|
یوم
محبت ویلنٹائن ڈے ایک بت پرستانہ عبادت ، ایک مشرکانہ رسم
|
|
|
|
محمد
ثاقب ندوی
|
|
|
|
یوم محبت
جیسے جیسے فروری کا
مہینہ شروع ہوجاتا ہے ، ہر جگہ یوم محبت (ویلنٹائن ڈے)
منانے کی تیاریاں زور وشور سے شروع ہوجاتی ہیں ، ہوٹلس ،
بیئر بار اور نائٹ کلب کا تو کیا کہنا ! آج کل تو پورا کا پورا بازار اور منڈی
کی منڈی اسی یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) کے سرخ رنگ اور دل کی علامت والے
تحفے تحائف سے مزین ہوجاتی ہے ، سونے پر سھاگہ یہ کہ موجودہ ذرائع ابلاغ
الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا رہی سہی کسر کو پورا کرتے ہوئے اس میں چار چاند
لگادیتا ہے اور پھر 14 فروری 08 کو بڑے دھوم دھام کے ساتھ محبت کے نام پر داد
عیش دی جاتی ہے ، جام وسرور کا بازار گرم ہوتا ہے ، شراب وشباب کی محفلیں جم
جاتی ہیں اور آزادی کے نام پر آزادی کی تمام حدیں پار کی جاتی ہیں ، آج کل یہ
صرف ہوٹل کے بند کمروں ، نائٹ کلبوں ہی میں نہیں ہوتا بلکہ یہ تماشا گلی گلی کے
نکڑ اور چوراہوں پر پیش کیا جارہاہے ۔
پہلے پہل محبت کا یہ بدنام دن صرف
امریکہ اور یوروپ کی اخلاق واقدار سے عاری تنگ وتاریک محفلوں اور جھومتے گاتے
نائٹ کلب کی بزم میں ہی روایتی انداز سے منایا جاتا تھا مگر آج تو ہر جگہ مغرب
اور اس کی بدبخت تہذیب کی اندھی تقلید کا دور ہے ، اہل مشرق جہاں ان کی نقالی
اور رسم ورواج کو اپنانے ہی میں اپنا طرہ امتیاز جان رہے ہیں اور اخلاق واقدار کے
تارپود بکھیرنے والے رسم و رواج ، عید وتہوار اور خصوصی دنوں کو دین وشریعت کی
کسوٹی پر پرکھے بغیر بلاچوں چرا ماننے ، منانے اور جشن کرنے کو اپنے مہذب اور
مثقف ہونے کی علامت سمجھ رہے ہیں تو وہیں یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) بھی اسی میں شامل ہوگیا ہے۔
یوم
محبت (ویلنٹائن ڈے) آخر کیا ہے ؟
یوم
محبت (ویلنٹائن ڈے)
کی حقیقیت اور تاریخ
ہر سال 14 فروری کو منایا
جانے والا یہ دن در اصل موجودہ عیسائیوں کی ایک عید ہے جس میں وہ اپنے مشرکانہ
عقائد کے اعتبار سے ''خدائی محبت '' کی محفلیں جماتے ہیں ، اس کا آغاز تقریباً
1700 سال قبل رومانیوں کے دور میں ہوا جب کہ اس وقت رومانیوں میں بت پرستی عام
تھی اور رومانیوں نے پوپ والنٹائن (ویلینٹائن) کو بت پرستی چھوڑ کر
عیسائیت اختیار کرنےکے جرم میں سزائے موت دی تھی لیکن جب خود رومانیوں نے
عیسائیت کو قبول کیا تو انہوں نے پوپ والنٹائن (ویلینٹائن) کی سزائے موت کے دن کو
''یوم شھید محبت '' کہہ کر اپنی عید بنالی ، اسی تاریخ کے ساتھ 14 فروری کو یوم
محبت (ویلنٹائن ڈے) کی کچھ اور مناسبتیں بھی بیان کی جاتی ہیں:
1۔
عیسائیوں کے نزدیک 14 فروری کا دن رومانی دیوی '' یونو '' (جو کہ یونانی دیوی
دیوتاؤوں کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی ہے) کا مقدس دن مانا جاتا ہے
جب کہ 15 فروری کا دن ان کے ایک دیوتا '' لیسیوس '' کا مقدس دن ہے ( ان کے عقیدے
کے مطابق لیسیوس ایک بھیڑیا تھی جس نے دوننھے منھے بچوں کو دودھ پلایا تھا
جو آگے چل کر روم شہر کے بانی ہوئے) ۔
2۔
ایک مناسبت یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ جب رومانی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لئے
لشکر تیار کرنے میں صعوبت ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا ، بادشاہ کو
معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے
لئے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن والنٹائن نے اس شاہی حکم
نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ شادی رچالی ، جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے
والنٹائن کو گرفتار کیا اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی ، بنا بر ایں لیسیوس
کے پجاریوں اور کنیسہ نے اس مقدس دن کو والنٹائن کی یاد میں عید کادن بنادیا۔
یوم محبت (ویلنٹائن ڈے)
دین وشریعت کی نظر میں
ہر دین ومذہب کے کچھ ایسے رسم
ورواج ، عید وتہوار اور تہذیب وثقافت ہوتی ہے جس سے وہ دین اور اس کے ماننے والے
پہچانے جاتے ہیں۔
یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) کی حقیقت اور تاریخ سے جب یہ بات بالکل عیاں ہے کہ یہ عیسائیوں کا ایک
مقدس اور عید کادن ہے تو اس بات پر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ آج کا مسلمان بھی اس دن
کو غیروں کی طرح دین وشریعت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بڑی خوشدلی کے ساتھ منارہا
ہے ، آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں دین وشریعت کیا کہتی ہے:
مسلمانوں کی دوعید : عیدالفطر ، عیدالاضحیٰ
اللہ تعالی نے امت اسلامیہ کے
لئے اپنے محبوب کی لائی ہوئی شریعت میں دودن عید کے طور پر خوشیاں منانے کے لئے
عطا کئے ہیں ، عید کا لفظ ایسی مناسبات پر دلالت کرتا ہے جو ایک متعین دن اور
متعین وقت میں آتی جاتی رہتی ہے ، یہ خدا کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے ایک تحفہ
اور خوشیوں کا دن ہوتا ہے جس میں بندے پر یہ ضروری ہے کہ وہ خود بھی خوش اور
ہشاش بشاش ہو ، اپنی خوشی کا اظھار بھی کرے اور اپنے خدا کو بھی راضی اور خوش
کرے ، اسی لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے خدا کے بتائے ہوئے جملہ احکام و امور کا خیال
رکھے اور اپنی خوشیوں میں کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے اس کا خدا ناخوش ہو جائے ،
اسی لئے عید میں یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ اس کی خوشیاں عبادت کے طور پر خدائی احکامات
کے مطابق انجام دی جائیں ، اسی وجہ سے اپنی خوشیوں کے دن اور عیدوں میں کفار کی
مشابھت اور موافقت سے منع کیا گیا ہے ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے
اس سلسلے میں صاف صاف لکھا ہے کہ عید اللہ کی جانب سے نازل کردہ عبادات میں سے
ایک عبادت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول '' ان لکل امۃ عیدا وان ھذا عیدنا '' کے مطابق یہ عیدیں امت کی خصوصیت ہیں۔
جب اللہ تعالی نے امت کو دو
بہترین عید سے نوازا ہے تو پھر غیروں اور کفار کی عید کو منانا یا اس میں شرکت
کرنا بالکل حرام ہے جیسا کہ علماے امت اور فقھاء کرام نے اس کی وضاحت کی ہے۔
یوم محبت (ویلنٹائن ڈے)
کے سلسلے میں علماء سعودیہ کا فتویٰ
اللجنۃ الدائمہ للبحوث
العلمیہ والافتاء کو اس دن کے سلسلہ میں برادر عبد اللہ آل ربیعہ کا ایک مراسلہ
3/11/۱۴۲۰ ھ کو موصول ہوا جس میں یوں تحریر تھا :
بعض لوگ ہر سال عیسوی میں 14
فروری کو یوم محبت (ویلنٹائن
ڈے) کے نام سے ایک دن مناتے ہیں اور اس میں آپس میں سرخ
گلاب کے پھولوں کا تحفہ دیا جاتا ہے ، سرخ رنگ کے کپڑے پہنے جاتے ہیں ، بیکری
اورمٹھائیوں کی دکان میں سرخ رنگ کی مٹھائیاں اور کھانے تیار کئے جاتے ہیں اور
اس پر دل کا نشان بھی بنایا جاتا ہے اور بعض دکانوں میں اس دن کے خاص اشیاء کی
فروخت ہوتی ہے ، اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات سے نوازیں ۔
1. اس دن کو منانا کیسا ہے؟
2. اس دن کی خاص اشیاء کو دکانوں سے خریدنا کیسا ہے؟
3. اس دن جو تحفے تحائف دئے جاتے ہیں ، اس دن کو منائے بغیر ان کو فروخت کرنا
کیسا ہے ؟
جزاک اللہ
فتویٰ کونسل نے پورے
غوروخوض کے بعد 23/11/ 1420ھ کو اس استفتاء کا جواب (21203) یوں دیا کہ:
کتاب وسنت کے صریح
دلائل اور انکی روشنی میں علماء امت کے اجماع سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے اس
امت کے حق میں صرف دو عیدیں مقرر کی ہیں ، ایک عیدالفطر ، دوسری عید الاضحیٰ ،
ان دونوں عید کے علاوہ دوسری جو بھی عید ہے ، چاہے وہ کسی شخصیت کے تعلق سے ہو ،
کسی جماعت یا فرقہ کے تعلق سے ، یا کسی واقعہ کے تعلق سے یا پھر اور کسی معنی میں
سب کی سب بدعت ہیں اور دین و شریعت میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے ، اس وجہ سے کسی
مسلمان کو ان دونوں عیدین کے علاوہ کوئی اور عید ماننا ، خوشیاں منانا اور نہ ہی
اس کا اقرار کرنا جائز ہے ، بلکہ اس سلسلہ میں مدد ومعاونت بھی تعاون علی
الاثم والعدوان سمجھی جائیگی جوکہ ازروئے قرآن حرام ہے اور جب کہ کوئی عید کفار
اور یہود ونصاری کی عید ہو تو پھر یہ گناہ پر گناہ ہوگا ، اس میں ان کی مشابھت
اور انی کی موالات ودوستی بھی صادق آئیگی جس سے ہر اہل ایمان کو منع کیا گیا ہے ۔
یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) بھی انہی میں سے ہے جس کو موجودہ دور کے عیسائی اپنی عید کے طور پر مناتے
ہیں ، پس کسی مسلمان کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اس کا اقرار کرے ، اس کو منائے
یا اسکی مبارک باد دے ، بلکہ اس سے اجتناب بہت ضروری ہے ، اسی طرح اس سلسلے میں
کسی بھی طرح کا تعاون بھی حرام ہے جیسے کھانے پینے ، خرید وفروخت ، تحفے تحائف
بنانا یا پیش کرنا ، کارڈ بھیجنا ، پیغام بھیجنا یا اس کا اعلان و پوسٹر بنانا
وغیرہ ، یہ سبھی امور حرام ہیں ۔
لھذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ
وہ کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامے رکھے اور یہود ونصاریٰ کی ان گمراہیوں سے خود
کو دور رکھے اور اللہ تعالی سے ھدایت اور اسلام کی سربلندی مانگتا رہے ، وبالللہ
التوفیق ، وصلی اللہ علی محمد و علی آلہ وصحبہ اجمعین
اللاجنۃ الادائمہ للبحوث
العلمیہ الافتاء
عبد العزیز ابن عبد اللہ بن
محمد آل الشیخ ( رئیس )
عبد اللہ بن عبد الرحمن
الغدیان
(ممبر کمیٹی)
بکر بن عبد اللہ ابو
زید
(ممبر کمیٹی)
صالح بن فوزان
الفوزان
(ممبر کمیٹی)
یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) کے سلسلے میں یہ چند باتیں راقم نے افادہ عام کے لئے ترتیب دی ہیں اور اس
سلسلہ میں احکام کے لئے جمعیہ احیاء تراث اسلامی کویت کے تفصیلی مضمون اور ام
االقریٰ یونیورسٹی کہ دعوہ کالج سے شائع کتاب سے مدد لی ہے ۔
اللہ ہم تمام مسلمانان عالم
کو یہود ونصاری کی مشابھت اور ان کے رسم ورواج سے بچائے اور شریعت اسلامی پر
مکمل کار بند رہنے کی توفیق دے ۔آمین
|
اسلامی انقلاب کےعلمبردار،شاہ اسماعیل شہیدرحمۃ اللہ علیہ
تحریر:
جناب مولانا سعید احمد اکبر آبادی ایم اے
انقلاب پیدا کرنے والی شخصیتیں یا تو سپاہیانہ اوصاف کی مالک ہوتی
ہیں اور تلوار کے زور سے قوموں کی تقدیریں بدلتی ہیں، یا پھر ان کی زبان میں اتنا
اثر اور جادو ہوتا ہے کہ قوم کے دل و دماغ میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کی
مسلم سوسائٹی اسی عالمگیر قانون سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ لیکن مسلم انقلابی شخصیتوں
اور مصلحین کو ہمیشہ دل و دماغ کی ان دونوں خوبیوں سے آراستہ ہونے کا امتیاز حاصل
رہا ہے۔ ان کے ایک ہاتھ میں جادو اثر قلم اور دوسرے ہاتھ میں امن عالم کی بقا کے
لئے تیغ براں رہی ہے۔ میدان جنگ میں تو وہ سپاہیانہ جوہر دکھاتے تھے۔ لیکن
اخلاقیات کے میدان میں بہت بڑے مصلح کی حیثیت سے جلوہ گر ہوتے تھے۔ہندوستان کی
مسلم انقلابی شخصیتوں میں حضرت شاہ اسماعیل شہید کا درجہ بہت بلند ہے۔ انہوں نے
ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جس کا مقصد اسلام کی سربلندی تھی۔نیز وہ تمام ذرائع
کلیہ اسلامی تھے جو اس انقلاب کو پیدا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے۔ ان کا مقصد
ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کرنا نہ تھا بلکہ وہ تو اس سرزمین میں خدا کی حکومت
کا قیام چاہتے تھے جو عدل و انصاف، حق و صداقت اور خدا دوستی کی مضبوط بنیادوں پر
کھڑی ہو۔ وہ انسانیت کو پستی سے نکال کر بلندی کی طرف لے جانا چاہتے تھے۔ سوال یہ
نہیں کہ وہ اپنے ان مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے بلکہ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ آیا
ہندوستان کی تاریخ میں مسلم انقلابی شخصیتوں میں کوئی اور شخصیت ایسی نظر آتی ہے،
جس نے اس بہادری اور بے جگری سے ایسے بلند نصب العین کے حصول کے لئے اپنی جان تک
کی قربانی پیش کی ہو۔آپ کے والد شاہ عبدالغنی تھے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے
صاحبزادے تھے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز آپ کے چچا تھے۔آپ کے والد بزرگوار صوفی منش ہونے
کے علاوہ اسلامی علوم کے بہت بڑے ماہر اور دینیات کے استاد تھے۔ شاہ اسماعیل نے
اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ لیکن ان کی وفات کے بعد آپ کی تعلیم و
تربیت آپ کے چچا شاہ عبدالعزیز کے سپرد ہوئی۔ استاد اپنے شاگرد کی ذہانت اور فطانت
سے بہت خوش تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ نے نہ صرف اسلامی علوم و فنون کی تعلیم حاصل
کی، بلکہ علوم مروجہ میں بھی کمال پیدا کر لیا۔ آپ کے تمام سیرت نگار اس بات میں
متفق الرائے ہیں کہ جغفرافیہ سے اتنا شغف تھا کہ کئی کئی گھنٹے ہندوستان کے نقشے
کا مطالعہ کرتے رہتے۔خدا نے آپ کو زبان اور قلم کی تمام خوبیوں سے سرفراز کیا تھا۔
آپ انتہائی طور پر سخت مزاج اور پتھر دل انسان کو بھی قائل کر لیتے۔ اسلامی عظمت و سربلندی کیلئے جو نور آپ کے سینے میں روشن تھا، وہ دوسروں کے دلوں میں بھی حرارت اور گرمی پیدا کرتا۔ چونکہ آپ نے ایک بہت بڑی انقلابی تحریک کی قیادت سرانجام دینی تھی، اس لئے آپ محض علمی سرگرمیوں سے مطمئن تھے۔
آپ صحیح معنوں میں باعمل بننا چاہتے تھے، اس لئے آپ ہر قسم کی فوجی ورزش کرتے۔ آپ نہایت عمدہ شاہسوار اور بہترین تیر انداز تھے۔ نیزہ بازی میں کمال حاصل تھا اور کشتی لڑنے میں بھی بند نہ تھے۔ آپ بلا کے تیراک تھے۔ جمنا میں دہلی سے آگرہ تک تیرتے ہوئے جاتے اور پھر تیرتے ہوئے واپس آتے۔ تکالیف اور مصائب سے محبت کا یہ عالم تھا کہ گرمیوں میں جامع مسجد کے تپتے ہوئے صحن میں گھنٹوں ننگے پاﺅں چلتے رہتے۔ آپ کئی کئی دن تک بھوک پیاس کی کوفت سہتے تا کہ آپ میں قوت برداشت پیدا ہو۔
اسلامی جھنڈے کی سربلندی آپ کی علمی اور فوجی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو اس ذلت و نکبت سے نکالا جائے جو افلاس، جہالت اور سیاسی اقتدار کے خاتمہ کا باعث پیدا ہو گئی تھی۔ جب آپ نے اسلام کے ہندی مریض کی نبض پر ہاتھ رکھا تو معلوم ہوا کہ یہ قوم جہالت، افلاس، بے بسی اور بے چارگی کے خوفناک مرض میں مبتلا ہے۔ سیاسی اقتدار کے خاتمہ نے ان کی روح کو کچل دیا ہے۔ ان میں زندگی کی حرارت ختم ہو چکی ہے۔آپ نے وحدت خیال اور وحدت عمل پیدا کرنے کے لئے اخلاقی اصلاح کا کام ہاتھ میں لیا۔کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اخلاقی جرات دنیا میں حیرت انگیز کارنامے سرانجام دینے کی قوت رکھتی ہے، اور دل و دماغ کی غیر تربیت یافتہ اور غیر منظم صلاحیتوں کو برانگیختہ کیا جائے تو کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ اس چیز کے پیش نظر آپ نے جگہ جگہ تقریروں کا جال پھیلا دیا۔ لوگوں کو خدا اور رسول کی طرف بلاتے۔ ان کو غیر اسلامی اور مشرکانہ رسوم و اوہام سے منع کرتے۔ لیکن صدیوں کی عادتیں دنوں میں نہیں مٹ سکتیں۔ لوگوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگائے اور آپ کو ہر قسم کی تکلیف میں مبتلا کیا۔ لیکن اس مصلح صادق نے یہ تمام چیزیں خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیں۔ کوئی سختی اور تکلیف انہیں اپنے بلند مقصد سے نہ ہٹا سکی۔ آخر کار ان کی کوششیں بار آور ہوئیں اور مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہوئے۔ انہیں اپنی کمزوریوں کی اصلاح کا خیال پیدا ہوا۔ حضرت شہید کی دعوت و ارشاد پر سینکڑوں بیوگان نے دوبارہ نکاح کر کے خدائی احکام کی اطاعت کی اوہام پرستی ختم ہو گئی۔ قحبہ خانے اور قمار خانے بند ہو گئے۔ لوگوں کی طبیعتوں میں انقلاب پیدا ہوا۔ اور انہوں نے خدا اور رسول کی طرف رجوع کرنا شروع کیا
