Monday, 27 January 2025

یوم جمہوریہ کے موقع پہ متھلا انسٹیٹیوٹ میں پرچم کشائی ہوئی



 دربھنگہ:- 76ویں یوم جمہوریہ کے موقع پہ ہر سال کی طرح اس سال بھی متھیلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں چیئرمین ڈاکٹر احمد نسیم آرزو ڈائریکٹر الہلال ہاسپٹل کے ہاتھوں پرچم کشائی کی گئی جس میں جنرل منیجر شمشاد نور سنٹر ہیڈ تنویر امام گوپی کشن امیت منڈل سمرن میڈم محمد سعید انور دانش احمد و ایڈووکیٹ شاہد اطھر کے علاوہ طلبہ و طالبات شامل ہو کر ملک وآئین کے تئی وفاداری کا محبت کا ثبوت  دیتے ہوئے سبھی لوگوں نے کہا کہ ملک ہمارا ہے اور اس کی حفاظت کرنے کے ذمہ داری ہم سبھی لوگوں کی ہے - آج کے دن آئین عمل میں لائی گئی تھی اور اسی آئین کے تحت ہمارا ملک چلتا ہے اور قیامت تک ہمارا ملک آئین کے تئیں چلتا رہے گا-

صاف شفاف چہرہ والے کو ہی اسمبلی میں بھیجا جائے: صبیح محمود

 


دربھنگہ:- یوم جمہوریہ 2025 کے موقع پہ آج دربھنگہ ضلع کے مختلف حلقہ سے مشہور و معروف شخصیات کا آج محمود رہائش گاہ باڑھ سمیلا کیوٹی میں صلاہ مشورہ کا پروگرام انعقاد کیا گیا- جس میں جالے سے صادق آرزو و آمر اقبال کنور بڑھی سے ذوالقرنین عاقل پٹھان کوئی سے ماجد حسین خان ملکی چک سے فیصل اقبال باڑھ سمیلہ سے ڈاکٹر فیروز احمد باقی بصر دربھنگہ شہر سے انجینئر عمر فاروق رحمانی ڈاکٹر احمد نسیم آرزو عیاز احمد فصیح محمود و ایڈوکیٹ شاہد اطہر کے علاوہ سماج کے مختلف حلقے سے لوگ شامل ہوئے۔ اس موقع پہ سبھی لوگوں کے رائے مشورہ سے یہ بات ائی کہ مسلمانوں کا ووٹ تقسیم کر کے غیر سیکولر پارٹیاں جیتنے کا کام کرتی ہے اج بھی کم و بیش 60 فیصد ووٹ سیکولر ہے پھر بھی سیکولر امیدوار کیوں نہیں جیت رہے ہیں؟ صرف اس لیے کہ سیکولر ووٹوں کا تقسیم کرایا جاتا ہے جس کا فائدہ دوسرے پارٹی کو مل جاتا ہے۔ اس لیے اس دفعہ بہار اسمبلی 2025 کے الیکشن میں صاف امیج ایماندار محنتی و عوام الناس میں جانا پہچانا نام رکھنے والے ہی امیدوار کو الیکشن جتا کر اسمبلی میں بھیجنے کا کام کیا جائے گا۔

انفرادی و اجتماعی سطح پر اردو کے فروغ کیلئے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت: آفتاب عالم

 



مظفر پور ( نمائندہ)قومی اساتذہ تنظیم مظفر پور کے صدر شمشاد احمد ساحل، سکریٹری آفتاب عالم کی قیادت میں برہنڈ ہ ، مینا پور ، مظفر پور میں اردو زبان ادب کے فروغ کیلئے تحریک چلائی گئی جس میں علاقے کی نامور شخصیات نے شرکت کی اور اردو کے فروغ کا عزم لیا ۔ اس موقع پر قومی اساتذہ تنظیم کے سکریٹری آفتاب عالم نے کہاکہ اردو زبان کا فروغ نہ صرف ہماری تہذیب و ثقافت کی بقا کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ قومی یکجہتی اور ترقی کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس زبان کے فروغ کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس زبان کے عظیم ورثے سے مستفید ہو سکیں۔ 

