Tuesday, 28 January 2025

غزہ کے فلسطینیوں کی کوئی بھی جبری ہجرت قابل قبول نہیں ہے : فرانس

 




فرانس کے وزیر خارجہ جان نویل بارو کا کہنا ہے کہ غزہ کی آبادی کو عرب ممالک میں آباد کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز دو خود مختار ریاستوں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پر امن باہمی بقائ کے مفہوم سے متصادم ہے۔ انھوں نے کہا کہ فرانس دو ریاستی حل پر زور دیتا ہے اور پیرس کے نزدیک غزہ کے فلسطینیوں کی کوئی بھی جبری ہجرت "نا قابل قبول" ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے ریڈیو کے ذریعے دیے گئے بیان میں کہا کہ "مصر اور اردن ہمیشہ یہ باور کراتے رہے ہیں کہ وہ اس طرح کے حل کے خلاف ہیں، جہاں تک فرانس کا تعلق ہے تو ہمیں یقین ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام دو ریاستی حل کا تقاضا کرتا ہے جہاں فلسطین اور اسرائیل پہلو بہ پہلو رہیں۔ لہذا فلسطینیوں کی ہمسایہ ممالک جبری ہجرت مجھے اس فیصلے کے ساتھ ہم آہنگ نظر نہیں آتی"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹڑمپ نے 25 جنوری کو صحافیوں سے گفتو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ کی پٹی کی وہ آبادی جو اسرائیل کے حالیہ فوجی آپریشن میں اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں، انھیں عرب ممالک میں آباد کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کے خیال کے مطابق 15 لاکھ افراد کو غزہ کی پٹی سے باہر آباد کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس معاملے پر اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ الثانی سے بھی بات کی ہے۔


قاہرہ اور عمّان حکومتوں نے ایک بار پھر غزہ کی پٹی کی آبادی کو منتقل کرنے کے لیے اسرائیل یا اس کے علاوہ کسی اور کی منصوبہ بندی کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ جبری ہجرت کی دوسری مہم ہے۔

اس سلسلے میں مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے کل پیر کے روز ان جبری ہجرت کی کوششوں پر اپنے ملک کی تشویش کا اظہار کیا جن کا مقصد ہمسایہ ممالک میں عوام کو نشانہ بنانا ہے۔ بدر کے مطابق خطے میں سیاسی اور انسانی صورت ابتری کا شکار ہے۔ ان میں سیاسی تنازعات اور بحرانات کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شامل ہیں۔

مصری وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ یہ عوامل بے گھر افراد اور مہاجرین میں اضافے میں اپنے کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مصر کی جانب مہاجرین کے بہاو¿ میں اضافہ ہو رہا ہے جو پہلے ہی 90 لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کا میزبان ہے۔

دوسری جانب اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے پیر کے روز ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ اردن کی مملکت فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے بارے میں کسی بھی بات چیت کو مسترد کرتی ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ اردن اس موقف کے سامنے ڈٹا رہے گا۔

پارلیمنٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے الصفدی کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے لیے متبادل وطن سے متعلق ہر بات مسترد شدہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اردن اردنیوں کا ہے اور فلسطین فسلطینیوں کا ہے اور قضیہ فلسطین کا حل فلسطینی مٹی پر ہی ہو گا۔


روس کا اعلیٰ سطح کا وفد احمد الشرع سے ملاقات کے لیے دمشق پہنچ گیا

 





روس کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد شام کے دار الحکومت پہنچا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق آج منگل کے روز دمشق پہنچنے والے وفد کی صدارت نائب وزیر خارجہ میخائل بوغدانوف کر رہے ہیں۔روسی میڈیا نے بوغدانوف کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی وفد شام میں نئی انتظامیہ کے قائد احمد الشرع سے بات چیت کرے گا۔بوغدانوف کا کہنا ہے کہ دمشق کا دورہ "مشترکہ مفادات کے قاعدے کے تحت" کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماسکو شامی اراضی کی یکجہتی ، آزادی اور سلامتی کا خواہاں ہے۔


