Thursday, 16 January 2025

ریڈ ویلویٹ ہوٹل کا اپنی 6ویں سالگرہ پرصارفین کو 25% تک رعایت کی پیشکش

 




 پٹنہ (پریس ریلیز): آر پی ایس موڑ پر واقع ریڈ ویلویٹ ہوٹل، جو اپنی بہترین خدمات کے لیے مشہور ہے، نے دارالحکومت میں اپنے 6 سال مکمل کر لیے۔ اس موقع پر ہوٹل انتظامیہ نے کیک کاٹ کر ہوٹل کی چھٹی سالگرہ بڑی دھوم دھام سے منائی۔ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہوٹل کے منیجنگ ڈائریکٹر روہت کمار نے کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ دی ریڈ ویلویٹ ہوٹل نے کامیابی کے ساتھ اپنے چھ سال مکمل کر لیے ہیں۔ ان چھ سالوں میں ہوٹل نے اپنی بہترین خدمات سے اپنے صارفین میں ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2019 میں شروع ہونے والا یہ ہوٹل آج اعلیٰ خاندانی اور کاروباری ہوٹلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے لیے میں اپنی ٹیم کے اراکین، ملازمین اور اپنے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہوٹل کے جنرل منیجر دیپک کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ہوٹل تمام جدید سہولیات سے آراستہ ہے جس میں ریسٹورنٹ، 2 بینکوئٹ ہال، 1 بورڈ روم، جم، سپا اور 28 جدید سہولیات سے آراستہ کمرے شامل ہیں۔ ہوٹل کے آپریشنز مینیجر اویناش کمار نے کہا کہ اس سالگرہ کے موقع پر، ہم اپنے صارفین کو کمروں پر 25% کی خصوصی رعایت دے رہے ہیں جو کہ جنوری کے پورے مہینے کے لیے موزوں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مہمانوں کی قیمتی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ دریں اثنا، ہوٹل کے فوڈ اینڈ بیوریج منیجر نتیش کمار نے کہا کہ ہوٹل نے وقتاً فوقتاً فوڈ فیسٹیول کا انعقاد کرکے صارفین کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ہمارا مقصد مہمانوں کو بہتر کھانا اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر ایچ آر اینڈ اکاو¿نٹ منیجر وکی کمار، پرچیز منیجر انورنجن کمار، ہاو¿س کیپنگ منیجر دھرمیندر کمار، ایگزیکٹو شیف گنجن کمار، ریسٹورنٹ منیجر سنجے جین، فرنٹ آفس منیجر اجے کمار پال، اسسٹنٹ چیف سیکورٹی آفیسر گجیندر سنگھ اور ہوٹل کے تمام ملازمین موجود تھے۔ 



سیف علی خان پر حملہ کرنے والے ملزم کی تصویر آئی سامنے، سیڑھیوں سے اترتے سی سی ٹی وی میں قید، ویڈیو بھی منظر عام پر

 





مشہور و معروف اداکار سیف علی خان پر دیر شب ہوئے قاتلانہ حملہ پر ایک ہنگامہ برپا ہے۔ ایک طرف سیف علی خان آپریشن کے بعد آئی سی یو میں منتقل کر دیے گئے ہیں، اور دوسری طرف ممبئی پولیس سرگرمی کے ساتھ حملہ آور کی تلاش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں کسی کی گرفتاری تو نہیں ہوئی ہے، لیکن ملزم کی تصویر اور ویڈیو ضرور سامنے آئی ہے جو پولیس کی ایک بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔



بتایا جا رہا ہے کہ چوری کے ارادہ سے ایک شخص سیف علی خان کے گھر میں گھسا تھا۔ جب اس کا سیف علی خان سے سامنا ہوا اور سیف نے مزاحمت کی تو وہ چاقو سے حملہ کرنے لگا۔ سیف کے جسم پر حملے کے 6 نشان بتائے گئے ہیں، جن میں سے کچھ سنگین زخم ہیں۔ اب ملزم کی جو پہلی تصویر سامنے آئی ہے، اس میں وہ سیڑھیوں سے نیچے اترتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی تصویر سیڑھیوں پر لگے سی سی ٹی وی میں قید ہو گئی ہے۔ اس تصویر کی بنیاد پر ہی حملہ آور کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔ سی سی ٹی وی کی ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلے میں گمچھا لٹکائے ایک نوجوان سیڑھیوں سے اتر رہا ہے۔




سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور پیٹھ پر ایک بیگ ٹانگے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ یہ فوٹیج دیر رات 2.33 بجے کا ہے۔ اس فوٹیج کو سامنے رکھ کر پولیس نے کچھ اہم جانکاریاں حاصل کر لی ہیں۔ پولیس نے ملزم کی شناخت بھی کر لی ہے اور اس کے گھر کا بھی پتہ لگا لیا ہے۔ پولیس اس کے گھر گئی بھی تھی، لیکن وہ گھر پر موجود نہیں ملا۔ پولیس زور و شور سے کے ساتھ حملہ آور کی تلاش کر رہی ہے۔ پولیس کی 10 ٹیمیں سیف علی خان پر ہوئے اس حملہ کی جانچ کر رہی ہیں۔


اس درمیان پولیس سیف علی خان کے گھر پہنچ کر گہرائی سے جانچ کرتی ہوئی نظر آئی اور کچھ لوگوں سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی۔ سیف علی خان کے گھر انکاو¿نٹر اسپیشلسٹ دیا نایک بھی پہنچے ہیں جنھوں نے واقعہ سے متعلق وسیع جانچ کی۔ دیا نایک ممبئی انڈرورلڈ سے نمٹنے میں اپنے کردار کے لیے مشہور ہیں۔ مبینہ طور پر دیا نے اپنے کیریئر میں تقریباً 80 انکاو¿نٹر کیے ہیں۔



