Wednesday, 19 March 2025

اشفاق رحمان کی جانب سے پرتکلف دعوت افطار کا اہتمام

 







ہوٹل پاٹلی پترا کونٹینٹل میں اشفاق رحمان کی جانب سے پرتکلف دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا جس میں شہر کی معزز شخصیات سمیت کثیر تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی خاص طور پر ایم ایل سی آفاق احمد خان ، سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر اظہار احمد شریک ہوئے۔

ایسوسی ایشن کے قومی صدر شمائل احمد کی رہائش گاہ پر 400 افراد نے افطار کیا

 









پٹنہ:پرائیویٹ اسکولز اینڈ چِلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر شمایل احمد کی جانب سے ان کی رہائش گاہ جمیل کمپائونڈ، سمن پورہ، راجا بازار میں گزشتہ چار دہائیوں سے رمضان المبارک کے مقدس موقع پر افطار پارٹی کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے، اور اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی اٹھارہویں روزے کے دن افطار کی دعوت دی گئی، جس میں پٹنہ شہر کے 400 سے زائد معزز تعلیمی ماہرین، مشہور شخصیات، انتظامی افسران سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے نمایاں رہنمائوں نے شرکت کی۔اس موقع پر اذان ہوتے ہی شام 6 بجے تمام روزہ داروں نے کھجور، پھل، شربت اور مختلف لذیذ پکوانوں کے ساتھ روزہ افطار کیا۔


تقریب میں شریک اہم شخصیات

افطار پارٹی میں خصوصی طور پر سکم کے سابق گورنر جناب گنگا پرساد، بہار اسمبلی میں کانگریس لیڈر شکیل احمد خان، سابق کونسل ممبر پریم چند مشرا، ایم ایل سی قاری شعیب، آئی پی ایس افسر وکاس ویبھو، سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر سی پی ٹھاکر کے فرزند دیپک ٹھاکر، اعجاز احمد صدیقی، سید شکیل احمد، سید شاہجہاں احمد، سید پرویز اعظم، سہیل اکرام، قیصر خان، ایاز احمد، حیدر امام، ڈاکٹر مصباح، جاوید خان، ڈاکٹر حسن، پرویز منظر، شاہ ذلفی، شہاب الدین بیگ، فیروز خان، جوگیندر سنگھ، انیل سنگھ، نتن شیکھر، امریش کمار، آشیش، چندر لوک سمیت 400 سے زائد افراد شریک ہوئے۔



بھائی چارے اور یکجہتی کی مثال

افطار پارٹی کے میزبان اور ایسوسی ایشن کے قومی صدر جناب شمایل احمد نے رمضان المبارک کے اس بابرکت موقع پر تشریف لانے والے تمام مہمانوں کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کیا اور برسوں پرانی بھائی چارگی اور یکجہتی کی روایت کو برقرار رکھا۔

رمضان کا مقدس مہینہ انسان کو سچائی اور صبر و تحمل کا درس دیتا ہے۔ اس بابرکت ماہ میں روزہ دار عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور افطار میں شریک تمام افراد نے ملک اور ریاست میں امن و سلامتی کی دعا کی۔

افطار کے بعد مولانا انور صاحب نے مغرب کی نماز کی امامت کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ روزہ رکھنے سے انسان کو بھوک اور پیاس کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے اور وہ ان غریب بھائیوں کے دکھ درد کو سمجھ سکتا ہے جن کے پاس دو وقت کی روٹی بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان میں زکوٰةدینے کا ثواب 70 گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔


روحانی ماحول اور مسحور کن منظر

افطار کا منظر انتہائی دلکش تھا، جہاں امیر و غریب، چھوٹے بڑے سب نے ایک ساتھ روزہ افطار کیا، جس س
ے اتحاد و محبت کا حسین نظارہ دیکھنے کو ملا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے خود کسی باغ میں رنگ برنگے پھول سجا دیے ہوں۔

400 سے زائد شرکاءنے مزیدار پکوانوں کا لطف اٹھایا اور ہر سال کی طرح اس سال بھی اتنی شاندار افطار پارٹی کے انعقاد پر ایسوسی ایشن کے قومی صدر شمایل احمد کو مبارکباد پیش کی۔

اس موقع پر ایسوسی ایشن کی قومی سیکرٹری فوزیہ خان نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس مقدس تقریب میں شرکت کرنے پر سبھی کا خیرمقدم کیا۔









Tuesday, 18 March 2025

اسرائیل کا دوگنی طاقت کے ساتھ غزہ پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

 



اسرائیلی فوج نے منگل کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ اور داخلی سلامتی کے ادارے ’شین بیت‘ غزہ کی پٹی میں حماس اور اسلامی جہاد کے اہداف کے خلاف حملے جاری رکھیں گے۔


انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ گھنٹوں میں جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں سیلز، لانچنگ پوائنٹس، جنگی سازوسامان اور دیگر فوجی ڈھانچے شامل ہیں جو ان کے دعوے کے مطابق، منصوبہ بندی اور عسکری سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے دونوں تحریکوں کے ذریعے استعمال کیے گئے تھے۔


انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اہداف اسرائیلی افواج اور شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے غزہ کی پٹی میں دی گئی ہدایات میں تبدیلیاں کی ہیں۔


اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے بھی اعلان کیا کہ اسرائیل حماس کے خلاف فوجی طاقت میں اضافے کے ساتھ کارروائی کرے گا۔ دفتر نے کہا کہ فوج کو مکمل طاقت کے ساتھ مقررہ اہداف پر حملہ کرنے کی ہدایات ہیں۔


بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے غزہ میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے وزیر دفاع اور سکیورٹی سربراہان کی موجودگی میں سکیورٹی مشاورت کے لیے اجلاس طلب کیاہے۔


اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں درجنوں اہداف پر بمباری کی ہے۔ بیان میں کہا کہ جب تک ضروری ہوا حملے جاری رہیں گے ۔


دریں اثناء العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کے مطابق منگل کے روز اسرائیلی جارحیت میں غزہ میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 413 سے زائد ہوچکی ہے۔


حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے اور مستقل جنگ بندی کے لیے ثالثوں کی کوششوں کے نتائج کو دھمکی دینے کا الزام عائد کیا۔


سعودی کابینہ نے غزہ پر اسرائیل کے دوبارہ حملے کی مذمت کر دی




سعودی کابینہ نے غزہ میں اسرائیلی فورسز کے دوبارہ حملوں کی سخت مذمت اور انسانی بحران کے خاتمے کےلیے فوری بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔


سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس منگل کو جدہ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہوا ہے۔



اجلاس نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے انسانی مصائب کے خاتمے اور مظالم کو رکوانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔


اجلاس میں سعودی ولی عہد نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے ساتھ ہونے والے ٹیلی فونک رابطوں کے بارے میں آگاہ کیا۔


کابینہ نے حالیہ عرب، علاقائی، اور بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ لیا، اپنے دیرینہ موقف کو دہراتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی و استحکام کو بڑھانے کی کوششوں کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔




سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد ایس پی اے کو بتایا کابینہ نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کا خیرمقدم کیا تاجکستان اور قازقستان کے درمیان سرحد کے تعین کے معاہدے کو بھی سراہا۔


کابینہ نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کسٹمز امور میں تعاون کے ایک معاہدے کی بھی منظوری دی ہے۔


غزہ میں نئے سرے سے جاری کشیدگی کو فوری طور پر روکا جائے:یورپی یونین



غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد جن میں تقریباً 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں یورپی یونین نے غزہ میں نئے سرے سے جاری کشیدگی کو ہولناک قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔


یورپی یونین کے کرائسز مینجمنٹ کی سربراہ حجا لحبیب نے منگل کو ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "غزہ میں نئے سرے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی تباہ کن ہے۔شہری ناقابل تصور تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں‘‘۔


انہوں نے کہا کہ غزہ میں نئے سرے سے جاری کشیدگی تباہ کن ہے۔ شہریوں نے ناقابل تصور تکالیف برداشت کی ہیں۔ یہ سلسلہ اب رکنا چاہیے۔


انہوں نے مزید کہا کہ "بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کیا جانا چاہیے اور غزہ میں انسانی امداد کا بہاؤ شروع ہونا چاہیے۔ مزید جانی و مالی نقصان کو روکنے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی پر واپس جانا ضروری ہے"۔


جتنی جلدی ممکن ہو کشیدگی روکی جائے

برطانوی حکومت نے بھی غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو "جلد از جلد" بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔


وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ترجمان نے کہا کہ "ہم اس جنگ بندی کو جلد از جلد بحال ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد "خوفناک" تھی۔ غزہ کی پٹی میں حماس کے زیرانتظام وزارت صحت نے بتایا کہ فضائی حملوں میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔


فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ منگل کے روز غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 400 سے زائد افراد مارے گئے، جس سے دو ماہ پرانی جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہونے کے خطرے کی علامت ہے۔


دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے اور مستقل جنگ بندی کے لیے ثالثوں کی کوششوں کے نتائج کو دھمکی دینے کا الزام عائد کیا۔


اس کے جواب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے فوج کو غزہ میں حماس کے خلاف "سخت کارروائی" کرنے کی ہدایت کی ہے۔یہ کارروائی حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کی تجاویز سے انکار کے بعد کی گئی ہے۔


دنیا غزہ پر اسرائیلی جنگی جارحیت رکوائے : محمود عباس




فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے عالمی براداری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ پر پھر سے مسلط کی گئی اسرائیلی جنگی جارحیت رکوائے۔ انہوں نے اس امر کا مطالبہ منگل کے روز کیا ہے جب ایک ہی دن میں اسرائیلی فوج نے اپنے نئے فوجی سربراہ کے زیر قیادت غزہ میں مختلف مقامات پر بد ترین بمباری کر کے 400 سے زائد فلسطینی کو قتل کر دیا ہے۔


غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان قتل کیے گئے فلسطینیوں میں بچوں اور عورتوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔


فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے ترجمان نبیل ابو روضینے نے غزہ پر نئے سرے سے شروع کی گئی جنگی جارحیت کی مذمت کی اور کہا ' بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ قابض اسرائیل کو یہ جارحیت روکنے پر مجبور کرے۔ جس نے غزہ میں ہر طرف بمباری کر کے ایک ہی دن میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک کر دیے ہیں۔ '


دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے کابینہ کے اجلاس کے بعد اسی طرح کا ایک بیان جاری کر کے اسرائیل کی نئے سرے سے شروع کی گئی جنگ کی مذمت کی ہے۔


پرائیوٹ اسکول اینڈ چلڈرین ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ دعوت افطار میں شریک ہوں: شمائل احمد


 

معہد الہدی الاسلامی عبد اللہ نگر سپول کا رمضان المبارک میں اپنے صدقات و عطیات سے بھر پور تعاون کریں: قمر الہدیٰ اسلامی

 