انہوں نے مزید کہاکہ جدید دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اردو زبان کو تعلیمی، سائنسی، ادبی، اور ڈیجیٹل میدانوں میں فعال بنانے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوںنے کہاکہ صرف حکومتی سطح سے تو اردو کے فروغ کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے ہی ساتھ ہی انفرادی واجتماعی سطح سے بھی اردو کے فروغ کیلئے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔انہوںنے کہاکہ اسی مقصد کے تحت قومی اساتذہ تنظیم نے یہ عہدلیا ہیکہ اردو کے جو بھی مسائل ہیں اسے حل کیاجائے اور عوام میں اس کیلئے بیداری لائی جائے ۔ 

مسٹر آفتاب نے یہ بھی کہاکہ اردو میں بھی کافی مواقع ہیں ۔ضروت ہے کہ ان مواقع سے فائدہ اٹھایاجائے اور اپنی روزہ مرہ کی زندگی میں اردو کو استعمال کیاجائے ۔ اس موقع پر محمد آدم ، عبدالجبار، حسیب الرحمن ،مولانا امان اللہ ،مولانا الفت ، محی الدین ، افسر، نصراللہ وغیرہم نے بھی اپنے خیالات پیش کئے۔ 


Friday, 24 January 2025

وقف بل: ’فون آیا اور ہمیں معطل کر دیا گیا‘، جے پی سی میں شامل اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کا سنگین الزام، اوم برلا کو لکھا خط

 




’وقف (ترمیمی) بل 2024‘ کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل جے پی سی کی میٹنگ میں 24 جنوری (جمعہ) کو زوردار ہنگامہ ہوا۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن کے 10 اراکین پارلیمنٹ کو ایک دن کے لیے معطل بھی کر دیا گیا۔ اس معاملے میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ کچھ کمیٹی اراکین نے میڈیا کے سامنے بیان میں کمیٹی چیئرمین جگدمبیکا پال پر سنگین الزام عائد کیا ہے، اور معطل اراکین پارلیمنٹ نے اوم برلا کو مشترکہ خط لکھ کر اپنے اعتراضات کا اظہار بھی کیا ہے۔

ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے آج میٹنگ میں ہوئے ہنگامہ کے بعد کہا کہ ”جب میٹنگ چل رہی تھی تو جے پی سی چیئرمین کے پاس لگاتار فون آ رہے تھے۔ ایک فون آیا جس کے بعد ہمیں معطل کر دیا گیا۔“ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے چیئرمین کو حکومت کی طرف سے ہدایت دی جا رہی تھی۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن اراکین نے جگدمبیکا پال پر کارروائی کو ایک تماشہ بنانے، منمانی کرنے اور اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ حکومت کی اعلیٰ سطح سے ہدایت لے رہے ہیں۔


اپوزیشن میں ہوئے ہنگامہ اور پھر بڑھی سیاسی ہلچل کے درمیان کمیٹی سے معطل اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھ کر کمیٹی چیئرمین کی کارگزاری اور طور طریقوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ 27 جنوری کو مجوزہ میٹنگ ملتوی کی جائے۔ جے پی سی اراکین اے راجہ، کلیان بنرجی، اسدالدین اویسی، نصیر حسین، ارونت ساونت، گورو گگوئی، محمد جاوید، عمران مسعود، محب اللہ ندوی، ایم عبداللہ کی طرف سے لکھے گئے اس خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیئرمین منمانے طریقے سے میٹنگوں کی تاریخیں بدلتے رہے ہیں۔ جمعہ کو ہوئی میٹنگ میں جب کمیٹی میں شامل اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اس پر اعتراض ظاہر کیا اور اپنی بات رکھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انھوں نے اپوزیشن کے 10 اراکین کو معطل کر دیا۔


معطل کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ ان کے اعتراضات کے باوجود پہلے تو 24 اور 25 جنوری کو جے پی سی کی میٹنگ طے کی گئی، اور پھر جمعہ کی صبح بتایا گیا کہ 25 جنوری کی میٹنگ 27 جنوری کو ہوگی۔ ناراض اراکین کا کہنا ہے کہ پہلے کے طے شیڈول کی بنیاد پر اراکین پارلیمنٹ نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنے پروگرام مقرر کر لیے ہیں، ایسے میں میٹنگ کی تاریخ تبدیل ہونے سے مشکل ہو رہی ہے۔ خط لکھنے والوں نے میٹنگ 29 جنوری کی جگہ 30 جنوری کو کرائے جانے کی گزارش کی ہے تاکہ سبھی اراکین اس اہم بل پر اپنی بات رکھ سکیں۔



