Monday, 30 April 2018

ہمیں بھی یادر رکھیں جب لکھیں تاریخ گلشن کی

جب گلستاں کو خون کی ضرورت پڑی
تو سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی
پھربھی کہتے ہیں یہ اہل چمن
یہ چمن ہمارا ہے تمہارا نہیں

قسط اول 
آج ہمارے وطن عزیز میں ایک طرح کا چلن بن گیا ہے کہ اگر کوئی آپ کسی کے نظریہ سے اتفاق نہ کرے تو جھٹ سے کہہ دو کہ یہ دیش دورہی غدار وطن ہے ۔اور آج لوگ مسلمانوں سے حب الوطنی کا سرٹیفکٹ مانگتے ہیں کہ مسلمانوں تمہیں اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو ہمارے نظریات کے مطابق ورنہ نہیں ۔ ایسے کم ظرفوں کو ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ ہندوستان ہمارے آبائو اجداد کے خون پسینے سے بنا ہے ہمارے آبائو اجداد نے اس لئے نہیں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا کہ ہماری آنے والی نسلیں اس طرح کے تعصبات اور اس طرح کی بھپتیاں سہیں بلکہ ہمارے آبائو اجداد نے اس لئے قربانیاں دی تھیں کہ ہماری آنے والی نسلیں اپنے ملک عزیز میں سینا تان کر چلیں اور جب اس طرح کے سرپھرے ان سے کہیں کہ یہ تمارا وطن نہیں تو انہیں ان کی اوقات بتا دیں ۔ مجھے ایک بات یاد آرہی ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کیا ہی خوب کہا تھاکہ اگر ایک طرف پورے ہندوستان کے لوگوں کی قربانیوں کو رکھ دیا جائے اور دوسری طرف علما صادقپور کیی قربانیوں کو تو علمائ صادقپوری کی قربانیوں کا پلڑا جھک  جائے گا۔
لیکن آج کچھ ہاف چڈی والے اور ان کے حامی یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ مسلمانوں کا یہاں کیا رکھا ہے وہ یہاں سے چلے جائیں۔ یا انہیں اگر یہاں رہناہے تو ہمارے ثقافت وکلچر میں ضم ہوجائیں۔تب ہم انہیں اپنا لیں گے ۔ور نہ نہیں ۔ ارے تم ہمیں اس طرح کی گیڈر بھپتیاں مت دو ہم بہادر قوم ہیں ہم ایک روشن تاریخ رہی ہے اور ہم نے صرف ہندوسستان ہی نہیں بلکہ دنیا عظیم حصے پر ہماری حکمرانی رہی ہے اور آج بھی ہم حکمراں ہیں ۔ہم ہندوستان کو اپنا ملک سمجھتے ہیں اور یہیں کی مٹی میں ہمیں جانا ہے اس لئے ہم اس ملک کے پورے حقدار ہیں اور اس ملک کی حفاظت اور اس ملک کے ہر زرے پر ہمارا بھی اتنا ہی حق جتنا کے دیگر برادران وطن کا ہے ۔ ہم نہ یہاں اپنے کو احساس کمتری کا شکار سمجھتے ہیں اور نہ ہی ہمیں کوئی یہ سمجھے کہ ہم یتم و نادار و بے کس ہیں بلکہ اگر ہمارے آبائو اجداد نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی اپنے آبائو اجداد کے نقش قدم پر چلنے کیلئے تیار ہیں اورملک عزیز کیلئے ہر طرح کی قربانیاں دیں گے 
فقط والسلام

Tuesday, 31 January 2017




st.xaviers high school 
The Union Minister for Textiles, Smt. Smriti Irani addressing at the inauguration of the Apparel and Garment Centre, at Pachim Boragaon, Guwahati 

Shri M. Venkaiah Naidu meeting the MEA Officials on special issues of Migrant Labour, in New Delhi

Shri M. Venkaiah Naidu meeting the MEA Officials on special issues of Migrant Labour, in New Delhi
Shri M. Venkaiah Naidu meeting the MEA Officials on special issues of Migrant Labour, in New Delhi

Sunday, 1 March 2015


  • ہوٹل پناس میں تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئی پہلی سالگرہ


پٹنہ ۔ اپنی دلچسپ خدمات کی وجہ مشہور ہوٹل دی پناس نے راجدھانی میں اپنے ایک سال پور ے کئے ۔ اس موقع پر ہوٹل منیجر نے ہوٹل کی پہلی سالگرہ کو بڑے ہی تزک واحتشام کےس اتھ منایا ۔ اس
موقع پر ہوٹل کے جنرل منیجر پرنب کمار نے پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم بہت خوش ہورہے ہیں کہ ہوٹل دی پناس نے کامیابی کے ساتھ اپنے ایک سال پورے کرلئے ۔ اس ہوٹل نے بہت ہی کم وقت میں اپنی بہتر اور اعلیٰ سطح کی خدمات کے کی وجہ سے راجدھانی میں اپنی ایک الگ پہنچان بنائی ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ اس ہوٹل کا افتتاح پچھلے سال اٹھائیس فروری کو عزت مآب گورنر ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل نے کیا تھا ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ پچھلے سال ہم نے پانچ فوڈ فیسٹول کا انعقاد کیا ۔

