Thursday, 9 January 2025

ججوں کے بچوں کو جج بننے سے روکنے کے بجائے معیار کو اعلیٰ بنائیں، سپریم کورٹ کالجیم رکن نے دی صلاح

 






سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے ذریعہ کچھ برسوں کے لیے موجودہ یا سابق ججوں کے بچوں کو ہائی کورٹ کے جج طور پر تقرر کرنے کے لیے منتخب نہیں کرنے کی تجویز دی گئی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کالجیم میں شامل ایک سینئر رکن نے تجویز پیش کی کہ ججوں کے بچوں کو پوری طرح سے نہیں روکنا چاہیے لیکن ان کے لیے معیار کو اعلیٰ کرنا ہوگا۔ جج کی اس تجویز کی وکیلوں کے درمیان خوب چرچا ہو رہی ہے۔ وکیل اس کی تعریف کر رہے ہیں۔


وکیلوں کی طویل عرصے سے شکایت تھی کہ عام طور پر ہائی کورٹ کا جج بننے کے لیے موجودہ یا سابق ججوں کے اہل خانہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کالجیم میں شامل اس رکن کا کہنا ہے کہ ایسے امیدواروں کے انتخاب کو پوری طرح سے روکنا امتیازی سلوک ہوگا۔ ایسا اس لیے کہ عدالتی تقرریاں صرف اہلیت اور مناسبیت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔


اس رکن کے ذریعہ یہ بھی جواز دیا گیا کہ یہ قدم عدالتی نظام کو ایسی صلاحیت سے محروم کر سکتی، جن کی ضرورت وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ حالانکہ انہوں نے پہلے جج کے ذریعہ مجوزہ مقاصد سے اتفاق ظاہر کیا۔ انہوں نے اس دلیل کے لیے وکیلوں کے درمیان عدم اطمینان کا احساس ہونے کا جواز دیا۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ ایسے انتخاب کئی مرتبہ قابل ہوتے ہیں۔ ٹائمز ا?ف انڈیا نے ذرائع کے حوالے سے یہ بات کہی ہے۔



دلچسپ بات یہ ہے کہ وکیلوں کا عدم اطمینان بدھ کو 'ف±ل کورٹ ریفرنس' معاملہ کے دوران سامنے آیا جب سپریم کورٹ کے تین سابق ججوں (جسٹس کلدیپ سنگھ، جسٹس ایم جگن ناتھ راو¿ اور جسٹس ایچ ایس بیدی) کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ان تینوں ججوں کے بیٹوں کو ہائی کورٹ کے جج کے طور پر تقرر کیا گیا تھا۔ انم یں سے ایک نے صرف چھ مہینے میں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور پھر سے سپریم کورٹ مں وکالت شروع کر دی۔




بابا صدیقی قتل معاملہ: پولیس پیادوں کو پکڑ رہی، ماسٹر مائنڈ تاحال فرار، ذیشان صدیقی کا الزام








ممبئی: این سی پی کے مرحوم رہنما بابا صدیقی کے بیٹے ذیشان صدیقی نے بدھ کو آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے اپنے والد کے قتل کیس کی تحقیقات پر سخت عدم اطمینان ظاہر کیا۔ انہوں نے پر الزام لگایا کہ ’پولیس اصل سازشی ماسٹر مائنڈ کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے اور صرف چھوٹے کرداروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔‘


ذیشان صدیقی نے کہا، "قتل کیس میں تقریباً 4590 صفحات کی چارج شیٹ جمع کرائی گئی ہے، مگر ہمیں یہ نہیں دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے بلڈرز کے کردار کو مسترد کیا ہے، جس سے ہم اتفاق نہیں کرتے۔ اگر انمول بشنوئی کو ملزم ٹھہرایا جا رہا ہے، تو کیا اس سے پوچھ گچھ کی گئی؟ کیا اس نے کہا ہے کہ کسی بلڈر نے اسے قتل کرنے کا کہا؟“



انہوں نے مزید کہا، "پولیس نے کن بلڈرز سے پوچھ گچھ کی؟ میرے والد ہمیشہ غریبوں کی حمایت کرتے تھے، جس سے کچھ بلڈرز کو مشکلات کا سامنا تھا۔ پولیس کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس نے کتنے بلڈرز کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا، تو تحقیقات پر اعتماد ممکن نہیں۔"


ذیشان صدیقی نے کلیدی ملزم کی گرفتاری میں ناکامی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا، "پولیس ملزم انمول بشنوئی کو گرفتار کیوں نہیں کر رہی؟ اگر الزامات ہیں تو اسے لایا کیوں نہیں جا رہا؟ یہ واقعہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔“



ذیشان نے کہا کہ چارج شیٹ کے مکمل مطالعے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے، مگر ان کا الزام تھا کہ والد کے قتل کے بعد حقائق کو توڑ مروڑ کر بشنوئی کے خلاف کہانی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر ہمارے تحفظ کے مطالبات کو نظرانداز نہ کیا جاتا، تو یہ سانحہ روکا جا سکتا تھا۔"



آندھرا پردیش: تروپتی مندر میں بھگدڑ سے 6 عقیدت مند ہلاک، 40 زخمی

 









آندھرا پردیش کے تروپتی مندر میں بھگدڑ مچنے سے چھ لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ بھگدڑ کی وجہ سے 40 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس حادثے میں 6 افراد شدید زخمی ہیں۔ تروپتی میں سالانہ ویکنٹھ درشن ٹکٹ کاو¿نٹر پر افراتفری مچ گئی جب تروملا تروپتی دیوستھانم (ٹی ٹی ڈی) نے ویکنتھا ایکادشی 2025 کے لیے آن لائن بکنگ اور ٹکٹوں کی ریلیز شروع کی۔


