Sunday, 22 December 2024

اتل خودکشی معاملے میں نیا موڑ، نکیتا کا الزام، اتل سبھاش کی تین گرل فرینڈز تھیں؟

 





اتل سبھاش کی موت کا معاملہ ہر روز نیا موڑ لے رہا ہے۔ اتل سبھاش کی ملزم بیوی نکیتا سنگھانیہ نے پولیس پوچھ تاچھ کے دوران متوفی اتل کے کردار پر سنگین الزامات لگائے ہیں جب کہ اتل سبھاش کے بھائی نے نکیتا کے دعوو¿ں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ ثبوت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔


پولس پوچھ تاچھ کے دوران نکیتا سنگھانیہ نے متوفی اتل کے کردار پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ نکیتا نے دعویٰ کیا ہے کہ اتل کی تین گرل فرینڈ تھیں۔ وہ ان خواتین پر بھاری رقم خرچ کرتا تھا۔ اپنی خاندانی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا۔ نکیتا نے کہا، "اتل نے میرے ساتھ ٹھیک سے برتاو¿ نہیں کیا اور ہماری شادی شدہ زندگی تناو¿ کا شکار تھی۔ اس کے باہر کے معاملات ہمارے جھگڑوں کی بڑی وجہ تھے۔"



اتل سبھاش کے بھائی نے نکیتا کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ نکیتا کے دعووں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "یہ الزامات صرف اتل کی شبیہ کو خراب کرنے اور معاملے کو موڑنے کے لیے لگائے جا رہے ہیں۔ ہم پہلے ہی اپنے بھائی کی موت پر صدمے میں ہیں اور اس طرح کے الزامات ہمارے درد کو بڑھا رہے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ اتل کا کردار بے داغ تھا۔ جو الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ صرف توجہ ہٹانے اور سچ کو چھپانے کے لیے ہیں۔ پولیس نکیتا سنگھانیہ کے الزامات کی جانچ کر رہی ہے۔ اتل کی موت کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔


اے آئی انجینئر اتل سبھاش نے حال ہی میں بنگلورو میں خودکشی کر لی تھی۔ اتل اصل میں اتر پردیش کا رہنے والا تھا اور بنگلورو میں رہ رہا تھا۔ خودکشی کے بعد اتل کے بھائی کی شکایت پر پہلی ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس معاملے میں اتل کی بیوی اور اس کے خاندان کے چار افراد کے خلاف خودکشی کے لیے اکسانے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔



اُجالا فاؤنڈیشن نے قاسم خورشید کو امیر خسرو ایوارڈ سے نوازا



پٹنہ

پورے وقار اور بلند ترین معیار  و اقدار کے ساتھ اُردو ہندی کی انتہائی محترم شخصیت جن کا رب العزّت پر مصمم یقین رہا اور اپنے بچپن میں ہی والد کی شفقت سے محروم ہونے کے بعد انتہائی مشکل ترین حالات سے گزرتے ہوئے سخت تگ و دو کے بعد اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی اپنی طالب علمی کے زمانے سے ہی درس و تدریس کے ساتھ تخلیقی سفر شروع کیا اور ملک اور بیرون ملک کے رسائل اور جرائد میں شائع بھی ہوتے رہے پھر کڑے وقت میں رشتوں کی بے اعتنائیوں کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہارے اور  کم عمری میں ہی ہندوستان گیر سطح پر سروس کمیشن سے مشتہر کلاس ون آفیسر کے واحد عہدے پر فائز ہوکر ایک تاریخ بھی رقم کی اور بحیثیت صدر شعبہ اور انچارج ڈائریکٹر بھی اپنی صلاحیتوں سے بےحد متاثر کیا وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سربراہی میں یوم تعلیم اور بہار دیوس کی شروعات سے ہی نیشنل سیمینار مشاعرہ کوی سمیلن کے کنوینر کے طور پر لگاتار اپنی خدمات دیں- خود قومی اور بین الاقوامی سیمینار مشاعرے میں مدعو کیے جاتے رہے جن میں حال میں ہی بحرین کا عالمی مشاعرہ اُن کی تخلیقی بصیرت کا غماز ہے- ڈاکٹر قاسم خورشید کی اُردو ہندی اور انگریزی میں 23 سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں امسال ہی اُن کا دو شعری مجموعہ "دل کی کتاب"(اُردو)اور "دستکیں خاموش ہیں"(ہندی)بےحد مقبول ہو رہے ہیں ڈاکٹر قاسم خورشید اعزازی طور پر مُختلف ادبی سماجی تعلیمی اور ثقافتی ادارے کے چیئرمین وائس چیئر مین سیکرٹری ممبر مشاورتی بورڈ بھی ره چکے ہیں مختلف قومی اور بین الاقوامی اعزاز و اکرام سے بھی نوازے جاچکے ہیں اور بڑی بات یہ ہے کہ پوری فعالیت و شدّت کے ساتھ فلاحی کاموں سے جڑے ہوئے بھی ہیں اُن کی ایسی ہی متعدّد خدمات کو ملحوظ رکھتے ہوئے فلاحی ثقافتی ادبی ثقافتی تنظیم اُجالا فاؤنڈیشن نے سال 2024 کا بےحد پرکشش اور اعلیٰ امیر خسرو ایوارڈ ڈاکٹر قاسم خورشید کو دینے کا فیصلہ کیا جسے  انتہائی خوبصورت عالیشان تقریب میں پٹنہ کے بہترین سماجی رہنما جناب ششی شیکھر رستوگی نے عنایت کیا - قاسم خورشید کے اس ایوارڈ پر کثیر تعداد میں اُردو ہندی کی ہر دلعزیز شخصیتوں مداحوں اور سامعین نے پرجوش خیر مقدم کیا محترم ششی شیکھر رستوگی نے کہا کہ یہ ہمارے لیے انتہائی خوشی اور فخر کی بات ہے کہ ڈاکٹر قاسم خورشید جیسی محترم شخصیت کا تعلق بہار سے ہے اور انہوں نے پوری دنیا میں صوبے کا سر بلند کیا ہے ان کے لیے بہُت ساری دعائیں اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ساتھ ہی فاؤڈیشن کے روحِ رواں اور بچوں کی تعلیم نیز ادبی ثقافتی کاموں کیلئے فاؤنڈیشن کے روحِ رواں جناب معین ابر اور اُنکی بڑی ٹیم کو بھی اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ڈاکٹر قاسم خورشید نے فرط جذبات سے لبریز ہوتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب ہر گوشے سے دعائیں اور محبتیں مل رہی ہُوں سوائے اللہ کا شُکر ادا کرنے کے زبان اور بھی کچھ کہنے سے قاصر رہتی ہے میرے لیے یہ اعزاز اس لیے بڑا ہے کہ حضرت امیر خسرو ہندوستانی تہذیب کے ایسے شاعر تھے جن کے روحانی کیف سے بھی زمانہ واقف ہے اور جب تک ہم محبت وطنیت اور روحانیت سے سرشار رہیں گے حضرت امیر خسرو ہماری ملی وراثت کا حصہ رہیں ہے میں اُجالا فاؤنڈیشن کو اور محترم  معین ابر اور اُن کے ہم نوا کو امیر خسرو کی یاد میں اس ایوارڈ کی تفہیم کے لیے بھی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں

ڈاکٹر قاسم خورشید کو امیر خسرو ایوارڈ دیے جانے پر ہر طرف سے پذیرائی جاری ہے

اس موقع پر ڈاکٹر قاسم خورشید کی صدارت میں ایک شاندار مشاعرے اور کوی سمیلن کا بھی انعقاد عمل میں آیا جس میں مطیع الرحمان ساحل  ارادھنا پرساد  وریندر ناتھ وبھاتسو طلعت پروین کاظم رضا پربھات کمار دھون شبانہ عشرت چندر پرکاش اور ناظمِ مشاعرہ کوی سمیلن نسیم احمد نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو یادگار بناتے ہوئے ہندوی کے سب سے بڑے شاعر امیر خسرو کو بھی بہترین خراج دیا

اداکار مشتاق خان ۔ سنیل پال کے اغواکاروںکے خلاف غیر ضمانتی ورانٹ جاری





کامیڈین سنیل پال اور اداکار مشتاق خان کے اغوا معاملے میں پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔ اس معاملے میں ملزم لوی پال، انکت پہاڑی اور شیوم کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ (این بی ڈبلیو) جاری کیا گیا ہے۔ ایک عرضی پر عدالت نے یہ حکم دیا۔ تینوں ملزمین پر ایس پی کی طرف سے 25-25 ہزار روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ملزمین کی تلاش میں پولیس اتراکھنڈ، دہلی سمیت کئی جگہوں پر دستک دے رہی ہے۔


