E-Paper
- page-8
- page-7
- Page-6
- Page-5
- Page-4
- Page-3
- Page-2
- Page-1
- English News
- Patna Hindi News
- خصوصی ای میگزین/Special E-Magazine
- Home
- BIHAR NEWS
- UP/یوپی
- Advertisement
- classified/کلاسیفائیڈ
- About Us
- PATNA
- Contact Us
- Eid 2026/اسپیشل عید
- کاروباری شخصیات
- Educational institutions/تعلیمی ادارے
- مضامین
- ملکی/بین الاقوامی خبریں
- ریاستی خبریں
- مبارکبادیاں
- سیاسی خبریں
- جاب/کیریئر/سرکاری نوکری
- صحت/Health
Sunday, 12 January 2025
روٹری کلب آف پٹنہ کنکر باغ کے ذریعہ کمبل تقسیم
محبان اردو نے ہندوستان کی پہلی مسلم معلمہ فاطمہ شیخ کو ان کی یوم پیدائش پر یاد کیا
پٹنہ:محبان اردو( عاشقان اردو کا گہوارہ) تنظیم کے سیکرٹری محمد پرویز انور نے پریس ریلیز جاری کر بتایا کہ فاطمہ شیخ جن کو ہندوستان کی پہلی مسلم معلمہ یعنی لیڈی ٹیچر ہونے کا شرف حاصل ہے, جن کی پیدائش 9 جنوری 1831 کو پونے مہاراشٹر میں ہوئی تھی, ان کو یاد کرنے کے لیے ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے کے دفتر فلیٹ نمبر 264 7th فلور گرینڈ اپارٹمنٹ ڈاک بنگلہ چوراہا پٹنہ میں ایک محفل آراستہ کی- اس محفل میں پٹنہ شہر کے نامور حضرات نے شرکت کی ،جن کے نام اس طرح ہیں ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے، جناب ارشد فیروز چیئرمین گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ، پروفیسر شکیل احمد قاسمی شعبہ اردو اور ینٹل کالج پٹنہ سٹی , جناب پرویز اردو لائبری،پروفیسر اسلم زیڈ اے اسلامیہ کالج سیوان ،علامہ اقبال کالج کے افتاب احمد،محمد حسنین، سیاست دان او میش کمار،عبدالقیوم انصاری صاحب کے پوتے تنویر انصاری، محمد عالمگیر نظامی،اطیب علی، معروف شاعر سید شاہ جمال کاکوی، نامور صحافیوں کی جماعت بھی وہاں موجود تھی جن میں انوار الہدی اسحاق اثر نواب عتیق الزماں ہارون رشید حافظ ضیاء اللہ سید جاوید خورشید انور کے نام اہم ہین- اس پروگرام کی صدارت جناب ارشد فیروز صاحب نے کی ۔اسپیکر کی ذمہ داری پروفیسر شکیل احمد قاسمی صاحب نے نبھائی, نظامت کے فرائض محبان اردو کے سیکرٹری محمد پرویز انور نے انجام دیے- مہمان خصوصی ڈاکٹر اظہار احمد صاحب رہے-
اس تقریب میں محترمہ فاطمہ شیخ کے خواتین کے تعلیم کے سلسلے میں کیے گئے کنٹریبیوشن کو یاد کیا گیا, بی بی فاطمہ شیخ کو یاد کرتے ہوئے جلسے کے صدر جناب ارشد فیروز صاحب نے فرمایا کہ ہندوستان کی پہلی لیڈی ٹیچر ساوتری بائی پھولے کا ساتھ فاطمہ شیخ نے بڑھ چڑھ کر دیا انہوں نے بتایا کہ فاطمہ شیخ نے اپنی پراپرٹی ساوتری بھائی پھولے کو ڈونیٹ کر دیا تاکہ اس عمارت میں اسکول چل سکے وہ دروازے دروازے گھوم کر بچیوں کو تعلیم کی طرف بلاتی تھیں اور تعلیم کی اہمیت گھر گھر جا کر لوگوں کو سمجھایا کرتیں - جناب احمد فیروز صاحب نے موجود شرکا کو یہ پیغام دیا کہ گورنمنٹ اردو لائبریری میں محترمہ فاطمہ شیخ کی ایک تصویر نمایا ںجگہ پر چسپاں کی جائیںگی تاکہ لوگوں کو معلو ہوسکے کہ تقریبا 200 سال پہلے مسلم معاشرے سے ایک خاتون تعلیمی بیداری کی علمبردار تھی, انہوں نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ محبان اردو کے سیکرٹری محمد پرویز انور مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے فاطمہ شیخ کی تعلیمی بیداری کے لیے کیے گئے خدمات کو یاد کرنے کے لیے اس محفل کو سجایا محمد پرویز انور نے فرمایا کہ اس تقریب کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر اظہار احمد صاحب کا بھی بڑا ہاتھ ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے دفتر کے سینٹرل ہال کو تقریب کے انعقاد کے لیے فراہم کیا۔
مزید محمد پرویز انور نے اپنی گفتگو میں جناب ارشد فیروز صاحب کا بھی تہہ دل سے شکریہ کیا جنہوں نے اس تقریب کی صدارت قبول کی اور بڑے جوش و خروس کے ساتھ جلسے میں شامل ہوئے اور اپنی قیمتی رائے اور معلومات اپنی تقریر کے ذریعے لوگوں کے بیچ شیئر کی , پروفیسر شکیل احمد قاسمی صاحب نے اپنی تقریرمیں کہا کہ اپنے قوم کی نمایاں شخصیت اور ان کے کارنامے کو یاد کرنا بہت ضروری ہے , تب ہی تو ہماری نسل یہ جان سکے گی کہ ہمارے بڑوں نے ماضی میں ہمارے معاشرے کے لیے کتنی قربانیاں دیں, پروفیسر شکیل احمد قاسمی صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ فاطمہ شیخ ایوارڈ کے نام سے اسکولوں اور کالجوں میں بچیوں کے بیچ فاطمہ شیخ ایوارڈ دیا جائے جو ان کے علمی صلاحیت کو سراہنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہو - محمد پرویز انور نے فرمایا کہ ہمیں یہ چاہیے کہ فاطمہ شیخ کی