اسی اثنا میں شاہ اسماعیل نے حضرت مولانا سید احمد بریلوی کی بیعت کی۔ آپ وقت کے امام اور مجدد مانے جاتے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید نے ان کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیا اور روحانیت کے مختلف مدارج طے کئے۔ آخر کار آپ اپنے روحانی پیشوا کے ساتھ جہادمیں نکلے، اور مہاراجہ رنجیت سنگھ اوراس کی فوجوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ ان کا مقصد سکھوں کو غلام بنانا نہیں تھا، بلکہ وہ خدا کی حکومت قائم کر کے ظلم اور استبداد کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے۔حضرت شاہ اسمٰعیل شہید نے یہ عقیدہ اپنے دادا بزرگوارشاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اور عم محترم شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی رحمہ اللہ سے حاصل کیا جنہوں نے آخری مغل بادشاہ کی موجودگی میں ہی ہندوستان کو دارالحرب قرار دے دیا تھا۔
میرا یقین محکم ہے کہ شاہ اسمٰعیل شہید اور ان کی جماعت خدا کی حکومت قائم کر کے امن، انصاف اور سچائی کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔اس ضمن میں یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی انقلابی سرگرمیوں کے لئے پنجاب کو کیوں منتخب کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کو سر کرنے کے بعد صوبہ سرحد کو فتح کیا جا سکتا تھاجواگرچہ براہ راست سکھوں کے ماتحت نہ تھا لیکن بہت سے خوانین سکھوں کے باجگزاراورتابعدارتھے، اور اس طرح اسلامی صوبوں کی تبلیغ بلا کسی رکاوٹ کے ہو سکتی تھی۔
دوسرے پنجاب میں سکھوں کے مظالم کے باعث بہت بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی مذہبی روایات خطرے میں تھیں۔ شاہ شہید اور ان کی جماعت اس بارود میں چنگاری پھینکنے کا انتظار کر رہی تھی۔ انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا، اور رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔
میدان جنگ میں حضرت شاہ شہید کی بہادری اور دلیری و استقامت نے حضرت خالد بن ولید، حیدر کرار اور طارق بن زیاد کی یاد تازہ کر دی۔ ابتدا میں بہت سے مقامات فتح ہوئے لیکن قدرت کو مسلمانوں کی آزمایش کا خاتمہ منظور نہ تھا۔ان کی قسمت میں مصائب و تکالیف کے امتحانات ابھی باقی تھے۔ چنانچہ اس اسلامی تحریک کا بھی وہی نتیجہ ہوا جو میسور میں ٹیپو سلطان اور بنگال میں سراج الدولہ کا ہوا تھا۔ دوسری تحریکوں کی طرح اس تحریک کی ناکامی کے اسباب میں بھی میرجعفرومیرصادق جیسے مسلمانوں کی غداری کا ہاتھ نمایاں تھا۔
فتح و شکست تو نصیب کی بات ہے اور یہ خدا کو معلوم ہے کہ اس شکست میں کونسی مصلحت پوشیدہ تھی۔ لیکن اگر شاہ شہید کی شاندار کوششوں پر نظر ڈالی جائے تو آپ سے بڑا اسلامی انقلابی رہنما دکھائی نہ دے گا۔ ایک طرف وہ غیر اسلامی رسوم و عقائد کے خلاف قلمی اور لسانی جہاد میں مصروف تھے۔ اور دوسری طرف میدان جنگ میں تلوار لئے گھوڑے پر سوار۔ ایسی پاکیزہ صفات کا ذات واحد میں مجتمع ہونا بہت نادر چیز ہے۔
شاہ شہید کو شہرت اور دولت سے محبت نہ تھی۔ وہ حقیقی خدائی خدمت گار تھے۔ وہ خدا کے جھنڈے کو بلند کرنا چاہتے تھے۔ رضائے ایزدی کی اطاعت اس درجہ موجود تھی کہ معرکہ کارزار میں جب آپ کا سر جسدمبارک سے علیحدہ ہوا تو خون کا ہر قطرہ زبان حال سے پکار رہا تھا
آپ انتہائی طور پر سخت مزاج اور پتھر دل انسان کو بھی قائل کر لیتے۔ اسلامی عظمت و سربلندی کیلئے جو نور آپ کے سینے میں روشن تھا، وہ دوسروں کے دلوں میں بھی حرارت اور گرمی پیدا کرتا۔ چونکہ آپ نے ایک بہت بڑی انقلابی تحریک کی قیادت سرانجام دینی تھی، اس لئے آپ محض علمی سرگرمیوں سے مطمئن تھے۔
آپ صحیح معنوں میں باعمل بننا چاہتے تھے، اس لئے آپ ہر قسم کی فوجی ورزش کرتے۔ آپ نہایت عمدہ شاہسوار اور بہترین تیر انداز تھے۔ نیزہ بازی میں کمال حاصل تھا اور کشتی لڑنے میں بھی بند نہ تھے۔ آپ بلا کے تیراک تھے۔ جمنا میں دہلی سے آگرہ تک تیرتے ہوئے جاتے اور پھر تیرتے ہوئے واپس آتے۔ تکالیف اور مصائب سے محبت کا یہ عالم تھا کہ گرمیوں میں جامع مسجد کے تپتے ہوئے صحن میں گھنٹوں ننگے پاﺅں چلتے رہتے۔ آپ کئی کئی دن تک بھوک پیاس کی کوفت سہتے تا کہ آپ میں قوت برداشت پیدا ہو۔
اسلامی جھنڈے کی سربلندی آپ کی علمی اور فوجی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو اس ذلت و نکبت سے نکالا جائے جو افلاس، جہالت اور سیاسی اقتدار کے خاتمہ کا باعث پیدا ہو گئی تھی۔ جب آپ نے اسلام کے ہندی مریض کی نبض پر ہاتھ رکھا تو معلوم ہوا کہ یہ قوم جہالت، افلاس، بے بسی اور بے چارگی کے خوفناک مرض میں مبتلا ہے۔ سیاسی اقتدار کے خاتمہ نے ان کی روح کو کچل دیا ہے۔ ان میں زندگی کی حرارت ختم ہو چکی ہے۔آپ نے وحدت خیال اور وحدت عمل پیدا کرنے کے لئے اخلاقی اصلاح کا کام ہاتھ میں لیا۔کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اخلاقی جرات دنیا میں حیرت انگیز کارنامے سرانجام دینے کی قوت رکھتی ہے، اور دل و دماغ کی غیر تربیت یافتہ اور غیر منظم صلاحیتوں کو برانگیختہ کیا جائے تو کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ اس چیز کے پیش نظر آپ نے جگہ جگہ تقریروں کا جال پھیلا دیا۔ لوگوں کو خدا اور رسول کی طرف بلاتے۔ ان کو غیر اسلامی اور مشرکانہ رسوم و اوہام سے منع کرتے۔ لیکن صدیوں کی عادتیں دنوں میں نہیں مٹ سکتیں۔ لوگوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگائے اور آپ کو ہر قسم کی تکلیف میں مبتلا کیا۔ لیکن اس مصلح صادق نے یہ تمام چیزیں خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیں۔ کوئی سختی اور تکلیف انہیں اپنے بلند مقصد سے نہ ہٹا سکی۔ آخر کار ان کی کوششیں بار آور ہوئیں اور مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہوئے۔ انہیں اپنی کمزوریوں کی اصلاح کا خیال پیدا ہوا۔ حضرت شہید کی دعوت و ارشاد پر سینکڑوں بیوگان نے دوبارہ نکاح کر کے خدائی احکام کی اطاعت کی اوہام پرستی ختم ہو گئی۔ قحبہ خانے اور قمار خانے بند ہو گئے۔ لوگوں کی طبیعتوں میں انقلاب پیدا ہوا۔ اور انہوں نے خدا اور رسول کی طرف رجوع کرنا شروع کیا
اسی اثنا میں شاہ اسماعیل نے حضرت مولانا سید احمد بریلوی کی بیعت کی۔ آپ وقت کے امام اور مجدد مانے جاتے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید نے ان کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیا اور روحانیت کے مختلف مدارج طے کئے۔ آخر کار آپ اپنے روحانی پیشوا کے ساتھ جہادمیں نکلے، اور مہاراجہ رنجیت سنگھ اوراس کی فوجوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ ان کا مقصد سکھوں کو غلام بنانا نہیں تھا، بلکہ وہ خدا کی حکومت قائم کر کے ظلم اور استبداد کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے۔حضرت شاہ اسمٰعیل شہید نے یہ عقیدہ اپنے دادا بزرگوارشاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اور عم محترم شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی رحمہ اللہ سے حاصل کیا جنہوں نے آخری مغل بادشاہ کی موجودگی میں ہی ہندوستان کو دارالحرب قرار دے دیا تھا۔
میرا یقین محکم ہے کہ شاہ اسمٰعیل شہید اور ان کی جماعت خدا کی حکومت قائم کر کے امن، انصاف اور سچائی کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔اس ضمن میں یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی انقلابی سرگرمیوں کے لئے پنجاب کو کیوں منتخب کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کو سر کرنے کے بعد صوبہ سرحد کو فتح کیا جا سکتا تھاجواگرچہ براہ راست سکھوں کے ماتحت نہ تھا لیکن بہت سے خوانین سکھوں کے باجگزاراورتابعدارتھے، اور اس طرح اسلامی صوبوں کی تبلیغ بلا کسی رکاوٹ کے ہو سکتی تھی۔
دوسرے پنجاب میں سکھوں کے مظالم کے باعث بہت بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی مذہبی روایات خطرے میں تھیں۔ شاہ شہید اور ان کی جماعت اس بارود میں چنگاری پھینکنے کا انتظار کر رہی تھی۔ انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا، اور رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔
میدان جنگ میں حضرت شاہ شہید کی بہادری اور دلیری و استقامت نے حضرت خالد بن ولید، حیدر کرار اور طارق بن زیاد کی یاد تازہ کر دی۔ ابتدا میں بہت سے مقامات فتح ہوئے لیکن قدرت کو مسلمانوں کی آزمایش کا خاتمہ منظور نہ تھا۔ان کی قسمت میں مصائب و تکالیف کے امتحانات ابھی باقی تھے۔ چنانچہ اس اسلامی تحریک کا بھی وہی نتیجہ ہوا جو میسور میں ٹیپو سلطان اور بنگال میں سراج الدولہ کا ہوا تھا۔ دوسری تحریکوں کی طرح اس تحریک کی ناکامی کے اسباب میں بھی میرجعفرومیرصادق جیسے مسلمانوں کی غداری کا ہاتھ نمایاں تھا۔
فتح و شکست تو نصیب کی بات ہے اور یہ خدا کو معلوم ہے کہ اس شکست میں کونسی مصلحت پوشیدہ تھی۔ لیکن اگر شاہ شہید کی شاندار کوششوں پر نظر ڈالی جائے تو آپ سے بڑا اسلامی انقلابی رہنما دکھائی نہ دے گا۔ ایک طرف وہ غیر اسلامی رسوم و عقائد کے خلاف قلمی اور لسانی جہاد میں مصروف تھے۔ اور دوسری طرف میدان جنگ میں تلوار لئے گھوڑے پر سوار۔ ایسی پاکیزہ صفات کا ذات واحد میں مجتمع ہونا بہت نادر چیز ہے۔
شاہ شہید کو شہرت اور دولت سے محبت نہ تھی۔ وہ حقیقی خدائی خدمت گار تھے۔ وہ خدا کے جھنڈے کو بلند کرنا چاہتے تھے۔ رضائے ایزدی کی اطاعت اس درجہ موجود تھی کہ معرکہ کارزار میں جب آپ کا سر جسدمبارک سے علیحدہ ہوا تو خون کا ہر قطرہ زبان حال سے پکار رہا تھا
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
جشن ميلاد النبى كا حكم
الحمد للہ رب العالمين، والصلاۃ والسلام على نبينا محمد و آلہ و صحبہ اجمعين، و بعد:
سب تعريفات اللہ رب العالمين كے ليے ہيں، اور ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے سب صحابہ كرام پر درود و سلام كے بعد:
كتاب و سنت ميں اللہ تعالى كى شريعت اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى اور دين اسلام ميں بدعات ايجاد كرنے سے باز رہنے كے بارہ جو كچھ وارد ہے وہ كسى پر مخفى نہيں.
اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
{كہہ ديجئے اگر تم اللہ تعالى سے محبت كرنا چاہتے ہو تو پھر ميرى ( محمد صلى اللہ عليہ وسلم ) كى پيروى و اتباع كرو، اللہ تعالى تم سے محبت كرنے لگے گا، اور تمہارے گناہ معاف كر دے گا} آل عمران (31 ).
اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:
{جو تمہارے رب كى طرف سے تمہارى طرف نازل ہوا ہے اس كى اتباع اور پيروى كرو، اور اللہ تعالى كو چھوڑ كر من گھڑت سرپرستوں كى اتباع و پيروى مت كرو، تم لوگ بہت ہى كم نصيحت پكڑتے ہو}الاعراف ( 3 ).
اور ايك مقام پر فرمان بارى تعالى كچھ اس طرح ہے:
{اور يہ كہ يہ دين ميرا راستہ ہے جو مستقيم ہے، سو اسى كى پيروى كرو، اور اسى پر چلو، اس كے علاوہ دوسرے راستوں كى پيروى مت كرو، وہ تمہيں اللہ كے راستہ سے جدا كرديں گے} الانعام ( 153 ).
اور حديث شريف ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" بلا شبہ سب سے سچى بات اللہ تعالى كى كتاب ہے، اور سب سے بہتر ہدايت و راہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كى ہے، اور سب سے برے امور اس دين ميں بدعات كى ايجاد ہے"
اور ايك دوسرى حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس نے بھى ہمارے اس دين ميں كوئى ايسا كام ايجاد كيا جو اس ميں سے نہيں تو وہ كام مردود ہے"
صحيح بخارى حديث نمبر ( 2697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 )
اور مسلم شريف ميں روايت ميں ہے كہ:
" جس نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ عمل مردود ہے"
لوگوں نے جو بدعات آج ايجاد كرلى ہيں ان ميں ربيع الاول كے مہينہ ميں ميلاد النبى كا جشن بھى ہے ( جسے جشن آمد رسول بھى كہا جانے لگا ہے ) اور يہ جشن كئى اقسام و انواع ميں منايا جاتا ہے:
كچھ لوگ تو اسے صرف اجتماع تك محدود ركھتے ہيں ( يعنى وہ اس دن جمع ہو كر ) نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش كا قصہ پڑھتے ہيں، يا پھر اس ميں اسى مناسبت سے تقارير ہوتى اور قصيدے پڑھے جاتے ہيں.
اور كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو كھانے تيار كرتے اور مٹھائى وغيرہ تقسيم كرتے ہيں.
اور ان ميں سے كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو يہ جشن مساجد ميں مناتے ہيں، اور كچھ ايسے بھى ہيں جو اپنے گھروں ميں مناتے ہيں.
اور كچھ ايسے بھى ہيں جو اس جشن كو مذكورہ بالا اشياء تك ہى محدود نہيں ركھتے، بلكہ وہ اس اجتماع كو حرام كاموں پر مشتمل كر ديتے ہيں جس ميں مرد و زن كا اختلاط، اور رقص و سرور اور موسيقى كى محفليں سجائى جاتى ہيں، اور شركيہ اعمال بھى كيے جاتے ہيں، مثلا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے استغاثہ اور مدد طلب كرنا، اور انہيں پكارنا، اور دشمنوں پر نبى صلى اللہ عليہ وسلم سے مدد مانگنا، وغيرہ اعمال شامل ہوتے ہيں.
جشن ميلاد النبى كى جتنى بھى انواع و اقسام ہيں، اور اسے منانے والوں كے مقاصدہ چاہيں جتنے بھى مختلف ہوں، بلاشك و شبہ يہ سب كچھ حرام اور بدعت اور دين اسلام ميں ايك نئى ايجاد ہے، جو فاطمى شيعوں نے دين اسلام اور مسلمانوں كے فساد كے ليے پہلے تينوں افضل دور گزر جانے كے بعد ايجاد كى.
اسے سب سے پہلے منانے والا اور ظاہر كرنے والا شخص اربل كا بادشاہ ملك مظفر ابو سعيد كوكپورى تھا، جس نے سب سے پہلے جشن ميلاد النبى چھٹى صدى كے آخر اور ساتويں صدى كے اوائل ميں منائى، جيسا كہ مورخوں مثلا ابن خلكان وغيرہ نے ذكر كيا ہے.
اور ابو شامہ كا كہنا ہے كہ:
موصل ميں اس جشن كو منانے والا سب سے پہلا شخص شيخ عمر بن محمد ملا ہے جو كہ مشہور صلحاء ميں سے تھا، اور صاحب اربل وغيرہ نے بھى اسى كى اقتدا كى.
حافظ ابن كثير رحمہ اللہ تعالى " البدايۃ والھايۃ" ميں ابو سعيد كوكپورى كے حالات زندگى ميں كہتے ہيں:
( اور يہ شخص ربيع الاول ميں ميلاد شريف منايا كرتا تھا، اور اس كا جشن بہت پرجوش طريقہ سے مناتا تھا،...
انہوں نے يہاں تك كہا كہ: بسط كا كہنا ہے كہ:
ملك مظفر كے كسى ايك جشن ميلاد النبى كے دسترخوان ميں حاضر ہونے والے ايك شخص نے بيان كيا كہ اس دستر خوان ( يعنى جشن ميلاد النبى كے كھانے ) ميں پانچ ہزار بھنے ہوئے بكرے، اور دس ہزار مرغياں، اور ايك لاكھ پيالياں، اور حلوى كے تيس تھال پكتے تھے..
اور پھر يہاں تك كہا كہ:
اور صوفياء كے ليے ظہر سے فجر تك محفل سماع كا انتظام كرتا اور اس ميں خود بھى ان كے ساتھ رقص كرتا اور ناچتا تھا.