اس حادثے کے بارے میں پی ایم نے کہا،” میں آندھرا پردیش کے تروپتی میں بھگدڑ سے دکھی ہوں۔ میرے خیالات ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کو کھو دیا ہے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ آندھرا پردیش حکومت متاثرہ لوگوں کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔“


آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے تروپتی میں وشنو نواسم کے قریب تروملا سریوری ویکنٹھ دوار میں درشن کے لیے آنے والی بھگدڑ میں عقیدت مندوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ انیتا نے بھی اس حادثے پر غم کا اظہار کیا ہے۔

سی ایم چندرابابو نے کہا، "میں تروپتی میں وشنو نواسم کے قریب تروملا سریوری ویکنتھا دوار کے درشن کے لیے ٹوکن لینے کے لیے بھگدڑ میں بہت سے عقیدت مندوں کی موت سے صدمے میں ہوں۔ جنازے کے لیے جمع ہونے والے ہجوم نے مجھے بہت پریشان کر دیا ہے، اس اطلاع کے پیش نظر میں نے اعلیٰ حکام کو موقع پر جا کر امدادی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بہتر طبی علاج فراہم کیا جائے اور ان کی جان بچائی جا سکے۔“



کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "تروپتی میں بھگدڑ کا المناک واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ سوگوار خاندانوں کے ساتھ میری دلی تعزیت ہے۔ میں زخمیوں کے جلد صحت یاب ہونے کی خواہش کرتا ہوں۔ میں کانگریس کے رہنماو¿ں اور کارکنوں سے اس مشکل وقت میں ہر ممکن مدد کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔"

یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب اچانک کاو¿نٹر کھلنے پر بھیڑ قابو سے باہر ہو گئی اور ٹکٹوں کے لیے افراتفری مچ گئی۔ دریں اثنا، واضح رہے کہ تروپتی مندر نے ویکنتھا ایکادشی تہوار کے لیے تقریباً 1.20 ہزار مفت ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔



سید شمائل احمد عمرہ کی ادائیگی کے بعد وطن واپس، اعزہ واقارب نے والہانہ استقبال کیا

 

حنظلہ ٹور اینڈ ٹریولز اور اس کے ڈائریکٹر چاند احمد کی خدمات کی ستائش کی


پٹنہ سیٹی 8 جنوری ( ذوالقرنین) پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد اپنی اہلیہ شہلا بےگم بیٹی ثانیہ، تانیہ، بیٹے شان اور چھوٹی بہن گڑےہ کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کے بعد سعودی عرب سے دوپہر ایک بجے پٹنہ واپس آئے پٹنہ ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں رشتہ داروں اور عزےز و اقارب نے ان کاوالہانہ استقبال کیا اور انہیں شال مالا اور گلدستہ پیش کیاایسوسی ایشن کی نیشنل آفس سیکرٹری فوزیہ خان کی قیادت میں شاندار استقبال کی تیاریاں کی گئیں اور ہیڈ آفس میں موجود سینکڑوں افراد نے قومی صدر سید شمائل احمد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور گلدستے پیش کیے۔سید شمائل احمد نے کہا کہ مکہ اور مدینہ جیسے مقدس مقامات کی زیارت کرنا زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے ایسے مقدس مقامات پر جانے اور 12 دن پوری عقیدت کے ساتھ عبادت کرنے کا موقع دیا تمام مقدس مقامات اور اپنے پورے ملک کے ساتھ بہار کی ترقی بہتری بھائی چارہ اور خوشحالی کے لیے دعا کرتے ہیںاس موقع پر ان کے استقبال کے لیے سید شکیل احمد سید شاہجہان احمد حیدر امام پرویز اعظم ارمان اکرام سید شرف الہدی ٰ سید شیزان احمد ڈاکٹر حسن معراج خالد لولی بیگم، فرحت ماریہ نگار خوشی لائبہ الکھ ورما سنیل کمارمحمد پرویز اور دیگر بھی موجود تھے انہوں نے حنظلہ ٹور اینڈ ٹریولز اور اس کے ڈائریکٹر چاند احمد کی خدمات کی ستائش کی جن کے ذریعے انہوں نے عمرہ ادا کیا اور مکہ میں موجود ان کے بھائی فیضان کے انتظام وانصرام کو سراہا۔


معروف سرجن ڈاکٹر احمد عبد الحئی سال 2024 کے 100 سب سے زیادہ بااثر ہندوستانی مسلمانوں کی فہرست میں شامل

 



