Monday, 6 January 2025

ڈبل انجن والی حکومت پرشانت کشور سے خوفزدہ ہے! شاہد اطہر

 





 دربھنگہ:- پرامن انشن پر پولیس کی کارروائی ناانصافی ہے، نتیش کمار کو 2025 کے اسمبلی انتخابات میں نقصان ضرور اٹھانا پڑے گا- نتیش کمار کی ڈبل انجن والی حکومت جن سوراج پارٹی کے سربراہ پرشانت کشور سے خوفزدہ ہوکر یہ کام کیا ہے - ایڈوکیٹ شاہد اطہر بانی ممبر و بہار پردیش کمپین کمیٹی نے پریس ریلیز میں کہا کہ یہ ڈبل انجن والی حکومت یقیناً تعلیم اور طلباء وطالبات کے خلاف ہے- جب طلباء وطالبات اپنے مطالبات کے لیے دھرنے پر تھے تو لاٹھی چارج اور پرشانت کشور جی کو زبردستی اٹھانے کا حق نتیش کمار سرکار کو کس نے دیا؟  گاندھی میدان میں مظاہرہ کرنے میں آئین کے تحت کیا غلط ہے؟  بی پی ایس سی کے امتحان کو منسوخ کرتے ہوئے حکومت کو فوری طور پر دوبارا سے امتحان کا انعقاد کرنا چاہیے، ورنہ بہار کا چکہ چکہ جام کر کے  بہت بڑی عوامی تحریک چلائی جائے گی۔  جن سورج پارٹی کے بہار پردیش مہم کمیٹی کی رکن شمشاد نور نے کہا کہ پرشانت کشور جی کو بغیر کسی شرط کے بغیر بنا کسی تاخیر کے رہا کیا جائے، ورنہ جن سوراج کے سیلاب کو روکنا بہار حکومت کے بس میں نہیں رہے گا- بہار بند، ریلوے ٹریک جام کرکے احتجاج کیا جائے گا- بہار اسٹیٹ ورکنگ کمیٹی کے رکن شمشاد ناجمی نے کہا کہ اگر اپنے ہی ملک میں انصاف کے لیے پر امن طریقے سے احتجاج کرنا غلط ہے تو ہم اس نکممی ڈبل انجن والی حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ایک بار نہیں بلکہ سینکڑوں بار پر امن طریقے سے احتجاج کریں گے۔ بہار کے کونے کونے میں جیل بھرو مہم چلائیں گے - یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور جی اکیلے نہیں ہیں پرشانت جی کی ایک حکم پر جن سوراج پارٹی کے ممبران کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔

Sunday, 5 January 2025

تیجسوی یادو کا نتیش کمار پر شدید حملہ ،کہاکہ وہ اب فیصلہ لینے کے قابل بھی نہیں ہیں

 









بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر شدید ذاتی حملہ کرتے ہوئے ان کی صحت کی خراب حالت کا حوالہ دیا اور انہیں وزیر اعلیٰ کے عہدے سے دستبردار ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی حکومت کو ’جھوٹ کی یاترا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ اب فیصلہ سازی کی حالت میں نہیں ہیں اور ریٹائرڈ افسران کے ساتھ حکومت چلا رہے ہیں۔


تیجسوی یادو نے کہا کہ نتیش کمار اب تھک چکے ہیں اور حکومت پر کچھ لوگ دہلی سے اور کچھ بہار میں قابض ہیں جو صرف اپنے فائدے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار راشٹریہ جنتا دل میں واپس آئیں گے، اس پر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے لالو پرساد یادو کے مزاحیہ انداز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا والے افواہیں پھیلاتے رہتے ہیں جبکہ لالو جی نے صحافی کے سوال پر صرف مذاق کیا تھا۔




انہوں نے بی پی ایس سی کے مظاہرین کے ساتھ پولیس کے رویے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب طلبہ پر لاٹھی چارج ہوا، تب کچھ لوگ خاموش تھے اور اب سیاسی فوائد کے لیے سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسمبلی میں مظاہرین کے حق میں آواز بلند کی اور وزیر اعلیٰ کو خطوط بھی لکھے، لیکن حکومت نے ان کے مطالبات کو دبانے کی کوشش کی۔ انہوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ انصاف ملنے تک وہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔



جن سوراج کے بانی پرشانت کشور کے انشن پر تنقید کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ صرف ایک اداکاری ہے۔ انہوں نے وینٹی وین کے استعمال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر یہ سہولت اداکاروں اور اداکاراو¿ں کے لیے ہوتی ہے۔



رمیش بدھوڑی کا پرینکا گاندھی سے متعلق شرمناک بیان خواتین کے خلاف بی جے پی کی مجموعی سوچ کو ظاہر کرتا ہے: اجے ماکن

 







نئی دہلی: دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے کالکاجی سے بی جے پی کے امیدوار رمیش بدھوڑی کے کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی پر قابل اعتراض بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس بیان پر کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابل اعتراض ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جو بی جے پی میں گہرائی تک سرایت کر چکی ہے۔


