Saturday, 2 August 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں بریسٹ فیڈنگ آگاہی ہفتہ کا انعقاد

 



پٹنہ،پی جی اسکالر ڈاکٹرمحمد ظفر اقبال نے پریس ریلیز کرتے ہوئے کہا کہ 29 جولائی 2026 کوگورنمنٹ طبی کالج پٹنہ اپنا سو سال مکمل کرنے جا رہا ہے۔اسی ضمن میں آج بروز سنیچر2اگست2025”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی پر بیداری مہم منعقد ہوا،جو اسی سو سالہ جشن کی ایک کڑی ہے۔

بریسٹ فیڈنگ آگاہی ہفتہ کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں شعبہ ماہیت الامراض کے زیر اہتمام 2 اگست سے 7 اگست تک ”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی بیداری مہم “ منعقد ہوا۔ اس موقع پر پرنسپل پروفیسرمحمد محفوظ الرحمٰن بنفسِ نفیس موجود رہے۔ ان کی شرکت نے نہ صرف پروگرام کو وقار بخشا بلکہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے اس تقریب کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنایا۔ 

اس بیداری مہم کے تعلق سے شعبہ ماہیت الامراض کے صدر ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی محنت اور قیادت قابلِ ستائش رہی۔ ان کے زیر نگرانی اور رہنمائی میں یہ بیداری مہم نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ انہوں نے پوری ٹیم کے ساتھ بھرپور لگن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس سے اس پروگرام کو تعلیمی و سماجی اعتبار سے ایک کامیاب اور یادگار تقریب بنایا گیا۔

پروگرام میں ڈاکٹر سکینہ بانونے ماں کے دودھ کی افادیت اور طبی اہمیت پر سیر حاصل لیکچر دیا اور بتایا کہ بریسٹ فیڈنگ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے، پیدائش کے فوراً بعد دودھ پلانا چاہیے اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ نہ صرف قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے بلکہ بیماریوں سے بچاو¿ کا بھی مو¿ثر ذریعہ ہے۔مزید انہوں نے بتایا کہ ایڈس، ٹی بی جیسے امراض میں میں بچوں کو دودھ نہیں پلانا ہے، یا ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ہے۔

اس بیداری مہم میں میڈیکل آفیسرڈاکٹر شیلش کمار پنکج، ڈاکٹر خصال احمد، ڈاکٹر جمال اختر، پروفیسرتوحید کبریا ،ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی،ڈاکٹر طلعت ناہیداور دیگر اساتذہ بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے پروگرام کے انعقاد اور کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے طلبہ و طالبات اور دور دراز سے آئے مریضوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

بریسٹ فیڈنگ آگاہی گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی ایک کامیاب علمی و سماجی کاوش ثابت ہوگا، جس نے ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور طلبہ و عوام میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کریگا۔




Wednesday, 30 July 2025

طب یونانی اور دیگر روایتی طریقہ علاج کے فروغ کیلئے بہار حکومت پرعزم: منگل پانڈے







گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا 99واں یومِ تاسیس جوش خروش کے ساتھ منایا گیا

پٹنہ، 30جولائی:بہار کے وزیر صحت منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ”آیوش کے تحت طب یونانی، آیوروید، ہومیوپیتھی اور دیگر روایتی طریقہ علاج کے فروغ کیلئے بہار حکومت پرعزم ہے۔ 

وہ آج گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے 99ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک شاندار تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ، ”کالج کی نئی عمارت کی تعمیر نالندہ میڈیکل کالج اسپتال کیمپس میں 64 2کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہے، اور اگلے دو سال میں مکمل ہو جائے گی۔ ہم پی جی اور یو جی کی نشستوں میں اضافہ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ یہ ادارہ ملک کا بہترین طبی ادارہ بنے۔“

 وزیر صحت مسٹر منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ”وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طب یونانی سمیت تمام روایتی طریقہ علاج کو قومی سطح پر عزت دلانے کی سمت مضبوط قدم اٹھائے ہیں۔ ایلوپیتھی کے ساتھ یونانی، آیوروید، سدھی، ہومیوپیتھی اور یوگا کو مساوی اہمیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس موقع پر کالج کے لیے نئی ایمبولینس بھی فراہم کی، جو تقریب کے دوران ہی کالج انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی۔