پٹنہ : معروف سرجن و فلیم کے صدر ڈاکٹر احمد عبد الحئی کو سال 2024 کے 100 سب سے زیادہ بااثر ہندوستانی مسلمانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ مسلم مرر نے مائنارٹی میڈیا فاو¿نڈیشن کے ساتھ شراکت داری میں "2024 کے 100 سب سے زیادہ بااثر ہندوستانی مسلمانوں" کی اپنی فہرست جاری کی ہے۔ ڈاکٹر احمد عبدالحئی ایک ممتاز سرجن اور طبی معلم ہیں، جو ہندوستان میں صحت کی دیکھ بھال اور طبی تحقیق میں اپنی خدمات کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے اپنی طبی تعلیم ممتاز پٹنہ میڈیکل کالج میں مکمل کی، جہاں انہوں نے ایک فیکلٹی ممبر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔اپنے کیریئر کے دوران، انہوں نے ہزاروں پیچیدہ سرجریز کی ہیں، جن میں سے اکثر اس ایریا میں پہلی تھیں۔ اس کی مہارت اور اختراعی تکنیکوں نے انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہچان دلائی ہے۔ڈاکٹر احمد عبدالحئی کی وراثت سرجری، تعلیم، اور انسانی خدمت میں بہترین ہے، جنہوں نے ہندوستان کے صحت کی دیکھ بھال کے منظر نامے پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ واضح ہو کہ یہ سالانہ اقدام مختلف شعبوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی شاندار شراکت کا اعزاز دیتا ہے، جو قومی سطح پر ان کی قیادت، لچک اور سماجی اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس فہرست میں اکیڈمک کے زمرے میں عبدالحمید نعمانی: اسلامی اسکالر، اکیڈمک، عبدالقدیر: ماہر تعلیم، ایجوکیشن،ابوالقاسم نعمانی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم،بہاءالدین محمد جمال الدین ندوی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم،بلال عبدالحئی حسنی ندوی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم ،فیضان مصطفی: تعلیمی/قانونی ماہر،غلام محمد وستانوی:اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم، عرفان حبیب: مورخ/تعلیمی، جاوید جمیل: اسلامی اسکالر/ اکیڈمک،خالد سیف اللہ رحمانی: اسلامی اسکالر، اکیڈمک،تجارت کے زمرے میں عبدالقادر فضلانی: تاجر، مخیر حضرات،احمد بخاری: کاروباری، انسان دوست،آزاد موپن: ہیلتھ کیئر انٹرپرینیور/انسان دوست ،عظیم ہاشم پریم جی : بزنس مین/انسان دوست،عرفان رزاق: بزنس مین،ایم پی احمد: بزنس مین/انسان دوست،پی محمد علی: ایک وڑنری بزنس مین اور انسان دوست،یوسف خواجہ حمید: تاجر،ایم اے یوسف علی: کاروباری/ مخیر حضرات ،کمیونٹی لیڈرکے زمرے میں حامد انصاری: سیاست دان، سفارت کار اور اسکالر،ارشد مدنی: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،محمود مدنی: مذہبی رہنما/ کمیونٹی لیڈر،کلب جواد: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،مفضل سیف الدین: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،ایڈووکیٹ فیروز انصاری: کمیونٹی لیڈر/ ایڈوکیٹ،منظور عالم: دانشور/ فکری رہنما،احمد ولی فیصل رحمانی: مذہبی اسکالر/ کمیونٹی لیڈر،سید قاسم رسول الیاس: کارکن، کمیونٹی لیڈر،ای ابوبکر: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر ، ایڈوپرینر کے زمرے میں عبدالقدیر: ماہر تعلیم، ایجوکیشن، عبداللہ کنہی: کاروباری، ماہر تعلیم اور انسان دوست، محبوب الحق: ماہر تعلیم / ماہر تعلیم / ماہر تعلیم ، پی اے انعامدار: ماہر تعلیم ، انٹرٹینرکے زمرے میں اے آر رحمان، انٹرٹینر ،عامر خان: انٹرٹینر،عمران پرتاپ گڑھی: شاعر اور سیاست دان،سلمان خان ، شاہ رخ خان: انٹرٹینر، اسلامی اسکالر کے زمرے میں، ارشد مدنی: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،ابوالقاسم نعمانی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم، اے پی ابو بکر مصلیار: اسلامی اسکالر/ روحانی رہنما/ تعلیمی،عبدالحمید نعمانی: اسلامی اسکالر، اکیڈمک ،اصغر علی امام مہدی سلفی: اسلامی اسکالر،بہاءالدین محمد جمال الدین ندوی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم ، بلال عبدالحئی حسنی ندوی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم، کلب جواد: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،غلام محمد وستانوی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم، کلیم صدیقی: اسلامی اسکالر اور مبلغ ، میڈیا پرسن کے زمرے میں احمد حسن عمران: صحافی،عارفہ خانم شیروانی: صحافی/ اینکر، محمد زبیر: فیکٹ چیکر/سوشل میڈیا متاثر کن،رانا ایوب: صحافی، سعید نقوی: صحافی، مصنف اور تبصرہ نگار،ظفراسلام خان: صحافی، مصنف/کمیونٹی لیڈر،ضیاءالسلام: صحافی/مصنف ،سیاست داں کے زمرے میں ابو عاصم اعظمی: سیاست دان،افضل انصاری: سیاست دان، انسان دوست ، عارف محمد خان: سیاستدان، اسد الدین اویسی: سیاست دان ، اعظم خان: سیاستدان، بدرالدین اجمل: سیاستدان ، حامد انصاری: سیاست دان، سفارت کار اور اسکالر ، عمران پرتاپ گڑھی: شاعر اور سیاست دان، کے ایم قادر محی الدین: سیاست دان ، ایم ایچ جواہر اللہ: سیاست دان/ کارکن،پروفیشنلس کے زمرے میں ڈاکٹر احمد عبدالحئی: سرجن، فیصل فاروقی: پیشہ ور/ کاروباری،عمران عباس شیخ: معمار، ماجد احمد: آنکو سرجن/ کمیونٹی لیڈر ،منور زماں: موٹیویشنل سپیکر، مذہبی رہنما کے زمرے میں مولاناارشد مدنی: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر، کلب جواد: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،کلیم صدیقی: اسلامی اسکالر اور مبلغ، خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم اور مبلغ، ، میرواعظ محمد عمر فاروق: سیاست دان/مذہبی رہنما، احمد بخاری: مذہبی رہنما، عثمان رحمانی لدھیانوی: مذہبی رہنما،محمد سعد کاندھلوی: مذہبی رہنما/روحانی رہنما، سلمان ازہری: اسلامی اسکالر اور خطیب، سید محمد اشرف کچھوچھوی: روحانی پیشوا،سماجی کارکن کے زمرے میں عامر ادریسی: سماجی کارکن، عبدالرحمن: مصنف، کارکن، سابق آئی پی ایس آفیسر، افضل انصاری: سیاست دان، انسان دوست، احمد بخاری: کاروباری، انسان دوست، امیر احمد: کاروبار اور تعلیم کے ذریعے سماجی تبدیلی کا علمبردار، گلفشہ فاطمہ: کارکن، محمد ادیب: سیاست دان، کارکن،محمد زبیر: فیکٹ چیکر/سوشل میڈیا ، ندیم خان: کارکن، نصیر اختر: کارکن/مذہبی رہنما ، اسپورٹس پرسن کے زمرے میں محمد شامی: اسپورٹس پرسن، ثانیہ مرزا: اسپورٹس پرسن وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ 