مرکزی حکومت نے آٹھویں پے کمیشن کو دی منظوری، 2026 سے ہوگا نافذ، تنخواہ میں 186 فیصد تک اضافہ کا امکان

 





مرکزی حکومت نے آٹھواں پے کمیشن نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی ملازمین کو یہ تحفہ دینے کا اعلان ضرور کر دیا گیا ہے، لیکن اس کا نفاذ آئندہ سال یعنی 2026 سے ہوگا۔ ابھی تک مرکزی ملازمین کو ساتویں پے کمیشن کے تحت تنخواہ مل رہی ہے۔ اب جلد ہی آٹھویں پے کمیشن کی تشکیل کی جائے گی اور پھر آگے کی کارروائی شروع ہوگی۔


آج ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے میڈیا کو بریفنگ دی۔ انھوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی ح
کومت کے ملازمین کے لیے آٹھویں سنٹرل پے کمیشن کی تشکیل کو منظوری دے دی ہے۔ اگلے سال اسے نافذ ہونا ہے، لیکن اس کے لیے جلد ہی ایک کمیشن تشکیل دی جائے گی۔ اس کے لیے چیئرمین اور 2 اراکین کے نام کا اعلان بھی جلد ہوگا۔



مرکزی حکومت کے ملازمین کو فی الحال ساتویں سنٹرل پے کمیشن کے مطابق تنخواہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ یہ 2016 میں تشکیل ہوئی تھی۔ اب آٹھویں پے کمیشن کو 2026 میں نافذ کیا گیا ہے، یعنی 10 سال بعد نئے سنٹرل پے کمیشن کا نفاذ ہوگا۔ آٹھویں پے کمیشن سے متعلق وقت رہتے مشورے اور سفارشات وغیرہ طلب کیے جا سکیں، اس لیے کمیشن کی تشکیل جلد کی جائے گی۔


آٹھویں پے کمیشن سے تنخواہ میں خاطر خواہ فرق پڑنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق نئے پے کمیشن کے نفاذ کی صورت میں کم از کم تنخواہ 34560 روپے ہو جانے کا اندازہ ہے، جبکہ پنشن کے طور پر 17280 پلس ڈی آر ملنے کی امید ہے۔ چونکہ ابھی مرکزی ملازمین کی کم از کم تنخواہ 18000 ہے، اس لحاظ سے کم از کم تنخواہ میں 186 فیصد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ پروموشن ہونے اور تنخواہ بڑھنے کی صورت میں پنشن میں بھی اضافہ ہونا یقینی ہے۔



گمراہ کن اشتہارات: ریاستوں کی عدم تعمیل پر سپریم کورٹ برہم، توہین عدالت کی کارروائی کی تنبیہ

 








سپریم کورٹ نے بدھ کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو انتباہ کیا ہے کہ اگر وہ گمراہ کن اشتہارات کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ دراصل جسٹس ابھئے ایس اوکا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے سینئر وکیل شادان فراست کی طرف سے پیش کردہ نوٹ کا جائزہ لیا اور یہ دیکھا کہ کئی ریاستیں متعلقہ ہدایات پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔


بنچ نے کہا "ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ نے متعلقہ ہدایات پر عمل آوری نہیں کی ہے تو ہمیں متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے خلاف عدالت کی توہین کے ضابطہ 1971 کے تحت کارروائی شروع کرنی پڑ سکتی ہے۔"


گمراہ کن اشتہارات سے متعلق معاملہ 2022 میں انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن (آئی ایم اے) کے ذریعہ دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے وقت عدالت عظمیٰ کے سامنے اٹھا تھا، جس میں پتنجلی ا?یوروید لمیٹڈ پر کووڈ ٹیکہ کاری مہم اور جدید طبی طریقوں کے خلاف گمراہ کن مہم چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔


سپریم کورٹ نے میڈیا میں شائع یا دکھائے جا رہے گمراہ کن اشتہارات کے پہلو کو ا±جاگر کیا تھا، جو دوا اور جادوئی علاج (قابل اعتراض اشتہار) قانون، 1954 اور متعلقہ ضوابط، ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 اور صارفین تحفظ ایکٹ، 1986 کے نظم کے برعکس ہے۔



شادان فراست نے بدھ کو سماعت کے دوران کہا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ اب تک دائر حلف ناموں کے مطابق 1954 کے متعلقہ قوانین کے تحت درحقیقت کوئی مقدمہ نہیں چلایا جا رہا ہے۔


بنچ نے کچھ ریاستوں کے دائر حلف ناموں کا حوالہ دیا اور سوال کیا کہ انہوں نے حاصل شکایات کی بنیاد پر کارروائی کیوں نہیں کی۔ بنچ نے کہا کہ کچھ ریاستوں کو خلاف ورزی کرنے والوں کی شناخت کرنا مشکل لگا۔ بنچ نے کہا، "ہم اب توہین کی کارروائی کریں گے اور ہم ہر ایک ریاست کے ذریعہ کی گئی عمل آوری پر گہری جانچ کریں گے۔"


