Thursday, 9 January 2025

قومی اساتذہ تنظیم کی جانب سے 10 جنوری یوم اردو کے موقع پر مختلف شخصیات ایوارڈ سے ہوں گے سرفراز ، بہار کے تمام محبان اردو سے شرکت کی اپیل : آفتاب عالم

 



مظفر پور:قومی اساتذہ تنظیم کی جانب سے 10 جنوری یومِ اردو اور سالار اردو الحاج غلام سرور کے یومِ پیدائش کے موقع پر ایک تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ لیاگیاہے ۔ ڈاکٹر احمد اشفاق کریم سابق ایم پی راجیہ سبھا مہمان خصوصی ہوں گے وہیں ریاستی وزیر اقلیتی امور جناب زماں خان شمع روشن کریں گے۔ تقریب کی زینت مہمانان ذی وقار الحاج محمد ارشاد اللہ، امتیاز احمد کریمی، اشرف فرید، عبدالسلام انصاری، ڈاکٹر ریحان غنی اور پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی وغیرہ ہوں گے۔ یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہی ہیں۔ اس موقع پر پروگرام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قومی اساتذہ تنظیم بہار کے صدر جناب تاج العارفین نے کہا کہ تقریب میں تنظیم کے ریاستی کنوینر محمد رفیع کے اردو کے مسائل اور حل سے متعلق لکھے مضمون کا مجموعہ ' صد برگ ' جسے سیکریٹری قومی اساتذہ تنظیم بہار محمد تاج الدین نے مرتب کیا ہے کا اجرائ، اردو کی بیش بہا خدمات انجام دینے اور مختلف اردو تحریکوں کا حصہ رہنے والے شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ قومی اساتذہ تنظیم کے ضلعی سیکریٹری آفتاب عالم نے بہار کے تمام محبان اردو سے اپیل کی ہے کہ وہ 10 جنوری کو پٹنہ کے سنہا روڈ واقع بہار انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے ہال میں بعد نماز جمعہ 2 بجے ضرور سے ضرور پہنچیںاور اس تقریب کو کامیاب بنائیں۔



'لوٹ سکو تولوٹ لو' کی طرز پر بہار میں چہرہ چمکانے والی حکومت چل رہی ہے: شکتی سنگھ یادو

 

















پٹنہ:بہار ریاست راشٹریہ جنتا دل کے چیف ترجمان شکتی سنگھ یادو نے ریاستی ترجمان اعجاز احمد، ارون کمار یادو، پرمود کمار سنہا اور آرزو خان کی موجودگی میں آر جے ڈی کے ریاستی دفتر کے کرپوری آڈیٹوریم میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہینہیں ہے کہ بہار میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے۔ ریٹائرڈ اہلکار، دو دہلی اور دو بہار والے اپنی مرضی کے مطابق حکومت چلا رہے ہیں۔ بہار ادارہ جاتی بدعنوانی کا مرکز بن چکا ہے، اور ہر طرف بدعنوانی نظر آتی ہے۔ سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ ۔شری شکتی سنگھ یادو نے مزید کہا کہ بہار میں پرگتی یاترا کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار کہیں بھی لوگوں سے نہیں مل رہے ہیں، اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک بھی تصویر، فوٹیج یا ویڈیو نہیں دکھ رہا ہے کہ وہ عام لوگوں سے مل رہے ہیں۔ پرگتی یاترا درگتی یاترا میں بدل گئی ہے۔ جہاں 2 ارب 25 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود بہار کے عوام کے مفاد میں کوئی کام نہیں ہو رہا ہے وہیں جمہوریت میں عوام کی منتخب کردہ حکومت عوام کے لیے کوئی کام نہیں کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمراں طبقے نے ریٹائرڈ افسران کے ذریعے تبادلوں اور تعیناتیوں کو انڈسٹری کا درجہ دے رکھا ہے۔ اور یہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے اتحادی جماعت کے ایک سینئر رہنما اور وزیر نے بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ حکومت کیسے چلائی جا رہی ہے لیکن حکومتی لوگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہار کی حکومت "لوٹ سکو تو لوٹ لو" کے اصول پر چل رہی ہے اور چہرہ چمکانے کیلئے سرکاری خزانے کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔قائدین نے کہا کہ راشٹریہ جنتا دل پہلے دن سے ہی بی پی ایس سی امیدواروں کے تئیں سنجیدہ ہے اور جب تک امیدواروں کو انصاف نہیں ملتا تیجسوی جی سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔





ہمت سے ناممکن کو ممکن بنایا جاتا ہےـ ڈاکٹر آرزو

 