اوم برلا کو لکھے گئے خط میں دستخط کنندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ ”ہم نے اہم باتوں کو مہذب طریقے سے چیئرمین کے سامنے رکھا، حالانکہ انھوں نے اس پر جواب دینے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس درمیان چیئرمین نے کسی سے فون پر بات کی اور اچانک حیرت انگیز طریقے سے انھوں نے چیختے ہوئے ہماری معطلی کا حکم صادر کر دیا۔“ خط میں لوک سبھا اسپیکر سے کہا گیا ہے کہ ”ہمارا ماننا ہے جے پی سی چیئرمین کو کمیٹی اراکین کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس لیے استدعا ہے کہ جے پی سی چیئرمین کو کارروائی شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے چلانے کی ہدایت دی جائے۔“


وقف ترمیمی بل: جے پی سی اجلاس میں ہنگامہ، حزب اختلاف کے 10 ارکان پارلیمنٹ معطل

 






وقف ترمیمی بل پر قائم شدہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کے اجلاس کے دوران ٹی ایم سی کے رکن کلیان بنرجی اور بی جے پی کے ایم پی نشی کانت دوبے کے درمیان لفظی جنگ ہوئی، جس کے بعد کمیٹی کے 10 اپوزیشن ارکان کو ایک دن کے لیے معطل کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں ہنگامہ اس وقت ہوا جب کلیان بنرجی نے اجلاس کو اتنی جلدی بلانے پر سوال اٹھایا، جس پر نشی کانت دوبے نے سخت اعتراض کیا اور دونوں رہنماو¿ں کے درمیان شدید تکرار شروع ہو گئی۔ اس کے بعد اجلاس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔


کلیان بنرجی کا کہنا تھا کہ اجلاس کی اتنی جلدی کیا ضرورت تھی؟ انھوں نے اس پر سوال اٹھایا کہ آیا اس بل پر جلدی فیصلے کی کوئی خاص وجہ ہے؟ ان کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نشی کانت دوبے نے کہا کہ حکومت نے اس بل کو اہمیت دی ہے اور اس پر جلدی فیصلے کی ضرورت ہے۔ دونوں کے درمیان یہ بات چیت اتنی بڑھ گئی کہ دونوں کے درمیان لفظوں کا تبادلہ شدید ہو گیا اور اس کی وجہ سے اجلاس کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔


جیسے ہی یہ تنازعہ بڑھا، کمیٹی نے اپوزیشن کے 10 ارکان کو معطل کر دیا، جنہوں نے اس بحث میں مداخلت کی تھی۔ ان ارکان کی معطلی نے اجلاس کی فضا کو مزید متنازعہ بنا دیا اور اجلاس کو 27 جنوری تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔



اس اجلاس میں کشمیر کے مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق بھی اپنے اعتراضات پیش کرنے کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس کے علاوہ کچھ مزید اہم شخصیات بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گی، جن میں ’لائیرز فار جسٹس‘ گروپ بھی شامل ہے۔


اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن نشی کانت دوبے نے کہا کہ وقف بل کا مقصد مسلمانوں کی بہتری کے لیے ہے اور اس کے ذریعے وقف کے اداروں میں شفافیت لانا مقصود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کو جلد پاس کرنا ضروری ہے تاکہ وقف کے اداروں کے انتظام میں بہتری لائی جا سکے اور اس کے ذریعے ملک کے مسلمانوں کی فلاح کی جا سکے۔


دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے مفادات کے خلاف ہے اور اس کے ذریعے حکومت وقف کے اداروں پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بل میں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔



آئندہ اسمبلی انتخابات میں میتھیلانچل سمیت پورے بہار میں جن سوراج کا لہر قائم ہوگا: ایڈووکیٹ صبیح

 