ديكھيں: البدايۃ والنھايۃ ( 13 / 137 ).
اور " وفيات الاعيان " ميں ابن خلكان كہتے ہيں:
اور جب صفر كا شروع ہوتا تو وہ ان قبوں كو بيش قيمت اشياء سے مزين كرتے، اور ہر قبہ ميں مختلف قسم كے گروپ بيٹھ جاتے، ايك گروپ گانے والوں كا، اور ايك گروپ كھيل تماشہ كرنے والوں كا، ان قبوں ميں سے كوئى بھى قبہ خالى نہ رہنے ديتے، بلكہ اس ميں انہوں نے گروپ ترتيب ديے ہوتےتھے.
اور اس دوران لوگوں كے كام كاج بند ہوتے، اور صرف ان قبوں اور خيموں ميں جا كر گھومتے پھرنے كے علاوہ كوئى اور كام نہ كرتے...
اس كے بعد وہ يہاں تك كہتے ہيں:
اور جب جشن ميلاد ميں ايك يا دو روز باقى رہتے تو اونٹ، گائے، اور بكرياں وغيرہ كى بہت زيادہ تعداد باہر نكالتے جن كا وصف بيان سے باہر ہے، اور جتنے ڈھول، اور گانے بجانے، اور كھيل تماشے كے آلات اس كے پاس تھے وہ سب ان كے ساتھ لا كر انہيں ميدان ميں لے آتے...
اس كے بعد يہ كہتے ہيں:
اور جب ميلاد كى رات ہوتى تو قلعہ ميں نماز مغرب كے بعد محفل سماع منعقد كرتا.
ديكھيں: وفيات الاعيان لابن خلكان ( 3 / 274 ).
جشن ميلاد النبى كى ابتداء اور بدعت كا ايجاد اس طرح ہوا، يہ بہت دير بعد پيدا ہوئى اور اس كے ساتھ لہو لعب اور كھيل تماشہ اور مال و دولت اور قيمتى اوقات كا ضياع مل كر ايسى بدعت سامنے آئى جس كى اللہ تعالى نے كوئى دليل نازل نہيں فرمائى.
اور مسلمان شخص كو تو چاہيے كہ وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كا احياء كرے اور جتنى بھى بدعات ہيں انہيں ختم كرے، اور كسى بھى كام كو اس وقت تك سرانجام نہ دے جب تك اسے اس كے متعلق اللہ تعالى كا حكم معلوم نہ ہو.
جشن ميلاد النبى صلى الله عليه وسلم كا حكم:
جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كئى ايك وجوہات كى بنا پر ممنوع اور مردود ہے:
اول:
كيونكہ يہ نہ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ميں سے ہے، اور نہ ہى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے خلفاء راشدين كى سنت ہے.
اور جو اس طرح كا كام ہو يعنى نہ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ہو اور نہ ہى خلفاء راشدہ كى سنت تو وہ بدعت اور ممنوع ہے.
اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" ميرى اور ميرے خلفاء راشدين مہديين كى سنت پر عمل پيرا رہو، كيونكہ ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى و ضلالت ہے"
اسے احمد ( 4 / 126 ) اور ترمذى نے حديث نمبر ( 2676 ) ميں روايت كيا ہے.
ميلاد كا جشن منانا بدعت اور دين ميں نيا كام ہے جو فاطمى شيعہ حضرات نے مسلمانوں كے دين كو خراب كرنے اور اس ميں فساد مچانے كے ليے پہلے تين افضل ادوار گزر جانے كے بعد ايجاد كيا، اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كا قرب حاصل كرنے كے ليے ايسا كام كرے جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نہ تو خود كيا اور نہ ہى اس كے كرنے كا حكم ديا ہو، اور نہ ہى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بعد خلفاء راشدين نے كيا ہو، تو اس كے كرنے كا نتيجہ يہ نكلتا اور اس سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر يہ تہمت لگتى ہے كہ ( نعوذ باللہ ) نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دين اسلام كو لوگوں كے ليے بيان نہيں كيا، اور ايسا فعل كرنے سے اللہ تعالى كے مندرجہ ذيل فرمان كى تكذيب بھى لازم آتى ہے:
فرمان بارى تعالى ہے:
{آج كے دن ميں نے تمہارے ليے تمہارے دين كو مكمل كر ديا ہے} المائدۃ ( 3 ).
كيونكہ وہ اس زيادہ كام كو دين ميں شامل سمجھتا ہےاور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے ہم تك نہيں پہنچايا.
دوم:
جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم منانے ميں نصارى ( عيسائيوں ) كے ساتھ مشابھت ہے، كيونكہ وہ بھى عيسى عليہ السلام كى ميلاد كا جشن مناتے ہيں، اور عيسائيوں سے مشابہت كرنا بہت شديد حرام ہے.
حديث شريف ميں بھى كفار كے ساتھ مشابہت اختيار كرنے سے منع كيا گيا اور ان كى مخالفت كا حكم ديا گيا ہے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا:
" جس نے بھى كسى قوم كے ساتھ مشابہت اختيار كى تو وہ انہى ميں سے ہے"
مسند احمد ( 2 / 50 ) سنن ابو داود ( 4 / 314 ).
اور ايك روايت ميں ہے:
" مشركوں كى مخالفت كرو"
صحيح مسلم شريف حديث ( 1 / 222 ) حديث نمبر ( 259 ).
اور خاص كر ان كے دينى شعائر اور علامات ميں تو مخالف ضرور ہونى چاہيے.
سوم:
جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم منانا بدعت اور عيسائيوں كے ساتھ مشابہت تو ہے ہى، اور يہ دونوں كام حرام بھى ہيں، اور اس كے ساتھ ساتھ اسى طرح يہ غلو اور ان كى تعظيم ميں مبالغہ كا وسيلہ بھى ہے، حتى كہ يہ راہ اللہ تعالى كے علاوہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے استغاثہ اور مدد طلب كرنے اور مانگنے كى طرف بھى لے جاتا ہے، اور شركيہ قصيدے اور اشعار وغيرہ بنانے كا باعث بھى ہے، جس طرح قصيدہ بردہ وغيرہ بنائے گئے.
حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو ان كى مدح اور تعريف كرنے ميں غلو كرنے سے منع كرتے ہوئے فرمايا:
" ميرى تعريف ميں اس طرح غلو اور مبالغہ نہ كرو جس طرح نصارى نے عيسى بن مريم عليہ السلام كى تعريف ميں غلو سے كام ليا، ميں تو صرف اللہ تعالى كا بندہ ہوں، لھذا تم ( مجھے ) اللہ تعالى كا بندہ اور اس كا رسول كہا كرو"
صحيح بخارى ( 4 / 142 ) حديث نمبر ( 3445 )، ديكھيں فتح البارى ( 6 / 551 ).
يعنى تم ميرى مدح اور تعريف و تعظيم ميں اس طرح غلو اور مبالغہ نہ كرو جس طرح عيسائيوں نے عيسى عليہ السلام كى مدح اور تعظيم ميں مبالغہ اور غلو سے كام ليا، حتى كہ انہوں نے اللہ تعالى كے علاوہ ان كى عبادت كرنا شروع كردى، حالانكہ اللہ تعالى نے انہيں ايسا كرنے سے منع كرتے ہوئے فرمايا:
{اے اہل كتاب تم اپنے دين ميں غلو سے كام نہ لو، اور نہ ہى اللہ تعالى پر حق كے علاوہ كوئى اور بات كرو، مسيح عيسى بن مريم عليہ السلام تو صرف اور صرف اللہ تعالى كے رسول اور اس كے كلمہ ہيں، جسے اس نے مريم كى جانب ڈال ديا، اور وہ اس كى جانب سے روح ہيں} النساء ( 171 ).
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس خدشہ كے پيش نظر ہميں اس غلو سے روكا اور منع كيا تھا كہ كہيں ہميں بھى وہى كچھ نہ پہنچ جائے جو انہيں پہنچا تھا، اسى كے متعلق بيان كرتے ہوئے فرمايا:
" تم غلو اور مبالغہ كرنے سے بچو، كيونكہ تم سے پہلے لوگ بھى غلو اور مبالغہ كرنے كى بنا پر ہلاك ہو گئے تھے"
سنن نسائى شريف ( 5 / 268 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى حديث نمبر (2863 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
چہارم:
جشن ميلاد كى بدعت كا احياء اور اسے منانے سے كئى دوسرى بدعات منانے اور ايجاد كرنے كا دروازہ بھى كھل جائے گا، اوراس كى بنا پر سنتوں سے بے رخى اور احتراز ہو گا، اسى ليے آپ ديكھيں كہ بدعتى لوگ بدعات تو بڑى دھوم دھام اور شوق سے مناتے ہيں، ليكن جب سنتوں كى بارى آتى ہے تو اس ميں سستى اور كاہلى كا مظاہرہ كرتے ہوئے ان سے بغض اور ناراضگى كرتے ہيں، اور سنت پر عمل كرنے والوں سے بغض اور كينہ و عداوت ركھتے ہيں، حتى كہ ان بدعتى لوگوں كا سارا اور مكمل دين صرف يہى ميلاديں اور جشن ہى بن گئے ہيں، اور پھر وہ فرقوں اور گروہوں ميں بٹ چكے ہيں اور ہر گروہ اپنے آئمہ كرام كے عرس اور ميلاديں منانے كا اہتمام كرتا پھرتا ہے، مثلا شيخ بدوى كا عرس اور ميلاد، اور ابن عربى كا ميلاد، اور دسوقى اور شا ذلى كا ميلاد، ( ہمارے يہاں بر صغير پاك و ہند ميں تو روزانہ كسى نہ كسى شخصيت كا عرس ہوتا رہتا ہے كہيں على ھجويرى گنج بخش اور كہيں اجمير شريف اور كہيں حق باہو اور كہيں پاكپتن، الغرض روزانہ ہى عرس ہو رہے ہيں ) اور اسى طرح وہ ايك ميلاد اور عرس سے فارغ ہوتے ہيں تو دوسرے ميلاد ميں مشغول ہو جاتے ہيں.
اور ان اور اس كے علاوہ دوسرے فوت شدگان كے ساتھ اس غلو كا نتيجہ يہ نكلا كہ اللہ تعالى كو چھوڑ كر انہيں پكارنا شروع كر ديا گيا اور ان سے مراديں پورى كروائى جانے لگى ہيں، اور ان كے متعلق ان لوگوں كا يہ عقيدہ اور نظريہ بن چكا ہے كہ يہ فوت شدگان نفع و نقصان كے مالك ہيں، اور نفع ديتے اور نقصان پہنچاتے ہيں، حتى كہ يہ لوگ اللہ تعالى كےدين سے نكل كر اہل جاہليت كے دين كى طرف جا نكلے ہيں، جن كے متعلق اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
{اور وہ اللہ تعالى كے علاوہ ان كى عبادت كرتے ہيں جو نہ تو انہيں نقصان پہنچا سكتے ہيں اور نہ ہى كوئى نفع دے سكتے ہيں، اور وہ كہتے ہيں كہ يہ ( مردے اور بت ) اللہ تعالى كے ہاں ہمارے سفارشى ہيں}يونس ( 18 ).
اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:
{اور جن لوگوں نے اللہ تعالى كے علاوہ دوسروں كو اپنا ولى بنا ركھا ہے، اور كہتے ہيں كہ ہم ان كى عبادت صرف اس ليے كرتے ہيں كہ يہ بزرگ اللہ تعالى كے قرب تك ہمارى رسائى كرا ديں} الزمر ( 3 ).
جشن ميلاد منانے والوں كے شبہ كا مناقشہ:
اس بدعت كو منانے كو جائز سمجھنے والوں كا ايك شبہ ہے جو مكڑى كے جالے سے بھى كمزور ہے، ذيل ميں اس شبہ كا ازالہ كيا جاتا ہے:
1 - ان بدعتيوں كا دعوى ہے كہ: يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تعظيم و تكريم كے ليے منايا جاتا ہے:
اس شبہ كا جواب:
اس كے جواب ميں ہم يہ كہيں گے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تعظيم تو يہ ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و فرمانبردارى كرتے ہوئے ان كے فرماين پر عمل پيرا ہوا جائے، اور جس سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے منع فرمايا ہے اس سے اجتناب كيا جائے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے محبت كى جائے.
بدعات و خرافات پر عمل كرنا، اور معاصى و گناہ كے كام كرنے ميں تو نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى تعظيم نہيں، اور جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم منانا بھى اسى مذموم قبيل سے ہے كيونكہ يہ معصيت و نافرمانى ہے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سب سے زيادہ تعظيم اور عزت كرنے والے صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم اجمعين تھے جيسا كہ عروۃ بن مسعود نے قريش كو كہا تھا:
( ميرى قوم كے لوگو! اللہ تعالى كى قسم ميں بادشاہوں كے پاس بھى گيا ہوں اور قيصر و كسرى اور نجاشى سے بھى ملا ہوں، اللہ كى قسم ميں نے كسى بھى بادشاہ كے ساتھيوں كواس كى اتنى عزت كرتے ہوئے نہيں ديكھا جتنى عزت محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھى محمد صلى اللہ عليہ وسلم كى كرتے ہيں، اللہ كى قسم اگر محمد صلى اللہ عليہ وسلم تھوكتے ہيں، تو وہ تھوك بھى صحابہ ميں سے كسى ايك كے ہاتھ پر گرتى ہے، اور وہ تھوك اپنے چہرے اور جسم پر مل ليتا ہے، اور جب وہ انہيں كسى كام كا حكم ديتے ہيں تو ان كے حكم پر فورا عمل كرتے ہيں، اور جب محمد صلى اللہ عليہ وسلم وضوء كرتے ہيں تو اس كے ساتھى وضوء كے پانى پر ايك دوسرے سے جھگڑتے ہيں، اور جب اس كے سامنے بات كرتے ہيں تو اپنى آواز پست ركھتے ہيں، اور اس كى تعظيم كرتے ہوئے اسے تيز نظروں سے ديكھتے تك بھى نہيں"
صحيح بخارى شريف ( 3 / 178 ) حديث نمبر ( 27 31 ) اور ( 2732 )، اور فتح البارى ( 5 / 388 ).
اس تعظيم كے باوجود انہوں نے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے يوم پيدائش كو جشن اور عيد ميلاد كا دن نہيں بنايا، اگر ايسا كرنا مشروع اور جائز ہوتا تو صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم اجمعين كبھى بھى اس كو ترك نہ كرتے.
2 - يہ دليل دينا كہ بہت سے ملكوں كے لوگ يہ جشن مناتے ہيں:
اس كے جواب ميں ہم صرف اتنا كہيں گے كہ: حجت اور دليل تو وہى ہے جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے تو عمومى طور پر بدعات كى ايجاد اور اس پر عمل كرنے كى نہى ثابت ہے، اور يہ جشن بھى اس ميں شامل ہوتا ہے.
جب لوگوں كا عمل كتاب و سنت كى دليل كے مخالف ہو تو وہ عمل حجت اور دليل نہيں بن سكتا چاہے اس پر عمل كرنے والوں كى تعداد كتنى بھى زيادہ كيوں نہ ہو:
فرمان بارى تعالى ہے:
{اگر آپ زمين ميں اكثر لوگوں كى اطاعت كرنے لگ جائيں تو وہ آپ كو اللہ تعالى كى راہ سے گمراہ كر ديں گے}الانعام ( 116 ).
اس كے ساتھ يہ بھى ہے كہ الحمد للہ ہر دور ميں بدعت كو ختم كرنے اور اسے مٹانے اور اس كے باطل كو بيان كرنے والے لوگ موجود رہے ہيں، لہذا حق واضح ہو جانے كے بعد كچھ لوگوں كا اس بدعت پر عمل كرتے رہنا كوئى حجت اور دليل نہيں بن جاتى.
اس جشن ميلاد كا انكار كرنے والوں ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى شامل ہيں جنہوں نے اپنى معروف كتاب" اقتضاء الصراط المستقيم" ميں اور امام شاطبى رحمہ اللہ تعالى نے اپنى كتاب" الاعتصام" ميں اور ابن الحاج نے " المدخل" ميں اور شيخ تاج الدين على بن عمر اللخمى نے تو اس كے متعلق ايك مستقل كتاب تاليف كى ہے، اور شيخ محمد بشير السھوانى ھندى نے اپنى كتاب " صيانۃ الانسان" ميں اور سيد محمد رشيد رضا نے بھى ايك مستقل رسالہ لكھا ہے، اور شيخ محمد بن ابراہيم آل شيخ نے بھى اس موضوع كے متعلق ايك مستقل رسالہ لكھا ہے، اور جناب فضيلۃ الشيخ عبدالعزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى اور ان كے علاوہ كئى ايك نے بھى اس بدعت كے بارہ ميں بہت كچھ لكھا اور اس كا بطلان كيا ہے، اور آج تك اس كے متعلق لكھا جا رہا ہے، بلكہ ہر برس اس بدعت منانے كے ايام ميں اخبارات اور ميگزينوں اور رسلائل و مجلات ميں كئى كئى صفحات لكھے جاتے ہيں.
3 - جشن ميلاد منانے ميں نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى ياد كا احياء ہوتا ہے.
اس كے جواب ميں ہم يہ كہتے ہيں كہ:
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ياد تو ہر مسلمان شخص كے ساتھ تجديد ہوتى رہتى ہے اور مسلمان شخص تو اس سے ہر وقت مرتبط رہتا ہے، جب بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا نام اذان ميں آتا ہے يا پھر اقامت ميں يا تقارير اور خطبوں ميں، اور وضوء كرنے اور نماز كى ادائيگى كے بعد جب كلمہ پڑھا جاتا ہے، اور نماز ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھتے وقت بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ياد ہوتى ہے.
اور جب بھى مسلمان شخص كوئى صالح اور واجب و فرض يا پھر مستحب عمل كرتا ہے، جسے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مشروع كيا ہے، تو اس عمل سے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى ياد تازہ ہوتى ہے، اور عمل كرنے والے كى طرح اس كا اجر بھى ان تك پہنچتا ہے...
تو اس طرح مسلمان شخص تو ہر وقت نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ياد تازہ كرتا رہتا ہے، اور پورى عمر ميں دن اور رات كو اس سے مربوط ركھتا ہے جو اللہ تعالى نے مشروع كيا ہے، نہ كہ صرف جشن ميلاد منانے كے ايام ميںہى ، اور پھر جبكہ يہ جشن ميلاد يا جشن آمد رسول منانا بدعت اور ناجائز ہے تو پھر يہ چيز تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ہميں دور كرتى ہے نہ كہ نزديك اور نبى صلى اللہ عليہ وسلم اس سے برى ہيں.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اس بدعتى جشن كى كوئى ضرورت نہيں وہ اس سے بے پرواہ ہيں، كيونكہ اللہ تعالى نے ان كى تعظيم كے ليے وہ كام مشروع كيے ہيں جن ميں ان كى عزت و توقير ہوتى ہے، جيسا كہ مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى ميں ہے:
{اور ہم نے آپ كا ذكر بلند كر ديا} الشرح ( 4 ).