بنچ نے کہا کہ وہ 10 فروری کو آندھرا پردیش، دہلی، گوا، گجرات اور جموں و کشمیر کے ذریعہ کی گئی تعمیل پر غور کرے گی اور اگر یہ ریاستیں عمل آوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے حلف نامہ دائر کرنا چاہتی ہیں تو وہ 3 فروری تک ایسا کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ بنچ نے مزید کہا کہ جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش اور پنجاب کے ذریعہ کی گئی تعمیل پر 24 فروری کو غور کیا جائے گا۔ اس نے کہا کہ دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ کی گئی عمل آوری پر 17 مارچ کو غور کیا جائے گا۔



واضح ہو کہ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سال جولائی میں معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آیوش وزارت کو گمراہ کن اشتہارات پر درج شکایتوں اور ان پر ہوئی پیش رفت کے بارے میں صارفین کو تفصیلات دستیاب کرانے کے لیے ایک ڈیش بورڈ قائم کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اپریل میں مرکز اور ریاستی لائسنسنگ افسروں کو گمراہ کن اشتہارات سے نپٹنے کے لیے خود کو فعال کرنے کے لیے کہا تھا۔


سیف علی خان پر حملہ: سیاسی رہنمائوں کا شدید ردعمل، ’مشہور شخصیات کو نشانہ بنا کر ممبئی کو کمزور کرنے کی سازش‘

 



ممبئی: بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان پر ان کے گھر میں چاقو سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، حملہ آدھی رات کے قریب ہوا جب ایک شخص نے سیف ک
ے گھر میں گھس کر تیز دھار ہتھیار سے تقریباً 6 بار وار کیا۔ فی الحال ممبئی پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ حملہ کس نے اور کیوں کیا۔


پولیس کی ٹیم تحقیقات کے لیے سیف علی خان کے گھر پہنچ گئی ہے اور 5 گھریلو ملازمین سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ یہ واقعہ باندرہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں کئی مشہور شخصیات رہائش پذیر ہیں۔ اس واقعہ نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل پیدا کر دی ہے اور مختلف رہنماو¿ں نے قانون و انتظام کے مسائل پر سوالات اٹھائے ہیں۔


شیو سینا (یو بی ٹی) کی رہنما پرینکا چترویدی نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ممبئی میں ایک اور ہائی پروفائل قتل کی کوشش ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابا صدیقی کے قتل کے بعد انصاف کا انتظار ہے، سلمان خان کو بلٹ پروف گھر میں رہنا پڑ رہا ہے اور اب سیف علی خان کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر مشہور شخصیات ہی محفوظ نہیں تو عام آدمی کا کیا ہوگا؟


شیوسینا رہنما آنند دوبے نے کہا کہ اگر ملک میں وی آئی پی بھی محفوظ نہیں، تو عام شہریوں کا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے پولیس اور وزیر داخلہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔


بی جے پی کے رام کدم نے یقین دہانی کرائی کہ پولیس ملزمان کو پکڑے گی اور انصاف ہوگا۔ این سی پی کی سپریا سولے نے معاملے پر محتاط بیان دیا کہ فی الحال زیادہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے تبصرہ مناسب نہیں ہوگا۔


ذرائع کے مطابق یہ حملہ سیف کے بیٹوں تیمور اور جہانگیر کے کمرے میں ہوا، جہاں سیف نے جاگ کر حملہ آور کا سامنا کیا۔ پولیس حملہ آور کے داخل ہونے کے طریقہ کار کا پتا لگا رہی ہے۔ سیف کے پی آر نے بتایا کہ نینی (گھریلو ملازمہ) نے رات کو آواز سن کر گھر والوں کو جگایا۔ سیف نے بہادری سے مزاحمت کی لیکن انہیں زخم آئے۔


سیف کی اہلیہ کرینہ کپور کی ٹیم نے بیان میں کہا کہ یہ ایک لوٹ مار کی کوشش تھی۔ سیف کو چوٹیں آئی ہیں، مگر باقی خاندان محفوظ ہے۔ انہوں نے میڈیا اور مداحوں سے افواہوں سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔


Tuesday, 14 January 2025

ہندوستانی بحریہ کو سپرد کرنے سے پہلے ہی حادثہ کا شکار ہوا اڈانی کا ’درشٹی 10‘ ڈرون، گجرات میں چل رہی تھی ٹیسٹنگ

 





ہندوستانی بحریہ کے لیے تیار کیا جا رہا ’درشٹی 10 اسٹارلائنر‘ ڈرون آج ٹیسٹنگ کے دوران حادثہ کا شکار ہو گیا۔ یہ ڈرون اڈانی ڈیفنس کے ذریعہ تیار کیا جا رہا ہے اور ٹیسٹنگ کا عمل گجرات کے پوربندر میں چل رہا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ’درشٹی 10‘ ایک درمیانہ اونچائی اور لمبی صلاحیت والا ڈرون ہے۔ اسے اسرائیلی ڈیفنس فرم ایلبٹ سسٹمز کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈرون 70 فیصد سودیشی ہے اور اس کی صلاحیتِ پرواز 36 گھنٹے ہے۔ 450 کلوگرام تک کا پے لوڈ لے جانے میں اہل یہ ڈرون نگرانی اور خفیہ جانکاری جمع کرنے میں اہم کردار نبھاتا ہے۔ اڈانی ڈیفنس اینڈ ایئرواسپیس کے ذریعہ تیار کیے گئے اس ڈرون کو بحریہ کے سپرد کیے جانے سے عین قبل ٹیسٹنگ کے مقصد سے اڑایا جا رہا تھا، لیکن یہ کریش ہو گیا۔


قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی بحریہ نے پہلے ہی درشٹی 10 کو اپنے بیڑے میں شامل کر لیا ہے۔ یہ ڈرون فوج اور بحریہ کی خفیہ، نگرانی و جاسوسی صلاحیتوں کو بڑھانے کے مقصد سے خریدا گیا تھا۔ ہر ایک ’درشٹی 10‘ ڈرون کی قیمت تقریباً 145 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ اب جب کہ یہ ڈرون حادثہ کا شکار ہو گیا ہے، تو پورے معاملے کی تحقیقات شروع ہو گئی ہے۔ حادثہ زدہ ڈرون کو برآمد بھی کر لیا گیا ہے۔



یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ہندوستانی بحریہ اپنی سمندری سیکورٹی کو لے کر اہم اقدام اٹھا رہی ہے۔ 4 ماہ قبل ’ایم کیو-9 بی‘ سی گارجین ڈرون بھی تکنیکی خرابی کے سبب خلیج بنگال میں حادثہ کا شکار ہو گیا تھا۔ ’درشٹی 10‘ ڈرون کا حادثہ زدہ ہونا فکر کا باعث ضرور ہے، لیکن امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس میں موجود خامی کو دور کیا جائے گا۔

اس درمیان ہندوستانی بحریہ جلد ہی دو جنگی جہاز اور ایک آبدوز اپنے بیڑے میں شامل کرنے جا رہی ہے۔ ان میں کلوری-کلاس کا آخری آبدوز ’واگھ شیر‘، ڈسٹرائیر ’صورت‘ اور فریگیٹ ’نیلگری‘ شامل ہیں۔ یہ ممبئی واقع مجھگاو¿ں ڈاک شپ بلڈرس لمیٹڈ میں تیار ہوئے ہیں۔ بحریہ اپنی جاسوسی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے 31 ایم کیو-9 بی ڈرون خریدنے کے معاہدے پر بھی دستخط کر چکی ہے، جس کا اہم مقصد بحر ہند علاقہ مین چین کی بڑھتی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔


کجریوال کو کچھ نہیں معلوم، کانگریس والے ان کی پیدائش سے ماقبل انگریزوں سے لڑ رہے تھے: شکیل احمد خان






بہار کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی شکیل احمد خان نے منگل (14 جنوری) کو عام آدمی پارٹی کے کنویز اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو سخت انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اروند کیجریوال کو کانگریس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ وہ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے تب کانگریس کے لوگ انگریزوں کی لاٹھیاں کھا رہے تھے۔ انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی کر رہے تھے۔ کانگریس کے لوگ کبھی بھی انگریزوں سے نہیں ڈرے۔ شکیل احمد خان نے کیجریوال کو جاہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئے گی کہ کانگریس کا مطلب ہی ملک ہے۔ اروند کیجریوال اور وزیر اعظم ابھی تک کانگریس کو سمجھ نہیں پائے ہیں۔



کانگریس لیڈر شکیل احمد خان نے کیجریوال کو بڑبولا انسان بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس ملک میں کانگریس کے نام پر 6 لاکھ گھروں میں چراغ جلتا ہے۔ کانگریس ہمارے آبا و اجداد کی پارٹی ہے۔ لیکن جاہل لوگوں کو اس پارٹی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے، جو منہ میں آتا ہے وہ بول جاتے ہیں۔



واضح ہو کہ پیر (13 جنوری) کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے دہلی کے سیلم پور میں ’جے باپو، جے بھیم، جے سنویدھان‘ عنوان کے تحت منعقد عوامی جلسہ سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے جلسہ عام میں وزیر اعظم نریندر مودی اور اروند کیجریوال کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ میں جب بھی ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کرتا ہوں تو مودی اور کیجریوال کچھ بھی نہیں بولتے۔ مودی اور کیجریوال میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ دونوں صرف جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے اروند کیجریوال پر کئی ایشوز کو لے کر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ بدعنوانی کی باتیں تو بہت کرتے ہو لیکن دہلی میں جو بدعنوانی ہوئی ہے اس پر کچھ نہیں بولتے ہو۔ اب آپ ان ایشوز پر بولنے سے بچتے ہو جسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی راہل گاندھی نے کہا تھا کہ اگر کانگریس دہلی میں برسراقتدار ہوئی تو بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے گا۔


قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی پر پلٹوار کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ میں راہل گاندھی کو سمجھتا ہوں۔ وہ کانگریس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ میں ملک کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ساتھ ہی کیجریوال نے کانگریس پر یہ بھی الزام لگایا کہ دہلی میں عآپ کو ہرانے کے لیے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان گٹھ جوڑ ہے۔ واضح ہو کہ کیجریوال کے ذریعہ کانگریس پارٹی پر لگائے گئے مذکورہ الزامات کے جواب میں ہی کانگریس لیڈر شکیل احمد خان نے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ تیز ہواوں کے باعث مزید شدت اختیار کرسکتی ہے

 




غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ لاس اینجلس اور وینٹورا کاو¿نٹی کے زیادہ تر علاقوں میں منگل سے بدھ کی صبح تک 50 سے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔

امریکی حکام نے ’ریڈ فلیگ وارننگ‘ کا اعلان کردیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور پہلے سے لگی آگے میں مزید شدت آسکتی ہے۔

لاس اینجلس کے فائر ڈیپارٹمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کل صبح تک چلنے والی تیز ہواو¿ں کے باعث آگ پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔


وینٹورا میں نئی آگ بھڑک اٹھی

دوسری جانب، لاس اینجلس کے شمال مغرب میں واقع وینٹورا کاو¿نٹی میں سانتا کلارا دریا کے کنارے رات گئے ایک چھوٹی لیکن تیزی سے پھیلنے والی نئی آگ بھڑک اٹھی۔