گذشتہ ماہ آٹھ دسمبر کو ماسکو کے اتحادی بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد شام میں روسی فوجی اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے سوالات نے جنم لیا۔کرملن ہاو¿س کے ترجمان دمتری بیسکوف یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ انھوں نے تصدیق کی تھی کہ روس اس وقت شام کا کنٹرول رکھنے والی قوتوں کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔


روس کے شام میں دو فوجی اڈے قائم ہیں۔ ان میں پہلا اڈا طرطوس میں روسی بحریہ کا لوجسٹک سینٹر ہے جو 1971 میں دو طرفہ معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ دوسرا اڈا لاذقیہ سے 20 کلو میٹر جنوب مشرق میں حمیمیم کا فضائی اڈا ہے۔ یہ 30 ستمبر 2015 کو قائم کیا گیا تا کہ داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں شامی فوج کی معاونت کے لیے فوجی آپریشن انجام دیا جا سکے۔

گذشتہ عرصے کے دوران میں روس نے شام سے اپنا بعض ساز و سامان اور افراد کو واپس بلا لیا تاہم ماسکو مذکورہ دونوں اڈوں کی اہمیت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ روس کو بحیرہ روم تک رسائی فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسے بعض افریقی ممالک کے قریب تر بناتے ہیں۔



Monday, 27 January 2025

’گنگا میں ڈبکی لگانے سے غریبی دور ہوگی کیا؟‘، کھڑگے نے ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پوچھا سوال

 







مدھیہ پردیش کے مَہو میں ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کسی
کا نام لیے بغیر کہا کہ ”گنگا میں ڈبکی لگانے سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا کیا؟ غریبی دور ہوگی کیا؟ پیٹ کو کھانا ملے گا کیا؟“ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں کسی کے عقیدہ کو چوٹ نہیں پہنچانا چاہتا ہوں۔ ملک میں بچے اسکول نہیں جا رہے ہیں اور مزدوروں کو مزدوری نہیں مل رہی ہے۔ واضح ہو کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا مذکورہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پیر (27 جنوری) کو مہاکبمھ میں ڈبکی لگائے ہیں۔ امت شاہ پریاگ راج پہنچ کر سادھو-سنتوں کے ساتھ مہاکمبھ میں ڈبکی لگائی۔ اس موقع پر امت شاہ کے ساتھ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی موجود تھے۔


ملکارجن کھڑگے نے پریاگ راج کے مہاکمبھ میں سیاستدانوں کے گنگا میں ڈبکی لگانے کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”لوگ کمپٹیشن میں ڈبکی مار رہے ہیں۔ جب تک ٹی وی میں ڈبکی اچھی نہیں آتی ہے تب تک ڈبکی مارتے رہتے ہیں۔ مذہب پر ہم سبھی کا عقیدہ ہے۔ مذہب ہم سبھی کے ساتھ ہے لیکن مذہب کے نام پر کسی سماج میں غریبوں کا استحصال ہوگا تو ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے۔“ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر نے آگے کہا کہ ”سماج میں لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرنا بابا صاحب کا مقصد تھا اور اسی لیے انہوں نے بہت سے قانون بنائے۔ اگر کسی نے ان کی مکمل طور پر حمایت کی تو وہ پنڈت نہرو اور مہاتما گاندھی نے کی تھی۔ حمایت کے بعد ہی بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ اگر آپ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو متحد ہو کر محنت کرنی چاہیے۔ جب تک آپ متحد نہیں ہوں گے تب تک مندر میں داخلہ نہیں ملے گا۔“