Sunday, 3 February 2013

سائنس/طب/صحت


کمپیوٹر کی کہانی

٭قاضی مشتاق احمد
نیو یارک کی سڑکوں پر رات کے وقت پولیس کوایک کارگلی میں پارک کی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ اپنی گشتی گاڑی کے فون سے تھانے سے کارکا نمبرمعلوم کرتا ہے۔ صرف آدھے منٹ کے اندر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کار کس کے نام پررجسٹرڈ ہے اور یہ گاڑی چوری ہو جانے کی رپورٹ تھانے میں درج ہے۔ یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ گشتی دستہ ایک منٹ کے اندر ہی قانونی کارروائی شروع کردیتا ہے۔بلجیم کے راستے پرایک خطرناک حادثے میں ایک نوجوان مر گیا ہے اس کی لاش اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لئے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ یورپ کے سارے اسپتالوںکو بیک وقت میہا کی جارہی ہے اور فوراً یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ جرمنی کے ایک مریض کو اورلندن کے ایک دوسرے مریض کو بلجیم میں مرنے والے نوجوان کے گردے کام آسکتے ہیں۔ ایک گھنٹے کے اندرہی ایک گردہ جرمنی اوردوسرا لندن ہوائی جہاز کے ذریعہ روانہ ہو جاتا ہے اورزندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا دو مریض نئی زندگی پاتے ہیں۔ لندن کی ایک کانفرنس میں شکاگو کا ایک سائنسداں یکا یک بے ہوش ہوجاتاہے۔ شکاگو کوفوراً فون پرمطلع کیا جاتاہے سائنس داں کے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی پانچ منٹ کے اندر اندر سیکڑوں میل دور سے اس بے ہوش سائنس داں کے بارے میں ساری معلومات مل جاتی ہیں کہ اس کے خون کاگروپ کیا ہے۔ اسے کن دواو¿ں سے الرجی ہے۔ آج تک اسے کون کون سے بیماریاں اور مرض ہوئے ہیں اورسائنس داں کے اسپتال میں داخل ہوتے ہی علاج شروع ہوجاتا ہے۔یہ سب خیالی قصے نہیں بلکہ سچے واقعات ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ یہ سب اس عظیم ایجاد کے کرشمے ہیں جسے کمپیوٹر کہتے ہیں۔ آج دنیا میں جو کمپیوٹر استعمال کئے جارہے ہیں وہ عام طور پرٹی وی کی طرح نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹائپ رائٹر کی طرح ایک کی بورڈ ہوتا ہے جو کمپیوٹر کے پردے پر نظر آنے والی معلومات فوراً ٹائپ کر کے اس کی کاپی مہیا کر سکتا ہے۔ کمپیوٹر کا استعمال صرف جمع تفریق کے لئے نہیں ہوتابلکہ نہایت ہی پیچیدہ حساب حل کرنے کے لئے بھی ہوتاہے۔ اس کی مہیا کی ہوئی معلومات جس طرح بھی چاہیں استعمال ہوسکتی ہے۔الیکٹرانک کمپیوٹر کا استعمال گذشتہ تیس چالیس برسوں سے ہو رہاہے۔ کہا جاتاہے کہ تیس ہزار سال قبل از مسیح چینی اور جاپانی لوگ، ایبکس نامی ایک مشین کا استعمال جمع تفریق کے حساب کے لئے کرتے تھے۔ لکڑی کی چوکھٹ میں تار بٹھائے جاتے تھے اوران تاروں میں رنگین لکڑی کی گوٹیاں رکھی جاتی تھیں۔ 1642میں بلیز پاسکل نامی ایک فرانسیسی نے اس میں اور ترقی کی۔ یہ مشین رکشا یا اسکوٹر کے ’آڈومیٹر‘ کی طرح تھی۔ (یہ میٹر فاصلہ بتاتے ہیں یا رکشا کے موٹر کاکرایہ دکھاتے ہیں۔) 1671میں ولیم لائی نیز نامی ایک جرمن حساب داں نے اسے نیا روپ دیا اور 1694میں اس نے اپنا کام پورا کیا۔ حساب جمع تفریق کرنے والی مشین ایجاد ہوئی۔ لیکن جدید کمپیوٹر کا موجد ہے چارلس بیز جو انگلستان کا رہنے والاتھا اس نے 1822میں ’ڈفرنس انجن‘ کے نام سے کمپیوٹر ایجاد کیا۔ اس کے بعد اس میں مزید اصلاح کر کے اسے انالیٹکل انجن کا نام دیا اور دھیرے دھیرے جدید کمپیوٹر ایجادہوا۔ آج برٹش ایئرویز 70ملکوں میں 650شہروں کی بکنگ آفسوں کا کام کمپیوٹر کی مدد سے کرتی ہے۔ ہر روز چالیس ہزارمسافروں کی بکنگ کا کام ہوتاہے۔ سیکنڈوں میں کمپیوٹر کے ذریعے یہ معلومات مل جاتی ہے کہ ریزرویشن کے لئے کتنی سیٹیں خالی ہیں۔ اب بینکوں میں بھی کمپیوٹر کا استعمال عام ہے۔ صرف بٹن دبا کر یہ دیکھا جاسکتاہے کہ بینک کے کھاتے دار کی دستخط اصلی ہے یا بناوٹی۔ پیسے نکالنے اور جمع کرنے کا حساب بھی کمپیوٹر کرتاہے۔ مقناطیسی چیک کمپیوٹر میں ڈالتے ہی کھاتے دارکے دستخط چیک کرنے کے بعد اس کے حساب میں چیک کی رقم ڈال کر پیسے دینے والی مشین سے مطلوبہ رقم نوٹوں اور سکوں کے ذریعے باہر آجاتی ہے۔