اجے ماکن نے کہا کہ رمیش بدھوڑی کا یہ بیان نہ صرف شرمناک بلکہ خواتین کے خلاف بی جے پی کی مجموعی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی خواتین رہنما، وزیرِ اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر جے پی نڈا اور خواتین و اطفال ترقی کی وزیر کو ایسے بیانات پر وضاحت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پارٹی کی قیادت ہی ایسی ذہنیت رکھتی ہو، تو باقی ارکان سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟


اجے ماکن نے مزید کہا، ”یہ صرف رمیش بدھوڑی کا انفرادی بیان نہیں بلکہ بی جے پی کی خواتین کے تئیں احترام کی کمی کا مظہر ہے۔ ایسے بیانات اور زبان کے استعمال پر سخت کارروائی ہونی چاہیے لیکن بی جے پی اس کے برعکس ایسے رویوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔“


انہوں نے کانگریس کی جانب سے مطالبہ کیا کہ بی جے پی کو اس بیان کی مذمت کرنی چاہیے اور عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ کانگریس کے دیگر رہنما بھی پہلے رمیش بدھوڑی کے بیانات پر اسی قسم کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔


کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی قیادت کی خاموشی اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ خواتین کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ان کی پارٹی کی سوچ کا حصہ ہے۔ اجے ماکن نے عوام پر زور دیا کہ وہ ایسے بیانات کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ سیاست میں شائستگی اور خواتین کے لیے احترام کا فروغ ہو سکے۔


کانگریس کی رہنما سپریا شرنیت نے بدھوڑی کے بیان پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ خواتین کے بارے میں ان کی گھٹیا ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان بی جے پی کی سوچ کو بے نقاب کرتا ہے، جو ہمیشہ خواتین کی عزت و وقار کو پامال کرتی ہے۔ سپریا نے مزید کہا کہ بدھوڑی نے پہلے بھی اپنے ساتھی ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کی تھی، مگر ان پر کبھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔



سپریا شرنیت نے مزید کہا کہ بی جے پی کی خواتین رہنماو¿ں کو اس طرح کے بیانات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ جے پی نڈا اور وزیرِ اعظم نریندر مودی سے اس پر ردعمل دینے کی درخواست کی۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی اپنے رہنما کے اس گھٹیا بیان پر معافی مانگے۔


کانگریس کے ایک اور رہنما پون کھیڑا نے بھی بی جے پی کے رہنما پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بدھوڑی کا یہ بیان ان کی گھٹیا ذہنیت اور آر ایس ایس کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ کھیڑا نے کہا کہ یہ بیان خواتین کے خلاف نفرت کا مظاہرہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کس حد تک خواتین کے تئیں اپنی ناپاک سوچ رکھتی ہے۔


واضح رہے کہ کالکاجی سے بی جے پی امیدوار رمیش بدھوڑی نے کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کے بارے میں قابل اعتراض بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو وہ کالکاجی کی تمام سڑکوں کو ’پرینکا گاندھی کے گالوں‘ جیسا بنا دیں گے۔


اس بیان پر جب بدھوڑی کو چہار سو سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو انہوں نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا اور اگر ان کے الفاظ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا بیان سیاسی تناظر میں تھا اور کسی کی ذاتی توہین مقصود نہیں تھی۔





جن نائک کرپوری جینتی دھوم دھام سے منائی جائے گی! رام ناتھ ساہنی

 



 بہار حکومت کو پرشانت جی کے مطالبات کو ماننا ہوگا شاہد اطہر 




 دربھنگہ:- 24 جنوری 2024 کو جن نائک کرپوری ٹھاکر کے یوم پیدائش  کو لیکر سنیت کمار کی قیادت میں جن سوراج پارٹی کے اراکین کی طرف سے دربھنگہ ضلع کے بلاک میں کرپوری سنواد پروگرام کے تحت ایک پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں آج سنگھواڑہ بلاک کے لوریکا اور لال پور چوک میں بلاک صدر رام ناتھ ساہنی کی صدارت میں پروگرام منعقد کیے گئے۔ جس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ کیوٹی اسمبلی کے سنھواڑہ بلاک کے سینکڑوں انتہائی پسماندہ ذات کے لوگ پٹنہ کے ملر ہائی اسکول گراؤنڈ میں جانے کا پروگرام ترتیب دیں گے۔ رام ناتھ ساہنی نے کہا کہ آج سے ہم لوگ سنگھواڑہ بلاک کے تمام پنچایت و گاؤں کے لوگوں سے مل کر کرپوری جی کے پیغام کو پھیلانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور پرشانت کشور جی کے فیصلے پر لوگوں کو پٹنہ جانے کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ پرشانت کشور جی کے امرن انشن کی وجہ سے کام تھوڑی سست رفتاری سے ضرور ہو رہا ہے لیکن بہار حکومت کو بی پی ایس سی کے امتحان کو منسوخ کرنے کا اعلان کرنا ہی پڑے گا اور پرشانت جی کے آمرن انشن کو  فتح حاصل ہو کر ہی رہیگا- اگر نتیش حکومت پرشانت جی کے مطالبات کو نہیں مانتی ہے اور پرشانت جی کی صحت کو لے کر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگوں کا سیلاب پٹنہ جائے گا اور وزیر اعلیٰ کو سکون سے آرام کرنے نہیں دیں گے۔  پروگرام میں رام جی ساہنی، نردیش ساہنی، لال بابو ساہنی، سدھیر چودھری، انل ساہنی شمشاد نور و شمشاد ناجمی وغیرہ کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