تو جب بھى اذان ہو يا اقامت يا خطبہ اس ميں جب اللہ تعالى كا ذكر ہوتا ہے تو اس كے ساتھ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ذكر لازمى ہوتا ہے، جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت و تعظيم اور ان كى عزت و تكريم اور توقير كى تجديد كے ليے اور ان كى اتباع و پيروى كرنے پر ابھارنے كے ليے كافى ہے.
اور پھر اللہ سبحانہ وتعالى نے اپنى كتاب قرآن مجيد فرقان حميد ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ولادت كو احسان قرار نہيں ديا بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بعثت كو احسان اور انعام قرار ديا ہے.
ارشاد بارى تعالى ہے:
{يقينا اللہ تعالى نے مومنوں پر احسان اور انعام كيا جب ان ميں سے ہى ايك رسول ان ميں مبعوث كيا}آل عمران ( 164 ).
اور ايك مقام پر اس طرح ارشاد فرمايا:
{اللہ وہى ہے جس نے اميوں ميں ان ميں سے ہى ايك رسول مبعوث كيا} الجمعۃ ( 2 ).
4 - اور بعض اوقات وہ يہ بھى كہتے ہيں:
ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كا جشن منانے كى ايجاد تو ايك عادل اور عالم بادشاہ نے كى تھى اور اس كا مقصد اللہ تعالى كا قرب حاصل كرنا تھا!
اس كے جواب ميں ہم يہ كہيں گے كہ:
بدعت قابل قبول نہيں چاہے وہ كسى سے بھى سرزد ہو، اور اس كا مقصد كتنا بھى اچھا اور بہتر ہى كيوں نہ ہو، اچھے اور بہتر مقصد سے كوئى برائى كرنا جائز نہيں ہو جاتى، اور كسى كا عالم اور عادل ہونے كا مطلب يہ نہيں كہ وہ معصوم ہے.
5 - ان كا يہ كہنا كہ: جشن ميلاد النبى بدعت حسنۃ ميں شمار ہوتى ہے، كيونكہ يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے وجود پر اللہ تعالى كا شكر ادا كرنے كى خبر ديتى ہے.
اس كا جواب يہ ہے كہ:
بدعت ميں كوئى چيز حسن نہيں ہے بلكہ وہ سب بدعت ہى شمار ہوتى ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جس كسى نے بھى ہمارے اس دين ميں كوئى ايسى چيز ايجاد كى جو اس ميں سے نہيں تو وہ مردود ہے "
صحيح بخارى ( 3 / 167 ) حديث نمبر ( 2697 ) ديكھيں فتح البارى ( 5 / 355 ).
اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ بھى فرمان ہے:
" يقينا ہر بدعت گمراہى ہے"
اسے امام احمد نے مسند احمد ( 4 / 126 ) اور امام ترمذى نے جامع ترمذى حديث نمبر (2676 ) ميں روايت كيا ہے.
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سب بدعتوں پر گمراہى كا حكم صادر كر ديا ہے اور يہ كہتا ہے كہ سارى بدعتيں گمراہى نہيں بلكہ كچھ بدعتيں حسنہ بھى ہيں.
حافظ ابن رجب حنبلى رحمہ اللہ تعالى شرح الاربعين ميں كہتے ہيں:
( رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان: " ہر بدعت گمراہى ہے" يہ جوامع الكلم ميں سے ہے، اس سے كوئى چيز خارج نہيں، اور يہ دين كے اصولوں ميں سے ايك عظيم اصول ہے، اور يہ بالكل نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے اسى قول كى طرح اور شبيہ ہے:
" جس كسى نے بھى ہمارے اس دين ميں ايسا كام ايجاد كر ليا جو اس ميں سے نہيں تو وہ عمل مردود ہے"
اسے بخارى نے ( 3 / 167 ) حديث نمبر ( 2697 ) ميں روايت كيا ہے، ديكھيں: فتح البارى ( 5 / 355 ).
لھذا جس نے بھى كوئى ايجاد كركے اسے دين كى جانب منسوب كر ديا، اور دين اسلام ميں اس كى كوئى دليل نہيں جس كى طرف رجوع كيا جا سكے تو وہ گمراہى اور ضلالت ہے، اور دين اس سے برى ہے دين كے ساتھ اس كا كوئى تعلق اور واسطہ نہيں، چاہے وہ اعقادى مسائل ميں ہو يا پھر اعمال ميں يا ظاہرى اور باطنى اقوال ميں ہو ) انتہى.
ديكھيں: جامع العلوم والحكم صفحہ نمبر ( 233 ).
اور ان لوگوں كے پاس بدعت حسنہ كى اور كوئى دليل نہيں سوائے عمررضى اللہ تعالى عنہ كا نماز تراويح كے متعلق قول ہى ہے، جس ميں انہوں نے كہا تھا:
( نعمت البدعۃ ھذہ ) يہ طريقہ اچھا ہے. اسے بخارى نے تعليقا بيان كيا ہے، ديكھيں: صحيح بخارى شريف ( 2 / 252 ) حديث نمبر ( 2010 ) ديكھيں: فتح البارى ( 4 / 294 ).
جشن ميلاد منانے والوں كا يہ بھى كہنا ہے كہ:
كچھ ايسى نئى اشياء ايجاد كى گئى جن كا سلف نے انكار نہيں كيا تھا: مثلا قرآن مجيد كو ايك كتاب ميں جمع كرنا، اور حديث شريف كى تحرير و تدوين.
اس كا جواب يہ ہے كہ:
ان امور كى شريعت مطہرہ ميں اصل ملتى ہے، لہذا يہ كوئى بدعت نہيں بنتے.
اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كا قول " يہ طريقہ اچھا ہے" ان كى اس سے مراد لغوى بدعت تھى نہ كہ شرعى، لہذا جس كى شريعت ميں اصل ملتى ہو تو اس كى طرف رجوع كيا جائے گا.
جب كہا جائے كہ: يہ بدعت ہے تو يہ لغت كے اعتبار سے بدعت ہو گى نہ كہ شريعت كے اعتبار سے، كيونكہ شريعت ميں بدعت اسے كہا جاتا ہے جس كى شريعت ميں كوئى دليل اور اصل نہ ملتى ہو جس كى طرف رجوع كيا جا سكے.
اور قرآن مجيد كو ايك كتاب ميں جمع كرنے كى شريعت ميں دليل ملتى ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم قرآن مجيد لكھنے كا حكم ديا كرتے تھے، ليكن قرآن جدا جدا اور متفرق طور پر لكھا ہوا تھا، تو صحابہ كرام نے اس كى حفاظت كے ليے ايك كتاب ميں جمع كر ديا.
اور نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے صحابہ كو چند راتيں تراويح كى نماز پڑھائى تھى، اور پھر اس ڈر اور خدشہ سے چھوڑ دى كے كہيں ان پر فرض نہ كر دى جائے، اور صحابہ كرام نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زندگى ميں عليحدہ عليحدہ اور متفرق طور پر ادا كرتے رہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى وفات كے بعد بھى اسى طرح ادا كرتے رہے، يہاں تك كہ عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ نے انہيں ايك امام كے پيچھے جمع كر ديا، جس طرح وہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے پيچھے تھے، اور يہ كوئى دين ميں بدعت نہيں ہے.
اور حديث لكھنے كى بھى شريعت ميں دليل اور اصل ملتى ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كچھ احاديث بعض صحابہ كرام كو ان كے مطالبہ پر لكھنے كا حكم ديا تھا.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زندگى ميں احاديث عمومى طور پر اس خدشہ كے پيش نظر ممنوع تھيں كہ كہيں قرآن مجيد ميں وہ كچھ نہ مل جائے جو قرآن مجيد كا حصہ نہيں، لہذا جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم فوت ہو گئے تو يہ ممانعت جاتى رہى، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى وفات سے قبل قرآن مجيد مكمل ہو گيا اور لكھ ليا گيا تھا، اور اسے احاطہ تحرير اور ضبط ميں لايا جا چكا تھا.
تو اس كے بعد مسلمانوں نے سنت كو ضائع ہونے سے بچانے كے ليے احاديث كى تدوين كى اور اسے لكھ ليا، اللہ تعالى انہيں اسلام اور مسلمانوں كى طرف سے جزائے خير عطا فرمائے كہ انہوں نے اپنے رب كى كتاب اور اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كو ضائع ہونے اور كھيلنے والوں كے كھيل اور عبث كام سے محفوظ كيا.
اور يہ بھى كہا جاتا ہے كہ:
تمہارے خيال اور گمان كے مطابق اس شكريہ كى ادائيگى ميں تاخير كيوں كى گئى، اور اسے پہلے جو افضل ادوار كہلاتے ہيں، يعنى صحابہ كرام اور تابعين عظام اور تبع تابعين كے دور ميں كيوں نہ كيا گيا، حالانكہ يہ لوگ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے بہت زيادہ اور شديد محبت ركھتے تھے، اور خير و بھلائى كے كاموں اور شكر ادا كرنے ميں ان كى حرص زيادہ تھى، تو كيا جشن ميلاد كى بدعت ايجاد كرنے والے ان سے بھى زيادہ ہدايت يافتہ اور اللہ تعالى كا شكر ادا كرنے والے تھے؟ حاشا و كلا ايسا نہيں ہو سكتا.
6 - اور بعض اوقات وہ يہ كہتے ہيں كہ : جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم منانا نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت ظاہر كرتا ہے، اور يہ اس محبت كے مظاہر ميں سے ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت كا اظہار كرنا مشروع اور جائز ہے !
اس كے جواب ميں ہم يہ كہيں گے كہ:
بلاشك و شبہ ہر مسلمان شخص پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت واجب ہے، اور يہ محبت اپنى جان، مال اور اولاد اور والد اور سب لوگوں سے زيادہ ہونى چاہيے- ميرے ماں باپ نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر قربان ہوں - ليكن اس كا معنى يہ نہيں كہ ہم ايسى بدعات ايجاد كر ليں جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہمارے ليے مشروع بھى نہ كى ہوں.
بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت تو يہ تقاضا كرتى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و فرمانبردارى كى جائے اور ان كے حكم كے سامنے سر خم تسليم كيا جائے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت كے مظاہر ميں سے سب عظيم ہے، كسى شاعر نے كيا ہى خوب كہا ہے:
اگر تيرى محبت سچى ہوتى تو اس كى اطاعت و فرمانبردارى كرتا، كيونكہ محبت كرنے والا اپنے محبوب كى اطاعت و فرمانبردارى كرتا ہے.
لہذا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت كا تقاضا ہے كہ ان كى سنت كا احياء كيا جائے، اور سنت رسول كو مضبوطى سے تھام كر اس پر عمل پيرا ہوا جائے، اور افعال و اقوال ميں سے جو كچھ بھى سنت نبوى صلى اللہ عليہ وسلم كا مخالف ہو اس سے اجتناب كرتے ہوئے اس سے بچا جائے.
اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ جو كام بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كے خلاف ہے وہ قابل مذمت بدعت اور ظاہرى معصيت و گناہ كا كام ہے، اور جشن آمد رسول يا جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم وغيرہ بھى اس ميں شامل ہوتا ہے.
چاہے نيت كتنى بھى اچھى ہو اس سے دين اسلام ميں بدعات كى ايجاد جائز نہيں ہو جاتى، كيونكہ دين اسلام دو اصلوں پر مبنى ہے اور اس كى اساس دو چيزوں پر قائم ہے: اور وہ اصول اخلاص اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و فرمانبردارى ہے.
فرمان بارى تعالى ہے:
{سنو! جو بھى اپنے آپ كو اخلاص كے ساتھ اللہ تعالى كے سامنے جھكا دے بلا شبہ اسے اس كا رب پورا پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو كوئى خوف ہو گا، اور نہ ہى غم اور اداسى} البقرۃ ( 112 ).
تو اللہ تعالى كے سامنے سر تسليم خم كرنا اللہ تعالى كے ليے اخلاص ہے، اور احسان نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و فرمانبردارى اور سنت پر عمل كرنے كا نام ہے.
7 - ان كے شبھات ميں يہ بھى شامل ہے كہ وہ يہ كہتے ہيں:
جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كے احياء اور اس جشن ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سيرت پڑھنے ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و پيروى پر ابھارنا ہے !
اس كے جواب ميں ہم ان سے يہ كہيں گے كہ:
مسلمان شخص سے مطلوب تو يہ ہے كہ وہ سارا سال اور سارى زندگى ہى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سيرت كا مطالعہ كرتا رہے، اور يہ بھى مطلوب ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و فرمانبردارى بھى ہر وقت اور ہر كام ميں كرے.
اب اس كے ليے بغير كسى دليل كے كسى دن كى تخصيص كرنا بدعت شمار ہو گى، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" اور ہر بدعت گمراہى ہے "
اسے احمد نے ( 4 / 164 ) اور ترمذى نے حديث نمبر ( 2676 ) ميں روايت كيا ہے.
اور پھر بدعت كا ثمر اور نتيجہ شر اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دورى كے سوا كچھ نہيں ہوتا.
خلاصہ يہ ہوا كہ:
جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم ہو يا جشن آمد رسول صلى اللہ عليہ وسلم اس كى سارى اقسام و انواع اور اشكال و صورتيں بدعت منكرہ ہيں مسلمانوں پر واجب ہے كہ وہ اس بدعت سے بھى باز رہيں اور اس كے علاوہ دوسرى بدعات سے بھى اجتناب كريں، اور سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم كا احياء كريں اور سنت كى پيروى كرتے رہيں، اور اس بدعت كى ترويج اور اس كا دفاع كرنے والوں سے دھوكہ نہ كھائيں، كيونكہ اس قسم كے لوگ سنت كے احياء كى بجائے بدعات كے احياء كا زيادہ اہتمام كرتے ہيں، بلكہ اس طرح كے لوگ تو ہو سكتا ہے سنت كا بالكل اہتمام كرتے ہى نہيں.
لہذا جس شخص كى حالت يہ ہو جائے تو اس كى تقليد اور اقتدا كرنى اور بات ماننى جائز نہيں ہے، اگرچہ اس طرح كے لوگوں كى كثرت ہى كيوں نہ ہو، بلكہ بات تو اس كى تسليم جائے گى اور اقتدا اس كى كرنى چاہيے جو سنت نبوى صلى اللہ عليہ وسلم پر عمل كرتا ہو اور سلف صالحين كے نھج اور طريقہ پر چلنے والا ہو، اگرچہ ان كى تعداد بہت قيل ہى كيوں نہ ہو، كيونكہ حق كى پہچان آدميوں كے ساتھ نہيں ہوتى، بلكہ آدمى كى پہچان حق سے ہوتى ہے.
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" بلاشبہ تم ميں سے جو زندہ رہے گا تو وہ عنقريب بہت زيادہ اختلافات كا مشاہدہ كرے گا، لہذا تم ميرى اور ميرے بعد ہدايت يافتہ خلفاء راشدين كى سنت اور طريقہ كى پيروى اور اتباع كرنا، اسے مضبوطى سے تھامے ركھنا، اور نئے نئے كاموں سے اجتناب كرنا، كيونكہ ہر بدعت گمراہى ہے"
ديكھيں: مسند احمد ( 4 / 126 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 2676 ).
اس حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں يہ بتا ديا ہے كہ اختلاف كے وقت ہم كسى كى اقتدا كريں، اور اسى طرح يہ بھى بيان كيا كہ جو قول اور فعل بھى سنت كے مخالف ہو وہ بدعت ہے، اور ہر قسم كى بدعت گمراہى ہے.
اور جب ہم جشن ميلاد النبى كو كتاب و سنت پر پيش كرتے ہيں، تو ہميں اس كى نہ تو كوئى دليل سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں ملتى ہے اور نہ خلفاء راشدين كى سنت اور طريقہ ميں، تو پھر يہ كام نئى ايجاد اور گمراہ بدعات ميں سے ہے.
اور اس حديث ميں پائے جانے والے اصول كى دليل كتاب اللہ ميں بھى پائى جاتى ہے.
فرمان بارى تعالى ہے:
{اور اگر تم كسى چيز ميں اختلاف كر بيٹھو تو اسے اللہ تعالى اور رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كى طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ تعالى اور يوم آخرت پر ايمان ركھتے ہو، يہ بہت بہتر اور انجام كے اعتبار سے بہت اچھا ہے} النساء ( 59 ).
اللہ تعالى كى طرف لوٹانا يہ ہے كہ كتاب اللہ كى طرف رجوع كيا جائے، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى طرف لوٹانے كا مطلب يہ ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى وفات كے بعد اسے سنت پر پيش كيا جائے.
تو اس طر تنازع اور اختلاف كے وقت كتاب اللہ اور سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى طرف رجوع كيا جائے گا، لھذا كتاب اور سنت رسول صلى اللہ عليہ ميں جشن ميلاد النبى كى مشروعيت كہاں ملتى ہے، اور اس كى دليل كہاں ہے؟
لہذا جو بھى اس فعل كا مرتكب ہو رہا ہے يا وہ اسے اچھا سمجھتا ہے اسے اللہ تعالى كے ہاں اس كے ساتھ ساتھ دوسرى بدعات سے بھى توبہ كرنى چاہيے، اور حق كا اعلان كرنے والے مومن كى شان بھى يہى ہے، ليكن جو شخص متكبر ہو اور دليل مل جانے كے بعد اس كى مخالفت كرے اس كا حساب اللہ تعالى كے سپرد.
اس سلسلہ ميں اتنا ہى كافى ہے، اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں روز قيامت تك كتاب و سنت پر عمل كرنے اور اس پر كاربند رہنے كى توفيق بخشے، اور ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اوران كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.
ديكھيں: كتاب حقوق النبى صلى اللہ عليہ وسلم بين الاجلال و الاخلال صفحہ نمبر ( 139 ).
الشيخ ڈاكٹر صالح بن فوزان الفوزان، ممبر كبار علماء كرام كميٹى سعودى عرب.
كفار كےتہوار اور ان ميں شركت كا حكم
رہتي دنيا تك حق وباطل اور امت محمديہ كےگروہ اور يہود ونصاري اور مجوسيوں اوربت پرستوں وغيرہ كا معركہ رہتي دنيا تك ہميشہ رہےگا، اور اہل حق تنگي اورتكليفوں كےباوجود حق پر قائم رہيں گے، يہ سب كچھ سنن كونيہ جو كہ مقدر كي ہوئي اور لكھي جاچكي ہيں ميں سےہے.