تصویر اور ان کے بارے میں معلوماتی کتابچہ وزیر اعلی وزیر تعلیم اور گورنر کو پیش کیا جائے اور فاطمہ شیخ کی تصویر کو ان کے دفتر میں لگانے کی مانگ کی جائے اور تعلیم کے حلقے میں نمایاں کام کرنے والی کسی خاتون کو فاطمہ شیخ ایوارڈ دیا جائے- معروف صحافی انوار الہدی صاحب نے فاطمہ شیخ کے بارے میں تفصیلی جانکاری شرکا کے بیچ شیئر کی, اسحاق اثر صاحب کی تقریر کو بھی لوگوں نے بہت سراہا جو کہ چھوٹی مگر بہت معلوماتی تھی حافظ ضیاء اللہ صاحب نے کہا کہ ہمارا ملک ساوتری بائی پھولے کو تو یاد رکھ رہا ہے لیکن ہمارے قوم کی ایک خاتون جس نے ساوتری بھائی پھولے کے ساتھ شانہ بشانہ قدم سے قدم ملا کر چلی ان کو بھول گیا ہے میں محمد پرویز انور کی تعریف کرتا ہوں جنہوں نے فاطمہ شیخ کو یاد کرنے کے لیے اس تقریب کا انعقاد کیا۔تنویر انصاری صاحب نے فاطمہ شیخ کے بارے میں بڑی گہرائی سے مطالعہ کر اپنی تحقیقی تقریر کو لوگوں کے بیچ پیش کیا جس کی وہاں موجود لوگوں نے بہت تعریف کی- خورشید انور صاحب نے پورے پروگرام کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جسے وہ اپنے یوٹیوب چینل پر پیش کریں گے- جناب ارشد فیروز صاحب کی صدارتی خطبے نے تمام لوگوں کا دل جیت لیا اور موجود لوگوں نے ان کی شمولیت کو تہہ دل سے سراہا- اخر میں پروگرام جناب پرویز صاحب کی شکریہ کی تجویز کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ڈاکٹر اظہار احمد صاحب نے محفل میں موجود شرکا کی دل کھول کر ضیافت کی جس کی لوگوں نے دل کی گہرائیوں سے پذیرائی کی۔محبان اردو منتظمہ کمیٹی:- صدر نسرین خاتون نائب صدر پروفیسر تنویر احسن نظامی شبیر زبیری و ہنا شبیر سیکرٹری محمد پرویز انور مشیر ہ سید شاہ جمال کاکوی, ممبران پروفیسر سعد اللہ قادری شاداب عالم و محمد نایاب۔
Friday, 10 January 2025
ڈاکٹر ریحان غنی غلام سرور ایوارڈ و عبدالسلام انصاری بیتاب صدیقی ایوارڈ سے ہوئے سرفراز
پٹنہ، یوم اردو تقریب کے موقع پر قومی اساتذہ تنظیم بہار نے اردو کے بے لوث خادم، اردو تحریکوں کی جان، مشہور و معروف صحافی، روزنامہ تصدیق کے مدیر اعلی و نائب صدر اردو ایکشن کمیٹی بہار کو قومی اساتذہ تنظیم بہار نے ان کو تحریکی، صحافتی و سماجی خدمات کے لئے الحاج غلام سرور ایوارڈ سے نوازا۔ ڈاکٹر ریحان غنی 1952میں پھلواری شریف میں پیدا ہوئے۔ وہیں ہائی اسکول سے 1967میں میٹرک اور پٹنہ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1978 میں شیر بہار غلام سرور کے اخبار سے صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے قبل وہ ان کی اردو تحریک سے جڑ چکے تھے۔ ریحان غنی 1981 سے 1983 تک اور پھر 1985 سے 1991 تک قومی آواز پٹنہ ایڈیشن کے شعبہ ادارت سے وا بستہ رہے۔ درمیان میں محکمہ راج بھاشا کے تحت سہرسہ بلاک آفس میں اردو مترجم کے عہدے پر فائز رہے۔ قومی آواز بند ہونے کے بعد وہ مختلف اخبارات سے وابستہ رہے جن میں انقلاب جدید پٹنہ، نیا اردو سما چار ناگپور، اقرا کلکتہ، پندار پٹنہ میں بھی صحافتی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس وقت وہ روزنامہ تصدیق کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ ان کی اب تک دو کتابیں" قوس قزح"اور " اردوئے معلیٰ کی ادبی خدمات" منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کا کالم" دو ٹوک " بہت مشہور ہے۔ ان کی صحافتی خدمات 43 سال پر محیط ہیں۔
دوسری جانب ہردلعزیز و بہت ہی متحرک و فعال افسر و سماجی، ملی خدمتگار، جو اردو، عربی و فارسی زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے فکرمند رہنے والے جناب عبدالسلام انصاری سیکریٹری بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ و ڈپٹی ڈائریکٹر سیکنڈری ایجوکیشن بہار کو عربی، فارسی زبان کے اساتذہ کی بحالی کرانے میں اہم رول ادا کرنے و اردو زبان کی ترقی کے لئے بیتاب رہنے کے اعتراف میں قومی اساتذہ تنظیم بہار نے بیتاب صدیقی ایوارڈ سے نوازہ ہے۔ عبدالسلام انصاری کے والد اسکول میں استاد تھے اور انہوں نے بہت سادہ زندگی گزارا ہے۔ ان کا ہر خواس و عام سے دوستانہ تعلق رہتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیشہ وارانہ زندگی کی شروعات ایک استاد کی حیثیت سے کی تھی پھر وہ عدالت میں پیش کار ہوئے اور اپنی لگن و محنت کے بوتے فارسی زبان کے ساتھ بہار پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا۔ پہلے تو انہوں نے اڈمنیسٹریشن کے شعبہ میں خدمات انجام دئے پھر وہ تعلیمی شعبہ کے افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے لگے۔ جناب انصاری کو اسی شعبہ میں مقبولیت حاصل ہوئی، اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے انہوں نے بڑے خدمات انجام دئے ہیں۔ عربی زبان کے اساتذہ کی بحالی کی جو روایت بہار میں قائم ہوئی ہے اس کے لئے قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع کے ساتھ جناب عبدالسلام انصاری کو بھی اعزاز جاتا ہے۔ وہ سرکاری اسکولوں کے ساتھ ہی پرائیویٹ اسکولوں میں بھی اردو زبان کو لازمی طور پر پڑھوانے کے لئے فکرمند رہتے ہیں۔ ڈاکٹر ریحان غنی و عبدالسلام انصاری کو وزیر اقلیتی فلاح زماں خان و سابق ایم پی راجیہ سبھا ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے مشترکہ طور پر قومی اساتذہ تنظیم بہار کے صدر تاج العارفین ، کنوینر محمد رفیع اور سیکریٹری محمد تاج الدین کی موجودگی میں دی ایوارڈ سے نوازہ، اس موقع پر الحاج ارشاد اللہ چیئرمین بہار سنی وقف بورڈ پٹنہ، امتیاز احمد کریمی، پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی اور ایم ایل سی آفاق احمد وغیرہ موجود تھے۔ اردو آبادی میں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے اس فیصلے سے پوری اردو آبادی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ڈاکٹر ریحان غنی و عبدالسلام انصاری کو ایوارڈ ملنے پر ڈاکٹر احمد اشفاق کریم، امتیاز احمد کریمی، پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی، اشرف فرید، تاج العارفین، محمد رفیع، محمد تاج الدین، ڈاکٹر انوار الھدیٰ، اشرف النبی قیصر، منہاج ڈھاکوی، عبدالباقی صدیقی ، آفتاب عالم سکریٹری قومی اساتذہ تنظیم مظفر پور اور عظیم الدین انصاری وغیرہ نے مبارکباد پیش کی ہے۔
Thursday, 9 January 2025
میانمار کی فوج نے اپنے ہی ملک پر فضائی حملہ کر دیا؟ 40 افراد ہلاک، کئی دیگر زخمی
میانمار کے مغربی علاقہ واقع ایک گاو¿ں پر فوج کے ذریعہ فضائی حملہ کر دیا گیا۔ اس حملے میں کم از کم 40 لوگ مارے گئے اور دیگر 20 زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ بدھ (7 جنوری) کو رامری جزیرہ کے کیواو¿ک نی ماو گاو¿ں پر کیا گیا۔ یہ جزیرہ نسلی اراکان آرمی کے کنٹرول میں تھا۔ حملے کی وجہ سے کئی گھروں میں آگ لگ گئی۔ سینکڑوں گھر جل کر راکھ ہو گئے۔ اراکان آرمی کے ترجمان کھائینگ تھوکھا نے اس حملے کے حوالے سے بتایا کہ ”اس حملے میں خواتین اور بچوں سمیت بہت سے لوگ مارے گئے۔ اس کے علاوہ فضائی حملے سے لگنے والی آگ نے گاو¿ں کے 500 سے زائد مکانات کو تباہ کر دیا۔ یہ حملہ اراکان آرمی کے زیر کنٹرول علاقے میں ہوا۔“
مقامی افسران اور خیراتی ادارے کے مطابق یہ حملہ میانمار کی فوج کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ فوج نے اب تک اس واقعہ کی تصدیق نہیں کی ہے۔ واضح ہو کہ متاثرہ گاو¿ں میں انٹرنیٹ اور موبائل خدمات کی سخت پابندی کی وجہ سے واقعہ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس حملے کے بارے میں نسلی اراکان آرمی اور علاقائی تنظیموں نے جانکاری دی ہے، لیکن میانمار حکومت یا فوج کی جانب سے اب تک کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ حملہ میانمار میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور تشدد کا حصہ ہے جو فروری 2021 میں فوج کے ذریعہ جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے جاری ہے۔ فوج کے پ±رتشدد جبر کے خلاف احتجاج کرنے والے بہت سے لوگ اب مسلح مزاحمت میں شامل ہو گئے ہیں۔ میانمار کے کئی حصوں میں نسلی گروہوں اور فوج کے درمیان تصادم بڑھتا جا رہا ہے جس سے حالات اور بھی مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔
ایران نے 2024 میں 901 لوگوں کو دی پھانسی کی سزا، 31 خواتین بھی شامل
حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کی جانب سے دی گئی اطلاع کے مطابق گزشتہ سال یعنی 2024 میں ہی کم از کم 901 لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ ایران میں سال بہ سال پھانسی کی سزا میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر 2023 کی بات کریں تو ا±س سال 853 لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ واضح ہو کہ ایران میں پھانسی کی سزا پانے والے لوگوں کی تعداد اس لیے بڑھ رہی ہے کہ وہاں قتل، منشیات کی اسمگلنگ، عصمت دری اور جنسی ہراسانی جیسے معاملوں کو ناقابل معافی جرم تصور کیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے مطابق چین کے بعد ایران دنیا کا دوسرا ایسا ملک ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو پھانسی پر چڑھایا جاتا ہے۔ حالانکہ چین کے حوالے سے موصول اعداد و شمار کو حتمی اور قابل یقین نہیں مانا جا سکتا جبکہ ایران کے حوالے سے موصول اعداد و شمار پر یقین کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کا ماننا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ماتحت کام کرنے والی تنظیمیں پھانسی کا استعمال ایک ہتھیار کے طور پر کرتی ہیں۔ اس کے ذریعہ سماج میں ڈر و خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 23-2022 میں ایران میں ملکی سطح پر ہوئے مظاہرے کی وجہ سے بھی پھانسی کے معاملوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ ایران، پھانسی کی سزا کے حوالے سے کوئی آفیشیل اعداد و شمار فراہم نہیں کراتا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیمیں ناروے اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعہ ہمیشہ سے پختہ اعداد و شمار پیش کرتے رہے ہیں۔
ایران میں خواتین کو پھانسی دینے کے معاملوں میں بھی خاصا اضافہ ہوا ہے۔ 2024 میں جن 901 لوگوں کو پھانسی دی گئی ہے اس میں 31 خواتین شامل ہیں۔ اگر گزشتہ 10 سالوں کی بات کی جائے تو 2015 کے بعد 2042 میں سب سے زیادہ لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ 2015 میں 972 لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی جب کہ 2024 میں 901 لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ ایران میں پھانسی دینے کے حوالے سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کی گزشتہ 10 سالوں کی رپورٹ کے مطابق 2014 میں 743، 2015 میں 977، 2016 میں 567، 2017 میں 507، 2018 میں 253، 2019 میں 251، 2020 میں 246، 2021 میں 314، 2022 میں 576، 2023 میں 853 اور 2024 میں 901 لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔
’یہ ایسا ہائی کورٹ ہے جس کے بارے میں فکر ہوتی ہے‘، سپریم کورٹ کا الٰہ آباد ہائی کورٹ پر تلخ تبصرہ
سپریم کورٹ نے آج ایک معاملے پر سماعت کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے تعلق سے تلخ تبصرہ کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ان ہائی کورٹس میں شامل ہے، جس کے بارے میں ہمیں فکر ہونی چاہیے۔ یہ تبصرہ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے کیا ہے جو کہ عباس انصاری سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔
سپریم کورٹ نے جمعرات (9 جنوری) کو لکھنو¿کے جیامﺅ میں اس متنازعہ جگہ پر وزیر اعظم رہائش منصوبہ کے تحت رہائشی یونٹس کی تعمیر کو لے کر موجودہ حالات بنائے رکھنے کا حکم دیا جس پر مختار انصاری کے بیٹے اپنی ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ 2020 میں لکھنو¿ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مختار اور عباس انصاری سمیت اس کے بیٹوں کے بنگلے کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا تھا۔ حکومت پی ایم آواس یوجنا کے تحت اس متنازعہ جگہ پر فلیٹ بنانے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ اس معاملے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کا رویہ کچھ ایسا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کو اس کے خلاف تلخ تبصرہ کرنا پڑا۔
عباس انصاری کی طرف سے پیش سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے آج سپریم کورٹ کی بنچ کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ زمین پر قبضہ سے متعلق عرضی کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ کے سامنے بار بار فہرست بند کیا گیا، لیکن کوئی عبوری روک نہیں لگائی گئی۔ گزشتہ سال 21 اکتوبر کو عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ سے عبوری روک سے متعلق درخواست پر جلد از جلد سماعت کرنے کو کہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب جمعرات کو معاملہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے آیا تو ایڈووکیٹ سبل نے بنچ کے سامنے پوری بات رکھ دی اور کہا کہ ’سپریم آرڈر‘ کے باوجود معاملے کی سماعت الٰہ آباد ہائی کورٹ میں نہیں ہوئی۔ حقیقت جاننے کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ ”کچھ ہائی کورٹ کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن الٰہ آباد ہائی کورٹ ان ہائی کورٹس میں سے ایک ہے، جس کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے۔“
مقامِ تعمیر پر موجودہ حالات کو برقرار رکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ کی بنچ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کو اس معاملے میں جلد سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ ”چونکہ ہم نے نوٹس جاری نہیں کیا ہے اور ہائی کورٹ کی رجسٹری سے کوئی رپورٹ بھی حاصل نہیں کی ہے، اس لیے ہم اس بارے میں کوئی رائے ظاہر کرنے کے لیے خواہش مند نہیں ہیں کہ ایسے کون سے حالات تھے جن میں عرضی دہندہ کی رٹ پٹیشن پر بنچ نے غور نہیں کیا، جبکہ اسے وقت وقت پر فہرست بند کیا گیا تھا۔“