Saturday, 2 February 2013

نوکری/Job


کیریئر


شیئر بازار ۔تابناک مستقبل کا ضامن


فرمان چودھری 
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج کے اس مقابلہ جاتی دور میں ہماری نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔یہ زمینی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوانوں کی ایک معتد بہ تعداد اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاںلے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں تودوسری جانب نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جو مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی پرورش کا بار گراں اپنے کندھوں پر آجانے کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوگیا اور انہیں کسب معاش کے لئے نکلنا پڑا۔ہم نے ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے ’’نوجوانوں کی دنیا‘‘ کے نام سے ایک کالم شروع کیا ہے،تاکہ وہ تھوڑی اور محنت کرکے اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بناسکیں۔ہم اپنے ہرشمارہ میں قلیل مدتی پروفیشنل کورسز کے بارے میں بات کررہے ہیں اور جاب کے متلاشی اور کریئرسازی کے لئے سرگرداںنوجوانوں کوکورس، اس کی افادیت، مطلوبہ تعلیمی لیاقت اور متعلقہ تعلیمی وتربیتی اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کریںگے۔آج ہم جس کورس کے تعلق سے بات کرنے جارہے ہیں،اس کا نام ہے’شیئر بازار‘
عالم کاری کے اس دور میں روزگار کے متعدد نئے شعبے وجود میں آئے ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس میں آپ گھر بیٹھے تجارت کرسکتے ہیں اور اچھی خاصی دولت کما سکتے ہیں۔ اس ے علاوہ آپ ایکسپرٹ بن کر دوسروں کی رہنمائی بھی کرسکتے ہیں، جس سے آپ کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج کیا ہے:
اسٹاک ایکسچینج وہ بازار ہے جہاں بروکرس عام لوگوں اور اداروں کے شیئر خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ہندوستان کا شیئر بازار اس وقت شاندار نتائج دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سرمایہ کار بلکہ کریئر کی تلاش میں سرگرداں نوجوان بھی شیئر بازار کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بنا رہے ہیں۔ ابھی چند دہائیوں قبل تک اس شعبہ میں صرف ممبئی، کولکاتا اور دہلی کے شیئر بازاروں کے ہی تذکرے ہوتے تھے اور آج حال یہ ہے کہ ملک کے ہر بڑے شہر میں شیئر بازار ہے اور ان ہی بازاروں میں اچھی خاصی ٹریڈنگ بھی ہو رہی ہے۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیئر بازار کا مستقبل تابناک ہے۔
شیئر بازار میں کریئر:
شیئر بازار میں آپ اپنے کریئر کو کئی طرح سے بناسکتے ہیں۔ مثلاً ماہر معاشیات، اکاؤنٹینٹ، معاشی تجزیہ کار، انویسٹ انالسٹ، کیپٹل مارکیٹ انالسٹ، فیوچر پلانرس، سیکورٹی انالسٹ اور ایکوٹی انالسٹ وغیرہ۔
شیئر بازار میں سب سے اہم شخص اسٹاک بروکر ہوتا ہے۔ اسٹاک بروکر کمیشن لے کر کسی شخص یا ادارے کے لیے شیئر خریدنے کا کام کرتا ہے۔ عام زبان میں اسے شیئر دلال بھی کہتے ہیں، چونکہ شیئر بازار کی مشکلات کو سمجھنا، اس کی پیش گوئی کرنا اور اس پیش گوئی کی بنیاد پر نفع ونقصان کو ذہن میں رکھ کر خرید و فروخت کرنا آسان کام نہیں ہے، اس لیے شیئر بازار میں ان دلالوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، جو دلال شیئربازار میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو انجام دیتے ہیں ان کی مارکیٹ میں زیادہ مانگ ہوتی ہے۔ چونکہ یہ کام صلاحیت کے ساتھ مہارت بھی چاہتا ہے، اس لیے اچھا بروکر بننے کے لیے دلچسپی اور لگن کے ساتھ ساتھ غیرمعمولی ذہانت کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔
کچھ اسٹاک بروکر نجی گاہکوں کے لیے کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ تو کچھ مختلف اداروں سے وابستہ ہو کر ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایسے شیئر بروکر جو اداروں کے لیے کام کرتے ہیں، انہیں سیکورٹی ٹریڈر بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ بروکر مالی اداروں کے لیے کنسلٹنسی کا بھی کام کرتے ہیں۔ اداروں کے لیے سیکورٹی خریدنے اور فروخت کرنے والے اسٹاک بروکر کمیشن کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ یہی طریقہ نجی گاہکوں کے ساتھ بھی اپنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جو اسٹاک بروکر کسی مالی ادارے کے لیے مشیر کا کام کرتا ہے، اسے ایک متعین تنخواہ ملتی ہے۔ جہاں تک کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ آمدنی کا سوال ہے تو کسی بھی شیئر بروکر کی کم سے کم آمدنی10ہزار روپے فی ماہ سے زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
اسٹاک بروکر کی طرح سیکورٹی انالسٹ جیسے ماہرین کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، کیوںکہ شیئر بازار ہمیشہ ہی منافع کا کار و بار نہیں ہے، اس میں کئی بار نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ سیکورٹی تجزیہ کار دراصل اس رسک فیکٹر کا تجزیہ کرتا ہے، اس لیے اس کی گائڈ لائن پر ہونے والی سرمایہ کاری میں نقصان کے خطرات کم رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے مختلف کمپنیاں جو الگ الگ شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، سیکورٹی تجزیہ کاروں کی خدمات لیتی ہیں۔ یہ سیکورٹی تجزیہ کار اپنے نتیجے نکالنے کے لیے بازار کو اپنی کسوٹی میں الگ الگ طریقے سے کستے ہیں اور بازار میں نفع ونقصان کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ایک عام سیکورٹی انالسٹ کی آمدنی 10سے 15ہزار روپے فی ماہ کم سے کم ہوتی ہے۔ جب کہ زیادہ سے زیادہ آمدنی کی کوئی حد نہیں ہے، جو سیکورٹی انالسٹ جتنا زیادہ صحیح تجزیہ کرتا ہے، اس کی مارکیٹ ویلیو اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔
شیئر بازار کا ایک اور اہم شخص ایکوٹی انالسٹ ہے۔ یہ ہندوستانی کیپٹل مارکیٹ کی ترقی اور بڑھتی مقابلہ آرائی کے سبب پیدا ہوا نیا پروفیشنل ہے۔ ایکوٹی تجزیہ کار کسی شخص یا ادارے کو سرمایہ کاری کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں۔ ایسے وقت جب بازار کی طاقتیں اثردار کردار ادا کر رہی ہوں، یعنی جب بازار بناؤٹی تیزی یا مندی کا شکار ہو، اس وقت ایکوٹی انالسٹ ہی سرمایہ کار کو بتاتے ہیں کہ انہیں سرمایہ کاری کرنی چاہیے یا نہیں۔
شیئر بازار کے دیگر اہم انسانی وسائل میں انویسٹمنٹ مینجمنٹ، سیکورٹی ریپرزینٹیٹو اور اکاؤنٹ ایگزیکٹیو بھی ہیں۔ ان سب کے لیے بھی شیئر بازار کی سمجھ ہونا ضروری ہے۔
کیسے بنیں اسٹاک بروکر:
اسٹاک ایکسچینج کا ممبر بننے کے لیے آپ کو ایک تحریری امتحان اسٹاک ایکسچینج میں سیکورٹی کے طور پر کچھ رقم جمع کرانا ہوتی ہے۔ آپ چاہیں تو اسٹاک بروکرنگ کمپنی کے ایجنٹ یا ڈیلر کے طور پر کام کر کے تجربہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ بروکنگ کرنے والی بڑی کمپنیاں فائنانس میں مہارت رکھنے والے ایم بی اے ڈگری والوں، چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس اور چارٹرڈ فائنانس انالسٹ کو اولیت دیتی ہیں۔ ایک اسٹاک بروکر کے خاص کاموں میںشیئر بازار کی شرائط کو آسان کرنا اور اپنے گاہک کے لیے تجارتی سرگرمیاں انجام دینا وغیرہ ہیں۔
اسٹاک بروکر ایک ڈیلر اور ایک مشیر کے طور پر کام کرسکتا ہے، جو اپنے علم کی بنیاد پر گاہکوں کو نئے شیئروں کے مستقبل کے بارے میں پوری معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ بازار کے حالات کا تجزیہ کرتا ہے اور اس تجزیہ کی بنیاد پر اپنے گاہک کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ عام طور سے پروفیشنل اہلیت کے ساتھ ایم بی اے اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگری والا کوئی بھی امیدوار اس شعبہ میں اپنا کریئر بناسکتا ہے۔ اس شعبہ میں آمدنی کے لامحدود موا قع ہیں۔
اسٹاک بروکنگ کے ادارے:
1-     ممبئی اسٹاک ایکسچینج ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ
اسٹاک ایکسچینج بھون، فورٹ، ممبئی
2-     انسٹی ٹیوٹ آف فائنانشیل اینڈ انویسٹمنٹ پلاننگ
بی/303وینٹیکس وکاس، اندھیری، ممبئی
3-     انسٹی ٹیوٹ آف کمپنی سکریٹریز آف انڈیا
نئی دہلی
4-     انسٹی ٹیوٹ آف کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ
1965آریہ سماج روڈ، قرول باغ، نئی دہلی-5
5-     آل انڈیا سینٹر فار کیپٹل مارکیٹ اسٹیڈیز اینڈ ریسرچ
ناسک-422005