زمینی عملہ اور متعدد ہیلی کاپٹر اس آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں، جو اب تک 56 ایکڑ سے زیادہ رقبے کو تباہ کر چکا ہے اور ایک گالف کورس بھی اس آگ کی زد میں آچکا ہے تاہم اب تک وہاں کے رہائشیوں کو خطرہ نہیں ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے تیز ہواو¿ں کی پیش گوئی کے پیش نظر 85 ہزار سے زائد فائر فائٹرز نے جنگلات میں لگی دو بدترین آگ پر زمین اور فضا سے قاپو پانے کی کوششیں تیز کیں جس کا مقصد آگ کو رات بھر مزید پھیلنے سے روکنا تھا۔


دیگر کاونٹیوں میں آگ بھجانے والا عملہ تعینات

ریاستی حکام نے گزشتہ روز لاس اینجلس اور جنوبی کیلیفورنیا کی دیگر کاو¿نٹیوں میں آگ بجھانے والے عملے کو پہلے سے ہی تعینات کر دیا تھا۔

لاس اینجلس کاو¿نٹی میڈیکل ایگزامنر کے مطابق آگ لگنے سے اب تک 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ریسکیو عملے کی جانب سے جلے ہوئے گھروں کی تلاشی کا عمل جاری ہے جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی بدترین آگ نے 12 ہزار سے زائد عمارتوں کو تباہ کردیا ہے جب کہ ایک بڑے رقبے کو راکھ اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے۔


آگ سے تباہی

پیر تک لاس اینجلس کاو¿نٹی میں 92 ہزار سے زائد افراد کو انخلا کے احکامات جاری کیے گئے تھے جب کہ مزید 89 ہزار افراد کو انخلا کی وارننگ جاری کی گئی۔

لاس اینجلس کے مغربی کنارے پر لگنے والی ’پیلیسیڈز فائر‘ نے 23 ہزار 713 ایکڑ (96 مربع کلومیٹر) کے رقبہ کو جلا دیا ہے جس پر 14 فیصد قابو پایا گیا ہے۔

کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات اور فائر پروٹیکشن (کیل فائر) کے مطابق شہر کے مشرق میں سان گیبریل پہاڑوں کے دامن میں لگنے والی ’ایٹن فائر‘ نے مزید 14 ہزار 117 ایکڑ (57 مربع کلومیٹر) کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جس پر 33 فیصد قابو پالیا گیا ہے۔

تیسری آگ ’دی ہرسٹ‘ جو 799 ایکڑ (3.2 مربع کلومیٹر) پر پھیلی ہوئی تھی، اس پر 95 فیصد قابو پا لیا گیا تھا جب کہ حالیہ دنوں میں کاو¿نٹی میں لگنے والی دیگر 3 آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی کیلیفورنیا میں 2 مقامات پر ہونے والی ان آتشزدگیوں کو ’پیلیسیڈز فائر‘ اور ’ایٹن فائر‘ کا نام دیا گیا ہے جب کہ اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی وقفہ وقفہ سے آگ کی لپیٹ میں آرہے ہیں جن پر خشک سالی اور تیز ہواو¿ں کی وجہ سے قابو پانا مشکل ہوگیا ہے بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔


یہ بھی پڑھیں ۔کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میںلگی آگ کو بجھانے میں قیدی بھی مصروف



 


لاس اینجلس میں 4000 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثوں کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں خطے کی تباہ کن آگ کے باعث آپریشنز میں مشکلات کا سامنا ہے جن میں سے کچھ دفاتر کی جگہ منتقل کر رہے ہیں اور اپنے گھروں سے محروم ہونے والے عملے کے ارکان کی مدد کر رہے ہیں۔

لاس اینجلس کا علاقہ کیپٹل گروپ، ٹی سی ڈبلیو گروپ، ہیج فنڈز اوک ٹری کیپیٹل اور اریس مینجمنٹ جیسے بڑے صنعتکاروں کا گھر ہے جب کہ مجموعی طور پر لاس اینجلس میں کمپنیاں امریکا کے 132 ٹریلین ڈالر کے عالمی اثاثوں میں سے 4 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا کنٹرول رکھتی ہے، جس میں بانڈ مارکیٹ کے متعدد بڑے نام بھی شامل ہیں۔


کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میںلگی آگ کو بجھانے میں قیدی بھی مصروف

 

california fire





امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والی آگ کو بجھانے کی کوششوں میں صرف امریکی سرکاری ادارے ہی نہیں بلکہ غیر ملکی فائر فائٹرز اور ہزاروں مرد اور خواتین قیدی بھی حصہ لے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پینٹاگون کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آگ بجھانے کی کوششوں میں خصوصی طیارے اور ہیلی کاپٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں جن میں فائر فائٹنگ کے لیے خصوصی نظام نصب کیے گئے ہیں۔

لاس اینجلس میں آگ بجھانے کی کوشش میں حصہ لینے والے قیدیوں کی تعداد 939 اور وہ کیلیفورنیا کے ڈپارٹمنٹ آف کریکشنز اینڈ ریہیبلیٹیشن کے رضاکار پروگرام کا حصہ ہیں۔

رضاکار پروگرام میں قیدیوں کی تعداد منگل کو اس وقت بڑھنا شروع ہوئی جب لاس اینجلس میں لگی آگ قابو سے باہر ہوئی۔

