Sunday, 19 January 2025

بہار کا پہلا ارانشیا داخلہ تجربہ مرکز اربن ٹرینڈز کا آغاز

 




 پٹنہ(پریس ریلیز): اربن کیئر نے لیڈز ٹاور، آئی اے ایس کالونی، بیلی روڈ، پٹنہ میں بہار کے پہلے ارنسیا داخلہ تجربہ مرکز، اربن ٹرینڈز کے افتتاح کے ساتھ ایک اہم سنگ میل حاصل کیا ہے۔ اربن کیئر کے اس نئے اسٹور کا افتتاح مشترکہ طور پر ارنسیا کے منیجنگ ڈائریکٹر سمیر پٹیل اور شبدرا دیوا نے ربن کاٹ کر کیا، جبکہ اربن کیئر کے ڈائریکٹر بلکشن کمار اور بی ایم یو ایس کے صدر اندو مہاسٹھ نے چراغ جلا کر اسٹور کا افتتاح کیا۔ یہ جدید ترین سہولت بہار کے اندرونی ڈیزائن کے منظر نامے میں ایک پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے، جو عالمی معیارات کو مقامی امنگوں کے ساتھ جوڑتی ہے۔ دس سال سے زیادہ کی مہارت کے ساتھ اندرونی ڈیزائن کی صنعت میں ایک سرکردہ نام، اربن کیئر کو بہار کا پہلا اسٹارٹ اپ ہونے پر فخر ہے جسے حکومت بہار سے سیڈ فنڈنگ اور پہچان ملی ہے۔ اس اسٹارٹ اپ کو اس سے قبل سابق نائب وزیر اعلیٰ نے بہار میں بہترین اسٹارٹ اپ کے اعزاز سے نوازا ہے، جس نے ریاست کے کاروباری ماحولیاتی نظام میں ایک رہنما کے طور پر اس کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔ نئے شروع کیے گئے اربن اکسپرینس سنٹر میں ارنسیا کے پریمیم انٹیریئر سلوشنز کی نمائش کی گئی ہے جو جدید ترین فنکشنلٹی کے ساتھ خوبصورت ڈیزائن کو ملاتے ہیں۔ اس کا مقصد بہار کے لوگوں کو جدید اور عالمی معیار کے ڈیزائن کے امکانات پر پہلی نظر دے کر اپنے گھروں اور تجارتی جگہوں کے اندرونی حصوں تک پہنچنے کے طریقے میں انقلاب لانا ہے۔ یہ پروجیکٹ بہار میں بڑھتے ہوئے کاروباری جذبے اور اختراع کو فروغ دینے میں حکومتی تعاون کے اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ اربن کیئر ریاست میں معاشی اور تخلیقی ترقی کے لیے پبلک پرائیویٹ تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے سفر میں حکومت بہار کی طرف سے فراہم کردہ انمول مدد کا اعتراف کرتا ہے۔ اربن ٹرینڈز ایک گیم چینجر بننے کے لیے تیار ہے، جو بہار کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اپنے رہائشیوں کو جدید ترین، اعلیٰ معیار کے اندرونی ڈیزائن کے حل تک رسائی فراہم کرتا ہے۔


کسنا ڈائمنڈ اینڈ گولڈ جیولری نے بہار میں چھٹا خصوصی شو روم کا آغاز کیا

 




 ہندوستان میں 62 واں شوروم کھولنے کا تاریخی لمحہ




 پٹنہ(پریس ریلیز) - کسنا ڈائمنڈ اینڈ گولڈ جیولری نے راجہ بازار، پٹنہ، بہار میں ایک شاندار افتتاح کے ساتھ اپنے 6ویں خصوصی شو روم کا آغاز کیا۔ یہ ہندوستان میں کسنا کا 62 واں خصوصی شو روم ہے۔ اس پرمسرت موقع پر، گھنشیام ڈھولکیا، بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر، ہری کرشنا گروپ، نے اپنی موجودگی کے ساتھ اس تقریب کو سراہا۔

 شوروم کے افتتاح کے موقع پر، کسانہ ہیرے کے زیورات بنانے کے چارجز پر 100٪ تک اور سونے کے زیورات بنانے کے چارجز پر 25٪ تک رعایت کی پیشکش کر رہا ہے۔ ہری کرشنا گروپ کے بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر گھنشیام ڈھولکیا نے کہا، "راجہ بازار، پٹنہ میں ہمارے نئے شوروم کا افتتاح ہمارے لیے فخر اور خوشی کا لمحہ ہے۔ یہ شوروم ہمارے صارفین کو زیورات کی خریداری کا بہترین تجربہ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد، ’ہر گھر کسانہ‘ کے ذریعے، بھارت کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا جیولری برانڈ بننا اور ہر عورت کے ہیرے کے زیورات پہننے کے خواب کو پورا کرنا ہے۔