بشکریہ چوتھی دنیا

کیسے پائیں اپنی پسندیدہ ملازمت

کیری لوئے وینتھل میسی

امریکہ کے یونیورسٹی کیریئر مشیر کہتے ہیں کہ جلد آغاز کریں اور اچھی طرح تیاری کریں۔


ٹرووڈی اسٹین فیلڈ پر روزگار کے خواہش مند ۳۸۰۰۰ افراد کی ذمہ داری ہے اور وہ ان کے ساتھ میل جول کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔
نیو یارک یونیور سٹی میں کیرئیر ڈیولپ منٹ کے واشر مین مرکز میں طلبہ و طالبات کے امور کی اسسٹنٹ وائس پریسیڈنٹ اور ایگز یکٹو ڈائریکٹر اسٹین فیلڈ اپنے طلبہ و طالبات کو اس تعلیمی ادارے میں داخلے کے پہلے دن سے اپنی عملی زندگی کی تیاری شروع کر نے کا مشورہ دیتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’’ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کیرئیر بنانے کی تیاری جس قدر جلد شروع کی جائے اچھی ہے ۔‘‘ جس دن سے طلبہ و طالبات یونیور سٹی آنا شروع کر تے ہیں اسی دن سے واشر مین سینٹر عملی زندگی میں کامیابی کیلئے اقدامات کے سلسلے میں ان کی رہنمائی کر نے لگتا ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ ممکنہ روزگار فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کیسے ربط ضبط کیا جائے اور کس طرح انٹر ویو کا مرحلہ سر کیا جائے۔
اسٹین فیلڈ کہتی ہیں کہ کیرئیر کی تیار ی میں ابتدائی زور امریکہ کے کالجوں میں عملی زندگی کے متعدد ممتاز کیریئر مراکز کے طرز عمل کی شناخت ہے۔ طلبہ و طالبات کیلئے جن سر گرمیوں کا اہتمام کیا جاتاہے ان میں ہر صورت حال میں نیٹ ورکنگ ،قبولیت ،سماجی طور طریقوں کی تر بیت اور عشایئے شامل ہیں اور طلبہ و طالبات کو اس کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ مختلف صورتوں میں ممکنہ آجرین کے ساتھ بات کر نے کی مشق مکمل کر لیں۔ انہیں کسی مخصوص عشایئے کی فضا میں انٹر ویو کے فن کی نزاکتیں سکھائی جاتی ہیں یا اپنی اہلیتوں کو ساٹھ سے نوے سکنڈ کے اندر مختصراًپیش کر نے کا ہنرسکھایا جاتا ہے۔ 
Photograph © Getty Images