 دربھنگہ: ضلع کے تین کھلاڑی دنکر کمار یادو کو قومی کھیل مقابلہ سطح پر تیراکی میں منتخب، دیپاولی کماری کو بال بیڈمنٹن میں قومی کھیل مقابلہ سطح اور باکسنگ میں آفرین خان کو ریاستی سطح کے کھیلوں کے مقابلے میں تیسرا مقام حاصل کرنے پے شہر کے نامور افراد نے اعزاز سے نواز کر کے حوصلہ افزائی کیاـ  پروگرام کا اہتمام رحم خاں کے نوجوانوں نے محلہ رحم خاں کے الہیرا پبلک اسکول کے احاطے میں کیاـ اس موقع پر معروف سماجی کارکن ڈاکٹر احمد نسیم آرزو نے سوئمنگ میں دینکر کمار یادو کو اعزاز دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہترین کھیل ہے جو جسم کو مکمل طور پر فٹ رکھتا ہے۔ بال بیڈمنٹن کھلاڑی دیپالی کماری کو اعزاز دیتے ہوئے جن سوراج کے لیڈر آنند پاٹھک نے کہا کہ ہمیں پورا اعتماد ہے کہ ہمارے یہ بچے کل کے بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی ہوں گے۔  باکسنگ میں آفرین خان کو اعزاز دیتے ہوئے کانگریس لیڈر ڈاکٹر جمال حسن نے کہا کہ اس کم عمر میں ہماری بہن نے بہار کے پلیٹ فارم پر ضلع اور سماج کا نام روشن کیا ہے۔ مہمان اعزازی جن سوراج لیڈر ایڈوکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے کہا کہ مستقبل میں اس سے کئی گنا بڑا پروگرام منعقد کرکے ان کھلاڑیوں کو ضلع کے ایم ایل اے، ایم پی اور اعلی افسران کے ہاتھوں نوازا جائے گا۔ پروگرام کو مخاطب کرتے ہوئے کوچ ستارے حسن نے کہا کہ یہ میرے لیے بڑے فخر کی بات ہے کہ ہمارے زریعہ دئیے گئے ٹرینینگ بچے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔  جے ڈی یو لیڈر علی حسن انصاری سابق نگر صدر نے پروگرام کی نظامت کی اور تمام کھلاڑیوں کا تعارف کرانے کے بعد تمام مہمانوں کا پھولوں کے ہار اور شال سے استقبال کیا۔

Tuesday, 7 January 2025

'برکس' میں انڈونیشیا بھی ہوا شامل، اس گروپ کا حصہ بننے والا 11 واں ملک




انڈونیشیا 'برکس' کا حصہ بننے والا 11 ملک بن گیا ہے۔ 2025 میں 'برکس' کی صدارت کرنے جا رہے برازیل نے منگل کو اس کا اعلان کیا۔ برازیل نے کہا کہ 2023 میں جوہانسبرگ چوٹی کانفرنس میں بلاک کے رہنماؤں نے انڈونیشیا کی امیدواری کی حمایت کی تھی۔


برازیل کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا "برازیل حکومت انڈونیشیا کے برکس میں شامل ہونے کا استقبال کرتی ہے۔ جنوب-مشرقی ایشیا میں سب سے بڑی معیشت اور سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے طور پر، انڈونیشیا دیگر برکس اراکین کے ساتھ عالمی گورننس اداروں میں اصلاحات کے لیے حمایت کرتا ہے اور عالمی جنوبی تعاون کو گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔"


سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا نے اپنی نئی حکومت کی تشکیل کے بعد سے ہی 'برکس' میں شامل ہونے میں اپنی دلچسپی کے بارے میں اس گروپ کو مطلع کیا تھا۔ بیان کے مطابق 2024 میں برکس ممالک نے جوہانسبرگ میں متفق ہوئے توسیع کے لیے رہنما اصول، ضوابط اور طریقہ کار کے مطابق انڈونیشیا کی رکنیت کو اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔



غور طلب ہے کہ 'BRIC' ایک رسمی گروپ کے طور پر 2006 میں وجود میں آیا تھا۔ 2006 میں نیویارک میں اَنگا کے اجلاس کے دوران 'برک' خارجہ سکریٹریوں کی پہلی میٹنگ کے دوران گروپ کو رسمی شکل دی گئی تھی۔ پہلا برک چوٹی کانفرنس 2009 میں روس کے یکاتیرنگبرگ میں منعقد کیا گیا تھا۔ وہیں 2010 میں نیویارک میں برک خارجہ سکریٹریوں کی میٹنگ میں جنوبی افریقہ کو شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد سے یہ گروپ 'برکس' کے نام سے جانا جاتا ہے۔


گزشتہ کچھ برسوں میں جی-20 کی طرز پر بنی 'برکس' کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2024 میں 5 نئے ممالک مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 'برکس' کا حصہ بنے تھے۔ 16واں برکس چوٹی کانفرنس 2024 میں کزان میں منعقد کیا گیا تھا جس کی صدارت روس نے کی تھی۔

پرگتی یاترا کے دوسرے مرحلے میں، وزیر اعلیٰ نے سیوان ضلع کو تقریباً 109 کروڑ روپے کی اسکیموں کا تحفہ دیا، 127 ترقیاتی اسکیموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔

 