اس موقع پر صد سالہ جشن کے لیے ایک سالہ تقریباتی خاکہ بھی وزیر صحت کے ہاتھوں جاری کیا گیا، جس کے تحت ہر ماہ الگ الگ پروگرام منعقد ہوں گے۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن نے کہا،”یہ کالج ایک تاریخی وراثت ہے، جس کی بنیاد ڈاکٹر احمد عبدالحی کے نانا جان اور دیگر بزرگوں نے حکیم اجمل خاں اور سر گنیش دت جیسے عظیم شخصیات کی سرپرستی میں رکھی تھی۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ان کی نسل آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔

اس موقع پر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے کہاکہ 15 عہدے پروفیسر ، 19 عہدے ریڈر اور پری طب کے8 عہدے خالی ہیں جسے طلباءکے بہتر مستقبل کیلئے پر کیاجانا ضروری ہے ۔وہیں غیر تدریسی عملے کے قریب 39 عہدے منظور ہیں جن میں ابھی صرف چار افراد ہی کام کر رہے ہیں اور ہمیں قریب پچاس لوگوں کی اشد ضرورت ہے ۔ اس پر وزیر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان عہدوں پر جلد ہی بحالی کی جائے گی ۔ 

 وزیر نے کہاکہ 15 لیکچرر کے عہدوں کا اشتہار پی ایس سی کے ذریعہ شائع کر دیا گیا ہے اس پر بحالی جلد ہوگی اوردیگرتدریسی عہدوںکو فی الحال معاہدے کی بنیاد پر پر کرنے کی بات کہی ۔ اور غیر تدریسی عملوں کو آﺅٹ سورسسنگ کے ذریعہ بحال کرنے کی بات کہی ۔ 

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے مزید کہا، ”آج ہم صرف یوم تاسیس نہیں منا رہے بلکہ صدی تقریبات کی شروعات بھی کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ میڈیا اور عوام کالج کی کمیوں اور ضروریات کو حکومت تک دیانتداری سے پہنچائیں گے تاکہ ہم ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو سکیں۔

اس موقع پر پارس اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد عبدالحی، بی پی ایس سی کے سابق چیئر مین امتیاز کریمی، مولانا شبلی القاسمی ناظم امارت شرعیہ، کالج سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شاہنواز سمیت کئی دیگر معزز شخصیات نے بھی خطاب کیا اور ادارے کی خدمات کو سراہا۔

تقریب میں آیوروید کالج کے پرنسپل، آیوش ڈائریکٹر، میڈیا نمائندگان، کالج کے اساتذہ، سابقہ طلبہ اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شفاعت کریم نے سال بھر کے پروگرام کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا، اور تقریب کا آغاز مصباح الدین کریم کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض امین عبداللہ نے انجام دیے۔




Sunday, 27 July 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا 99واں یومِ تاسیس کل، ریاستی وزیر صحت منگل پانڈے مہمان خصوصی ہوں گے

 


پٹنہ، 27 جولائی:ریاست بہار کا واحد گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کل 28 جولائی بروز پیر اپنا 99واں یومِ تاسیس منانے جا رہا ہے۔ اس موقع پر ریاستی وزیر صحت مسٹر منگل پانڈے مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوں گے۔

گورنمنٹ طبی کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے بتایا کہ 1926 میں اس کالج کا قیام عمل میں آیا تھا اور اس کے ساتھ ہی گورنمنٹ آیورویدک کالج و اسپتال پٹنہ کی بھی بنیاد رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک صدی کے سفر میں یہ ادارہ ریاست بہار ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا ایک معروف طبی ادارہ بن چکا ہے، جہاں سے فارغ طلبہ ملک و قوم کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

یومِ تاسیس تقریب میں آئی سی ایم آر کی شاخ راجندر میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کرشنا پانڈے اور طبی کالج کے فارغ التحصیل معروف طبیب مولانا (حکیم) شبلی القاسمی بھی شرکت کریں گے۔

