کیری لوئے وینتھل میسی
امریکہ کے یونیورسٹی کیریئر مشیر کہتے ہیں کہ جلد آغاز کریں اور اچھی طرح تیاری کریں۔
ٹرووڈی اسٹین فیلڈ پر روزگار کے خواہش مند ۳۸۰۰۰ افراد کی ذمہ داری ہے اور وہ ان کے ساتھ میل جول کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔
نیو یارک یونیور سٹی میں کیرئیر ڈیولپ منٹ کے واشر مین مرکز میں طلبہ و طالبات کے امور کی اسسٹنٹ وائس پریسیڈنٹ اور ایگز یکٹو ڈائریکٹر اسٹین فیلڈ اپنے طلبہ و طالبات کو اس تعلیمی ادارے میں داخلے کے پہلے دن سے اپنی عملی زندگی کی تیاری شروع کر نے کا مشورہ دیتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’’ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کیرئیر بنانے کی تیاری جس قدر جلد شروع کی جائے اچھی ہے ۔‘‘ جس دن سے طلبہ و طالبات یونیور سٹی آنا شروع کر تے ہیں اسی دن سے واشر مین سینٹر عملی زندگی میں کامیابی کیلئے اقدامات کے سلسلے میں ان کی رہنمائی کر نے لگتا ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ ممکنہ روزگار فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کیسے ربط ضبط کیا جائے اور کس طرح انٹر ویو کا مرحلہ سر کیا جائے۔
اسٹین فیلڈ کہتی ہیں کہ کیرئیر کی تیار ی میں ابتدائی زور امریکہ کے کالجوں میں عملی زندگی کے متعدد ممتاز کیریئر مراکز کے طرز عمل کی شناخت ہے۔ طلبہ و طالبات کیلئے جن سر گرمیوں کا اہتمام کیا جاتاہے ان میں ہر صورت حال میں نیٹ ورکنگ ،قبولیت ،سماجی طور طریقوں کی تر بیت اور عشایئے شامل ہیں اور طلبہ و طالبات کو اس کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ مختلف صورتوں میں ممکنہ آجرین کے ساتھ بات کر نے کی مشق مکمل کر لیں۔ انہیں کسی مخصوص عشایئے کی فضا میں انٹر ویو کے فن کی نزاکتیں سکھائی جاتی ہیں یا اپنی اہلیتوں کو ساٹھ سے نوے سکنڈ کے اندر مختصراًپیش کر نے کا ہنرسکھایا جاتا ہے۔
آجر کمپنی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔
رسمی لباس زیب تن کریں اورجسمانی حرکات و سکنات مثبت رکھیں۔
اپنے آپ کو مثبت طور پر پیش کریں۔
جب کمزوریوں کی بات کررہے ہوں تو بتائیں آپ اس پر کیسے قابو پائیں گے۔ انٹرویو لینے والے کی جانب دیکھ کر بات کریں۔
انٹرویو لینے والے سے پوچھنے کے لئے سوالات تیار کریں۔
© گیٹی امیجز
انٹر ویو کی تیاری
امیدوار کوجس صنعت سے دلچسپی ہو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا بہتر ہے۔اگر انٹرویو کا موقع ہے اور صحیح معنوں میں اس انٹر ویو کا جس میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہو، تو اس کاسامنا کر نے سے قبل انٹر ویو کے ہنر کی مشق کے بارے میں اسٹین فیلڈاس بات پر یقین کرتی ہیں کہ عملاً جتنی معلومات حاصل کی جا سکے اور جتنی مشق کی جا سکے اتنا اچھا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس یونیور سٹی میں طلبہ و طالبات کو یونیور سٹی میں باضابطہ ملازمت کر نے والے اسٹاف کیرئیر صلاح کاروں ، رضاکار آجرین اور اس مرکز سے فارغ ہو نے والے طلبہ و طالبات کے ساتھ مشقی انٹر ویو کا موقع بھی پیش کیا جاتاہے۔
اسٹین فیلڈ نے بتایا کہ یہ( مشقی انٹر ویو )طلبہ و طالبات کو حقیقی معنو ں میں شدت سے مشورہ دینے کا ایک موقع ہے۔انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے اندر بہتری لانے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد ہم یہ دیکھنے کیلئے آگے کے اقدامات بھی کرتے ہیں کہ وہ خود کو بہتر بنانے کیلئے صحیح سمت میں قدم بڑھا رہے ہیں یا نہیں۔
نیو یارک سٹی میں فور دھم لا اسکول کے مفاد عامہ رسورس سینٹر کے اسسٹنٹ ڈین ٹام شیون ہر نے بتایا کہ وہ اکثر( مشقی) انٹر ویو میں آنے والے طلبہ اور طالبات کو ایسے ہی مشورے دیتے ہیں کہ: آپ اپنے کو مزید بہتر بنائیے۔ شیون ہر نے کہا کہ’’ میں لوگوں کو یہ بتانے میں بہت وقت صرف کر تا ہوں کہ انٹر ویو میں خود نمائی ان کا اپنا کام ہے۔ آپ کو خود یہ کام کر نا ہے ، خودسر ہو نا ،بے خوف او ر اپنے آپ کو فروغ دینے والابنا کر پیش کرنا ہے کیوں کہ انٹر ویو لینے والا نہ صرف اس کی امید کر تا ہے بلکہ آپ سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ آپ یہ سب کچھ کریں گے۔ ‘‘