آجر کمپنی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔
رسمی لباس زیب تن کریں اورجسمانی حرکات و سکنات مثبت رکھیں۔
اپنے آپ کو مثبت طور پر پیش کریں۔
جب کمزوریوں کی بات کررہے ہوں تو بتائیں آپ اس پر کیسے قابو پائیں گے۔ انٹرویو لینے والے کی جانب دیکھ کر بات کریں۔
انٹرویو لینے والے سے پوچھنے کے لئے سوالات تیار کریں۔ 
© گیٹی امیجز
انٹر ویو کی تیاری
امیدوار کوجس صنعت سے دلچسپی ہو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا بہتر ہے۔اگر انٹرویو کا موقع ہے اور صحیح معنوں میں اس انٹر ویو کا جس میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہو، تو اس کاسامنا کر نے سے قبل انٹر ویو کے ہنر کی مشق کے بارے میں اسٹین فیلڈاس بات پر یقین کرتی ہیں کہ عملاً جتنی معلومات حاصل کی جا سکے اور جتنی مشق کی جا سکے اتنا اچھا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس یونیور سٹی میں طلبہ و طالبات کو یونیور سٹی میں باضابطہ ملازمت کر نے والے اسٹاف کیرئیر صلاح کاروں ، رضاکار آجرین اور اس مرکز سے فارغ ہو نے والے طلبہ و طالبات کے ساتھ مشقی انٹر ویو کا موقع بھی پیش کیا جاتاہے۔
اسٹین فیلڈ نے بتایا کہ یہ( مشقی انٹر ویو )طلبہ و طالبات کو حقیقی معنو ں میں شدت سے مشورہ دینے کا ایک موقع ہے۔انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے اندر بہتری لانے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد ہم یہ دیکھنے کیلئے آگے کے اقدامات بھی کرتے ہیں کہ وہ خود کو بہتر بنانے کیلئے صحیح سمت میں قدم بڑھا رہے ہیں یا نہیں۔
نیو یارک سٹی میں فور دھم لا اسکول کے مفاد عامہ رسورس سینٹر کے اسسٹنٹ ڈین ٹام شیون ہر نے بتایا کہ وہ اکثر( مشقی) انٹر ویو میں آنے والے طلبہ اور طالبات کو ایسے ہی مشورے دیتے ہیں کہ: آپ اپنے کو مزید بہتر بنائیے۔ شیون ہر نے کہا کہ’’ میں لوگوں کو یہ بتانے میں بہت وقت صرف کر تا ہوں کہ انٹر ویو میں خود نمائی ان کا اپنا کام ہے۔ آپ کو خود یہ کام کر نا ہے ، خودسر ہو نا ،بے خوف او ر اپنے آپ کو فروغ دینے والابنا کر پیش کرنا ہے کیوں کہ انٹر ویو لینے والا نہ صرف اس کی امید کر تا ہے بلکہ آپ سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ آپ یہ سب کچھ کریں گے۔ ‘‘
شیون ہر کہتے ہیں کہ آپ اپنے آپ کو آگے ضرور بڑھائیے لیکن اس عمل میں بھی اپنی حقیقی شخصیت پیش کیجئے۔ کسی بھی حال میں انٹر ویو میں جھوٹ نہ بولئے بلکہ اپنی شخصیت ،ہنر مندی اور تجربے کے مثبت پہلوؤں پرپورا زور ڈالئے۔
اگر کمزوری یا چیلنج کی بات کر نی ہے تو یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ انٹر ویو لینے والا اس کی امید کرے گا کہ اس کمزوری یا چیلنج جیسی رکاوٹ پر قابو پانے کا آپ اپنا طریقۂ کار بھی بیان کریں گے۔
مشقی انٹر ویو سے روزگار کے خواہش مند نو جوانوں کو اپنی جسمانی حرکات وسکنات کو چست درست بنانے کا موقع بھی ملتا ہے۔ شیون ہر کا مشورہ ہے کہ روایتی اور رسمی پوشاک کے سلسلے میں غلطی نہ کی جائے اور جسم کی حرکات و سکنات کو ہمیشہ مثبت رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ بہت اہم ہے کہ ایک خاص انداز سے بیٹھا جائے اور انٹر ویو لینے والوں سے آنکھیں چار رکھی جائیں کیوں کہ اس سے اس پوزیشن میں اور میٹنگ میں رہنے کے سلسلے میں آپ کے جوش ،اعتماد اور دلچسپی کا مظاہرہ ہو تا ہے ۔‘‘
اسٹین فیلڈ اور شیون ہر دونوں اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جس تنظیم میں نوکری تلاش کی جائے اس کے بارے میں تحقیق کر لینے کی اہمیت کو سمجھا جائے۔ بیشتر صورتوں میں اس ادارے کی ویب سائٹ پر تمام بڑی ترغیبات ، مقاصد ، داخلی ساخت اور نمایاں منصوبوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کردی جا تی ہیں : یہ وہ مواد ہے جس سے انٹر ویو دینے والوں کو اس عہدے کیلئے ،جس کی درخواست دی گئی ہو،اپنی قابلیت ظاہر کرنے اور اپنی صلاحیت کو دکھانے کا سامان حاصل ہو جاتا ہے۔
آخر کار اس طرح کا انٹر ویو امید واروں کویہ یقینی بنانے کاموقع دیتا ہے کہ جس عہدہ کیلئے انہوں نے درخواست دی ہے وہ عہدہ ان کی خواہش اور اہلیت دونوں اعتبار سے موزوں ہے۔ اسٹین فیلڈ کی سفارش یہ ہے کہ ایسے کسی موقع کے بارے میں مزید واقفیت حاصل کر نے کے واسطے انٹر ویو دینے والے کو چاہئے کہ وہ اپنے سوالات کی فہرست تیار کر لے۔ اسٹین فیلڈ فوراً ہی ما بعد کی کارروائی کی پر زور سفارش کر تی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’جیسے ہی آپ انٹر ویو د ے کر باہر نکلیں اس انٹر ویو میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے ان میں سے ہر کسی کو ایک فکر انگیز ای میل بھیجیں۔ اپنے بارے میں کچھ ایسی دلچسپ باتیں بتائیں جن کی بنیاد پر آپ کے خیال میں آپ اس عہدے کیلئے پوری طرح مطابقت رکھنے والے امید وار ہیں۔
نیٹ ورکنگ کی ضرورت
اسٹین فیلڈ کا خیال ہے کہ ان کی یونیور سٹی میں یہ جو کیرئیر سینٹر چل رہا ہے اس کا ماڈل خاص کر امریکہ ،آسٹریلیا ، بر طانیہ اور جرمنی کے باہر ابھی تک پوری طرح صورت گر نہیں ہو سکا ہے۔ کوئی طالب علم ہو یا نو جوان فارغ اسے کسی عملی زندگی کیلئے فراہم کئے گئے وسائل تک بہ آسانی رسائی حاصل نہیں ہو تی تو بھی مایوس ہو نے کی ضرورت نہیں۔
انٹرنیٹ اورخاص کر انٹر نیٹ پر دستیاب فیس بک اور لنکڈ ان جیسے سماجی ذرائع ابلاغ کی سائٹوں پر اپنی اپنی دلچسپی کے شعبوں میں لوگوں کو ممکنہ روابط تک بہ آسانی رسائی حاصل ہے۔ ملازمت کے خواہش مند امید وار چاہیں تو اپنے طور پر اپنی یونیور سٹی سے فارغ طلبہ و طالبات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جن کے ذریعہ انہیں ایسے گرو اور صلاح کار حاصل ہو سکتے ہیں جو روزگار کی تلاش میں ان کی مدد کر سکیں اور انہیں انٹر ویو کی مشق سے گزار سکیں۔ اسی طرح کچھ غیر منافع بخش تنظیمیں یا سرکاری ایجنسیاں ایسی ہیں جو روزگار کے وسائل کی پیشکش کر سکتی ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ یہ تلاش مشکل ہو لیکن اسٹین فیلڈ اور شیون ہر دونوں ہی ملازمت کے خواہش مندوں کومشورہ دیتے ہیں کہ وہ مسلسل کوشش کر تے رہیں اور اپنی تلاش میں اختراعیت کی جرأت کریں۔
شیو ن ہر کا کہنا ہے کہ ’’ آپ کے ذہن میں آپ کی پہلی پوزیشن اور اس کے کسی خاص ڈھنگ سے آپ کے کیریئر کو آگے بڑھانے میں مدد گار ہونے کی جو نوعیت ہو ،ویسی ہی پہلی پوزیشن اور مددگار نوعیت آپ کو حاصل ہو بھی جائے یہ ضروری نہیں لیکن ایسی بہت سی صورتیں ہیں جن میں آپ کو اپنے خواب کی تعبیر نظر آسکتی ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آن لائن تجارت کی زمام نئے ہاتھ میں