دربھنگہ:- بہار جن سوراج پارٹی کے بانی رکن و ممبر ایکٹنگ کمیٹی بہار ایڈووکیٹ صبیح محمود نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں فرقہ پرست اور بچوں کے مستقبل سے کھیلنے والی جدیو و بھاجپا سرکار کا خاتمہ ہو جائے گا چونکہ متھلانچل سمیت پورے بہار میں بانی پرشانت کشور جی کے نگرانی میں بدلاؤ  کی لہر دور رہی ہےـ آج متھلانچل کے دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے دورہ پہ انے کے بعد پارٹی کے بانی رکن و دربھنگہ شہر سے ممکنہ امیدوار ایڈووکٹ شاہد اطہر سے اپنے رہائش گاہ پہ ملاقات کرنے کے بعد جاری پریس ریلیز میں بتایاـ ایڈووکیٹ صبیح محمود نے کہا کہ لوگوں میں بہت ناراضگی اور نا امیدی کی کرن ظاہر ہو رہی ہے کہ پورا پانچ سال کا مدت ختم ہونے کو ہے اور جگہ بہ جگہ ترقی کا معاملات رکا ہوا ہے وہیں ابھی کل کی بات ہے کہ ضلع ایجوکیشن افسر بتیا کے گھر پہ کرپشن سے لوٹا ہوا پیسہ کا امبار ملا ہے جس کو گنتی کرنے کے لیے مشین بھی کم پڑ گئی ہے ـ اس موقع پہ ایڈووکٹ شاہد اطہر نے کہا کہ اگر پارٹی اور دربھنگہ کی عوام چاہے گی تو میں ان کی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پورے دم خم کے ساتھ الیکشن لڑوں گا وہیں شاہد اطہر نے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لیے پیسہ معنی نہیں نہیں رکھتی ہے ہاں عوام کا پیار سب سے بڑی طاقت ہے وقت انے پہ عوام اپنے ممبر اسمبلی سے پورے مدت کا حساب کتاب مانگے گی اور ان کو اس کا حساب دینا ہی پڑے گاـ

Thursday, 23 January 2025

’برتنوں کی قیمت سن کر آپ کا دماغ چکرا جائے گا‘، مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے ’برتن گھوٹالہ‘ پر کانگریس کا طنز

 





مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں کروڑوں روپے کے ’برتن گھوٹالہ‘ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے تازہ گھوٹالہ کو مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں گھوٹالے کا ’نیا ریکارڈ‘ قرار دیا ہے۔ کانگریس نے ہندی نیوزی چینل ’ٹی وی 9 بھارت وَرش‘ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے گھوٹالہ کرنے میں نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ آپ بھلے ہی چمچ 15-10 روپے میں خریدتے ہوں، لیکن مدھیہ پردیش حکومت میں خریدے گئے برتنوں کی قیمت سن کر آپ کا دماغ چکرا جائے گا۔“


دراصل یہ گھوٹالہ آنگن باڑی کے لیے خریدے گئے برتنوں کے ساتھ ہوا ہے۔ کانگریس نے اس تعلق سے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”یہاں آنگن باڑی کے لیے کروڑوں روپے کے ہزاروں برتن خریدے گئے، جن میں 1 چمچ 810 روپے میں خریدا گیا، 1 کرچھی 1348 روپے میں خریدی گئی، 1 جگ 1247 روپے میں خریدا گیا۔“ ریاست میں برسراقتدار طبقہ پر حملہ کرتے ہوئے کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”یہ مدھیہ پردیش کی حکومت میں کروڑوں روپے کا گھوٹالہ ہے۔ لگتا ہے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت پی ایم مودی کے فنڈے پر ہی آگے بڑھ رہی ہے– عوام کو لوٹو-موج اڑاو¿۔“



سنگرولی ضلع میں پیش آئے اس گھوٹالہ کے تعلق سے جب ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ راجندر شکلا سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ”ہماری حکومت بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹولرنس کی پالیسی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اگر (بدعنوانی کا) کوئی معاملہ سامنے ا?تا ہے، تو ضروری کارروائی کی جاتی ہے۔ قصوروار پائے جانے پر سزا بھی دی جاتی ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ جس معاملے کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، اس کی حقیقت بھی پتہ کی جائے گی۔ بی جے پی حکومت کے تحت اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سیاسی تحفظ نہیں دیا جاتا۔