ا


فزکس والا نے ہندوستان بھر میں 150 سے زائد مراکز کا آف لائن نیٹ ورک بنایا

 




پٹنہ: الکھ پانڈے، بانی اور سی ای او، فزکس والا (پی ڈبلیو)، نے کوٹا کے سالانہ پروگرام - دیشا 2025 کے دوران طلبہ کے درمیان بات کرتے ہوئے کہا، "بطور اساتذہ، یہ دیکھنا ہمارے لیے انتہائی افسوسناک ہے کہ جب طلبہ مایوس ہوتے ہیں اور سخت اقدامات اٹھاتے ہیں۔ ہم ان کی امید بننا چاہتے ہیں۔ آج میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں – اس کوشش میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ ہم آفات کو ٹال سکیں۔ ہماری 24x7 ملک گیر ٹول فری ہیلپ لائن - پریرنا کا استعمال کریں اور جب بھی آپ کو تناو¿ یا پریشانی محسوس ہو تو مدد حاصل کریں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے آئندہ تعلیمی سال 2025-26 کے لیے 20 جنوری 2025 تک تمام آف لائن بیچوں پر 30 فیصد رعایت کا بھی اعلان کیا۔

فی الحال فزکس والا (پی ڈبلیو) نے ہندوستان کی 20 ریاستوں میں 150 سے زیادہ ودیا پیٹھ اور پاٹھ شالہ مراکز کھولے ہیں۔ ودیا پیٹھ رہائشی پروگرام (VPRP) بھی ان میں سے دس مراکز میں دستیاب ہے۔ تعلیمی سال 2025-26 کے لیے، پی ڈبلیو نے ڈبرو گڑھ، چنئی اور ادے پور سمیت کئی نئے شہروں میں مراکز کھول کر اپنے آف لائن نیٹ ورک کو بڑھایا ہے۔ چنئی میں مرکز کھولنا ریاست تمل ناڈو میں پی ڈبلیو کا پہلا آف لائن داخلہ ہے۔

پروگرام میں ایسے طلباءکی شرکت بھی دیکھی گئی جنہوں نے پہلے PW میں تعلیم حاصل کی تھی اور آج آئی آئی ٹی اور ایمس جیسے سرکاری کالجوں میں نشستیں حاصل کی ہیں۔ ان طلباءکو مبارکباد دی گئی اور درخواست کی گئی کہ وہ اپنے سفر کو موجودہ طلبائ کے ساتھ شیئر کریں۔

ودیاپیٹھ رہائشی پروگرام (VPRP ) نیٹ اور جے ای ای کے خواہشمندوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو رہائشی تعاون کے ساتھ اکیڈمک تجربہ چاہتے ہیں۔ یہ پروگرام ایک منظم اور تعلیمی لحاظ سے حوصلہ افزا ماحول فراہم کرتا ہے، جس سے طلبائکو اپنے تعلیمی مقاصد کے لیے خود کو مکمل طور پر وقف کرنے کا موقع ملتا ہے۔ آن لائن اور آف لائن کلاسز کے لیے اساتذہ کی مسلسل دستیابی فراہم کر کے، VPRP اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ طلباءکو بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیمی تجربہ حاصل ہو، اور فارمیٹس کے درمیان سوئچنگ سے منسلک مشترکہ چیلنجوں کو کم کیا جائے۔


قومی اساتذہ تنظیم کی جانب سے 10 جنوری یوم اردو کے موقع پر مختلف شخصیات ایوارڈ سے ہوں گے سرفراز ، بہار کے تمام محبان اردو سے شرکت کی اپیل : آفتاب عالم

 



مظفر پور:قومی اساتذہ تنظیم کی جانب سے 10 جنوری یومِ اردو اور سالار اردو الحاج غلام سرور کے یومِ پیدائش کے موقع پر ایک تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ لیاگیاہے ۔ ڈاکٹر احمد اشفاق کریم سابق ایم پی راجیہ سبھا مہمان خصوصی ہوں گے وہیں ریاستی وزیر اقلیتی امور جناب زماں خان شمع روشن کریں گے۔ تقریب کی زینت مہمانان ذی وقار الحاج محمد ارشاد اللہ، امتیاز احمد کریمی، اشرف فرید، عبدالسلام انصاری، ڈاکٹر ریحان غنی اور پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی وغیرہ ہوں گے۔ یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہی ہیں۔ اس موقع پر پروگرام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قومی اساتذہ تنظیم بہار کے صدر جناب تاج العارفین نے کہا کہ تقریب میں تنظیم کے ریاستی کنوینر محمد رفیع کے اردو کے مسائل اور حل سے متعلق لکھے مضمون کا مجموعہ ' صد برگ ' جسے سیکریٹری قومی اساتذہ تنظیم بہار محمد تاج الدین نے مرتب کیا ہے کا اجرائ، اردو کی بیش بہا خدمات انجام دینے اور مختلف اردو تحریکوں کا حصہ رہنے والے شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ قومی اساتذہ تنظیم کے ضلعی سیکریٹری آفتاب عالم نے بہار کے تمام محبان اردو سے اپیل کی ہے کہ وہ 10 جنوری کو پٹنہ کے سنہا روڈ واقع بہار انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے ہال میں بعد نماز جمعہ 2 بجے ضرور سے ضرور پہنچیںاور اس تقریب کو کامیاب بنائیں۔



'لوٹ سکو تولوٹ لو' کی طرز پر بہار میں چہرہ چمکانے والی حکومت چل رہی ہے: شکتی سنگھ یادو

 

