شیون ہر کہتے ہیں کہ آپ اپنے آپ کو آگے ضرور بڑھائیے لیکن اس عمل میں بھی اپنی حقیقی شخصیت پیش کیجئے۔ کسی بھی حال میں انٹر ویو میں جھوٹ نہ بولئے بلکہ اپنی شخصیت ،ہنر مندی اور تجربے کے مثبت پہلوؤں پرپورا زور ڈالئے۔
اگر کمزوری یا چیلنج کی بات کر نی ہے تو یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ انٹر ویو لینے والا اس کی امید کرے گا کہ اس کمزوری یا چیلنج جیسی رکاوٹ پر قابو پانے کا آپ اپنا طریقۂ کار بھی بیان کریں گے۔
مشقی انٹر ویو سے روزگار کے خواہش مند نو جوانوں کو اپنی جسمانی حرکات وسکنات کو چست درست بنانے کا موقع بھی ملتا ہے۔ شیون ہر کا مشورہ ہے کہ روایتی اور رسمی پوشاک کے سلسلے میں غلطی نہ کی جائے اور جسم کی حرکات و سکنات کو ہمیشہ مثبت رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ بہت اہم ہے کہ ایک خاص انداز سے بیٹھا جائے اور انٹر ویو لینے والوں سے آنکھیں چار رکھی جائیں کیوں کہ اس سے اس پوزیشن میں اور میٹنگ میں رہنے کے سلسلے میں آپ کے جوش ،اعتماد اور دلچسپی کا مظاہرہ ہو تا ہے ۔‘‘
اسٹین فیلڈ اور شیون ہر دونوں اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جس تنظیم میں نوکری تلاش کی جائے اس کے بارے میں تحقیق کر لینے کی اہمیت کو سمجھا جائے۔ بیشتر صورتوں میں اس ادارے کی ویب سائٹ پر تمام بڑی ترغیبات ، مقاصد ، داخلی ساخت اور نمایاں منصوبوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کردی جا تی ہیں : یہ وہ مواد ہے جس سے انٹر ویو دینے والوں کو اس عہدے کیلئے ،جس کی درخواست دی گئی ہو،اپنی قابلیت ظاہر کرنے اور اپنی صلاحیت کو دکھانے کا سامان حاصل ہو جاتا ہے۔
آخر کار اس طرح کا انٹر ویو امید واروں کویہ یقینی بنانے کاموقع دیتا ہے کہ جس عہدہ کیلئے انہوں نے درخواست دی ہے وہ عہدہ ان کی خواہش اور اہلیت دونوں اعتبار سے موزوں ہے۔ اسٹین فیلڈ کی سفارش یہ ہے کہ ایسے کسی موقع کے بارے میں مزید واقفیت حاصل کر نے کے واسطے انٹر ویو دینے والے کو چاہئے کہ وہ اپنے سوالات کی فہرست تیار کر لے۔ اسٹین فیلڈ فوراً ہی ما بعد کی کارروائی کی پر زور سفارش کر تی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’جیسے ہی آپ انٹر ویو د ے کر باہر نکلیں اس انٹر ویو میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے ان میں سے ہر کسی کو ایک فکر انگیز ای میل بھیجیں۔ اپنے بارے میں کچھ ایسی دلچسپ باتیں بتائیں جن کی بنیاد پر آپ کے خیال میں آپ اس عہدے کیلئے پوری طرح مطابقت رکھنے والے امید وار ہیں۔
نیٹ ورکنگ کی ضرورت
اسٹین فیلڈ کا خیال ہے کہ ان کی یونیور سٹی میں یہ جو کیرئیر سینٹر چل رہا ہے اس کا ماڈل خاص کر امریکہ ،آسٹریلیا ، بر طانیہ اور جرمنی کے باہر ابھی تک پوری طرح صورت گر نہیں ہو سکا ہے۔ کوئی طالب علم ہو یا نو جوان فارغ اسے کسی عملی زندگی کیلئے فراہم کئے گئے وسائل تک بہ آسانی رسائی حاصل نہیں ہو تی تو بھی مایوس ہو نے کی ضرورت نہیں۔
انٹرنیٹ اورخاص کر انٹر نیٹ پر دستیاب فیس بک اور لنکڈ ان جیسے سماجی ذرائع ابلاغ کی سائٹوں پر اپنی اپنی دلچسپی کے شعبوں میں لوگوں کو ممکنہ روابط تک بہ آسانی رسائی حاصل ہے۔ ملازمت کے خواہش مند امید وار چاہیں تو اپنے طور پر اپنی یونیور سٹی سے فارغ طلبہ و طالبات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جن کے ذریعہ انہیں ایسے گرو اور صلاح کار حاصل ہو سکتے ہیں جو روزگار کی تلاش میں ان کی مدد کر سکیں اور انہیں انٹر ویو کی مشق سے گزار سکیں۔ اسی طرح کچھ غیر منافع بخش تنظیمیں یا سرکاری ایجنسیاں ایسی ہیں جو روزگار کے وسائل کی پیشکش کر سکتی ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ یہ تلاش مشکل ہو لیکن اسٹین فیلڈ اور شیون ہر دونوں ہی ملازمت کے خواہش مندوں کومشورہ دیتے ہیں کہ وہ مسلسل کوشش کر تے رہیں اور اپنی تلاش میں اختراعیت کی جرأت کریں۔
شیو ن ہر کا کہنا ہے کہ ’’ آپ کے ذہن میں آپ کی پہلی پوزیشن اور اس کے کسی خاص ڈھنگ سے آپ کے کیریئر کو آگے بڑھانے میں مدد گار ہونے کی جو نوعیت ہو ،ویسی ہی پہلی پوزیشن اور مددگار نوعیت آپ کو حاصل ہو بھی جائے یہ ضروری نہیں لیکن ایسی بہت سی صورتیں ہیں جن میں آپ کو اپنے خواب کی تعبیر نظر آسکتی ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