پٹنہ، 07 جنوری 2025 وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار نے آج پرگتی یاترا کے دوران ضلع سیوان کو تقریباً 109 کروڑ روپے کی اسکیموں کا تحفہ دیا۔ وزیراعلیٰ نے ریموٹ کے ذریعے 127 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ جن میں 83 کروڑ 47 لاکھ 37 ہزار روپے کی لاگت سے 122 منصوبوں کا افتتاح اور 25 کروڑ 38 لاکھ 27 ہزار روپے کی لاگت سے 5 اسکیموں کا سنگ بنیاد رکھنا شامل ہے۔ پرگتی یاترا کے دوران وزیر اعلیٰ نے پچروکھی بلاک کے گاؤں نارائن پور میں مجوزہ سیوان بائی پاس کی جگہ کا معائنہ کیا۔افسران نے وزیر اعلی کو نقشہ کے ذریعہ مجوزہ سیوان بائی پاس کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔  مجوزہ روڈمحمد پور موڑ (این ایچ531) سے چھپیا-تیڑھی گھاٹ-گوپالپور (NH-227A) آر اوبی سمیت توسیع اور مضبوطی کا کام کیا جانا ہے۔ اس مجوزہ روڈ کی کل لمبائی 13.80 کلومیٹر ہے۔ افسران کو ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ اس مجوزہ راستے پر کام جلد از جلد شروع کیا جائے۔ ایک بار جب یہ تعمیر ہو جائے گا، آمدورفت آسان ہو جائے گی. عوام کو ٹریفک جام کی پریشانی سے بھی نجات ملے گی۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے سیوان ضلع کے حسین گنج بلاک میں واقع مچکنا پنچایت کے گاؤں کرہانو میں جل جیون ہریالی مہم کے تحت خوبصورت بنائے گئے تالاب کا معائنہ کیا۔ اس دوران وزیر اعلیٰ نے تالاب میں مچھلی کا زیرہ چھوڑا۔ تالاب کے معائنہ کے دوران افسران کو ہدایات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس تالاب کے ارد گرد ایک سیڑھی گھاٹ تعمیر کیا جانا چاہئے۔ اس سے عوام کو سہولت ملے گی۔ تالاب کے ارد گرد درخت اچھی طرح سے لگائے گئے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔ سال 2019 سے جل۔ جیون۔ ہریالی مہم شروع کرکے، ہم تمام عوامی تالابوں، کنوؤں وغیرہ کی خوبصورتی اور تزئین کا کام کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کرہنو گاؤں کے وارڈ نمبر 2 میں آنگن واڑی سنٹر کا معائنہ کیا اور بچوں کی تعلیم کے بارے میں جانکاری لی۔ وزیراعلیٰ نے ایڈیشنل پرائمری ہیلتھ سنٹر، کرہنو، حسین گنج کا بھی معائنہ کیا اور او پی ڈی روم، ٹیلی میڈیسن وغیرہ کا جائزہ لیا۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2006 سے ہم تمام سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات تقسیم کر رہے ہیں۔ سال 2005 کے بعد صحت کے شعبے میں بہت کام کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو علاج میں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیر اعلیٰ نے ریموٹ کے ذریعے ضلع سیوان کی کئی ترقیاتی اسکیموں سے متعلق تختیوں کی نقاب کشائی کرکے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ وزیراعلی نے اپ گریڈ شدہ مڈل اسکول کرہنو کے احاطے میں منریگا کے تحت 8.74 لاکھ روپے کی لاگت سے بنائے گئے عوامی کھیل کے میدان کا ربن کاٹ کر اور نام کے تختی کی نقاب کشائی کرکے افتتاح کیا۔

وزیر اعلیٰ نے پبلک سروس سنٹر اور پنچایت سرکار بھون مچکنا کا معائنہ کیا اور سرپنچ کورٹ، لائبریری وغیرہ کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ نے کرہنو بازار کے احاطہ میں 7.18 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی منریگا ہاٹ کے سنگ بنیاد کی نقاب کشائی اور افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے جیویکا دیدیوں اور مختلف محکموں کی جانب سے لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا۔ اس دوران وزیر اعلیٰ نے جیویکا دیدیوں کو باسگیت پرچہ، ستت جیویکوپارجن اسکیم اور پروجیکٹ فنڈ کے تحت 51 کروڑ روپے کا علامتی چیک پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے ستت جیویکو پارجن اسکیم کے تحت ای رکشا کی چابیاں، 19 جیویکا دیدیوں کو 42 لاکھ 6 ہزار 736 روپے کا علامتی چیک، 29 ہزار 663 سیلف ہیلپ گروپوں سے وابستہ 3 لاکھ 51 ہزار 506 جیویکا دیدیوں کو بنک لنکج کے ذریعی 101کروڑ روپے کا علامتی چیک ، جیویکا بھون کی چابی، چیف منسٹر چور وکاس منصوبہ کا علامتی چیک، بلاک ٹرانسپورٹ اسکیم کی چابی، چیف منسٹر دیویانگجن امپاورمنٹ چھاترا یوجنا کے تحت بیٹری سے چلنے والی گاڑی کی چابی، بہار اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ، آیوشمان ویا وندنا کارڈ مستفیدین کو فراہم کیے گئے۔

 پرگتی یاترا کے دوران منعقد جیویکا دیدیوں کے ڈائیلاگ پروگرام میں وزیر اعلیٰ نےشرکت کی۔ جیویکا دیدیوں نے چیف منسٹر کے ساتھ اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ سیلف ہیلپ گروپس نے ہماری زندگیوں میں بہت تبدیلی لائی ہے۔ سیلف ہیلپ گروپس میں شامل ہو کر ہم کئی طرح کے کام کر رہے ہیں۔ اس سے ہمیں اچھی آمدنی ہو رہی ہے۔ اس سے معاشرے میں خواتین کی عزت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ بینک لون کے علاوہ ہمیں کاروبار کرنے کے لیے پراجیکٹ سے مالی مدد بھی ملتی ہے۔ جیویکا نے ہماری زندگی بدل دی ہے۔ ہم تمام خواتین آپ کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ہم مرکز میں ممبر پارلیمنٹ اور وزیر تھے تو ہم کئی جگہوں پر جا کر سیلف ہیلپ گروپوں کے کاموں کودیکھتے تھے۔ 2005 میں جب ہماری حکومت بنی تو 2006 میں ہم نے ورلڈ بینک سے قرض لے کر سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد میں اضافہ کرنا شروع کیا۔ اب سیلف ہیلپ گروپ کی تعداد بڑھ کر 10 لاکھ 61 ہزار ہو گئی ہے، جن سے 1 کروڑ 31 لاکھ خواتین وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہی سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ خواتین کو جیویکا کا نام دیا۔ اس سے متاثر ہو کر اس وقت کی مرکزی حکومت نے آجیوکا کے نام سے ایک اسکیم شروع کی۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں جیویکا دیدی سے بات کرتے ہیں اور ان کے مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں ۔ پہلے عورتیں گھر سے باہر نہیں نکلتی تھیں۔ اب وہ سیلف ہیلپ گروپوں میں شامل ہو کر بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں آمدنی بھی ہو رہی ہے۔  وہ لوگوں سے اچھی طریقہ سے بات بھی کرنے لگی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے ریموٹ کے ذریعے ضلع سیوان کے تحت جیرادئی بلاک کے بھیساکھال میں 520 نشستوں والے سرکاری انتہائی پسماندہ طبقے کی لڑکیوں کے رہائشی پلس ٹو ہائی اسکول کی تعلیمی و انتظامی عمارت کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے بعد وزیراعلیٰ نے نئی تعمیر شدہ عمارت کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے معلومات لیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس رہائشی ا سکول کے صحن میں پودا بھی لگایا۔