مائیکل گیلنٹ 

سوشل میڈیا مینیجر آن لائن برادریوں میں اپنی کمپنیوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے موجودہ دور میں یہ صورتحال ڈرامائی طور پر بدل گئی ہے اور اب کمپنیوں کو ٹوئٹ، فیس بک پوسٹ اور دیگر مواصلات کا جواب دینا پڑتا ہے۔یہ سوالات سماجی ذرائع ابلاغ کے وسائل کے متواتر پھیلتے ہوئے نظام کے توسط سے ان کے پاس آتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام چیزوں سے وہ کیسے نپٹتی ہیں؟ اس مرحلہ میں سوشل میڈیا مینیجر کی خدمات کی ضرورت پڑتی ہے۔
Photograph courtesy Beth LaPierreچیف لزننگ افسر 

دنیا کی اولین چیف لزننگ افسروں میں سے ایک بیتھ لا پیرے سے ملیں گو کہ اب وہ برانڈ نیٹ ورکس میں اسٹریٹیجسٹ اور سوشل میڈیا ماہر کے طور پر کام کررہی ہیں لیکن بیتھ لا پیرے نسسے روچسٹر، نیویارک میں ایسٹ مین کوڈک کے لئے دو برس چیف لزننگ افسر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس تجربے کے بارے میں گفتگو کی جو یہاں پیش ہے۔

چیف لزننگ افسر کی اصطلاح کہاں سے آئی؟
چیف لزننگ افسر (سی ایل او) کی اصطلاح میرے سابق باس اور گرو ٹام ہوۂن نے رائج کی۔ ایسٹ مین کوڈک ایسی ابتدائی کمپنیوں میں سے ایک ہے جن کے پاس ایک چیف بلاگ نویس ہوا کرتا تھا۔ ہم لوگ فیس بک پر ٹوئٹر پر اور سماج میل جول کے دیگرپلیٹ فارم پر ڈھیر ساری باتیں کرتے تھے اور چیزیں پبلش کرتے تھے۔ جب بات چیت زیادہ بڑھ گئی تو ہمیں لگا کہ ان مذاکرات کی پیمائش، نگرانی اور تحقیق پر کل وقتی توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

سی ایل او کی حیثیت سے آپ کی ذمہ داریاں کیا تھیں؟
بطور سی ایل او میری ذمہ داری ہر مہینے کوڈک کے بارے میں صارفین اور تجار تی حلقوں میں ۳۰۰,۰۰۰سے زائد نئے تذکروں کو سنبھالنے کے لئے حکمت عملی وضع کرنا، طریقے بنانا اور ٹکنالوجی استعمال کرنا تھا۔اس کام میں اس سوشل میڈیا ذرائع کو محفوظ کرنا اس کی درجہ بندی اور تجزیہ کرنا شامل تھا تاکہ مصنوعات کو بہتر بنایا جائے، گاہک کا تجربہ بھی بہتر کیا جائے، معاملات کی نشاندہی کی جائے ، خامیاں دور کی جائیں اور برانڈ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ بیداری میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔

آپ کو دنیا کی پہلی سی ایل او ہونے پر کیسا محسوس ہوتا ہے؟ اور اس اعزاز کو برقرار رکھنے کے لئے آپ کو کن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا اور کیا انعام ملا؟
یہ کمال کی چیز ہے۔جیسا کہ ہم میں سے بیشتر ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو ابتدائی دنوں میں (سوشل میڈیا میں) آجاتے ہیں، سب سے بڑا چیلنج بیداری کا تھا۔ہمارے صارفین اور گاہکوں کی بیداری۔ حقیقت میں ہویہ رہا تھا کہ ہم لوگ ان کی باتیں سن رہے تھے اور ان سے جو معلومات حاصل ہورہی تھیں ان سے فائدہ اٹھاکر اپنی مصنوعات کو بہتر بنا رہے تھے اور ٹیم میں کام کرنے والوں کو اس سے واقف کرا رہے تھے جو اس وقت تک سوشل میڈیا کے زبردست امکانات سے آگاہ نہیں تھے۔

سی ایل او بننے کے خواہشمندوں کے لئے آپ کا کیا مشورہ ہے؟
سی ایل او کی پوزیشن کے لئے ۴۰۰ سے زیادہ درخواست دہندگان میں سے میرا جو انتخاب ہوا اس کے بہت سے اسباب میں ایک سبب یہ ہے کہ میں نے برانڈ اسٹریٹیجی اور کمیو نکیشنس میں کافی اچھی تعلیم حاصل کی تھی اور ڈیجیٹل کام کاج میں مجھے گہری مہارت حاصل تھی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کے پاس معاملات سے تعلق رکھنے والے مختلف گروپوں جیسے کہ تعلقات عامہ، بازاریابی اور افسروں کے ساتھ موثر طریقے سے بات چیت کرنے کی اہلیت ہو۔اس شعبے میں ڈیزائن پر اچھی نگاہ اور بنیادی ایچ ٹی ایم ایل۔ ایس کیو ایل کا تجربہ اور دیگر ترقیاتی سمجھ اور تجربہ بھی بڑی حصولیابی ہے۔

کیا سی ایل او کی حیثیت سے آپ کے تجربے نے دوسرے کاروبار میں ایک رجحان پیدا کرنے میں مدد دی؟
مجھے لگتا ہے کہ ایسا ہوا۔ صارفین کی ایک آواز ہوتی ہے اور سماجی میل جول کے میڈیا کی بدولت انہیں اب یہ معلوم ہے کہ ان کے پاس اپنی بات کہنے کا ایک واسطہ ہے۔ فورچون میگزین کی سالانہ فہرست میں درج ۵۰۰ بڑی امریکی کمپنیوں میں سے بیشتر کے پاس اس طرح کے کام کے لئے ذمہ دار ایک لزننگ یا انگیج منٹ ٹیم ہے۔ ۔ مائیکل گیلنٹ

نامیاتی مشروبات فروخت کرنے والی ایک نئی اور تیزی سے پھیلتی ہوئی امریکی کمپنی’ آنسٹ ٹی ‘کے سوشل میڈیا مینیجر جارڈن میچل نے بتایا ’’سوشل میڈیا مینیجر ایک ایسا اہم پیشہ ور ہے جو کسی خاص برانڈ کے بارے میں انٹرنیٹ پر آنے والے تمام مراسلات کا جواب دیتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے بتایا ’’جو لوگ وہ کام کرتے ہیں یا جو میں کررہا ہوں وہ اپنی کمپنیوں کی نیک نامی کو بچانے میں سرگرم رہتے ہیں۔ یہاں آنسٹ ٹی میں ہم لوگ گاہکوں کو نہ صرف کیرانہ کے سامان کی خریداری میں شامل کرتے ہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی میں بھی ان کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں۔ ‘‘

سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ
گاہکوں کو مشغول کرنے کے لئے جارڈن میچل کو جو کام کرنا پڑتا ہے وہ کھانے پکانے کے بارے میں اشارے، چست درست رہنے کے گربتانے ، تحریک بخش اقوال پوسٹ کرنے ، کسی خاص شے سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور کوئی دوسری ایسی چیز بھی پوسٹ کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جس سے گاہک کو اس برانڈ کے طرز حیات کا لطف اٹھانے کا بھی موقع ملے۔‘‘ کام کے دن کا بیشتر حصہ فیس بک اور ٹوئٹر پر گزر جاتا ہے جس کے دوران کچھ اصل متن پوسٹ کرنا پڑتا ہے اور اپنی کمپنی کی مصنوعات اور واقعات کے بارے میں گاہک کے ساتھ بات چیت میں بھی مصروف رہنا پڑتا ہے ۔جیسا کہ انہوں نے ہنستے ہوئے بتایا ’’ہم لوگوں سے ہر طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’میں فٹنس تربیت کاروں، بلاگ نویسوں اور ماہرین تغذیہ کو بھی سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مشغول کرنے پر توجہ دیتا ہوں۔ہم لوگ ایسے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں جو اپنے اپنے شعبے میں قائد اور محرک ہیں اور جو ہوسکتا ہے کہ ہمارے برانڈ میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ہم لوگ پوری امید کے ساتھ یہ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں اپنے اثر میں لیکر’ آنسٹ ٹی ‘کے بارے میں جان پہچان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ بات کرنے پر مائل کریں۔‘‘

جارڈن میچل اس طرف اشارہ کرنے میں عجلت سے کام لیتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا انتظام صرف ہر منٹ ٹوئٹ کرنے یا انٹرنیٹ پر اپنی مصنوعات کے بارے میں ممکنات پر شورو غل مچانے سے مختلف کام ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم لوگ گاہکوں اور بلاگ نویسوں کے ساتھ کچھ لو کچھ دو کا تعلق بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ہماری مصنوعات کے بارے میں تبصرہ لکھنا چاہتا ہے تو ہم اسے ضروری اشیا فراہم کرتے ہیں۔ ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو زیادہ صحیح ڈھنگ سے پیش کرسکیں۔ اور ہمارے نام کو شامل کرکے جو عوامی بات چیت ہوسکتی ہے اس میں ہم بھی شریک ہوں۔‘‘

سوشل میڈیا بطور کیریئر
مقامی کتب خانوں سے لیکر کثیر قومی کمپنیوں تک تمام تنظیمیں زیادہ تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ پر مشغول ہورہی ہیں۔ میچل نے بتایا ’’جو تنظیم آنے والے دنوں کا منظر نامہ دیکھ رہی ہے اور سوشل میڈیا کے اثرات کو سمجھتی ہے اور اس سے بھی واقف ہے کہ ان اثرات کے ساتھ اس پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ سوشل میڈیا کا انتظام کرنے والے اسٹاف پر پیسے خرچ کرتی ہے۔‘‘انہوں نے مزید اشارہ کیا کہ سوشل میڈیا کے لئے کام کرنے والے پیشہ ور کارکن ایک دوسرے سے رابطہ میں اور کچھ سیکھتے رہتے ہیں۔ 

Photograph courtesy Honest Teaسوشل مینیجمنٹ کے اندر

جا رڈن میچل اوردیگر سوشل میڈیا مینیجروں کے لئے کام کے اوقات اکثر کام کاج کے معمول کے گھنٹوں سے فاضل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’سوشل میڈیا میں کام کرنا ایک جاری عمل اورمکالمہ ہوتا ہے اس کی بنیاد منصوبے پر ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کبھی بند نہیں ہوتا۔ اس لئے اکثر اختتام ہفتہ کے دنوں میں مکالمے کو جاری رکھنا پڑتا ہے اور خاص طور پر اگر یہ کسی گاہک کی ضرورت کی تکمیل سے تعلق رکھتا ہو تو ضرور رکھنا پڑتا ہے۔ ‘‘

میچل نے اپنے موبائل فون پر ایک خصوصی نوٹی فکیشن سٹ اپ لگا رکھا ہے۔ جو انہیں ان پیغامات کے بارے میں باخبر کرتا ہے جو پیغامات اس وقت آرہے ہوں جب وہ دفتر میں نہ ہوں۔ انہوں نے بتایا ’’جب مجھے ایسا کوئی نوٹی فکیشن ملتا ہے کہ ٹوئٹ پر یا فیس بک پر کچھ ایسا آیا ہے جو قابل اعتراض ہے یا جس کا جواب دینا ضروری ہے تو میں فوراً اس کا جواب دینے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں اور یہ نہیں دیکھتا کہ تب کیا وقت ہو رہاہے۔‘‘

تنخواہوں سے متعلق ویب سائٹ payscale.com میں سوشل میڈیا مینیجروں کی سالانہ تنخواہ امریکہ میں ۳۰,۰۰۰ڈالر سے ۷۰,۰۰۰ڈالر تک بتائی گئی ہے۔ جبکہ ایک اور ویب سائٹ simplyhired.com پر اوسط تنخواہ۵۷,۰۰۰ڈالربتائی گئی ہے۔
۔ مائیکل گیلنٹ 
ہوسکتا ہے کہ کام سے متعلق دیگر خصوص ضروری باتیں مختلف کمپنیوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہوں لیکن کوئی شخص سوشل میڈیا کے انتظام کے لئے کسی عہدہ کی تلاش میں ہے تو اس کے پاس بیچلرس ڈگری کا ہونا لازمی ہے۔میچل نے کہا ’’ویڈیو فوٹو گرافی اور فیس بک اور ٹوئٹر کے تحلیل و تجزیہ کا عمل بھی اہم ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ آپ صرف ان آلات سے واقف نہ ہوں بلکہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں ان کا استعمال بھی کررہے ہوں۔ سوشل میڈیا کا انتظام کار ہونا صرف سوچنے سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سوچیں کہ میں وہاں صرف ٹوئٹ کروں گا اور مجھے اس کے لئے پیسے ملیں گے۔‘‘