پٹنہ:بہار ریاست راشٹریہ جنتا دل کے چیف ترجمان شکتی سنگھ یادو نے ریاستی ترجمان اعجاز احمد، ارون کمار یادو، پرمود کمار سنہا اور آرزو خان کی موجودگی میں آر جے ڈی کے ریاستی دفتر کے کرپوری آڈیٹوریم میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہینہیں ہے کہ بہار میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے۔ ریٹائرڈ اہلکار، دو دہلی اور دو بہار والے اپنی مرضی کے مطابق حکومت چلا رہے ہیں۔ بہار ادارہ جاتی بدعنوانی کا مرکز بن چکا ہے، اور ہر طرف بدعنوانی نظر آتی ہے۔ سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ ۔شری شکتی سنگھ یادو نے مزید کہا کہ بہار میں پرگتی یاترا کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار کہیں بھی لوگوں سے نہیں مل رہے ہیں، اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک بھی تصویر، فوٹیج یا ویڈیو نہیں دکھ رہا ہے کہ وہ عام لوگوں سے مل رہے ہیں۔ پرگتی یاترا درگتی یاترا میں بدل گئی ہے۔ جہاں 2 ارب 25 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود بہار کے عوام کے مفاد میں کوئی کام نہیں ہو رہا ہے وہیں جمہوریت میں عوام کی منتخب کردہ حکومت عوام کے لیے کوئی کام نہیں کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمراں طبقے نے ریٹائرڈ افسران کے ذریعے تبادلوں اور تعیناتیوں کو انڈسٹری کا درجہ دے رکھا ہے۔ اور یہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے اتحادی جماعت کے ایک سینئر رہنما اور وزیر نے بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ حکومت کیسے چلائی جا رہی ہے لیکن حکومتی لوگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہار کی حکومت "لوٹ سکو تو لوٹ لو" کے اصول پر چل رہی ہے اور چہرہ چمکانے کیلئے سرکاری خزانے کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔قائدین نے کہا کہ راشٹریہ جنتا دل پہلے دن سے ہی بی پی ایس سی امیدواروں کے تئیں سنجیدہ ہے اور جب تک امیدواروں کو انصاف نہیں ملتا تیجسوی جی سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔





ہمت سے ناممکن کو ممکن بنایا جاتا ہےـ ڈاکٹر آرزو

 





 دربھنگہ: ضلع کے تین کھلاڑی دنکر کمار یادو کو قومی کھیل مقابلہ سطح پر تیراکی میں منتخب، دیپاولی کماری کو بال بیڈمنٹن میں قومی کھیل مقابلہ سطح اور باکسنگ میں آفرین خان کو ریاستی سطح کے کھیلوں کے مقابلے میں تیسرا مقام حاصل کرنے پے شہر کے نامور افراد نے اعزاز سے نواز کر کے حوصلہ افزائی کیاـ  پروگرام کا اہتمام رحم خاں کے نوجوانوں نے محلہ رحم خاں کے الہیرا پبلک اسکول کے احاطے میں کیاـ اس موقع پر معروف سماجی کارکن ڈاکٹر احمد نسیم آرزو نے سوئمنگ میں دینکر کمار یادو کو اعزاز دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہترین کھیل ہے جو جسم کو مکمل طور پر فٹ رکھتا ہے۔ بال بیڈمنٹن کھلاڑی دیپالی کماری کو اعزاز دیتے ہوئے جن سوراج کے لیڈر آنند پاٹھک نے کہا کہ ہمیں پورا اعتماد ہے کہ ہمارے یہ بچے کل کے بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی ہوں گے۔  باکسنگ میں آفرین خان کو اعزاز دیتے ہوئے کانگریس لیڈر ڈاکٹر جمال حسن نے کہا کہ اس کم عمر میں ہماری بہن نے بہار کے پلیٹ فارم پر ضلع اور سماج کا نام روشن کیا ہے۔ مہمان اعزازی جن سوراج لیڈر ایڈوکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے کہا کہ مستقبل میں اس سے کئی گنا بڑا پروگرام منعقد کرکے ان کھلاڑیوں کو ضلع کے ایم ایل اے، ایم پی اور اعلی افسران کے ہاتھوں نوازا جائے گا۔ پروگرام کو مخاطب کرتے ہوئے کوچ ستارے حسن نے کہا کہ یہ میرے لیے بڑے فخر کی بات ہے کہ ہمارے زریعہ دئیے گئے ٹرینینگ بچے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔  جے ڈی یو لیڈر علی حسن انصاری سابق نگر صدر نے پروگرام کی نظامت کی اور تمام کھلاڑیوں کا تعارف کرانے کے بعد تمام مہمانوں کا پھولوں کے ہار اور شال سے استقبال کیا۔

Tuesday, 7 January 2025

'برکس' میں انڈونیشیا بھی ہوا شامل، اس گروپ کا حصہ بننے والا 11 واں ملک




انڈونیشیا 'برکس' کا حصہ بننے والا 11 ملک بن گیا ہے۔ 2025 میں 'برکس' کی صدارت کرنے جا رہے برازیل نے منگل کو اس کا اعلان کیا۔ برازیل نے کہا کہ 2023 میں جوہانسبرگ چوٹی کانفرنس میں بلاک کے رہنماؤں نے انڈونیشیا کی امیدواری کی حمایت کی تھی۔


برازیل کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا "برازیل حکومت انڈونیشیا کے برکس میں شامل ہونے کا استقبال کرتی ہے۔ جنوب-مشرقی ایشیا میں سب سے بڑی معیشت اور سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے طور پر، انڈونیشیا دیگر برکس اراکین کے ساتھ عالمی گورننس اداروں میں اصلاحات کے لیے حمایت کرتا ہے اور عالمی جنوبی تعاون کو گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔"


سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا نے اپنی نئی حکومت کی تشکیل کے بعد سے ہی 'برکس' میں شامل ہونے میں اپنی دلچسپی کے بارے میں اس گروپ کو مطلع کیا تھا۔ بیان کے مطابق 2024 میں برکس ممالک نے جوہانسبرگ میں متفق ہوئے توسیع کے لیے رہنما اصول، ضوابط اور طریقہ کار کے مطابق انڈونیشیا کی رکنیت کو اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔



غور طلب ہے کہ 'BRIC' ایک رسمی گروپ کے طور پر 2006 میں وجود میں آیا تھا۔ 2006 میں نیویارک میں اَنگا کے اجلاس کے دوران 'برک' خارجہ سکریٹریوں کی پہلی میٹنگ کے دوران گروپ کو رسمی شکل دی گئی تھی۔ پہلا برک چوٹی کانفرنس 2009 میں روس کے یکاتیرنگبرگ میں منعقد کیا گیا تھا۔ وہیں 2010 میں نیویارک میں برک خارجہ سکریٹریوں کی میٹنگ میں جنوبی افریقہ کو شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد سے یہ گروپ 'برکس' کے نام سے جانا جاتا ہے۔


گزشتہ کچھ برسوں میں جی-20 کی طرز پر بنی 'برکس' کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2024 میں 5 نئے ممالک مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 'برکس' کا حصہ بنے تھے۔ 16واں برکس چوٹی کانفرنس 2024 میں کزان میں منعقد کیا گیا تھا جس کی صدارت روس نے کی تھی۔

پرگتی یاترا کے دوسرے مرحلے میں، وزیر اعلیٰ نے سیوان ضلع کو تقریباً 109 کروڑ روپے کی اسکیموں کا تحفہ دیا، 127 ترقیاتی اسکیموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔

 






پٹنہ، 07 جنوری 2025 وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار نے آج پرگتی یاترا کے دوران ضلع سیوان کو تقریباً 109 کروڑ روپے کی اسکیموں کا تحفہ دیا۔ وزیراعلیٰ نے ریموٹ کے ذریعے 127 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ جن میں 83 کروڑ 47 لاکھ 37 ہزار روپے کی لاگت سے 122 منصوبوں کا افتتاح اور 25 کروڑ 38 لاکھ 27 ہزار روپے کی لاگت سے 5 اسکیموں کا سنگ بنیاد رکھنا شامل ہے۔ پرگتی یاترا کے دوران وزیر اعلیٰ نے پچروکھی بلاک کے گاؤں نارائن پور میں مجوزہ سیوان بائی پاس کی جگہ کا معائنہ کیا۔افسران نے وزیر اعلی کو نقشہ کے ذریعہ مجوزہ سیوان بائی پاس کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔  مجوزہ روڈمحمد پور موڑ (این ایچ531) سے چھپیا-تیڑھی گھاٹ-گوپالپور (NH-227A) آر اوبی سمیت توسیع اور مضبوطی کا کام کیا جانا ہے۔ اس مجوزہ روڈ کی کل لمبائی 13.80 کلومیٹر ہے۔ افسران کو ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ اس مجوزہ راستے پر کام جلد از جلد شروع کیا جائے۔ ایک بار جب یہ تعمیر ہو جائے گا، آمدورفت آسان ہو جائے گی. عوام کو ٹریفک جام کی پریشانی سے بھی نجات ملے گی۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے سیوان ضلع کے حسین گنج بلاک میں واقع مچکنا پنچایت کے گاؤں کرہانو میں جل جیون ہریالی مہم کے تحت خوبصورت بنائے گئے تالاب کا معائنہ کیا۔ اس دوران وزیر اعلیٰ نے تالاب میں مچھلی کا زیرہ چھوڑا۔ تالاب کے معائنہ کے دوران افسران کو ہدایات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس تالاب کے ارد گرد ایک سیڑھی گھاٹ تعمیر کیا جانا چاہئے۔ اس سے عوام کو سہولت ملے گی۔ تالاب کے ارد گرد درخت اچھی طرح سے لگائے گئے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔ سال 2019 سے جل۔ جیون۔ ہریالی مہم شروع کرکے، ہم تمام عوامی تالابوں، کنوؤں وغیرہ کی خوبصورتی اور تزئین کا کام کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کرہنو گاؤں کے وارڈ نمبر 2 میں آنگن واڑی سنٹر کا معائنہ کیا اور بچوں کی تعلیم کے بارے میں جانکاری لی۔ وزیراعلیٰ نے ایڈیشنل پرائمری ہیلتھ سنٹر، کرہنو، حسین گنج کا بھی معائنہ کیا اور او پی ڈی روم، ٹیلی میڈیسن وغیرہ کا جائزہ لیا۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2006 سے ہم تمام سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات تقسیم کر رہے ہیں۔ سال 2005 کے بعد صحت کے شعبے میں بہت کام کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو علاج میں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیر اعلیٰ نے ریموٹ کے ذریعے ضلع سیوان کی کئی ترقیاتی اسکیموں سے متعلق تختیوں کی نقاب کشائی کرکے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ وزیراعلی نے اپ گریڈ شدہ مڈل اسکول کرہنو کے احاطے میں منریگا کے تحت 8.74 لاکھ روپے کی لاگت سے بنائے گئے عوامی کھیل کے میدان کا ربن کاٹ کر اور نام کے تختی کی نقاب کشائی کرکے افتتاح کیا۔

