Tuesday, 29 April 2025

پاکستانی فوج کا ہندوستانی لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے :حکومت ہند

 



نئی دہلی، 29 اپریل : ہندوستان نے پاکستان کے حمایت یافتہ متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ ہندوستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے کو مار گرائے جانے کے دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گمراہ کن اور بے بنیاد پروپیگنڈہ ہے اور کسی بھی ہندوستانی طیارہ  کو نہیں مار گرایا  گیا ہے۔
اطلاعات و نشریات کی وزارت کے پریس انفارمیشن بیورو ( پی آئی بی ) نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر کہا کہ پاکستان کے حامی کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس  یہ جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان نے جموں و کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب ہندوستان کا رافیل لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔
پریس انفارمیشن بیورو نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہندوستان کا کوئی لڑاکا طیارہ  نہیں مار گرایا  ہے۔ پاکستان کے حمایت یافتہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کی جانے والی ویڈیو سخوئی 30 لڑاکا طیارے کے حادثے کی ہے جو جون 2024 میں مہاراشٹر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
پریس انفارمیشن بیورو نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے غیر تصدیق شدہ دعووں پر مشتمل پوسٹس شیئر کرتے وقت احتیاط برتیں۔
قابل ذکر ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے کشیدہ ماحول میں لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پاکستان اور اس کے حمایت یافتہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر آئے روز ایسے جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں۔  ہندوستان  نے پیر کو 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی لگا دی ہہے  جو اس طرح کے پروپیگنڈے میں ملوث تھے۔

مودی نے راج ناتھ اور آرمی چیفس کے ساتھ اہم میٹنگ کی

 



نئی دہلی، 29 اپریل پہلگام دہشت گردانہ حملے کو انجام دینے والے دہشت گردوں اور اس حملے کی سازش کرنے والوں کے خلاف حکمت عملی بنانے کے لیے حکومت میں اعلیٰ سطحی میٹنگیں مسلسل جاری ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو وزیر دفاع، قومی سلامتی کے مشیر، چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں گہرائی سے بات چیت کی۔
ذرائع کے مطابق وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش ترپاٹھی نے شام کو وزیراعظم کی رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ میں شرکت کی۔ وزیر دفاع سے وزیراعظم کی یہ تیسری ملاقات ہے۔
ملاقات میں وزیراعظم کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور فورسز کی تیاریوں کے بارے میں تفصیلات دی گئیں۔
 بدھ کو سیکورٹی معاملات پر مرکزی کابینہ کی میٹنگ سے قبل ہونے والی اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ مرکزی داخلہ سکریٹری نے بارڈر سیکورٹی فورس، آسام رائفلز اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں بھی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے خلاف کئی سفارتی اور دیگر سخت فیصلے کرنے کے بعد اب ہندوستان دہشت گردوں کو ان کی مذموم حرکت کا سبق سکھانے کی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہے۔

ایس ایم اشرف فرید و ایس ایم جاوید اقبال کو میری دلی مبارک باد ایڈووکٹ شاہد اطہر




 دربھنگہ :- قابل ہونہار تعلیمی لیاقت و سماجی ملی مسائل کو حل کرنے کی فکر رکھنے والے بڑے بھائی محترم جناب ایس ایم اشرف فرید صاحب قومی تنظیم مدیر آعلی و اردو ایکشن کمیٹی کو شفیع مسلم ہائی اسکول بورڈ اف ٹرسٹی کے ممبر اور میرے استاد محترم جناب ایس ایم جاوید اقبال صاحب کو بورڈ اف ٹرسٹی کا کارگزار چیئرمین بنائے جانے پہ میری طرف سے بہت بہت مبارک باد ہےـ اپنی دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے متھیلانچل کے مشہور سماجی و تعلیمی خدمت گار ایڈوکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھلا انسٹیوٹ اف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے جاری پریس ریلیز میں کہیں-  معلوم ہو کہ دونوں حضرات ضلع و صوبائی سطح پہ کئی تنظیم میں عہدے پہ فائض ہو کر سماج و قوم کی خدمت کرتے آ رہے ہیں- ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ چونکہ گارجین جناب ڈاکٹر اجیرالحق صاحب کافی عرصہ سے علیل ہیں- جس کی وجہ کر کار گزار چیئرمین کی سخت ضرورت تھی جس کو استاد محترم کے کارگزار چیئرمین بنائے جانے سے اس کمی کو پوری کر دی گئی ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آگے کہا کہ ان دونوں حضرات کا تجربے سے ادارہ اور ٹرسٹ کو چلانے میں مستحکم طاقت ملے گی وکافی ترقی بھی ملے گی