وزیر اعلیٰ نے مجوزہ سڑک سیوان اندر روڈ کو چوڑا اور مضبوط کرنے کے کام کی جگہ کا معائنہ کیا۔ اس راستے کی کل لمبائی 16.250 کلومیٹر ہے۔ نقشہ کے ذریعہ افسران  نے وزیر اعلیٰ کو اس راستے کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ وزیر اعلیٰ نے سارن اور سیوان اضلاع کے تحت چھپرا (NH-31، بلیا موڑ) مانجھی-درولی-گٹھنی (NH-227A) سڑک کو چوڑا اور مضبوط بنانے کے کام کی جگہ کا معائنہ کیا۔ اس راستے کی کل لمبائی 72.183 کلومیٹر ہے جس کی کل لاگت 701 کروڑ 25 لاکھ 89 ہزار روپے ہے۔

اس موقع پر آبی وسائل اور پارلیمانی امور کے وزیر جناب منگل پانڈے، مویشی اور ماہی پروری کے وزیر اور سیوان ضلع کی انچارج محترمہ رینو دیوی، رکن اسمبلی شریمتی وجئے لکشمی دیوی  کونسلر جناب  وریندر نارائن یادو اور دیگر مقامی عوامی نمائندے، چیف سکریٹری مسٹر امرت لال مینا، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس مسٹر ونے کمار، چیف وزیراعلی کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر ایس سدھارتھ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری مسٹر پنکج کمار، وزیر اعلی کے او ایس ڈی مسٹرگوپال سنگھ، سارن ڈویژن کے کمشنر مسٹر گوپال مینا، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس سیکورٹی مسٹر دیپک ورنوال، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس سارن زون مسٹرنلیش کمار، ڈی ایم مسٹر مکل کمار گپتا، ایس پی مسٹرامیتیش کمار۔ اور دیگر معززین اور سینئر افسران موجود تھے۔


سنبھل تشدد پر سماجوادی پارٹی نے پیش کی رپورٹ، اکھلیش یادو نے کہا ’بی جے پی نے افسران کے ساتھ مل کر تشدد کو دیا انجام‘

 



سماجوادی پارٹی نے سنبھل جامع مسجد کا سروے کیے جانے کے دوران ہوئے تشدد معاملے پر آج (7 جنوری) اپنی رپورٹ میڈیا کے سامنے رکھی۔ اس رپورٹ کو پیش کرتے ہوئے یوپی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے کہا کہ ’’سنبھل میں مسجد کا سروے کرانے کے حوالے سے جان بوجھ کر کشیدگی پیدا کی گئی۔ سروے کے لیے جانے والی ٹیم میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے اور جب تنازعہ بڑھ گیا تو ہجوم کو ہٹانے کے لیے پولیس کے ذریعہ آنسو گیس کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ سیدھے گولی چلا دی گئی۔ اس واقعہ سے ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش ہوئی۔‘‘


اس پریس کانفرنس سے سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی نے سنبھل میں جان بوجھ کر افسران کے ساتھ مل کر تشدد کو انجام دیا اور معصوم لوگوں پر ظلم کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’سماجوادی پارٹی کا وفد جب سنبھل گیا تو اسے روک دیا گیا۔ وہاں جانے نہیں دیا گیا۔ آخر حکومت کیا چھپانا چاہتی ہے۔ اس واقعہ کے ذریعہ ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ بی جے پی ’دراڑ وادی پارٹی‘ ہے۔ ان لوگوں کو انسانوں کی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بی جے پی ایک سنگدل پارٹی ہے۔‘‘ اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کے 2 پہیے ہیں... ایک ناانصافی اور دوسرا بدعنوانی۔ یہ لوگ بدعنوانی کے معاملوں کو دبانے کے لیے ریاست میں جگہ جگہ تشدد کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی افسران بھی ناانصافی کی تمام حدیں پار کر رہے ہیں۔