جناب قمرالہدیٰ اسلامی ناظم معہد الہدی الاسلامی عبدا للہ نگر ،سپول بہار نے اپنے پریس اعلانیہ کے ذریعہ ملت کے بہی خواہوں اور اسلامی بھائیوں سے اس رمضان المبارک کے موقع پر اپنے، زکوٰة ، صدقات وعطیات سے ادارے کی بھرپور مالی معاونت کی اپیل کی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ 1957کو الحاج عبد اللہ وسواس ؒکے ہاتھوںمعہد الہدی الاسلامی عبداللہ نگرکی تاسیس میں عمل میں آئی۔ اس وقت سے ابتدائی تعلیم ہوتی رہی۔ 2001ءکو چندذی شعور نو جوانوں اور دانشوروں کی کوشش سے معیار تعلیم ثانویہ ( عربی چہارم ) تک کیا گیا۔ ماشاء اللہ گذشتہ پچیس سالوں سے شعبہ ¿ حفظ و تجوید کے ساتھ ساتھ ثانویہ تک کی معیاری تعلیم ہورہی ہے۔ فی الوقت چار سو ساٹھ (460) طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ جن میں سے ایک سوستر (170) طلبہ کی پوری کفالت معہد کی جانب سے کی جاتی ہے۔ چودہ (14) با صلاحیت اساتذہ تدریسی ودعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔معہد کا سالانہ اخراجات تقریباًسینتیس لاکھ روپے ہیں۔ کلاس روم ، دار الاقامہ اور لا ئبر یری ہال کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ جس میںپچہتر لاکھ روپیوں کی ضرورت ہے۔ جب کہ اخراجات کا سارا انحصار اللہ کے فضل کے بعد محسنین اور اہل خیر حضرات کے تعاون پر ہے۔

لہذاملت کے اہل خیر حضرات سے پرُزور گذارش کی جاتی ہے کہ رمضان 1446ھ کے مبارک موقع پر زکوٰة ،فطرہ ،صدقات اور عطیات سے معہد کا بھر پور تعاون فرما کر عنداللہ ماجور اور عند الناس مشکور ہوں گے۔ اللہ تعالی ہم سے اور آپ سے اپنی رضا کا کام لے۔ آمین (ان اللہ لایضیع اجرالمحسنین)


ادارے کا مندرجہ ذیل اکاﺅنٹ کے ذریعہ تعاون کریں:۔

MAAHAD AL-HODA AL ISLAMI

 A/C No. 3146550854 IFSC : CBIN0280063

(CBI) BIRPUR BRANCH (SUPAUL)



رمضان المبارک میں قرآن مجید کی خیر برکت نظر آرہی ہے

 


Tuesday, 11 March 2025

پٹنہ میں رینیوایبل انرجی اور الیکٹرک وہیکل ایکسپو 2025: بہار میں سبز توانائی اور ای-موبلٹی کا سنہرا دور

 



پٹنہ، 21-23 مارچ 2025 – بہار کی تاریخی راجدھانی پٹنہ ایک انقلابی تقریب کی میزبانی کرنے جا رہی ہے۔ رینیوایبل انرجی اور الیکٹرک وہیکل ایکسپو 2025 کے ذریعے، بہار سبز توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کے میدان میں ایک نئی سمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ تقریب نہ صرف ریاست بلکہ پورے مشرقی بھارت کے صنعتی اور اقتصادی منظرنامے میں ایک نئی روح پھونکے گی۔

مشرقی بھارت میں صنعتی ترقی کی نئی امید

اب تک بہار، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ جیسے ریاستوں کو صنعتی ترقی کے معاملے میں پیچھے سمجھا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہاں اس طرح کے اعلیٰ سطحی تکنیکی اور تجارتی تقریبات کی تعداد کم رہی ہے۔ لیکن، ٹیم گرین او ویو کا پختہ یقین ہے کہ یہ علاقہ بے پناہ امکانات سے بھرپور ہے۔ صحیح رہنمائی، جدت اور صنعتی ہم آہنگی کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ ایکسپو ان تمام امکانات کو حقیقت میں بدلنے کی ایک اہم کوشش ہے۔

ملک کا سب سے بڑا الیکٹرک وہیکل اور رینیوایبل انرجی میلہ

گیان بھون، پٹنہ میں منعقد ہونے والی یہ تقریب ملک کی اب تک کی سب سے بڑی رینیوایبل انرجی اور الیکٹرک وہیکل ایکسپو ہوگی، جس میں 70 سے زائد سرکردہ کمپنیاں اپنی جدید ترین مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کا مظاہرہ کریں گی۔ اس ایکسپو میں گاہکوں کو ایک ہی چھت کے نیچے الیکٹرک وہیکل مینوفیکچررز، بینک فنانسرز اور انشورنس خدمات کی سہولت دستیاب ہوگی، جس سے وہ بغیر کسی مشکل کے اپنی پسند کی گاڑی کا انتخاب کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، گاہکوں کو گاڑی کی کوالٹی اور کارکردگی کو خود جانچنے کے لیے ٹیسٹ ڈرائیو کی خاص سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

بہار کو سبز توانائی اور ای-موبلٹی میں نئی پہچان

یہ تقریب صرف تجارتی نقطہ نظر سے ہی اہم نہیں ہوگی، بلکہ اس کا مقصد رینیوایبل انرجی اور الیکٹرک وہیکل کے میدان میں ہونے والی نئی تحقیق کو فروغ دینا، اس صنعت سے وابستہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنا، اور اس شعبے میں موجود چیلنجز کے حل کے لیے پالیسی سازی کی سمت میں مؤثر مکالمے کو فروغ دینا بھی ہے۔

خاص طور پر، بہار میں کام کرنے والے باصلاحیت نوآوروں، اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کو بھی اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی مصنوعات اور خدمات کو پیش کرنے کا سنہری موقع ملے گا، جس سے انہیں ایک وسیع مارکیٹ دستیاب ہوگا اور وہ اپنی صلاحیتوں کا مناسب استعمال کر سکیں گے۔