'جاگرن' کی ایک خبر کے مطابق شہر کوتوال ادے پرتاپ سنگھ نے ملزمین کے وارنٹ کے لیے جمعہ کو سی جے ایم عدالت میں ایک درخواست دی تھی۔ ہفتہ کو سماعت کے دوران عدالت نے تینوں ملزمین لوی پال، انکت پہاڑی اور شیوم کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے۔ ملزمین کے لیے گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے بعد پولیس نے املاک قرق کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اے ایس پی سٹی سنجیو باجپئی نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی ملزمین کو گرفتار کرلیا جائے گا۔



قابل ذکر ہے کہ مشہور فلم اداکار مشتاق خان کا ایک ایونٹ بکنگ کے نام پر 20 نومبر کو اغوا کرکے نئی بستی میں لوی پال کے مکان پر رکھ کر تقریباً سوا دو لاکھ روپے کی وصولی کی گئی تھی۔ اسی گروہ پر 2 دسمبر کو کامیڈین سنیل پال کا بھی اسی طریقے سے اغوا کرکے لاکھوں روپے کی وصولی کا الزام ہے۔ اس کا مقدمہ میرٹھ کے لال ک±رتی تھانے میں درج ہے۔ 14 دسمبر کو بجنور پولیس نے اس گروہ کا راز فاش کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو گرفتار کرکے جیل بھیجا تھا۔



کانگریس کا مودی حکومت پر شدید حملہ ،رندیپ سرجے والا نے مرکز سے کئے کئی تلخ سوالات

 





نئی دہلی : پیگاسس اسپائی ویئر معاملے پر ایک بار پھر سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس نے مودی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ کانگریسی رہنما رندیپ سنگھ سرجے والا نے مودی حکومت سے اس تعلق سے جواب مانگا ہے۔ دراصل حال ہی امریکہ کی ایک عدالت نے اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کو قصور وار قرار دیا ہے۔


اس معاملے میں امریکی عدالت کا حکم آنے کے بعد رندیپ سنگھ سرجے والا نے مودی حکومت کی شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا "عدالت کے فیصلے سے ان الزامات کو زور مل رہا ہے کہ ہندوستان میں 300 نمبروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔"


سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے ایک پوسٹ میں سرجے والا نے کہا کہ پیگاسس اسپائی ویئر معاملے کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ غیر قانونی اسپائی ویئر ریکیٹ میں ہندوستانیوں کے 300 واٹس ایپ نمبروں کو کیسے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مرکز سے سوال کیا "جن 300 ناموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، وہ کون ہیں؟ دو مرکزی وزیر کون ہیں؟ تین اپوزیشن رہنما کون ہیں؟ آئینی افسر کون ہے؟ صحافی کون ہیں؟ کاروباری کون ہیں؟ کانگریسی رہنما نے کہا کہ بی جے پی حکومت اور ایجنسیوں نے کون سی جانکاری حاصل کی؟ اس کا کس طرح سے استعمال کیا گیا۔ کیا اب موجودہ حکومت میں سیاسی ایگزیکٹیو/افسران اور این ایس او کی ملکیت والی کمپنی کے خلاف مناسب مجرمانہ معاملے درج کیے جائیں گے۔"



سرجے والا نے آگے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ میٹا بمقابلہ این ایس او میں امریکی عدالت کے فیصلے پر توجہ دے گا؟ کیا سپریم کورٹ 22-2021 میں پیگاسس اسپائی ویئر پر تکنیکی ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ کو عوامی کرے گا؟ کیا سپریم کورٹ اب ہندوستان کے 300 سمیت 1400 واٹس ایپ نمبروں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرنے والے فیصلے کے پیش نظر آگے کی جانچ کرے گا؟ کیا سپریم کورٹ اب پیگاسس معاملے میں انصاف کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے میٹا سے 300 نام خود کو سونپنے کے لیے کہے گا؟"


قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ 2019 سے جڑا ہے۔ تب واٹس ایپ نے 2019 میں این ایس او گروپ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے واٹس ایپ کے ایک بگ کا فائدہ اٹھا کر پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعہ 1400 لوگوں کے فون کو ہیک کیا تھا۔ ہندوستان میں بھی پیگاسس اور واٹس ایپ کا معاملہ چل رہا ہے۔