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے بتایا کہ طبی کالج کا پہلا خاکہ 28 مارچ 1915 کو آل انڈیا آیورویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کالج کا قیام حکیم اجمل خان اور ان کے رفقا کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے قیام میں سر گنیش دت، سر فخرالدین علی احمد، سر علی امام (چیف جسٹس)، حکیم ادریس، سر سید محمود، حکیم راشدالدین، حکیم قطب الدین، حکیم مظاہر احمد اور حکیم محمد صالح جیسی اہم شخصیات کی محنت شامل ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اس کا قیام اس عہد کی یاد دلاتا ہے جب دیسی طب پرزوال طاری تھا۔برطانوی دور حکومت میں ہندوستانی تاریخ کا یہ پہلا سرکاری طبی کالج قائم کیا گیا۔ اس کالج سے طب کے بے شمار ماہرین مختلف میدانوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 انہوںنے کہاکہ اس پروگرام میں صدسالہ جشن اور اس کی تیاریوں کے سلسلے میںایک سال کے دورانیہ میں مختلف علمی، ثقافتی،فنی،طبی عوامی فلاح و بہبود کے میڈیکل کیمپ،عالمی طبی سیمینار جیسے پروگرام کے خاکہ کا اجرا عمل میں آے گا۔

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے تمام ابنائے قدیم، یونانی طبی برادری اور شہر کی علمی شخصیات کو مدعو کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گزارش کی کہ وہ اس تاریخی موقع کو کامیاب بنانے میں اپنا تعاون فراہم کریں۔اس موقع پرکالج کے آڈیٹوریم میں مشاعرے کی محفل بھی سجے گی جس میں شعرا اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کریںگے۔

Sunday, 1 June 2025

بہا ر کے وزیر اعلی نے رکھا گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی نئی بلڈنگ کا سنگ بنیاد

 



کالج کے اساتذہ اور اسٹاف نے کالج ہذا کے پرنسپل کو مبارکباد پیش کی۔

پٹنہ (پریس ریلز)

ڈاکٹر محمد شفاعت کریم اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ نے پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ عزت مآب وزیر اعلی بہار جناب نتیش کمار نے آج مورخہ 31 مئی بروز سنیچر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال  پٹنہ کی نئی بلڈنگ کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس  پروگرام کی صدارت محکمہ صحت کے وزیر عزت مآب جناب منگل پانڈے نے کی۔ اس موقع پر خصوصی مہمان کے طور پر عزت مآب ڈپٹی وزیر اعلی  جناب سمراٹ چودھری اور جناب وجئے کمار سنہا ،  عزت مآب صدر بہار ودھان سبھا جناب نند کشور یادو،  عزت مآب  وزیر برائے آبی وسائل و پارلیامانی امور جناب وجئے کمار چودھری موجود تھے۔ بتاتا چلوں جناب وزیر اعلی نے 22 نومبر 2021 میں گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے سیمینار ہال میں محکمہ صحت کی زیر نگرانی آیوش  ڈپارٹمنٹ کا جائزہ لیتے ہوئے طبی کالج پٹنہ کو قدم کنواں پٹنہ سے اگم کنواں میں منتقل کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔ جس کے بعد کابینہ بہار نے 264 کڑور کی لاگت سے  10 ایکڑ کی ایک وسیع و عریض کیمپس بنانے کا بجٹ پاس کر دیا۔ اس کالج کے سنگ بنیاد رکھنے میں بھلے تاخیر ہوئی ہو البتہ کالج کی تعمیرجولائی  2027 تک مکمل کر لینے کا  منصوبہ ہے۔ 

طبی کالج پٹنہ کے نئے کیمپس کا سنگ بنیاد رکھا جانا بہار میں تاریخ رقم کر چکی ہے جس میں اسمارٹ کلاس روم، 200 بیڈ کا اسپتال، لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے تقریبا 700 بیڈ کا ہاسٹل، پرنسپل کوارٹر، فیکلٹی کوارٹر، اسٹاف کوارٹر کے علاوہ کیمپس کے اند ہی ہربل گارڈن کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔اس موقع پر کالج کے استاذہ ، اسٹاف اور طلباء و طالبات میں خوشی کی لہر ہے۔ کالج کے اساتذہ ڈاکٹر محمد تنویر عالم (کلیات) ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، محمد اصغر علی و اسٹاف اشرف جمال، رباب بانو نے پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمن کو پھولوں کا گلدستہ دے کر مبارکباد پیش کی۔