کانگریس صدر نے ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”جب آپ کے بچے شادی کر کے گھوڑے پر سوار ہو کر گاو¿ں سے جاتے ہیں تو وہ حق آپ کو نہیں ملے گا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ مدھیہ پردیش میں پہلے کیا ہوا تھا؟ ایک آدیواسی بچے کے منہ میں پیشاب کر کے اس کو ذلیل کیا گیا تھا۔ واقعہ کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان متاثرہ کے پاو¿ں دھو رہے تھے لیکن پیر دھونے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ جن کے لیے آئین نے جو تحفظ فراہم کیا ہے اس کا استعمال کریں اور ان کی حفاظت کریں تبھی کچھ ہوگا۔“



’ایک دن پورے ملک میں نافذ ہوگا یو سی سی‘، اتراکھنڈ میں یونیفارم سول کوڈ نافذ ہونے پر نائب صدر دھنکھڑ کا اظہارِ خوشی

 




آج اتراکھنڈ وہ پہلی ریاست بن گیا جہاں یو سی سی یعنی یونیفارم سول کوڈ باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ اس تعلق سے ہندوستان کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین بنانے والوں کے خوابوں کو شرمندہ¿ تعبیر کرنے والا قدم بتایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو نہ صرف ملک کے آئین میں موجود پالیسی کے ہدایتی اصولوں کو نافذ کرتا ہے، بلکہ ملک میں جنسی مساوات اور سماجی توازن کو بھی فروغ دے گا۔

نائب صدر نے یہ تبصرہ راجیہ سبھا انٹرنشپ پروگرام کے پانچویں بیچ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنی تقریر کے دوران انھوں نے کہا کہ ”آج کا دن نیک اشارہ لے کر آیا ہے۔ اتراکھنڈ نے یونیفارم سول کوڈ کو اپنا کر آئین کے آرٹیکل 44 کو زمین پر اتارا ہے۔ یہ وہ آرٹیکل ہے جو ہندوستانی شہریوں کے لیے پورے ملک میں یکساں قانون یقینی کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔“ اتراکھنڈ حکومت کی دور اندیشی کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی پورا ملک اس سمت میں قدم بڑھائے گا۔

نائب صدر نے یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کرنے والوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کی ہدایت ہے اور اس کی مخالفت کرنا جہالت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”کچھ لوگ سیاسی فائدہ کے لیے قومیت کو خیر باد کہنے میں بھی جھجک نہیں کرتے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ یو سی سی جنسی مساوات اور سماجی انصاف کو فروغ دے گا۔ آئین ساز اسمبلی کی بحثیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے بار بار اس کی ضرورت کو نشان زد کر چکے ہیں۔“


شمالی غزہ کی طرف لوگوں کا سیلاب امڈ آیا، ناقابل فراموش مناظر






خون، تباہی، قتل و غارت اور آنسوو¿ں کے درمیان 15 ماہ کے انتظار کے بعد ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنی امیدو بیم کی کیفیت میں

پیدل غزہ کی پٹی کے شمال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔


شہریوں کی خوشی ناقابل بیان

شمالی غزہ کی پٹی جانے والے بے گھر افراد کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور پٹی کے شمال کی طرف ساحلی ریشد سٹریٹ پر ہجوم لگ گیا۔


اگرچہ شمالی غزہ کی طرف بڑھنے والے شہری ایک گم نام منزل کے مسافر ہیں کیونکہ جنگ کی وجہ سے وہ اپنے گھروں کو کھو چکے ہیں، شمالی علاقہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور یہاں تک کہ زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کی خوشی دیدنی ہے۔


تصاویر میں غزہ کے باشندوں کو ایک دوسرے سے گلے ملتے، ایک دوسرے کو سلام کرتے، اپنے تباہ شدہ گھروں کے سامنے تصویریں کھینچتے اور پھر اپنے راستے پر چلتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔


العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ کی طرف لوگوں کی واپسی اس وقت ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج نے نیٹزارم کے محور سے انخلائ شروع کیا۔ یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہےجو غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔


گذشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیل نے بے گھر افراد کے لیے شمال کی طرف جانے کے لیے اس راہداری کو کھولنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ جب تک حماس اسرائیلی اسیر خاتون اربیل یہود کو رہا نہیں کرتی تب تک بے گھر فلسطینیوں کو شمال کی طرف نہیں جانے دیا جائے گا۔


گھر نہ خیمے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ ہزاروں لوگ نہیں جانتے کہ وہ اپنے گھروں کے ملبے پر کیسے زندگی بسر کریں گے، خاص طور پر چونکہ اقوام متحدہ نے شمالی غزہ کی پٹی میں 80 فیصد عمارتوں کی تباہی کا تخمینہ لگایا ہے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ کچھ خیمے اور قافلے ان میں سے کچھ کو لوگوں کو پناہ دے سکتے ہیں مگر اس وقت ہزاروں خیموں کی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ اچیم سٹینر نے اس سے قبل وضاحت کی تھی کہ "اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں دو تہائی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں 65 سے 70 فیصد کے درمیان عمارتیں مکمل طور پر تباہ یا تباہ ہوچکی ہیں"۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ نے "60 سال کی ترقی کو ختم کر دیا، 42 ملین ٹن ملبے کو ہٹانا ایک خطرناک اور پیچیدہ عمل ہوگا۔


یوم جمہوریہ کے موقع پہ متھلا انسٹیٹیوٹ میں پرچم کشائی ہوئی



 دربھنگہ:- 76ویں یوم جمہوریہ کے موقع پہ ہر سال کی طرح اس سال بھی متھیلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں چیئرمین ڈاکٹر احمد نسیم آرزو ڈائریکٹر الہلال ہاسپٹل کے ہاتھوں پرچم کشائی کی گئی جس میں جنرل منیجر شمشاد نور سنٹر ہیڈ تنویر امام گوپی کشن امیت منڈل سمرن میڈم محمد سعید انور دانش احمد و ایڈووکیٹ شاہد اطھر کے علاوہ طلبہ و طالبات شامل ہو کر ملک وآئین کے تئی وفاداری کا محبت کا ثبوت  دیتے ہوئے سبھی لوگوں نے کہا کہ ملک ہمارا ہے اور اس کی حفاظت کرنے کے ذمہ داری ہم سبھی لوگوں کی ہے - آج کے دن آئین عمل میں لائی گئی تھی اور اسی آئین کے تحت ہمارا ملک چلتا ہے اور قیامت تک ہمارا ملک آئین کے تئیں چلتا رہے گا-

صاف شفاف چہرہ والے کو ہی اسمبلی میں بھیجا جائے: صبیح محمود

 


دربھنگہ:- یوم جمہوریہ 2025 کے موقع پہ آج دربھنگہ ضلع کے مختلف حلقہ سے مشہور و معروف شخصیات کا آج محمود رہائش گاہ باڑھ سمیلا کیوٹی میں صلاہ مشورہ کا پروگرام انعقاد کیا گیا- جس میں جالے سے صادق آرزو و آمر اقبال کنور بڑھی سے ذوالقرنین عاقل پٹھان کوئی سے ماجد حسین خان ملکی چک سے فیصل اقبال باڑھ سمیلہ سے ڈاکٹر فیروز احمد باقی بصر دربھنگہ شہر سے انجینئر عمر فاروق رحمانی ڈاکٹر احمد نسیم آرزو عیاز احمد فصیح محمود و ایڈوکیٹ شاہد اطہر کے علاوہ سماج کے مختلف حلقے سے لوگ شامل ہوئے۔ اس موقع پہ سبھی لوگوں کے رائے مشورہ سے یہ بات ائی کہ مسلمانوں کا ووٹ تقسیم کر کے غیر سیکولر پارٹیاں جیتنے کا کام کرتی ہے اج بھی کم و بیش 60 فیصد ووٹ سیکولر ہے پھر بھی سیکولر امیدوار کیوں نہیں جیت رہے ہیں؟ صرف اس لیے کہ سیکولر ووٹوں کا تقسیم کرایا جاتا ہے جس کا فائدہ دوسرے پارٹی کو مل جاتا ہے۔ اس لیے اس دفعہ بہار اسمبلی 2025 کے الیکشن میں صاف امیج ایماندار محنتی و عوام الناس میں جانا پہچانا نام رکھنے والے ہی امیدوار کو الیکشن جتا کر اسمبلی میں بھیجنے کا کام کیا جائے گا۔