 کسنا ڈائمنڈ اینڈ گولڈ جیولری کے ڈائریکٹر پیراگ شاہ نے کہا، "شادی اور تحفے کا سیزن ہمارے صارفین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پٹنہ میں اپنے نئے شو روم کے آغاز کے ساتھ، ہمارا مقصد زیورات فراہم کرنا ہے جو ان کے جذبات کی عکاسی کرے اور ان کے خاص لمحات کو مزید یادگار بنائے۔


 کسنا کے فرنچائز پارٹنر ابھے کمار سنگھ نے کہا کہ "کسنا کے ساتھ شراکت کرنا ہمارے لیے بہت اچھا تجربہ رہا ہے۔ اپنے معیار، اعتماد اور دستکاری کی میراث کے ساتھ، برانڈ ہیرے اور سونے کے زیورات کو وسیع تر سامعین کے لیے قابل رسائی بنا رہا ہے۔ ہمیں اس غیر معمولی خریداری کے تجربے کو پٹنہ کے لوگوں تک پہنچاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے، خاص طور پر اس تہوار اور خوشی کے موسم میں۔


 سماج کے تئیں اپنی وابستگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے، کسان نے لانچ ایونٹ کے ایک حصے کے طور پر خون کے عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا اور ضرورت مندوں کے لیے خوراک کی تقسیم کی مہم کا بھی اہتمام کیا۔


مہاکمبھ میلے میں لگی زبردست آگ، کئی کیمپ جل کر راکھ






یوپی کے پریاگ راج میں جاری مہاکمبھ 
میں شدید آگ لگ گئی ہے۔ آگ کی شدت کا یہ عالم تھا کہ دور سے ہی اس کی لپٹیں نظر آ رہی تھیں۔ اس آگ میں تقریباً 20-25 ٹینٹ جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔ یہ آگ اکھاڑے سے آگے والی سڑک پر لوہے کے پ±ل کے نیچے لگی ہے۔ آگ کی وجہ سے ٹینٹوں میں رکھے گیس سلنڈر بھی یکے بعد دیگرے بلاسٹ ہوتے چلے گئے جس کی وجہ سے آگ کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ حالانکہ انتظامیہ کی مستعدی کی وجہ سے آگ پر بہت جلد قابو پا لیا گیا۔ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیوں کا استعمال کیا گیا ہے۔



واضح ہو کہ سیکٹر 19 اور سیکٹر 5 کے بارڈر پر اولڈ جی ٹی روڈ کراسنگ کے پاس یہ خطرناک آگ لگی تھی۔ سب سے پہلے وویکانند کیمپ میں آگ لگی تھی۔ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے، کسی چنگاری یا بجلی کی شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے کا امکان ہے۔ وہیں مہاکمبھ میں لگی آگ کے معاملے کا اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نوٹس لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر سنیئر افسران موقع پر موجود ہیں۔ واضح ہو کہ واقعہ میں ابھی تک کسی عقیدت مند کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔



قابل ذکر ہے کہ نرمل آشرم کے سوامی شری گوپی ہری جی مہاراج نے آگ لگنے کے حوالے سے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ”مہاکمبھ میں لگی آگ میں 6 سلنڈر بلاسٹ ہوئے اور باقی کے سلنڈر نکال لیے گئے۔ تقریباً 1000 اسکوائر فٹ ایریا میں آگ لگی تھی۔ پورے علاقے کا کپڑا جل گیا ہے صرف بانس-بَلّی بچی ہے۔ اس آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 20 فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آئی ہیں۔“


مہاکمبھ میں آگ کے واقعہ کے بعد سماجوادی پارٹی نے یوگی حکومت پر تنقید کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ”میلہ علاقہ میں انتظام کا جو ڈھنڈورا وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پیٹ رہے تھے اور سب کو دعوت دے رہے تھے۔ کیا یہ وہی انتظام ہے جو آج دکھائی دی ہے؟ سچائی یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے صرف ڈھنڈورا پیٹا ہے اور صرف بدعنوانی کی ہے، باقی حفاظتی انتظامات صرف رام بھگوان بھروسے ہی ہے۔“



مودی حکومت نے غریب اور محنت کش طبقوں سے اپنا منہ موڑ لیا ہے: راہل گاندھی

 




لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اتوار (19جنوری) کو ایک بار پھر مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر غریبوں اور محنت کشوں کو ان کے حال پر چھوڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔ راہل گاندھی نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے ’وہائٹ ٹی شرٹ موومنٹ‘ کی شروعات کا اعلان کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے وہ اس تحریک سے جڑیں۔ اس تحریک سے جڑنے کے لیے راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ”آج مودی حکومت نے غریب اور محنت کش طبقہ سے اپنا منہ موڑ لیا ہے اور انہیں پوری طرح سے ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔“