ڈاکٹر سنیل کمار سنہا: صحت کی خدمات میں بہترین کارکردگی کے لئے پرعزم

 






پٹنہ، پریس ریلیز۔ 

نان کمیونیکیبل ڈیزیز آفیسر سیتامڑھی اور ماہر سرجن ڈاکٹر سنیل کمار سنہا نے فیملی پلاننگ پروگرام کے تحت نس بندی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور اس شعبے میں بہترین کام کرنے پر انہیں وقتا فوقتا ریاستی اور ڈویژن کی سطح پر اعزازات سے بھی نوازا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سنیل کمار سنہا کو سال 2020 اور 2022 میں ڈویژنل سطح پر دو بار نس بندی میں ان کے شاندار کام کے لئے اعزاز سے نوازا جا چکا ہے اور 2023 اور 2024 میں ریاستی سطح پر اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں یعنی 2020 میں 1780 (یہ معلوم ہے کہ 2020 میں کووڈ کے دور میں بھی ڈاکٹر سنیل کمار سنہا نے تمام پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے عمدہ کام کیا تھا)۔۲۰۲۱، ۲۱۰۷ میں (اس سال بھی، کووڈ کے خوفناک دور میں بھی، ڈاکٹر سنیل کمار سنہا نے نس بندی کی تعداد کو کم نہیں ہونے دیا، حالانکہ وہ خود کووڈ سے متاثر ہوئے اور انہیں اسپتال میں داخل ہونا پڑا، پھر بھی انہوں نے تمام پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے ایک عمدہ کام کیا)۔ 2022 میں 2263، 2023 میں 2812 اور 2024 میں 3184 نس بندی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر سنیل کمار سنہا کا کہنا ہے کہ نس بندی آبادی پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی کو کم کرتی ہے اور ایک خوش حال اور صحت مند خاندان کی طرف لے جاتی ہے، غربت بھی کم ہوتی ہے، اور لوگوں کو اچھی تعلیم، خوراک، لباس، رہائش اور اچھی صحت کی سہولیات ملتی ہیں۔ آبادی پر قابو پانے سے نہ صرف لوگوں کو سہولت ملتی ہے بلکہ یہ لوگوں کو فوائد ہمارا ملک بھی آگے بڑھتا ہے اور ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سنیل کمار سنہا کے ذریعہ وقتا فوقتا غیر متعدی بیماریوں کے لئے بیداری مہم بھی چلائی جاتی ہے ، جس میں لوگوں کو بلڈ پریشر ، ذیابیطس ، کینسر اور تمباکو سے متعلق مادوں وغیرہ کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سنیل کمار سنہا کا کہنا ہے کہ 30 سال سے زائد عمر کے تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ وقتا فوقتا اپنے قریبی اسپتالوں میں جائیں اور چیک اپ کروائیں اور اپنی روزمرہ کی طرز زندگی میں تبدیلیاں لاکر لوگ اپنی خوراک کو بہتر بنا کر سنگین بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر سنیل کمار سنہا تمباکو فری یوتھ مہم 2.0 کے تحت ایک مہم بھی چلا رہے ہیں جس میں وہ وضاحت کرتے ہیں کہ آج کی نوجوان نسل کو منشیات کے استعمال سے بچانا ہے اور ایک صحت مند معاشرے اور ملک کی تعمیر کرنی ہے۔ اس کے لیے وقتا فوقتا پروگرام منعقد کیے جاتے رہے ہیں اور ہسپتالوں، اسکولوں، سرکاری دفاتر کے 100 گز کے اندر تمباکو کی مصنوعات استعمال اور فروخت کرنے والے افراد پر جرمانے اور جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ اور انہیں مستقبل میں ایسا نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے اور تمباکو کی مصنوعات کا استعمال نہ کرنے کا عہد بھی دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ 2020 میں سیتامڑھی ضلع کو تمباکو سے پاک ضلع قرار دیا گیا تھا، اب ضلع کو تمباکو سے پاک بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈاکٹر سنیل کمار سنہا اور ان کی فیملی بھی سماجی کاموں میں سرگرم ہے، ڈاکٹر سنیل کمار سنہا اور ان کی فیملی وقتا فوقتا خون کا عطیہ دیتی رہتی ہے۔

ڈاکٹر سنیل کمار سنہا نے 37 بار، ان کی اہلیہ ڈاکٹر رجنی سنہا نے 17 بار اور ان کی بیٹی نے 2 بار خون کا عطیہ دیا ہے۔ سال 2024 میں سمپورنا ابھیان کے تحت انہیں ضلع افسر جناب رچی پانڈے (آئی اے ایس) نے بیرگانیا بلاک میں جنگی بنیادوں پر بہترین کام کرنے پر اعزاز سے نوازا ہے اور تمباکو فری یوتھ مہم 2.0 کے تحت بہترین کام کرنے پر ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جناب منوج کمار تیواری (آئی پی ایس) نے انہیں اعزاز سے نوازا ہے۔