اس كا معني يہ نہيں كہ اپنےآپ كو ان كےسپرد كرديا جائےاور گمراہوں كےراستےپر چلنا شروع ہوجائيں، كيونكہ ہميں يہ خبر دي چكي ہے كہ ايسا ضرور ہوگا اسي ليےہميں اس راستےپر چلنےسے ڈرايا گيا اور اسي ليے دين اسلام پر ثابت قدم رہنےكي تلقين كي گئي چاہے گمراہ لوگوں كي جتني بھي كثرت ہوجائے، اور صراط مستقيم سے منحرف لوگ جتني بھي طاقت حاصل كر كےقوي ہوجائيں.
ہميں يہ بتايا جاچكا ہے كہ سعادت مند اورخوشبخت شخص وہ ہے جو حق سےروكنےوالي جتني بھي اشياء ہوں ان سب كےباوجود حق پر ثابت قدم رہے اور استقامت اختيار كرے، ايسے دور ميں جس ميں صحيح عمل كرنے والے كو صحابہ كرام كي مثل پچاس آدميوں كےعمل كا اجروثواب حاصل ہوگا جيسا كہ صحيح حديث ميں ابوثعلبہ خشني رضي اللہ تعالي عنہ نے نبي صلي اللہ عليہ وسلم سےبيان كيا ہے.
اورامت محمديہ ميں كچھ ايسےلوگ بھي ہونگےجو حق سےانحراف كر كے باطل كو صحيح كہيں گےاور دين ميں تغير وتبدل كر كےبدعات كي ايجاد كرليں گے، توايسے لوگوں كي سزا يہ ہے كہ انہيں حوض كوثر سے دور ہٹا ديا جائےگا اوراس كےقريب بھي نہيں پھٹكنےديا جائےگا، جب نيك اور صالح اور استقامت اختيار كرنےوالےلوگ حوض كوثر پر آكر پاني پيئيں گے تو يہ بدعتي بھي وہاں آنےكي كوشش كرينگے ليكن انہيں وہاں سےبھگا ديا جائےگا جيسا كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
( ميں حوض پر تمہارا انتظار كرونگا، اور ميري جانب كچھ لوگ لائے جائيں گے حتي كہ جب ميں ان كي جانب متوجہ ہو كرانہيں دينا چاہوں گا تو ميرے اوران كےمابين ركاوٹ حائل كردي جائےگي تو ميں كہوں گا اے ميرے رب يہ ميرے ساتھي ہيں، تو مجھےكہا جائےگا: آپ كو علم نہيں كہ آپ كےبعد انہوں نےكيا بدعات ايجاد كرليں تھيں )
اور ايك روايت ميں ہےكہ " ميں كہوں گا: جس نےميرے بعد تبديلي كردي اس كےليے دوري ہے.
محمد صلي اللہ عليہ وسلم كےدين ميں تغيروتبدل اور نكارت كا سب سے بڑا مظہر اللہ تعالي كےدشمنوں كي ہر چھوٹے اور بڑے معاملے ميں ترقي اور حضارۃ جيسےناموں كےساتھ ان كي تقليد اور ان كي پيروي كرنا ہے، اور اس كے علاوہ امن وسلامتي سےزندگي بسر كرنا، اور انساني بھائي چارہ اور نئے ورلڈ آرڈر اور عالميت اور كونيت جيسے دھوكہ اور فراڈ پر مبني نعروں كےتحت ان پر عمل كرتےہوئےكفار كي تقليد وپيروي دين ميں تغير وتبدل كا سب سے بڑا مظہر ہے.
اورايك غيرمند مسلمان اس خطرناك بيماري كو امت كےاكثرلوگوں ميں ديكھتا ہے الا وہ شخص اس بيماري سے بچا ہے جس پر اللہ كا رحم ہوا، حتي كہ لوگوں نے ان كےديني شعائر ميں بھي ان كي تقليد اور پيروي كرني شروع كردي ہے، اور خاص كران كي عادات اپناني شروع كرديں ہيں مثلا ان كے تہوار جو كہ من جملہ طريقوں اور منہج ودستور ميں شامل ہيں انہيں اپناليا ہے حالانكہ اللہ تعالي كا فرمان ہے:
{اس حق سےہٹ كر ان كي خواہشوں كےپيچھے نہ جايئے تم ميں سےہر ايك كےلئے ہم نے ايك دستور اور راہ مقرر كردي ہے} المائدۃ ( 48 )
{ہرامت كےليےہم نے عبادت كا ايك طريقہ مقرر كرديا ہے جسے وہ بجا لانے والےہيں} الحج ( 67 ) . يعني ان كےخاص كر ان كےتہوار ہيں.
اورجبكہ بہت سےمسلمان اللہ تعالي كےدشمنوں كے كھوٹےاور ردي مال كي چكاچوند چمك كےدھوكہ ميں آچكےہيں، اور خاص كرنصاري كےبڑے بڑے تہواروں جيسا كہ ميلاد مسيح عليہ السلام جسے كرسمس كہا جاتا ہے اوراسي طرح سال نوكےموقع پرمنايا جانےوالا تہوارمسلمان ان كےممالك ميں ان كے ساتھ ان تہواروں ميں شركت كرتےہيں، بلكہ اس وقت تو بعض نےان تہواروں كو مسلمان ممالك ميں بھي منتقل كرديا ہے- اللہ تعالي اس سےبچائے - بہت بڑي مصيبت اور عظيم آزمائش يہ ہے كہ اس وقت عالمي طور پر جو اور خاص كر عيسائي ممالك ميں سن دو ہزار كےاختتام اور تين ہزارميلادي ميں داخل ہونے كا جشن منانے كي تيارياں جاري ہيں، جبكہ ہرميلادي سال كےآخر ميں بھي زمين ان جشنوں سےلرز رہي ہوتي ہے تو بيسويں صدي كےاختتام كا جشن كيسا ہوگا؟ اس وقت عيسائي امت اس جشن كےليے بہت عظيم تياري ميں لگي ہوئي ہےجو كہ اس كےمناسب ہو.
يہ عيسائي جشن صرف عادت كےمطابق سال نو كي رات والا جشن ہي نہيں ہوگا جيسا كہ عيسائي ممالك اور ان كےديني قبلہ ويٹيگن ميں ہوتا ہے تياري اس كي ہورہي ہے كہ مركزي جشن بيت لحم جو كہ مولد مسيح عليہ الصلاۃ والسلام ہے ميں منايا جائے، تو اس طرح عيسائيوں كےسياسي اور ديني ليڈر جن ميں انجيلي بھي ہونگےاور علماني بھي جواس جشن كو جلا عالمي طور پر ميڈيا ميں جلا بخشيں گے، اور جوں جوں وقت قريب آرہا ہے عالمي صحافت ميں ہر دن نئے سرے سے بحث كي جاتي ہے، اور توقع كي جارہي ہے كہ بيت لحم ميں تين ملين سےزيادہ افراد اكٹھےہونگےجن كي قيادت پوپ جان پال ثاني كرےگا، اور اس عالمي جشن ميں قرب وجوار كےاسلامي ممالك بھي اس اعتبار سےشركت كرينگےكہ عيسائي تہوار كےكچھ شعار ان اور مقامات ان كےممالك ميں بھي پائے جاتےہيں جو كہ ميسح عليہ السلام كےبپتسمہ كي جگہ ہے جہاں انہيں ( يوحنا معمدان ( يحيي عليہ السلام ) نے اردن كےدريا ميں بپتسمہ ( عيسائي رسم ہے ) ديا تھا، بلكہ بہت سے مسلمان اس جشن ميں اس اعتبار سےبھي شركت كرينگے كہ يہ عالمي جشن ہے جو روئےزمين پر بسنےوالے سب لوگوں كےلئے اہم ہے.
ان لوگوں كويہ علم نہيں كہ بيسويں صدي كےاختتام كا يہ جشن ايك نصراني تہوار ہے ( مسيح عليہ السلام كي عيد ميلاد كرسمس جو ہرميلادي سال كےآخر ميں منائي جاتي ہے ) اور اس ميں شركت كرني ان كےديني شعار ميں شركت ہے، اور اس سے فرحت وسرور حاصل كرنا كفر كےشعار اوراس كے ظھور اور غلبہ پر خوشي وسرور ہے، اور اس ميں مسلمان كےعقيدہ اور ايمان كو خطرہ ہے اس ليے كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا صحيح حديث ميں فرمان ہے كہ: " جس نے كسي قوم سےمشابہت اختيار كي وہ انہيں ميں سےہے" توپھر وہ شخص جو ان كےديني شعار ميں شركت كرلے اس كا كيا بنےگا؟
اوريہ ہميں حتما اس بات كي دعوت ديتا ہے كہ ہم كفار كےتہواروں حكم جانيں اور اس سلسلہ ميں مسلمان شخص پر كيا ذمہ داري عائد ہوتي ہے، اور ان كي مخالفت كي كيفيت كيا ہوگي جو كہ ہمارے دين حنيف كےاصولوں ميں سے ايك اصول ہے، بلكہ ان كےتہواروں اور شعائر كا تعارف اس مقصد اور ارادے سے ہو كہ ان تہواروں سےاجتناب كيا جائےاور دوسروں كوبھي اس سے بچايا جائے .
ہم پركفار كےتہواروں كا تعارف حاصل كرنا كيوں ضروري ہے؟
يہ بات متفق عليہ ہے كہ مسلمان شخص كےليے كفار كےحالات جاننا كوئي معني نہيں ركھتا، اور نہ ہي ان كےشعار اور عادات كي معرفت اس كےلئےاہم ہے - جب تك وہ انہيں اسلام كي دعوت نہ دينا چاہے - ليكن جب ان كےشعار جاہل قسم كے مسلمانوں ميں سرايت كررہےہوں اور وہ اس ميں قصدا يا بغير قصد كےپڑ رہے اور اس پر عمل كررہے ہوں تواس وقت ان كي معرفت ضروري ہو جاتي ہے تا كہ ان سےاجتناب كيا جاسكے، اس آخري دور ميں اس كي ضرورت بہت زيادہ ہوگئي ہے جس كےاسباب مندرجہ ذيل ہيں:
1 - كفار سے ساتھ كثرت سے ميل جول اور اختلاط چاہے وہ مسلمان كا ان كےملك ميں حصول تعليم كےجانےكي صورت ميں ہو يا پھر سير وسياحت اور تجارت كےلئےيا كسي اور سبب كي بنا پر، توان كےممالك ميں جانے والے يہ لوگ وہاں ان كےكچھ ديني شعار اور كام ديكھتے ہيں توانہيں يہ كام اچھےلگتے ہيں تويہ ان كي پيروي كرنا شروع كرديتےہيں اور خاص كر نفساتي ہزيمت و شكست كےساتھ اور ان كا كفار كو شديد قسم كي پسنديدگي كي نظروں سے ديكھنا ان كےارادہ كو سلب كرليتا ہے اور ان كےدل ميں فساد پيدا ہوتا ہے جس كي بنا پر دل ميں دين كمزور ہوجاتا ہے.
اسي وجہ سے بہت سے مغربي ثفافت كےدلدادہ لوگ كافروں كو ترقي يافتہ اور مھذب يافتہ لوگ كہتےہيں حتي كہ ان كي عادت اور عادتا كيےجانے والےاعمال ميں بھي ترقي يافتہ مانتےہيں، يا پھريہ اس طريقہ سےہوتا ہے كہ ان كےتہواروں كو غيرمسلم افليات اور گروہوں كےذريعہ اسلامي ممالك ميں ظاہر كيا جاتا ہے جس سے جاہل قسم كےمسلمان لوگ متاثر ہوتےہيں .
2 - معاملہ اوربھي خطرناك اس ليےہوگيا ہے كہ وسائل اعلام يعني ميڈيا جو كہ ہر چيز كو تصوير اور آواز كےساتھ روئے زمين ميں ايك جگہ سےدوسري جگہ منتقل كرنے كي قدرت ركھتا ہے، اور اس ميں كوئي شك نہيں كہ كفار كا ميڈيا اپني عادات اور شعار نشر كرنے ميں مسلمانوں كےميڈيا كي بنسبت زيادہ قوي اور طاقتور ہے اس كےبرعكس مسلمان ميڈيا كےپاس كچھ بھي طاقت نہيں اس طرح كہ بہت سے فضائي چينل دوسروں كےتہوار نشر كرنے ميں لگےہوئے ہيں اور خاص كرعيسائيوں كےتہوار نشر كيےجاتےہيں، اور زيادہ خطرناك بات يہ ہے جس سے معاملہ اور زيادہ خطرناكي اختيار كرچكا ہے كہ بعض علماني تنظيموں نےمسلم ممالك ميں كافروں اور بدعتيوں كےبہت سے تہوار اور شعار اور ان كےجشن كو ترويج دي اور انہيں عرب فضائي چينلوں كےذريعہ دنيا كے سامنےپيش كيا تو اس سے مسلمان دھوكہ كھا گئے كيونكہ يہ مسلمان ممالك سے نشر كيے جارہے اور اسلامي ممالك ميں جشن منائے جارہے ہيں .
3 - مسلمانوں كو تاريخ كےساتھ ساتھ اس مشكل كا سامنا رہا ہے كہ بعض مسلمان غيرمسلموں سےميل جول كي بنا پر ان كےشعار سے متاثر ہوئے جن كي بنا پر مسلمان علماء دين كواس بات كي ضرورت پيش آئي كہ وہ عام مسلمانوں كو مسلمانوں كےعلاوہ دوسروں كےتہواروں اور ان كےشعائر كي تقليد كرنے سے اجتناب كرنے كا كہيں اورانہيں اس سےڈرائيں، مثال كے طور پر ان علماء كرام ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ اور ان كےشاگر علامہ ابن قيم اور حافظ ذہبي اور حافظ ابن كثير رحمہم اللہ تعالي شامل ہيں، يہ سب ايك ہي دور ميں رہے جس ميں مسلمانوں كا دوسري قوموں كےساتھ ميل جول بہت زيادہ تھا اور خاص كر عيسائيوں كےساتھ ، توجاہل قسم كےمسلمان لوگ ان كےبعض ديني شعار اور ان كےتہواروں سے متاثر ہوگئے، لھذا ان علماء كرام نے اس مسئلہ كے متعلق اپني تصانيف ميں بہت زيادہ كلام كي اور بعض نے تو اس مسئلہ ميں عليحدہ كتاب تصنيف كردي جيسا كہ ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے اپني كتاب " اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفۃ اصحاب الجحيم " اور حافظ ذہبي رحمہ اللہ تعالي نے " تشبيہ الخسيس باھل الخميس " جيسا رسالہ تصنيف كيا .
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے ان كےتہوار اوران ميں كيے جانے والے اعمال اور جاہل قسم كےمسلمانوں پراس كا اثر اور ان كےتہواروں كي انواع و اقسام اور اس ميں كونسےشعار اپنائےجاتے اور كيا عادات ہوتي ہيں ان سب كا ذكر بہت طوالت كےساتھ كيا ہے ان سب اشياء كي معرفت سے مسلمان مستغني ہے ليكن اگر اسے كسي سبب يعني بہت سے مسلمان كا ان شعار ميں اہل كتاب كي پيروي كرنا كي بنا پر ضرورت پيش آئے تو وہ ان كي معرفت حاصل كرتا سكتا ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي نے ان كےتہوار بيان كيےاور انہوں نےاسے تحذير يعني بچاؤ كےلئےذكر كيا ہے وہ اس ميں بحث كرتے ہوئےكہتےہيں:
ان كےباطل كي تفصيل جاننا ہماري غرض نہيں، ليكن ہميں يہي كافي ہے كہ ہم برائي كواس ليےپہچانے تاكہ برائي اور مباح اور نيكي ميں تميز كي جا سكے، مستحب اور واجب كا علم ہوجائے، حتي كہ اس معرفت كي بنا پر ہم اس سے بچ كر اس سے اجتناب كريں. جيسےہم سب حرام اشياء كو جانتےہيں، جبكہ ہم پر اس كا ترك كرنا فرض ہے، اور جو شخص برائي كو اجمالي اور تفصيلي طور پر نہيں جانتا وہ اس كےاجتناب كا قصد نہيں كرسكتا، اور واجبات كے خلاف اجمالي معرفت ہي كافي ہے، .
ان كا يہ بھي كہنا ہے كہ:
ميں ان كےدين كي منكرات اور بري اشياء اس لئے شمار كي ہيں كہ ميں نےديكھا ہے كہ مسلمانوں كےبعض گروہ اس ميں مبتلا ہوچكےہيں اور ان ميں سے بہت سارے اس سےجاہل ہيں كہ يہ كام نصاري كےدين ميں سےہيں، مجھے ان سب كاموں كا تو علم نہيں جو وہ كرتےہيں بلكہ ميں نےوہ كام ذكر كئےہيں جو بعض مسلمان كرتےہيں اور وہ اصل ميں عيسائيوں سے ليے گئےہيں.
4 - عصرحاضرميں ان كےبعض تہوار بہت بڑے اجتماع ميں بدل چكے ہيں اس كےخصائص وہي پرانےتہوار والے ہيں، اور اس ميں بہت سارے مسلمان بغير كسي علم كےہي شريك ہوجاتےہيں، جيسا كہ كھيلوں كےاولمپك مقابلےہوتےہيں جو كہ اصلا يونانيوں اور پھر روميوں اور پھر عيسائيوں كا تہوار ہے، اور اسي طرح وہ مہرجانات جو خريدوفروخت يا پھر ثقافت وغيرہ كےنام سےمنعقد كئےجاتےہيں حالانكہ اصل ميں مہرجان فارسيوں كا تہوار ہے، اور ان مہرجانوں كا انعقاد كرنےوالے اكثرلوگ اس سےجاہل ہيں.
5 - شر اور برائي كواس ليےجاننا كہ اس سے بچا اوراجتناب كيا جائے، خذيفہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ: لوگ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے خيروبھلائي كےبارہ ميں سوال كيا كرتےتھےاور ميں شروبرائي كے متعلق ان سےاس ڈر كي بنا پر سوال كرتا كہ كہيں مجھے وہ پا نہ لے.
يہ تو ہر ايك كےعلم ميں ہے كہ سب سےعظيم شر اور خطرناك بيماري يہ ہےكہ ايك مسلمان شخص كسي ايسے شعار كا مرتكب ہو جوكفار كےشعار ميں اور ان كي خاص عادات ميں سےہو اور مسلمان اسےجانتا تك نہ ہو حالانكہ ہميں اس سےاجتناب كرنےاوربچنےكا حكم ديا گيا ہے كيونكہ وہ پليدي اور گمراہي ہے.