راہل گاندھی نے پوسٹ میں آگے لکھا کہ ”حکومت کی پوری توجہ صرف چند چنندہ سرمایہ داروں کو مالا مال کرنے پر ہے۔ اس وجہ سے عدم مساوات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور خون پسینے سے ملک کی آبیاری کرنے والے محنت کشوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ وہ طرح طرح کی ناانصافیوں اور مظالم کو سہنے پر مجبور ہیں۔“ علاوہ ازیں راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ”ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مل کر انہیں انصاف اور حق دلانے کے لیے مضبوطی سے آواز اٹھائیں۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم #WhiteTshirtMovement کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔“


 کانگریس رہنما راہل گاندھی نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ”میں اپنے نوجوان محنت کش طبقہ کے ساتھیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اس تحریک سے جڑنے اور اس سے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے اس لنک پر وزٹ کریں۔ /whitetshirt.in/home/hin یا اس نمبر پر مسڈ کال کریں۔ 9999812024۔“ قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی ہمیشہ غریبوں کی آواز اٹھانے کے معاملے میں صف اول میں رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو غریبوں کو نظر انداز کرنے کا ہمیشہ مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ غریبوں کی آوز اٹھانے کے معاملے میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے راہل گاندھی نے اس ’وہائٹ ٹی شرٹ موومنٹ‘ کی شروعات کی ہے۔



کٹیہار میں کشتی حادثہ، 3 افراد کی ڈوب کر موت، 10 لاپتہ

 



کٹیہار میں گنگا ندی کے گولا گھاٹ کے
پاس اتوار کی صبح بڑا کشتی حادثہ پیش آیا ہے۔ کشتی الٹنے سے 3 لوگوں کی موت ہو گئی ہے جبکہ 4 سنگین حالت میں اسپتال میں داخل کرائے گئے ہیں۔ وہیں 10 لوگ اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پران پور، بدھ نگر اور کشن پور گاﺅں کے لوگ کشتی پر سوار تھے جو ضلع کے امدا باد تھانہ علاقہ کے گدائی دیارہ علاقے میں گنگا ندی میں الٹ گئی۔

کشتی حادثہ کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس اور انتظامیہ کی ٹیم موقع پر پہنچی۔ واقعہ کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ حادثہ اس وقت ہوا جب صبح میں سبھی لوگ کشتی پر سوار ہو کر کھیت کھلیان کی طرف فصلوں کی دیکھ بھال اور کھیتوں میں مزدوری کرنے جا رہے تھے۔ اسی دوران اچانک کشتی کا توازن بگڑ گیا اور یہ گنگا ندی میں الٹ گئی۔ حادثے کے بعد مسافروں میں ہنگامہ اور چیخ و پکار مچ گئی۔ موقع پر دیہی لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی اور انہوں نے بھی ڈوب رہے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی۔

حادثے کی بڑی وجہ کشتی پر صلاحیت سے زیادہ لوگوں کا سوار ہو جانا بتایا جاتا ہے۔ اطلاع کے مطابق یہ کشتی نہیں بلکہ ایک ڈینگی (چھوٹی کشتی) تھی۔ اوور لوڈنگ ہونے کی وجہ سے ڈگمگا کر ندی میں الٹ گئی۔ کشتی پر 17 افراد سوار تھے جس میں 3 کی موت ہو گئی جبکہ 4 لوگوں کو زیادہ پانی پینے کی وجہ سے بے دم حالت میں مقامی امداباد پرائمری ہیلتھ سینٹر میں داخل کرایا گیا ہے۔ لاپتہ 10 لوگوں کی تلاشی مہم جاری ہے۔

واقعہ کے سلسلے میں کٹیہار کے ایس پی ویبھو شرما نے بتایا کہ جائے حادثہ پر مقامی تھانہ کو بھیجا گیا ہے۔ برآمد شدہ مہلوکین کی لاش کی شناخت کی جا رہی ہے۔ آگے کی کارروائی کرتے ہوئے لاش کے پوسٹ مارٹم کا عمل کیا جا رہا ہے۔


نائیجریا میں پیٹرول ٹینکر دھماکے میں 70 افراد کی موت ،50افراد زخمی

 