اکھلیش یادو نے گئو کشی کے حوالے سے کہا کہ خود بی جے پی کے لیڈر نے الزام لگایا ہے کہ یوپی میں روزانہ 50 ہزار گائیں کاٹی جا رہی ہیں اور جم کر بدعنوانی ہو رہی ہے۔ بی جے پی کے ہی رکن اسمبلی کہہ رہے ہیں کہ آج اگر ریاست میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ نہیں ہوتا تو سی ایم ہاؤس میں گھس جاتے۔ میں یہی کہوں گا کہ یوگی آدتیہ ناتھ بی جے پی کے نہیں ہیں۔ میں ان سے یہی کہوں گا کہ وہ آئیں اور سی ایم ہاؤس میں گھس جائیں۔ دراصل اکھلیش یادو بی جے پی رکن اسمبلی نند کشور گوجر کی بات کہہ رہے تھے جنھوں نے گزشتہ دنوں گئوکشی سے متعلق ایک انتہائی اہم بیان دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’بی جے پی حکومت میں ہر دن 50 ہزار گائیں کٹ رہی ہیں۔ افسران پیسہ کھا رہے ہیں، لوٹ مچی ہوئی ہے اور اس کے مکھیا چیف سکریٹری ہے۔‘‘ نند کشور گوجر یہاں تک کہتے ہیں کہ ’’میرے قتل کی تیاری ہو چکی ہے، 25 پستول خریدی جا چکی ہیں۔‘‘




بہرحال، آج منعقد پریس کانفرنس میں سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ملکی پور ضمنی انتخاب کے حوالے سے بھی اپنی بات رکھی۔ انھوں نے یوگی حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’ملکی پور میں سب سے صاف ستھرا انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ میڈیا کے لوگوں کو بھی وہاں کیمرہ لے کر جانا چاہیے تاکہ پتہ چل سکے کہ وہاں کیسے انتخاب ہوتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے گزشتہ سال نومبر میں 9 سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب میں بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ضمنی انتخاب کے دوران دیکھا گیا تھا کہ انتظامیہ کی مدد سے لوگوں کو ووٹ نہیں کرنے دیا گیا۔ بوتھوں پر پولیس اہلکار کو تعینات کر دیا گیا اور ووٹرس کو ووٹ دینے سے روکا گیا۔‘‘


دہلی اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان، 5 فروری کو ووٹنگ، 4 فروری کو نتائج

 



نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے دہلی اسمبلی انتخابات 2025 کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دہلی میں 70 اسمبلی حلقوں میں ایک ہی مرحلے میں انتخابات کرائے جائیں گے۔ ووٹنگ 5 فروری 2025 بروز بدھ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 8 فروری 2025 کو ہوگی۔


پریس کانفرنس میں جاری تفصیلات کے مطابق، انتخابات کا گزٹ نوٹیفکیشن 10 جنوری 2025 کو جاری ہوگا۔ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 17 جنوری مقرر کی گئی ہے، جبکہ نامزدگیوں کی جانچ پڑتال 18 جنوری کو کی جائے گی۔ امیدواروں کو 20 جنوری تک نام واپس لینے کی اجازت ہوگی۔ ووٹنگ 5 فروری کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 8 فروری کو ہوگی۔ انتخابی عمل 10 فروری تک مکمل کر لیا جائے گا۔


الیکشن کمیشن نے انتخابات کے دوران شفافیت اور منصفانہ عمل کو یقینی بنانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے، جس کے تحت سرکاری اسکیموں کے اعلانات اور دیگر ترقیاتی کاموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔



’ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں‘، الیکشن کمیشن کی وضاحت

 چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان باتوں میں کوئی دم نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتوں نے بھی مانا ہے کہ ای وی ایم کو ہیک نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، انتخابات کے دوران بار بار مشینوں پر شبہات ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔


راجیو کمار نے بتایا کہ انتخابات سے سات سے آٹھ دن پہلے ای وی ایم تیار کی جاتی ہیں، جنہیں سیاسی جماعتوں کے ایجنٹوں کی موجودگی میں سیل کیا جاتا ہے۔ ووٹنگ کے بعد بھی ای وی ایم کو مکمل شفافیت کے ساتھ سیل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ای وی ایم میں غیر قانونی ووٹ ڈالنے کا امکان نہیں ہوتا، اور پورا عمل شفافیت پر مبنی ہے۔


تبت: زلزلہ کے بعد پے در پے 50 ’آفٹر شاکس‘ نے حالات کو انتہائی تباہ کن بنایا، 1000 گھر زمیں دوز، تقریباً 100 افراد جاں بحق

 


سب سے اونچی جگہ پر آباد ملک تبت میں آج صبح آئے زلزلہ نے ہر طرف تباہی پھیلا دی۔ اس تباہی کو مزید بڑھانے کا کام ’آفٹر شاکس‘ یعنی زلزل
ہ کے بعد آنے والے جھٹکوں نے کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 3 گھنٹوں کے درمیان پے در پے کئی آفٹر شاکس محسوس کیے گئے جس نے مہلوکین کی تعداد بڑھا کر تقریباً 100 کر دی۔ زلزلے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کم و بیش 1000 گھر زمین دوز ہو گئے۔ زلزلہ کا اصل مرکز ہزاروں فٹ اونچائی پر قائم ٹنگری گاؤں میں تھا جسے ایوریسٹ کے علاقے کا شمالی دروازہ مانا جاتا ہے۔ یہ گاؤں ماؤنٹ ایورسٹ سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں زلزلے کا مرکز 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹنگری گاؤں میں بے انتہا تباہی ہوئی ہے۔


واضح ہو کہ تبت دنیا کی سب سے اونچائی والا علاقہ ہے جو زمینی سطح سے 16000-13000 فٹ کی اونچائی پر واقع ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے بھی یہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ منگل (7 جنوری) کو صبح 9.15 بجے زلزلے کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد مسلسل 3 گھنٹے تک 50 ’آفٹر شاکس‘ درج کیے گئے جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.4 تک درج کی گئی۔ زلزلے کے مرکز کے قریب 20 کلومیٹر کے دائرے میں 27 گاؤں ہیں جہاں کم و بیش 7000 لوگوں کی آبادی ہے۔




ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق تبت کے ٹنگری میں آیا زلزلہ ’لہاسا بلاک‘ کے نام سے معروف علاقے میں شگاف کی وجہ سے آیا ہے جو شمال جنوب اور مغربی مشرقی دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر ’لہاسا بلاک‘ کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس بلاک میں 1950 سے اب تک 6 یا اس سے زیادہ شدت والے زلزلے 21 مرتبہ آ چکے ہیں۔ ’لہاسا بلاک‘ میں 2017 میں 6.9 کی شدت کے ساتھ تبت کے مینلنگ علاقے میں زلزلہ آیا تھا جہاں چین بجلی کی پیداوار کے لیے سب سے بڑا ڈَیم بنا رہا ہے۔ تازہ زلزلے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ والے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے کیونکہ زلزلے کے تیز جھٹکوں کی وجہ سے ’برفانی تودے‘ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔


Monday, 6 January 2025

کورٹ یارڈ بائی میریٹ سلی گوڑی نے نیو ویڈنگ میننو پیکج کا اعلان

 




 پٹنہ(پریس ریلیز): کورٹ یارڈ میر یٹ سلی گوڑی(Courtyard by Marriott Siliguri ) ایک فائیو اسٹار ہوٹل، اپنے آپ کو اس خطے کی سب سے بڑی شادی کی منزل ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ ہوٹل عالمی معیار کی مہمان نوازی، شاندار مقامات اور کھانے کے شاندار اختیارات پیش کرتا ہے جو ہر شادی کو ناقابل فراموش بنا دیتا ہے۔ شادی کے تجربے کو مزید خاص بنانے کے لیے، ہوٹل نے اپنے نئے ویڈنگ مینو پیکجز کا آغاز کیا ہے، جو خاص طور پر مختلف ذوق اور ترجیحات کے مطابق بنائے گئے ہیں۔ نئے متعارف کرائے گئے سلور، گولڈ اور پلاٹینم مینو 2200 2200 روپے کے علاوہ ٹیکس فی شخص سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ ایک شاندار اور حسب ضرورت پاک سفر پیش کرتا ہے۔ مہمان مارواڑی، بنگالی، نیپالی اور بہاری جیسے مستند کھانوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں، جو اس خطے کے بھرپور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہر مینو کو خاص طور پر ذائقہ اور پیشکش کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہر شادی کی تقریب حتمی تجربہ ہو۔ میریٹ سلیگوری کا کورٹیارڈ اپنے خوبصورت مقامات کے لیے مشہور ہے، جو عظیم الشان شادیوں اور چھوٹے تقریبات دونوں کے لیے بہترین پس منظر فراہم کرتا ہے۔ یادگار لمحات تخلیق کرنے کے مقصد سے، ہوٹل ایک بہترین امتزاج پیش کرتا ہے جس میں روایت، جدیدیت اور شان و شوکت شامل ہے۔ اپنی غیر معمولی مہمان نوازی کے لیے جانا جاتا ہے، کورٹیارڈ از میریٹ سلیگوری بہترین سروس پیش کرتا ہے جو ہر مہمان کے تجربے کو خاص اور یادگار بناتا ہے۔ شاندار مقامات، بہترین سروس اور کھانے کے منفرد تجربات کے ساتھ، یہ فائیو اسٹار ہوٹل خطے میں شادی کی تقریبات کے لیے ایک نئی مثال قائم کر رہا ہے۔ 


ایلن پٹنہ کے افتتاحی اجلاس میں رہنمائی ملی،اولمپیاڈ میں کامیاب طلباء کو میڈل دیے گئے

 




پٹنہ(پریس ریلیز): ایک سال مکمل ہونے کے ساتھ ہی ایلن پٹنہ نے بہتر نتائج دکھانا شروع کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ بہار کے والدین اور طلباء کا اعتماد بڑھنے لگا ہے۔ ایلن پٹنہ کے آنے والے سال کی تیاری کے لیے 6ویں سے 10ویں جماعت کے طلبہ کے ساتھ ارجا آڈیٹوریم شاستری نگر پٹنہ میں ایلن آرمب سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ سیشن میں تقریباً ایک ہزار طلباء اور والدین نے شرکت کی۔ اس موقع پر این ایم ٹی سی کے 51، ودیارتھی وگیان منتھن کے 30، IOQM کے 10، ا?ر ایم او کے 2، JSO کے 1 اور آئی ایم ڈی کے 2 کو چاندی کے تمغوں سے نوازا گیا۔ ایلن سینٹر کے سربراہ چیتن شرما نے کہا کہ ایلن ایک عزم کے ساتھ پٹنہ آیا اور یہاں کوٹا سطح کی خدمات فراہم کرنا شروع کیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک سال کے قلیل عرصے میں والدین اور طلبہ میں اعتماد بڑھ گیا۔ ہم مستقبل میں بھی اس طرح کی بہتر خدمات فراہم کرتے رہیں گے۔ ایلن پی این سی ایف زونل ہیڈ وشال کیجریوال نے کلاس 6 سے 9 تک ایلن کے اسٹڈی پیٹرن اور کلاس 10 کے لیے بورڈ کی تیاری کی وضاحت کی۔ اس کے بعد، ایلن کلاس 11 اور 12 میں آپ کے اہداف کو حاصل کرنے میں آپ کی مدد کیسے کرے گا طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایلن کی کوششوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے حال ہی میں جاری ہونے والے اولمپیاڈ میں ایلین طلبائ کی کارکردگی کے بارے میں بتایا۔ اس کے علاوہ مختلف اولمپیاڈز میں منتخب ہونے والے طلباءکو اسٹیج پر بلایا گیا۔ سینٹر ہیڈ چیتن شرما، پی این سی ایف ہیڈ وشال کجریوال اور ایڈمن ہیڈ دیویندر اوستھی نے کامیاب طلباء کو چاندی کے تمغے پیش کرتے ہوئے مبارکباد دی۔