متھلا بی ایڈ کالج میں بچپن کی شادی کے مضراثرات سے متعلق آگاہی مہم کا انعقاد، اساتذہ ، طلبہ وطالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا






دربھنگہ ( نمائندہ) آج متھلا بی ایڈ کالج کی آگاہی مہم بچپن کی شادی کے متعلق چلایا گیا۔جسمیں کالج کے سبھی طلباء وطالبات ٹیچنگ و ننٹیچنگ اسٹاف شامل تھے۔سماج میں بال ویواہ یعنی بچپن کی شادی کے متعلق بتایا گیا کہ چھوٹے بچوں کی شادی نہیں کرنی چاہئے۔ جس سے بچوں کو کئی طرح کے نقصانات ہو جاتے ہیں۔ جیسے اس کے صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ لڑکے اور لڑکی دونوں کے صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ فائنانس کی قلت ہو جاتی ہے۔ غریبی بڑھتی جاتی ہے۔ وہ گھر جلدی فروغ نہیں کر پاتا ہے۔ سماج کا ماحول خراب ہو جاتا ہے۔ بال ویواہ بچپن کی شادی ایک اپرادھ ہے۔ متھلا بی ایڈ کالج کے طلباء وطالبات و ٹیچنگ اسٹاف پورے میں گھوم گھوم کر اس ابھیان کا پرچار پرسار کیا۔ اور خاص طور پر شاہ پور میں اسسٹنٹ پرنسپل وجیح احمد خان ، اچ او ڈی نجم الدین ہاشمی ، ڈاکٹر شاہینہ متین، پروفیسر دلیپ کمار ، پروفیسر شرف عالم ، نے بچپن کی شادی سے متعلق نقصانات بتائے۔ اس میں حصہ لینے والوں میں پروفیسر محمد علی، پروفیسر نجیب احمد خان ، پروفیسر پنیتا کماری، پروفیسر کوشل کشور سنگھ ، محمد شمشی، اومیش کمار، پروفیسر غلام ربانی وغیرہ خاص تھے۔ کالج کے دیگر ٹیچنگ، ننٹیچنگ، سینکڑوں طلباء وطالبات شامل ہوئے تھے۔بہت ہی خوبصورت انداز میں اس مہم کو چلایا گیا۔


Sunday, 29 December 2024

بی پی ایس سی طلباء اور پولیس میں تصادم، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا استعمال

 



پٹنہ میں ایک بار پھر احتجاج کر رہے طلباء پر پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا ہے۔ گاندھی میدان میں اجازت نہ ملنے کے باوجود بھی احتجاج پر بضد بی پی ایس سی امیدواروں نے اتوار (29 دسمبر) کو زبردست احتجاج کیا۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اتوار کو صبح سے ہی پورے گاندھی میدان کو پولیس چھائو
نی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ صبح سے ہی حالات کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن شام ہوتے ہی حالات بے قابو ہو گئے جس کے بعد پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ واضح ہو کہ 25 دسمبر کو بھی پولیس کی جانب سے احتجاج کر رہے طلبائ پر لاٹھی چارج کیا گیا تھا جس میں کئی طلباءشدید طور پر زخمی ہو گئے تھے۔


دراصل سبھی امیدوار شام ہوتے ہی پرشانت کشور کی سربراہی میں جے پی گولمبر کے راستے سی ایم ہاو¿س جانے لگے۔ راستے میں پولیس کی جانب سے احتجاجی طلباءکو روکنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن طلباءنے پولیس بیریکیڈنگ توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ طلباءنے عام گاڑیوں کو روک کر راستہ بلاک کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد پولیس نے طلباء پر لاٹھی چارج کر دیا۔ حالانکہ لاٹھی چارج کے بعد طلباءنے اپنی احتجاجی شدت کو مزید بڑھا دیا۔



قابل ذکر ہے کہ ضلع انتظامیہ نے ہفتہ کو ایک نوٹس جاری کر کے احتجاج پر پابندی لگا دی تھی۔ اس کے باوجود پرشانت کشور کی سربراہی میں ہزاروں طلباءگاندھی مجسمہ کے قریب پہنچ کر مظاہرہ کرنے لگے۔ حالانکہ ہفتہ کو ہی پرشانت کشور نے پرامن طریقے سے مظاہرے کی پولیس انتظامیہ سے اجازت مانگی تھی۔ انتظامیہ نے پرشانت کشور کو احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی۔ واضح ہو کہ 13 دسمبر کو بی پی ایس سی کے امتحان میں ہوئی بدعنوانی اور بے ضابطگی کی وجہ سے طلباءامتحان کی مکمل منسوخی کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔



سابق آئی پی ایس اور سماجی کارکن آچاریہ کشور کنال کا انتقال، نتیش۔لالو سمیت متعدد شخصیات کا اظہار تعزیت

 