Wednesday, 28 May 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے پرنسپل پروفیسر محفوظ الرحمان نے وزیر صحت منگل پانڈے سے ملاقات کی

 

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے پرنسپل پروفیسر محفوظ الرحمان نے وزیر صحت منگل پانڈے سے ملاقات کی

دعوتِ ولیمہ کی پر مسرت تقریب




صغیرہ فاﺅنڈیشن ممبئی کے جنرل سکریٹری ابرار احمد شیخ نے کہاکہ الحمدللہ! سونا لوینس ہال، چیمبور، ممبئی میں منعقد ہونے والی دعوتِ ولیمہ کی پر خلوص اور روح پرور محفل میں شرکت کا شرف حاصل ہوا، جہاں حافظ عبدالقادر صاحب کے صاحبزادے محمدذکی (ہریٹھا، دربھنگہ، بہار) اور جناب محمود الحسن صاحب کی صاحبزادی صبیحہ پروین (جلوارہ، دربھنگہ، بہار) کے مبارک رشتے کی خوشیوں میں تمام دوست احباب نے شرکت کی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اس نو بیاہتا جوڑے کو دونوں جہانوں میں کامیابی و کامرانی عطا فرمائے، اور ان کے درمیان محبت، سکون اور رحمت قائم رکھے۔اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہماری تمام جائز دعاﺅں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین


ڈاکٹر نصرالہدی ، سابق لکچرر، گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی وفات پر تعزیتی نششت کا اہتمام





پٹنہ (پریس ریلیز)

آ ج مورخہ 28 مئی بروز بدھ گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، قدم کنواں پٹنہ کے اجمل خاں آڈیٹوریم میں ڈاکٹر نصرالہدی  مرحوم سابق لکچرر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ کی یاد میں تعزیتی نششت کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کالج ہذا کے تمام آفیسران ملازمین اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ مرحوم سے متعلق  جناب ڈاکٹر توحید کبریاء ، ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، ڈاکٹر محمد تنویر عالم (کلیات)  اور پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمن نے  اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ پروفیسر رضوان خان نے مرحوم کی مغفرت کے لئے اجتماعی دعاء کی۔ 

ڈاکٹر محمد شفاعت کریم نے پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر نصر الہدی مورخہ 27 مئی بروز منگل، دربھنگہ کے پرائیویٹ اسپتال میں  رحلت فرما گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مرحوم نے طبی کالج پٹنہ سے ہی بی یو ایم ایس کی تعلیم حاصل کی تھی اس کے بعد حکومت بہار میں میڈیکل آفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے جس کے بعد 2002 میں طبی کالج پٹنہ میں لکچرر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اسی اثناء میں کچھ دنوں کے لئے آیورویدک اینڈ یونانی کونسل کے رجسٹرار  رہے۔ اپنی تعلیمی زندگی میں نہایت ہی متحرک تھے، نیشنل انٹیگریٹیڈ میڈکل ایسو سی ایشن  (NIMA) کے متحرک ممبر رہے ۔ مرحوم نے اپنے پیچھے وارثین میں اہلیہ کے علاوہ تین لڑکیاں چھوڑیں ہیں ۔مجلس کی نظامت ڈاکٹر راغب حسین کر رہے تھے۔  تعزیتی نششت میں حاضرین نے مرحوم کی مغفرت کے لئے دعاء کی اور اس طرح مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔

متھیلا انسٹیٹیوٹ میں خواتین کا عالمی یوم صحت منایا گیا۔

 