دوسری طرف مدھیہ پردیش کانگریس ترجمان عباس حفیظ کا کہنا ہے کہ ”یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت پہلے بھی بلوں میں اضافہ کر مہنگی کیٹرنگ اشیائ کا استعمال کر چکی ہے۔ یہاں تو ہر روز بدعنوانی کا ایک نیا معاملہ سامنے ا? رہا ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ ”اس وقت موہن یادو حکومت کو انتہائی بدعنوان حکومت کہا جا رہا ہے۔“


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں سنگرولی ضلع کے محکمہ برائے ترقی خواتین و اطفال میں برتن گھوٹالہ کا یہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ 1500 آنگن باڑیوں کے نام پر 5 کروڑ روپے کا یہ برتن گھوٹالہ کیا گیا ہے۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ 10 روپے میں ملنے والی چمچ کی قیمت 810 روپے لگائی گئی ہے۔ اس حساب سے 46500 چمچ 3 کروڑ 76 لاکھ 65 ہزار روپے میں خریدی گئیں۔ اتنا ہی نہیں ایک سروِنگ چمچ کی قیمت 1348 روپے بتائی گئی ہے۔ اس طرح 6200 سروِنگ چمچ 83 لاکھ 57 ہزار 600 روپے میں خریدی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں پانی پینے والے ایک جگ کی قیمت 1247 روپے لگائی گئی ہے۔ 3100 جگ کی خریداری ہوئی ہے جس کی مجموعی قیمت 38 لاکھ 65 ہزار 700 روپے ہے۔ کچھ مزید برتن بھی خریدے گئے ہیں اور اس کی قیمت بھی بہت زیادہ بتائی گئی ہے۔



مودی حکومت کی غلط پالیسیوں سے مہنگائی اور بے روزگاری میں ہوا بے تحاشہ اضافہ: جے رام رمیش

 






کانگریس نے ایک بار پھر مہنگائی اور بے روزگاری کے حوالے سے مودی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے جمعرات (23 جنوری) کو کہا کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی مہنگائی اور بے روزگاری نے نچلے اور متوسط طبقات کے خاندانوں کے لیے زندگی کو بہت مشکل کر دیا ہے۔ جے رام رمیش نے مزید کہا کہ ملک کو اب ایسے بجٹ کی ضرورت ہے جو بڑھتی مہنگائی سے راحت دے۔ جے رام رمیش کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیے گئے پوسٹ کے مطابق گزشتہ 10 سالوں میں مہنگائی نے عام لوگوں کی جیبیں خالی کر دی ہیں۔


کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر کیے گئے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”موڈانی حکومت نے گزشتہ 10 سالوں میں صرف اپنے امیر دوستوں کا خیال رکھا ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی مسلسل مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جس نے نچلے اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے زندگی کو کافی مشکل بنا دیا ہے۔ دودھ، آٹا، دال، پٹرول، ڈیزل اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔“ جے رام رمیش یہ بھی کہتے ہیں کہ ”ای ایم آئی اور روزمرہ کی ضرورتوں کا بوجھ ہر گھر پر بڑھتا جا رہا ہے۔ ملک کو اب مہنگائی سے راحت دینے والا بجٹ چاہیے۔ کیا حکومت عوام کی تکلیفیں سن کر کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی؟“


قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے بدھ (22 جنوری) کو دعویٰ کیا تھا کہ کوارٹر-2 جی ڈی پی کی شرح نمو کوئی جھٹکا نہیں ہے بلکہ معیشت میں واضح کساد بازاری ہے اور وبائی امراض کے بعد کی تیزی، ترقی میں اضافے کے لیے کافی نہیں ہے۔ وہیں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی مودی حکومت پر ان کی اقتصادی پالیسیوں کے متعلق حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی معنوں میں ترقی تب ہوگی جب ہر شخص ترقی کرے گا۔ تجارت کے لیے ایک مناسب ماحول ہوتا ہے، ٹیکس کا منصفانہ نظام ہوتا ہے اور مزدوروں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔



بتیا میں ڈی ای او کے گھر پر ویجی لینس کا چھاپہ، کثیر تعداد میں نقد برآمد

 