پٹنہ :بہار کے سابق آئی پی ایس افسر کشور کنال کا اتوار کو انتقال ہو گیا۔ان کے انتقال پر وزیراعلیٰ نتیش کمار ، سابق وزیراعلیٰ لالو پرساد یادو سمیت متعدد شخصیات نے غم کا اظہار کیا ہے۔ 

 آچاریہ کشور کوآج صبح میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد انہیں مہاویر کینسر اسپتال لے جایا گیا جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کی عمر 74 سال تھی۔ کشور کنال سبکدوش آئی پی ایس افسر تھے اور بہار راجیہ دھارمک نیاس بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر بھی رہے۔ وہ پٹنہ کے مہاویر مندر نیاس کے سکریٹری اور گیان نکیتن نامی اسکول کے بانی بھی تھے۔ مہاویر مندر ٹرسٹ کے سکریٹری کے طور پر انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے مندر کی تعمیر کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ مہاویر ہیلتھ انسٹی چیوٹ، مہاویر کینسر سنستھان، مہاویر نیترالیہ کی بنیاد بھی انہوں نے ہی ڈالی تھی۔ غریبوں کے لیے یہ اسپتال زندگی بخش ثابت ہوئے۔


آچاریہ کشور کنال نے پٹنہ میں مہاویر مندر، مہاویر کینسر اسپتال اور مہاویر واتسلیہ اسپتال قائم کروایا تھا۔ وہ انڈین پرولیس سروس کے مشہور افسر رہے ہیں۔ 1972 میں کشور کنال گجرات کیڈر میں آئی پی ایس افسر بنے تھے۔ ان کی پہلی پوسٹنگ آنند میں ایس پی کے طور پر ہوئی تھی۔ 1978 تک وہ احمد آباد کے پولیس کمشنر بن گئے۔ 1983 میں بہار آنے پر کشور کنال کو پٹنہ کا ایس ایس پی بنایا گیا تھا۔ 2001 میں کشور کنال نے رضاکارانہ طور پر انڈین پولیس سروس سے استعفیٰ دے دیا۔ سبکدوشی کے بعد انہوں نے بہار راجیہ دھارمک نیاس بورڈ کے چیئرمین کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔



آچاریہ کشور کنال کی پیدائش 10 اگست 1950 کو بہار میں مظفرپور کے بروراج گاو¿ں میں ہوئی تھی۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے تاریخ اور سنسکرت میں 1970 میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور 1983 میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ کشور کنال نے دربھنگہ کی سنسکرت یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر بھی کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بہار میں تعلیم اور صحت انتظام بہتر کرنے کے لیے اپنا اہم تعاون دیا۔ ان کے انتقال پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سمیت کئی سیاسی و سماجی رہنماو¿ں نے گہرے غم کا اظہار کیا ہے اور اسے سماج کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔


آچاریہ کشور کنال کی بے وقت موت ایک ناقابل تلافی نقصان ہے: جے ڈی یو

جے ڈی (یو) کے ریاستی ترجمانوں نے آچاریہ کشور کنال کے بے وقت انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور اسے بہار کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میںرکن قانون ساز کونسل کم پارٹی کے چیف ریاستی ترجمان مسٹر نیرج کمار، ریاستی ترجمان ڈاکٹر نیہورا پرساد یادو، مسٹر اروند نشاد، مسٹر ہمراج رام، مسز انجم آرا، مسٹر نول شرما، مسٹر ابھیشیک جھا، مسٹر پرمل کمار اور مسٹر منیش یادو نے کہا کہ انہوں نے سماج کے لیے جو کام کیا ہے وہ سب کے لیے ایک مثال ہے۔

 پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ آچاریہ کشور کنال نہ صرف ایک موثر منتظم تھے بلکہ مذہبی اور سماجی میدان میں بھی ان کا تعاون بے مثال ہے۔ مہاویر مندر کے انتظام کے سربراہ کے طور پر، انہوں نے پٹنہ میں مہاویر کینسر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا، جو شمالی ہندوستان کا ایک بڑا کینسر ہسپتال ہے، اور غریب مریضوں کے لیے مہاویر وتسالیہ جیسے بڑے ہسپتال بنائے، جہاں مریضوں کا بہت کم خرچ پر علاج کیا جاتا ہے۔ آچاریہ کشور کنال نے ہمیشہ غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا اور ان کے دکھ درد کو سمجھا۔ آچاریہ کشور کنال نے بھی کئی تحریریں لکھیں۔ ان کے بے وقت انتقال سے بہار ایک دور اندیش اور آگے کی سوچ رکھنے والی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔



آچاریہ کشور کنال کے انتقال پر لالو ، رابڑی ، تیجسوی سمیت آرجے ڈی لیڈران کا اظہار غم 