6 - بہت سے ايسے دعوے اورمنافقت كي آوازوں كي كثرت جو امت مسلمہ كواس كي اصليت سےنكالنا چاہتي اور اس كي شخصيت كا خاتمہ كرنا اور اسے كفار كےمنہج اور طريقہ ميں ڈھالنا چاہتي ہيں، اوراس آوزوں اور دعووں كےبالكل جوتےكے برابر پيروي كرنے والے انسانيت، عالميت، كونيت، اور دوسروں كےساتھ خوش باشي اوراس سے ثقافت كےحصول جيسےكھوكھلےاور غلط نعروں كےتحت اسلامي اقدار كا خاتمہ چاہتےہيں، جس سے حتمي طور پر يہ علم ہوتا ہے كہ دوسرے يعني كافر كےپاس جوگمراہي وضلالت، اور انحراف ہے اسے ننگا كرنےاوراس كي نوسربازي كو ظاہر كرنے اوراس كےخوبصورت پردے جوان قبيح قسم كےدعووں كےصورت ميں ہيں كو چاك كرنےكےليے اسےجاننا ضروري ہوجاتا ہے، تاكہ جو كوئي زندہ رہنا چاہتا ہے تو وہ دليل اور برہان كےساتھ زندہ رہے تاكہ:
{تا كہ جوہلاك ہو دليل پر( يعني يقين جان كر ) ہلاك ہو اور جو زندہ رہے وہ بھي دليل پر ( حق پہچان كر ) زندہ رہے} الانفال ( 42 ).
اور تاكہ محمد صلي اللہ عليہ وسلم كےاتباع وپيروكاروں پر حجت قائم ہو جائے اور وہ دھوكہ اور فراڈ ميں نہ آجائيں.
فرعونوں كےتہوار:
فرعونوں كےتہواروں ميں: باد نسيم سونگھنےكا تہوار، جو كہ ايام كے تقدس كےليےمنايا جاتا ہے ان لوگوں كا قرب اور فال حاصل كرنے كےلئے جو غيراللہ كي عبادت كرتےتھے، شيخ محفوظ نے وہ كچھ ذكركيا ہے جوكچھ ان كےدور ميں فسق وفجوراور ذلت ہوتي رہي ہے، جس سے پيشاني بھي شرم سے جھك جاتي ہے وہ اس طرح كہ كھيت وكھلوان اور خالي جگہيں فاجر وفاسق اور بےحيا لوگوں كي جماعتوں سے اٹ جاتے اور سب بوڑھے بچے اورجوان مرد وعورتيں باغوں اور پاركوں اور نہروں ودرياؤں كي طرف زنا كا ارتكاب كرنےاور شراب نوشي وغيرہ كےلئےكھنچے چلےآتے ان كا گمان تھا كہ اس دن ميں ان كے لئے ہر قسم كي خباثب جائز ہے.
اور اس دن ميں ان كےاوہام ميں يہ بھي تھا كہ: سونے والے شخص كے سر كےنيچے پياز ركھتے اور اسے دروازوں پر يہ گمان كرتےہوئے لٹكاتے كہ اس سے ان كي سستي اور كاہلي اور بدہضمي دور ہوجاتي ہے، فرعونوں كےتہواروں ميں يہ معدود تھا، اور يہ بھي كہا گيا ہے كہ اسے قبطيوں نےايجاد كيا، اس ميں كوئي مانع نہيں كہ يہ دونوں نےہي كيا ہو اور ان ان كي طرف منتقل ہوا ہو اور ابھي بہت سے اہل مصر خاص كر قبطي اس كا جشن مناتے ہيں اوراس ميں بہت سے مسلمان لوگ بھي شركت كرتےہيں.
اور اس آخري دور ميں بہت سے علماني مصنفوں نے اس كےمتعلق لكھا ہے اور اس كي مطالبہ كيا ہے كہ يہ تہوار سركاري طور پر منايا جائےتا كہ فرعونوں كي ثقافت زندہ ہوسكے، اس وقت ميں جبكہ وہ اسلامي شعائر كو تخلف اور ترقي پذير كانام ديتےہيں.
يونانيوں كےتہوار:
يونانيوں كےہاں سال كےبہت سےمہنيےہيں جن كےنام ان كےتہواروں كي مناسبت سےركھےہوئےتھے، اور ان كےتہواروں كا خرچہ غني اور مالدار لوگ برداشت كرتےتھے، ان كےعام اور اكثر تہواروں كا تعلق ان بت پرست دين كے شعائر پر جو كہ كئي ايك معبودوں پر مبني تھا كےساتھ رہا ہے، ان كے تہواروں كي تعداد بہت زيادہ ہوچكي تھي تا كہ وہ ان تہواروں سے زندگي كي تھكاوٹ كو دور كرسكيں، حتي كہ يہ تہوار اتني كثرت سےتھے كہ كوئي بھي مہينہ ايك يا كئي ايك تہواروں سےخالي نہ تھا صرف ايك مہينہ جسے وہ ممكٹريون كا نام ديتےتھےيہ مہينہ تہوار سےخالي رہا.
اور ان كےيہ تہوار فحاشي اور زناكاري، شراب نوشي، اورمطلقا حيواني خواہشات كوپورا كرنے اور جو چاہے كرنے كا نشان بن چكےتھے، جيسا كہ ان تہواروں ميں كئي قسم كي خرافات اور گمراہياں بھي تھيں مثلا ان كا گمان تھا كہ مردوں كي روحيں حاضر ہوتي اور پھر تہوار ختم ہونے پر واپس جاتي يا انہيں دھتكار ديا جاتا ہے .
ان كےمشہور تہواروں ميں مندرجہ ذيل تہوار شامل ہيں:
اولمپك كا تہوار جو كہ اليس ميں ہر چار برس بعد منعقد كيا جاتا ہے اور سب سے پہلا معترف اولمپيئن سن ( 776 ) ميلادي ميں ہوا اور يہ جشن اور تہوار ان كےسب تہواروں اور موسمي اجتماعات سے بڑا ہوتا ہے، اس تاريخ سے ليكر ان مقابلوں پر اولمپك مقابلوں كااطلاق ہونےلگا، اور اس كا ايك وطني رنگ اورقومي مضامين تھے حتي كہ يہ كہا جانےلگا:
كہ يوناني لڑائيوں ميں فتح حاصل كرنے سے زيادہ اولمپك مقابلےجيتنےپر فخر كرتےہيں، اور اس وقت يہ تہوار سب سےبڑا تھا.
كھيلوں كےيہ مقابلےآج تك منعقد ہو رہےہيں اور ان كاانعقاد عيسائي امت ہي اسي پرانےنام اور وراثتي علامات وشعار كےساتھ منعقد كرواتےہيں اس كا علامتي نشان اولمپك مشعل جلانا اور اسے اولمپك كھيليں منعقد كروانے والے ملك منتقل كيا جاتا ہے بلكہ افسوس كےساتھ يہ كہنا پڑتا ہے كہ اب اس مشعل كو جلا كرپوري دنيا ميں گھمايا جاتا ہے.
اور افسوس ہے كہ اب كچھ مسلمان بھي اس ميں شركت كرنا فخر محسوس كرتےہيں، اور اكثر لوگ اس سےغافل ہيں كہ اصل ميں يہ كفار كا بہت بڑا تہوار اور ان كےبت پرست دين ميں مقدس ايام ہيں، لھذا ہم گمراہي اور اندھي تقليد سےاللہ تعالي كي پناہ ميں آتےہيں.
اوريونانيوں كےاور بھي بڑے بڑے تہوار ہيں مثلا ہيلن يونيورسٹي كے تہوار، اورايونيہ يونيورسٹي كےتہوار وغيرہ .
روميوں كے تہوار :
سب امتوں ميں روميوں كےسب سےزيادہ تہوار ہيں وہ اس طرح كہ ايك برس ميں ايك سوسےزيادہ مقدس ايام ہيں جنہيں وہ تہوار سمجھتےہيں، ان ميں ہر ماہ كا پہلا دن بھي شامل ہے، اور يہ بعض تہوار فوت شدگان اور عالم سفلي كي ارواح كي تقديس كے ليے خاص ہيں، ان كےگمان كےمطابق ان كے تہواروں اوران ميں جو كچھ كيا جاتاہے فوت شدگان كے غضب كو ختم كرنے ليےہے.
ان كے مشہور تہوار يہ ہيں:
ہر برس چودہ فروري كواپنےبت پرست دين كےمطابق يہ اعتقاد ركھتے ہوئے حب الہي كا تہوار مناتےہيں اور يہ تہوار ( 1700) برس قبل ايجاد كيا گيا جبكہ روميوں ميں بت پرستي كا دور دورہ تھا اور ان كي حكومت نے بشپ ويلنٹائن جو كہ ايك بت پرست تھا اور پھر عيسائيت قبول كرلي كو پھانسي لگا ديا تھا، لھذا جب روميون نے عيسائيت قبول كي تو انہوں نے اس دن كو شھدائےحب يعني محبت كےدن كا تہوار بنا ديا اور آج تك امريكا اور يورپ ميں يہ تہوار منايا جاتا اور دوستي ومحبت كےشعور كا اعلان كرنے اور مياں بيوي اور محبت كرنے والوں كي محبت كي تجديد كا عہد كرنےكےلئےمناتے ہيں اور اس تہوار كا اجتماعي اور اقتصادي طور پر اہتمام ہونےلگا ہے، اوراب اسے ويلنٹائن ڈے كانام دے ديا گيا ہے.
اور لگتا ہےكہ اسي طرح كا ايك اور تہوار پيدا ہوچكا ہے جو كہ خاوند بيوي يا دومحبت كرنے والوں كا تہوار ہے خاوند بيوي اسے ہربرس اپني شادي كے دن ميں محبت كي تاكيد كےلئےمناتےہيں اور ميل جول كي بنا پر يہ تہوار اب مسلمانوں ميں بھي منتقل ہو چكا ہے، بہت سےمسلمان ممالك ميں خاوند اور بيوي كفار سےمشابہت كرتے ہوئے شادي كي رات ميں خاص كرمناتےہيں، لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلي العظيم.
يہوديوں كےتہوار :
1 - عبري سال كے آخر ميں ہيشا كےنام سےتہوار منايا جاتا ہے اس كے متعلق ان گمان ہے كہ اسميں ذبيح اسحاق عليہ السلام كےبدلےميں فديہ ديا گيا تھا ( ان كے غلط گمان كے مطابق حالانكہ ذبيح تو اسماعيل عليہ السلام ہيں نہ كہ اسحاق عليہ السلام ) اور مسلمانوں يہ تہوار مسلمانوں كےہاں عيدالاضحي كے مقام پر ہے.
2 - صوماريا يا كيبور كا تہوار جسے وہ يوم غفران يعني بخشش كا دن كہتےہيں.
3 - المظلل يا الظلل كا تہوار جو كہ پندرہ تشرين ( 15 اكتوبر ) كو مناتےاور اس ميں درخت كي ٹہنيوں كا سايہ حاصل كرتےہيں اور اسے وہ مريم عذراء كےروزے كے دن كا نام بھي ديتےہيں .
4 – عيد الفطير جو پندرہ نيسان ( 15اپريل ) كو اس مناسبت سےمنايا جاتا ہے كہ تيرہويں صدي قبل ميلادي ميں بني اسرائيل نےمصر ميں غلامي سے فرار اختيار كيا تھا، اور اس تہوار كا قصہ توراۃ كےاصحاح ثاني عشر كے سفر خروج ميں بيان كيا گيا ہے،اس تہوار كي مدت آٹھ دن ہيں اوريہ مقبوضہ فلسطين ميں منايا جاتا ہے، اور اصلاح پسند يہودي اسے اپنےعلاقوں ميں سات دن تك مناتےہيں ، اور اس ميں ان كا ايك جشن بھي ہے جس كا نام ( السيدار ) ہے اور اس تہوار ميں الحقادا كتاب ميں سے بني اسرائيل كےفرار كا قصہ پڑھتےہيں، اور بغير خميرشدہ روٹي كھاتےہيں اس ليے كہ جب بني اسرائيل فرار ہوئے توانہوں نےيہ كھائي تھي كيونكہ ان كےپاس خمير كرنے كا وقت ہي نہيں تھا اور آج تك يہودي اس تہوار ميں يہ روٹي كھاتےہيں.
5 - عيد الاسابيع يا ( العنصرۃ ) يا ( الخطاب ) كا تہوار ان كا گمان ہے كہ يہ وہ دن ہے جس ميں اللہ تعالي نے موسي عليہ السلام سےكلام فرمائي تھي.
6 - يوم التكفير ( كفارہ كا تہوار ) يہودي سال كے دسويں مہينہ ميں منايا جاتا ہے، اس تہوار ميں آدمي نو دن كےليے دوسروں سے كٹ كر عبادت كرتا اورروزے ركھتا ہے اوراسےايام توبہ كانام ديا جاتا ہے.
7 - الہلال الجديد، نئےچاند كاتہوار، يہ تہوار ہر نيا چاند طلوع ہونے پر منايا جاتا تھا وہ اس طرح كہ بيت المقدس ميں سينگ ميں پھونك ماري جاتي اور اس كي خوشي ميں آگ جلائي جاتي تھي.
8 - عيداليوبيل ، اس كا بيان سفر اللاويين ميں كيا گيا ہے.
اس كےعلاوہ بھي ان كےكئي ايك تہوار ہيں جن ميں مشہور يہ ہيں: كاميابي كا تہوار ( البوريم ) اور اسے التبريك ( مباركبادي ) كانام بھي ديتے ہيں.
عيسائيوں كےتہوار :
1 - قيامت كا تہوار: اسے عيد الفصح ( ايسٹر ڈے ) كانام بھي ديا جاتا ہے، اور عيسائيوں كا سب سے اہم سالانہ تہوار ہے، اور اس سے قبل بڑا روزہ ہوتا ہے جو چاليس يوم تك الفصح كےتہوار ( ايسٹر ڈے ) سےقبل تك چلتا ہے، اور يہ تہوار عيسائي مسيح عليہ السلام كي واپسي كي ياد يا انہيں سولي پر لٹكانے كے بعد اس كي قيامت جو كہ ان كي موت كے دو دن بعد كي ياد ميں منايا جاتا ہے،( ان كےاپنے گمان كےمطابق ) اور يہ مختلق قوانين اورشريعتوں كا خاتمہ ہے جو كہ يہ ہيں:
ا - بڑے روزے كي ابتدا جو كہ ايسٹر ڈے سے چاليس يوم كا روزہ ہے اور وہ بدھ كےدن روزہ شروع كرتےہيں جسے وہ رتيلا بدھ كانام ديتےہيں، اس ليے كہ وہ حاضرين كي پيشانيوں پر ريت ركھتےہيں اور باربار يہ دہراتےہيں : ( ہم مٹي سے شروع كرتےہيں اور اس كي طرف پلٹيں گے ) .
ب - پھر اس كےپچاس دنوں بعد پچاسويں يا عنصرہ كےتہوار پر ختم كرتے ہيں .
ج - تكليفوں كا ہفتہ: يہ روزے كي مدت كا آخري ہفتہ ہوتا ہے اور ان حادثات كي طرف اشارہ كرتاہے جو عيسي عليہ السلام كو موت اور ان كي قيامت كي طرف لےگئے، جيسا كہ وہ گمان كرتےہيں .
د - احد العسف، يہ وہ اتوار كا دن ہے جو ايسٹر ڈے سے قبل آئے اور يہ ميسح عليہ السلام كا بيت المقدس ميں كامياب داخل ہونے كي ياد كےطور پر منايا جاتا ہے.
ھ - خميس العہد: يا الصعود عہد والي جمعرات، يہ مسيح عليہ السلام كےآخري كھانےاور ان كي قيد كي طرف اشارہ كرتي ہے.
و ـ الجمعۃ الحزينۃ: غم والا جمعہ، يہ ايسٹر ڈے سے پہلے والا جمعہ ہے اور صليب پر مسيح عليہ السلام كي موت كي طرف اشارہ كرتا ہے( ان كےگمان كےمطابق ) .
ز ـ سبت النور: روشني والا ہفتہ كا دن ، يہ وہ ہفتےكا دن ہے جو ايسٹر ڈے سےقبل آتا ہے، اور مسيح عليہ السلام كي موت كي طرف اشارہ كرتا ہے اور يہ دن مسيح عليہ السلام كا ايسٹر ڈے منانے كےانتظار كا دن ہے، اور يہ ايسٹرڈے كےسارے جشن يوم صعود يا خميس الصعود ( چڑھنےكي جمعرات ) ميں ختم ہو جاتےہيں جہان ہر گرجےميں ميسح عليہ السلام كا آسمان پڑ چرھنے كا قصہ پڑھا جاتا ہے، اور عيسائيوں ميں مذاہب اور ممالك مختلف ہونے كي بنا پر تہوار بھي مختلف اور كئي ايك ہيں، اور وہ سابقہ جمعہ اور جمعرات كو بڑي جمعرات اور بڑا جمعہ كا نام ديتےہيں ، جيسا كہ شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي ذكر كيا ہے، اور حافظ ذھبي رحمہ اللہ تعالي كا رسالہ: ( تشبيہ الخسيس باھل الخميس ) سے بھي يہي جمعرات مراد ہے، اور يہ جمعرات ان كےروزے كا آخري دن ہوتا ہے اور اسے وہ خميس المائدۃ يعني دسترخوان كي جمعرات كا نام بھي ديتےہيں، جو كہ سورۃ المائدۃ ميں اللہ تعالي كےاس فرمان ميں مذكور ہے:
{عيسي بن مريم عليہ السلام نے دعا كي اے اللہ اے ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے كھانا نازل فرما كہ وہ ہمارے لئے يعني ہم ميں جو اول ہيں اور جو بعد كے ہيں سب كے لئے ايك خوشي كي بات ہو }المائدۃ ( 114 )
بہت سے مؤرخين نےذكر كيا ہے كہ ان كےان تہواروں ميں بہت عجيب وغريب كام تھےجن ميں درختوں كےپتےجمع كركےانہيں صاف كرنا اور اس سے غسل كرنا اور انہيں آنكھوں ميں ڈالنا شامل ہے، اور مصر كےقبطي كچھ ايام نيل ميں غسل كرتے اور ان كا يہ گمان تھا كہ اس ميں دم درود ہے.
اور ان كےہاں ايسٹر ڈے بڑے روزے كےافطار كا دن ہے اور ان كا يہ گمان تھا كہ ميسح عليہ السلام سولي چڑھنےكے تين يوم بعد كھڑے ہوئے اور آدميوں كو جہنم سے نجات دلائي، اس كے علاوہ كئي ايك خرافات بھي ہيں جن كا ذكر شمس الدين الدمشقي الذھبي رحمہ اللہ تعالي نےكيا ہے كہ: اس دن اہل حماۃ چھ دنوں كےلئے كام كاج چھوڑ ديتے اور انڈوں كو رنگتےاور كيك تيار كرتےہيں، انہوں نے كئي قسم كے فساد اور اختلاط كي اقسام ذكر كي ہيں جو اس وقت كي جاتي تھيں، اوريہ بھي ذكر كيا ہے كہ اس ميں مسلمان بھي شريك ہوتے اور ان كي تعداد عيسائيوں كي تعداد سے تجاوز كرجاتي ہے، اللہ كي پناہ.