Tuesday, 15 April 2025

متھلا انسٹی ٹیوٹ کو ایم آئی سی سی ای کامکمل تعاون حاصل ہوگا: موہن کمار جھا





دربھنگہ: متھیلا میں صحت کے شعبے میں روزگار اور ملازمتوں کے بے پناہ امکانات ہیں، کیونکہ متھیلا میں بہت جلد ایمس اسپتال بننے جا رہا ہے جہاں ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا۔ متھیلانچل چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر موہن کمار جھا نے آج متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے احاطے میں طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ سب کے بارے میں انجینئر اختر حسین، بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بہت تفصیل سے سنا تھا، جو آج آپ سب کے درمیان آنے کے بعد دیکھنے کو ملا۔ موہن کمار جھا نے کہا کہ ہماری تنظیم کے ساتھی نے سوپول ضلع میں ایک بڑا ہسپتال بنایا ہے، جہاں میں آپ کے کالج سے پاس آؤٹ ہونے والے طلباء وطالبات کو لے جاؤں گا اور انہیں ملازمتیں فراہم کروں گا۔ متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سجاد احمد نے تعلیم کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ آپ جتنی زیادہ تعلیم حاصل کریں گے آپ کے علم میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ جبکہ مہمان اعزازی شمشاد نور نے کہا کہ ہم لوگ ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، جب بھی اور جہاں بھی ضرورت ہو ہمیں یاد رکھیں۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے، ڈاکٹر احمد نسیم آرزو، میکسیمائنڈ ہیلتھ کیئر پرائیویٹ لمیٹڈ، نئی دہلی اور الہلال ہسپتال، دربھنگہ کے ڈائریکٹر نے شری موہن کمار جھا کا تہہ دل سے خیرمقدم کیا اور کہا کہ آپ ہمارے درمیان بہت مختصر نوٹس پر آئے ہیں جو بلاشبہ ہر کوئی یہ کام نہیں کر سکتا۔ صحت کے شعبے میں آپ کے ساتھ کام کرنے سے ہم لوگوں کے تجربے میں اضافہ ہوگا۔ مہمان خصوصی جناب موہن موہن کمار جھا کا استقبال سجاد احمد صاحب نے مومنٹو اور شال سے کیا۔ پروگرام کی نظامت ایڈووکیٹ شاہد اطہر، ڈائریکٹر، متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے کی۔ انسٹیٹیوٹ کے سنٹر ہیڈ گوپی کشن، استاد سمرن تیواری، استاد امت منڈل، محمد دانش، رگھوناتھ کمار صدیقہ خاتون، محمد رضوان وغیرہ نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کیا۔

Friday, 11 April 2025

تاریخی “جن سوراج” ریلی: بہار میں تبدیلی کی نئی لہر کی پرواز :شکیل اشرفی/ شاہد اطہر





گاندھی میدان آج ایک تاریخی منظر کا شاہد بنا، جب “جن سوراج” کی بہار بدلاؤ ریلی میں لاکھوں افراد کا سمندر امڈ آیا۔ پرشانت کشور کی قیادت میں منعقد اس عظیم اجتماع کو بہار کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ جمِ غفیر اس بات کی دلیل ہے کہ بہار کی عوام اب بیروزگاری، ہجرت، اور ذات پر مبنی سیاست سے تنگ آ کر حقیقی تبدیلی کی تلاش میں ہے۔ پرشانت کشور نے جوش و جذبے سے لبریز عوام سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم، روزگار، اور شمولیتی طرزِ حکمرانی پر مبنی نئے بہار کے قیام کا عزم ظاہر کیا۔ میدان میں ہر طرف ولولہ انگیز نعرے گونج رہے تھے، اور بینروں کے سائے میں ایک نئے دور کے آغاز کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ یہ صرف ایک ریلی نہیں، یہ بہار کی بیداری ہے،” کشور نے اعلان کیا، اور نوجوانوں و مایوس ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنیں۔ تاہم، یہ ریلی تنازعات سے خالی نہیں رہی۔ اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے ریلی میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کی کوششیں کی گئیں — کئی سڑکیں بند کر دی گئیں اور لاکھوں افراد کو پٹنہ پہنچنے سے روکا گیا۔ مگر ان رکاوٹوں کے باوجود، ریلی میں شریک عوام نے یہ پیغام دے دیا کہ اب انہیں نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ روکا جا سکتا ہے۔ اگر تم ہمیں روکنے کی کوشش کرو گے، تو ہم اور مضبوط ہو کر لوٹیں گے،” یہ جذبہ ہر چہرے پر نمایاں تھا — ایک ایسی للکار جو اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بن سکتی ہے۔ یہ ریلی بہار کی سیاست میں زلزلہ لے آئی ہے۔ “جن سوراج” اب نومبر 2025 کے اسمبلی انتخابات میں ایک سنجیدہ اور مضبوط متبادل کے طور پر ابھرتا دکھ رہا ہے۔ آر جے ڈی اور جے ڈی (یو) جیسی بڑی جماعتیں اس عوامی لہر کے بعد ششدر ہیں، اور پوری توجہ کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ پٹنہ کی فضا میں اب تبدیلی کی خوشبو ہے، اور ایک بات طے ہے - 11 اپریل 2025 کا دن بہار کی تاریخ میں اس دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب اس ریاست نے بڑے خواب دیکھنے کی ہمت کی۔ یہ انقلاب کی ابتدا ہے یا ایک لمحاتی اُمید  اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔

حکومت کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے معاوضہ دے: سی پی آئی

 


پٹنہ، 11 اپریل  بھارتی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے ریاستی سکریٹری رام نریش پانڈے نے بہار بھر میں بے وقت بارش سے فصلوں کو پہنچنے والے بھاری نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آندھی اور آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی اموات پر بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

رام نریش پانڈے نے جمعہ کو کہا کہ تیز آندھی، موسلادھار بارش اور وِدْیُت پات (آسمانی بجلی) نے پورے بہار میں تباہی مچا دی ہے۔ گندم، مکئی، پیاز، مسور، چنا، مونگ، آم اور لیچی جیسی تیار فصلوں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ اس صورتحال میں بہار کے کسان برباد ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے کے حساب سے فصلوں کا معاوضہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ آسمانی بجلی سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس 25 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیا جائے۔

سی پی آئی رہنما نے کہا کہ کسانوں نے قرض لے کر گندم کی فصل بوئی تھی، لیکن اس غیرموسمی بارش اور آندھی نے ان کی محنت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اسی طرح آم اور لیچی کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر فصل کے نقصان کا تخمینہ لگوائے اور کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے معاوضہ دے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ آندھی اور آسمانی بجلی گرنے سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام جاں بحق افراد کے پسماندگان کو 25 لاکھ روپے فی کس کی مالی مدد کی ضمانت دے۔

Thursday, 3 April 2025

متھلا انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں ضرورت ہے


 

ملی صفوں میں اتحاد ،اور مفاد پرست سیاسی لیڈران کے مستقل بائیکاٹ کی اپیل:شکیل اشرف

 





سنگھوارہ دربھنگہ (ایس ایم ضیاء)یہ اپیل ایک انتہائی 

سنجیدہ اور نازک مسئلے پر مسلم کمیونٹی کو متحد و متحرک کرنے کی کوشش ہے۔ وقف بل کی حمایت کرنے والے رہنماؤں کے بائیکاٹ کا مطالبہ دراصل ایک بڑے اصولی مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے، جو درج ذیل نکات پر مبنی ہے: مذکورہ باتیں شکیل اشرفی ابو ظہبی نے پریس بیان بھیج کر کہی انھوں نے کہا کہ مسلم رہنماؤں کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے مفادات، حقوق، اور وقار کا دفاع کریں۔ وقف املاک کا مسئلہ نہ صرف ایک مالیاتی یا قانونی معاملہ ہے بلکہ یہ مسلم وراثت، مذہبی خودمختاری، اور سماجی فلاح و بہبود سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جو رہنما اس بل کی حمایت کرتے ہیں، وہ دراصل ان حقوق کی کمزوری کا سبب بن رہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اجتماعی اثاثے اور ان کی خودمختاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لئے ایسے سیاسی لیڈران و سیاسی پارٹیوں کا بیکاٹ ہونا چاہیے 

 شکیل اشرفی نے مزید کہا کہ یہ بائیکاٹ کسی ذاتی عناد یا سیاسی رقابت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک اصولی موقف پر ہے۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ مسلم کمیونٹی کو سیاسی طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور ان کی حمایت کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ سیاسی رہنماؤں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے فیصلے عوام کی نظروں میں ہیں اور وہ ان کے ہر اقدام پر جوابدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت ایسا وقت ہے کہ مسلم کمیونٹی اپنی قیادت پر دوبارہ غور کرے۔ قیادت وہی مستحق ہے جو واقعی کمیونٹی کے مفادات کی نمائندگی کرے، نا کہ وہ جو صرف اپنی پارٹی کے احکامات پر عمل کرے یا وقتی سیاسی فوائد کے لئے فیصلے کرے۔ یہ بائیکاٹ ایک تحریک کا آغاز ہے تاکہ مسلم عوام ایسی قیادت کو مسترد کریں جو ان کے بنیادی حقوق کا دفاع کرنے میں ناکام ر ہے۔ انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 

یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی سیاسی بصیرت کو مزید مضبوط کرنا ہوگا اور ایک اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی بقا، اپنی جائیدادوں، اور اپنے مذہبی و سماجی تشخص کے دفاع کے لئے صحیح راستہ اختیار کرسکیں۔ یہ وقت مسلمانوں کو متحد ہو کر صرف ان افراد اور جماعتوں کی حمایت کرنے کا ہے جو عملی طور پر مسلمانوں کے مفادات کے لئے کام کر رہے ہیں۔

بائیکاٹ محض ایک علامتی قدم نہیں بلکہ ایک عملی حکمت عملی ہے۔ کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف غفلت برتنے والے رہنماؤں کو مسترد کرے بلکہ ایسے متبادل نمائندے سامنے لائے جو واقعتاً وقف املاک، مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور سماجی استحکام کے لئے کام کرنے کے عزم کا مظاہرہ کریں۔ یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اگر آج مسلم کمیونٹی اپنی قیادت کو جوابدہ نہیں بنائے گی، تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا، یہ بائیکاٹ صرف ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل مدتی حکمت عملی ہونی چاہیے جو مسلمانوں کی اجتماعی طاقت اور سیاسی بصیرت کو مضبوط کرے

Tuesday, 1 April 2025

عید ملن اور پٹنہ ریلی کے حوالے سے گفتگو: شاہد اطہر

 




دربھنگہ: عید ملن کے موقع پر نگر جن سوراج کے جنرل سکریٹری شوکت صاحب کے ساتھ پارٹی کے لیڈروں علی اکبر اور اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر لوگوں سے گلے مل کر مبارکباد دیتے ہوئے دربھنگہ شہری اسمبلی کے لیے پارٹی اور ممکنہ امیدوار ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ 11 اپریل 2025 کو پٹنہ گاندھی میدان کی ریلی کو کس طرح کامیاب بنایا جائے اور ہر بار کی طرح اس بار بھی دربھنگہ ضلع کے لوگوں کا ہجوم کیسے جائے گا اس پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ شاہد اطہر نے کہا کہ بسوں اور فور وہیلر کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی آمدو رفت پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ نگر کے جنرل سکریٹری شوکت جی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے تمام 48 وارڈ اور 18 بلاکس کی تمام پنچایتوں میں گھر گھر جا کر لوگوں کو اس ریلی کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ اسلم بھائی نے کہا کہ ان سہولتوں کے علاوہ لوگوں کے لیے ٹرین سے بھی سفر کرنا زیادہ آسان ہوگا، جہاں سے پٹنہ جنکشن سے گاندھی میدان تک تمام اضلاع سے آنے والے جن سوراج ساتھیوں کا ایک گروپ بنا کر گاندھی میدان کو بھرنے کا کام کیا جائے گا۔ علی اکبر نے کہا کہ اس بار پورے بہار میں رمضان کے دوران پارٹی کے سپریمو محترم پرشانت کشور جی کی قیادت میں کامیاب افطار کا پروگرام انعقاد کیا گیا جس سے جن سوراج کے تمام ساتھیوں کے حوصلے بہت بلند ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے لیڈر نے جس طرح اقلیتی برادری کے درمیان گئے، پریس کانفرنسیں کیں اور لوگوں سے براہ راست رابطہ کیا اور پارٹی کی پالیسیوں کی وضاحت کی، انہوں نے ہمیشہ کہا کہ پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس کی آبادی کے مطابق اسے بھرپور شرکت ملے گی۔ اس لیے ہم سب کا بہت حوصلہ ہوا ہے اور ہم لوگ پوری تیاری کے ساتھ بہار اسمبلی الیکشن لڑیں گے اور اس ڈبل انجن والی حکومت کو گرانے کے لیے کام کریں گے۔