آر جے ڈی کے قومی صدر جناب لالو پرسادیادو، سابق وزیر اعلیٰ محترمہ رابڑی دیوی، قائد حزب اختلاف جناب تیجسوی پرساد یادو، رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر میسا بھارتی، سابق وزیر جناب تیج پڑتاپ یادو، ریاستی صدر جگدانند سنگھ، قومی نائب صدر جناب ادے نارائن چودھری، قومی جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی، سابق مرکزی وزیر شری جے پرکاش نارائن یادو، ڈاکٹر مسز کانتی سنگھ، قومی چیف ترجمان پروفیسر منوج کمار جھا، راجیہ سبھا کے رکن اسمبلی شری سنجے یادو، قومی جنرل سکریٹری شری بھولا یادو، سید فیصل علی، بنو یادو، ریاستی نائب صدر اشوک کمار سنگھ، ڈاکٹر تنویر حسن، شری شیو چندر رام، شری سریش پاسوان، ریاستی جنرل سکریٹری شری رنوجے ساہو، خزانچی محمدکامران، ریاستی آر جے ڈی کے چیف ترجمان شری شکتی سنگھ یادو، ریاستی ترجمان اعجاز احمد کے ساتھ۔ آر جے ڈی کنبہ کے دیگر رہنماو¿ں نے مہاویر نیاس پریشد کے سکریٹری آچاریہ کشور کنال کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت سے ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں سماجی میدان میں جو کام کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ ایک اچھے انتظامی افسر ہونے کے علاوہ انہوں نے مہاویر اسپتال اور دیگر اسپتالوں کے ذریعہ سماج کے مفاد میں جو تعاون دیا ہے اسے بہار کے لوگ فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔



24 گھنٹے کے اندر جنوبی کوریا، ناروے اور کینیڈا میں طیارہ حادثہ، 179 افراد جاں بحق








گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 ممالک میں ہوئے طیارے حادثے میں 179 لوگوں نے اپنی جانیں گنوا دی ہیں۔ پہلا طیارہ حادثہ جنوبی کوریا میں ہوا۔ یہاں موآن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 181 مسافرین کو لے جا رہے جیجو ایئر کا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے بعد طیارہ میں آگ لگ گئی جس میں سوار 179 لوگوں کی موت ہو گئی۔ دوسرا طیارہ حادثہ کینیڈا کے ہیلیفیکٹس ایئرپورٹ پر ہوا۔ یہاں ایئر کینیڈا کے ایک طیارہ کی ایئرپورٹ پر خطرناک لینڈنگ ہوئی جس میں طیارہ رنوے سے پھسل گیا اور لینڈنگ گیئر ٹوٹ جانے کی وجہ سے طیارے میں آگ لگ گئی۔ تیسرا حادثہ ناروے کے اوسلو ایئرپورٹ پر ہوا۔



اگر جنوبی کوریا کے طیارے حادثے کی بات کریں تو اتوار کو موآن انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر طیارہ حادثے میں 181 لوگوں میں سے 179 لوگوں کی موت ہو گئی جبکہ 2 لوگوں کو بچا لیا گیا۔ یہ جنوبی کوریا کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا طیارہ حادثہ ہے۔ حادثہ کا شکار 15 سال پرانا طیارہ بوئنگ 737-800 جیٹ تھائی لینڈ کے بینکاک سے آیا تھا۔ یہ حادثہ لینڈنگ گیئر کی خربی کی وجہ سے پیش آیا۔ جنوبی کوریا کی نیشنل فائر ایجنسی کے مطابق حادثے میں ہلاک ہوئے 179 افراد میں 83 خواتین اور 82 مردوں کی شناخت ہوئی ہے باقی کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ جبکہ 2 مسافرین کی جان بچا لی گئی ہے جو حادثے کے بعد بیہوشی کی حالت میں پائے گئے تھے۔



طیارہ کا دوسرا حادثہ کینیڈا میں ہوا جہاں ایئر کینیڈا کی ایک فلائٹ کی ہیلیفیکٹس ایئرپورٹ پر خطرناک لینڈنگ ہوئی ہے۔ لینڈنگ کے دوران گیئر ٹوٹ جانے کی وجہ سے طیارہ میں آگ لگ گئی۔ حالانکہ حادثے میں کسی کے جانی نقصان ہونے کی کوئی خبر اب تک سامنے نہیں آئی ہے۔ تیسرا طیارہ حادثہ ناروے میں ہوا۔ دراصل اوسلو سے اڑان بھڑنے والے طیارہ کے پائلٹوں اور مسافروں نے تیز آواز سنیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق پائلٹوں نے طیارہ کے بائیں انجن سے دھواں نکلتے دیکھا جس کے بعد طیارہ کی ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔ حالانکہ طیارہ رنوے پر کنٹرول نہیں ہو پایا اور رنوے سے پھسل کر گھاس میں جا کر رک گیا۔ طیارہ میں سوار سبھی 182 مسافرین محفوظ ہیں۔


جرمنی کے رکن پارلیمنٹ راہل کمبوج سے ملاقات کے بعد اکھلیش یادو نے ایک بار پھر ای وی ایم پر اٹھایا سوال

 





سماج وادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اترپردیش نے ایک بار پھر ای وی ایم پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے یہ باتیں جرمنی کے فرینکفرٹ سے رکن پارلیمنٹ راہل کمار کمبوج سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔ راہل کمار کمبوج اور اکھلیش یادو کے دوارن لمبی گفتگو ہوئی۔ اکھلیش یادو سے ملاقات کے بعد راہل کمبوج نے کہا کہ اترپردیش کے لیے اکھلیش یادو کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ہے۔ ساتھ ہی راہل نے کہا کہ وہ دوستی کی خاطر اکھلیش یادو سے ملنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بڑے مواقع فراہم ہونے والے ہیں۔ اس کی سمت میں مل کر کام کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان جو دوستی ہے اس کو ایک موقع کے طور پر استعمال کر کے کام کرنے کی ضرورت ہے۔