شمالی نائیجیریا میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے۔ یہاں ایک پٹرول ٹینکر ا±لٹ گیا، جس سے ایندھن پھیلنے کے بعد زوردار دھماکہ ہو گیا۔ اس دھماکہ میں کم سے کم 70 لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 70 سے زیادہ لوگوں کی لاش برآمد کر لی گئی ہے جبکہ 50 افراد زخمی ہیں۔ اس دھماکہ میں 15 سے زیادہ دکانیں تباہ ہو گئی ہیں۔ ملک کی ایمرجنسی ریسپانس ایجنسی کے مطابق یہ حادثہ ہفتہ کو نائجر صوبہ کے سلیجا علاقے کے قریب اس وقت پیش آیا جب کچھ لوگ جنریٹر کا استعمال کرکے ایک ٹینکر سے دوسرے ٹرک میں گیسولین منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے حادثے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتالوں میں لے جایا جا رہا ہے، ان کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ حسینی عیسیٰ نے بتایا کہ فیول منتقل کرنے کی وجہ سے دھماکہ ہوا، جس کے بعد گیسو لین منتقل کرنے والے اور اس کے آس پاس کھڑے لوگ اس کی زد میں آگئے۔

نائجر ریاست کے یونین روڈ سیفٹی کے کور سیکٹر کمانڈر کمار س±کوام نے بھی اس معاملے میں اپنا بیان درج کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روکنے کی پوری کوشش کے باوجود ایندھن لینے کے لیے لوگوں کی بڑی بھیڑ جمع ہو گئی۔ س±کوام نے کہا کہ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے بڑی مشقت کے بعد آگ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کر لی لیکن تب تک کئی لوگوں کی جان چلی گئی۔

غور طلب ہے کہ افریقہ کے سب سے بڑے تیل پیداوار ملک میں ایسے حادثات عام ہو گئے ہیں۔ اس کی زد میں آنے سے اب تک کئی لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ نائجر ریاست میں یہ حادثہ گزشتہ اکتوبر میں جگاوا ریاست میں اسی طرح کے دھماکہ کے بعد ہوا ہے۔ اس حادثے میں بھی 147 لوگوں کی جان چلی گئی تھی، یہ نائجیریا میں سب سے بدترین سانحات میں سے ایک تھا۔ معلوم ہو کہ گزشتہ مئی 2023 میں صدر بولا ٹینوبو کے دفتر میں آنے پر دہائیوں پرانی سبسیڈی ختم کرنے کے بعد سے نائجیریا میں پٹرول کی قیمت 400 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔



Thursday, 16 January 2025

ریڈ ویلویٹ ہوٹل کا اپنی 6ویں سالگرہ پرصارفین کو 25% تک رعایت کی پیشکش

 




 پٹنہ (پریس ریلیز): آر پی ایس موڑ پر واقع ریڈ ویلویٹ ہوٹل، جو اپنی بہترین خدمات کے لیے مشہور ہے، نے دارالحکومت میں اپنے 6 سال مکمل کر لیے۔ اس موقع پر ہوٹل انتظامیہ نے کیک کاٹ کر ہوٹل کی چھٹی سالگرہ بڑی دھوم دھام سے منائی۔ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہوٹل کے منیجنگ ڈائریکٹر روہت کمار نے کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ دی ریڈ ویلویٹ ہوٹل نے کامیابی کے ساتھ اپنے چھ سال مکمل کر لیے ہیں۔ ان چھ سالوں میں ہوٹل نے اپنی بہترین خدمات سے اپنے صارفین میں ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2019 میں شروع ہونے والا یہ ہوٹل آج اعلیٰ خاندانی اور کاروباری ہوٹلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے لیے میں اپنی ٹیم کے اراکین، ملازمین اور اپنے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہوٹل کے جنرل منیجر دیپک کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ہوٹل تمام جدید سہولیات سے آراستہ ہے جس میں ریسٹورنٹ، 2 بینکوئٹ ہال، 1 بورڈ روم، جم، سپا اور 28 جدید سہولیات سے آراستہ کمرے شامل ہیں۔ ہوٹل کے آپریشنز مینیجر اویناش کمار نے کہا کہ اس سالگرہ کے موقع پر، ہم اپنے صارفین کو کمروں پر 25% کی خصوصی رعایت دے رہے ہیں جو کہ جنوری کے پورے مہینے کے لیے موزوں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مہمانوں کی قیمتی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ دریں اثنا، ہوٹل کے فوڈ اینڈ بیوریج منیجر نتیش کمار نے کہا کہ ہوٹل نے وقتاً فوقتاً فوڈ فیسٹیول کا انعقاد کرکے صارفین کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ہمارا مقصد مہمانوں کو بہتر کھانا اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر ایچ آر اینڈ اکاو¿نٹ منیجر وکی کمار، پرچیز منیجر انورنجن کمار، ہاو¿س کیپنگ منیجر دھرمیندر کمار، ایگزیکٹو شیف گنجن کمار، ریسٹورنٹ منیجر سنجے جین، فرنٹ آفس منیجر اجے کمار پال، اسسٹنٹ چیف سیکورٹی آفیسر گجیندر سنگھ اور ہوٹل کے تمام ملازمین موجود تھے۔ 