عدالت نے کہا کہ عرضی دہندگان نے واضح طور سے کہا ہے کہ اتھارٹیز نے لکھنو¿کے جیامﺅ گاو¿ں میں واقع پلاٹ نمبر 93 پر تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے، جس پر عرضی دہندہ اپنی ملکیت کا دعویٰ کر رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر تیسرے فریق کے حقوق بنائے جاتے ہیں تو اس سے عرضی دہندگان کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ”ہم اس درخواست کا نمٹارہ افسران اور عرضی دہندگان کو یہ ہدایت دیتے ہوئے کرتے ہیں کہ وہ معاملے کی سماعت ہائی کورٹ میں ہونے تک اس جگہ پر موجودہ حالات بنائے رکھیں۔“
راہل گاندھی کی معروف ڈیری برانڈ ’کیونٹرز‘ کے بانیوں سے ملاقات، روایات اور جدت کے امتزاج پر گفتگو
راہل گاندھی نے حال ہی میں مشہور ڈیری برانڈ کیونٹرز کے بانیوں کے ساتھ گفتگو کی تھی۔ اس ملاقات کا مقصد ایک صدی پرانے اس برانڈ کی جدت سے بھرپور کاروباری حکمت عملیوں اور اس کے توسیعی منصوبوں کو سمجھنا تھا۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے اس ملاقات کی تفصیلات بیان کیں۔ خیال رہے کہ آزادی سے پہلے کے دور میں ایک مینوفیکچرنگ برانڈ کے طور پر شروع ہوا ’کیونٹرز‘ آج صارفین کو براہ راست خدمات فراہم کرنے والی ایک بڑی کمپنی بن چکا ہے، جس کے ملک بھر کے 65 شہروں میں 200 سے زائد اسٹورز موجود ہیں۔
راہل گاندھی نے گفتگو کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی کہ کیونٹرز نے پرانے روایتی ذائقوں کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے ذائقوں کی آزمائش کیسے کی۔ بانیوں نے اپنے کاروباری سفر کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے چھوٹے شہروں میں، خاص طور پر ٹئیر-2، ٹئیر-3 اور ٹئیر-4 علاقوں میں برانڈ کی توسیع کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے حالیہ اقدامات جیسے فلیورڈ ملک اور گھی جیسی ایف ایم سی جی مصنوعات میں داخلے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
گفتگو میں انہوں نے کاروباری چیلنجز کا بھی ذکر کیا، جیسے کہ ایف ایم سی جی سیکٹر میں کم مارجن اور بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی مسابقت۔ اس کے باوجود ان کا عزم ہے کہ وہ جدت اور روایات کے امتزاج سے ایک مستند اور قابل احترام کاروبار کو فروغ دیں گے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ یہ ملاقات صرف کیونٹرز کی کہانی سننے تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح دیانت دار اور اصولوں کے مطابق کاروبار ہندوستان کے کاروباری جذبے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے کاروبار، جو معاشی ترقی کا ذریعہ ہیں، کو مزید تعاون فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ترقی کی نئی منازل طے کر سکیں۔
راہل گاندھی کی یہ ویڈیو ان کے کاروباری برادری کے ساتھ مربوط اور معیشت میں حقیقی کردار ادا کرنے والے افراد کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ انہوں نے ناظرین کو دعوت دی کہ وہ مکمل ویڈیو دیکھ کر کیونٹرز کے سفر، حکمت عملیوں اور مستقبل کے خوابوں کے بارے میں جانیں۔
راہل گاندھی نے اسی ویڈیو کو ایکس پر بھی پوسٹ کیا، جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا، ”کیونٹرز جیسے برانڈز، جو کئی نسلوں سے ہماری معیشت کی ترقی کے محرک رہے ہیں، کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔“
چھتیس گڑھ: منگیلی میں دردناک حادثہ، پلانٹ میں چمنی گرنے سے 30 افراد ملبہ میں دبے، 5 سے زائد اموات کا اندیشہ
چھتیس گڑھ واقع کسم پلانٹ میں دردناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں چمنی گرنے سے ملبہ میں کم از کم 30 افراد دب گئے ہیں۔ اس حادثہ میں 5 سے زائد اموات کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حادثہ کے فوراً بعد ریسکیو مہم شروع ہو گئی ہے اور اب تک 2 لوگوں کو ملبہ سے نکال کر اسپتال میں داخل بھی کرایا گیا ہے۔ پولیس و انتظامیہ کی ٹیم جائے حادثہ پر موجود ہے اور ملبہ میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں لگاتار جاری ہیں۔