راہل کمبوج سے ملاقات کرنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے ای وی ایم سے انتخاب کو لے کر ایک بار پھر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی جرمنی میں بیلٹ پیپر کے ذریعہ ووٹنگ ہوتی ہے لیکن ہندوستان میں ای وی ایم کا کھیل جاری ہے۔ وہیں راہل کمار کمبوج نے ای وی ایم کے حوالے سے کہا کہ ہمارے جرمنی میں آج بھی ووٹنگ بیلٹ پیپر سے ہوتی ہے۔ ساتھ ہی راہل نے واضح کر دیا کہ جرمنی میں ہونے والے تمام انتخاب خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے بیلٹ پیپر سے ہی ہوتے ہیں۔ اگر کبھی ووٹوں کی گنتی دوبارہ کی جاتی ہے تو بھی ایک ووٹ کا فرق نہیں آتا ہے۔



شیوپال یادو نے اس دوران کہا کہ ہمارے درمیان جرمنی سے ہمارے مہمان آئے ہیں میں ان کا استقبال کرتا ہوں۔ 2025 میں ہم ملک اور ریاست کے مفاد کے لیے نئی پیش قدمی کریں گے۔ اترپردیش میں 2027 میں سماج وادی حکومت بنانے کے مشن ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ اکھلیش یادو ایک بار پھر ریاست کے وزیر اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہوں جس سے یہاں کے غریبوں اور کسانوں کو موجودہ حکومت کی استحصال سے نجات ملے۔ ساتھ ہی انہوں نے جرمنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی سپریم کورٹ نے ای وی ایم کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ہمارے یہاں ہارنے والے اور جیتنے والے امیدواروں کو ای وی ایم پر بھروسہ ہی نہیں ہو پاتا ہے۔


شمالی ہندوستان میں سردی کی شدت، درجہ حرارت میں 5 ڈگری تک کمی

 



شمالی ہندوستان میں موسم سرما کی شدت بڑھ رہی ہے، جہاں آئندہ دنوں میں درجہ حرارت میں 3 سے 5 ڈگری سیلسیس تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق دہلی-این سی آر، پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش سمیت دیگر ریاستوں میں شدید سردی پڑنے والی ہے۔ دہلی میں کہرے کی موٹی تہہ نے سردی میں اضافہ کردیا ہے اور درجہ حرارت 12 ڈگری تک گر گیا ہے۔



آئی ایم ڈی کے مطابق، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے مختلف حصوں میں برفباری کی توقع ہے، جبکہ چمبا، کلو، منڈی اور کنور کے علاقوں میں 30 دسمبر سے 2 جنوری کے دوران شدید سردی کی لہر دیکھی جا سکتی ہے۔کشمیر میں اس وقت سخت ترین سردی کا دورانیہ ‘چلہ کلاں’ جاری ہے، جس کے تحت گلمرگ اور پہلگام میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے جا چکا ہے۔ گلمرگ میں درجہ حرارت منفی 8.0 ڈگری اور پہلگام میں منفی 8.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ سری نگر میں درجہ حرارت منفی 0.2 ڈگری رہا، جو معمول سے 2 ڈگری زیادہ ہے۔



ہماچل پردیش میں برفباری اور بارش کی توقع ہے، خاص طور پر شمالی چمبا، کنور اور اسپیتی کے علاقوں میں۔ پنجاب اور ہریانہ میں کہرے کی شدت بڑھے گی، جبکہ شیت لہر کی پیشگوئی 30 دسمبر سے کی گئی ہے۔اتر پردیش میں بھی موسم مزید سرد ہونے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، یوپی کے چند علاقوں میں ہلکی بارش ہوگی، اور درجہ حرارت میں 6 ڈگری تک کمی ہو سکتی ہے۔ بارش کے بعد موسم خشک ہوگا لیکن سردی کی شدت بڑھ جائے گی۔


بانگ درا ہندوستان کی تاریخ میں سیاسی اہمیت کا حامل: پر وفیسر عبدالحق

 





بانگ درا اقبال کا اولین اردو مجموعہ کلام ہے یہ کتاب اقبال کی فکر کے ارتقا ئی مراحل کا پتا دیتی ہے سالِ رواں بانگ درا کی اشاعت کا سواں سال ہے ایک صدی گزرنے کے بعد بھی فکر اقبال کی تازگی ماند نہیں پڑی ہے بانگ درا زندہ متن ہے۔ زندہ متن وقت کے ساتھ بدلتے طرز تفہیم کو نئے سرے سے غورو فکر کی دعوت دیتاہے،نیا حوصلہ اور نئے ولولے عطا کرتا ہے ان خیالا ت کا اظہارسمینار کے کنوینر پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام ”بانگ درا“ کی اشاعت کے سو سال مکمل ہونے پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پر وگرام سے قبل سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی وفات پر قراداد پیش کی گئی -منموہن سنگھ کو ان کی اقبال شیدائی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ ہمارے سابق وزیر اعظم کو دیوناگری نہیں آتی تھی اس لیے وہ نستعلیق میں ہی پڑھتے تھے اور علامہ اقبال کے شیدائی تھے، انھوں نے پارلیمنٹ میں جتنے بھی اشعار پڑھے اتفاق سے سبھی اقبال کے ہی تھے۔ اس موقع پر یہی دعا گو ہوں کہ اللہ ان کی روح کو سکون بخشے۔