گورنر کریں گے شاندار افتتاح، چھ خصوصی سیشنز میں ہوگا گہرا مکالمہ

اس تاریخی تقریب کا افتتاح معزز گورنر محترم کے ذریعہ کیا جائے گا۔ ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے اور کاربن اخراج میں کمی لانے کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس تین روزہ ایکسپو کے دوران چھ اعلیٰ سطحی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔

ان سیشنز میں حکومت کے مختلف محکموں کے وزراء، پالیسی ساز، صنعت کے ماہرین، انتظامی افسران اور سرکردہ کاروباری اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ان سیشنز میں رینیوایبل انرجی، الیکٹرک وہیکل انڈسٹری کے چیلنجز، سرکاری پالیسیاں، مالی مواقع اور سبز توانائی کے تئیں سماجی بیداری جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جس سے اس شعبے کو بہار اور پورے مشرقی بھارت میں مضبوط کیا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کی موجودگی سے ہوگا مؤثر پالیسی مکالمہ

اس تقریب میں 22 مارچ کو معزز قائد حزب اختلاف اور 23 مارچ کو معزز وزیر اعلیٰ کی شرکت متوقع ہے۔ اس اہم پہل کے ذریعے نہ صرف بیداری کو فروغ ملے گا، بلکہ یہ ایکسپو اس شعبے میں ضروری پالیسی اصلاحات کی سمت میں ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔

اس کے علاوہ، بہار کے تمام سیاسی جماعتوں کے معزز اراکین اسمبلی، قانون ساز کونسل کے اراکین، ضلعی سطح کے عوامی نمائندے، سماجی تنظیموں کے سربراہان اور غیر سیاسی تنظیموں کے عہدیداران کو بھی اس تقریب میں مدعو کیا گیا ہے، تاکہ اس موضوع پر ایک وسیع اور جامع نقطہ نظر تیار کیا جا سکے۔

بہار کے صنعتی احیاء کی طرف ایک مضبوط قدم

یہ ایکسپو صرف ایک تجارتی تقریب نہیں، بلکہ بہار کے پائیدار اور سبز صنعتی ترقی کی سمت میں ایک مضبوط پہل ہے۔ یہ تقریب بہار اور مشرقی بھارت کو گرین انرجی اور الیکٹرک وہیکل کے مرکز کے طور پر قائم کرنے کی سمت میں ایک فیصلہ کن قدم ثابت ہوگی۔

یہ پلیٹ فارم صنعت اور حکومت کے درمیان ایک پل کا کام کرے گا، جس سے نئی پالیسیوں کا قیام ممکن ہو سکے اور بہار میں رینیوایبل انرجی اور الیکٹرک وہیکل کے نئے امکانات کو فروغ ملے۔ اس تقریب کے ذریعے نہ صرف کاروباری اور صنعتی شعبے کو فائدہ پہنچے گا، بلکہ یہ بہار کے نوجوان نوآوروں اور کاروباری افراد کے لیے بھی نئے مواقع کے دروازے کھولے گا۔

مقام: گیان بھون، پٹنہ  تاریخ: 21 سے 23 مارچ 2025  منتظم: ٹیم گرین او ویو

سر زمین شام پر ایک نئی صبح کا آغاز

 






حمزہ اجمل جونپوری



گزشتہ رات ایک صد آفرین رات تھی جس میں کرد باغیوں نے شام میں سنیوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پورے شام میں ایک جشن کا سماں بندھ گیا اور ایسا کیوں نا ہوتا کہ پورا شام اب ایک ریاست کے طور پر قائم ہوگیا ہے ۔

خارجی طاقتیں اسرائیل ایران حزب اللہ اور اسدی باقیات کے ارادے ناکام ہو گئے جنہوں نے یہ عزم کیا تھا کہ شام کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور اسکی عظمت و رفعت کو خاک آلود کر دیا جائے تاکہ وہ ملک ہمیشہ خانہ جنگی کا شکار رہے ۔

جس کے لئے اسرائیل نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم کرد ملیشیا کو ایک ملین ڈالر کے ذریعہ سے جنگ میں مدد کریں گے جو شام میں اسلام پسند حکومت کو تخت سے دستبردار کر دے اسی اثنا میں شام میں اسدی باقیات کی جانب سے لاذقیہ طرطوس اور بانیاس میں بغاوت کا علم بلند کر دیا اور تقریبا ایک لمحہ میں سو سے زائد شام کی امن فوج کو منظم طریقے سے شہید کر دیا بعضوں کے جسد کو جلا دیا تو کسی کو زیر زمین دفن کر دیا اور عوام پر بے تحاشا گولیاں برسائیں ۔

جس کے بعد دمشق و حلب اور ادلب میں عوام نے نفیر عام کا اعلان کیا اور مجاہدین کے شانہ بشانہ تقریبا تیس ہزار کا لشکر اس بغاوت کو کچلنے کے لئے چل پڑا ایک رپورٹ کے مطابق عوام الناس کی تعداد تقریبا پچاس ہزار تھی جنہوں نے باغیوں کو تہہ و تیغ کرنے کے لئے اپنے ہتھیار اٹھا لئے ۔

لاذقیہ میں بغاوت کو 6 گھنٹے کے اندر اندر پسپا کر دیا گیا اسی طرح طرطوس اور بانیاس میں بھی بغیر کسی رعایت کے نصیری شیعوں اور اسدی باقیات کو تباہ کر دیا گیا اس بغاوت کا سربراہ مقداد فتحہ ہے جس نے اسدی دور حکومت میں اہل سنت پر بے انتہا ظلم ڈھائے تھے کہ تاریخ کے اوراق اگر لکھنے پر آ جائیں تو قلم سے سیاہی کی جگہ لہو ٹپکے ۔