وزیر اعلیٰ نے پبلک سروس سنٹر اور پنچایت سرکار بھون مچکنا کا معائنہ کیا اور سرپنچ کورٹ، لائبریری وغیرہ کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ نے کرہنو بازار کے احاطہ میں 7.18 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی منریگا ہاٹ کے سنگ بنیاد کی نقاب کشائی اور افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے جیویکا دیدیوں اور مختلف محکموں کی جانب سے لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا۔ اس دوران وزیر اعلیٰ نے جیویکا دیدیوں کو باسگیت پرچہ، ستت جیویکوپارجن اسکیم اور پروجیکٹ فنڈ کے تحت 51 کروڑ روپے کا علامتی چیک پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے ستت جیویکو پارجن اسکیم کے تحت ای رکشا کی چابیاں، 19 جیویکا دیدیوں کو 42 لاکھ 6 ہزار 736 روپے کا علامتی چیک، 29 ہزار 663 سیلف ہیلپ گروپوں سے وابستہ 3 لاکھ 51 ہزار 506 جیویکا دیدیوں کو بنک لنکج کے ذریعی 101کروڑ روپے کا علامتی چیک ، جیویکا بھون کی چابی، چیف منسٹر چور وکاس منصوبہ کا علامتی چیک، بلاک ٹرانسپورٹ اسکیم کی چابی، چیف منسٹر دیویانگجن امپاورمنٹ چھاترا یوجنا کے تحت بیٹری سے چلنے والی گاڑی کی چابی، بہار اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ، آیوشمان ویا وندنا کارڈ مستفیدین کو فراہم کیے گئے۔

 پرگتی یاترا کے دوران منعقد جیویکا دیدیوں کے ڈائیلاگ پروگرام میں وزیر اعلیٰ نےشرکت کی۔ جیویکا دیدیوں نے چیف منسٹر کے ساتھ اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ سیلف ہیلپ گروپس نے ہماری زندگیوں میں بہت تبدیلی لائی ہے۔ سیلف ہیلپ گروپس میں شامل ہو کر ہم کئی طرح کے کام کر رہے ہیں۔ اس سے ہمیں اچھی آمدنی ہو رہی ہے۔ اس سے معاشرے میں خواتین کی عزت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ بینک لون کے علاوہ ہمیں کاروبار کرنے کے لیے پراجیکٹ سے مالی مدد بھی ملتی ہے۔ جیویکا نے ہماری زندگی بدل دی ہے۔ ہم تمام خواتین آپ کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ہم مرکز میں ممبر پارلیمنٹ اور وزیر تھے تو ہم کئی جگہوں پر جا کر سیلف ہیلپ گروپوں کے کاموں کودیکھتے تھے۔ 2005 میں جب ہماری حکومت بنی تو 2006 میں ہم نے ورلڈ بینک سے قرض لے کر سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد میں اضافہ کرنا شروع کیا۔ اب سیلف ہیلپ گروپ کی تعداد بڑھ کر 10 لاکھ 61 ہزار ہو گئی ہے، جن سے 1 کروڑ 31 لاکھ خواتین وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہی سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ خواتین کو جیویکا کا نام دیا۔ اس سے متاثر ہو کر اس وقت کی مرکزی حکومت نے آجیوکا کے نام سے ایک اسکیم شروع کی۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں جیویکا دیدی سے بات کرتے ہیں اور ان کے مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں ۔ پہلے عورتیں گھر سے باہر نہیں نکلتی تھیں۔ اب وہ سیلف ہیلپ گروپوں میں شامل ہو کر بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں آمدنی بھی ہو رہی ہے۔  وہ لوگوں سے اچھی طریقہ سے بات بھی کرنے لگی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے ریموٹ کے ذریعے ضلع سیوان کے تحت جیرادئی بلاک کے بھیساکھال میں 520 نشستوں والے سرکاری انتہائی پسماندہ طبقے کی لڑکیوں کے رہائشی پلس ٹو ہائی اسکول کی تعلیمی و انتظامی عمارت کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے بعد وزیراعلیٰ نے نئی تعمیر شدہ عمارت کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے معلومات لیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس رہائشی ا سکول کے صحن میں پودا بھی لگایا۔

وزیر اعلیٰ نے مجوزہ سڑک سیوان اندر روڈ کو چوڑا اور مضبوط کرنے کے کام کی جگہ کا معائنہ کیا۔ اس راستے کی کل لمبائی 16.250 کلومیٹر ہے۔ نقشہ کے ذریعہ افسران  نے وزیر اعلیٰ کو اس راستے کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ وزیر اعلیٰ نے سارن اور سیوان اضلاع کے تحت چھپرا (NH-31، بلیا موڑ) مانجھی-درولی-گٹھنی (NH-227A) سڑک کو چوڑا اور مضبوط بنانے کے کام کی جگہ کا معائنہ کیا۔ اس راستے کی کل لمبائی 72.183 کلومیٹر ہے جس کی کل لاگت 701 کروڑ 25 لاکھ 89 ہزار روپے ہے۔

اس موقع پر آبی وسائل اور پارلیمانی امور کے وزیر جناب منگل پانڈے، مویشی اور ماہی پروری کے وزیر اور سیوان ضلع کی انچارج محترمہ رینو دیوی، رکن اسمبلی شریمتی وجئے لکشمی دیوی  کونسلر جناب  وریندر نارائن یادو اور دیگر مقامی عوامی نمائندے، چیف سکریٹری مسٹر امرت لال مینا، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس مسٹر ونے کمار، چیف وزیراعلی کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر ایس سدھارتھ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری مسٹر پنکج کمار، وزیر اعلی کے او ایس ڈی مسٹرگوپال سنگھ، سارن ڈویژن کے کمشنر مسٹر گوپال مینا، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس سیکورٹی مسٹر دیپک ورنوال، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس سارن زون مسٹرنلیش کمار، ڈی ایم مسٹر مکل کمار گپتا، ایس پی مسٹرامیتیش کمار۔ اور دیگر معززین اور سینئر افسران موجود تھے۔


سنبھل تشدد پر سماجوادی پارٹی نے پیش کی رپورٹ، اکھلیش یادو نے کہا ’بی جے پی نے افسران کے ساتھ مل کر تشدد کو دیا انجام‘

 