سیف علی خان پر حملہ کرنے والے ملزم کی تصویر آئی سامنے، سیڑھیوں سے اترتے سی سی ٹی وی میں قید، ویڈیو بھی منظر عام پر

 





مشہور و معروف اداکار سیف علی خان پر دیر شب ہوئے قاتلانہ حملہ پر ایک ہنگامہ برپا ہے۔ ایک طرف سیف علی خان آپریشن کے بعد آئی سی یو میں منتقل کر دیے گئے ہیں، اور دوسری طرف ممبئی پولیس سرگرمی کے ساتھ حملہ آور کی تلاش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں کسی کی گرفتاری تو نہیں ہوئی ہے، لیکن ملزم کی تصویر اور ویڈیو ضرور سامنے آئی ہے جو پولیس کی ایک بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔



بتایا جا رہا ہے کہ چوری کے ارادہ سے ایک شخص سیف علی خان کے گھر میں گھسا تھا۔ جب اس کا سیف علی خان سے سامنا ہوا اور سیف نے مزاحمت کی تو وہ چاقو سے حملہ کرنے لگا۔ سیف کے جسم پر حملے کے 6 نشان بتائے گئے ہیں، جن میں سے کچھ سنگین زخم ہیں۔ اب ملزم کی جو پہلی تصویر سامنے آئی ہے، اس میں وہ سیڑھیوں سے نیچے اترتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی تصویر سیڑھیوں پر لگے سی سی ٹی وی میں قید ہو گئی ہے۔ اس تصویر کی بنیاد پر ہی حملہ آور کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔ سی سی ٹی وی کی ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلے میں گمچھا لٹکائے ایک نوجوان سیڑھیوں سے اتر رہا ہے۔




سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور پیٹھ پر ایک بیگ ٹانگے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ یہ فوٹیج دیر رات 2.33 بجے کا ہے۔ اس فوٹیج کو سامنے رکھ کر پولیس نے کچھ اہم جانکاریاں حاصل کر لی ہیں۔ پولیس نے ملزم کی شناخت بھی کر لی ہے اور اس کے گھر کا بھی پتہ لگا لیا ہے۔ پولیس اس کے گھر گئی بھی تھی، لیکن وہ گھر پر موجود نہیں ملا۔ پولیس زور و شور سے کے ساتھ حملہ آور کی تلاش کر رہی ہے۔ پولیس کی 10 ٹیمیں سیف علی خان پر ہوئے اس حملہ کی جانچ کر رہی ہیں۔


اس درمیان پولیس سیف علی خان کے گھر پہنچ کر گہرائی سے جانچ کرتی ہوئی نظر آئی اور کچھ لوگوں سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی۔ سیف علی خان کے گھر انکاو¿نٹر اسپیشلسٹ دیا نایک بھی پہنچے ہیں جنھوں نے واقعہ سے متعلق وسیع جانچ کی۔ دیا نایک ممبئی انڈرورلڈ سے نمٹنے میں اپنے کردار کے لیے مشہور ہیں۔ مبینہ طور پر دیا نے اپنے کیریئر میں تقریباً 80 انکاو¿نٹر کیے ہیں۔



مرکزی حکومت نے آٹھویں پے کمیشن کو دی منظوری، 2026 سے ہوگا نافذ، تنخواہ میں 186 فیصد تک اضافہ کا امکان

 





مرکزی حکومت نے آٹھواں پے کمیشن نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی ملازمین کو یہ تحفہ دینے کا اعلان ضرور کر دیا گیا ہے، لیکن اس کا نفاذ آئندہ سال یعنی 2026 سے ہوگا۔ ابھی تک مرکزی ملازمین کو ساتویں پے کمیشن کے تحت تنخواہ مل رہی ہے۔ اب جلد ہی آٹھویں پے کمیشن کی تشکیل کی جائے گی اور پھر آگے کی کارروائی شروع ہوگی۔


آج ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے میڈیا کو بریفنگ دی۔ انھوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی ح
کومت کے ملازمین کے لیے آٹھویں سنٹرل پے کمیشن کی تشکیل کو منظوری دے دی ہے۔ اگلے سال اسے نافذ ہونا ہے، لیکن اس کے لیے جلد ہی ایک کمیشن تشکیل دی جائے گی۔ اس کے لیے چیئرمین اور 2 اراکین کے نام کا اعلان بھی جلد ہوگا۔