اگر آپ سوشل میڈیا مینیجر کی حیثیت سے اپناکیریئر بنانا چاہتے ہیں تو میچل کا مشورہ یہ ہے کہ آپ ایسے برانڈ اور تنظیم کے بارے میں سوچیں جن کو آپ پسند کرتے ہیں اور جن کے کام کرنے کے طریقے کا آپ نے مطالعہ کیا ہے۔انہوں نے سوال کیا ’’کونسی چیز ان کے کام آتی ہے یا کسی کسٹمر یا حمایتی کے طور پر آپ کس چیز سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہ سننے میں ہوسکتا ہے کہ سیدھا سادہ لگے ، بے لطف لگے لیکن اپنے آپ کو اس جگہ پر رکھنا اور سچ مچ اس کے بارے میں سوچنا کہ کونسی چیز آپ کو متوجہ کرتی ہے، آپ کے لئے بہت کارآمد ثابت ہوگا‘‘۔ میچل کے لئے اور دیگر کمپنیوں میں ان کے ہم رتبہ بہت سے دوسرے لوگوں کے لئے سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ کا انتظام ایک انتہائی مزیدار پیشہ ہے جس کا مستقبل بہت روشن ہے۔انہوں نے کہا ’’ لوگوں نے اب سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ کی بنیادی باتوں کو اور اس وسیلہ کے معتبر اثرات کو سمجھنا شروع کیا ہے۔ اس وقت پہلے کے مقابلے میں لوگ ایسا سمجھنے 
لگے ہیں کہ کوئی برانڈ صرف صرفے کا نہیں بلکہ طرز حیات کا معاملہ ہے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو اب مسلسل پھول پھل رہا ہے۔‘‘
یہ مضمون اسپین سے ماخوذ ہے 

Friday, 1 February 2013

فلمی ستارے/سلیبریٹز/کھیل/کھلاڑی۔


میں نے کہا تھا پرینکا سٹار بنے گی: گوندا


گوندا اور پرینکا کی آٹھ سال پرانی فلم ریلیز ہونے والی ہے

بالی وڈ کے معروف اداکار گوندا آٹھ سال قبل پرینکا چوپڑہ کے ساتھ ایک فلم میں آئے تھے جس کا نام تھا 'دیوانہ میں دیوانہ'۔ کسی سبب وہ فلم ریلیز نہ ہو سکی۔ بہر حال اب وہ فلم ریلیز کی جا رہی ہے۔
اس موقعے پر گوندا نے کہا کہ جب فلم کے ڈائرکٹر کے سی بوکاڈیا نے انھیں پہلی بار فون پر بتایا تھا کہ فلم کی ہیروئن پرینکا ہیں تو انھوں نے کہا تھا کہ پرینکا بالی وڈ میں چھا جائیں گی۔
گوندا کی یہ بات سچ ثابت ہو چکی ہے کیونکہ آٹھ سال بعد آج پرینکا چوپڑہ کا نام بالی وڈ کی بہترین اداکاراؤں میں لیا جاتا ہے۔

پہلے مضمون پڑھو، پھر سوال کرو: شاہ رخ


شاہ رخ نے کہا کہ شہرت کی قیمت تو چکانی پڑتی ہے

ایک معروف فلمی ستارہ ہونے کی قیمت سب کو چکانی پڑتی ہے۔ یہ بات کہی شاہ رخ خان نے۔ حال ہی میں انھوں نے ایک میگزن کے لیے جو مضمون لکھا ہے اس کے سبب وہ ذرا مشکل حالات میں پھنس گئے ہیں۔
شاہ رخ خان نے اپنی مسلم شناخت پر جو لکھا اسے لوگوں نے ذرا مختلف نظریے سے دیکھا اور اسی وجہ سے کئی اطراف سے اس مضمون کے خلاف آواز اٹھنے لگی۔
شاہ رخ خان نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جو کچھ لکھا اس میں ایسا کچھ بھی نہیں جیسا کہ لوگ سمجھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر تنقید کی کہ لوگ ان کے مضمون کو بغیر پڑھے ہی سوال اٹھا رہے ہیں۔

مائیکل جیکسن ، سب سے زیادہ آمدنی والے فنکاروں میں تاحال سرفہرست
واشنگٹن

مائیکل جیکسن ان فنکاروں میں شامل ہیں جن کا جسم توابدی نیند سوجاتا ہے لکین ان کا فن برسوں زندہ رہتا ہے۔ مائیکل جیکسن کو اس دنیا سے گزرے دو برس سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن دنیا آج بھی ان کے فن کی معترف ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ مائیکل جیکسن رواں سال بھی اس دنیا میں اپنا وجود نہ رکھنے کے باوجود سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے فنکاروں میں سر فہرست ہیں۔

دنیا بھر کی شخصیات کے مالیاتی اموراورا عداد وشمارکا سالانہ جائزہ لینے والی شہرہ آفاق ویب سائٹ ”فوربس ڈاٹ کام“ کے مطابق مائیکل جیکسن کی کامیاب ترین میوزک البم ”تھریلر“ سے گزشتہ سال 17کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ یہی البم انہیں سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے پاپ میوزک کے فنکاروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر برقرار رکھے ہوئے ہے ۔

”فوربس ڈاٹ کام“ نے ماضی کے انتہائی مشہوراور حالیہ برسوں میں انتقال کرجانے والے فنکاروں کی ایک فہرست ترتیب دی ہے جن کی مختلف البمز نے اکتوبر 2010ء سے اکتوبر2011ء کے دوران کم از کم ساٹھ لاکھ ڈالرتک کی آمدنی حاصل کی ہے۔

اس فہرست میں ”کنگ آف پوپ “مائیکل جیکسن پہلے نمبر پر رہے جبکہ ”کنگ آف روک این رول“ کا خطاب رکھنے والے سنگر ایلویس پریسلے دوسرے نمبر پر ہیں ۔ایلویس پریسلے کی المبز سے پانچ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوئی، جبکہ مارلن منرو 2 کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی آمدنی کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہیں۔ چوتھے نمبر پر رہے چارلس شلز ،جن کی آمدنی ڈھائی کروڑ ڈالر رہی۔

مارچ 2011ء میں انتقال کرجانے والی الزبتھ ٹیلر”وائٹ ڈائمنڈ“سے حاصل ہونے والی ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر کی آمدنی کے ساتھ پانچویں نمبر پرہیں