومت کو چاہئے کہ وہ نقصانات کی تلافی کےلئے قابل لحاظ اقدامات اور  تبدیلیاں عمل میں لائیں۔

 اگرحکومت نے فوری طور پر اقتصادی اصلاحات پر توجہ نہ دی تو ترقی کا یہ سست روی کا سفر مزید طویل ہوسکتا ہے،اگر حقیقت میں ہندوستانی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہے تو اسے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے،خاص طور پر مزدوروں کی حالت، چھوٹے کاروباری اداروں کی حمایت اور پیداوار کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،اس پس منظر میں معاشی اصلاحات کی ضرورت اور اقتصادی پالیسیوں کا درست سمت میں ہونے کا سوال مزید اہم ہو جاتا ہے،ان حالات میں مودی حکومت کو اپنے خوابوں کی حقیقت کوتسلیم کرتے ہوئے ایک نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی،جس میں حقیقی ترقی کی راہیں ہموار ہو سکےاورمعیشت میں عوام کی شمولیت یقینی بنائی جا سکے،ملک کی معاشی حالت پر توجہ نہیں دی گئی اورخلوص دل کے ساتھ اسکی بہتری کےلئے کام نہیں کیاگیا تو آنے والے دنوں میں حالات مزید بدتر ہونگے،سوال یہ ہے کہ کیا مودی حکومت اس پر سنجیدگی سے غورکرے گی اور اسطرح کے سنگین مسائل کے حل کےلئے مخلص ہوکر کام کرے گی؟سوال یہ بھی ہے کہ سنگین اور بنیادی مسائل کے حل کےلئے اس حکومت کے پاس کون سا پلان ہے؟اوران مسائل سے نمٹنے کےلئے اب تک اس حکومت نے کیا کام کیاہے؟کیا حکومت کے پاس نااہلی و ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں ہے؟


(مضمون نگار،معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)


ڈبل انجن حکومت میں نوکری اور روزگار کی بات بالکل ختم ہو گئی ہے : اعجاز احمد

 




پٹنہ :راشٹریہ جنتا دل کے ریاستی ترجمان اعجاز احمد نے کہا کہ بہار میں 20 سال سے ڈبل انجن کی حکومت کام کر رہی ہے، لیکن ان 20 سالوں میں اتنی نوکریاں اور روزگار نہیں دیے گئے جتنے مہاگٹھ بندھن حکومت کے ذریعے تیجسوی جی نے 17 مہینوں میں دینے کا کام کیا ہے۔ مہاگٹھ بندھن حکومت نے تقریباً 5.5 لاکھ نوکریاں دی ہیں اور تیجسوی جی کے ذریعہ چھوڑی گئی 3.50 لاکھ آسامیاں ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہیں۔ بہار حکومت نوجوانوں کی نوکری اور روزگار کے ساتھ کھیلواڑکر رہی ہے ۔ بہار میں نفرت پھیلانے والے لوگ حکومت میں شامل ہیں جو نہیں چاہتے کہ نوجوانوں کو روزگار ملے۔