مرکزی حکومت کے ملازمین کو فی الحال ساتویں سنٹرل پے کمیشن کے مطابق تنخواہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ یہ 2016 میں تشکیل ہوئی تھی۔ اب آٹھویں پے کمیشن کو 2026 میں نافذ کیا گیا ہے، یعنی 10 سال بعد نئے سنٹرل پے کمیشن کا نفاذ ہوگا۔ آٹھویں پے کمیشن سے متعلق وقت رہتے مشورے اور سفارشات وغیرہ طلب کیے جا سکیں، اس لیے کمیشن کی تشکیل جلد کی جائے گی۔


آٹھویں پے کمیشن سے تنخواہ میں خاطر خواہ فرق پڑنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق نئے پے کمیشن کے نفاذ کی صورت میں کم از کم تنخواہ 34560 روپے ہو جانے کا اندازہ ہے، جبکہ پنشن کے طور پر 17280 پلس ڈی آر ملنے کی امید ہے۔ چونکہ ابھی مرکزی ملازمین کی کم از کم تنخواہ 18000 ہے، اس لحاظ سے کم از کم تنخواہ میں 186 فیصد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ پروموشن ہونے اور تنخواہ بڑھنے کی صورت میں پنشن میں بھی اضافہ ہونا یقینی ہے۔



گمراہ کن اشتہارات: ریاستوں کی عدم تعمیل پر سپریم کورٹ برہم، توہین عدالت کی کارروائی کی تنبیہ

 








سپریم کورٹ نے بدھ کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو انتباہ کیا ہے کہ اگر وہ گمراہ کن اشتہارات کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ دراصل جسٹس ابھئے ایس اوکا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے سینئر وکیل شادان فراست کی طرف سے پیش کردہ نوٹ کا جائزہ لیا اور یہ دیکھا کہ کئی ریاستیں متعلقہ ہدایات پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔


بنچ نے کہا "ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ نے متعلقہ ہدایات پر عمل آوری نہیں کی ہے تو ہمیں متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے خلاف عدالت کی توہین کے ضابطہ 1971 کے تحت کارروائی شروع کرنی پڑ سکتی ہے۔"


گمراہ کن اشتہارات سے متعلق معاملہ 2022 میں انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن (آئی ایم اے) کے ذریعہ دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے وقت عدالت عظمیٰ کے سامنے اٹھا تھا، جس میں پتنجلی ا?یوروید لمیٹڈ پر کووڈ ٹیکہ کاری مہم اور جدید طبی طریقوں کے خلاف گمراہ کن مہم چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔


سپریم کورٹ نے میڈیا میں شائع یا دکھائے جا رہے گمراہ کن اشتہارات کے پہلو کو ا±جاگر کیا تھا، جو دوا اور جادوئی علاج (قابل اعتراض اشتہار) قانون، 1954 اور متعلقہ ضوابط، ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 اور صارفین تحفظ ایکٹ، 1986 کے نظم کے برعکس ہے۔



شادان فراست نے بدھ کو سماعت کے دوران کہا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ اب تک دائر حلف ناموں کے مطابق 1954 کے متعلقہ قوانین کے تحت درحقیقت کوئی مقدمہ نہیں چلایا جا رہا ہے۔


بنچ نے کچھ ریاستوں کے دائر حلف ناموں کا حوالہ دیا اور سوال کیا کہ انہوں نے حاصل شکایات کی بنیاد پر کارروائی کیوں نہیں کی۔ بنچ نے کہا کہ کچھ ریاستوں کو خلاف ورزی کرنے والوں کی شناخت کرنا مشکل لگا۔ بنچ نے کہا، "ہم اب توہین کی کارروائی کریں گے اور ہم ہر ایک ریاست کے ذریعہ کی گئی عمل آوری پر گہری جانچ کریں گے۔"


بنچ نے کہا کہ وہ 10 فروری کو آندھرا پردیش، دہلی، گوا، گجرات اور جموں و کشمیر کے ذریعہ کی گئی تعمیل پر غور کرے گی اور اگر یہ ریاستیں عمل آوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے حلف نامہ دائر کرنا چاہتی ہیں تو وہ 3 فروری تک ایسا کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ بنچ نے مزید کہا کہ جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش اور پنجاب کے ذریعہ کی گئی تعمیل پر 24 فروری کو غور کیا جائے گا۔ اس نے کہا کہ دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ کی گئی عمل آوری پر 17 مارچ کو غور کیا جائے گا۔



واضح ہو کہ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سال جولائی میں معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آیوش وزارت کو گمراہ کن اشتہارات پر درج شکایتوں اور ان پر ہوئی پیش رفت کے بارے میں صارفین کو تفصیلات دستیاب کرانے کے لیے ایک ڈیش بورڈ قائم کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اپریل میں مرکز اور ریاستی لائسنسنگ افسروں کو گمراہ کن اشتہارات سے نپٹنے کے لیے خود کو فعال کرنے کے لیے کہا تھا۔


