Thursday, 9 January 2025

میانمار کی فوج نے اپنے ہی ملک پر فضائی حملہ کر دیا؟ 40 افراد ہلاک، کئی دیگر زخمی

 








میانمار کے مغربی علاقہ واقع ایک گاو¿ں پر فوج کے ذریعہ فضائی حملہ کر دیا گیا۔ اس حملے میں کم از کم 40 لوگ مارے گئے اور دیگر 20 زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ بدھ (7 جنوری) کو رامری جزیرہ کے کیواو¿ک نی ماو گاو¿ں پر کیا گیا۔ یہ جزیرہ نسلی اراکان آرمی کے کنٹرول میں تھا۔ حملے کی وجہ سے کئی گھروں میں آگ لگ گئی۔ سینکڑوں گھر جل کر راکھ ہو گئے۔ اراکان آرمی کے ترجمان کھائینگ تھوکھا نے اس حملے کے حوالے سے بتایا کہ ”اس حملے میں خواتین اور بچوں سمیت بہت سے لوگ مارے گئے۔ اس کے علاوہ فضائی حملے سے لگنے والی آگ نے گاو¿ں کے 500 سے زائد مکانات کو تباہ کر دیا۔ یہ حملہ اراکان آرمی کے زیر کنٹرول علاقے میں ہوا۔“



مقامی افسران اور خیراتی ادارے کے مطابق یہ حملہ میانمار کی فوج کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ فوج نے اب تک اس واقعہ کی تصدیق نہیں کی ہے۔ واضح ہو کہ متاثرہ گاو¿ں میں انٹرنیٹ اور موبائل خدمات کی سخت پابندی کی وجہ سے واقعہ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس حملے کے بارے میں نسلی اراکان آرمی اور علاقائی تنظیموں نے جانکاری دی ہے، لیکن میانمار حکومت یا فوج کی جانب سے اب تک کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔



قابل ذکر ہے کہ یہ حملہ میانمار میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور تشدد کا حصہ ہے جو فروری 2021 میں فوج کے ذریعہ جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے جاری ہے۔ فوج کے پ±رتشدد جبر کے خلاف احتجاج کرنے والے بہت سے لوگ اب مسلح مزاحمت میں شامل ہو گئے ہیں۔ میانمار کے کئی حصوں میں نسلی گروہوں اور فوج کے درمیان تصادم بڑھتا جا رہا ہے جس سے حالات اور بھی مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔



ایران نے 2024 میں 901 لوگوں کو دی پھانسی کی سزا، 31 خواتین بھی شامل

 








 حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کی جانب سے دی گئی اطلاع کے مطابق گزشتہ سال یعنی 2024 میں ہی کم از کم 901 لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ ایران میں سال بہ سال پھانسی کی سزا میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر 2023 کی بات کریں تو ا±س سال 853 لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ واضح ہو کہ ایران میں پھانسی کی سزا پانے والے لوگوں کی تعداد اس لیے بڑھ رہی ہے کہ وہاں قتل، منشیات کی اسمگلنگ، عصمت دری اور جنسی ہراسانی جیسے معاملوں کو ناقابل معافی جرم تصور کیا جاتا ہے۔



انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے مطابق چین کے بعد ایران دنیا کا دوسرا ایسا ملک ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو پھانسی پر چڑھایا جاتا ہے۔ حالانکہ چین کے حوالے سے موصول اعداد و شمار کو حتمی اور قابل یقین نہیں مانا جا سکتا جبکہ ایران کے حوالے سے موصول اعداد و شمار پر یقین کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کا ماننا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ماتحت کام کرنے والی تنظیمیں پھانسی کا استعمال ایک ہتھیار کے طور پر کرتی ہیں۔ اس کے ذریعہ سماج میں ڈر و خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 23-2022 میں ایران میں ملکی سطح پر ہوئے مظاہرے کی وجہ سے بھی پھانسی کے معاملوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ ایران، پھانسی کی سزا کے حوالے سے کوئی آفیشیل اعداد و شمار فراہم نہیں کراتا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیمیں ناروے اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعہ ہمیشہ سے پختہ اعداد و شمار پیش کرتے رہے ہیں۔



ایران میں خواتین کو پھانسی دینے کے معاملوں میں بھی خاصا اضافہ ہوا ہے۔ 2024 میں جن 901 لوگوں کو پھانسی دی گئی ہے اس میں 31 خواتین شامل ہیں۔ اگر گزشتہ 10 سالوں کی بات کی جائے تو 2015 کے بعد 2042 میں سب سے زیادہ لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ 2015 میں 972 لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی جب کہ 2024 میں 901 لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ ایران میں پھانسی دینے کے حوالے سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کی گزشتہ 10 سالوں کی رپورٹ کے مطابق 2014 میں 743، 2015 میں 977، 2016 میں 567، 2017 میں 507، 2018 میں 253، 2019 میں 251، 2020 میں 246، 2021 میں 314، 2022 میں 576، 2023 میں 853 اور 2024 میں 901 لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔



’یہ ایسا ہائی کورٹ ہے جس کے بارے میں فکر ہوتی ہے‘، سپریم کورٹ کا الٰہ آباد ہائی کورٹ پر تلخ تبصرہ

 