یہ بغاوت کوئی معمولی بغاوت نہیں تھی اور اس بغاوت کا اندیشہ بھی تھا کہ شام میں بغاوت ضرور ابھرے گی کیوں کہ جس طرح فتح کے دوران  اسدی باقیات اپنے ہتھیار ڈال کر بھاگ رہے تھے اندازہ یہی تھا کہ وہ ضرور ابھریں گے اور انہوں نے شامی سربراہ کی معافی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر بغاوت کی تیاری کرنے لگے ۔

بغاوت کی تیاری لبنان میں کی گئی تھی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی موت پر تمام شیعہ ایک جگہ جمع ہوئے تھے ایران اور حزب اللہ نے اس میں بھرپور شرکت کی اور ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ شام ساحلی علاقوں میں پہنچا دیا گیا حسن نصر اللہ کے جنازے کے کچھ دن بعد ہی ساحلی علاقوں میں بغاوت پھوٹ پڑی اور شام کے کئی مجاہدین یک لمحہ شہادت کے رتبہ پر فائز ہو گئے ۔

جس کے بعد شام کے سربراہ احمد الشرع نے بغاوت کو کچلنے کا فرمان جاری کیا اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے اس بغاوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کیوں کہ احمد الشرع نے اعلان کر دیا تھا آج کے بعد کوئی معافی نہیں ہوگی ہر ایک مجرم کا احتساب ہوگا ہر ایک خون کے قطرے کا بدلہ لیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا علوی اور نصیری باغی ہر جگہ مارے گئے کچھ گرفتار ہوئے کچھ بھاگ گئے اور روپوش ہو گئے اسی پر بس نہیں ہوا احمد الشرع نے دوبارہ کہا کہ جو ہتھیار ڈالے گا اسکا بھی احتساب ہوگا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا وہ وقت ختم ہو گیا جب معاف کر دیا جاتا ہے ہم شام کو بنانے آئے ہیں جس کو تم نے تباہ کر دیا تھا اور اس کو دوبارہ کھڑا کریں گے اور ہم کسی مجرم کو نہیں بخشیں گے ۔

جب بغاوت کا سر کچلا جا چکا اور پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا تو دوسرے مرحلے کی جانب شامی مجاہدین نے قدم بڑھایا اور شام کے چپے چپے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا آبادی سے لیکر پہاڑوں تک سمندر سے لیکر جنگلات تک ہر طرف مجاہدین پھیلے ہوئے ہیں جو باغیوں کو ان کے کئے کی سزا دے رہے ہیں ۔

اسی اثنا میں شامی حکومت کو کئی مرتبہ بھڑکانے کی کوشش کی گئی اور اسرائیل کے خلاف خروج کے لئے اکسایا گیا لیکن ابھی تو شام انہی لوگوں سے الجھ رہا تھا جو اکسانے کی کوشش کر رہے تھے وہ بھول گئے تھے کہ احمد الشرع صرف ایک آدمی نہیں بلکہ ایک عظیم دماغ کا کمانڈر بھی ہے جسے داعش نے بھی ختم کرنے کی کوشش کی بشار الاسد نے بھی پنجہ آزمائی کیا اور ادلب کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ سب سے بچتا رہا اللہ اسکی حفاظت کرتا رہا آج وہ تخت دمشق پر خدا کی مدد سے بیٹھا ہوا ہے ۔

بغاوت کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کرد ملیشیا جو کبھی حیات تحریر الشام کی مخالف تھی گزشتہ رات اس نے شامی حکومت سے معاہدہ کر لیا کل تلک جو دشمن تھے وہ آج شامی حکومت میں ضم ہو گئے اور یہ فیصلہ ہوا کرد کے علاقوں میں جو ذخائر ہیں اس پر شامی حکومت کا مکمل کنٹرول ہوگا اور کرد لوگوں کو شامی حکومت میں شامل کیا جائے گا کیوں کہ کرد قوم شام کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں ۔

جب یہ معاہدہ ہوا شام کے ہر شہر میں جشن منایا گیا کیوں کہ جو شام کبھی ٹکڑے ہونے کے دہانے پر تھا اور اس میں ایک سرخ لکیر تھی سب مٹ گئی اور پورا شام سبز ہو گیا باطل کے ارادے ناکام ہو گیے فسطائی قوتیں منھ کے بل گر گئیں ایرانی عزائم خاک میں مل گئے اسرائیلی تدبیر الٹی ہو گئی ۔

اس علان کے بعد اسرائیل حواس باختگی کا شکار ہو گیا اس نے شام کے جنوبی علاقوں میں تقریبا اٹھائیس حملے کئے اور یہ وقت اسرائیل کے لئے خطرناک بتایا ہے کیوں کہ اسے امید دی کہ وہ کردوں کو پیسوں کا لالچ دیکر شام میں خانہ جنگی کو برقرار رکھے گا اور یوں وہ اپنے آس پاس ایک اسلامی ریاست کو قائم نہیں ہونے دے گا ۔

ان سب میں سب سے اہم کردار ترکی نے ادا کیا ہے جس نے شام کے لئے اپنے ہتھیاروں کے خزانے کو کھول دیا اور اس کو مزید تقویت بخشی جنگی امداد کی اور مالی تعاون کیا الغرض جو کچھ ہو سکتا تھا ترکی نے شام کے لئے کیا اور احمد الشرع کی سیاسی تدبیر نے اس ملک کو خانہ جنگی سے بچا لیا باغیوں کو کچلے میں ایک عظیم کمانڈر کی طرح نظر آئے اور کردوں سے معاہدہ کرتے ہوئے ایک بہتریں سیاست دان نظر آئے ۔