انفرادی و اجتماعی سطح پر اردو کے فروغ کیلئے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت: آفتاب عالم

 



مظفر پور ( نمائندہ)قومی اساتذہ تنظیم مظفر پور کے صدر شمشاد احمد ساحل، سکریٹری آفتاب عالم کی قیادت میں برہنڈ ہ ، مینا پور ، مظفر پور میں اردو زبان ادب کے فروغ کیلئے تحریک چلائی گئی جس میں علاقے کی نامور شخصیات نے شرکت کی اور اردو کے فروغ کا عزم لیا ۔ اس موقع پر قومی اساتذہ تنظیم کے سکریٹری آفتاب عالم نے کہاکہ اردو زبان کا فروغ نہ صرف ہماری تہذیب و ثقافت کی بقا کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ قومی یکجہتی اور ترقی کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس زبان کے فروغ کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس زبان کے عظیم ورثے سے مستفید ہو سکیں۔ 

انہوں نے مزید کہاکہ جدید دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اردو زبان کو تعلیمی، سائنسی، ادبی، اور ڈیجیٹل میدانوں میں فعال بنانے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوںنے کہاکہ صرف حکومتی سطح سے تو اردو کے فروغ کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے ہی ساتھ ہی انفرادی واجتماعی سطح سے بھی اردو کے فروغ کیلئے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔انہوںنے کہاکہ اسی مقصد کے تحت قومی اساتذہ تنظیم نے یہ عہدلیا ہیکہ اردو کے جو بھی مسائل ہیں اسے حل کیاجائے اور عوام میں اس کیلئے بیداری لائی جائے ۔ 

مسٹر آفتاب نے یہ بھی کہاکہ اردو میں بھی کافی مواقع ہیں ۔ضروت ہے کہ ان مواقع سے فائدہ اٹھایاجائے اور اپنی روزہ مرہ کی زندگی میں اردو کو استعمال کیاجائے ۔ اس موقع پر محمد آدم ، عبدالجبار، حسیب الرحمن ،مولانا امان اللہ ،مولانا الفت ، محی الدین ، افسر، نصراللہ وغیرہم نے بھی اپنے خیالات پیش کئے۔ 


Friday, 24 January 2025

وقف بل: ’فون آیا اور ہمیں معطل کر دیا گیا‘، جے پی سی میں شامل اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کا سنگین الزام، اوم برلا کو لکھا خط

 




’وقف (ترمیمی) بل 2024‘ کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل جے پی سی کی میٹنگ میں 24 جنوری (جمعہ) کو زوردار ہنگامہ ہوا۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن کے 10 اراکین پارلیمنٹ کو ایک دن کے لیے معطل بھی کر دیا گیا۔ اس معاملے میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ کچھ کمیٹی اراکین نے میڈیا کے سامنے بیان میں کمیٹی چیئرمین جگدمبیکا پال پر سنگین الزام عائد کیا ہے، اور معطل اراکین پارلیمنٹ نے اوم برلا کو مشترکہ خط لکھ کر اپنے اعتراضات کا اظہار بھی کیا ہے۔

ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے آج میٹنگ میں ہوئے ہنگامہ کے بعد کہا کہ ”جب میٹنگ چل رہی تھی تو جے پی سی چیئرمین کے پاس لگاتار فون آ رہے تھے۔ ایک فون آیا جس کے بعد ہمیں معطل کر دیا گیا۔“ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے چیئرمین کو حکومت کی طرف سے ہدایت دی جا رہی تھی۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن اراکین نے جگدمبیکا پال پر کارروائی کو ایک تماشہ بنانے، منمانی کرنے اور اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ حکومت کی اعلیٰ سطح سے ہدایت لے رہے ہیں۔