اپنے ہی بحریہ کے دو پائلٹوں کو امریکہ نے غلطی سے ماری گولی ،واقعے کو فرینڈلی فائر قرار دیا

 



بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے دو پائلٹوں کو گولی مارنے کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ حالانکہ امریکا نے اس واقعے کو ’فرینڈلی فائر‘ قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خود امریکا نے بحریہ کے دونوں پائلٹوں کو غلطی سے گولی مار دی تھی۔ حادثے کے بعد دونوں پائلٹوں کو زندہ نکال لیا گیا ہے جن میں سے ایک کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ بھلے ہی امریکہ اس واقعہ کو ’فرینڈلی فائر‘ قرار دیا ہو۔ لیکن یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے جہاز رانی پر مسلسل حملوں کی وجہ سے بحیرہ احمر کتنا خطرناک ہو گیا ہے۔ امریکی اور یورپی فوجی اتحاد اس علاقے میں لگاتار گشت کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔





امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈر نے بتایا کہ فائرنگ کے وقت فضائی حملے حوثی باغیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہا تھے۔ حالانکہ مشن کے صحیح مقاصد کے حوالے سے کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ حادثے کے دوران ایف/اے-18 لڑاکا طیارہ، طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ہیری ایس۔ ٹرومین سے اڑان بھر کر آیا تھا اسے مار گرایا گیا ہے۔ 15 دسمبر کو سنٹرل کمانڈر نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ٹرومین مشرق وسطیٰ میں داخل ہو چکا ہے۔ سنٹرل کمانڈر نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ گائیڈڈ میزائل کروزر یو ایس ایس گیٹسبرگ جو یو ایس ایس ہیری ایس۔ ٹرومین کیریئر سٹرائیک گروپ کا حصہ ہے۔ اس نے غلطی سے ایک ایف/اے-18 پر گولی چلائی۔




حالانکہ اب تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ گیٹسبرگ ایف/اے-18 کو دشمن کے طیارے یا میزائل کے طور پر کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب جنگی گروپ میں جہاز ریڈار اور ریڈیو کمیونیکیشن دونوں سے جڑے رہتے ہیں۔ جبکہ سنٹرل کمانڈ نے اس تعلق سے کہا کہ جنگی جہازوں اور طیاروں نے اس سے قبل حوثی ڈرونز اور باغیوں کی جانب سے لانچ کی گئی ایک اینٹی-شپ کروز میزائل کو مار گرایا تھا۔ ٹرومین کی آمد کے بعد امریکہ نے حوثی باغیوں اور ان کے میزائل فائر کو بحیرہ احمر اور آس پاس کے علاقوں میں ٹارگیٹ کر کے اپنے فضائی حملوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حالانکہ امریکی جنگی جہاز گروپ کی موجودگی کی وجہ سے باغی دوبارہ سے حملے کر سکتے ہیں۔



Saturday, 21 December 2024

تیجسوی نے مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے پر 200 یونٹ مفت بجلی اور خواتین کو 2500 روپے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا

پٹنہ: بہار اسمبلی میں قائد حزب لیڈر تیجسوی یادو نے ہفتے کو کہا کہ سیمانچل کے حالات بدتر ہیں۔ یہ پورا علاقہ غربت اور ہجرت کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ وہ اپنی یاترا کے تحت کٹیہار پہنچے تھے، جہاں انہوں نے حکومت کی شراب بندی پالیسی پر سوال اٹھائے۔





انہوں نے کہا، ”ہم چاہتے ہیں کہ بہار نشہ سے پاک ہو لیکن موجودہ قانون میں ترمیم ضروری ہے۔ قانون کے باوجود شراب کی ہوم ڈلیوری ہو رہی ہے۔ تمام جماعتوں کو مشاورت کے لیے بلانا چاہیے تاکہ قانون میں ضروری تبدیلی کی جا سکے۔“


تیجسوی یادو نے مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے کے بعد خواتین کو 2500 روپے ماہانہ دینے کا وعدہ دہراتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے خواتین کو خود کفیل بنایا جائے گا۔ انہوں نے مہنگائی کی وجہ سے خواتین کو درپیش مسائل اور اسمارٹ میٹر کے ذریعے آ رہے اضافی بجلی بلوں پر بھی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔




انہوں نے کہا کہ بہار میں سب سے مہنگی بجلی فراہم کی جا رہی ہے اور لوگ اسمارٹ میٹر کے انوکھے بلوں سے پریشان ہیں۔ اپوزیشن نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت 200 یونٹ بجلی مفت فراہم کرے گی۔


تیجسوی یادو نے وزیراعلیٰ نتیش کمار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نہ صرف ایوان کے اجلاس میں خاموش ہیں بلکہ اہم نشستوں سے بھی غائب رہتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نتیش کمار کی قیادت میں بہار حکومت ریٹائرڈ افسروں کے سہارے چل رہی ہے اور ریاست کو مناسب طور پر سنبھالا نہیں جا رہا۔


روس کے قازان شہر میں ڈرون حملے، 6 عمارتوں پر نشانہ، 9/11 جیسا واقعہ

 




قازان: روس کے قازان شہر میں ڈرون حملے کے بعد شہر میں 9/11 جیسے تباہ کن واقعات رونما ہوئے ہیں۔ قازان، جو روسی دارالحکومت ماسکو سے تقریباً 720 کلومیٹر دور واقع ہے، میں چھ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، حملے میں 8 ڈرونز کا استعمال کیا گیا تھا جس میں سے ایک ڈرون کو ناکام کر دیا گیا تھا۔

روس کی دفاعی وزارت کے بیان کے مطابق، ’ایک یوکرینی ڈرون کو ناکام بنایا گیا ہے۔" حملے کے بعد، ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی جس میں ایک ڈرون عمارت سے ٹکراتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد روس نے اپنی سرحدوں پر حفاظتی اقدامات بڑھا دیے ہیں اور مزید نگرانی چوکیوں کی تنصیب کا اعلان کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں سے نمٹا جا سکے۔



دوسری جانب، یوکرین کی فوجی خفیہ سروس نے بیان دیا ہے کہ روس کے خلاف لڑائی کے لیے روس نے شمالی کوریا سے بھی فوجی دستے بھیجے ہیں۔ یہ خبریں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ شمالی کوریا کی فوج کو اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوکرین کی دفاعی خفیہ ایجنسی (ڈی آئی یو) نے منگل کو اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا کہ امریکہ نے پہلی بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ روسی فوج کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔


ڈی آئی یو کے بیان میں کہا گیا ہے، ”سنگین نقصان اٹھانے کے بعد ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کی اکائیوں نے یوکرین کے سکیورٹی اور دفاعی دستوں کے ڈرونز کا پتہ لگانے کے لیے اضافی نگرانی چوکیوں کی تنصیب شروع کر دی ہے۔“ مغربی سرحدی علاقے کورسک میں روس اب بھی شمالی کوریا کے فوجیوں کا استعمال کر رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، ”کورسک علاقے میں شمالی کوریا کی فوجیوں کے مسلسل حملہ آور گروپوں کا جمع ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ماسکو جارحانہ کارروائیوں کی رفتار کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔“




مدھیہ پردیش میں’20 سال میں ٹرانسپورٹ محکمہ میں 15 ہزار کروڑ روپے کا ہوا گھوٹالہ

 



بھوپال : مدھیہ پردیش میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے سابق کانسٹیبل سوربھ شرما کے پاس کروڑوں روپے کی ملکیت ملنے کے بعد کانگریس حملہ آور ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ 20 سالوں میں ٹرانسپورٹ محکمہ میں 15 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کی سی بی آئی یا سبکدوش جج سے جانچ کے مطالبہ کو لے کر کانگریس ہائی کورٹ جائے گی۔

کانگریس دفتر میں نامہ نگاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے پٹواری نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک سابق کانسٹیبل سوربھ شرما کے یہاں کروڑوں روپے کی ملکیت ملی۔ پھر ایک کار میں 52 کلوگرام سونا اور 10 کروڑ روپے نقد ملے ہیں۔ لوک آی±کت اور انکم ٹیکس کی کارروائی سے 2 دن پہلے سوربھ دبئی چلا جاتا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ اسے جانچ ایجنسی سے ہی چھاپے کی خبر ملی ہوگی۔ جیتو پٹواری کا کہنا ہے کہ جب ایک کانسٹیبل کے یہاں کروڑوں کی ملکیت مل سکتی ہے تو ٹرانسپورٹ محکمہ کے چیف سکریٹری اور وزیر کے پاس کتنی ملکیت ہوگی۔ ان لوگوں نے ریاست میں بدعنوانی کی ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں ریاست میں 15 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔

جیتو پٹواری نے ایک افسر کے ذریعہ ملی جانکاری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ریاست میں ہر ماہ 30 سے 35 کروڑ روپے کی مختلف ناقوں سے محکمہ ٹرانسپورٹ وصولی کرتا ہے۔ اس طرح سال میں 4 سے 5 کروڑ روپے اور 20 سال میں 15 ہزار کروڑ روپے کی بدعنوانی ہوئی ہے۔ اس پورے معاملے کی سی بی آئی یا سبکدوش جج سے جانچ کرائی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس اس معاملے کی جانچ کے لیے ہائی کورٹ جائے گی۔

مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے ریاست کے ذریعہ لیے جا رہے قرض پر بھی حکومت کو گھیرا۔ انھوں نے کہا کہ ریاست میں پرچی کی حکومت ہے جو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ ہر روز کئی لاکھ روپے ہیلی کاپٹر پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت اپنی سیاسی عیاشی کے لیے قرض لے رہی ہے۔ پٹواری نے محکمہ آبی وسائل میں بھی بڑے پیمانے پر گھوٹالہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ بغیر کسی کمیشن کے ٹھیکا ہی نہیں ملتا ہے۔

مدھیہ پردیش #جیتو پٹواری#کانگریس #ٹرانسپورٹ محکمہ 




سعودی عرب: اقامہ، سرحدوں اور ملازمت کے ضوابط کی خلاف ورزی پر بیس ہزار سے زائد افراد گرفتار


ریاض:سعودی عرب میں قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی جانب سے مملکت میں اقامہ، ملازمت اور سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن جاری ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پولیس نے ضوابط کی خلاف ورزی پر 20 ہزار 159 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔



سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق 12 دسمبر 2024ئ سے 18 دسمبر 2024ئ کے دوران سعودی عرب کے علاقوں میں اقامہ، کام اور سرحدی حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نگرانی کی گئی۔ قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی مشترکہ فیلڈ مہمات کے دوران مجموعی طور پر 20,159 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اقامہ کی خلاف ورزی پر11,302 افراد گرفتار کیے گئے۔5652 افراد کو بارڈر سکیورٹی سسٹم کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ لیبر ضوابط کی خلاف ورزی پر3205 افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔


سرحد پار کر کے مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد1861 تک پہنچ گئی۔ ان میں 33 فی صد یمنی، 65 فی صد ایتھوپیائی اور (02 فی صد دیگر قومیتوں کے افراد شامل ہیں۔ 112 لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے مملکت سے باہر سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

اس ہفتے میں 17 افراد کو رہائش، کام اور سرحدی حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نقل و حمل، پناہ دینے اور ان کے لیے کام کرنے والے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔


اس دوران 20,337 ملزمان کو سفری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے ان کے سفارتی مشنوں میں بھیجا گیا، 3,425 خلاف ورزی کرنے والوں کو ان کے سفری تحفظات مکمل کرنے کے لیے ریفر کیا گیا۔9,461 خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک بدر کر دیا گیا۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی سرحدی حفاظتی نظام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مملکت میں داخل کرنے میں سہولت فراہم کرتا ہے، انہیں اس کے اندر لے جاتا ہے، انہیں پناہ دیتا ہے، یا انہیں کسی بھی طرح سے کوئی مدد یا خدمت فراہم کرتا ہے تو اسے 15 سال قید، 10 لاکھ ریال تک کا جرمانہ اور املاک کی ضبطی کی سزا ہوسکتی ہے۔


شام پر ایک رائے سے حکومت نہیں کی جا سکتی : احمد الشرع



دبئی:شام میں "عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ" کے کمانڈر احمد الشرع نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ ملک میں کثیر الجہتی کا تحفظ اہمیت کا حامل ہے۔ عسکری انتظامیہ میں کئی مسلح گروپوں کے نمائندے شامل ہیں جن میں نمایاں ترین "تحریر الشام تنظیم" ہے۔

الشرع کے مطابق "ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ شام جیسے حجم ، وسائل اور مختلف طبقات کے حامل ملک پر کوئی ایک رائے غالب آ جائے"۔