اب تک یہ آگ ہزاروں مکانات کو تباہ اور 37 ہزار ایکڑ زمین کو جلا کر راکھ کر چکی ہے۔ اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرنے میں ہزاروں ایمرجنسی کارکنان مصروف ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس آگ کے سبب گیارہ افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی ریاست میں 35 ایسے فائر کیمپس ہیں جہاں قیدی اپنی قید بھی کاٹتے ہیں اور تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ ان میں دو کیمپس ایسے ہیں جو کہ صرف خواتین کے لیے مختص ہیں۔

اس رضاکار پروگرام میں رجسٹرڈ قیدیوں کی تعداد ایک ہزار 870 ہے جس میں سے 900 سے زیادہ قیدی سرکاری فائر فائٹرز کے ساتھ مل کر جنوبی کیلیفورنیا میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پینٹاگون کی ترجمان سبرینا سنگھ نے رپورٹرز کو بتایا تھا کہ اس آپریشن میں نیوی کے 10 ہیلی کاپٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں جن میں پانی پھینکنے والے نظام بھی نصب ہیں جبکہ دیگر سی 130 طیارے بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پینٹاگون حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کیونکہ یہ آگ عام طور فائر فائٹنگ سیزن کے دوران نہیں لگی، اس لیے کچھ سی 130 طیاروں میں دوبارہ موڈیلر ایئر بورن فائر فائٹنگ سسٹم کے یونٹس فٹ کیے گئے ہیں تاکہ ان کارگو طیاروں کو فائر فائٹنگ کے قابل بنایا جا سکے۔

دوسری جانب ہمسایہ ملک میکسیکو کی جانب سے امریکہ میں اس آگ سے نمٹنے کے لیے 70 فائر فائٹرز اور ریلیف ورکرز بھیجے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ملک کینیڈا کی جانب سے فائر فائٹرز بھیجے گئے ہیں جبکہ امریکہ کی دیگر ریاستوں کے فائر فائٹنگ محکموں سے بھی اہلکاروں کو لاس اینجلس بھیجا گیا ہے۔

گورنر نیوسم کی جانب سے سنیچر کو کہا گیا ہے کہ انھوں نے لاس اینجلس میں کیلی فورنیا نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کی تعداد بڑھا کر 1700 کر دی ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ 'ہم اس آگ کے خلاف ردِ عمل دینے کے لیے وسائل جمع کر رہے ہیں۔ کیلی فورنیا نیشنل گارڈ کے مرد و خواتین دن رات کام کر کے لاس اینجلس کے رہائشیوں کی اس ضرورت کے وقت میں مدد کر رہے ہیں۔'

ادھر قیدی بھی آگ کو بجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔کیلیفورنیا کی حکومت ان قیدیوں کو روزانہ پانچ سے 10 ڈالر ا±جرت دیتی ہے اور انھیں کسی بھی ہنگامی حالت میں کام کرنے کے لیے اضافی ایک ڈالر دیا جاتا ہے لیکن انھیں ملنے والے ا±جرت حکومتی فائر فائٹرز کو ملنے والی تنخواہ سے بہت کم ہے جو کہ سالانہ لاکھوں ڈالرز کماتے ہیں۔

رائل رامی نامی ایک سابق قیدی کہتے ہیں کہ ’آپ لوگوں (قیدیوں) کو اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں چند کوڑیاں ملتی ہیں۔‘

'اگر آپ آگ بجھانے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں تو آپ کو کوئی فوائد نہیں ملتے۔ آپ کو کوئی انعام نہیں ملے گا اور نہ ہی آپ کو ایک فائر فائٹر تسلیم کیا جائے گا۔'

تاہم رامی کہتے ہیں کہ یہ کم ا±جرت بھی باقی ریاستی جیلوں میں مشقت کے ذریعے ملنے والی رقم سے زیادہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان فائر کیمپس میں 'پِکنک جیسا ماحول' ہوتا ہے اور یہاں کیلیفورنیا میں دیگر جیلوں کے مقابلے میں کھانا بھی بہتر ملتا ہے۔

سی ڈی آر سی کا کہنا ہے کہ ان کیمپس میں شرکت کرنے والے قیدی کچھ خدمات کے ذریعے اپنی قید کا دورانیہ بھی کم کروا سکتے ہیں۔

تاہم سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو اس پروگرام کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔

رامی کہتے ہیں کہ جیل سے رہائی کے بعد ریاستی کیمپس میں تربیت حاصل کرنے والے قیدی اکثر فائر فائٹنگ کی ملازمت کے لیے اپلائی کرتے ہیں لیکن انھیں ملازمت پر نہیں رکھا جاتا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'یہاں توہین یا ہتک کا عنصر موجود ہے۔ جب لوگ فائر فائٹر کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے دماغ میں ایک ہیرو کی تصویر آتی ہے نہ کہ کسی ایسی شخص کی جو جیل میں بند رہا ہو۔'

رامی نے اسی سب کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک ادارے کی بنیاد رکھی تھی جس کا مقصد قیدی فائر فائٹرز کے مسائل کو حل کرنا اور کیلیفورنیا میں فائر فائٹرز کی کمی کو پورا کرنا تھا۔

اس وقت لاس اینجلس میں پانچ مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے جس کے نتیجے مِیں اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

ریاستی حکام نے وسائل کی کمی کے سبب سات ہزار 500 ایمرجنسی ورکرز کو دور دراز علاقوں سے بھی ب±لوا لیا ہے، جن میں نیشنل گارڈ اور کینیڈا سے بلوائے گئے فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔

وہاں لگی آگ پر قابو پانا اس وقت بھی مشکل ہو رہا ہے اور پیلیسیڈز اور ایٹون نامی آگ نے 35 ہزار ایکڑ زمین کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔



Sunday, 12 January 2025

طلباء کے مفاد میں جیل جانا پڑا تو جاؤں گا لیکن بی پی ایس سی سے معافی نہیں مانگوں گا: گرو رحمان

 




پٹنہ، 12 جنوری:بہار کے غریب پس منظر سے آنے والے طلباء کی تعلیم اور روزگار کے لیے وقف کہے جانے والے گرو رحمٰن نے بہار پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کے 70ویں سول سروس امتحان میں 'نارملائزیشن' کے خلاف احتجاج کے دوران کیے گئے تبصروں کو لے کر بی پی ایس سی کی نوٹس کے بارے میں  آج واضح کیا کہ اگر انہیں امیدواروں کے مفاد میں جیل جانا پڑا تو وہ جائیں گے لیکن کمیشن سے معافی نہیں مانگیں گے۔


بی پی ایس سی کی لیگل نوٹس پر جب ان کا موقف جاننے کے لئے اتوار کو خبر رساں ایجنسی یو این آئی نے  گرو رحمان سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے واضح کیا، ’’میں کسی بھی حالت میں معافی نہیں مانگوں گا۔ طلبہ کے مفاد کے لیے جیل جانے کو تیار ہوں۔ کمیشن کے سیکرٹری اور چیئرمین جھوٹے ہیں۔ میں نے نارملائزیشن کی مخالفت کی  تھی اور اب بھی کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ تاہم، انہوں نے بی پی ایس سی سے 70ویں مشترکہ ابتدائی امتحان (پی ٹی) کو مکمل طور پر منسوخ کرنے اور دوبارہ امتحان منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔


مسٹر رحمان نے کہا کہ بی پی ایس سی کے چیئرمین مُن بھائی پرمار اور سکریٹری ستیہ پرکاش شرما نے 30 اکتوبر 2024 کو پٹنہ کے متعدد کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے اساتذہ کے ساتھ میٹنگ کی اور 70 ویں سول سروسز امتحان کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ کمیشن کے چیئرمین اور سکریٹری نے نارملائزیشن سے متعلق طلباء سے بات چیت کے لئے 15 نومبر 2024 کو پٹنہ کے باپو آڈیٹوریم میں ایک میٹنگ بلانے کی یقین دہانی کرائی، لیکن یہ میٹنگ نہیں بلائی گئی۔ بالآخر ہم نے مجبوری میں 6 دسمبر سے نارملائزیشن کی مخالفت شروع کردی۔


گرو رحمان نے کہا، "بی پی ایس سی اور اس کے عہدیدار ہمیشہ اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں سے پیچھے ہٹتے رہے۔ اس کے باوجود میں نے کبھی بھی کمیشن کے عہدیداروں کے خلاف کوئی تضحیک آمیز تبصرہ نہیں کیا ہے۔ نیزبی پی ایس سی کے 70ویں سول سروسز امتحان کے نوٹیفکیشن میں، پوائنٹ دو سے ٹھیک پہلے 'نوٹ' کے تین نمبر پوائنٹ میں واضح طورپر نارملائزیشن نافذ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب اگر ہم نے اس کی مخالفت کی تو ہم نے کیا غلط کیا، پھربھی کمیشن نے قانونی نوٹس بھیجا ہے تو میں اس کا جواب ضرور دوں گا۔ تاہم، انہوں نے ایک بار پھر دہرایا، "طلباء کے مفاد میں مجھے جیل بھی جانا پڑے، تو میں جانے کے لئے تیار ہوں لیکن کمیشن سے معافی نہیں مانگوں گا۔"


قابل ذکر ہے کہ بی پی ایس سی نے گرو رحمان کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ یہ نوٹس بی پی ایس سی کی جانب سے پٹنہ ہائی کورٹ کے وکیل وویک آنند امرتیش نے بھیجا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا، "آپ ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ابتدا میں نارملائزیشن کے بارے میں افواہ پھیلائی تھی، جس میں کہا گیاتھا کہ آپ کو ڈر ہے کہ بی پی ایس سی نارملائزیشن کو نافذ کرنے جا رہا ہے۔ نارملائزیشن کی آڑ میں مندرجہ بالا توہین آمیز تبصرے کرکے اور نیوز بائٹ دے کر آپ نے امیدواروں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرکے اور کمیشن و اس کے عہدیداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاکر سستی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ مندرجہ بالا توہین آمیز بیانات کے پیچھے آپ کے بدنیتی پر مبنی ارادے کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ آپ کا امیدواروں کی فلاح و بہبود سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بلکہ آپ کمیشن کے حوالے سے افواہیں پھیلا کر امیدواروں اور عام لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔


کمیشن نے کہا کہ حقائق اور حالات کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ گرو رحمان بے بنیاد اور ہتک آمیز ریمارکس کرکے بی پی ایس سی اور اس کے افسران کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے گرو رحمان سے درخواست ہے کہ وہ پندرہ دنوں کے اندر کمیشن اور اس کے افسران سے غیر مشروط عوامی معافی مانگیں اور مستقبل میں کوئی قابل اعتراض تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔


جی 2اسٹال الیکون 2025 میں مختلف قسم کے جدید برقی آلات کی نمائش کیا

 