اپوزیشن میں ہوئے ہنگامہ اور پھر بڑھی سیاسی ہلچل کے درمیان کمیٹی سے معطل اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھ کر کمیٹی چیئرمین کی کارگزاری اور طور طریقوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ 27 جنوری کو مجوزہ میٹنگ ملتوی کی جائے۔ جے پی سی اراکین اے راجہ، کلیان بنرجی، اسدالدین اویسی، نصیر حسین، ارونت ساونت، گورو گگوئی، محمد جاوید، عمران مسعود، محب اللہ ندوی، ایم عبداللہ کی طرف سے لکھے گئے اس خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیئرمین منمانے طریقے سے میٹنگوں کی تاریخیں بدلتے رہے ہیں۔ جمعہ کو ہوئی میٹنگ میں جب کمیٹی میں شامل اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اس پر اعتراض ظاہر کیا اور اپنی بات رکھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انھوں نے اپوزیشن کے 10 اراکین کو معطل کر دیا۔


معطل کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ ان کے اعتراضات کے باوجود پہلے تو 24 اور 25 جنوری کو جے پی سی کی میٹنگ طے کی گئی، اور پھر جمعہ کی صبح بتایا گیا کہ 25 جنوری کی میٹنگ 27 جنوری کو ہوگی۔ ناراض اراکین کا کہنا ہے کہ پہلے کے طے شیڈول کی بنیاد پر اراکین پارلیمنٹ نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنے پروگرام مقرر کر لیے ہیں، ایسے میں میٹنگ کی تاریخ تبدیل ہونے سے مشکل ہو رہی ہے۔ خط لکھنے والوں نے میٹنگ 29 جنوری کی جگہ 30 جنوری کو کرائے جانے کی گزارش کی ہے تاکہ سبھی اراکین اس اہم بل پر اپنی بات رکھ سکیں۔



اوم برلا کو لکھے گئے خط میں دستخط کنندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ ”ہم نے اہم باتوں کو مہذب طریقے سے چیئرمین کے سامنے رکھا، حالانکہ انھوں نے اس پر جواب دینے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس درمیان چیئرمین نے کسی سے فون پر بات کی اور اچانک حیرت انگیز طریقے سے انھوں نے چیختے ہوئے ہماری معطلی کا حکم صادر کر دیا۔“ خط میں لوک سبھا اسپیکر سے کہا گیا ہے کہ ”ہمارا ماننا ہے جے پی سی چیئرمین کو کمیٹی اراکین کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس لیے استدعا ہے کہ جے پی سی چیئرمین کو کارروائی شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے چلانے کی ہدایت دی جائے۔“


وقف ترمیمی بل: جے پی سی اجلاس میں ہنگامہ، حزب اختلاف کے 10 ارکان پارلیمنٹ معطل

 






وقف ترمیمی بل پر قائم شدہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کے اجلاس کے دوران ٹی ایم سی کے رکن کلیان بنرجی اور بی جے پی کے ایم پی نشی کانت دوبے کے درمیان لفظی جنگ ہوئی، جس کے بعد کمیٹی کے 10 اپوزیشن ارکان کو ایک دن کے لیے معطل کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں ہنگامہ اس وقت ہوا جب کلیان بنرجی نے اجلاس کو اتنی جلدی بلانے پر سوال اٹھایا، جس پر نشی کانت دوبے نے سخت اعتراض کیا اور دونوں رہنماو¿ں کے درمیان شدید تکرار شروع ہو گئی۔ اس کے بعد اجلاس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔


کلیان بنرجی کا کہنا تھا کہ اجلاس کی اتنی جلدی کیا ضرورت تھی؟ انھوں نے اس پر سوال اٹھایا کہ آیا اس بل پر جلدی فیصلے کی کوئی خاص وجہ ہے؟ ان کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نشی کانت دوبے نے کہا کہ حکومت نے اس بل کو اہمیت دی ہے اور اس پر جلدی فیصلے کی ضرورت ہے۔ دونوں کے درمیان یہ بات چیت اتنی بڑھ گئی کہ دونوں کے درمیان لفظوں کا تبادلہ شدید ہو گیا اور اس کی وجہ سے اجلاس کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔


جیسے ہی یہ تنازعہ بڑھا، کمیٹی نے اپوزیشن کے 10 ارکان کو معطل کر دیا، جنہوں نے اس بحث میں مداخلت کی تھی۔ ان ارکان کی معطلی نے اجلاس کی فضا کو مزید متنازعہ بنا دیا اور اجلاس کو 27 جنوری تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔



اس اجلاس میں کشمیر کے مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق بھی اپنے اعتراضات پیش کرنے کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس کے علاوہ کچھ مزید اہم شخصیات بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گی، جن میں ’لائیرز فار جسٹس‘ گروپ بھی شامل ہے۔


اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن نشی کانت دوبے نے کہا کہ وقف بل کا مقصد مسلمانوں کی بہتری کے لیے ہے اور اس کے ذریعے وقف کے اداروں میں شفافیت لانا مقصود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کو جلد پاس کرنا ضروری ہے تاکہ وقف کے اداروں کے انتظام میں بہتری لائی جا سکے اور اس کے ذریعے ملک کے مسلمانوں کی فلاح کی جا سکے۔


دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے مفادات کے خلاف ہے اور اس کے ذریعے حکومت وقف کے اداروں پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بل میں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔



آئندہ اسمبلی انتخابات میں میتھیلانچل سمیت پورے بہار میں جن سوراج کا لہر قائم ہوگا: ایڈووکیٹ صبیح

 




دربھنگہ:- بہار جن سوراج پارٹی کے بانی رکن و ممبر ایکٹنگ کمیٹی بہار ایڈووکیٹ صبیح محمود نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں فرقہ پرست اور بچوں کے مستقبل سے کھیلنے والی جدیو و بھاجپا سرکار کا خاتمہ ہو جائے گا چونکہ متھلانچل سمیت پورے بہار میں بانی پرشانت کشور جی کے نگرانی میں بدلاؤ  کی لہر دور رہی ہےـ آج متھلانچل کے دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے دورہ پہ انے کے بعد پارٹی کے بانی رکن و دربھنگہ شہر سے ممکنہ امیدوار ایڈووکٹ شاہد اطہر سے اپنے رہائش گاہ پہ ملاقات کرنے کے بعد جاری پریس ریلیز میں بتایاـ ایڈووکیٹ صبیح محمود نے کہا کہ لوگوں میں بہت ناراضگی اور نا امیدی کی کرن ظاہر ہو رہی ہے کہ پورا پانچ سال کا مدت ختم ہونے کو ہے اور جگہ بہ جگہ ترقی کا معاملات رکا ہوا ہے وہیں ابھی کل کی بات ہے کہ ضلع ایجوکیشن افسر بتیا کے گھر پہ کرپشن سے لوٹا ہوا پیسہ کا امبار ملا ہے جس کو گنتی کرنے کے لیے مشین بھی کم پڑ گئی ہے ـ اس موقع پہ ایڈووکٹ شاہد اطہر نے کہا کہ اگر پارٹی اور دربھنگہ کی عوام چاہے گی تو میں ان کی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پورے دم خم کے ساتھ الیکشن لڑوں گا وہیں شاہد اطہر نے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لیے پیسہ معنی نہیں نہیں رکھتی ہے ہاں عوام کا پیار سب سے بڑی طاقت ہے وقت انے پہ عوام اپنے ممبر اسمبلی سے پورے مدت کا حساب کتاب مانگے گی اور ان کو اس کا حساب دینا ہی پڑے گاـ