واقعہ چھتیس گڑھ کے مونگیلی ضلع کا ہے جہاں بلاس پور-رائے پور قومی شاہراہ سے ملحق رامبوڈ گاو¿ں واقع کسم پلانٹ میں اچانک بھاری سیلو (سامان رکھنے کا ذخیرہ) اچانک گر گیا۔ نتیجہ کار چمنی گر گیا اور پھر وہاں پر کام کر رہے تقریباً 30 مزدور ملبہ میں دب گئے۔ حادثہ پیش آتے ہی وہاں موجود دیگر ملازمین میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ فوری طور پر حادثہ کی جانکاری پولیس و انتظامیہ کو دی گئی۔
حادثہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع کے اعلیٰ افسران جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی ریسکیو ٹیم راحت رسانی میں مصروف ہے۔ ابھی تک ملبہ سے 2 مزدوروں کو باہر نکالا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کسم پلانٹ کو علاقے میں اسپنج آئرن فیکٹری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ فیکٹری ابھی زیر تعمیر ہے۔ جمعرات کو کام کے دوران ہی چمنی گر پڑی اور یہ حادثہ پیش آ گیا۔
عجیب و غریب بیماری، 3 دن میں گنجے ہوئے 60 لوگ
مہاراشٹرکے بلڈھانا ضلع کے کچھ گائوں سے عجیب و غریب خبر سامنے آئی ہے۔ یہاں اچانک لوگ گنجے پن کا شکار ہونے لگے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بال گرنے کی شکایت کرتے ہیں اور کچھ ہی دنوں کے اندر پورے طور پر گنجے ہو جاتے ہیں۔ کئی لوگوں کے تو محض ایک ہفتے میں سر کے سارے بال اڑ گئے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق یہاں کے 3 گاو
¿ں میں گزشتہ 3 دن میں اچانک 60 لوگ گنجے پن کا شکار ہوئے ہیں۔
شہر کے شہ گاو¿ں تحصیل کے بونڈ گاو¿ں، کالوڑ اور ہنگنا گاو¿ں میں بچوں سے لے کر بزرگوں تک سبھی لوگوں کے بال جھڑنے لگے ہیں۔ اس سے سبھی گنجے ہوتے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ خواتین بھی اس کا شکار ہونے سے نہیں بچ پا رہی ہیں۔ اس معاملے کو لے کر ضلع انتظامیہ مستعد ہو گئی ہے اور یہاں کے پانی کی جانچ کی جا رہی ہے۔
شہ گاو¿ں کی صحت افسر ڈاکٹر دیپالی باہیکر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ شہ گاو¿ں تعلقہ کے کلوڑ، بوند گاو¿ں اور ہنگنا گاو¿ں میں صحت محکمہ کی ٹیم نے منگل کو علاقے کا سروے کیا ہے اور اب متاثرہ لوگوں کا علاج شروع ہو چکا ہے۔ ان تینوں گاو¿ں میں پچاس سے زیادہ لوگ صرف ایک ہفتے میں گنجے ہو گئے ہیں۔ بہت لوگوں کے سر سے بالوں کے گچھے گچھے الگ ہو رہے ہیں۔
ضلع کونسل صحت محکمہ کے لوگوں نے مریضوں میں پائی گئی علامات کو دیکھتے ہوئے ان کا علاج شروع کر دیا ہے۔ متاثرین کو ماہر امراض جلد کی صلاح بھی لینے کے لیے کہا گیا ہے۔ ان گاو¿ں سے جانچ کے لیے پانی کے نمونے بھی لیے گئے ہیں۔ اس پانی میں کسی ملاوٹ کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے انہیں لیب میں بھیجا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر نے لوگوں کو پانی کے نمونوں کی رپورٹ آنے تک اپنی صحت کا خوب خیال رکھنے کو کہا ہے۔
غور طلب ہے کہ امریکن اکیڈمی آف ڈرمیٹولاجی (آڈ) کے مطابق ایک دن میں کسی شخص کے 50 سے 100 بال جھڑنا عام بات ہے۔ اگر کسی کے سر پر تقریباً ایک لاکھ بال ہیں تو ایسا سمجھیے کہ یہ بہت غور کرنے والی بات نہیں ہے۔ یہ ایک سائیکل کی طرح ہے کہ کچھ بال جاتے ہیں تو ان کی جگہ نئے بال آجاتے ہیں۔
موجودہ جی ایس ٹی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی: کانگریس
نئی دہلی: ایک جانب جہاں دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال جاٹوں کے ریزرویشن کے لئے وزیر اعظم کو خط لکھنے کی بات کر رہے ہیں اور بی جے پی کی شکایت آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے کر رہے ہیں، وہیں دہلی کی کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد عوام کو کس طرح راحت پہنچائی جا سکتی ہے اس کی بات کر رہی ہے۔ کانگریس نے ابھی تک دو ضمانتوں کا اعلان کیا ہے، جس میں خواتین کو 2500 روپے ماہانہ اور علاج کے لئے ہر دہلی والے کو 25 لاکھ روپے تک مفت علاج کا وعدہ کیا ہے۔
دریں اثنا، کانگریس پارٹی نے جی ایس ٹی کے نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آج ملک کے 12 بڑے شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنسز کا انعقاد کیا۔ اسی ضمن میں دہلی میں کانگریس کی جانب سے رکن پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل نے صحافیوں سے خطاب کیا۔
شکتی سنگھ گوہل نے بتایا کہ کس طرح دہلی کے عام لوگوں سے زیادہ ٹیکس لیا جا رہا ہے اور کارپوریٹ گھرانوں کو ٹیکس میں راحت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے موجودہ ٹیکس نظام یعنی جی ایس ٹی کو ’ٹیکس دہشت گردی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت نے غلط جی ایس ٹی لاگو کر کے عوام کی زندگی مشکل میں ڈال دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نو طرح کے جی ایس ٹی سلیب بنائے ہوئے ہیں جس میں سب سے زیادہ 28 فیصد کا سلیب ہے۔
اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ اگر وکوئی شخص تھری وہیلر خریدتا ہے تو اس کو 28 فیصد جی ایس ٹی دینا پڑتا ہے جبکہ تھری وہیلر خریدنے والا بھی عام آدمی ہوتا ہے اور تھری وہیلر میں سفر کرنے والے بھی آم آدمی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سائیکل خریدنے والے کو بھی 12 فیصد جی ایس ٹی دینا پڑتا ہے۔ گوہل نے کہا کہ ایک جانب تو عام آدمی سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے دوسری جانب کارپوریٹ گھرانوں کو راحت دی جا رہی ہے۔
شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ کانگریس رہنما راہل گاندھی اس ٹیکس کو گبر سنگھ ٹیکس کہتے ہیں اور وہ صحیح ہیں کیونکہ یہ ٹیکس عام آدمی کے لئے گبر ہی بن گیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کانگریس کے قائد منموہن سنگھ کی وہ بات یاد کرتے ہوئے دہرایا کہ جی ایس ٹی نظام کا مقصد عام آدمی کو راحت پہنچانا تھا اور ٹیکس نظام کو آسان بنانا تھا لیکن موجودہ حکومت نے جی ایس ٹی کو غلط طریقہ سے لاگو کر کے عام آدمی کی کمر توڑ دی۔
اسی سلسلہ میں وجے واڑا میں پروین چکرورتی نے صحافیوں سے خطاب کیا جی ایس ٹی کی ساخت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، "جی ایس ٹی ایک ناقص ٹیکس ہے کیونکہ غریب اور امیر ایک ہی شرح پر ٹیکس دیتے ہیں۔ ایک اچھی ٹیکس پالیسی میں امیر افراد سے زیادہ اور غریبوں سے کم ٹیکس لیا جاتا ہے، جیسا کہ انکم ٹیکس میں ہوتا ہے۔ مودی حکومت نے اس اصول کے برعکس کیا ہے۔“ انہوں نے زور دیا کہ 2019 میں بڑے کارپوریٹس کے لیے ٹیکس میں کمی کے بعد، حکومت نے جی ایس ٹی کی بلند شرحوں کے ذریعے اس خسارے کو پورا کیا۔
جے پور میں، ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ مودی حکومت نے بڑے کاروباروں کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ صرف کانگریس کا مو¿قف نہیں بلکہ سرکاری رپورٹوں میں موجود حقائق ہیں۔“
کانگریس نے یہ بھی کہا کہ 65 فیصد جی ایس ٹی کے تحت زیادہ تر اشیائ پر زیادہ شرح والے ’ناقص خراب ٹیکس‘ لاگو ہیں، جبکہ صرف 35 فیصد اشیائ پر کم شرح والے "اچھے ٹیکس" ہیں۔ یہ عدم توازن غریب عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔ کانگریس نے زور دیا کہ جی ایس ٹی کا ڈھانچہ فوری نظرثانی کا متقاضی ہے تاکہ غریب عوام کو راحت دی جا سکے اور ملک میں اقتصادی مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔
ججوں کے بچوں کو جج بننے سے روکنے کے بجائے معیار کو اعلیٰ بنائیں، سپریم کورٹ کالجیم رکن نے دی صلاح
سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے ذریعہ کچھ برسوں کے لیے موجودہ یا سابق ججوں کے بچوں کو ہائی کورٹ کے جج طور پر تقرر کرنے کے لیے منتخب نہیں کرنے کی تجویز دی گئی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کالجیم میں شامل ایک سینئر رکن نے تجویز پیش کی کہ ججوں کے بچوں کو پوری طرح سے نہیں روکنا چاہیے لیکن ان کے لیے معیار کو اعلیٰ کرنا ہوگا۔ جج کی اس تجویز کی وکیلوں کے درمیان خوب چرچا ہو رہی ہے۔ وکیل اس کی تعریف کر رہے ہیں۔
وکیلوں کی طویل عرصے سے شکایت تھی کہ عام طور پر ہائی کورٹ کا جج بننے کے لیے موجودہ یا سابق ججوں کے اہل خانہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کالجیم میں شامل اس رکن کا کہنا ہے کہ ایسے امیدواروں کے انتخاب کو پوری طرح سے روکنا امتیازی سلوک ہوگا۔ ایسا اس لیے کہ عدالتی تقرریاں صرف اہلیت اور مناسبیت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
اس رکن کے ذریعہ یہ بھی جواز دیا گیا کہ یہ قدم عدالتی نظام کو ایسی صلاحیت سے محروم کر سکتی، جن کی ضرورت وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ حالانکہ انہوں نے پہلے جج کے ذریعہ مجوزہ مقاصد سے اتفاق ظاہر کیا۔ انہوں نے اس دلیل کے لیے وکیلوں کے درمیان عدم اطمینان کا احساس ہونے کا جواز دیا۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ ایسے انتخاب کئی مرتبہ قابل ہوتے ہیں۔ ٹائمز ا?ف انڈیا نے ذرائع کے حوالے سے یہ بات کہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وکیلوں کا عدم اطمینان بدھ کو 'ف±ل کورٹ ریفرنس' معاملہ کے دوران سامنے آیا جب سپریم کورٹ کے تین سابق ججوں (جسٹس کلدیپ سنگھ، جسٹس ایم جگن ناتھ راو¿ اور جسٹس ایچ ایس بیدی) کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ان تینوں ججوں کے بیٹوں کو ہائی کورٹ کے جج کے طور پر تقرر کیا گیا تھا۔ انم یں سے ایک نے صرف چھ مہینے میں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور پھر سے سپریم کورٹ مں وکالت شروع کر دی۔
