دبئی:شام میں "عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ" کے کمانڈر احمد الشرع نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ ملک میں کثیر الجہتی کا تحفظ اہمیت کا حامل ہے۔ عسکری انتظامیہ میں کئی مسلح گروپوں کے نمائندے شامل ہیں جن میں نمایاں ترین "تحریر الشام تنظیم" ہے۔
الشرع کے مطابق "ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ شام جیسے حجم ، وسائل اور مختلف طبقات کے حامل ملک پر کوئی ایک رائے غالب آ جائے"۔
احمد الشرع نے جو ماضی میں "ابو محمد الجولانی" کے نام سے معروف تھے، عربی اخبار "الشرق الاوسط" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اختلاف ایک اچھا اور صحت مند رجحان ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ "یہ کامیابی کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ یہ تمام شامیوں کی کامیابی ہے"۔
الشرع نے باور کرایا کہ ان کا ملک "کسی حملے کا پلیٹ فارم یا کسی بھی عرب یا خلیجی ملک کے لیے تشویش کا باعث نہیں بنے گا"۔
تحریر الشام تنظیم کے سربراہ نے واضح کیا کہ اپوزیشن گروپوں کی کامیابی نے خطے میں ایرانی منصوبے کو 40 برس پیچھے دھکیل دیا ہے۔ الشرع کے مطابق ایرانی منصوبے کے پیچھے ہونے کے باعث خلیجی ممالک کی اسٹریٹجک سیکورٹی زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔
گرفتار شدگان اور جبری گمشدہ افراد کے حوالے سے احمد الشرع نے بتایا کہ "اس سلسلے میں مدد کے لیے کئی خصوصی تنظیموں نے رابطہ کیا ہے"۔ الشرع کے مطابق لا پتا افراد خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، ان کا معاملہ دیکھنے کے لیے ایک خصوصی وزارت قائم کی جائے گی۔
جب احمد الشرع سے یہ پوچھا گیا کہ وہ بشار الاسد کی جگہ بیٹھ کر کیسا محسوس کر رہے ہیں تو انھوں نے ہنس کر جواب دیا "حقیقت یہ ہے کہ میں ہر گز آرام محسوس نہیں کر رہا"۔
احمد الشرع اس سے پہلے کئی بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ شامی عوام کے تمام طبقوں کے درمیان یکجہتی کی ضرورت ہے۔ وہ واضح کر چکے ہیں کہ آنے والے وقت میں ملک کو نئے آئین اور ایسے قوانین کے تحت چلایا جائے گا جن میں سب کے لیے انصاف اور مساوات کا خیال رکھا جائے گا۔
القاعدہ کے ساتھ ہمارا تعلق ماضی کا قصہ بن چکا ہے: احمد الشرع
شام کے ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ احمد الشرع نے القاعدہ سے اپنے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے ساتھ ان کا تعلق ماضی کا قصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس وقت اعلیٰ ترین شامی مفادات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارا فی الحال کسی تنظیم یا بیرونی جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے"۔
گذشتہ روز بی بی سی نیٹ ورک پر نشر ہونے والے ایک ٹیلی ویڑن انٹرویو میں احمد الشرع نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس نے پہلے عراق کی لڑائیوں میں حصہ لیا تھا جب وہ فرقہ واریت کی طرف منحرف ہوئے تھے۔
احمد الشرع جسے پہلے "ابو محمد الجولانی" کے نام سے جانا جاتا تھا نے زور دیا کہ متنوع شام افغانستان میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ان کا خیال تھا کہ ملک جنگ سے تھک چکا ہے اور اسے اپنے پڑوسیوں یا مغرب کے لیے خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے دمشق پر سے تمام امریکی اور یورپی پابندیاں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ یہ دوبارہ اٹھ سکے۔
انہوں نے اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سےھی? تحریر الشام کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا بھی مطالبہ کیا۔
احمد الشرع سابق صدر بشار الاسد کی معزولی اور ماسکو فرار کے بعد سے ملک میں ڈی فیکٹو فوجی حکمران بن چکے ہیں، ماضی میں ایک سے زیادہ بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ شام کےطبقات کو ان کے وجود کے مطابق حکومت میں شامل کیا جائے گا۔