ابن الحاج نےذكر كيا ہےكہ: وہ اعلانيہ طورپر فحش كام كرتےہيں اور انہيں كوئي روكنےوالا نہيں، لگتا ہے كہ اسي چيز نے شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے اس منكر كےخلاف آواز اٹھائي جو انہوں نےمسلمانوں ميں عيسائيوں كے تہواروں ديني شعار ميں ان كي تقليد كركے پيدا كي، انہوں نے اس ميں سے بہت سي اشياء اپني كتاب الاقتضاء ميں ذكر كي ہيں اور اسي طرح امام ذھبي رحمہ اللہ تعالي نے اپنے رسالہ ميں بھي ذكر كيا ہے جس كا ذكر ابھي كيا گيا ہے.
عيسائي آج تك موسم بہار كا چاند مكمل ہونے كےبعد پہلي اتوار كے دن ( 22 مارچ سے 25اپريل تك كےدوران ) جشن مناتےہيں اور ارتھوڈكس چرچ كے پيروكا باقي عيسائيوں سے اس جشن كو دير سےمناتےہيں اور يہ عيسائي سال كےميں شعار اور روزے اور ايام كا مكمل موسم ہے.
2 - مسيح عليہ السلام كي عيد ميلاد يورپي لوگ اسے ( كرسمس ڈے ) كا نام ديتےہيں جو كہ پچيس دسمبر كو عام عيسائيوں مناتے ہيں، اور قبطي كے ہاں يہ ( 29 كيھك ) كےموافق آتا ہے اور يہ زمانہ قديم سے منايا جارہا ہے اور كتب تاريخ ميں بھي مذكور ہے: مقريزي كا كہنا ہے كہ:
قاہرہ اور مصر اور مصر كے سب علاقوں ميں ہم نے عيدميلاد( كرسمس ڈے ) كو بڑے تزك واحتشام سےمناتے ہوئےپايا جس ميں نقش ونگار والي شمعيں فروخت ہوتےہوئےپايا جسے فانوس كا نام ديا جاتا ہے.
عيسائيوں كي يہ عيد ميلاد مولد مسيح كي ياد ميں ہر برس منائي جاتي ہے ، اور اس ميں ان كي كئي ايك عبادات اور شعار بھي ہيں اس طرح كہ وہ گرجا گھروں ميں جا كر خصوصي نمازوں كا اہتمام كرتے ہيں، عيد ميلاد كا قصہ ان كي انجيل ، لوقا اور انجيل متي ميں مذكور ہے اور اس كي سب سے پہلي تقريب ( 336 ) ميلادي ميں منائي گئي اور يہ بت پرستي كےشعار سے متاثرہوئي اس طرح كہ رومي روشني اور فصل كاٹنے كےالہ كا جشن منايا كرتے اور جب روميوں كا سركاري مذھب عيسائت بنا تو عيد ميلاد يورپ ميں روميوں كا سب سے اہم جشن اور تہوار بن گيا اور بشب نيكولس يورپي ممالك ميں عيد ميلاد كےتحفے دينے كي علامت بن گيا، پھرخاص كر بچوں كو تحفے دينے كي علامت بشپ نيكولس كي جگہ پوپ نويل نے لے لي ، اور مختلف ممالك ميں بہت سے مسلمان ان شعار اور عادات سے متاثر ہوئے اس طرح كہ پوپ نويل كي علامت والےتحفے مسلمانوں كي دوكانوں اور ماركيٹوں ميں معروف ہوگئے اور كتنےہي گھر ايسے تھے جن ميں يہ تحفے اور ہديہ جات داخل ہوئے اور كتنے ہي مسلمان بچے پوپ نويل اور اس كے ہديہ جات جاننے لگے، لاحول ولا قوۃ الا باللہ.
اس تہوار ميں عيسائيوں كے كئي ايك شعار اور علامتيں ہيں:
فلسطين اور اس كےاردگرد كےعيسائي عيد ميلاد كےدن بيت لحم ميں جمع ہوتے جہاں مسيح عليہ السلام كي پيدائش ہوئي اور نصف رات كو عبادت كرتےہيں اور ان كےشعار ميں تيس نومبر كي قريب ترين اتوار كو جشن منانا ہے جو كہ بشپ انڈريوس كا تہوار ہے اور يہ عيسي عليہ السلام كےقدوم كا پہلا دن ہے، اور يہ تہوار اپنے جوبن پر اس وقت ہوتا ہے جب نصف رات كو بشپ جاگتےہيں جبكہ گرجا گھروں كو سجايا جاتا اور لوگ عيد ميلاد كے ترانے گاتے ہيں اور تہوار كا موسم ( 6 جنوري ) كو ختم ہوجاتا ہے، اور ان ميں سے بعض كرسمس ٹري كےتنے كو جلاتےہيں پھر غير جلےہوئے حصہ كو محفوظ كرليتے ہيں اور اعتقاد يہ ركھتےہيں كہ يہ جلنا نصيب كو كھينچ ليتا ہے، اور يہ اعتقاد برطانيا، فرانس اور اسكنڈنافي ممالك ميں پايا جاتا ہے.
3 - تہوار الغطاس جو كہ 19جنوري اور قبطيوں كےہاں ماہ طوبہ كي گيارہ تاريخ كومنايا جاتا اور ان كےہاں اس كي اصل يہ ہے كہ يحي بن زكريا عليہما السلام جوان كےہاں يوحنا معدان كےنام سے معروف ہيں انہوں نے مسيح عليہ السلام كواردن كي نہرميں بپتسمہ ( عيسائيوں كےہاں بچےكو غسل دينےكي ايك رسم كانا ہے ) ديا تھا اورجب انہيں غسل ديا تو ان سے روح القدس ملے تھے، تواس لئےعيسائي اپني اولاد كو آج تك پاني ميں غسل ڈبوتےاور سب لوگ جمع ہوكراس ميں اترتےہيں.
مسعودي نےاس تہوار كےمتعلق ذكر كيا ہے كيونكہ يہ تہوار اس كےدور ميں بہت تزك احتشام طريقہ سےمصر كےاندرمنايا جاتا تھا، جس ميں ہزاروں كي تعداد ميں عيسائي اور مسلمان جمع ہو كر دريائے نيل ميں غوطےلگاتےاور ان كا گمان ہے كہ اس طرح بيماريوں سے محفوظ رہا جاتا اور بطورعلاج منترہے اور اسي مفہوم كےمطابق آرتھوڈكس چرچ كےپيروكاريہ تہوار مناتےہيں ليكن كيتھولك اورپروٹسٹينٹ چرچ كےپيروكار اس تہوار كا اور مفہوم ليتےہيں، وہ مفہوم يہ ہےكہ وہ مشرق سےآنےوالے تين اشخاص جنہوں مسيح عليہ السلام كو رضاعت مہيا كي ان كي ياد ميں يہ تہوار مناتےہيں.
اور الغطاس اصل ميں اغريقي كلمہ ہے جس كا معني ظھور ہے اوريہ ايك ديني اصطلاح ہے جو ظھور غير مرئي سےمشتق اور توراۃ ميں بيان ہوا ہے كہ اللہ تعالي نے موسي عليہ السلام كے لئے ايك جلےہوئےدرخت كي شكل ميں تجلي فرمائي، ( اللہ تعالي ان كےقول بلندوبالا اور پاك ہے ) .
سال نوكا تہوار: يہ تہوار ميلادي سال كےآخرميں منايا جاتا ہے، اوراس دور ميں اسےبہت اہميت حاصل ہے، وہ اس طرح كہ عيسائي ممالك اوربعض اسلامي ممالك ميں بھي يہ تہوار منايا جاتاہے، اور يہ تہوار زمين كي ہر جگہ سے باآواز اور باتصوير اسے نشر كيا جاتا ہے اور اخبار اورميگزين اسے صفحہ اول پر جگہ ديتےہيں اور فضائي چينل بھي اسےبڑي اہميت ديتےہيں.
اور اس وقت يہ ملاحظہ كيا جارہا ہے كہ بہت سے مسلمان لوگ جن كے ملكوں ميں يہ عيسائي تہوار نہيں منايا جاتا وہ اس تہوار ميں شركت كے لئے عيسائي ممالك جاتےہيں اور اس ميں ہونےوالے فحش اورحرام كاموں سے فائدہ اٹھانے كي كوشش كرتےہيں اوروہ اس گناہ اور برائي سے غافل ہيں جوكفار كے شعار ميں پائي جاتي ہے.
( 31 ديسمبر ) كےبارہ ميں عيسائيوں كےعجيب وغريب اور باطل اعتقادات اور خرافات پر مبني ہيں اوريہ تہوار بھي اسي طرح خرفات سےبھرا ہوا ہے جس طرح باقي تہواروں ميں خرافات پائي جاتيں ہيں.
اوريہ اعتقادات نئي ترقي ( حضارۃ ) كےمرہون منت ہيں اور ان كےپيدا كردہ ہيں جواپنےآپ كو ترقي يافتہ اور شہري كہتےہيں اور ہماري قوم كے ان منافق صفت لوگوں كےخيالات ہيں جوان عيسائيوں اور غيرمسلموں كےشعار اورعلامات كي اتباع اور پيروي ميں اس طرح برابري كرر ہے جس طرح ايك جوتا دوسرے كےبرابر ہوتا ہے، تاكہ ہم اس كي ضمانت ديں كہ ہم بھي ترقي يافتہ اور شہري زندگي كے دلدادہ ہيں حتي كہ يہ گوري چمڑي اور نيلي آنكھوں والے اس سے راضي ہوجائيں !!
اور ان اعتقادات ميں يہ بھي شامل ہے كہ: جو شخص اس رات نصف شب گزرنے كےبعد شراب كا آخري گلاس پيئےگا اس كےنصيب اچھےہوں گے، اور اگر وہ وہ كنوارہ ہو توشب اس رات بيدار رہنےوالوں ميں اپنےدوست واحباب ميں سب سےپہلےاس كي شادي ہوگي، اور سال نو كےتہوار پر بغير كسي تحفے كے كسي كے گھر ميں داخل ہونا بہت منحوس شمار كيا جاتا ہے، سال نو كےدن گردو غبار كي صفائي كرنےسے اچھےنصيب بھي ختم ہو جاتےہيں، اور اس دن برتن اور كپڑے دھونا بھي نحوست ميں شمار كيا جاتا ہے، اور كوشش كي جاتي ہے كہ سال نوكےتہوار كي رات بھر آگ جلتي رہے اسے اچھےنصيب كي علامت شمار كيا جاتاہے، اس كےعلاوہ اور بہت سي بےہودہ خرافات ہيں.
اس كےعلاوہ بھي عيسائيوں كےكئي ايك تہوار ہيں، جن ميں سےكچھ تو قديم اور كچھ نئےايجاد كردہ ہيں، اوركچھ ايسےتہوار ہيں جوانہوں نے اپنےسے قبل يونانياور روميوں سے ليےہيں، اوركچھ ايسےتہوار ہيں جوان كےدين ميں تھےاورپھرمٹ كرناپيد ہوگئے، اوران تہواروں كچھ تہوار توبڑے اور ان كےليے بہت اہم ہيں اور كچھ ايسےبھي ہيں جو چھوٹےاوركچھ چرچ اورمذہب كے پيروكاروں ميں كم اہميت ركھتےہيں.
اورہر مذہب اورفرقہ والوں كےخاص تہوار ہيں جوان كےچرچوں اور پادريوں اور بشپوں كےساتھ خاص ہيں جودوسرے مذہب كےپيروكار تسليم نہيں كرتے، لھذا پروٹسٹنٹ فرقہ كےپيروكار دوسرے چرچوں كےپيروكاروں كےتہوار كونہ تو تسليم كرتےاورنہ ہي اس پر ايمان ركھتےہيں، ليكن وہ بڑے بڑے تہواروں مثلا ايسٹر ڈے اور ميلاد مسيح عليہ ( كرسمس ڈے ) اور سال نو اور غطاس ( بپتسمہ يعني غوطے لگانےكا ) تہوار ان سب پر متفق ہيں اگرچہ اس ميں كيےجانےوالےكاموں اور شعار ميں اختلاف پايا جاتا ہے، ياپھر بعض اسباب اورتفصيلات اوراس كي جگہ اور وقت كےمتعلق بھي اختلاف پايا جاتا ہے.
فارسيوں كےتہوار:
1 - نوروز كا تہوار: اور نوروز كامعني جديد اور نيا ہے، يہ چھ دن منايا جاتا ہے، جب وہ كسري ( يہ فارسيوں كےبادشاہ كا لقب ہوتا تھا ) كےدور ميں تھے، پہلےپانچ ايام ميں وہ لوگوں كي ضروريات پوري كرتے اور چھٹےاور آخري دن كو اپنےاور اپنےمصاحبين كےلئے مخصوص كرتےاوراس ميں اس ميں انس ومحبت كي مجلسيں قائم كرتےاوراسے نوروز الكبير يعني بڑے نوروز كانا ديتے تھےاوريہ ان كا سب سےبڑا تہوار ہے.
پہلےلوگوں نےذكر كيا ہے كہ سب سےپہلےنوروز كاتہوار حمشيد الملك نے منايا تھا اور اس كےدور ميں ہي ھود عليہ السلام مبعوث ہوئےتھے، اور دين كو بدلا جاچكا تھا، جب حمشيد بادشاہ بنا تواس نے دين كي تجديد كي اور عدل وانصاف كوعام كيا، توجس دن وہ تخت بادشاہي پر براجمان ہوا اسے نوروز كا نام ديا گيا، اورجب سات سوبرس كي عمر كو پہنچا اور اس دوران نہ تو وہ بيمارہوا اور نہ ہي كوئي سردرد اور تكليف ہوئي تو جابر اورسركش ہوگيا، اوراس نےاپنا ايك مجسمہ بنا كر اپنے گورنروں كوبھيجا تا كہ وہ اس كي تعظيم كريں، اورعوام نے اس كي عبادت كرنا شروع كردي اوراس كي شكل جيسےبت بنا لئے، توان پريمن كےعمالقہ ميں سے ضحاك العلواني نے حملہ كركےاسےقتل كرديا جيساكہ تاريخ ميں اس كا ذكر ملتا ہے.
اورفارس كےلوگوں ميں سےكچھ ايسے بھي ہيں جو يہ گمان كرتےہيں كہ نوروز وہ دن ہے جس ميں اللہ تعالي نے نور پيدا فرمايا، اورنوروز كو فارسي سال كا سال نوشمار كيا جاتا ہے، جو كہ گيارہ مارچ كےدن موافق ہے، اوران كےعوام كي عادت تھي كہ اس رات وہ آگ جلاتےاور اس كي صبح پاني چھڑكتےتھے.
اور بہائي فرقےكےلوگ بھي نوروزكاتہوار مناتےہيں، وہ اس لئے كہ ان كےانيس روزوں كي مدت ختم ہوتي ہے جو كہ ( انيس آذار يعني مارچ ) ميں مناتےہيں.
اور قبطيوں كےہاں بھي نوروز منايا جاتا ہے جو كہ سال كا پہلادن ہوتا اور اس كانام بادنسيم سونگھنےكاتہوار ( عيد شم النسيم ) ركھا ہوا ہے، ان كےہاں اس كي مدت بھي چھ يوم ہے جو (6حزيران يعني 6جون ) سے شروع ہوتاہے، اوراس تہوار كا ذكر فرعونوں كےتہواروں ميں بھي گزرچكا ہے، لھذا اس ميں كوئي مانع نہيں كہ يہ قبطيوں كا تہوار ہو اور انہوں فرعونوں كي ثقافت وآثار سےليا ہو اورخاص كر يہ سب مصر ميں ہے.
2 - مہرجان كا تہوار: كلمہ مہرجان ( مہر) اور ( جان ) كا مركب ہے اور اس كا معني وفا كا بادشاہ ہے، اس تہوار كي اصل يہ ہےكہ افريڈن كي ضحاك علواني جس نے حمشيد الملك تہوار نوروز كےباني كو قتل كيا تھا پر فتح اور كاميابي كي خوشي منائي جاتي ہے، اور يہ بھي كہا جاتاہےكہ: موسم خزاں كے اعتدال كا جشن ہے، اس ميں كوئي مانع نہيں كہ جوكچھ پہلےذكر كيا ہے وہي اس تہوار كي اصل ہوليكن موسم خزاں كےاعتدال كا وقت اس جشن كےوقت ہو تويہ اسي موسم ميں منايا جانےلگا، تواس طرح اس تہوار كا جشن ( سرياني مہينہ تشرين الاول كي 26تاريخ ) يعني 26اكتوبر كو منايا جاتا ہے، اور يہ پہلےتہوار كي طرح چھ دن كا ہوتا ہے.
اورچھٹےروز بڑا مہرجان مناتےہيں، وہ اس اور نوروز كےتہوارميں كستوري، عنبر اور عود ہندي اور زعفران، كافور وغيرہ كا ہديہ پيش كرتےاوران دونوں تہواروں ميں اسلام كےاندر ہديہ جات دينےكي يہ رسم سب سے پہلے حجاج بن يوسف ثقفي نےشروع كي، اور اسي طرح جاري رہي حتي كہ عمربن عبدالعزيز رحمہ اللہ تعالي نے اسےختم كيا.
اورسب سے بڑي آزمائش اور مصيبت يہ ہے كہ مسلمان بھي اس وقت اپنے بہت سےاجتماعات اورجشن وخوشيوں اور اجتماعي ثفافتي اور اقتصادي اجتماعات بلكہ حتي كہ دعوتي اجتماعات كو بھي مہرجان كےنام سےموسوم كرنے لگےہيں اور كہاجاتا ہے كہ ثفافتي مہرجان، اورخريدوفروخت كا مہرجان ، اور كتابوں كا مہرجان، اور دعوتي مہرجان، اوراس طرح كےكئي اوراعلانات ديكھنےاور سننےميں آتےرہتےہيں اور ہم بہت سي عبارتيں سنتےہيں جواس بت پرستي والي اصطلاح ( مہرجان ) سےنكلتي ہيں جو كہ آگ كےپجاريوں كا تہوار ہے.
لہذا اس فارسي شعار اورعلامت كا مسلمانوں كےاجتماعات پر اطلاق كرنا جائز نہيں اور اس سےمنع كيا گيا ہے جس كےاستعمال سےاجتناب ضروري ہے، اور اس كےمقابلےميں بہت سےمباح الفاظ اور عبارتيں ہيں جنہيں استعمال كركےاس سےمستغني ہوا جاسكتا ہےجولفظا اور معنا دونوں اعتبار سےاس سےبھي بہتر اور اس سےمستغني كرديتےہيں.