احمد الشرع نے جو ماضی میں "ابو محمد الجولانی" کے نام سے معروف تھے، عربی اخبار "الشرق الاوسط" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اختلاف ایک اچھا اور صحت مند رجحان ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ "یہ کامیابی کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ یہ تمام شامیوں کی کامیابی ہے"۔

الشرع نے باور کرایا کہ ان کا ملک "کسی حملے کا پلیٹ فارم یا کسی بھی عرب یا خلیجی ملک کے لیے تشویش کا باعث نہیں بنے گا"۔

تحریر الشام تنظیم کے سربراہ نے واضح کیا کہ اپوزیشن گروپوں کی کامیابی نے خطے میں ایرانی منصوبے کو 40 برس پیچھے دھکیل دیا ہے۔ الشرع کے مطابق ایرانی منصوبے کے پیچھے ہونے کے باعث خلیجی ممالک کی اسٹریٹجک سیکورٹی زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔


گرفتار شدگان اور جبری گمشدہ افراد کے حوالے سے احمد الشرع نے بتایا کہ "اس سلسلے میں مدد کے لیے کئی خصوصی تنظیموں نے رابطہ کیا ہے"۔ الشرع کے مطابق لا پتا افراد خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، ان کا معاملہ دیکھنے کے لیے ایک خصوصی وزارت قائم کی جائے گی۔

جب احمد الشرع سے یہ پوچھا گیا کہ وہ بشار الاسد کی جگہ بیٹھ کر کیسا محسوس کر رہے ہیں تو انھوں نے ہنس کر جواب دیا "حقیقت یہ ہے کہ میں ہر گز آرام محسوس نہیں کر رہا"۔

احمد الشرع اس سے پہلے کئی بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ شامی عوام کے تمام طبقوں کے درمیان یکجہتی کی ضرورت ہے۔ وہ واضح کر چکے ہیں کہ آنے والے وقت میں ملک کو نئے آئین اور ایسے قوانین کے تحت چلایا جائے گا جن میں سب کے لیے انصاف اور مساوات کا خیال رکھا جائے گا۔


القاعدہ کے ساتھ ہمارا تعلق ماضی کا قصہ بن چکا ہے: احمد الشرع


شام کے ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ احمد الشرع نے القاعدہ سے اپنے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے ساتھ ان کا تعلق ماضی کا قصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس وقت اعلیٰ ترین شامی مفادات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارا فی الحال کسی تنظیم یا بیرونی جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے"۔

گذشتہ روز بی بی سی نیٹ ورک پر نشر ہونے والے ایک ٹیلی ویڑن انٹرویو میں احمد الشرع نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس نے پہلے عراق کی لڑائیوں میں حصہ لیا تھا جب وہ فرقہ واریت کی طرف منحرف ہوئے تھے۔


احمد الشرع جسے پہلے "ابو محمد الجولانی" کے نام سے جانا جاتا تھا نے زور دیا کہ متنوع شام افغانستان میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ان کا خیال تھا کہ ملک جنگ سے تھک چکا ہے اور اسے اپنے پڑوسیوں یا مغرب کے لیے خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے دمشق پر سے تمام امریکی اور یورپی پابندیاں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ یہ دوبارہ اٹھ سکے۔

انہوں نے اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سےھی? تحریر الشام کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا بھی مطالبہ کیا۔

احمد الشرع سابق صدر بشار الاسد کی معزولی اور ماسکو فرار کے بعد سے ملک میں ڈی فیکٹو فوجی حکمران بن چکے ہیں، ماضی میں ایک سے زیادہ بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ شام کےطبقات کو ان کے وجود کے مطابق حکومت میں شامل کیا جائے گا۔