سیف علی خان پر حملہ: سیاسی رہنمائوں کا شدید ردعمل، ’مشہور شخصیات کو نشانہ بنا کر ممبئی کو کمزور کرنے کی سازش‘

 



ممبئی: بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان پر ان کے گھر میں چاقو سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، حملہ آدھی رات کے قریب ہوا جب ایک شخص نے سیف ک
ے گھر میں گھس کر تیز دھار ہتھیار سے تقریباً 6 بار وار کیا۔ فی الحال ممبئی پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ حملہ کس نے اور کیوں کیا۔


پولیس کی ٹیم تحقیقات کے لیے سیف علی خان کے گھر پہنچ گئی ہے اور 5 گھریلو ملازمین سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ یہ واقعہ باندرہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں کئی مشہور شخصیات رہائش پذیر ہیں۔ اس واقعہ نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل پیدا کر دی ہے اور مختلف رہنماو¿ں نے قانون و انتظام کے مسائل پر سوالات اٹھائے ہیں۔


شیو سینا (یو بی ٹی) کی رہنما پرینکا چترویدی نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ممبئی میں ایک اور ہائی پروفائل قتل کی کوشش ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابا صدیقی کے قتل کے بعد انصاف کا انتظار ہے، سلمان خان کو بلٹ پروف گھر میں رہنا پڑ رہا ہے اور اب سیف علی خان کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر مشہور شخصیات ہی محفوظ نہیں تو عام آدمی کا کیا ہوگا؟


شیوسینا رہنما آنند دوبے نے کہا کہ اگر ملک میں وی آئی پی بھی محفوظ نہیں، تو عام شہریوں کا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے پولیس اور وزیر داخلہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔


بی جے پی کے رام کدم نے یقین دہانی کرائی کہ پولیس ملزمان کو پکڑے گی اور انصاف ہوگا۔ این سی پی کی سپریا سولے نے معاملے پر محتاط بیان دیا کہ فی الحال زیادہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے تبصرہ مناسب نہیں ہوگا۔


ذرائع کے مطابق یہ حملہ سیف کے بیٹوں تیمور اور جہانگیر کے کمرے میں ہوا، جہاں سیف نے جاگ کر حملہ آور کا سامنا کیا۔ پولیس حملہ آور کے داخل ہونے کے طریقہ کار کا پتا لگا رہی ہے۔ سیف کے پی آر نے بتایا کہ نینی (گھریلو ملازمہ) نے رات کو آواز سن کر گھر والوں کو جگایا۔ سیف نے بہادری سے مزاحمت کی لیکن انہیں زخم آئے۔


سیف کی اہلیہ کرینہ کپور کی ٹیم نے بیان میں کہا کہ یہ ایک لوٹ مار کی کوشش تھی۔ سیف کو چوٹیں آئی ہیں، مگر باقی خاندان محفوظ ہے۔ انہوں نے میڈیا اور مداحوں سے افواہوں سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔


Tuesday, 14 January 2025

ہندوستانی بحریہ کو سپرد کرنے سے پہلے ہی حادثہ کا شکار ہوا اڈانی کا ’درشٹی 10‘ ڈرون، گجرات میں چل رہی تھی ٹیسٹنگ

 





ہندوستانی بحریہ کے لیے تیار کیا جا رہا ’درشٹی 10 اسٹارلائنر‘ ڈرون آج ٹیسٹنگ کے دوران حادثہ کا شکار ہو گیا۔ یہ ڈرون اڈانی ڈیفنس کے ذریعہ تیار کیا جا رہا ہے اور ٹیسٹنگ کا عمل گجرات کے پوربندر میں چل رہا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ’درشٹی 10‘ ایک درمیانہ اونچائی اور لمبی صلاحیت والا ڈرون ہے۔ اسے اسرائیلی ڈیفنس فرم ایلبٹ سسٹمز کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈرون 70 فیصد سودیشی ہے اور اس کی صلاحیتِ پرواز 36 گھنٹے ہے۔ 450 کلوگرام تک کا پے لوڈ لے جانے میں اہل یہ ڈرون نگرانی اور خفیہ جانکاری جمع کرنے میں اہم کردار نبھاتا ہے۔ اڈانی ڈیفنس اینڈ ایئرواسپیس کے ذریعہ تیار کیے گئے اس ڈرون کو بحریہ کے سپرد کیے جانے سے عین قبل ٹیسٹنگ کے مقصد سے اڑایا جا رہا تھا، لیکن یہ کریش ہو گیا۔


قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی بحریہ نے پہلے ہی درشٹی 10 کو اپنے بیڑے میں شامل کر لیا ہے۔ یہ ڈرون فوج اور بحریہ کی خفیہ، نگرانی و جاسوسی صلاحیتوں کو بڑھانے کے مقصد سے خریدا گیا تھا۔ ہر ایک ’درشٹی 10‘ ڈرون کی قیمت تقریباً 145 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ اب جب کہ یہ ڈرون حادثہ کا شکار ہو گیا ہے، تو پورے معاملے کی تحقیقات شروع ہو گئی ہے۔ حادثہ زدہ ڈرون کو برآمد بھی کر لیا گیا ہے۔



یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ہندوستانی بحریہ اپنی سمندری سیکورٹی کو لے کر اہم اقدام اٹھا رہی ہے۔ 4 ماہ قبل ’ایم کیو-9 بی‘ سی گارجین ڈرون بھی تکنیکی خرابی کے سبب خلیج بنگال میں حادثہ کا شکار ہو گیا تھا۔ ’درشٹی 10‘ ڈرون کا حادثہ زدہ ہونا فکر کا باعث ضرور ہے، لیکن امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس میں موجود خامی کو دور کیا جائے گا۔

اس درمیان ہندوستانی بحریہ جلد ہی دو جنگی جہاز اور ایک آبدوز اپنے بیڑے میں شامل کرنے جا رہی ہے۔ ان میں کلوری-کلاس کا آخری آبدوز ’واگھ شیر‘، ڈسٹرائیر ’صورت‘ اور فریگیٹ ’نیلگری‘ شامل ہیں۔ یہ ممبئی واقع مجھگاو¿ں ڈاک شپ بلڈرس لمیٹڈ میں تیار ہوئے ہیں۔ بحریہ اپنی جاسوسی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے 31 ایم کیو-9 بی ڈرون خریدنے کے معاہدے پر بھی دستخط کر چکی ہے، جس کا اہم مقصد بحر ہند علاقہ مین چین کی بڑھتی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔


کجریوال کو کچھ نہیں معلوم، کانگریس والے ان کی پیدائش سے ماقبل انگریزوں سے لڑ رہے تھے: شکیل احمد خان






بہار کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی شکیل احمد خان نے منگل (14 جنوری) کو عام آدمی پارٹی کے کنویز اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو سخت انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اروند کیجریوال کو کانگریس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ وہ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے تب کانگریس کے لوگ انگریزوں کی لاٹھیاں کھا رہے تھے۔ انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی کر رہے تھے۔ کانگریس کے لوگ کبھی بھی انگریزوں سے نہیں ڈرے۔ شکیل احمد خان نے کیجریوال کو جاہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئے گی کہ کانگریس کا مطلب ہی ملک ہے۔ اروند کیجریوال اور وزیر اعظم ابھی تک کانگریس کو سمجھ نہیں پائے ہیں۔



کانگریس لیڈر شکیل احمد خان نے کیجریوال کو بڑبولا انسان بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس ملک میں کانگریس کے نام پر 6 لاکھ گھروں میں چراغ جلتا ہے۔ کانگریس ہمارے آبا و اجداد کی پارٹی ہے۔ لیکن جاہل لوگوں کو اس پارٹی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے، جو منہ میں آتا ہے وہ بول جاتے ہیں۔



واضح ہو کہ پیر (13 جنوری) کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے دہلی کے سیلم پور میں ’جے باپو، جے بھیم، جے سنویدھان‘ عنوان کے تحت منعقد عوامی جلسہ سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے جلسہ عام میں وزیر اعظم نریندر مودی اور اروند کیجریوال کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ میں جب بھی ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کرتا ہوں تو مودی اور کیجریوال کچھ بھی نہیں بولتے۔ مودی اور کیجریوال میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ دونوں صرف جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے اروند کیجریوال پر کئی ایشوز کو لے کر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ بدعنوانی کی باتیں تو بہت کرتے ہو لیکن دہلی میں جو بدعنوانی ہوئی ہے اس پر کچھ نہیں بولتے ہو۔ اب آپ ان ایشوز پر بولنے سے بچتے ہو جسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی راہل گاندھی نے کہا تھا کہ اگر کانگریس دہلی میں برسراقتدار ہوئی تو بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے گا۔


قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی پر پلٹوار کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ میں راہل گاندھی کو سمجھتا ہوں۔ وہ کانگریس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ میں ملک کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ساتھ ہی کیجریوال نے کانگریس پر یہ بھی الزام لگایا کہ دہلی میں عآپ کو ہرانے کے لیے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان گٹھ جوڑ ہے۔ واضح ہو کہ کیجریوال کے ذریعہ کانگریس پارٹی پر لگائے گئے مذکورہ الزامات کے جواب میں ہی کانگریس لیڈر شکیل احمد خان نے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