Wednesday, 25 September 2019

چقندر کے فوائد benefits of beetroot




چقندر کے فوائد benefits of beetroot



چقندر انتہائی صحت مندانہ سبزیوں میں سے ایک ہے جو ایک یا دو نہیں بلکہ 11ایسی بیماریوں کے علاج کی خصوصیات رکھتی ہے کہ سن کر آپ اسے روزمرہ خوراک کا حصہ بنا لیں گے۔ ویب سائٹ گلوبل ہیلتھ کورنر ڈاٹ۔کوم کے مطابق چقندر میں وٹامن اے، بی ، سی، آئرن، پوٹاشیم، میگنیشیم، فائبر، تانبا، زنک، سیلینیم، فاسفورس اور کیلشیم سمیت دیگر کئی انتہائی مفید غذائی اجزاءپائے 

جاتے ہیں۔
benefits of beetroot

 اس میں فلیونوائیڈز، فینالک ایسڈز، کیروٹینائیڈز، بیٹالین اور انتھوسیانن جیسے 
اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں۔

چقندر خون کی وریدوں کو پرسکون بناتا اور دوران خون کو بہتر بناتا ہے۔

  یہ جلدی امراض سے بچاتا ہے۔
https://amzn.to/2mJ8yk1

https://amzn.to/2lO79bz





 یہ جگر کو صحت مند رکھنے کا کام کرتا ہے اور قبض سے بچاتا ہے۔

 یہ جسم میں کینسر کے ٹیومرز کو پیدا ہونے سے روکتا ہے اور اگر ٹیومر بن چکا ہو تو یہ اس کے پھیلاﺅ کو کم کرتا ہے۔

خواتین کو یہ ماہواری کے دوران ہونے والے درد سے نجات دلاتا ہے۔
یہ ذہنی دباﺅ اور پریشانی سے نجات دلا کر ہمارے مزاج کو خوشگوار بناتا اور ذہنی صحت کو بہتر کرتا ہے۔
یہ پٹھوں کو تقویت بخشتا ہے۔ 

یہ جسم میں گلوکوز کے لیول کو کم رکھتا ہے اور انسولین سے متعلق حساسیت کو بڑھاتا ہے جس سے آدمی شوگر جیسے موذی مرض سے محفوظ رہتا ہے۔

اس سب کے ساتھ ساتھ یہ ہمارے نظام تنفس اور بلڈپریشر کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ماہرین کہتے ہیں چقندر سے مذکورہ بالا فوائد کماحقہ حاصل کرنے کے لیے اسے کچاکھانا چاہیے کیونکہ پکانے سے چقندر ہی نہیں، تمام سبزیوں کے بیشترغذائی اجزاءختم ہو جاتے ہیں۔ الغرض کے چقندر کے فوائد بیشمار ہیں۔




benefits of beetroot
please buy this product on amazon https://amzn.to/2mNl55G 


benefits of beetroot




benefits of beetroot


Saturday, 2 February 2019




کیٹ اور کیس کے زیر اہتمام مشاعرے سے ملک میں ادب و تہذیب کو فروغ ملے گا:اچیوت سامنت