قومی اساتذہ تنظیم نے یومِ اردو منانے کا لیا فیصلہ

 




مظفر پور، 6/ جنوری :قومی اساتذہ تنظیم بہار کی ایک اہم نشست آج منعقد ہوئی جس میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ 10 جنوری یومِ اردو اور سالار اردو الحاج غلام سرور کے یومِ پیدائش کے موقع پر ایک تقریب منعقد ہوگی۔ ڈاکٹر احمد اشفاق کریم سابق ایم پی راجیہ سبھا مہمان خصوصی ہوں گے وہیں ریاستی وزیر اقلیتی امور جناب زماں خان شمع روشن کریں گے۔ تقریب کی زینت مہمانان ذی وقار الحاج محمد ارشاد اللہ، امتیاز احمد کریمی، اشرف فرید، عبدالسلام انصاری، ڈاکٹر ریحان غنی اور پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی وغیرہ ہوں گے۔ یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہی ہیں۔ اس موقع پر پروگرام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قومی اساتذہ تنظیم بہار کے صدر جناب تاج العارفین نے کہا کہ تقریب میں تنظیم کے ریاستی کنوینر محمد رفیع کے اردو کے مسائل اور حل سے متعلق لکھے مضمون کا مجموعہ ' صد برگ ' جسے سیکریٹری قومی اساتذہ تنظیم بہار محمد تاج الدین نے مرتب کیا ہے کا اجراء، اردو کی بیس بہا خدمات انجام دینے اور مختلف اردو تحریکوں کا حصہ رہنے والے شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ وہیں اس مبارک موقع پر پورے بہار میں تحریک ' تحفظ اردو زبان و ادب ' کی شروعات کی جائے گی۔ وہیں جناب رفیع نے کہا کہ آج کی اس نشست میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ جشن اردو کی تقریب پورے جوش وخروش کے ساتھ منائی جائے گی۔ مظفر پور کےعلاوہ بہار کے مختلف اضلاع سے محبان اردو تقریب میں شرکت فرمائیں گے۔ اس موقع پر سیکریٹری جناب محمد تاج الدین نے بہار کے تمام محبان اردو سے اپیل کی ہے کہ وہ 10 جنوری کو پٹنہ کے سنہا روڈ واقع بہار انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے ہال میں بعد نماز جمعہ 2 بجے ضرور سے ضرور پہنچ کر اس تاریخی اور یادگاری تقریب کو کامیاب بنائیں۔ آج کی اس نشست کے شرکاء میں شامل ہیں ریاستی مجلس عاملہ قومی اساتذہ تنظیم بہار کے رکن محمد امان اللہ، محمد جاوید عالم، ضلعی سرپرست عبدالحسیب، ضلعی صدر شمشاد احمد ساحل، سیکریٹری آفتاب عالم، خازن محمد حماد، محمد شمشاد عالم، محمد علیم الدین، محمد منان، محمد شعیب، جمشید حسین، محمد اشرف، قمر اشرف اور محمد اعظم وغیرہ۔ 


جھارکھنڈ: مرکز نے اب تک کوئلے کی 1.36 لاکھ کروڑ روپے کی بقایہ جات رقم ادا نہیں کی، عدالت کا رُخ کرے گی ہیمنت حکومت

 





جھارکھنڈ کی ہیمنت سورین حکومت مرکز کی جانب سے کوئلے کی 1.36 لاکھ کروڑ روپے کی بقایہ جات کے متعلق عدالت سے رجوع کرنے والی ہے۔ 5 جنوری کو میڈیا سے گفتگو کے دوران جھارکھنڈ کے وزیر مالیات رادھا کرشن کشور نے کہا کہ مرکزی حکومت بقایہ رقم واپس کرے۔ ادھر ادھر کی باتیں نہ کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سابق چیف سکریٹری سکھ دیو سنگھ نے اس حوالے سے مرکزی حکومت کو خط لکھا ہے۔ یہی نہیں چیف سیکریٹری کے بعد وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے بھی مرکز کو خط لکھا۔ لیکن دونوں خطوں کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ رادھا کرشن نے آگے کہا کہ ہم کوئی بھیک نہیں مانگ رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کو ہماری بقایہ رقم واپس کرنی چاہیے۔ اگر مرکزی حکومت ہماری رقم واپس نہیں کرتی ہے تو قانونی راستہ بھی ہے۔ وزیر مالیات سے جب پوچھا گیا کہ اس معاملے میں کب تک عدالت کا رخ کریں گے تو انہوں نے کہا کہ یہ رقم کئی سالوں سے بقایہ ہے۔ ہم سوچ سمجھ کر کام کریں گے۔


رادھا کرشن کشور نے انتخاب کے دوران کیے گئے وعدوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریاستی حکومت ان وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پُرعزم ہے جو اس نے انتخاب کے دوران کیے تھے۔ 450 میں گیس سلنڈر کا وعدہ بھلے ہی کانگریس نے کیا ہے لیکن ’آئی این ڈی آئی اے‘ کی میٹنگ میں اتفاق رائے کے بعد فیصلہ لیا جائے گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کچھ پنشن اسکیموں کے بند ہونے کے متعلق کہا کہ ’’اس کی حقائق پر مبنی تحقیقات کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا۔‘‘ موقع پر موجود فنانس سیکریٹری نے بھی اس معاملے میں تحقیقات کی بات کہی۔