کردوں کا شامی حکومت کے ساتھ ضم ہونا ایک خوش کن خبر ہے کیوں کہ صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کا تعلق اسی قوم سے تھا جس کو امریکہ نے پیسوں کا لالچ دیکر ترکی کے خلاف کھڑا کیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ صلاح الدین ایوبی کی قوم اپنے گھر کو واپس آ ہی گئی اور ایسا کیوں نا ہوتا کہ یہ تو ایک عظیم کمانڈر کی قوم ہے گھر ہر کسی کو آنا ہے سو وہ آ گئے اور معافی برقرار رہا تو ان شاءاللہ اسرائیل اپنا انجام بھی دیکھے گا کیوں کہ بیت المقدس کی آزادی کا راستہ شام سے ہو کر ہی جاتا ہے ۔

شام ایک عظیم ملک کی طرف گامزن ہے دعا کریں اللہ اسکو سلامت رکھے اور شیطانوں کے شر سے اسکی حفاظت فرمائے ان شاءاللہ بیت جلد شام کے افق سے ایک نئی جماعت بیدار ہوگی جو اقصی کی آزادی کے لئے اپنی تمام تر مہارت کو صرف کرے گی کیوں کہ یہ شام ہی ہے جس سے اسرائیل خوف کھا رہا ہے جس کی وجہ سے اس نے شام کو ایک ہونے پر نشانہ بنایا تھا اس کی ناکامی کا منھ بولتا ثبوت ہے بہت جلد تمام تر برے خیالات باطل ہوں گے اسرائیلی عزائم خاک آلود ہوں گے ایرانی تدبیریں تباہ ہوں گی اور باغیوں کا صفایا مکمل ہوگا پھر ایک مسکراتا ہوا شام ہمارے درمیان ہوگا ۔


Sunday, 9 March 2025

"شام میں موجودہ کشیدگی کے پیچھےحزب اللہ کا ہاتھ، اہم شخصیات گرفتار کرلیں"

 




شام کے جنوبی علاقے اللاذقیہ میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ اور تین دن تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد ایک شامی عہدیدار نے کہا ہے کہ کشیدگی کے پیچھے لبنانی حزب اللہ کا ہاتھ ہے۔


اللاذقیہ کے سیکورٹی عہدیدار ساجد الدیک نے کہا کہ گورنری اور دوسرے علاقوں میں حالیہ کشیدگی میں حزب اللہ اور بیرونی قوتوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔


انہوں نے العربیہ/الحدث کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ "حزب اللہ نے ساحلی علاقوں میں کچھ گروپوں کو مدد فراہم کی۔حزب اللہ اور بیرونی ممالک شام کے ساحل پر بعض جماعتوں اور اسد کی باقیات کو مدد فراہم کر رہے ہیں"۔


انہوں نے کہا کہ پبلک سکیورٹی فورسز نے "سابق حکومت کی باقیات" سے سینئر شخصیات کو گرفتار کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ "ہم نے خطے میں سابق حکومت کی باقیات میں سے پانچ سینئر شخصیات کو گرفتار کیا"۔


تاہم انہوں نے کہا کہ اس نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان شخصیات کی شناخت ظاہر نہیں کی۔


"یہ محفوظ ہے"

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صورتحال اب 90 فیصد محفوظ ہے۔


ساجد الدیک نے اس بات پر زور دیا کہ سکیورٹی فورسز علوی فرقے کے سرکردہ افراد سے رابطہ کر رہی ہیں تاکہ اسد کی باقیات میں سے مطلوب عسکریت پسندوں کو ہمارے حوالے کیا جا سکے اور شہر کو واقعات یا جھڑپوں سے بچایا جا سکے۔


الاذقیہ کے گورنر محمد عثمان نے العربیہ کو بتایا کہ ان کے بقول کہ "بغاوت پھیلانے اور اس مقصد کے لیے عناصر کو بھرتی کرنے کے پیچھے بیرونی جماعتیں ہیں"۔


انہوں نے بدامنی پر قابو پانے اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کو مسترد کرنے پر زور دیا۔ایسے لوگ ہیں جو فرقہ واریت پر شرط لگا رہے ہیں اور بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں"۔


گذشتہ جمعرات سے شام کے ساحلی علاقوں میں علوی فرقے کی اکثریت والے کئی علاقوں میں کشیدگی اور جھڑپیں بھڑک اٹھی ہیں۔


دریں اثنا، العربیہ/الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شام کے ساحل پر ہونے والی لڑائیوں میں 700 سے زیادہ سیکورٹی فورسز اور "حکومتی باقیات"کے کئی افراد مارے گئے ہیں۔


ذریعے کے مطابق اس سے تشدد سے مرنے والوں کی تعداد 1,018 سے زیادہ ہو گئی ہے، جس میں سکیورٹی فورسز کے 273 ارکان اور اسد کے حامی عسکریت پسند شامل ہیں۔


شام کے ساحل پر شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے گروہوں کی گرفتاری شروع

 



شامی جنرل سکیورٹی نے شام کے ساحل پر شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر غیر منظم گروہوں کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے تاکہ لوگوں کو کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے بچایا جاسکے۔ شامی فوج نے ساحلی علاقوں سے فوجی ڈیوٹی پر مامور نہ ہونے والوں کی واپسی کا حکم دیا تاکہ آپریشن صرف فوج کی ٹیموں اور پبلک سیکیورٹی فورسز تک محدود رہے۔ فوج نے ساحل کی طرف جانے والی سڑکوں کے ایک حصے کو بھی بند کردیا ہے۔