پٹنہ ( قمرالحسن) بھونیشور واقع کلنگا انسٹی چیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی(کیٹ) اور کلنگا انسٹی چیوٹ آف سوشل سائنس (کیس )کی جانب سے 39 ویں ورلڈ کانگریس آف پوئٹس (ڈبلیو سی پی ) کا انع
قاد کیاجائےگا۔ اس کوی سمیلن میں لگ بھگ سو ممالک کے 500 سے زائد شاعر، قلم کار اور نو بل انعام یافتہ حصہ لیںگے۔ اس کے علاوہ پورے ملک سے0 200 سے زائد قلم کار ، شاعر ، اڑیسہ سے لگ بھگ 2000 نمائندے شریک ہوںگے۔ ڈبلیو اے اے سی اور کیٹ اور کیس مشترکہ طور سے ڈبلیو پی سی پروگرام کا انعقاد کریںگے۔ پٹنہ میں ہوٹل لیمن ٹری میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیٹ اور کیس کے تاسیس کار پروفیسر اچیوت سامنت نے یہ باتیں کہیں۔یونیسیکو افیلیٹیڈ با ڈی ، ورلڈ اکیڈمی آف آرٹس اینڈ کلچر ( ڈبلیو سی پی ) کے احاطہ میں ورلڈ کانگریس آف پوئٹس کام کر رہاہے۔ ڈبلیو اے اے سی 50 سال پرانا ادارہ ہے جس نے اب تک 38 ڈبلیو سی پی کو چلایا ہے۔ یہ تیسری بار ہے جب ورلڈ کانگریس آف پوئٹس ( ڈبلیو سی پی ) کا انعقاد ہندوستان میں ہورہاہے۔ اس تقریب کا افتتاح دو اکتوبر کو مہاتما گاندھی کی 150 ویں یوم بیدائش کے موقع پر کیا جائےگا۔ پروفیسر سا منت نے بتایاکہ کیٹ اور کیس ڈیمڈ یونیورسیٹی کے طور پر کام کر رہی ہے۔ دونوں ہی ادارہ ہندوستان کے اہم اداروں میں سے ایک ہے۔ بہت دنوں سے اس یونیورسیٹی نے دنیا کی بیلٹ یونیورسیٹی کے بیچ اپنا مقام بنایا ہے۔ کیٹ نے کیو ایس بریکس ورلڈ یونیورسیٹی رینکنگ فار 2018 میں بھی اپنا مقام بنا لیا ہے۔ پروفیسر سامنت نے بتایاکہ ان اداروں میں ابھی 27,500 قبائلی بچے زیر تعلیم ہیں۔کے جی سے لیکر پی جی تک دونوں ادارے معیاری تعلیم عطا کر رہے ہیں۔ تاکہ نوجوانوںکی ہمہ جہت ترقی ہو سکے۔10 سالوں میں یہاں قومی اور بین الاقوامی سطح کے کئی سمینار منعقد ہو چکے ہیں۔یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ ان دونوں اداروں کے زیر اہتمام 39 واں ورلڈ کانگریس آف پوئٹس ( ڈبلیو سی پی ) کا انعقاد کیاجارہاہے۔ اس میں پوری دنیا کے شاعر ، قلم کار اور ادب سے منسلک اسکالر حصہ لیںگے۔ اس سے نہ صرف نئے افکار اور انفارمیشن کا تبادلہ ہوگا بلکہ ملک میں ادب و تہذب کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ سمیلن 2 سے 6 اکتوبر 2019 تک چلے گا۔ اس کانفرنس میں اڑیسہ حکومت کے علاوہ حکومت ہند کا ثقافتی محکمہ بھی تعاون کرے گا۔

Monday, 30 April 2018

ہمیں بھی یادر رکھیں جب لکھیں تاریخ گلشن کی

جب گلستاں کو خون کی ضرورت پڑی
تو سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی
پھربھی کہتے ہیں یہ اہل چمن
یہ چمن ہمارا ہے تمہارا نہیں

قسط اول 
آج ہمارے وطن عزیز میں ایک طرح کا چلن بن گیا ہے کہ اگر کوئی آپ کسی کے نظریہ سے اتفاق نہ کرے تو جھٹ سے کہہ دو کہ یہ دیش دورہی غدار وطن ہے ۔اور آج لوگ مسلمانوں سے حب الوطنی کا سرٹیفکٹ مانگتے ہیں کہ مسلمانوں تمہیں اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو ہمارے نظریات کے مطابق ورنہ نہیں ۔ ایسے کم ظرفوں کو ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ ہندوستان ہمارے آبائو اجداد کے خون پسینے سے بنا ہے ہمارے آبائو اجداد نے اس لئے نہیں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا کہ ہماری آنے والی نسلیں اس طرح کے تعصبات اور اس طرح کی بھپتیاں سہیں بلکہ ہمارے آبائو اجداد نے اس لئے قربانیاں دی تھیں کہ ہماری آنے والی نسلیں اپنے ملک عزیز میں سینا تان کر چلیں اور جب اس طرح کے سرپھرے ان سے کہیں کہ یہ تمارا وطن نہیں تو انہیں ان کی اوقات بتا دیں ۔ مجھے ایک بات یاد آرہی ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کیا ہی خوب کہا تھاکہ اگر ایک طرف پورے ہندوستان کے لوگوں کی قربانیوں کو رکھ دیا جائے اور دوسری طرف علما صادقپور کیی قربانیوں کو تو علمائ صادقپوری کی قربانیوں کا پلڑا جھک  جائے گا۔
لیکن آج کچھ ہاف چڈی والے اور ان کے حامی یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ مسلمانوں کا یہاں کیا رکھا ہے وہ یہاں سے چلے جائیں۔ یا انہیں اگر یہاں رہناہے تو ہمارے ثقافت وکلچر میں ضم ہوجائیں۔تب ہم انہیں اپنا لیں گے ۔ور نہ نہیں ۔ ارے تم ہمیں اس طرح کی گیڈر بھپتیاں مت دو ہم بہادر قوم ہیں ہم ایک روشن تاریخ رہی ہے اور ہم نے صرف ہندوسستان ہی نہیں بلکہ دنیا عظیم حصے پر ہماری حکمرانی رہی ہے اور آج بھی ہم حکمراں ہیں ۔ہم ہندوستان کو اپنا ملک سمجھتے ہیں اور یہیں کی مٹی میں ہمیں جانا ہے اس لئے ہم اس ملک کے پورے حقدار ہیں اور اس ملک کی حفاظت اور اس ملک کے ہر زرے پر ہمارا بھی اتنا ہی حق جتنا کے دیگر برادران وطن کا ہے ۔ ہم نہ یہاں اپنے کو احساس کمتری کا شکار سمجھتے ہیں اور نہ ہی ہمیں کوئی یہ سمجھے کہ ہم یتم و نادار و بے کس ہیں بلکہ اگر ہمارے آبائو اجداد نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی اپنے آبائو اجداد کے نقش قدم پر چلنے کیلئے تیار ہیں اورملک عزیز کیلئے ہر طرح کی قربانیاں دیں گے 
فقط والسلام

Tuesday, 31 January 2017




st.xaviers high school 
The Union Minister for Textiles, Smt. Smriti Irani addressing at the inauguration of the Apparel and Garment Centre, at Pachim Boragaon, Guwahati 

Shri M. Venkaiah Naidu meeting the MEA Officials on special issues of Migrant Labour, in New Delhi

Shri M. Venkaiah Naidu meeting the MEA Officials on special issues of Migrant Labour, in New Delhi
Shri M. Venkaiah Naidu meeting the MEA Officials on special issues of Migrant Labour, in New Delhi

Sunday, 1 March 2015


  • ہوٹل پناس میں تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئی پہلی سالگرہ


پٹنہ ۔ اپنی دلچسپ خدمات کی وجہ مشہور ہوٹل دی پناس نے راجدھانی میں اپنے ایک سال پور ے کئے ۔ اس موقع پر ہوٹل منیجر نے ہوٹل کی پہلی سالگرہ کو بڑے ہی تزک واحتشام کےس اتھ منایا ۔ اس
موقع پر ہوٹل کے جنرل منیجر پرنب کمار نے پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم بہت خوش ہورہے ہیں کہ ہوٹل دی پناس نے کامیابی کے ساتھ اپنے ایک سال پورے کرلئے ۔ اس ہوٹل نے بہت ہی کم وقت میں اپنی بہتر اور اعلیٰ سطح کی خدمات کے کی وجہ سے راجدھانی میں اپنی ایک الگ پہنچان بنائی ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ اس ہوٹل کا افتتاح پچھلے سال اٹھائیس فروری کو عزت مآب گورنر ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل نے کیا تھا ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ پچھلے سال ہم نے پانچ فوڈ فیسٹول کا انعقاد کیا ۔

Sunday, 3 February 2013

سائنس/طب/صحت


کمپیوٹر کی کہانی

٭قاضی مشتاق احمد
نیو یارک کی سڑکوں پر رات کے وقت پولیس کوایک کارگلی میں پارک کی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ اپنی گشتی گاڑی کے فون سے تھانے سے کارکا نمبرمعلوم کرتا ہے۔ صرف آدھے منٹ کے اندر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کار کس کے نام پررجسٹرڈ ہے اور یہ گاڑی چوری ہو جانے کی رپورٹ تھانے میں درج ہے۔ یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ گشتی دستہ ایک منٹ کے اندر ہی قانونی کارروائی شروع کردیتا ہے۔بلجیم کے راستے پرایک خطرناک حادثے میں ایک نوجوان مر گیا ہے اس کی لاش اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لئے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ یورپ کے سارے اسپتالوںکو بیک وقت میہا کی جارہی ہے اور فوراً یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ جرمنی کے ایک مریض کو اورلندن کے ایک دوسرے مریض کو بلجیم میں مرنے والے نوجوان کے گردے کام آسکتے ہیں۔ ایک گھنٹے کے اندرہی ایک گردہ جرمنی اوردوسرا لندن ہوائی جہاز کے ذریعہ روانہ ہو جاتا ہے اورزندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا دو مریض نئی زندگی پاتے ہیں۔ لندن کی ایک کانفرنس میں شکاگو کا ایک سائنسداں یکا یک بے ہوش ہوجاتاہے۔ شکاگو کوفوراً فون پرمطلع کیا جاتاہے سائنس داں کے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی پانچ منٹ کے اندر اندر سیکڑوں میل دور سے اس بے ہوش سائنس داں کے بارے میں ساری معلومات مل جاتی ہیں کہ اس کے خون کاگروپ کیا ہے۔ اسے کن دواو¿ں سے الرجی ہے۔ آج تک اسے کون کون سے بیماریاں اور مرض ہوئے ہیں اورسائنس داں کے اسپتال میں داخل ہوتے ہی علاج شروع ہوجاتا ہے۔یہ سب خیالی قصے نہیں بلکہ سچے واقعات ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ یہ سب اس عظیم ایجاد کے کرشمے ہیں جسے کمپیوٹر کہتے ہیں۔ آج دنیا میں جو کمپیوٹر استعمال کئے جارہے ہیں وہ عام طور پرٹی وی کی طرح نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹائپ رائٹر کی طرح ایک کی بورڈ ہوتا ہے جو کمپیوٹر کے پردے پر نظر آنے والی معلومات فوراً ٹائپ کر کے اس کی کاپی مہیا کر سکتا ہے۔ کمپیوٹر کا استعمال صرف جمع تفریق کے لئے نہیں ہوتابلکہ نہایت ہی پیچیدہ حساب حل کرنے کے لئے بھی ہوتاہے۔ اس کی مہیا کی ہوئی معلومات جس طرح بھی چاہیں استعمال ہوسکتی ہے۔الیکٹرانک کمپیوٹر کا استعمال گذشتہ تیس چالیس برسوں سے ہو رہاہے۔ کہا جاتاہے کہ تیس ہزار سال قبل از مسیح چینی اور جاپانی لوگ، ایبکس نامی ایک مشین کا استعمال جمع تفریق کے حساب کے لئے کرتے تھے۔ لکڑی کی چوکھٹ میں تار بٹھائے جاتے تھے اوران تاروں میں رنگین لکڑی کی گوٹیاں رکھی جاتی تھیں۔ 1642میں بلیز پاسکل نامی ایک فرانسیسی نے اس میں اور ترقی کی۔ یہ مشین رکشا یا اسکوٹر کے ’آڈومیٹر‘ کی طرح تھی۔ (یہ میٹر فاصلہ بتاتے ہیں یا رکشا کے موٹر کاکرایہ دکھاتے ہیں۔) 1671میں ولیم لائی نیز نامی ایک جرمن حساب داں نے اسے نیا روپ دیا اور 1694میں اس نے اپنا کام پورا کیا۔ حساب جمع تفریق کرنے والی مشین ایجاد ہوئی۔ لیکن جدید کمپیوٹر کا موجد ہے چارلس بیز جو انگلستان کا رہنے والاتھا اس نے 1822میں ’ڈفرنس انجن‘ کے نام سے کمپیوٹر ایجاد کیا۔ اس کے بعد اس میں مزید اصلاح کر کے اسے انالیٹکل انجن کا نام دیا اور دھیرے دھیرے جدید کمپیوٹر ایجادہوا۔ آج برٹش ایئرویز 70ملکوں میں 650شہروں کی بکنگ آفسوں کا کام کمپیوٹر کی مدد سے کرتی ہے۔ ہر روز چالیس ہزارمسافروں کی بکنگ کا کام ہوتاہے۔ سیکنڈوں میں کمپیوٹر کے ذریعے یہ معلومات مل جاتی ہے کہ ریزرویشن کے لئے کتنی سیٹیں خالی ہیں۔ اب بینکوں میں بھی کمپیوٹر کا استعمال عام ہے۔ صرف بٹن دبا کر یہ دیکھا جاسکتاہے کہ بینک کے کھاتے دار کی دستخط اصلی ہے یا بناوٹی۔ پیسے نکالنے اور جمع کرنے کا حساب بھی کمپیوٹر کرتاہے۔ مقناطیسی چیک کمپیوٹر میں ڈالتے ہی کھاتے دارکے دستخط چیک کرنے کے بعد اس کے حساب میں چیک کی رقم ڈال کر پیسے دینے والی مشین سے مطلوبہ رقم نوٹوں اور سکوں کے ذریعے باہر آجاتی ہے۔