جھارکھنڈ کے وزیر مالیات نے بجٹ کے حوالے سے کہا کہ ان کی وزارت ابوا بجٹ 26-2025 کی تیاریوں کو آخری شکل دینے میں مصروف ہے۔ ابوا بجٹ ریاست کی تہذیب، ثقافت اور جھارکھنڈ کے لوگوں کے جذبات کے مطابق ہوگا۔ بجٹ غریبوں، دلتوں، قبائلیوں، اقلیتوں، معاشی طور پر کمزور لوگوں، نوجوانوں اور خواتین کی ضروریات کے مطابق بنایا جائے گا۔ فنانس سکریٹری پرشانت کمار نے کہا کہ اسکیموں کے نفاذ کے لیے حکومت کے پاس فنڈ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ 80 ہزار کروڑ روپے کے قریب حکومت اسکیموں پر خرچ کرتی ہے۔ ایک بار پھر حکومت کے پاس اتنا ہی رقم دستیاب ہے۔ حکومت ریونیو بڑھانے کے طریقے بھی تلاش کر رہی ہے۔ جلد ہی مناسب فنڈ دستیاب ہوں گے۔


چینی وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ کا شیئر بازار پر بھی گہرا اثر، کچھ ہی گھنٹوں میں ڈوب گئے سرمایہ کاروں کے 10 لاکھ کروڑ

 




چین میں پھیلے ایچ ایم پی وی وائرس نے ہندوستان میں بھی قدم رکھ دیا ہے۔ اس کے بعد سے شیئر بازرا میں مانو کہرام مچ گیا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سرمایہ کاروں کے 10 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے۔ ایک طرف جہاں سنسکس میں 11،00 پوائنٹس سے زیادہ کی کمی آئی وہیں نفٹی میں بھی 1.4 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مڈ کیپ اور اسمال کیپ شیئرز میں زبردست فروخت دیکھی جا رہی ہے۔ بینک آف بروڈا، پی این بی اور کینرا بینک میں تقریباً 4 فیصد سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی۔ یہی نہیں ایچ ڈی ایف سی بینک، ریلائنس انڈسٹریز (آر آئی ایل) اور کوٹک مہندرا بینک میں بھی بڑی کمی دیکھی گئی۔ ذیل میں نئے وائرس ایچ ایم پی وی کی وجہ سے شیئر بازار میں کس طرح کی کمی آئی ہے درج کیا جا رہا ہے۔


بامبے اسٹاک ایکسچینج کے اہم انڈیکس سنسکس میں 1100 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے انڈیکس 77،959.95 پوائنٹس پر آ گیا ہے۔ جب کہ آج صبح معمولی تیزی کے ساتھ 79،959.95 پوائنٹس پر کھلا تھا۔ جمعہ کو 700 سے زیادہ پوائنٹس کی کمی کے ساتھ سنسکس 79،223.11 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ مسلسل 2 کاروباری دنوں میں سنسکس میں 1،983.76 پوائنٹس کی کمی آ چکی ہے۔ جبکہ جمعرات کو سنسکس اچھی تیزی کے ساتھ 79،943.71 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔



اگر ہم بات کریں نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے اہم انڈیکس نفٹی کی تو اس میں بھی تقریباً 1.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ تجارتی سیشن کے دوران نفٹی 403.25 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 23،601.50 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ تاہم نفٹی میں مسلسل 2 تجارتی سیشن میں 587.15 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ہے۔ جمعرات کو نفٹی 24،188.65 پوائنٹس پر بند ہوا تھا جب کہ پیر کو نفٹی معمولی تیزی کے ساتھ 24،045.80 پوائنٹس پر کھلا تھا۔


شیئر بازار میں اس اس کمی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو بہت نقصان ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کو سنسکس کا مارکیٹ کیپ 4،49،78،130.12 کروڑ روپے تھا جو کاروباری سیشن کے دوران گھٹ کر 4،39،44،926.57 کروڑ روپے پر آ گیا۔ ان اعداد و شمار کا واضح مطلب یہ ہوا کہ کچھ ہی گھنٹوں میں سرمایہ کاروں کے 10،33،203.55 لاکھ کروڑ ڈوب گئے۔ اگر گزشتہ 2 کاروباری سیشن کی بات کی جائے تو شیئر بازار کے سرمایہ کاروں کو 11،02،419.14 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔




نیشنل اسٹاک ایکسچینج پر سب سے زیادہ کمی والے شیئرز کی بات کریں تو ٹاٹا گروپ ٹاٹا اسٹیل میں کافی کمی دیکھی گئی ہے۔ جس میں 4.21 فیصد کی کمی آئی ہے۔ بی پی سی ایل میں 3.44 فیصد، ادانی انٹرپرائزیز میں 3.30 فیصد اور کوٹک بینک میں 3 فیصد سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی ہے۔ جبکہ اپولو اسپتال کے شیئر میں 0.66 فیصد اور ٹائٹن کے شیئر میں 0.30 فیصد کا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اگر بامبے اسٹاک ایکسچینج کی بات کی جائے تو ملک کی سب سے بڑی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کے شیئر میں 1.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ جبکہ ایچ ڈی ایف سی بینک کے شیئر میں 2 فیصد، زوماٹو کے شیئر میں 2.40 فیصد اور ادانی پورٹ کے شیئر میں 1.88 فیصد کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