Friday, 20 December 2024

ہوٹل تاج کی یادگار تقریب میں قاسم خورشید کے شعری مجموعہ کی روشنی



گزشتہ روز پٹنہ میں قائم عالیشان ہوٹل تاج نے مخصوص ضیافت کے ساتھ ہر شعبے کے مشاہیر کو خصوصی طور پر مدعو کرکے انتہائی شاندار اور یادگار تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں عالمی شہرت یافتہ تخلیق کار ماہرِ تعلیم اور بشمول سابق انچارچ ڈائریکٹر ایجوکیشنل ٹیلیویژن بہار و صدر لینگویجز ایس سی ای آر ٹی بہار ڈاکٹر قاسم خورشید کو بھی مدعو کیا تھا اس تقریب کی خوبی یہ تھی کہ بشمول انفارمیشن کمشنر جناب تری پراری شرن سابق چیف سیکرٹری برجیش مہروترا چیئر مین جناب امبوجہ نیوٹیا ایم ڈی جناب پنت چٹوال جنرل منیجر سدھارتھ جین انگریزی ہندی فکشن نگار نسائی تحریک کار ڈاکٹر ممتا مہروترا معتبر مصوّر ڈاکٹر اجے پانڈے  کے ساتھ فوج کے بڑے افسران مینجمنٹ کی منفرد شخصیتیں آرٹ و کلچر  کے قومی سربراہان اعلیٰ آئی اے ایس آئی پی ایس افسران سی ای او اور دوسرے شعبے کے نامور لوگوں کی کہکشاں میں مختلف سماجی ثقافتی ادبی اور تعلیمی موضوعات پر سیر حاصل گفتگو اور بہترین ضیافت کے درمیان ڈاکٹر قاسم خورشید کی غزلوں اور نظموں پر مبنی اُن کا نیا شعری مجموعہ "دستکیں خاموش ہیں" بھی تحفتاً پیشِ کیا گیا جسے اہل ذوق نے خوب سراہا ڈاکٹر قاسم خورشید نے ہوٹل تاج گروپ کی خصوصی دعوت اور بہترین اعزاز کے لیے تمام متعلقہ افراد کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتے ہوئے زور دیا کہ بہار میں بھی اس  ہوٹل کے قیام نے صوبے کو اور رونق ادا کر دی ہے ہماری تہذیبی اور ثقافتی وراثت کو بھی جتنی خوشنودی سے پیش کیا جا رہا ہے وہ قابلِ رشک ہے

شاہد اطہر کو جن سوراج پارٹی کی ریاستی سطح کی کمیٹی کا رکن بننے پر مبارکباد ڈاکٹر آرزو




  دربھنگہ:- سچے دل سے لوگوں کی خدمت کرنا شاہد اطہر کی پہچان ہے۔ دین اسلام بھی یہی کہتا ہے کہ ضرورت مندوں کی مدد کرنی چاہیے اور ایڈوکیٹ شاہد اطہر کی اس خوبی کو جن سوراج پارٹی نے تسلیم کیا ہے اور یہی وجہ ہے کے پرشانت کشور جی نے انہیں ریاستی سطح کی کمیٹی کا رکن نامزد کیا ہے۔ جس کے لیے ایڈوکیٹ شاہد اطہر اور پرشانت کشور کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں - متھیلانچل کے مشہور سماجی کارکن اور الہلال ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد نسیم آرزو نے کہا کہ ایڈووکیٹ شاہد اطہر یقیناً دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے مستقبل ہیں کیونکہ ان کا کام ان کی آواز بنتی جا رہی ہے - مبارکباد دینے والوں میں شمشاد نور، شمشاد ناجمی عرف شمسی، آمنہ صافی، ڈاکٹر اقبال حسن ریشو، انجینئر اختر حسین، جن سوراج پارٹی کور کمیٹی رکن وسیم نیئر انصاری، عبید الرحمن، ڈاکٹر ایم آئی ایچ نعمانی، انجینئر انور باری، شکیل اشرفی ، تنویر امام، شہری صدر ارونیش چندر، نائب صدر محمد شوکت، سینئر صحافی سید  دانش، شعیب احمد خان، شمیم ​​اللہ خان عرف شمیم ​​سابق ضلع پریثد، ڈاکٹر جمشید عالم، آفتاب شیخ، سماجی کارکن منا انصاری، گوپی کشن، آلوک منڈل، آرزو عروف، مانی گاچھی بلاک صدر مدنی ودود، عامر حیدر، کیوٹی بلاک صدر شعیب خان، کرشنا موہن چودھری، ترجمان سدرشن جھا ایڈووکیٹ، ایڈوکیٹ ذاکر حسین ' محمد ضیاء اللہ انصاری، اویس انصاری، پسماندہ سماج کے ترجمان محمد قمر الدین انصاری، جاوید رحمان، مظفر عالم، ریاض علی خان، ایڈوکیٹ افسر علی، ایڈوکیٹ محمد آرزو، ڈاکٹر صادات غازی کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔

دانشوران بہار کا خوبصورت کار آمد پروگرام