سپریم کورٹ نے آج ایک معاملے پر سماعت کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے تعلق سے تلخ تبصرہ کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ان ہائی کورٹس میں شامل ہے، جس کے بارے میں ہمیں فکر ہونی چاہیے۔ یہ تبصرہ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے کیا ہے جو کہ عباس انصاری سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔



سپریم کورٹ نے جمعرات (9 جنوری) کو لکھنو¿کے جیامﺅ میں اس متنازعہ جگہ پر وزیر اعظم رہائش منصوبہ کے تحت رہائشی یونٹس کی تعمیر کو لے کر موجودہ حالات بنائے رکھنے کا حکم دیا جس پر مختار انصاری کے بیٹے اپنی ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ 2020 میں لکھنو¿ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مختار اور عباس انصاری سمیت اس کے بیٹوں کے بنگلے کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا تھا۔ حکومت پی ایم آواس یوجنا کے تحت اس متنازعہ جگہ پر فلیٹ بنانے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ اس معاملے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کا رویہ کچھ ایسا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کو اس کے خلاف تلخ تبصرہ کرنا پڑا۔



عباس انصاری کی طرف سے پیش سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے آج سپریم کورٹ کی بنچ کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ زمین پر قبضہ سے متعلق عرضی کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ کے سامنے بار بار فہرست بند کیا گیا، لیکن کوئی عبوری روک نہیں لگائی گئی۔ گزشتہ سال 21 اکتوبر کو عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ سے عبوری روک سے متعلق درخواست پر جلد از جلد سماعت کرنے کو کہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب جمعرات کو معاملہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے آیا تو ایڈووکیٹ سبل نے بنچ کے سامنے پوری بات رکھ دی اور کہا کہ ’سپریم آرڈر‘ کے باوجود معاملے کی سماعت الٰہ آباد ہائی کورٹ میں نہیں ہوئی۔ حقیقت جاننے کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ ”کچھ ہائی کورٹ کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن الٰہ آباد ہائی کورٹ ان ہائی کورٹس میں سے ایک ہے، جس کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے۔“


مقامِ تعمیر پر موجودہ حالات کو برقرار رکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ کی بنچ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کو اس معاملے میں جلد سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ ”چونکہ ہم نے نوٹس جاری نہیں کیا ہے اور ہائی کورٹ کی رجسٹری سے کوئی رپورٹ بھی حاصل نہیں کی ہے، اس لیے ہم اس بارے میں کوئی رائے ظاہر کرنے کے لیے خواہش مند نہیں ہیں کہ ایسے کون سے حالات تھے جن میں عرضی دہندہ کی رٹ پٹیشن پر بنچ نے غور نہیں کیا، جبکہ اسے وقت وقت پر فہرست بند کیا گیا تھا۔“



عدالت نے کہا کہ عرضی دہندگان نے واضح طور سے کہا ہے کہ اتھارٹیز نے لکھنو¿کے جیامﺅ گاو¿ں میں واقع پلاٹ نمبر 93 پر تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے، جس پر عرضی دہندہ اپنی ملکیت کا دعویٰ کر رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر تیسرے فریق کے حقوق بنائے جاتے ہیں تو اس سے عرضی دہندگان کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ”ہم اس درخواست کا نمٹارہ افسران اور عرضی دہندگان کو یہ ہدایت دیتے ہوئے کرتے ہیں کہ وہ معاملے کی سماعت ہائی کورٹ میں ہونے تک اس جگہ پر موجودہ حالات بنائے رکھیں۔“



راہل گاندھی کی معروف ڈیری برانڈ ’کیونٹرز‘ کے بانیوں سے ملاقات، روایات اور جدت کے امتزاج پر گفتگو

 




راہل گاندھی نے حال ہی میں مشہور ڈیری برانڈ کیونٹرز کے بانیوں کے ساتھ گفتگو کی تھی۔ اس ملاقات کا مقصد ایک صدی پرانے اس برانڈ کی جدت سے بھرپور کاروباری حکمت عملیوں اور اس کے توسیعی منصوبوں کو سمجھنا تھا۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے اس ملاقات کی تفصیلات بیان کیں۔ خیال رہے کہ آزادی سے پہلے کے دور میں ایک مینوفیکچرنگ برانڈ کے طور پر شروع ہوا ’کیونٹرز‘ آج صارفین کو براہ راست خدمات فراہم کرنے والی ایک بڑی کمپنی بن چکا ہے، جس کے ملک بھر کے 65 شہروں میں 200 سے زائد اسٹورز موجود ہیں۔


راہل گاندھی نے گفتگو کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی کہ کیونٹرز نے پرانے روایتی ذائقوں کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے ذائقوں کی آزمائش کیسے کی۔ بانیوں نے اپنے کاروباری سفر کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے چھوٹے شہروں میں، خاص طور پر ٹئیر-2، ٹئیر-3 اور ٹئیر-4 علاقوں میں برانڈ کی توسیع کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے حالیہ اقدامات جیسے فلیورڈ ملک اور گھی جیسی ایف ایم سی جی مصنوعات میں داخلے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔




گفتگو میں انہوں نے کاروباری چیلنجز کا بھی ذکر کیا، جیسے کہ ایف ایم سی جی سیکٹر میں کم مارجن اور بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی مسابقت۔ اس کے باوجود ان کا عزم ہے کہ وہ جدت اور روایات کے امتزاج سے ایک مستند اور قابل احترام کاروبار کو فروغ دیں گے۔


راہل گاندھی نے کہا کہ یہ ملاقات صرف کیونٹرز کی کہانی سننے تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح دیانت دار اور اصولوں کے مطابق کاروبار ہندوستان کے کاروباری جذبے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے کاروبار، جو معاشی ترقی کا ذریعہ ہیں، کو مزید تعاون فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ترقی کی نئی منازل طے کر سکیں۔


راہل گاندھی کی یہ ویڈیو ان کے کاروباری برادری کے ساتھ مربوط اور معیشت میں حقیقی کردار ادا کرنے والے افراد کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ انہوں نے ناظرین کو دعوت دی کہ وہ مکمل ویڈیو دیکھ کر کیونٹرز کے سفر، حکمت عملیوں اور مستقبل کے خوابوں کے بارے میں جانیں۔


راہل گاندھی نے اسی ویڈیو کو ایکس پر بھی پوسٹ کیا، جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا، ”کیونٹرز جیسے برانڈز، جو کئی نسلوں سے ہماری معیشت کی ترقی کے محرک رہے ہیں، کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔“


چھتیس گڑھ: منگیلی میں دردناک حادثہ، پلانٹ میں چمنی گرنے سے 30 افراد ملبہ میں دبے، 5 سے زائد اموات کا اندیشہ

 



چھتیس گڑھ واقع کسم پلانٹ میں دردناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں چمنی گرنے سے ملبہ میں کم از کم 30 افراد دب گئے ہیں۔ اس حادثہ میں 5 سے زائد اموات کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حادثہ کے فوراً بعد ریسکیو مہم شروع ہو گئی ہے اور اب تک 2 لوگوں کو ملبہ سے نکال کر اسپتال میں داخل بھی کرایا گیا ہے۔ پولیس و انتظامیہ کی ٹیم جائے حادثہ پر موجود ہے اور ملبہ میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں لگاتار جاری ہیں۔

واقعہ چھتیس گڑھ کے مونگیلی ضلع کا ہے جہاں بلاس پور-رائے پور قومی شاہراہ سے ملحق رامبوڈ گاو¿ں واقع کسم پلانٹ میں اچانک بھاری سیلو (سامان رکھنے کا ذخیرہ) اچانک گر گیا۔ نتیجہ کار چمنی گر گیا اور پھر وہاں پر کام کر رہے تقریباً 30 مزدور ملبہ میں دب گئے۔ حادثہ پیش آتے ہی وہاں موجود دیگر ملازمین میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ فوری طور پر حادثہ کی جانکاری پولیس و انتظامیہ کو دی گئی۔

حادثہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع کے اعلیٰ افسران جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی ریسکیو ٹیم راحت رسانی میں مصروف ہے۔ ابھی تک ملبہ سے 2 مزدوروں کو باہر نکالا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کسم پلانٹ کو علاقے میں اسپنج آئرن فیکٹری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ فیکٹری ابھی زیر تعمیر ہے۔ جمعرات کو کام کے دوران ہی چمنی گر پڑی اور یہ حادثہ پیش آ گیا۔


عجیب و غریب بیماری، 3 دن میں گنجے ہوئے 60 لوگ

 






مہاراشٹرکے بلڈھانا ضلع کے کچھ  گائوں سے عجیب و غریب خبر سامنے آئی ہے۔ یہاں اچانک لوگ گنجے پن کا شکار ہونے لگے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بال گرنے کی شکایت کرتے ہیں اور کچھ ہی دنوں کے اندر پورے طور پر گنجے ہو جاتے ہیں۔ کئی لوگوں کے تو محض ایک ہفتے میں سر کے سارے بال اڑ گئے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق یہاں کے 3 گاو
¿ں میں گزشتہ 3 دن میں اچانک 60 لوگ گنجے پن کا شکار ہوئے ہیں۔


شہر کے شہ گاو¿ں تحصیل کے بونڈ گاو¿ں، کالوڑ اور ہنگنا گاو¿ں میں بچوں سے لے کر بزرگوں تک سبھی لوگوں کے بال جھڑنے لگے ہیں۔ اس سے سبھی گنجے ہوتے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ خواتین بھی اس کا شکار ہونے سے نہیں بچ پا رہی ہیں۔ اس معاملے کو لے کر ضلع انتظامیہ مستعد ہو گئی ہے اور یہاں کے پانی کی جانچ کی جا رہی ہے۔


شہ گاو¿ں کی صحت افسر ڈاکٹر دیپالی باہیکر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ شہ گاو¿ں تعلقہ کے کلوڑ، بوند گاو¿ں اور ہنگنا گاو¿ں میں صحت محکمہ کی ٹیم نے منگل کو علاقے کا سروے کیا ہے اور اب متاثرہ لوگوں کا علاج شروع ہو چکا ہے۔ ان تینوں گاو¿ں میں پچاس سے زیادہ لوگ صرف ایک ہفتے میں گنجے ہو گئے ہیں۔ بہت لوگوں کے سر سے بالوں کے گچھے گچھے الگ ہو رہے ہیں۔


ضلع کونسل صحت محکمہ کے لوگوں نے مریضوں میں پائی گئی علامات کو دیکھتے ہوئے ان کا علاج شروع کر دیا ہے۔ متاثرین کو ماہر امراض جلد کی صلاح بھی لینے کے لیے کہا گیا ہے۔ ان گاو¿ں سے جانچ کے لیے پانی کے نمونے بھی لیے گئے ہیں۔ اس پانی میں کسی ملاوٹ کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے انہیں لیب میں بھیجا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر نے لوگوں کو پانی کے نمونوں کی رپورٹ آنے تک اپنی صحت کا خوب خیال رکھنے کو کہا ہے۔



غور طلب ہے کہ امریکن اکیڈمی آف ڈرمیٹولاجی (آڈ) کے مطابق ایک دن میں کسی شخص کے 50 سے 100 بال جھڑنا عام بات ہے۔ اگر کسی کے سر پر تقریباً ایک لاکھ بال ہیں تو ایسا سمجھیے کہ یہ بہت غور کرنے والی بات نہیں ہے۔ یہ ایک سائیکل کی طرح ہے کہ کچھ بال جاتے ہیں تو ان کی جگہ نئے بال آجاتے ہیں۔



موجودہ جی ایس ٹی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی: کانگریس

 






نئی دہلی: ایک جانب جہاں دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال جاٹوں کے ریزرویشن کے لئے وزیر اعظم کو خط لکھنے کی بات کر رہے ہیں اور بی جے پی کی شکایت آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے کر رہے ہیں، وہیں دہلی کی کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد عوام کو کس طرح راحت پہنچائی جا سکتی ہے اس کی بات کر رہی ہے۔ کانگریس نے ابھی تک دو ضمانتوں کا اعلان کیا ہے، جس میں خواتین کو 2500 روپے ماہانہ اور علاج کے لئے ہر دہلی والے کو 25 لاکھ روپے تک مفت علاج کا وعدہ کیا ہے۔


دریں اثنا، کانگریس پارٹی نے جی ایس ٹی کے نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آج ملک کے 12 بڑے شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنسز کا انعقاد کیا۔ اسی ضمن میں دہلی میں کانگریس کی جانب سے رکن پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل نے صحافیوں سے خطاب کیا۔


شکتی سنگھ گوہل نے بتایا کہ کس طرح دہلی کے عام لوگوں سے زیادہ ٹیکس لیا جا رہا ہے اور کارپوریٹ گھرانوں کو ٹیکس میں راحت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے موجودہ ٹیکس نظام یعنی جی ایس ٹی کو ’ٹیکس دہشت گردی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت نے غلط جی ایس ٹی لاگو کر کے عوام کی زندگی مشکل میں ڈال دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نو طرح کے جی ایس ٹی سلیب بنائے ہوئے ہیں جس میں سب سے زیادہ 28 فیصد کا سلیب ہے۔



اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ اگر وکوئی شخص تھری وہیلر خریدتا ہے تو اس کو 28 فیصد جی ایس ٹی دینا پڑتا ہے جبکہ تھری وہیلر خریدنے والا بھی عام آدمی ہوتا ہے اور تھری وہیلر میں سفر کرنے والے بھی آم آدمی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سائیکل خریدنے والے کو بھی 12 فیصد جی ایس ٹی دینا پڑتا ہے۔ گوہل نے کہا کہ ایک جانب تو عام آدمی سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے دوسری جانب کارپوریٹ گھرانوں کو راحت دی جا رہی ہے۔


شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ کانگریس رہنما راہل گاندھی اس ٹیکس کو گبر سنگھ ٹیکس کہتے ہیں اور وہ صحیح ہیں کیونکہ یہ ٹیکس عام آدمی کے لئے گبر ہی بن گیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کانگریس کے قائد منموہن سنگھ کی وہ بات یاد کرتے ہوئے دہرایا کہ جی ایس ٹی نظام کا مقصد عام آدمی کو راحت پہنچانا تھا اور ٹیکس نظام کو آسان بنانا تھا لیکن موجودہ حکومت نے جی ایس ٹی کو غلط طریقہ سے لاگو کر کے عام آدمی کی کمر توڑ دی۔



اسی سلسلہ میں وجے واڑا میں پروین چکرورتی نے صحافیوں سے خطاب کیا جی ایس ٹی کی ساخت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، "جی ایس ٹی ایک ناقص ٹیکس ہے کیونکہ غریب اور امیر ایک ہی شرح پر ٹیکس دیتے ہیں۔ ایک اچھی ٹیکس پالیسی میں امیر افراد سے زیادہ اور غریبوں سے کم ٹیکس لیا جاتا ہے، جیسا کہ انکم ٹیکس میں ہوتا ہے۔ مودی حکومت نے اس اصول کے برعکس کیا ہے۔“ انہوں نے زور دیا کہ 2019 میں بڑے کارپوریٹس کے لیے ٹیکس میں کمی کے بعد، حکومت نے جی ایس ٹی کی بلند شرحوں کے ذریعے اس خسارے کو پورا کیا۔


جے پور میں، ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ مودی حکومت نے بڑے کاروباروں کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ صرف کانگریس کا مو¿قف نہیں بلکہ سرکاری رپورٹوں میں موجود حقائق ہیں۔“


کانگریس نے یہ بھی کہا کہ 65 فیصد جی ایس ٹی کے تحت زیادہ تر اشیائ پر زیادہ شرح والے ’ناقص خراب ٹیکس‘ لاگو ہیں، جبکہ صرف 35 فیصد اشیائ پر کم شرح والے "اچھے ٹیکس" ہیں۔ یہ عدم توازن غریب عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔ کانگریس نے زور دیا کہ جی ایس ٹی کا ڈھانچہ فوری نظرثانی کا متقاضی ہے تاکہ غریب عوام کو راحت دی جا سکے اور ملک میں اقتصادی مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔



ججوں کے بچوں کو جج بننے سے روکنے کے بجائے معیار کو اعلیٰ بنائیں، سپریم کورٹ کالجیم رکن نے دی صلاح

 






سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے ذریعہ کچھ برسوں کے لیے موجودہ یا سابق ججوں کے بچوں کو ہائی کورٹ کے جج طور پر تقرر کرنے کے لیے منتخب نہیں کرنے کی تجویز دی گئی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کالجیم میں شامل ایک سینئر رکن نے تجویز پیش کی کہ ججوں کے بچوں کو پوری طرح سے نہیں روکنا چاہیے لیکن ان کے لیے معیار کو اعلیٰ کرنا ہوگا۔ جج کی اس تجویز کی وکیلوں کے درمیان خوب چرچا ہو رہی ہے۔ وکیل اس کی تعریف کر رہے ہیں۔


وکیلوں کی طویل عرصے سے شکایت تھی کہ عام طور پر ہائی کورٹ کا جج بننے کے لیے موجودہ یا سابق ججوں کے اہل خانہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کالجیم میں شامل اس رکن کا کہنا ہے کہ ایسے امیدواروں کے انتخاب کو پوری طرح سے روکنا امتیازی سلوک ہوگا۔ ایسا اس لیے کہ عدالتی تقرریاں صرف اہلیت اور مناسبیت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔


اس رکن کے ذریعہ یہ بھی جواز دیا گیا کہ یہ قدم عدالتی نظام کو ایسی صلاحیت سے محروم کر سکتی، جن کی ضرورت وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ حالانکہ انہوں نے پہلے جج کے ذریعہ مجوزہ مقاصد سے اتفاق ظاہر کیا۔ انہوں نے اس دلیل کے لیے وکیلوں کے درمیان عدم اطمینان کا احساس ہونے کا جواز دیا۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ ایسے انتخاب کئی مرتبہ قابل ہوتے ہیں۔ ٹائمز ا?ف انڈیا نے ذرائع کے حوالے سے یہ بات کہی ہے۔



دلچسپ بات یہ ہے کہ وکیلوں کا عدم اطمینان بدھ کو 'ف±ل کورٹ ریفرنس' معاملہ کے دوران سامنے آیا جب سپریم کورٹ کے تین سابق ججوں (جسٹس کلدیپ سنگھ، جسٹس ایم جگن ناتھ راو¿ اور جسٹس ایچ ایس بیدی) کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ان تینوں ججوں کے بیٹوں کو ہائی کورٹ کے جج کے طور پر تقرر کیا گیا تھا۔ انم یں سے ایک نے صرف چھ مہینے میں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور پھر سے سپریم کورٹ مں وکالت شروع کر دی۔




بابا صدیقی قتل معاملہ: پولیس پیادوں کو پکڑ رہی، ماسٹر مائنڈ تاحال فرار، ذیشان صدیقی کا الزام








ممبئی: این سی پی کے مرحوم رہنما بابا صدیقی کے بیٹے ذیشان صدیقی نے بدھ کو آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے اپنے والد کے قتل کیس کی تحقیقات پر سخت عدم اطمینان ظاہر کیا۔ انہوں نے پر الزام لگایا کہ ’پولیس اصل سازشی ماسٹر مائنڈ کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے اور صرف چھوٹے کرداروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔‘


ذیشان صدیقی نے کہا، "قتل کیس میں تقریباً 4590 صفحات کی چارج شیٹ جمع کرائی گئی ہے، مگر ہمیں یہ نہیں دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے بلڈرز کے کردار کو مسترد کیا ہے، جس سے ہم اتفاق نہیں کرتے۔ اگر انمول بشنوئی کو ملزم ٹھہرایا جا رہا ہے، تو کیا اس سے پوچھ گچھ کی گئی؟ کیا اس نے کہا ہے کہ کسی بلڈر نے اسے قتل کرنے کا کہا؟“



انہوں نے مزید کہا، "پولیس نے کن بلڈرز سے پوچھ گچھ کی؟ میرے والد ہمیشہ غریبوں کی حمایت کرتے تھے، جس سے کچھ بلڈرز کو مشکلات کا سامنا تھا۔ پولیس کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس نے کتنے بلڈرز کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا، تو تحقیقات پر اعتماد ممکن نہیں۔"


ذیشان صدیقی نے کلیدی ملزم کی گرفتاری میں ناکامی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا، "پولیس ملزم انمول بشنوئی کو گرفتار کیوں نہیں کر رہی؟ اگر الزامات ہیں تو اسے لایا کیوں نہیں جا رہا؟ یہ واقعہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔“



ذیشان نے کہا کہ چارج شیٹ کے مکمل مطالعے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے، مگر ان کا الزام تھا کہ والد کے قتل کے بعد حقائق کو توڑ مروڑ کر بشنوئی کے خلاف کہانی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر ہمارے تحفظ کے مطالبات کو نظرانداز نہ کیا جاتا، تو یہ سانحہ روکا جا سکتا تھا۔"



آندھرا پردیش: تروپتی مندر میں بھگدڑ سے 6 عقیدت مند ہلاک، 40 زخمی

 









آندھرا پردیش کے تروپتی مندر میں بھگدڑ مچنے سے چھ لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ بھگدڑ کی وجہ سے 40 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس حادثے میں 6 افراد شدید زخمی ہیں۔ تروپتی میں سالانہ ویکنٹھ درشن ٹکٹ کاو¿نٹر پر افراتفری مچ گئی جب تروملا تروپتی دیوستھانم (ٹی ٹی ڈی) نے ویکنتھا ایکادشی 2025 کے لیے آن لائن بکنگ اور ٹکٹوں کی ریلیز شروع کی۔


اس حادثے کے بارے میں پی ایم نے کہا،” میں آندھرا پردیش کے تروپتی میں بھگدڑ سے دکھی ہوں۔ میرے خیالات ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کو کھو دیا ہے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ آندھرا پردیش حکومت متاثرہ لوگوں کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔“


آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے تروپتی میں وشنو نواسم کے قریب تروملا سریوری ویکنٹھ دوار میں درشن کے لیے آنے والی بھگدڑ میں عقیدت مندوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ انیتا نے بھی اس حادثے پر غم کا اظہار کیا ہے۔

سی ایم چندرابابو نے کہا، "میں تروپتی میں وشنو نواسم کے قریب تروملا سریوری ویکنتھا دوار کے درشن کے لیے ٹوکن لینے کے لیے بھگدڑ میں بہت سے عقیدت مندوں کی موت سے صدمے میں ہوں۔ جنازے کے لیے جمع ہونے والے ہجوم نے مجھے بہت پریشان کر دیا ہے، اس اطلاع کے پیش نظر میں نے اعلیٰ حکام کو موقع پر جا کر امدادی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بہتر طبی علاج فراہم کیا جائے اور ان کی جان بچائی جا سکے۔“



کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "تروپتی میں بھگدڑ کا المناک واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ سوگوار خاندانوں کے ساتھ میری دلی تعزیت ہے۔ میں زخمیوں کے جلد صحت یاب ہونے کی خواہش کرتا ہوں۔ میں کانگریس کے رہنماو¿ں اور کارکنوں سے اس مشکل وقت میں ہر ممکن مدد کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔"

یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب اچانک کاو¿نٹر کھلنے پر بھیڑ قابو سے باہر ہو گئی اور ٹکٹوں کے لیے افراتفری مچ گئی۔ دریں اثنا، واضح رہے کہ تروپتی مندر نے ویکنتھا ایکادشی تہوار کے لیے تقریباً 1.20 ہزار مفت ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔



سید شمائل احمد عمرہ کی ادائیگی کے بعد وطن واپس، اعزہ واقارب نے والہانہ استقبال کیا

 

حنظلہ ٹور اینڈ ٹریولز اور اس کے ڈائریکٹر چاند احمد کی خدمات کی ستائش کی


پٹنہ سیٹی 8 جنوری ( ذوالقرنین) پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد اپنی اہلیہ شہلا بےگم بیٹی ثانیہ، تانیہ، بیٹے شان اور چھوٹی بہن گڑےہ کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کے بعد سعودی عرب سے دوپہر ایک بجے پٹنہ واپس آئے پٹنہ ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں رشتہ داروں اور عزےز و اقارب نے ان کاوالہانہ استقبال کیا اور انہیں شال مالا اور گلدستہ پیش کیاایسوسی ایشن کی نیشنل آفس سیکرٹری فوزیہ خان کی قیادت میں شاندار استقبال کی تیاریاں کی گئیں اور ہیڈ آفس میں موجود سینکڑوں افراد نے قومی صدر سید شمائل احمد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور گلدستے پیش کیے۔سید شمائل احمد نے کہا کہ مکہ اور مدینہ جیسے مقدس مقامات کی زیارت کرنا زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے ایسے مقدس مقامات پر جانے اور 12 دن پوری عقیدت کے ساتھ عبادت کرنے کا موقع دیا تمام مقدس مقامات اور اپنے پورے ملک کے ساتھ بہار کی ترقی بہتری بھائی چارہ اور خوشحالی کے لیے دعا کرتے ہیںاس موقع پر ان کے استقبال کے لیے سید شکیل احمد سید شاہجہان احمد حیدر امام پرویز اعظم ارمان اکرام سید شرف الہدی ٰ سید شیزان احمد ڈاکٹر حسن معراج خالد لولی بیگم، فرحت ماریہ نگار خوشی لائبہ الکھ ورما سنیل کمارمحمد پرویز اور دیگر بھی موجود تھے انہوں نے حنظلہ ٹور اینڈ ٹریولز اور اس کے ڈائریکٹر چاند احمد کی خدمات کی ستائش کی جن کے ذریعے انہوں نے عمرہ ادا کیا اور مکہ میں موجود ان کے بھائی فیضان کے انتظام وانصرام کو سراہا۔


معروف سرجن ڈاکٹر احمد عبد الحئی سال 2024 کے 100 سب سے زیادہ بااثر ہندوستانی مسلمانوں کی فہرست میں شامل

 



پٹنہ : معروف سرجن و فلیم کے صدر ڈاکٹر احمد عبد الحئی کو سال 2024 کے 100 سب سے زیادہ بااثر ہندوستانی مسلمانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ مسلم مرر نے مائنارٹی میڈیا فاو¿نڈیشن کے ساتھ شراکت داری میں "2024 کے 100 سب سے زیادہ بااثر ہندوستانی مسلمانوں" کی اپنی فہرست جاری کی ہے۔ ڈاکٹر احمد عبدالحئی ایک ممتاز سرجن اور طبی معلم ہیں، جو ہندوستان میں صحت کی دیکھ بھال اور طبی تحقیق میں اپنی خدمات کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے اپنی طبی تعلیم ممتاز پٹنہ میڈیکل کالج میں مکمل کی، جہاں انہوں نے ایک فیکلٹی ممبر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔اپنے کیریئر کے دوران، انہوں نے ہزاروں پیچیدہ سرجریز کی ہیں، جن میں سے اکثر اس ایریا میں پہلی تھیں۔ اس کی مہارت اور اختراعی تکنیکوں نے انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہچان دلائی ہے۔ڈاکٹر احمد عبدالحئی کی وراثت سرجری، تعلیم، اور انسانی خدمت میں بہترین ہے، جنہوں نے ہندوستان کے صحت کی دیکھ بھال کے منظر نامے پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ واضح ہو کہ یہ سالانہ اقدام مختلف شعبوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی شاندار شراکت کا اعزاز دیتا ہے، جو قومی سطح پر ان کی قیادت، لچک اور سماجی اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس فہرست میں اکیڈمک کے زمرے میں عبدالحمید نعمانی: اسلامی اسکالر، اکیڈمک، عبدالقدیر: ماہر تعلیم، ایجوکیشن،ابوالقاسم نعمانی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم،بہاءالدین محمد جمال الدین ندوی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم،بلال عبدالحئی حسنی ندوی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم ،فیضان مصطفی: تعلیمی/قانونی ماہر،غلام محمد وستانوی:اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم، عرفان حبیب: مورخ/تعلیمی، جاوید جمیل: اسلامی اسکالر/ اکیڈمک،خالد سیف اللہ رحمانی: اسلامی اسکالر، اکیڈمک،تجارت کے زمرے میں عبدالقادر فضلانی: تاجر، مخیر حضرات،احمد بخاری: کاروباری، انسان دوست،آزاد موپن: ہیلتھ کیئر انٹرپرینیور/انسان دوست ،عظیم ہاشم پریم جی : بزنس مین/انسان دوست،عرفان رزاق: بزنس مین،ایم پی احمد: بزنس مین/انسان دوست،پی محمد علی: ایک وڑنری بزنس مین اور انسان دوست،یوسف خواجہ حمید: تاجر،ایم اے یوسف علی: کاروباری/ مخیر حضرات ،کمیونٹی لیڈرکے زمرے میں حامد انصاری: سیاست دان، سفارت کار اور اسکالر،ارشد مدنی: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،محمود مدنی: مذہبی رہنما/ کمیونٹی لیڈر،کلب جواد: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،مفضل سیف الدین: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،ایڈووکیٹ فیروز انصاری: کمیونٹی لیڈر/ ایڈوکیٹ،منظور عالم: دانشور/ فکری رہنما،احمد ولی فیصل رحمانی: مذہبی اسکالر/ کمیونٹی لیڈر،سید قاسم رسول الیاس: کارکن، کمیونٹی لیڈر،ای ابوبکر: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر ، ایڈوپرینر کے زمرے میں عبدالقدیر: ماہر تعلیم، ایجوکیشن، عبداللہ کنہی: کاروباری، ماہر تعلیم اور انسان دوست، محبوب الحق: ماہر تعلیم / ماہر تعلیم / ماہر تعلیم ، پی اے انعامدار: ماہر تعلیم ، انٹرٹینرکے زمرے میں اے آر رحمان، انٹرٹینر ،عامر خان: انٹرٹینر،عمران پرتاپ گڑھی: شاعر اور سیاست دان،سلمان خان ، شاہ رخ خان: انٹرٹینر، اسلامی اسکالر کے زمرے میں، ارشد مدنی: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،ابوالقاسم نعمانی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم، اے پی ابو بکر مصلیار: اسلامی اسکالر/ روحانی رہنما/ تعلیمی،عبدالحمید نعمانی: اسلامی اسکالر، اکیڈمک ،اصغر علی امام مہدی سلفی: اسلامی اسکالر،بہاءالدین محمد جمال الدین ندوی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم ، بلال عبدالحئی حسنی ندوی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم، کلب جواد: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،غلام محمد وستانوی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم، کلیم صدیقی: اسلامی اسکالر اور مبلغ ، میڈیا پرسن کے زمرے میں احمد حسن عمران: صحافی،عارفہ خانم شیروانی: صحافی/ اینکر، محمد زبیر: فیکٹ چیکر/سوشل میڈیا متاثر کن،رانا ایوب: صحافی، سعید نقوی: صحافی، مصنف اور تبصرہ نگار،ظفراسلام خان: صحافی، مصنف/کمیونٹی لیڈر،ضیاءالسلام: صحافی/مصنف ،سیاست داں کے زمرے میں ابو عاصم اعظمی: سیاست دان،افضل انصاری: سیاست دان، انسان دوست ، عارف محمد خان: سیاستدان، اسد الدین اویسی: سیاست دان ، اعظم خان: سیاستدان، بدرالدین اجمل: سیاستدان ، حامد انصاری: سیاست دان، سفارت کار اور اسکالر ، عمران پرتاپ گڑھی: شاعر اور سیاست دان، کے ایم قادر محی الدین: سیاست دان ، ایم ایچ جواہر اللہ: سیاست دان/ کارکن،پروفیشنلس کے زمرے میں ڈاکٹر احمد عبدالحئی: سرجن، فیصل فاروقی: پیشہ ور/ کاروباری،عمران عباس شیخ: معمار، ماجد احمد: آنکو سرجن/ کمیونٹی لیڈر ،منور زماں: موٹیویشنل سپیکر، مذہبی رہنما کے زمرے میں مولاناارشد مدنی: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر، کلب جواد: اسلامی اسکالر، کمیونٹی لیڈر،کلیم صدیقی: اسلامی اسکالر اور مبلغ، خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی: اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم اور مبلغ، ، میرواعظ محمد عمر فاروق: سیاست دان/مذہبی رہنما، احمد بخاری: مذہبی رہنما، عثمان رحمانی لدھیانوی: مذہبی رہنما،محمد سعد کاندھلوی: مذہبی رہنما/روحانی رہنما، سلمان ازہری: اسلامی اسکالر اور خطیب، سید محمد اشرف کچھوچھوی: روحانی پیشوا،سماجی کارکن کے زمرے میں عامر ادریسی: سماجی کارکن، عبدالرحمن: مصنف، کارکن، سابق آئی پی ایس آفیسر، افضل انصاری: سیاست دان، انسان دوست، احمد بخاری: کاروباری، انسان دوست، امیر احمد: کاروبار اور تعلیم کے ذریعے سماجی تبدیلی کا علمبردار، گلفشہ فاطمہ: کارکن، محمد ادیب: سیاست دان، کارکن،محمد زبیر: فیکٹ چیکر/سوشل میڈیا ، ندیم خان: کارکن، نصیر اختر: کارکن/مذہبی رہنما ، اسپورٹس پرسن کے زمرے میں محمد شامی: اسپورٹس پرسن، ثانیہ مرزا: اسپورٹس پرسن وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ 







ا


فزکس والا نے ہندوستان بھر میں 150 سے زائد مراکز کا آف لائن نیٹ ورک بنایا

 




پٹنہ: الکھ پانڈے، بانی اور سی ای او، فزکس والا (پی ڈبلیو)، نے کوٹا کے سالانہ پروگرام - دیشا 2025 کے دوران طلبہ کے درمیان بات کرتے ہوئے کہا، "بطور اساتذہ، یہ دیکھنا ہمارے لیے انتہائی افسوسناک ہے کہ جب طلبہ مایوس ہوتے ہیں اور سخت اقدامات اٹھاتے ہیں۔ ہم ان کی امید بننا چاہتے ہیں۔ آج میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں – اس کوشش میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ ہم آفات کو ٹال سکیں۔ ہماری 24x7 ملک گیر ٹول فری ہیلپ لائن - پریرنا کا استعمال کریں اور جب بھی آپ کو تناو¿ یا پریشانی محسوس ہو تو مدد حاصل کریں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے آئندہ تعلیمی سال 2025-26 کے لیے 20 جنوری 2025 تک تمام آف لائن بیچوں پر 30 فیصد رعایت کا بھی اعلان کیا۔

فی الحال فزکس والا (پی ڈبلیو) نے ہندوستان کی 20 ریاستوں میں 150 سے زیادہ ودیا پیٹھ اور پاٹھ شالہ مراکز کھولے ہیں۔ ودیا پیٹھ رہائشی پروگرام (VPRP) بھی ان میں سے دس مراکز میں دستیاب ہے۔ تعلیمی سال 2025-26 کے لیے، پی ڈبلیو نے ڈبرو گڑھ، چنئی اور ادے پور سمیت کئی نئے شہروں میں مراکز کھول کر اپنے آف لائن نیٹ ورک کو بڑھایا ہے۔ چنئی میں مرکز کھولنا ریاست تمل ناڈو میں پی ڈبلیو کا پہلا آف لائن داخلہ ہے۔

پروگرام میں ایسے طلباءکی شرکت بھی دیکھی گئی جنہوں نے پہلے PW میں تعلیم حاصل کی تھی اور آج آئی آئی ٹی اور ایمس جیسے سرکاری کالجوں میں نشستیں حاصل کی ہیں۔ ان طلباءکو مبارکباد دی گئی اور درخواست کی گئی کہ وہ اپنے سفر کو موجودہ طلبائ کے ساتھ شیئر کریں۔

ودیاپیٹھ رہائشی پروگرام (VPRP ) نیٹ اور جے ای ای کے خواہشمندوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو رہائشی تعاون کے ساتھ اکیڈمک تجربہ چاہتے ہیں۔ یہ پروگرام ایک منظم اور تعلیمی لحاظ سے حوصلہ افزا ماحول فراہم کرتا ہے، جس سے طلبائکو اپنے تعلیمی مقاصد کے لیے خود کو مکمل طور پر وقف کرنے کا موقع ملتا ہے۔ آن لائن اور آف لائن کلاسز کے لیے اساتذہ کی مسلسل دستیابی فراہم کر کے، VPRP اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ طلباءکو بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیمی تجربہ حاصل ہو، اور فارمیٹس کے درمیان سوئچنگ سے منسلک مشترکہ چیلنجوں کو کم کیا جائے۔