قبل ازیں ہفتے کے روز العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے شام کے ساحلی شہروں میں محتاط رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ شامی فوج طرطوس اور لاذقیہ کے دیہی علاقوں میں سرچ آپریشن کر رہی ہے۔ اس سے پہلے شام کی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ بشار الاسد کی حکومت کی باقیات کے خلاف فوج اور سکیورٹی فورسز بشار الاسد کے خاندان کی جائے پیدائش قرداحہ شہر میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔


العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے شام کے شہر لاذقیہ میں شام کے آپریشن ڈیپارٹمنٹ اور سابق حکومت کے باقیات کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا بتایا اور کہا سابق حکومت کے ارکان نیشنل ہسپتال کے قریب عمارتوں میں سے ایک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔


بڑے ساحلی شہروں میں شامی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور وہاں سکیورٹی کے کنٹرول کے ساتھ رات کے وقت محدود جھڑپیں لاذقیہ میں ابن سینا اسپتال کے آس پاس میں شروع ہوئیں۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ شامی فوج جبلہ شہر میں داخل ہو گئی ہے اور نیول کالج کا مکمل کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ ساحل کی لڑائی میں شامی فوج اور سکیورٹی کے صفوں میں سے 90 اہلکار اور سابق حکومت کی باقیات میں شامل گروہوں کے 160 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔


ذرائع نے بتایا کہ فوج کے 44 ارکان سکیورٹی فورسز کو مدد فراہم کرتے ہوئے گھات لگا کیے گئے حملوں میں مارے گئے۔ شامی شہر لاذقیہ کے ایک محلے میں شامی سکیورٹی اور سابق حکومت کے حامیوں درمیان پرتشدد جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔ شام کے صدر احمد الشرع نے سابق حکومت کی باقیات میں شامل گروپوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سے پہلے کے دیر ہوجائے وہ فوری طور پر ہتھیار حوالے کر دیں۔ شامی صدر نے ہسپتالوں پر حملوں، ہلاکتوں اور دھاوا بولنے کی مذمت کی۔


شام کی وزارت دفاع کے ترجمان حسین عبدالغنی نے العربیہ کو ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسلح افواج طرطوس اور لاذقیہ میں غیر قانونی گروپوں سے نمٹ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا جبلہ شہر میں استحکام بحال کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز مضبوط ہیں۔


شام کے ساحل پر کیا ہو رہا ہے؟

حالیہ گھنٹوں میں شام کے ساحل پر بشار حکومت کے زوال کے بعد سے باقیات کے خلاف سب سے بڑی حفاظتی مہم ریکارڈ کی گئی۔ جھڑپیں جبلہ کے آس پاس جاری تھیں۔ وزارت دفاع نے لاذقیہ اور طرطوس کے گورنروں کو علاقے کو محفوظ بنانے اور شہر کے مراکز اور آس پاس کے پہاڑوں میں وسیع کومبنگ آپریشن شروع کرنے کے لیے بھاری کمک بھیجی ہے۔


سنگل واٹر فرنٹ

شام کا واحد واٹر فرنٹ بحیرہ روم پر ملک کے مغرب میں 183 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا رقبہ چار ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ ساحلی علاقہ پیچیدہ ہے جس کی وجہ سے سابق حکومت کے عناصر کو ڈھونڈنا اور ان کا پیچھا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پہاڑوں کے ساحل کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے یہ ایک تنگ میدانی پٹی ہے۔ اس میں جنوب میں طرطوس اور شمال میں لاذقیہ کی گورنری شامل ہیں۔


علوی اکثریت

دونوں گورنریٹس میں علوی اکثریت آباد ہے جس نے کئی دہائیوں سے سابق حکومت کے لیے ایک انکیوبیٹر بنایا تھا۔ اس کے علاوہ ایک سنی اور عیسائی افراد بھی موجود ہیں۔ دونوں گورنریٹس میں جنگ سے پہلے کی آبادی 10 لاکھ 800 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن ریڈ کراس کے اعداد و شمار کے مطابق وہاں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔


ساحل پر شام کی تین بندرگاہیں اسد جونیئر کے ساتھ معاہدوں کی بنا پر روس کے کنٹرول میں تھیں۔ ان میں سے سب سے بڑی بندرگاہ لاذقیہ، پھر طرطوس اور پھر بانیاس کی بندرگاہ ہے۔


پاکستان فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہے: اسحٰق ڈار

 





پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے مسلم امہ پر زور دیا ہے کہ فلسطینی عوام کی غزہ یا مغربی کنارے سے زبردستی نقل مکانی کو نسلی تعصب کی بنیاد پر بے دخلی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم قرار دیا جائے۔


ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اسحٰق ڈار نے جدہ، سعودی عرب میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کی کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستان کی جانب سے فوری سفارشات بھی پیش کیں جن میں جنگ بندی معاہدے پر تین مراحل میں مکمل اور فوری عمل درآمد شامل ہے، دشمنی کا مستقل خاتمہ، غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، غیر محدود انسانی امداد تک رسائی اور تعمیر نو کا ایک جامع منصوبہ بھی پاکستان کی تجاویز کا حصہ ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 (2024) پر عمل درآمد کے مطالبے کی مکمل حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت ختم ہونی چاہیے، جنین، تلکرم، نور الشمس اور الفارع میں پناہ گزین کیمپوں کی تباہی نے غزہ کی تباہی کی عکاسی کرتے ہیں۔


انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری نقل مکانی، غیر قانونی قبضے اور آباد کاروں پر تشدد کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں 2720 (2024) اور 2334 (2016)کے مطابق تبدیل کیا جانا چاہیے اور الحر م الشریف/مسجد اقصیٰ کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔


اسحٰق ڈار نے کہا کہ فلسطینیوں کو وسیع اور بلا روک ٹوک انسانی امداد ملنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کو بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 (5) کے تحت اسرائیل کا قانونی فرض تھا کہ وہ اس کام میں آسانی پیدا کرے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد اس ذمہ داری کو تقویت دیتی اور انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔


انہوں نے کہا کہ امدادی اداروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ایک غیر اخلاقی عمل اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، انسانی امداد کو کبھی بھی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے، جبکہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو سرخ لکیر کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔



نائب وزیراعظم نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ او آئی سی کو اجتماعی طور پر فلسطینیوں کو ان کے آبائی وطن سے منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت اور روکنا چاہیے، چاہے وہ براہ راست جبر کے ذریعے ہو یا انسانی امداد اور تعمیر نو کی آڑ میں ہو، اس طرح کا کوئی بھی اقدام نسلی تعصب کی بنیاد پر بے گھر کرنے کا عمل اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔


انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل کی جانب ایک قابل اعتماد اور ناقابل واپسی سیاسی عمل کی بحالی اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانا ہوگا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، یہی پائیدار امن کا واحد قابل عمل حل ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کو فلسطین کی ریاست کو اقوام متحدہ کے مکمل رکن کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے بھی اپنے اجتماعی اثر و رسوخ کو متحرک کرنا چاہیے۔


فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں جون میں ہونے والی آئندہ کانفرنس کے حوالے سے اسحٰق ڈار نے کہا کہ یہ کانفرنس مسئلہ فلسطین کے پرامن اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے ایک اہم موقع ہوگا۔ او آئی سی کو غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کو اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فیصلہ کن سفارتی اور اقتصادی اقدامات کرنے چاہئیں، اس میں تجارتی پابندیاں، مسلسل سفارتی دباؤ اور بین الاقوامی عدالت انصاف میں قانونی کارروائی شامل ہونی چاہیے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مصر کی طرف سے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک متوازن، عملی اور موثر طریقہ کار پیش کرتا ہے، یہ حقیقت کہ فلسطینیوں کو اس منصوبے کو حتمی شکل دینے میں شامل کیا گیا ہے اور ان کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرنے کا تصور کیا گیا ہے، اس سے اس منصوبے کو مزید تقویت ملتی ہے۔


دو ریاستی حل کے لیے عالمی اتحاد کے ذریعے ملکوں کے ساتھ کام کر رہے: سعودی عرب

 




عرب اور اسلامی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھیں گے: سعودی وزیر خارجہ


سعودی عرب نے جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی وزارتی اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کرنے کے مطالبات اور خیالات کو مسترد کرنے کی تجدید کردی۔ وزارتی اجلاس میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ میں پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیا۔


سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی اتحاد کے ذریعے ممالک کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔


انہوں نے کہا خطے میں مستقل اور جامع امن صرف ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو اور جس کی سرحدیں چار جون 1967 والی ہوں۔


شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ ان کا ملک امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام عرب اور اسلامی کوششوں کو تقویت دینے کی کوششوں کے ذریعے فلسطینی کاز کی حمایت ایسے ہی کرتا رہے گا جیسے اس نے 2023 اور 2024 میں بھی دو غیر معمولی مشترکہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس منعقد کیے ہیں۔ ان اجلاسوں کے نتیجے میں مملکت کی سربراہی میں وزارتی کمیٹی نے امن کے حصول کے لیے سنجیدگی سے قدم اٹھایا اور امن کے حامی ملکوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔


فرانس ،جرمنی ، اٹلی اور برطانیہ نے غزہ کی تعمیر نو کے عرب منصوبے کی حمایت کی

 



فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو کے عرب من
صوبے کی حمایت کرتے ہیں، جس پر 53 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کے تحت غزہ کی پٹی کے باشندوں کو بے گھر کرنے سے گریز کیا جائے گا۔


خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق وزراء خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ "یہ منصوبہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک حقیقت پسندانہ راستہ متعین کرتا ہے اور اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کے تباہ کن حالاتِ زندگی میں تیزی سے اور پائیدار بہتری کا وعدہ کیا گیا ہے"۔


مصر نے اس منصوبے کا مسودہ تیار کیا تھا اور عرب رہنماؤں نے رواں ماہ اسے اپنا لیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مسترد کر دیا تھا۔


گذشتہ جمعرات کو مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی جس میں انہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے عرب ممالک کے منصوبے پر بات کی۔


جمعہ کو مصری وزارت خارجہ کے ترجمان تمیم خلف کے ایک بیان کے مطابق عبدالعاطی نے غزہ میں جلد بحالی اور تعمیر نو کے عرب منصوبے کا جائزہ لیا، اس کے مختلف عناصر اور مراحل پر غور کیا گیا۔ مصری وزیر خارجہ نے امریکی عہدیدار کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوے اس منصوبے کو مکمل عرب اتفاق رائے کو اجاگر کیا۔


انہوں نے توجہ دلائی کہ مصر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ اس منصوبے اور اس کے فوائد کا جامع انداز میں جائزہ لینے کے لیے مثبت اور تعمیری بات چیت جاری رکھنے کا منتظر ہے۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تمام مراحل پر تمام فریقین سے عمل درآمد کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو انسانی امداد غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دینے، جنگ کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے راستے کو ہموار کرنے کے لیے عرب ممالک کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔


وٹکوف نے زور دیا کہ انہیں عرب منصوبے کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔وہ اس میں پرکشش عناصر شامل ہیں اور اچھے ارادوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ آنے والے عرصے کے دوران اس منصوبے کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے پرعزم ہیں۔