دربھنگہ:- ہم یکجہتی کے ساتھ مزاحمت کرتے ہیں۔ ہماری لڑائی، ہمارا حق اس سال کا تھیم ہے۔  یہ باتیں پروگرام کی مہمان خصوصی ڈاکٹر روحی یاسمین، گائناکالوجسٹ میٹرو ہسپتال نے کہتی ہوئی کہی کہ یہ جنسی اور تولیدی صحت اور حقوق کے خلاف خطرناک عالمی ردعمل کے سامنے اجتماعی مزاحمت کی عجلت اور طاقت کی عکاسی کرتی ہے۔ جو اچھی طرح سے فنڈڈ اور منظم اینٹی رائٹس اداکار چلاتے ہیں۔ ساتھ ہی پروگرام کی مہمان خصوصی آمنہ شفیع جن سوراج پارٹی لیڈر نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین ہر میدان میں ترقی کی جانب گامزن ہیں لیکن اپنی صحت پر توجہ نہیں دیتیں۔ جہاں صحت پر سب سے پہلے توجہ دینی چاہیے تاکہ صحت اچھی رہے گی تب ہی ہم خاندان اور روزگار کے حوالے سے اچھے کام کر سکیں گے۔ پروگرام میں مضمون نویسی کے مقابلے میں BPT کی طالبہ زینب نور، BOTT کی طالبہ راحیلہ رضوی، BRIT کی طالبہ نادیہ رضوان اور BMLT کی طالبہ کائنات نے حصہ لیا۔ جس میں دونوں مہمانوں کی طرف سے دئیے گئے نمبروں کی بنیاد پر BPT  کی طالبہ زینب نور نے آج کے مقابلے میں چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا۔ جنہیں ڈاکٹر روحی یاسمین اور آمنہ شفیع نے مشترکہ طور پر یادگاری تحفے سے نوازا۔ پروگرام میں ڈاکٹر روحی یاسمین کا استقبال صدیقہ خاتون نے کیا و آمنہ شفیع کو سمرن میڈم نے شال اور میمنٹو دے کر استقبال کیا۔ پروگرام کی نظامت ایڈووکیٹ شاہد اطہر، ڈائریکٹر، متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے کی۔ سنٹر ہیڈ گوپی کشن، اساتذہ امت منڈل، اوم پرکاش، سمرن میڈم، رگھوناتھ کمار، روقیہ' محمد رضوان اور طلباء وطالبات نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور تعاون کیا۔

Tuesday, 27 May 2025

طبی کالج پٹنہ سے ماہر طب یونانی کا پہلا بیچ سو فیصد رزلٹ کے ساتھ فارغ :پرنسپل نے فارغین کو مبارکباد پیش کی

 



پٹنہ (پریس ریلیز)

ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ نے پریس ریلیز جاری کر تے ہوئے بتایا کہ آج مورخہ 27 مئی بروز منگل گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ سے پہلے ایم ڈی بیچ کو کامیابی حاصل ہو ئی۔ گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ ایک تاریخی کالج ہے جس کی سنگ بنیاد 1926 میں رکھی گئی تھی  جس میں بی یو ایم ایس کی تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ 2020 میں پہلی دفعہ ماہر طب (ایم ڈی یونانی) کورس کا آغاز ہوا۔ پہلے بیچ کو بےشمار دشواریوںکا سامنا کرنا پڑا، کالج کے اس ڈگری کا الحاق آریا بھٹ یونیورسٹی سے کرانے میں تاخیر ہوئی، رجسٹریشن کا عمل دیر سے ہوا، ڈیزرٹیشن کی تالیف میں وقت لگا  جس کی وجہ سے امتحان میں دیری ہوئی اور با لاخر فائنل کا رزلٹ آج شائع ہوا۔ اس طرح سے ایم ڈی یونانی کا پہلا بیچ تقریبا چار سالوں کے طویل وقفے کے بعد سو فیصد رزلٹ کے ساتھ کامیاب ہوا جس کے لئے کالج ہذا کے پرنسپل جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد محفوظ الرحمن مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پرنسپل  نے سبھی فارغین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مستقبل میں ایک کامیاب زندگی کے لئے دعائیں دیں۔ 

بتاتا چلوں کہ ڈیزرٹیشن کی تالیف سے لے کر امتحان کرانے اور رزلٹ کے شائع ہونے تک پرنسپل موصوف نے کافی جد و جہد کی اور ان کے اخلاص اور محنت کی بدولت ہی ماہر طب (ایم ڈی یونانی) کا پہلا بیچ کامیاب ہوا۔ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فارغین میں سے کچھ طلباء  نے پرنسپل  گلدستہ پیش کی اور مٹھائی کھلاکر مبارکباد پیش کی۔ کالج کے اساتذہ میں ڈاکٹر نجیب الرحمن، ڈاکٹر محمد تنویر عالم (کلیات)، ڈاکٹر شمیم اختر، ڈاکٹر محمد انس، ڈاکٹر جمال اختر، ڈاکٹر متانت کریم، ڈاکٹر طلعت ناہید، ڈاکٹر ملکہ بلند اختر، ڈاکٹر وجیہ الدین،  ڈاکٹر جمال اختر، ڈاکٹر رضیہ شاہین، ڈاکٹر  ایس ایم راشد، ڈاکٹر رضوان خان نے بھی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فارغین کو مبارکباد پیش کی۔