افتتاحی تقریب میں پروفیسر شہاب الدین ثاقب نے کلیدی خطبہ پیش کر تے ہوئے کہا کہ اقبال سے پہلے اردو نظموں کا دائرہ بہت محدود تھا۔ موضوع و اسلوب دونوں اعتبار سے اقبال اپنی نظموں میں منفرد و یکتا نظر ا?تے ہیں۔ اقبال کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی نظموں میں متضاد کیفیات و منظرنگاری کو پیش کرتے ہیں، اگرچہ وہ انگریزی مفکرین سے متاثر تھے لیکن انھوں نے اپنی شاعری کو قرآن اور اسوہ رسول پر مرکوز رکھا۔ بطور مہمانِ خصوصی پروفیسر رحمت یوسف زئی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اقبال جتنے اہم کل تھے، ا?
ج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔ بیسویں صدی اقبال کی صدی تھی۔ اقبال نے جس نظام کا خواب دیکھا وہ نظامِ عدل و انصاف تھا جو اسلام پر مبنی تھا۔

صدراتی خطاب میں پروفیسر عبدالحق نے اردو اکادمی دہلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس ادارہ کی اولیت ہے کہ اس قسم کا پروگرام منعقد کیا۔انہوں نے بانگ درا پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانگ درا ہندوستان کی تاریخ میں سیاسی اہمیت کا حامل ہے، بیسویں صدی کی ابتدائی پچیس سال کی ہندوستانی تاریخ کی تخلیقی مثال ہے، اسی زمانے میں اقبال پہلا شاعرہے جس کے اشعار محاوروں کی شکل میں زبان زد و عام ہوئے۔


انڈیگو فلائٹ میں تاخیر سے ممبئی ایئر پورٹ پر 16 گھنٹے پھنسے رہے 100 مسافر، ایئر لائن نے مانگی معافی






ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تقریباً 100 مسافر 16 گھنٹے تک پھنسے رہے۔ ان مسافروں کو استنبول جانے والی فلائٹ میں سفر کرنی تھی لیکن تکنیکی وجوہات کی وجہ سے پرواز میں تاخیر ہو گئی۔ بعد میں انڈیگو نے مسافروں کو ہوئی اس پریشانی کے لیے معافی مانگی ہے۔ فلائٹ نمبر 6 ای 17 صبح 6 بج کر 55 منٹ پر استنبول کے لیے پرواز بھرنے والی تھی۔ بعد میں ایئر لائنس نے اعلان کیا کہ ایک دوسرا طیارہ 11 بجے پرواز بھرے گا۔


ایئر لائنس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ ہماری پرواز 6 ای 17 جو ممبئی سے استنبول جانے والی تھی، تکنیکی وجوہات سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ بیان میں آگے کہا گیا ہے کہ بد قسمتی سے مسئلہ کو حل کرنے اور اسے منزل مقصود تک بھیجنے کی ہماری تمام کوششوں کے باوجود ہمیں بالآخر پرواز منسوخ کرنی پڑی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرواز میں کم سے کم تین بار تاخیر ہوئی۔ اس دوران مسافروں کو تین بار اتارا اور چڑھایا گیا۔ فائنل ڈپارچر ٹائم کی جانکاری دینے سے پہلے یہ سب ہوتا رہا، وہیں مسافروں میں شامل کچھ طلبا نے ایئرپورٹ پر مظاہرہ شروع کر دیا۔ اطلاع کے مطابق ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یا تو ایئر لائن ٹکٹ کے پیسے ری فنڈ کرے یا پھر دوسرے طیارہ کا انتظام کرے۔

لوگوں نے پرواز میں ہو رہی تاخیر کو لے کر سوشل میڈیا پر بھی شکایت درج کرائی۔ سونم سہگل نامی ایک یوزر نے 'ایکس' پر لکھا کہ میرا بھائی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 12 گھنٹے سے پھنسا ہوا ہے۔ یہ سب ہو رہا ہے انڈیگو اور ان کے اسٹاف کے اَن پروفیشنل رویے کی وجہ سے۔ سونم نے آگے لکھا ہے کہ سب سے پہلے استنبول جانے والی فلائٹ میں تاخیر ہوئی۔ اس کے بعد انہیں کئی بار فلائٹ میں بٹھایا گیا اور پھر اتارا گیا۔ ان کے مطابق اسٹاف کا رویہ بہت خراب تھا۔ ری شیڈولنگ اور ری فنڈنگ کے بارے میں کوئی جواب نہیں مل رہا ہے۔ 492 مسافر انتظار کر رہے ہیں اور انہیں بنیادی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