بابا صدیقی قتل معاملہ: پولیس پیادوں کو پکڑ رہی، ماسٹر مائنڈ تاحال فرار، ذیشان صدیقی کا الزام
ممبئی: این سی پی کے مرحوم رہنما بابا صدیقی کے بیٹے ذیشان صدیقی نے بدھ کو آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے اپنے والد کے قتل کیس کی تحقیقات پر سخت عدم اطمینان ظاہر کیا۔ انہوں نے پر الزام لگایا کہ ’پولیس اصل سازشی ماسٹر مائنڈ کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے اور صرف چھوٹے کرداروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔‘
ذیشان صدیقی نے کہا، "قتل کیس میں تقریباً 4590 صفحات کی چارج شیٹ جمع کرائی گئی ہے، مگر ہمیں یہ نہیں دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے بلڈرز کے کردار کو مسترد کیا ہے، جس سے ہم اتفاق نہیں کرتے۔ اگر انمول بشنوئی کو ملزم ٹھہرایا جا رہا ہے، تو کیا اس سے پوچھ گچھ کی گئی؟ کیا اس نے کہا ہے کہ کسی بلڈر نے اسے قتل کرنے کا کہا؟“
انہوں نے مزید کہا، "پولیس نے کن بلڈرز سے پوچھ گچھ کی؟ میرے والد ہمیشہ غریبوں کی حمایت کرتے تھے، جس سے کچھ بلڈرز کو مشکلات کا سامنا تھا۔ پولیس کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس نے کتنے بلڈرز کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا، تو تحقیقات پر اعتماد ممکن نہیں۔"
ذیشان صدیقی نے کلیدی ملزم کی گرفتاری میں ناکامی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا، "پولیس ملزم انمول بشنوئی کو گرفتار کیوں نہیں کر رہی؟ اگر الزامات ہیں تو اسے لایا کیوں نہیں جا رہا؟ یہ واقعہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔“
ذیشان نے کہا کہ چارج شیٹ کے مکمل مطالعے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے، مگر ان کا الزام تھا کہ والد کے قتل کے بعد حقائق کو توڑ مروڑ کر بشنوئی کے خلاف کہانی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر ہمارے تحفظ کے مطالبات کو نظرانداز نہ کیا جاتا، تو یہ سانحہ روکا جا سکتا تھا۔"
آندھرا پردیش: تروپتی مندر میں بھگدڑ سے 6 عقیدت مند ہلاک، 40 زخمی
آندھرا پردیش کے تروپتی مندر میں بھگدڑ مچنے سے چھ لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ بھگدڑ کی وجہ سے 40 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس حادثے میں 6 افراد شدید زخمی ہیں۔ تروپتی میں سالانہ ویکنٹھ درشن ٹکٹ کاو¿نٹر پر افراتفری مچ گئی جب تروملا تروپتی دیوستھانم (ٹی ٹی ڈی) نے ویکنتھا ایکادشی 2025 کے لیے آن لائن بکنگ اور ٹکٹوں کی ریلیز شروع کی۔
اس حادثے کے بارے میں پی ایم نے کہا،” میں آندھرا پردیش کے تروپتی میں بھگدڑ سے دکھی ہوں۔ میرے خیالات ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کو کھو دیا ہے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ آندھرا پردیش حکومت متاثرہ لوگوں کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔“
آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے تروپتی میں وشنو نواسم کے قریب تروملا سریوری ویکنٹھ دوار میں درشن کے لیے آنے والی بھگدڑ میں عقیدت مندوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ انیتا نے بھی اس حادثے پر غم کا اظہار کیا ہے۔
سی ایم چندرابابو نے کہا، "میں تروپتی میں وشنو نواسم کے قریب تروملا سریوری ویکنتھا دوار کے درشن کے لیے ٹوکن لینے کے لیے بھگدڑ میں بہت سے عقیدت مندوں کی موت سے صدمے میں ہوں۔ جنازے کے لیے جمع ہونے والے ہجوم نے مجھے بہت پریشان کر دیا ہے، اس اطلاع کے پیش نظر میں نے اعلیٰ حکام کو موقع پر جا کر امدادی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بہتر طبی علاج فراہم کیا جائے اور ان کی جان بچائی جا سکے۔“
کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "تروپتی میں بھگدڑ کا المناک واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ سوگوار خاندانوں کے ساتھ میری دلی تعزیت ہے۔ میں زخمیوں کے جلد صحت یاب ہونے کی خواہش کرتا ہوں۔ میں کانگریس کے رہنماو¿ں اور کارکنوں سے اس مشکل وقت میں ہر ممکن مدد کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔"
یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب اچانک کاو¿نٹر کھلنے پر بھیڑ قابو سے باہر ہو گئی اور ٹکٹوں کے لیے افراتفری مچ گئی۔ دریں اثنا، واضح رہے کہ تروپتی مندر نے ویکنتھا ایکادشی تہوار کے لیے تقریباً 1.20 ہزار مفت ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔


