Tuesday, 21 January 2025

مودی حکومت کے پاس درپیش سنگین مسائل کا حل کیوں نہیں ہے؟

 






سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد



ملک کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف روپے کی گرتی ہوئی قدر اور بڑھتی ہوئی افراط زر ہے تو دوسری طرف اقتصادی ترقی کا گرتا معیارہے، ان چیلنجز کے درمیان حکومت کی غیر دانشمندانہ اور غیر ہمدردانہ پالیسی بھی معیشت کو تباہی کی جانب لے جا رہی ہے، گذشتہ کچھ عرصے سے ہندوستانی روپے کی قدر، ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، جن دنوں روپے کی قدر میں کمی کو اقتصادی بد انتظامی کی علامت سمجھا جاتا تھا،ان دنوں مودی نے منموہن سنگھ کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا،منموہن سنگھ معاشیات کے ماہرتھے،ا نکے دور میں ملک کو کبھی شرمندگی اور ندامت سے دوچار نہیں ہونا پڑا،انھوں نے انتہائی نازک حالات میں ملک کو معاشی بحران سے نکالا تھا،مودی کی موجودہ حکومت اور منموہن کی گذشتہ حکومت میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ انکے پاس درپیش مسائل کا حل تھا اور انکے پاس کسی سنگین مسئلے کا نہیں ہے۔

2014 کے انتخابات میں مودی نے عوام سے یہ کہا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد روپے کو 40 کے مقابلے میں مستحکم کیا جائے گا،لیکن موجودہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، آج ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 86 روپے 69 پیسے تک گر چکی ہے،جو مودی سرکار کے اقتصادی منصوبوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے،عالمی منڈی میں امریکی معیشت کی بحالی،بے روزگاری میں کمی اور امریکی سود کی شرحوں میں استحکام نے ڈالر کو تقویت دی ہے،اس کے برعکس ہندوستانی معیشت کی ترقی کی رفتار سست روی کا شکار ہوچکی ہے،روزگار کے مواقع میں کمی، قوت خرید میں جمود، اور بازار میں طلب کی کمی نے روپیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے،مزید یہ کہ روسی تیل پر امریکی پابندیوں نے ہندوستان کی تیل کی درآمد لاگت میں اضافہ کردیا ہے جس سے غیر ملکی تجارتی خسارہ مزید بڑھ گیا ہے،یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے چکر کو جنم دے رہے ہیں جس سے نکلنا بہت آسان نہیں ہے،معاشی مشکلات کے درمیان ہندوستان کے زر مبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ رہاہے،مینو فیکچرنگ انڈسٹری کو در آمدی خام مال کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے،جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں بےحساب اورہوش ربا اضافہ ہورہا ہے،مہنگائی کا عفریت کیسے سرچڑھ  کربول رہاہے،اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 10 تا 15 فیصد  کا اضافہ کر دیا گیا  ہے،شہرحیدرآباد کے بیگم بازار جیسے بڑے بازاروں میں جہاں خریدی میں کمی آئی ہے،وہیں دیہی  علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی خریدی کے ساتھ قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ہے،صرف چار ماہ میں خردنی تیل کی قیمتوں میں  فی کلو 10 تا 30 روپے کا اضافہ ہو گیا،ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جنگی ماحول اور درآمدی تیل پر مرکزی حکومت کی جانب سے وصول کی جانے والی ڈیوٹی بڑھا دینے سے پام آئل کی قیمت اچانک 94 روپے سے بڑھ کر 140 روپے تک پہنچ گئی ہے،اس کی قیمتوں میں بھی ہر دو تین دن میں نظر ثانی ہورہی ہے،سن فلاور آئل فی لیٹر 145 روپے سے 160روپئے، پھلی کا تیل 160 روپے سے زیادہ فروخت ہو رہا ہے،پکوان کے لیے دالیں انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں،تمام اقسام کی دالوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے،مونگ دال 100 روپے فی کلو ،تل 170 روپے ،گڑ 70 روپے ،نیا چاول 60 روپے فی کلو ،پرانا چاول 70 روپئے سے زیادہ فی کلو فروخت ہورہاہے،معیاری لہسن فی کلو 450 سے 500 روپئے فروخت ہورہا ہے،ترکاری کی قیمتوں میں بھی اسی سطح پر اضافہ ہو رہا ہے،شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے ہر دیہات میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں،ایک ہفتے کے دوران اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں پانچ تا 10 فیصد کا اضافہ  ہو گیا ہے،جس کی وجہ سے عوام مالی بوجھ کا سامنا کر نے پر مجبور ہے،یہ تومہنگائی کی بات تھی،اب ملک میں  بے روزگاری کی صورتحال کیاہے؟اسے جاننے کےلئے یہ رپورٹ پڑھئے 

 "ہندوستان میں ملازمتوں کا بحران لگاتار ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے،لوگوں کو امیدیں تھی کہ نئے سال میں تھوڑی راحت ملے گی، لیکن حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر 10 میں سے 8 لوگ ملازمت تلاش کر رہے ہیں،نصف سے زیادہ یعنی  55 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ نئے سال میں ملازمت تلاش کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے،لنکڈ ان کے ذریعہ کی گئی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے،دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان کے 69 فیصد ایچ آر پروفیشنلز کا ماننا ہے کہ ہنر مند ملازمین کو تلاش کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے،یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی ملازمت تلاش کرنے والے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا،حالانکہ 37 فیصد لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ سال 2025 میں نوکری تلاش نہیں کررہے،اس کے باوجود 58 فیصد لوگ یہ امید کر رہے ہیں کہ اس سال ملازمت کا بازار بہتر ہوگا اور وہ نئی ملازمت حاصل کرسکیں گے،بہت سے لوگ الگ الگ جگہوں پر ایک ساتھ ملازمت کے لیے درخواست دے رہے ہیں،49فیصد لوگ پہلے سے کہیں زیادہ نوکریوں کے لئے عرضی داخل کر رہے ہیں، لیکن انہیں بہت کم جواب مل رہے ہیں، 27 فیصد ایچ آر پروفیشنلز روزانہ تین سے پانچ گھنٹے صرف درخواستیں دیکھ رہے ہیں،جبکہ 55 فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں جو درخواستیں موصول ہوتی ہیں ان میں مہارت نہیں ہوتی،لنکڈ ان انڈیا کا کیریئر ایکسپرٹ نرجیتا بنرجی کے مطابق ملازمت کا بازار کافی مشکل ہے لیکن یہ    ہندوستان کو ان کی ملازمت تلاش کرنے کے طریقوں میں سوچ سمجھ کر بدلاؤ کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے،ساتھ ہی اپنا لنکڈ ان پروفائل اپڈیٹ رکھنا اور ایسے رولز پر دھیان دینا جو واقعات آپ کی مہارت سے میل کھاتے ہوں، قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں  60 فیصد لوگ نئے سیکٹر میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں،وہیں 39 فیصد اس سال نئی مہارت سیکھنے کی تیاری میں ہے " 




مودی کے اقتدار میں آتے ہی ہندوستانی معیشت کےحوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے گئے اور ترقی کے خوابوں کی ایسی تصویر کشی کی گئی جو حقیقت سے کوسوں دور تھی، کہا گیا کہ ہندوستان تیزی سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے جا رہا ہے مگر یہ دعوی محض لفاظی اور الفاظ کی بازیگری ثابت ہوئے،قومی شماریاتی دفتر کی حالیہ رپورٹ نے ان خوابوں کی قلعی کھول دی ہے،گذشتہ 7 جنوری 2025 کو جاری ہونے والے تخمینے کے مطابق مالی سال 25۔ 2024  میں ہندوستانی معیشت کی شرح نمو 6.4 فیصد تک سمٹ جانے کا امکان ہے،جو گذشتہ سال کی 8.2فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے،یہ شرح نمو،وبائی بحران کے بعد کی سب سے کم سطح پر ہے اور حکومت کی پالیسیوں کے کھوکھلے پن کا پردہ فاش کرتی ہے،حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت کے بلند بانگ دعوے،عوام کی زندگیوں میں خوشیاں نہیں بلکہ پریشانیوں کا انبار لے کر آئے ہیں،عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں مگر حکومت کے ترقیاتی وعدے محض تقریروں تک محدود ہیں،معیشت کی یہ گرتی ہوئی حالت صرف ایک عدد نہیں بلکہ اس معاشی نظام کی ناکامی کی کہانی ہے جو بلند بانگ دعووں کے سہارے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے،سوال یہ ہے کہ جن خوابوں کا وعدہ تھا وہ عوام کے لیے اب سراب کیوں ثابت ہورہے ہیں، 6.4فیصد کی شرح نمو کو مثبت سمجھا جا رہا ہے لیکن اگر اس کو تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف ایک سست رفتار ترقی کی علامت ہے،2014 میں جب مودی حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تو معیشت کی شرح 7.4 فیصدتھی،اس کے بعد معیشت میں سست روی آتی گئی، یہ کبھی  6.8 فیصد تک کم ہوئی اور کبھی 3.9 فیصد تک نیچے چلی گئی،2016 میں مودی کے تغلقی فرمان کے تحت نوٹ بندی،2017 میں غیر منظم طریقے سے جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد معیشت میں جو تعطل آیا وہ ابھی تک مکمل طور پر نہیں ٹوٹ سکا ہے،اس کے علاوہ کرونا وائرس کے دوران کیے گئے حکومت کے احمقانہ فیصلوں نے تو معیشت کو تہ و بالا کر کےرکھ دیا ہے،21۔2020میں معیشت 5.8فیصد تک سکڑ گئی،22۔2021 میں تو معیشت میں 9.7 فیصد کا عارضی اضافہ دیکھنے کو ملا، لیکن اس کے باوجود معیشت کے بنیادی مسائل حل نہ ہوسکے ،اب25 ۔2024 میں ترقی کی شرح کا تخمینہ صرف 6.4 فیصد ہے،یہ معاشی سست روی غریب عوام کےلئے کئی چیلنجز کا سامنا پیدا کرتی ہے،بے روزگاری کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے،نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کا فقدان اور اجرتوں میں کمی سے ان کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے اور نوجوان خودکشیاں کررہے ہیں،عوام کی قوت خرید میں کمی آرہی ہے جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں اشیاء اور روزمرہ کی ضرورتوں کے سامان کی مانگ میں کمی آئی ہے،یہ صورتحال پیداوار اور نجی سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو گئی ہے،جب نجی سرمایہ کار خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں تو معیشت میں سرمایہ کاری کی کمی اور پیداوار میں کمی کا سامنا ہوتا ہے،اسی کا نتیجہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو رہی ہے، وزیراعظم مودی نے ہمیشہ پانچ ٹریلن ڈالر کی معیشت کا خواب دکھایا ہے لیکن یہ خواب حقیقت میں تبدیل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے،اگر ہم عالمی سطح پر ہندوستانی معیشت کی پوزیشن کا جائزہ لیں تو اس میں حقیقت اور خواب کے درمیان بہت بڑا فرق نظر آتا ہے،مالی سال 25۔2024میں برائے نام جی ڈی پی کی 9.7 فیصد شرح نمو کے باوجود اسے کوئی غیر معمولی کامیابی نہیں کہا جا سکتا،کسی بھی ملک کےلئے الگ تھلگ رہ کر ترقی کرنا ممکن نہیں ہے،دنیا کے بدلتے حالات اور تجارت کا خیال رکھتے ہوئے کرنسی کی قدرکبھی کبھی گرائی جاتی ہے،اس کے باوجود کرنسی کی قدر کم ہوتی ہے تو تشویش میں اضافہ ضرور ہوتا ہے،آج دنیا جس دور سے گزر رہی ہے اور جوعالمی حالات ہیں،اس میں یہ تشویش فطری ہے کہ ہمارے روپے کی قدر کم کیوں ہورہی ہے؟ روپیے کی قدر اس حد تک گرجانا کہ ایک ڈالر کے مقابلے 86 روپے ہو جانا تشویش کی بات ہے،یہ روپے کی قدر میں اب تک کی سب سے بڑی گراوٹ اور کمی ہے،بدقسمتی سے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں نہ صرف ناقص ہیں بلکہ ان میں مستقبل کےلئے کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی،معاشی اصلاحات کو صرف دعوؤں تک محدود رکھا گیا ہے اورعملی اقدامات میں شفافیت کی بڑی اور واضح کمی ہے،روپے کی گرتی ہوئی قدر اور افراط زر کے سنگین مسائل کے باوجود حکومت کی توجہ صرف انتخابی سیاست پرمرکوزرہی ہے،نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے بجائے حکومتی اقدامات نے مزید غیر یقینی کی کیفیت پیدا کی ہے،مالیاتی اصلاحات کے بغیر ملک کی معیشت کو مستحکم کرنا ممکن نہیں ہے،اس کے علاوہ صارفین کے اخراجات کو بڑھانے کے لئے ٹیکس ڈھانچے میں تبدیلی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے،ہندوستانی معیشت اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے،روپے کی گرتی ہوئی قدر افراط زر کی بلند شرح اور معیشت کی سست رفتار ترقی ایسے مسائل ہیں، جنہیں صرف مؤثر اور جامع پالیسیوں کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے،اپوزیشن میں بیٹھی کانگرس پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ مودی حکومت کی نامناسب پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان میں سرمایہ کاروں کا اعتمادختم ہوتا جا رہا ہے،مودی حکومت عرصہ دراز سے یہ دعوی کرتی آرہی ہے کہ وہ کاروباری افراد کی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کی خواہاں ہے،مرکزی حکومت کا یہ بھی دعوی رہا ہے کہ ہندوستان میں کاروبار یا بزنس کرنے والوں سے متعلق امور میں آسانی پیدا کی جائے گی لیکن  ایک دہے کے دوران اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے،ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف پرائیویٹ انویسٹمنٹ سے متعلق امور میں ہی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں،جس کی وجہ سے دوسرے افراد کے لئے مشکلات اور مسائل پیدا ہوتے جا رہے ہیں،جے رام رمیش نے اس سلسلے میں محاصل جی ایس ٹی، اور انکم ٹیکس کا تذکرہ کیا اورکہا کہ ٹیکس ٹریریزم ،ہندوستان کی خوشحالی کےلئے ایک بڑا خطرہ بن گیا ہے،اس کے علاوہ بزنس کرنے والوں کے لئے اس سے مشکلات بھی پیدا ہوتی جا رہی ہیں، 10 برسوں کے دوران جی ڈی پی رینج میں 20 تا 25 فیصد کی کمی ہوئی ہے ،17.5لاکھ ہندوستانیوں نے ایک دہے سے زائد عرصے کے دوران دوسرے ملک کی شہریت حاصل کر لی ہے، 2022 اور 2025 کے دوران تخمینا21 ہزار 300 ڈالر ملین نائرس، ہندوستان سے چلے گئے،اس طرح کے واقعات کی تین وجوہات ہیں،جی ایس ٹی کا پیچیدہ طریقہ کار بھی اس میں شامل ہے،رمیش نے  مزید دعوی کیا کہ حکومت کی نامناسب پالیسیوں کی وجہ سے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور بڑے دولت مند ہندوستان چھوڑ چکے ہیں،مشاہروں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان کی نمو میں کمی آتی جارہی ہے،وزارت زراعت کے ڈیٹا کے مطابق  جب یوپی اے برسراقتدارتھی،ایگریکلچر لیبر کے لئے حقیقی مشاہرے میں 6.8 فیصد ہر سال اضافہ ہوتا رہا،مودی حکومت نے اسے کم کردیا اور اب یہ 1.3 فیصد ہو کررہ گیاہے،اب جبکہ26 ۔2025  کا مرکزی بجٹ عنقریب پیش کیا جانے والا ہے  حکومت کو چاہئے کہ وہ نقصانات کی تلافی کےلئے قابل لحاظ اقدامات اور  تبدیلیاں عمل میں لائیں۔

 اگرحکومت نے فوری طور پر اقتصادی اصلاحات پر توجہ نہ دی تو ترقی کا یہ سست روی کا سفر مزید طویل ہوسکتا ہے،اگر حقیقت میں ہندوستانی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہے تو اسے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے،خاص طور پر مزدوروں کی حالت، چھوٹے کاروباری اداروں کی حمایت اور پیداوار کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،اس پس منظر میں معاشی اصلاحات کی ضرورت اور اقتصادی پالیسیوں کا درست سمت میں ہونے کا سوال مزید اہم ہو جاتا ہے،ان حالات میں مودی حکومت کو اپنے خوابوں کی حقیقت کوتسلیم کرتے ہوئے ایک نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی،جس میں حقیقی ترقی کی راہیں ہموار ہو سکےاورمعیشت میں عوام کی شمولیت یقینی بنائی جا سکے،ملک کی معاشی حالت پر توجہ نہیں دی گئی اورخلوص دل کے ساتھ اسکی بہتری کےلئے کام نہیں کیاگیا تو آنے والے دنوں میں حالات مزید بدتر ہونگے،سوال یہ ہے کہ کیا مودی حکومت اس پر سنجیدگی سے غورکرے گی اور اسطرح کے سنگین مسائل کے حل کےلئے مخلص ہوکر کام کرے گی؟سوال یہ بھی ہے کہ سنگین اور بنیادی مسائل کے حل کےلئے اس حکومت کے پاس کون سا پلان ہے؟اوران مسائل سے نمٹنے کےلئے اب تک اس حکومت نے کیا کام کیاہے؟کیا حکومت کے پاس نااہلی و ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں ہے؟


(مضمون نگار،معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)


ڈبل انجن حکومت میں نوکری اور روزگار کی بات بالکل ختم ہو گئی ہے : اعجاز احمد

 




پٹنہ :راشٹریہ جنتا دل کے ریاستی ترجمان اعجاز احمد نے کہا کہ بہار میں 20 سال سے ڈبل انجن کی حکومت کام کر رہی ہے، لیکن ان 20 سالوں میں اتنی نوکریاں اور روزگار نہیں دیے گئے جتنے مہاگٹھ بندھن حکومت کے ذریعے تیجسوی جی نے 17 مہینوں میں دینے کا کام کیا ہے۔ مہاگٹھ بندھن حکومت نے تقریباً 5.5 لاکھ نوکریاں دی ہیں اور تیجسوی جی کے ذریعہ چھوڑی گئی 3.50 لاکھ آسامیاں ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہیں۔ بہار حکومت نوجوانوں کی نوکری اور روزگار کے ساتھ کھیلواڑکر رہی ہے ۔ بہار میں نفرت پھیلانے والے لوگ حکومت میں شامل ہیں جو نہیں چاہتے کہ نوجوانوں کو روزگار ملے۔


Sunday, 19 January 2025

بہار کا پہلا ارانشیا داخلہ تجربہ مرکز اربن ٹرینڈز کا آغاز

 




 پٹنہ(پریس ریلیز): اربن کیئر نے لیڈز ٹاور، آئی اے ایس کالونی، بیلی روڈ، پٹنہ میں بہار کے پہلے ارنسیا داخلہ تجربہ مرکز، اربن ٹرینڈز کے افتتاح کے ساتھ ایک اہم سنگ میل حاصل کیا ہے۔ اربن کیئر کے اس نئے اسٹور کا افتتاح مشترکہ طور پر ارنسیا کے منیجنگ ڈائریکٹر سمیر پٹیل اور شبدرا دیوا نے ربن کاٹ کر کیا، جبکہ اربن کیئر کے ڈائریکٹر بلکشن کمار اور بی ایم یو ایس کے صدر اندو مہاسٹھ نے چراغ جلا کر اسٹور کا افتتاح کیا۔ یہ جدید ترین سہولت بہار کے اندرونی ڈیزائن کے منظر نامے میں ایک پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے، جو عالمی معیارات کو مقامی امنگوں کے ساتھ جوڑتی ہے۔ دس سال سے زیادہ کی مہارت کے ساتھ اندرونی ڈیزائن کی صنعت میں ایک سرکردہ نام، اربن کیئر کو بہار کا پہلا اسٹارٹ اپ ہونے پر فخر ہے جسے حکومت بہار سے سیڈ فنڈنگ اور پہچان ملی ہے۔ اس اسٹارٹ اپ کو اس سے قبل سابق نائب وزیر اعلیٰ نے بہار میں بہترین اسٹارٹ اپ کے اعزاز سے نوازا ہے، جس نے ریاست کے کاروباری ماحولیاتی نظام میں ایک رہنما کے طور پر اس کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔ نئے شروع کیے گئے اربن اکسپرینس سنٹر میں ارنسیا کے پریمیم انٹیریئر سلوشنز کی نمائش کی گئی ہے جو جدید ترین فنکشنلٹی کے ساتھ خوبصورت ڈیزائن کو ملاتے ہیں۔ اس کا مقصد بہار کے لوگوں کو جدید اور عالمی معیار کے ڈیزائن کے امکانات پر پہلی نظر دے کر اپنے گھروں اور تجارتی جگہوں کے اندرونی حصوں تک پہنچنے کے طریقے میں انقلاب لانا ہے۔ یہ پروجیکٹ بہار میں بڑھتے ہوئے کاروباری جذبے اور اختراع کو فروغ دینے میں حکومتی تعاون کے اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ اربن کیئر ریاست میں معاشی اور تخلیقی ترقی کے لیے پبلک پرائیویٹ تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے سفر میں حکومت بہار کی طرف سے فراہم کردہ انمول مدد کا اعتراف کرتا ہے۔ اربن ٹرینڈز ایک گیم چینجر بننے کے لیے تیار ہے، جو بہار کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اپنے رہائشیوں کو جدید ترین، اعلیٰ معیار کے اندرونی ڈیزائن کے حل تک رسائی فراہم کرتا ہے۔


کسنا ڈائمنڈ اینڈ گولڈ جیولری نے بہار میں چھٹا خصوصی شو روم کا آغاز کیا

 




 ہندوستان میں 62 واں شوروم کھولنے کا تاریخی لمحہ




 پٹنہ(پریس ریلیز) - کسنا ڈائمنڈ اینڈ گولڈ جیولری نے راجہ بازار، پٹنہ، بہار میں ایک شاندار افتتاح کے ساتھ اپنے 6ویں خصوصی شو روم کا آغاز کیا۔ یہ ہندوستان میں کسنا کا 62 واں خصوصی شو روم ہے۔ اس پرمسرت موقع پر، گھنشیام ڈھولکیا، بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر، ہری کرشنا گروپ، نے اپنی موجودگی کے ساتھ اس تقریب کو سراہا۔

 شوروم کے افتتاح کے موقع پر، کسانہ ہیرے کے زیورات بنانے کے چارجز پر 100٪ تک اور سونے کے زیورات بنانے کے چارجز پر 25٪ تک رعایت کی پیشکش کر رہا ہے۔ ہری کرشنا گروپ کے بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر گھنشیام ڈھولکیا نے کہا، "راجہ بازار، پٹنہ میں ہمارے نئے شوروم کا افتتاح ہمارے لیے فخر اور خوشی کا لمحہ ہے۔ یہ شوروم ہمارے صارفین کو زیورات کی خریداری کا بہترین تجربہ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد، ’ہر گھر کسانہ‘ کے ذریعے، بھارت کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا جیولری برانڈ بننا اور ہر عورت کے ہیرے کے زیورات پہننے کے خواب کو پورا کرنا ہے۔


 کسنا ڈائمنڈ اینڈ گولڈ جیولری کے ڈائریکٹر پیراگ شاہ نے کہا، "شادی اور تحفے کا سیزن ہمارے صارفین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پٹنہ میں اپنے نئے شو روم کے آغاز کے ساتھ، ہمارا مقصد زیورات فراہم کرنا ہے جو ان کے جذبات کی عکاسی کرے اور ان کے خاص لمحات کو مزید یادگار بنائے۔


 کسنا کے فرنچائز پارٹنر ابھے کمار سنگھ نے کہا کہ "کسنا کے ساتھ شراکت کرنا ہمارے لیے بہت اچھا تجربہ رہا ہے۔ اپنے معیار، اعتماد اور دستکاری کی میراث کے ساتھ، برانڈ ہیرے اور سونے کے زیورات کو وسیع تر سامعین کے لیے قابل رسائی بنا رہا ہے۔ ہمیں اس غیر معمولی خریداری کے تجربے کو پٹنہ کے لوگوں تک پہنچاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے، خاص طور پر اس تہوار اور خوشی کے موسم میں۔


 سماج کے تئیں اپنی وابستگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے، کسان نے لانچ ایونٹ کے ایک حصے کے طور پر خون کے عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا اور ضرورت مندوں کے لیے خوراک کی تقسیم کی مہم کا بھی اہتمام کیا۔


مہاکمبھ میلے میں لگی زبردست آگ، کئی کیمپ جل کر راکھ






یوپی کے پریاگ راج میں جاری مہاکمبھ 
میں شدید آگ لگ گئی ہے۔ آگ کی شدت کا یہ عالم تھا کہ دور سے ہی اس کی لپٹیں نظر آ رہی تھیں۔ اس آگ میں تقریباً 20-25 ٹینٹ جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔ یہ آگ اکھاڑے سے آگے والی سڑک پر لوہے کے پ±ل کے نیچے لگی ہے۔ آگ کی وجہ سے ٹینٹوں میں رکھے گیس سلنڈر بھی یکے بعد دیگرے بلاسٹ ہوتے چلے گئے جس کی وجہ سے آگ کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ حالانکہ انتظامیہ کی مستعدی کی وجہ سے آگ پر بہت جلد قابو پا لیا گیا۔ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیوں کا استعمال کیا گیا ہے۔



واضح ہو کہ سیکٹر 19 اور سیکٹر 5 کے بارڈر پر اولڈ جی ٹی روڈ کراسنگ کے پاس یہ خطرناک آگ لگی تھی۔ سب سے پہلے وویکانند کیمپ میں آگ لگی تھی۔ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے، کسی چنگاری یا بجلی کی شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے کا امکان ہے۔ وہیں مہاکمبھ میں لگی آگ کے معاملے کا اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نوٹس لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر سنیئر افسران موقع پر موجود ہیں۔ واضح ہو کہ واقعہ میں ابھی تک کسی عقیدت مند کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔



قابل ذکر ہے کہ نرمل آشرم کے سوامی شری گوپی ہری جی مہاراج نے آگ لگنے کے حوالے سے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ”مہاکمبھ میں لگی آگ میں 6 سلنڈر بلاسٹ ہوئے اور باقی کے سلنڈر نکال لیے گئے۔ تقریباً 1000 اسکوائر فٹ ایریا میں آگ لگی تھی۔ پورے علاقے کا کپڑا جل گیا ہے صرف بانس-بَلّی بچی ہے۔ اس آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 20 فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آئی ہیں۔“


مہاکمبھ میں آگ کے واقعہ کے بعد سماجوادی پارٹی نے یوگی حکومت پر تنقید کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ”میلہ علاقہ میں انتظام کا جو ڈھنڈورا وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پیٹ رہے تھے اور سب کو دعوت دے رہے تھے۔ کیا یہ وہی انتظام ہے جو آج دکھائی دی ہے؟ سچائی یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے صرف ڈھنڈورا پیٹا ہے اور صرف بدعنوانی کی ہے، باقی حفاظتی انتظامات صرف رام بھگوان بھروسے ہی ہے۔“



مودی حکومت نے غریب اور محنت کش طبقوں سے اپنا منہ موڑ لیا ہے: راہل گاندھی

 




لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اتوار (19جنوری) کو ایک بار پھر مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر غریبوں اور محنت کشوں کو ان کے حال پر چھوڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔ راہل گاندھی نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے ’وہائٹ ٹی شرٹ موومنٹ‘ کی شروعات کا اعلان کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے وہ اس تحریک سے جڑیں۔ اس تحریک سے جڑنے کے لیے راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ”آج مودی حکومت نے غریب اور محنت کش طبقہ سے اپنا منہ موڑ لیا ہے اور انہیں پوری طرح سے ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔“


راہل گاندھی نے پوسٹ میں آگے لکھا کہ ”حکومت کی پوری توجہ صرف چند چنندہ سرمایہ داروں کو مالا مال کرنے پر ہے۔ اس وجہ سے عدم مساوات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور خون پسینے سے ملک کی آبیاری کرنے والے محنت کشوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ وہ طرح طرح کی ناانصافیوں اور مظالم کو سہنے پر مجبور ہیں۔“ علاوہ ازیں راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ”ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مل کر انہیں انصاف اور حق دلانے کے لیے مضبوطی سے آواز اٹھائیں۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم #WhiteTshirtMovement کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔“


 کانگریس رہنما راہل گاندھی نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ”میں اپنے نوجوان محنت کش طبقہ کے ساتھیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اس تحریک سے جڑنے اور اس سے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے اس لنک پر وزٹ کریں۔ /whitetshirt.in/home/hin یا اس نمبر پر مسڈ کال کریں۔ 9999812024۔“ قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی ہمیشہ غریبوں کی آواز اٹھانے کے معاملے میں صف اول میں رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو غریبوں کو نظر انداز کرنے کا ہمیشہ مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ غریبوں کی آوز اٹھانے کے معاملے میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے راہل گاندھی نے اس ’وہائٹ ٹی شرٹ موومنٹ‘ کی شروعات کی ہے۔



کٹیہار میں کشتی حادثہ، 3 افراد کی ڈوب کر موت، 10 لاپتہ

 



کٹیہار میں گنگا ندی کے گولا گھاٹ کے
پاس اتوار کی صبح بڑا کشتی حادثہ پیش آیا ہے۔ کشتی الٹنے سے 3 لوگوں کی موت ہو گئی ہے جبکہ 4 سنگین حالت میں اسپتال میں داخل کرائے گئے ہیں۔ وہیں 10 لوگ اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پران پور، بدھ نگر اور کشن پور گاﺅں کے لوگ کشتی پر سوار تھے جو ضلع کے امدا باد تھانہ علاقہ کے گدائی دیارہ علاقے میں گنگا ندی میں الٹ گئی۔

کشتی حادثہ کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس اور انتظامیہ کی ٹیم موقع پر پہنچی۔ واقعہ کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ حادثہ اس وقت ہوا جب صبح میں سبھی لوگ کشتی پر سوار ہو کر کھیت کھلیان کی طرف فصلوں کی دیکھ بھال اور کھیتوں میں مزدوری کرنے جا رہے تھے۔ اسی دوران اچانک کشتی کا توازن بگڑ گیا اور یہ گنگا ندی میں الٹ گئی۔ حادثے کے بعد مسافروں میں ہنگامہ اور چیخ و پکار مچ گئی۔ موقع پر دیہی لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی اور انہوں نے بھی ڈوب رہے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی۔

حادثے کی بڑی وجہ کشتی پر صلاحیت سے زیادہ لوگوں کا سوار ہو جانا بتایا جاتا ہے۔ اطلاع کے مطابق یہ کشتی نہیں بلکہ ایک ڈینگی (چھوٹی کشتی) تھی۔ اوور لوڈنگ ہونے کی وجہ سے ڈگمگا کر ندی میں الٹ گئی۔ کشتی پر 17 افراد سوار تھے جس میں 3 کی موت ہو گئی جبکہ 4 لوگوں کو زیادہ پانی پینے کی وجہ سے بے دم حالت میں مقامی امداباد پرائمری ہیلتھ سینٹر میں داخل کرایا گیا ہے۔ لاپتہ 10 لوگوں کی تلاشی مہم جاری ہے۔

واقعہ کے سلسلے میں کٹیہار کے ایس پی ویبھو شرما نے بتایا کہ جائے حادثہ پر مقامی تھانہ کو بھیجا گیا ہے۔ برآمد شدہ مہلوکین کی لاش کی شناخت کی جا رہی ہے۔ آگے کی کارروائی کرتے ہوئے لاش کے پوسٹ مارٹم کا عمل کیا جا رہا ہے۔


نائیجریا میں پیٹرول ٹینکر دھماکے میں 70 افراد کی موت ،50افراد زخمی

 






شمالی نائیجیریا میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے۔ یہاں ایک پٹرول ٹینکر ا±لٹ گیا، جس سے ایندھن پھیلنے کے بعد زوردار دھماکہ ہو گیا۔ اس دھماکہ میں کم سے کم 70 لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 70 سے زیادہ لوگوں کی لاش برآمد کر لی گئی ہے جبکہ 50 افراد زخمی ہیں۔ اس دھماکہ میں 15 سے زیادہ دکانیں تباہ ہو گئی ہیں۔ ملک کی ایمرجنسی ریسپانس ایجنسی کے مطابق یہ حادثہ ہفتہ کو نائجر صوبہ کے سلیجا علاقے کے قریب اس وقت پیش آیا جب کچھ لوگ جنریٹر کا استعمال کرکے ایک ٹینکر سے دوسرے ٹرک میں گیسولین منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے حادثے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتالوں میں لے جایا جا رہا ہے، ان کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ حسینی عیسیٰ نے بتایا کہ فیول منتقل کرنے کی وجہ سے دھماکہ ہوا، جس کے بعد گیسو لین منتقل کرنے والے اور اس کے آس پاس کھڑے لوگ اس کی زد میں آگئے۔

نائجر ریاست کے یونین روڈ سیفٹی کے کور سیکٹر کمانڈر کمار س±کوام نے بھی اس معاملے میں اپنا بیان درج کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روکنے کی پوری کوشش کے باوجود ایندھن لینے کے لیے لوگوں کی بڑی بھیڑ جمع ہو گئی۔ س±کوام نے کہا کہ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے بڑی مشقت کے بعد آگ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کر لی لیکن تب تک کئی لوگوں کی جان چلی گئی۔

غور طلب ہے کہ افریقہ کے سب سے بڑے تیل پیداوار ملک میں ایسے حادثات عام ہو گئے ہیں۔ اس کی زد میں آنے سے اب تک کئی لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ نائجر ریاست میں یہ حادثہ گزشتہ اکتوبر میں جگاوا ریاست میں اسی طرح کے دھماکہ کے بعد ہوا ہے۔ اس حادثے میں بھی 147 لوگوں کی جان چلی گئی تھی، یہ نائجیریا میں سب سے بدترین سانحات میں سے ایک تھا۔ معلوم ہو کہ گزشتہ مئی 2023 میں صدر بولا ٹینوبو کے دفتر میں آنے پر دہائیوں پرانی سبسیڈی ختم کرنے کے بعد سے نائجیریا میں پٹرول کی قیمت 400 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔



Thursday, 16 January 2025

ریڈ ویلویٹ ہوٹل کا اپنی 6ویں سالگرہ پرصارفین کو 25% تک رعایت کی پیشکش

 




 پٹنہ (پریس ریلیز): آر پی ایس موڑ پر واقع ریڈ ویلویٹ ہوٹل، جو اپنی بہترین خدمات کے لیے مشہور ہے، نے دارالحکومت میں اپنے 6 سال مکمل کر لیے۔ اس موقع پر ہوٹل انتظامیہ نے کیک کاٹ کر ہوٹل کی چھٹی سالگرہ بڑی دھوم دھام سے منائی۔ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہوٹل کے منیجنگ ڈائریکٹر روہت کمار نے کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ دی ریڈ ویلویٹ ہوٹل نے کامیابی کے ساتھ اپنے چھ سال مکمل کر لیے ہیں۔ ان چھ سالوں میں ہوٹل نے اپنی بہترین خدمات سے اپنے صارفین میں ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2019 میں شروع ہونے والا یہ ہوٹل آج اعلیٰ خاندانی اور کاروباری ہوٹلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے لیے میں اپنی ٹیم کے اراکین، ملازمین اور اپنے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہوٹل کے جنرل منیجر دیپک کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ہوٹل تمام جدید سہولیات سے آراستہ ہے جس میں ریسٹورنٹ، 2 بینکوئٹ ہال، 1 بورڈ روم، جم، سپا اور 28 جدید سہولیات سے آراستہ کمرے شامل ہیں۔ ہوٹل کے آپریشنز مینیجر اویناش کمار نے کہا کہ اس سالگرہ کے موقع پر، ہم اپنے صارفین کو کمروں پر 25% کی خصوصی رعایت دے رہے ہیں جو کہ جنوری کے پورے مہینے کے لیے موزوں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مہمانوں کی قیمتی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ دریں اثنا، ہوٹل کے فوڈ اینڈ بیوریج منیجر نتیش کمار نے کہا کہ ہوٹل نے وقتاً فوقتاً فوڈ فیسٹیول کا انعقاد کرکے صارفین کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ہمارا مقصد مہمانوں کو بہتر کھانا اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر ایچ آر اینڈ اکاو¿نٹ منیجر وکی کمار، پرچیز منیجر انورنجن کمار، ہاو¿س کیپنگ منیجر دھرمیندر کمار، ایگزیکٹو شیف گنجن کمار، ریسٹورنٹ منیجر سنجے جین، فرنٹ آفس منیجر اجے کمار پال، اسسٹنٹ چیف سیکورٹی آفیسر گجیندر سنگھ اور ہوٹل کے تمام ملازمین موجود تھے۔ 



سیف علی خان پر حملہ کرنے والے ملزم کی تصویر آئی سامنے، سیڑھیوں سے اترتے سی سی ٹی وی میں قید، ویڈیو بھی منظر عام پر

 





مشہور و معروف اداکار سیف علی خان پر دیر شب ہوئے قاتلانہ حملہ پر ایک ہنگامہ برپا ہے۔ ایک طرف سیف علی خان آپریشن کے بعد آئی سی یو میں منتقل کر دیے گئے ہیں، اور دوسری طرف ممبئی پولیس سرگرمی کے ساتھ حملہ آور کی تلاش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں کسی کی گرفتاری تو نہیں ہوئی ہے، لیکن ملزم کی تصویر اور ویڈیو ضرور سامنے آئی ہے جو پولیس کی ایک بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔



بتایا جا رہا ہے کہ چوری کے ارادہ سے ایک شخص سیف علی خان کے گھر میں گھسا تھا۔ جب اس کا سیف علی خان سے سامنا ہوا اور سیف نے مزاحمت کی تو وہ چاقو سے حملہ کرنے لگا۔ سیف کے جسم پر حملے کے 6 نشان بتائے گئے ہیں، جن میں سے کچھ سنگین زخم ہیں۔ اب ملزم کی جو پہلی تصویر سامنے آئی ہے، اس میں وہ سیڑھیوں سے نیچے اترتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی تصویر سیڑھیوں پر لگے سی سی ٹی وی میں قید ہو گئی ہے۔ اس تصویر کی بنیاد پر ہی حملہ آور کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔ سی سی ٹی وی کی ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلے میں گمچھا لٹکائے ایک نوجوان سیڑھیوں سے اتر رہا ہے۔




سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور پیٹھ پر ایک بیگ ٹانگے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ یہ فوٹیج دیر رات 2.33 بجے کا ہے۔ اس فوٹیج کو سامنے رکھ کر پولیس نے کچھ اہم جانکاریاں حاصل کر لی ہیں۔ پولیس نے ملزم کی شناخت بھی کر لی ہے اور اس کے گھر کا بھی پتہ لگا لیا ہے۔ پولیس اس کے گھر گئی بھی تھی، لیکن وہ گھر پر موجود نہیں ملا۔ پولیس زور و شور سے کے ساتھ حملہ آور کی تلاش کر رہی ہے۔ پولیس کی 10 ٹیمیں سیف علی خان پر ہوئے اس حملہ کی جانچ کر رہی ہیں۔


اس درمیان پولیس سیف علی خان کے گھر پہنچ کر گہرائی سے جانچ کرتی ہوئی نظر آئی اور کچھ لوگوں سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی۔ سیف علی خان کے گھر انکاو¿نٹر اسپیشلسٹ دیا نایک بھی پہنچے ہیں جنھوں نے واقعہ سے متعلق وسیع جانچ کی۔ دیا نایک ممبئی انڈرورلڈ سے نمٹنے میں اپنے کردار کے لیے مشہور ہیں۔ مبینہ طور پر دیا نے اپنے کیریئر میں تقریباً 80 انکاو¿نٹر کیے ہیں۔



مرکزی حکومت نے آٹھویں پے کمیشن کو دی منظوری، 2026 سے ہوگا نافذ، تنخواہ میں 186 فیصد تک اضافہ کا امکان

 





مرکزی حکومت نے آٹھواں پے کمیشن نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی ملازمین کو یہ تحفہ دینے کا اعلان ضرور کر دیا گیا ہے، لیکن اس کا نفاذ آئندہ سال یعنی 2026 سے ہوگا۔ ابھی تک مرکزی ملازمین کو ساتویں پے کمیشن کے تحت تنخواہ مل رہی ہے۔ اب جلد ہی آٹھویں پے کمیشن کی تشکیل کی جائے گی اور پھر آگے کی کارروائی شروع ہوگی۔


آج ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے میڈیا کو بریفنگ دی۔ انھوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی ح
کومت کے ملازمین کے لیے آٹھویں سنٹرل پے کمیشن کی تشکیل کو منظوری دے دی ہے۔ اگلے سال اسے نافذ ہونا ہے، لیکن اس کے لیے جلد ہی ایک کمیشن تشکیل دی جائے گی۔ اس کے لیے چیئرمین اور 2 اراکین کے نام کا اعلان بھی جلد ہوگا۔



مرکزی حکومت کے ملازمین کو فی الحال ساتویں سنٹرل پے کمیشن کے مطابق تنخواہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ یہ 2016 میں تشکیل ہوئی تھی۔ اب آٹھویں پے کمیشن کو 2026 میں نافذ کیا گیا ہے، یعنی 10 سال بعد نئے سنٹرل پے کمیشن کا نفاذ ہوگا۔ آٹھویں پے کمیشن سے متعلق وقت رہتے مشورے اور سفارشات وغیرہ طلب کیے جا سکیں، اس لیے کمیشن کی تشکیل جلد کی جائے گی۔


آٹھویں پے کمیشن سے تنخواہ میں خاطر خواہ فرق پڑنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق نئے پے کمیشن کے نفاذ کی صورت میں کم از کم تنخواہ 34560 روپے ہو جانے کا اندازہ ہے، جبکہ پنشن کے طور پر 17280 پلس ڈی آر ملنے کی امید ہے۔ چونکہ ابھی مرکزی ملازمین کی کم از کم تنخواہ 18000 ہے، اس لحاظ سے کم از کم تنخواہ میں 186 فیصد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ پروموشن ہونے اور تنخواہ بڑھنے کی صورت میں پنشن میں بھی اضافہ ہونا یقینی ہے۔



گمراہ کن اشتہارات: ریاستوں کی عدم تعمیل پر سپریم کورٹ برہم، توہین عدالت کی کارروائی کی تنبیہ

 








سپریم کورٹ نے بدھ کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو انتباہ کیا ہے کہ اگر وہ گمراہ کن اشتہارات کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ دراصل جسٹس ابھئے ایس اوکا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے سینئر وکیل شادان فراست کی طرف سے پیش کردہ نوٹ کا جائزہ لیا اور یہ دیکھا کہ کئی ریاستیں متعلقہ ہدایات پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔


بنچ نے کہا "ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ نے متعلقہ ہدایات پر عمل آوری نہیں کی ہے تو ہمیں متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے خلاف عدالت کی توہین کے ضابطہ 1971 کے تحت کارروائی شروع کرنی پڑ سکتی ہے۔"


گمراہ کن اشتہارات سے متعلق معاملہ 2022 میں انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن (آئی ایم اے) کے ذریعہ دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے وقت عدالت عظمیٰ کے سامنے اٹھا تھا، جس میں پتنجلی ا?یوروید لمیٹڈ پر کووڈ ٹیکہ کاری مہم اور جدید طبی طریقوں کے خلاف گمراہ کن مہم چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔


سپریم کورٹ نے میڈیا میں شائع یا دکھائے جا رہے گمراہ کن اشتہارات کے پہلو کو ا±جاگر کیا تھا، جو دوا اور جادوئی علاج (قابل اعتراض اشتہار) قانون، 1954 اور متعلقہ ضوابط، ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 اور صارفین تحفظ ایکٹ، 1986 کے نظم کے برعکس ہے۔



شادان فراست نے بدھ کو سماعت کے دوران کہا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ اب تک دائر حلف ناموں کے مطابق 1954 کے متعلقہ قوانین کے تحت درحقیقت کوئی مقدمہ نہیں چلایا جا رہا ہے۔


بنچ نے کچھ ریاستوں کے دائر حلف ناموں کا حوالہ دیا اور سوال کیا کہ انہوں نے حاصل شکایات کی بنیاد پر کارروائی کیوں نہیں کی۔ بنچ نے کہا کہ کچھ ریاستوں کو خلاف ورزی کرنے والوں کی شناخت کرنا مشکل لگا۔ بنچ نے کہا، "ہم اب توہین کی کارروائی کریں گے اور ہم ہر ایک ریاست کے ذریعہ کی گئی عمل آوری پر گہری جانچ کریں گے۔"


بنچ نے کہا کہ وہ 10 فروری کو آندھرا پردیش، دہلی، گوا، گجرات اور جموں و کشمیر کے ذریعہ کی گئی تعمیل پر غور کرے گی اور اگر یہ ریاستیں عمل آوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے حلف نامہ دائر کرنا چاہتی ہیں تو وہ 3 فروری تک ایسا کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ بنچ نے مزید کہا کہ جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش اور پنجاب کے ذریعہ کی گئی تعمیل پر 24 فروری کو غور کیا جائے گا۔ اس نے کہا کہ دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ کی گئی عمل آوری پر 17 مارچ کو غور کیا جائے گا۔



واضح ہو کہ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سال جولائی میں معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آیوش وزارت کو گمراہ کن اشتہارات پر درج شکایتوں اور ان پر ہوئی پیش رفت کے بارے میں صارفین کو تفصیلات دستیاب کرانے کے لیے ایک ڈیش بورڈ قائم کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اپریل میں مرکز اور ریاستی لائسنسنگ افسروں کو گمراہ کن اشتہارات سے نپٹنے کے لیے خود کو فعال کرنے کے لیے کہا تھا۔


سیف علی خان پر حملہ: سیاسی رہنمائوں کا شدید ردعمل، ’مشہور شخصیات کو نشانہ بنا کر ممبئی کو کمزور کرنے کی سازش‘

 



ممبئی: بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان پر ان کے گھر میں چاقو سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، حملہ آدھی رات کے قریب ہوا جب ایک شخص نے سیف ک
ے گھر میں گھس کر تیز دھار ہتھیار سے تقریباً 6 بار وار کیا۔ فی الحال ممبئی پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ حملہ کس نے اور کیوں کیا۔


پولیس کی ٹیم تحقیقات کے لیے سیف علی خان کے گھر پہنچ گئی ہے اور 5 گھریلو ملازمین سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ یہ واقعہ باندرہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں کئی مشہور شخصیات رہائش پذیر ہیں۔ اس واقعہ نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل پیدا کر دی ہے اور مختلف رہنماو¿ں نے قانون و انتظام کے مسائل پر سوالات اٹھائے ہیں۔


شیو سینا (یو بی ٹی) کی رہنما پرینکا چترویدی نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ممبئی میں ایک اور ہائی پروفائل قتل کی کوشش ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابا صدیقی کے قتل کے بعد انصاف کا انتظار ہے، سلمان خان کو بلٹ پروف گھر میں رہنا پڑ رہا ہے اور اب سیف علی خان کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر مشہور شخصیات ہی محفوظ نہیں تو عام آدمی کا کیا ہوگا؟


شیوسینا رہنما آنند دوبے نے کہا کہ اگر ملک میں وی آئی پی بھی محفوظ نہیں، تو عام شہریوں کا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے پولیس اور وزیر داخلہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔


بی جے پی کے رام کدم نے یقین دہانی کرائی کہ پولیس ملزمان کو پکڑے گی اور انصاف ہوگا۔ این سی پی کی سپریا سولے نے معاملے پر محتاط بیان دیا کہ فی الحال زیادہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے تبصرہ مناسب نہیں ہوگا۔


ذرائع کے مطابق یہ حملہ سیف کے بیٹوں تیمور اور جہانگیر کے کمرے میں ہوا، جہاں سیف نے جاگ کر حملہ آور کا سامنا کیا۔ پولیس حملہ آور کے داخل ہونے کے طریقہ کار کا پتا لگا رہی ہے۔ سیف کے پی آر نے بتایا کہ نینی (گھریلو ملازمہ) نے رات کو آواز سن کر گھر والوں کو جگایا۔ سیف نے بہادری سے مزاحمت کی لیکن انہیں زخم آئے۔


سیف کی اہلیہ کرینہ کپور کی ٹیم نے بیان میں کہا کہ یہ ایک لوٹ مار کی کوشش تھی۔ سیف کو چوٹیں آئی ہیں، مگر باقی خاندان محفوظ ہے۔ انہوں نے میڈیا اور مداحوں سے افواہوں سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