پٹنہ۔(پریس ریلیز) بہار الیکٹرک ٹریڈ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام الیکون 2025 کے جی2 اسٹال پر بہت سے جدید الیکٹریکل مصنوعات کی نمائش کی گئی جو نہ صرف بہترین بلکہ کفایتی بھی تھیں اور لوگوں نے انہیں پسند کیا۔ کمپنی کے ڈائریکٹر ہتیش جین نے کہا کہ جی2 ممبئی اور احمد آباد میں تیار کیا جاتا ہے اور بہار میں بہت سے جدید الیکٹرک پروڈکٹس لانچ کیے جائیں گے جو جدید، پرکشش اور اقتصادی بھی ہوں گے۔ کمپنی کے ڈائریکٹر ہتیش جین نے کہا کہ مستقبل میں کمپنی بہت سے جدید برقی آلات تیار کرے گی جو جدید، مفید اور کفایتی ہوں گے۔ بہار میں کمپنی کے سی اینڈ ایف، اریمان موٹانا اور نمن اگروال نے کہا کہ ہماری تقسیم بہار کے کونے کونے میں جی ٹو کے تمام پاور پروڈکٹس فراہم کرے گی۔


اسمبلی الیکشن پوری تیاری کے ساتھ لڑیں گے تجمل حسین

 




 دربھنگہ:- ضلع جن سوراج پارٹی کے صدر بلٹو ساہنی جی کی صدارت میں ریاستی جن سوراج پارٹی کور کمیٹی ممبر اور دربھنگہ کے ضلع انچارج محمد تجمل حسین صاحب کی نگرانی میں ایڈوکیٹ شاہد اطہر بانی ممبر کے رہائشی دفتر میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ریاستی مہم کمیٹی کی رکن شمشاد نور، ضلع سکریٹری ذاکر علی، خواتین لیڈر آمنہ شفیع، نگر صدر ارونیش چندرا، نگر نائب صدر محمد شوکت اور سینئر رکن سہیل احمد خان نے شرکت کی۔  اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع انچارج تجم الحسین نے کہا کہ تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے فوری طور پر تیاریاں کی جائیں اور اسمبلی انتخابات پوری تیاری اور حکمت عملی کے ساتھ لڑیں گے۔ جس میں متھیلا سمیت بہار کے تمام اضلاع میں جن سوراج کے امیدواروں کے لیے ایک لہر پیدا کی جائے گی، تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اسمبلی امیدوار الیکشن جیت سکیں-  اس کے ساتھ ہی ضلع صدر نے اعلان کیا کہ تمام ریاستی عہدیداروں اور تمام ضلعی کمیٹی کے عہدیداروں کو 15 جنوری 2025 بروز بدھ دوپہر 12 بجے سے پارٹی آفس میں ایک میٹنگ رکھی گئی ہے جس میں سبھی عہدیداران کو شرکت کرنی ہوگی۔ پروگرام میں ضلع انچارج کا والہانہ استقبال کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ضلعی انچارج اسمبلی الیکشن کے لیے جو بھی گائیڈ لائنز دیں گے ان کو 100% پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی- اس موقع پر بانی رکن اور ریاستی ورکنگ کمیٹی کے رکن ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں امیدوار بننے کا حق جن سوراج نے ہر کسی کو دیا ہے جس کے لیے کچھ طریقہ کار ہے۔ اس عمل کو مکمل کرنے کے بعد ہائی کمان امیدوار بنانے کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گی، تمام جن سراجی کو اس کا ساتھ دینا ہوگا اور امیدواروں کے حمایت میں لہر پیدا کی جائیگی اور بہار میں بدعنوانی کررہی سرکار  بی پی ایس سی کے طلبہ کے مستقبل سے کھیل رہی سرکار  تعلیم، روزگار اور صحت کے مسائل سے کھیل رہی سرکار کو ہٹا کر جن سوراج کی حکومت بنانی ہوگی اور بہار کو ترقی کی پٹڑی پر لانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

گیان بھون میں انڈیا انٹرنیشنل میگا ٹریڈ فیئر کاہوا افتتاح

 





 پٹنہ (پریس ریلیز) جی ایس مارکیٹنگ ایسوسی ایٹس اور بنگال چیمبر کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر انڈیا انٹرنیشنل میگا ٹریڈ فیئر کے نویں ایڈیشن کا سنیچر کو گیان بھون میں افتتاح کیا گیا۔ اس میگا تجارتی میلے کا افتتاح مہمان خصوصی پٹنہ کی میئر سیتا ساہو نے کیا۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے میئر سیتا ساہو نے کہا کہ اس تجارتی میلے کا آغاز ریاست کی اقتصادی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ میگا ایونٹ بلاشبہ کاروبار کے زبردست مواقع فراہم کرے گا۔ دریں اثنا، ایونٹ کوآرڈینیٹرز، بنگال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اراکین چدروپ شاہ اور تپن گھوش نے بتایا کہ بین الاقوامی مصنوعات کی وسیع تعداد سے مزین اس دس روزہ نمائش میں پچیس ہزار سے زائد بین الاقوامی مصنوعات فروخت کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میلہ خاص طور پر پٹنہ کے شہریوں کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ 10 جنوری سے 20 جنوری 2025 تک جاری رہنے والی اس نمائش میں ہندوستان کی 12 ریاستوں کے ساتھ دنیا کے 8 ممالک بشمول افغانستان، ملائیشیا، ایران، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، دبئی، ترکی اور یقیناً ہندوستان شرکت کر رہے ہیں۔ میلے کا انعقاد ایک شاندار نمائشی ماحول میں کیا گیا ہے جس میں ہندوستان اور بیرون ملک سے 25000 سے زیادہ منفرد مصنوعات کی نمائش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میلہ صبح 11 بجے سے رات 9 بجے تک کھلا رہے گا جس میں صارفین کے لیے مفت داخلہ ہوگا۔