سماجوادی پارٹی نے سنبھل جامع مسجد کا سروے کیے جانے کے دوران ہوئے تشدد معاملے پر آج (7 جنوری) اپنی رپورٹ میڈیا کے سامنے رکھی۔ اس رپورٹ کو پیش کرتے ہوئے یوپی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے کہا کہ ’’سنبھل میں مسجد کا سروے کرانے کے حوالے سے جان بوجھ کر کشیدگی پیدا کی گئی۔ سروے کے لیے جانے والی ٹیم میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے اور جب تنازعہ بڑھ گیا تو ہجوم کو ہٹانے کے لیے پولیس کے ذریعہ آنسو گیس کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ سیدھے گولی چلا دی گئی۔ اس واقعہ سے ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش ہوئی۔‘‘


اس پریس کانفرنس سے سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی نے سنبھل میں جان بوجھ کر افسران کے ساتھ مل کر تشدد کو انجام دیا اور معصوم لوگوں پر ظلم کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’سماجوادی پارٹی کا وفد جب سنبھل گیا تو اسے روک دیا گیا۔ وہاں جانے نہیں دیا گیا۔ آخر حکومت کیا چھپانا چاہتی ہے۔ اس واقعہ کے ذریعہ ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ بی جے پی ’دراڑ وادی پارٹی‘ ہے۔ ان لوگوں کو انسانوں کی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بی جے پی ایک سنگدل پارٹی ہے۔‘‘ اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کے 2 پہیے ہیں... ایک ناانصافی اور دوسرا بدعنوانی۔ یہ لوگ بدعنوانی کے معاملوں کو دبانے کے لیے ریاست میں جگہ جگہ تشدد کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی افسران بھی ناانصافی کی تمام حدیں پار کر رہے ہیں۔



اکھلیش یادو نے گئو کشی کے حوالے سے کہا کہ خود بی جے پی کے لیڈر نے الزام لگایا ہے کہ یوپی میں روزانہ 50 ہزار گائیں کاٹی جا رہی ہیں اور جم کر بدعنوانی ہو رہی ہے۔ بی جے پی کے ہی رکن اسمبلی کہہ رہے ہیں کہ آج اگر ریاست میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ نہیں ہوتا تو سی ایم ہاؤس میں گھس جاتے۔ میں یہی کہوں گا کہ یوگی آدتیہ ناتھ بی جے پی کے نہیں ہیں۔ میں ان سے یہی کہوں گا کہ وہ آئیں اور سی ایم ہاؤس میں گھس جائیں۔ دراصل اکھلیش یادو بی جے پی رکن اسمبلی نند کشور گوجر کی بات کہہ رہے تھے جنھوں نے گزشتہ دنوں گئوکشی سے متعلق ایک انتہائی اہم بیان دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’بی جے پی حکومت میں ہر دن 50 ہزار گائیں کٹ رہی ہیں۔ افسران پیسہ کھا رہے ہیں، لوٹ مچی ہوئی ہے اور اس کے مکھیا چیف سکریٹری ہے۔‘‘ نند کشور گوجر یہاں تک کہتے ہیں کہ ’’میرے قتل کی تیاری ہو چکی ہے، 25 پستول خریدی جا چکی ہیں۔‘‘




بہرحال، آج منعقد پریس کانفرنس میں سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ملکی پور ضمنی انتخاب کے حوالے سے بھی اپنی بات رکھی۔ انھوں نے یوگی حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’ملکی پور میں سب سے صاف ستھرا انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ میڈیا کے لوگوں کو بھی وہاں کیمرہ لے کر جانا چاہیے تاکہ پتہ چل سکے کہ وہاں کیسے انتخاب ہوتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے گزشتہ سال نومبر میں 9 سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب میں بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ضمنی انتخاب کے دوران دیکھا گیا تھا کہ انتظامیہ کی مدد سے لوگوں کو ووٹ نہیں کرنے دیا گیا۔ بوتھوں پر پولیس اہلکار کو تعینات کر دیا گیا اور ووٹرس کو ووٹ دینے سے روکا گیا۔‘‘


دہلی اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان، 5 فروری کو ووٹنگ، 4 فروری کو نتائج

 



نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے دہلی اسمبلی انتخابات 2025 کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دہلی میں 70 اسمبلی حلقوں میں ایک ہی مرحلے میں انتخابات کرائے جائیں گے۔ ووٹنگ 5 فروری 2025 بروز بدھ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 8 فروری 2025 کو ہوگی۔


پریس کانفرنس میں جاری تفصیلات کے مطابق، انتخابات کا گزٹ نوٹیفکیشن 10 جنوری 2025 کو جاری ہوگا۔ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 17 جنوری مقرر کی گئی ہے، جبکہ نامزدگیوں کی جانچ پڑتال 18 جنوری کو کی جائے گی۔ امیدواروں کو 20 جنوری تک نام واپس لینے کی اجازت ہوگی۔ ووٹنگ 5 فروری کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 8 فروری کو ہوگی۔ انتخابی عمل 10 فروری تک مکمل کر لیا جائے گا۔


الیکشن کمیشن نے انتخابات کے دوران شفافیت اور منصفانہ عمل کو یقینی بنانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے، جس کے تحت سرکاری اسکیموں کے اعلانات اور دیگر ترقیاتی کاموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔



’ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں‘، الیکشن کمیشن کی وضاحت

 چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان باتوں میں کوئی دم نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتوں نے بھی مانا ہے کہ ای وی ایم کو ہیک نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، انتخابات کے دوران بار بار مشینوں پر شبہات ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔


راجیو کمار نے بتایا کہ انتخابات سے سات سے آٹھ دن پہلے ای وی ایم تیار کی جاتی ہیں، جنہیں سیاسی جماعتوں کے ایجنٹوں کی موجودگی میں سیل کیا جاتا ہے۔ ووٹنگ کے بعد بھی ای وی ایم کو مکمل شفافیت کے ساتھ سیل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ای وی ایم میں غیر قانونی ووٹ ڈالنے کا امکان نہیں ہوتا، اور پورا عمل شفافیت پر مبنی ہے۔