پٹنہ:بہار کی خصوصی نگرانی اکائی نے جمعرات کی صبح مغربی چمپارن کے ضلع تعلیمی افسر (ڈی ای او) کے ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی۔ اس چھاپہ ماری میں افسر کے گھر سے بڑی تعداد مین نقد برآمد ہوئے۔ ڈی ای او رجنی کانت پروین پر الزام تھا کہ اس نے 20 برس کی اپنی سرکاری خدمات کے دوران کروڑوں روپے کی ناجائز کمائی کی ہے۔ اس کی اطلاع ملنے پر خصوصی نگرانی اکائی نے ان کے بتیا، سمستی پور اور دربھنگہ میں تین ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی۔


ویجی لینس کی ٹیم صبح سے ڈی ای او سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ جانچ میں ابھی تک کثیر تعداد میں نقد برا?مد ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ نوٹ دو بیڈ میں بھرے ہوئے تھے۔ نوٹوں کی تعداد اتنی تھی کہ اسے گننے کے لیے مشین منگوانی پڑی۔


ذرائع کے مطابق پٹنہ سے پہنچی نگرانی کی ٹیم نے آج صبح سے ڈی ای او کی رہائش پر چھاپہ ماری شروع کی۔ اس دوران کسی کو بھی اندر جانے یا باہر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ کارروائی بتیا کے مفصل تھانہ حلقہ واقع بسنت بہار کالونی میں ڈی ای او کے گھر پر کی جا رہی ہے۔ رجنی کانت پروین گزشتہ تین برسوں سے بتیا میں تعینات ہیں۔ ویجی لینس کی ٹیم ان کے گھر میں کئی گھنٹے سے موجود ہے اور ان سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ اس معاملے پر مقامی انتظامیہ اور ویجی لینس محکمہ کے افسران فی الحال کچھ بھی بولنے سے بچ رہے ہیں۔




واضح ہو کہ خصوصی نگرانی اکائی کو قابل اعتماد ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ رجنی کانت پروین جو حال میں ڈی ای او بتیا (مغربی چمپارن) کے عہدے پر ہیں، انہوں نے 2005 سے اب تک کی مدت کے دوران ناجائز طریقے سے مجرمانہ سازش کو ا?گے بڑھانے کے لیے تقریباً 18723625 روپے کی کی بھاری منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جمع کر لیے ہیں، جو ان کی اصل آمدنی سے کافی زیادہ ہے۔


ایس وی یو سے ملی اطلاع کے مطابق رجنی کانت پروین بہار اسٹیٹ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے 45ویں بیچ کے افسر ہیں۔ وہ 2005 سے خدمات میں آئے اور دربھنگہ، سمستی پور اور بہار کے دیگر ضلعوں میں ضلع افسر کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ ان کی سروس کی مدت تقریباً 20-19 سال ہے۔



'ترقی یافتہ ہندوستان' کی تعمیر کے لیے آرام دہ دائرے سے باہر نکلنا ضروری: وزیر اعظم

 



نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو نیتاجی سبھاش چندر بوس کی 128ویں جینتی کے موقع پر کٹک میں منعقدہ 'پراکرم دیوس' تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جیسے نیتاجی نے آزادی کے لیے اپنی آرام دہ زندگی کو ترک کر کے مشکلات
اور چیلنجز کو اپنایا، اسی طرح ہمیں بھی ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے اپنے آرام دہ دائرے سے باہر نکلنا ہوگا۔


وزیر اعظم مودی نے کہا، ”آج نیتاجی سبھاش چندر بوس کے یومِ پیدائش کے موقع پر پورا ملک انہیں عقیدت کے ساتھ یاد کر رہا ہے۔ میں نیتاجی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس سال کے 'پراکرم دیوس' کا شاندار انعقاد ان کے جائے پیدائش میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر کٹک میں ایک بڑی نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے، جس میں نیتاجی کی زندگی سے جڑی مختلف یادگاروں کو پیش کیا گیا ہے۔



وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج جب ہمارا ملک 'ترقی یافتہ ہندوستان' کے عزم کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے تو ہمیں نیتاجی کی زندگی سے مسلسل تحریک ملتی ہے۔ ان کا سب سے بڑا ہدف آزاد ہندوستان تھا، جس کے لیے انہوں نے اپنی پرتعیش زندگی کو چھوڑ کر جدوجہد کو ترجیح دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عالمی سطح پر بہترین بننے، کام میں مہارات اور کارکردگی پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔


وزیراعظم نے کہا کہ نیتاجی نے آزادی کے لیے 'آزاد ہند فوج' بنائی، جس میں ملک کے ہر علاقے اور ہر طبقے کے لوگ شامل تھے۔ ان کی یکجہتی آج بھی 'ترقی یافتہ ہندوستان' کے لیے ایک بڑی سبق ہے۔ ہمیں ان عناصر سے محتاط رہنا ہوگا جو ملک کو کمزور اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کی حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ آزاد ہند سرکار کے 75 سال مکمل ہونے پر لال قلعے پر ترنگا لہرایا گیا۔ حکومت نے نیتاجی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں 2019 میں لال قلعے میں ان کے نام سے عجائب گھر کی تعمیر اور 'پراکرم دیوس' کا اعلان شامل ہے۔



وزیراعظم نے کہا کہ ”پچھلے 10 سال میں حکومت نے تیز رفتار ترقی کے ذریعے عوام کی زندگی کو آسان بنایا ہے۔ 25 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا گیا، دیہات اور شہروں میں جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے اور ہندوستانی فوج کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج عالمی سطح پر ہندوستان کی حیثیت مضبوط ہو رہی ہے۔ ہمیں نیتا سبھاش جی کے نظریے سے متاثر ہو کر ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے مسلسل کام کرنا ہوگا۔ یہی ان کو ہماری سچی خراج عقیدت ہوگی۔“



کوٹہ میں طلبا کی خودکشی کے بڑھتے واقعات سے پرینکا گاندھی افسردہ

 





راجستھان کے کوٹہ شہر میں طلبا کی خودکشی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ روز بہ روز خودکشی کے معاملوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بدھ (22 جنوری) کو گجرات کی ایک نیٹ طالبہ اور جے ای ای کی کوچنگ کرنے والے آسام کے طالب علم نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ ایک ہی روز میں 2 طلبا کی موت سے لوگوں کو کافی صدمہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”کوٹہ راجستھان میں ایک ہی روز 2 بچوں کی خودکشی کی خبر انتہائی خوفناک اور دل دہلانے والی ہے۔“


وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ”یہاں 3 ہفتے کے اندر 5 طالب علموں نے خودکشی کی ہے، یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔“ علاوہ ازیں پرینکا گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھتی ہیں کہ ”یہ وقت تعلیمی اداروں، سرپرستوں اور حکومتوں کو مل کر سوچنے اور خود احتسابی کا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ہمارے بچوں پر اس قدر دباو¿ ہے کہ وہ اسے سنبھال نہیں پاتے، یا پورا ماحول ان کے لیے سازگار نہیں ہے؟“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”حکومت کو اس سمت میں ٹھوس قدم اٹھانا چاہیے۔ بچوں کی نفسیات، تعلیم کے طریقوں اور ماحول کے متعلق گہرائی سے مطالعہ ہونا چاہیے اور ضروری اصلاحی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔“ 




قابل ذکر ہے کہ بدھ کو جن 2 طالب علموں نے خودکشی کی تھی اس میں ایک گجرات کے احمد آباد کی رہنے والی آصفہ شیخ تھی۔ نیٹ کی طالبہ آصفہ جواہر نگر علاقہ میں ایک کرایہ کے مکان میں رہتی تھی۔ طالبہ نے بدھ کو صبح قریب 10 بجے کمرے میں پھانسی لگا کر اپنی جان دے دی۔ آصفہ کی موت کے 2 گھنٹے بعد ہی ایک اور طالب علم نے خود کشی کی تھی۔ گوہاٹی کے رہنے والے 18 سالہ طالب علم جے ای ای کے امیدوار نے مہاویر نگر علاقہ میں واقع اپنے ہاسٹل کے کمرے میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ پولیس کے مطابق متوفی طالب علم کو اگلے ہفتہ جے ای ای-مینس کا امتحان دینا تھا۔ واضح ہو کہ کوچنگ ہب کے نام سے مشہور کوٹہ شہر میں سال کے پہلے 22 دنوں میں خودکشی کے ایسے 6 معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ وہیں 2024 میں ایسے 17 معاملے سامنے آئے تھے۔