Friday, 2 May 2025

سعودی، اماراتی سفرا کی ملاقات: وزیر اعظم کا کشیدگی میں کمی کے لئے بھارت پر دباو کا مطالبہ



پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے جمعے کو سعودی کے سفیر نواف بن سعید المالکی اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزابی سے الگ ملاقاتوں میں برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے انڈیا پر دباؤ ڈالیں۔


ایوان وزیر اعظم سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات کی جس میں ’انہوں نے سعودی عرب سمیت برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔‘


ملاقات کے دوران وزیرا عظم نے سعودی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔


بیان کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام کے حملے کے بعد جنوبی ایشیا میں امن و امان کی موجودہ صورت حال پر پاکستان کا مؤقف بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مذمت کی ہے۔ ’پاکستان نے گذشتہ برسوں میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بڑی قربانیاں دی ہیں جو کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئی ہیں۔‘


انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے پہلگام واقعے سے پاکستان کو جوڑنے کے بے بنیاد بھارتی الزامات کو یکسر مسترد کیا اور واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔


وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے تعاون سے گذشتہ 15 ماہ کی محنت سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد، پاکستان کی کامیابیوں کو خطرے میں ڈالنے اور ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ سے ہٹانے کی بھارتی کوششیں ناقابل فہم ہیں۔‘


سعودی سفیر نے اس اہم معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔


متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سفیر سے ملاقات کے بعد جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ’متحدہ عرب امارات سمیت برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کو مائل کریں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔


بیان کے مطابق گزشتہ برسوں میں 90,000 ہلاکتوں اور 152 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات کے حوالے سے بے پناہ قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان اپنے مغربی محاذ سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کی عفریت سے نمٹ رہا ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات اور اس کے جارحانہ انداز کا مقصد پاکستان کی توجہ دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں سے ہٹانا ہے۔‘


انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا اس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس واقعے کی قابل اعتماد، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی ضرورت ہے۔‘ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہو۔


ذات پرمبنی مردم شماری صرف ایک شروعات ہے، پکچر ابھی باقی ہے: تیجسوی




پٹنہ، 02 مئی:بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے ذات پر مبنی مردم شماری کو لے کر مرکز کی نریندر مودی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ توصرف ایک شروعات ہے، پکچر ابھی باقی ہے۔

ذات پر مبنی مردم شماری کا کریڈٹ خود لیتے ہوئے مسٹر یادو نے ایکس پر پوسٹ کیا، ”ذات پر مبنی مردم شماری صرف ایک شروعات ہے، پکچر ابھی باقی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کے لیے مخصوص انتخابی حلقے بنائے جائیں گے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ریزرویشن کا انتظام کیا جائے گا۔ٹھیکداری میں ریزرویشن دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ میں بھی ریزرویشن کا انتظام کیا جائے گا۔ منڈل کمیشن کی بقیہ سفارشات کو نافذ کیا جائے گا۔ ذات پر مبنی مردم شماری کی رپورٹ کی بنیاد پر آبادی کے تناسب سے ریزرویشن کا انتظام ہوگا۔ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دلایاجائے گا اور ریاست کو خصوصی پیکیج دلایا جائے گا۔

بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر حملہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے لکھا کہ ” اعلیٰ ذہنیت کے مساوات مخالف تنگ نظر سنگھی بی جے پی والے اس پر بھی ہمیں گالی دیںگے لیکن بعد میں ہمارے ہی ایجنڈے کو اپنا ماسٹر اسٹروک کہیںگے ، کتنے کھوکھلے لوگ ہیں یہ ۔“

ذات پات کی مردم شماری سے معاشرے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے: پرشانت

 


بھاگلپور، :جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے ذات کی مردم شماری کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معاشرے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی، لیکن صرف مردم شماری کرانے سے صورتحال میں بہتری نہیں آئے گی۔

 مسٹر کشور نے جمعرات کو مردم شماری میں ذات کو شامل کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جن سوراج طویل عرصے سے کہتا رہاہیکہ سماج کے بارے میں بہتر معلومات دینے والے کسی بھی سروے اور مردم شماری میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ صرف مردم شماری کرانے سے معاشرے کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔

 جن سوراج کے بانی مسٹر کشور نے بہار میں کرائی گئی ذات کی مردم شماری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہار میں دلت برادری کے صرف تین فیصد بچے ہی 12ویں پاس کر پائے ہیں۔ لیکن مردم شماری کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے دو سال بعد بھی حکومت نے درج فہرست ذات، قبائل یا پسماندہ طبقات کے بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی نئی اور ٹھوس اسکیم نافذ نہیں کی۔ ذات کی مردم شماری کے حق میں اور مخالف جماعتوں کے لیے یہ مردم شماری کے ذریعے معاشرے کی حالت میں تبدیلی لانے کی ٹھوس کوشش سے زیادہ سیاسی مسئلہ لگتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی سوشلزم کی سمجھ پر حملہ کرتے ہوئے مسٹر کشور نے کہا کہ دس دن کوچنگ لینے اور اپنے مشیروں سے مشورہ کرنے کے بعد بھی تیجسوی بغیر دیکھے سوشلزم پر پانچ لائنیں بھی نہیں بول پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر تیجسوی کب سے سوشلزم کے رہنما بن گئے ہیں۔ اس ملک میں سوشلزم جئے پرکاش نارائن، رام منوہر لوہیا، جارج فرنانڈس کا ہے۔ تیجسوی یادو کو سوشلزم کی تعریف بھی نہیں معلوم۔

جن سوراج اورسیز کے کوآرڈینیٹر جناب عبید الرحمن سے شاہد اطر کی ملاقات



جن سوراج اوورسیز کے کوآرڈینیٹر جناب
عبید الرحمن سے دربھنگہ میں خصوصی سفر کے دوران دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے ممکنہ امیدوار ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے خصوصی ملاقات کے دوران ان کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے کہا کہ  2025 میں نتیش کمار کی سرکار کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے ایڈووکٹ شاہد اطہر نے تفصیل سے الیکشن پہ گفتگو کرتے ہوئے جن سوراج پارٹی کے لیڈر عبید الرحمان صاحب کو بتایا کہ اگر صحیح طرح سے پارٹی کے زمینیں سطح کے کارکن کو جن سوراج پارٹی ٹکٹ دینے کا کام کرتی ہے تو دربھنگہ ضلع سمیت متھیلا نچل میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں جن سوراج پارٹی جیتنے کا کام کرے گی ایڈووکٹ شاہد اطہر نے کہا کہ رمضان جیسے مہینے میں پارٹی کے بانی جناب پرشانت کشور جی کا کامیاب پروگرام دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے مکھناہی گاؤں اور نگر نگم کے وارڈ نمبر 24  مدرسہ حمیدیہ کے میدان میں کافی تعداد میں افطار میں لوگوں کا شامل ہونا یہ بتاتا ہے کہ اب عوام بدلاؤ چاہتے ہیں یہاں کے لوگوں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ ذاتی و پارٹی سے اوپر اٹھ کر جن سوراج کے ایجنڈے پہ بچوں کے بہتر مستقبل بہتر تعلیم اور روزگار پہ ووٹ دینے کا کام کریں گے - ساری باتوں کو غور سے سننے کے بعد پارٹی لیڈر عبید الرحمن نے کہا کہ پارٹی کے بانی پر شانت کشور جی نے حج بھون سے اعلان کیا ہے کہ جس کے جتنی فیصد آبادی ہے اسی کے حساب سے اس کو ٹکٹ اور زمین سے جڑے ہوئے لوگوں کو ہی ٹکٹ دینے کا کام کرے گی الیکشن میں سبھی پارٹی اپنے ممکنوں امیدوار کو راجدھانی و پارٹی دفتر میں چکر لگواتی ہے جبکہ جن سوراج سبھی ممکنہ امیدوار کو اپنے اپنے اسمبلی حلقے میں عوام الناس کے مسائل کو حل کرنے اور جن سوراج کے لیے کام کرنے کو کہتی ہے-