مسلمانوں كا كفار كےتہواروں ميں كفار سےمشابہت كرنا:
تشبہ اورمشابہت كي تعريف:
الشبہ لغت عرب ميں مثل اور شابہہ واشبہہ يعني اس جيسا بنا اور فلاں نے اس طرح اس كي مشابہت اختيار كي، اور كسي دوسرے كےمشابہ ہوا، كام ميں اس كي مماثلت اختيار كي .
اور تشبيہ: تمثيل كو كہتےہيں، اور لغت ميں الفاظ قريب قريب ہيں اس ميں سے ہي ہےكہ: المماثلۃ، المحاكاۃ، المشاكلۃ، الاتباع, الموافقۃ، التاسي, التقليد ان سب الفاظ كےمعني اس لفظ كےساتھ خاص ہيں ليكن لفظ تشبہ ميں يہ سب مشترك ہيں .
اور اصطلاح ميں اس كا معني يہ ہےكہ:
غزي الشافعي نےاس كي اصطلاحي تعريف كرتےہوئےكہا ہے:
تشبہ يہ ہے كہ مشابہت كرنےوالا انسان اس كي مشابہت اختيار كرنے كي كوشش كرتا ہے جس سےمشابہت اختيار كي جارہي ہو، اور اس كي شكل وصورت اور صفات وغيرہ اخيتار كرنا يہ قصدا اور عملا تكلف كےساتھ كيا جاتا ہے.
كفار سےمشابہت اختيار كرنےكاحكم:
ہمارے دين كےعظيم اصولوں ميں ايك عظيم اصول اسلام اور مسلمانوں سےدوستي اور كفر اوركافروں سےدشمني اور برات كااظہار كرنا اصول دين ہے، اور اس برات ودشمني كي حتمي اور فيصلہ كن چيز يہ ہے كہ مسلمان كي كفار سے تميز ہوتي ہے اور وہ ان سےعليحدہ نظر آئے، وہ اپنےدين كےساتھ عزت محسوس كرے اور دين اسلام پر فخركرےچاہےكفار كي حالت كتني بھي زيادہ اچھي اور بہتر نظر آتي ہو اور وہ كتنےبھي طاقتور ہي كيوں نہ نظر آئيں اور وہ كتني ہي ترقي اور حضارۃ اختيار كرليں، اوراس كےمقابلےميں مسلمان كےحالات كتنےبھي كمزور اور ان ميں تفرق ہو، لہذا كسي بھي حالت ميں كفار كي قوت وطاقت اور مسلمانوں كي كمزوري وناتواني كو كفار كي تقليد اور ان كي اتباع وپيروي كا ذريعہ بنانا جائز نہيں، اور نہ اسے كفار كي مشابہت اختيار كرنے كا جواز بنايا جاسكتا ہے،جيسا كہ آج كل كچھ منافق شكست خوردہ قسم كےلوگ اس كي دعوت ديتےپھرتےہيں .
كيونكہ جن نصوص ميں كفار سےمشابہت اختيار كرنےاور ان كي تقليد سے منع كيا ہے ان نصوص ميں كمزوري اور قوت وطاقت كےمابين فرق نہيں كيا گيا اس لئےكہ مسلمان اس بات كي طاقت ركھتا ہے كہ وہ اپنےدن اسلام كےساتھ دوسروں سے مميز اورامتياز ہو اور دين اسلام پر فخر كرے حتي كہ كمزوري اور ترقي پذيري كي حالت ميں يہ كام كرسكتا ہے.
اور اسلام پر فخر اور اس كےساتھ عزت حاصل كرني كي دعوت توہمارے پروردگار اور رب ذوالجلال نےدي ہے اور اسے سب سےبہتر بات اور قول اور بہتر اوراچھا فخر شمار كيا ہے .
فرمان باري تعالي ہے:
{اور اس سےزيادہ اچھي بات والا كون ہے جو اللہ كي طرف بلائے اور نيك كام كرے اوركہے كہ ميں يقينا مسلمانوں ميں سےہوں}حم السجدۃ ( 33 )
اور مسلمان كو كافر سے متميز ہونے كي اہميت كي بنا پر ہي يہ حكم ديا گيا ہے كہ وہ ہر دن كم از كم سترہ بار اللہ تعالي سے يہ دعا كيا كرے كہ اے اللہ مجھے كافروں كےطريقہ اور راستہ سے بچا كرركھ اور اسے صراط مستقيم كي ہدايت نصيب فرما اوراسےاس پر ثابت قدم ركھ:
فرمان باري تعالي ہے:
{ہميں صراط مستقيم كي ہدايت نصيب فرما، ان لوگوں كي راہ جن پر تو نے انعام فرمايا نہ كہ ان لوگوں كي راہ جن پر تيرا غضب نازل ہوا اور نہ ہي گمراہ لوگوں كي راہ }الفاتحۃ ( 6 - 7 ).
اوركتاب وسنت ميں بہت سي نصوص ايسي نصوص ہيں جو كفار سے مشابہت اختيار كرنےسے روكتي اور منع كرتي ہيں، اور يہ بيان كرتي ہيں كہ ايسا كرنا گمراہي اور ضلالت ہے، لھذا جو كوئي بھي كفار كي تقليد اور پيروي كرتا ہے وہ ان كي گمراہي ميں ان كي تقليد اور پيروي كررہا ہے.
ارشاد باري تعالي ہے:
{پھر ہم نے آپ كو دين كي ( ظاہر ) راہ پر قائم كرديا توآپ اسي پر لگے رہيں اور نادانوں كي خواہشوں كي پيروي ميں نہ پڑيں} الجاثيۃ ( 18 )
اور ايك دوسرےمقام پر رب ذوالجلال كا فرمان ہے:
{اور اگر آپ نےان كي خواہشوں كي پيروي كرلي اس كےبعد كہ آپ كےپاس علم آچكا ہے تواللہ ( عذابوں ) سے آپ كو نہ توكوئي حمائتي ملےگا اور نہ ہي بچانےوالا}الرعد ( 37 ) .
اور ايك مقام پر فرمان باري تعالي ہے:
{اورتم ان لوگوں كي طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دليلں آجانے كےبعد بھي تفرقہ ڈالا اور اختلاف كيا انہيں لوگوں كے لئے بڑ عذاب ہے}آل عمران ( 105 ) .
اوراللہ تعالي مومنوں كو اس كي دعوت ديتا ہے كہ اس كےذكر اور قرآن مجيد كي آيات كي تلاوتت كےوقت خشوع اختيار كيا كرو اور اس كےبعد فرمايا:
{اور انكي طرح نہ ہوجائيں جنہيں ان سے پہلے كتاب دي گئي تھي پھر جب ان پر ايك زمانہ دراز گزرگيا تو انكے دل سخت ہوگئے اور ان ميں بہت سے فاسق ہوہيں}الحديد ( 16 ) .
اس ميں كوئي شك نہيں كہ كفار سے محبت ومودت كي سب سے بڑي دليل ان كي مشابہت ہے، اور يہ عقيدہ الولاء والبراء يعني كفار اور كفر سے برات كےعقيدہ كےمخالف اوراس كےنواقض ميں سےہے، اور پھر اللہ تعالي نے تو مومنوں كوكفار سےمحبت اور دوستي كرنےسے منع فرمايا اور ان سےدوستياں اورمحبت كرنا انہيں ميں سےہونےكا سبب قرار ديا ( اللہ اس سےمحفوظ ركھے) اللہ سبحانہ وتعالي ارشاد فرماتاہے:
{اے ايمان والو! م يہود ونصاري كو دوست مت بناؤ يہ تو آپس ميں ہي ايك دوسرے كےدوست ہيں ، تم ميں سے جو كوئي بھي ان ميں سے كسي ايك كےساتھ دوستي كرےگا وہ بےشك انہيں ميں سے ہے، اللہ تعالي ظالموں كو ہرگز راہ راست نہيں دكھاتا}المائدۃ ( 51 )
اور ايك دوسرے مقام پر كچھ اس طرح فرمايا:
{اللہ تعالي پر اور قيامت كےدن پر ايمان ركھنےوالوں كو آپ اللہ تعالي اور اس كےرسول كي مخالفت كرنےوالوں سے محبت ركھتےہوئے ہرگز نہيں پائيں گے اگرچہ وہ انكے باپ يا ان كے بيٹے يا ان كےبھائي يا ان كے كنبہ اور قبيلہ كے عزيزہي كيوں نہ ہوں}المجادلۃ ( 22 ) .
شيخ الاسلام ابن تميمہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
مشابہت باطن ميں محبت ومودت اور دوستي پيدا كرتي ہے، جيساكہ باطن ميں محبت ظاہري طور پر مشابہت پيدا كرتي ہے.
اور سورۃ المجادلۃ كي مندرجہ بالا آيت پر تعليق چڑھاتےہوئے كہتےہيں:
اللہ سبحانہ وتعالي نے خبر دي ہےكہ كوئي بھي ايسا نہيں جو كافر سے محبت كرتا ہو، لھذا جس نےبھي كافر سے محبت كي وہ مومن نہيں. اور ظاہري مشابہت مودت ومحبت كا پيش خيمہ ہےتواس لئےمشابہت حرام ہوگي.
اور نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ انہوں نےفرمايا:
( جس كسي نے بھي كسي قوم سے مشابہت اختيار كي وہ انہي ميں س ہے ) سنن ابو داود كتاب اللباس حديث نمبر (1204 ) مسند احمد ( 2 / 5 ) اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے الاقتضاء ( 1 / 42 ) ميں اس كي سند كو جيد قرار ديا ہے، اور ديكھيں الفتاوي ( 52/ 133 ) اور فتح الباري ( 6 /89) ميں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالي نے اس كي حسن اسناد والي مرسل سےتائيد كي ہےاور سيوطي رحمہ اللہ نےاسےحسن كہا اور علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح الجامع ( 5206 ) ميں اسےصحيح كہاہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ حديث اس كي كم از كم حالت يہ ہےكہ كفار سےمشابہت كي تحريم كا تقاضاكرتي ہے اگرچہ حديث كا ظاہر مشابہت اختيار كرنےوالے كےكفر كا متقاضي ہے. جيسا كہ اللہ تعالي كےاس فرمان ميں ہے:
{اور تم ميں سے جو كوئي بھي ان كےساتھ دوستي لگائے وہ انہيں ميں سے ہے}المائدۃ ( 51 ) . ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 732 ) .
اور امام صنعاني رحمہ اللہ كہتےہيں :
جب لباس ميں كوئي كافر كي مشابہت اختيار كرے اور اس سےوہ يہ اعتقاد ركھےكہ وہ بھي اس جيسا ہوجائےگا تو اس نےكفر كيا، اور اگر وہ يہ اعتقاد نہ ركھےتواس ميں فقہاء كا اختلاف ہے: كچھ تواسے كافر كہتےہيں جو كہ حديث كا ظاہر ہے، اوركچھ كہتےہيں كہ وہ كافر نہيں ہوا، ليكن اسے سزا دي جائےگي .ديكھيں سبل السلام ( 8 / 842 ) .
اور كفار سےمشابہت اختيار كرنے كا موضوع بہت طويل ہے، ليكن ہم نے جوكچھ اوپركي سطور ميں نصوص بيان كي ہيں انشاء اللہ اس ميں ہي كفائت ہے اور مقصد حاصل ہوجاتا ہے.
كفار كےتہواروں ميں كفار كي مشابہت كي چندايك صورتيں:
كفار كي مختلف قوميں اور مذاہب ہونےكي بنا پر ان كےتہوار بھي مختلف اور كئي قسم كےہيں، ان ميں سےكچھ تو ديني اور ان كےدين كےبنيادي تہوار ہيں يا پھر انہوں نےنئےايجاد كرلئےہيں، اور ان كےبہت سے تہوار تو صرف عادات اور مختلف مواقع كي طور پرہيں جن كي بنا پر انہوں نے يہ تہوار ايجاد كرلئےمثلا قومي تہوار وغيرہ ان كےتہواروں كي اقسام انواع كوذيل ميں پيش كرتےہيں:
اول: ديني تہوار جنہيں وہ اللہ تعالي كا قرب حاصل كرنے كےلئے مناتے ہيں، مثلا: غطاس ( يعني غوطےلگانےكا تہوار) اور ايسٹرڈے، اور ميلاد مسيح ( كرسمس ) وغيرہ اس ميں مسلمان كي مشابہت دو طرح سےہے:
1 - مسلمانوں كا اس ان تہواروں ميں شريك ہونا، مثلا اگر بعض گروہ اور غيرمسلم اقليات مسلمانوں كےملك ميں اپنےيہ تہوار منائيں تو اس ميں بعض مسلمان شريك ہوں جائيں، جيسا كہ شيخ الاسلام ابن تيمہ اور امام ذہبي رحمہ اللہ كے دور ميں ہوا، اور اس وقت بھي بہت سے مسلمان ممالك ميں ہو رہا ہے، اور اس سےبھي زيادہ قبيح حركت يہ ہےكہ كچھ مسلمان ان تہواروں ميں شركت كرنے كےلئے كفار ممالك جاتےہيں، چاہے اس شركت كا سبب شھواني ہو يا پھر بعض كفار كي دعوت قبول كرتےہوئے، جيسا كہ كفار ممالك ميں بسنے والےبعض مسلمان ان كي دعوت قبول كرتے ہوئے ان تہواروں ميں شركت كرتےہيں، اورجس طرح بعض بڑي كمپنيوں كےمالك اور بڑے تاجر حضرات ان كي دعوت دينے والے كا خيال ركھتےہوئےيا پھر كسي دنياوي مصلحت كے پيش نظر ان كي دعوت قبول كرتےہيں، مثلا تجارتي معاہدےوغيرہ.
تويہ سب حرام ہے اور ڈر ہے كہ كہيں مندرجہ ذيل حديث كي بنا پركفر تك نہ لےجائے:
" جس نے بھي كسي قوم سےمشابہت اختيار كي وہ انہي ميں سے ہے"
اور ايسا كرنے والے نے ايسي چيز ميں شريك ہونے كا قصد كيا ہے جو ان كا ديني شعار اور علامت ہے.
2 - ان كےيہ تہوار مسلمان ممالك منتقل كرنا: جو كوئي شخص بھي كفار ممالك ميں ان كےتہواروں ميں شريك ہوتا رہا اور اسےاپني جہالت اورايماني كمزوري اور قلت عمل كي بناپر ان كےيہ تہوار پسندآئےاور اچھےلگےتواس وجہ سے وہ ان ميں سےكچھ تہوار اور ديني شعار مسلمانوں كےملك ميں منتقل كر دے، جيسا كہ اس وقت بہت سے مسلمان ممالك ميں ميلادي سال كےسال نو كا تہوار منايا جارہا ہے، تويہ قسم پہلي قسم سے بھي زيادہ قبيح ہے اس وجہ سے كہ انہوں نےان تہواروں ميں شريك ہونےپر ہي بس نہيں كي بلكہ ان تہواروں كو مسلمان ممالك ميں بھي منتقل كرنا چاہتےہيں.
دوم:
وہ تہوار جواصلا كفار كےشعار ميں سےتھےاور پھر عالمي عادات اور جشن وتقريبات ميں بدل گئے، مثلا يونانيوں كےہاں اولمپك كا تہوار، جيسا كہ اس وقت يہي ظاہر ہوتا ہے كہ يہ عالمي كھيلوں كےمقابلے ہيں، تواس ميں مشاركت دو وجہوں سےہے:
1 - كفار ممالك ميں اس كي تنظيمات اورسركلراورشعار ميں حاضر ہونا جيسا كہ اس وقت بہت سےاسلامي ممالك مختلف كھيلوں ميں حصہ لينے كے ليےوفد روانہ كرتےہيں.
2 - ان تہواروں كو مسلمان ممالك ميں منتقل كرنا، مثلا اگر كچھ اسلامي ممالك اولمپك كھليں اپنےملك ميں منعقد كروانا چاہيں.
دونوں معاملے ان ميں شركت يا پھر انہيں مسلمان ممالك ميں منعقد كروانا مندرجہ ذيل اسباب كي بنا پرحرام ہيں:
ا ـ اصل ميں يہ اولمپك كھيليں بت پرستي والا تہوار ہے جو كہ يونانيوں كےتہوار ميں سے ايك تہوار تھا جيسا كہ اوپر بيان كيا جا چكا ہے، اور امت يونان كےہاں يہ تہوار سب سےعظيم اور اہم تھا، اور پھر يونانيوں سے روميوں اور ان سے عيسائيوں وراثت ميں حاصل كيا.
ب - يہ ذاتي طور پر اس نام سے موسوم ہے جو يونانيوں كےتہوار كےطور پر معروف تھا.
اور اس كا صرف كھيلوں كےمقابلوں ميں تبديل ہوجانا اس كےاصلا بت پرستي كا تہوار ہونے كو ختم نہيں كرديتا، اس كي دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:
ثابت بن ضحاك رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےدور ميں ايك شخص نے نذر ماني كا وہ بوانہ نامي جگہ پر اونٹ ذبح كرےگا، تو وہ شخص نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےپاس آيا اوركہنےلگا ميں نے بوانہ ميں اونٹ ذبح كرنے كي نذر ماني ہے تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
كيا وہاں جاہليت كےبتوں ميں كوئي بت تھا جس كي عبادت كي جاتي تھي؟ تو صحابہ نےجواب ديا نہيں، تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: كيا وہاں كوئي ان كےتہواروں ميں سے كوئي تہوار منايا جاتا تھا؟ تو صحابہ كرام نےجواب ديا نہيں، تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
اپني نذر پوري كرو كيونكہ اللہ تعالي كي معصيت ونافرماني ميں نذر پوري نہيں اور نہ ہي اس ميں جس ابن آدم مالك ہي نہ ہو.
اسے ابوداود نے كتاب الايمان والنذور ( 3133 ) ميں روايت كيا ہے، اور ايك روايت ميں ہے كہ: سوال كرنےوالي عورت تھي ( 2133) اور طبراني نے طبراني الكبير ( 1431 ) روايت كي ہے.
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ سند صحيحين كي شرط پر ہے اوراس كي سند كےسب رجال ثقہ ہيں اور يہ سند عنعنۃ كےبغير متصل ہے، ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 634 ) اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالي نےبلوغ المرام (5041 ) ميں اسےصحيح كہاہے.
تونبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے اصل كا اعتبار كيا، اوراس كھيلوں كے مقابلےاولمپك كي اصل بھي ايك بت پرستوں كا تہوار ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ اس بات كا تقاضا كرتا ہے كہ اس مكان كا مشركوں كےتہواركي جگہ ہونا وہاں ذبح كرنے ميں مانع ہےاگرچہ اس نےنذر بھي مان ركھي تھي، اسي طرح اس كا بتوں والي جگہ ہونا بھي مانع ہے، وگرنہ كلام منظم اوراچھي طرح تفصيل طلب نہ كرتے، اور يہ تو معلوم ہي ہے كہ يہ اس جگہ كي تعظيم كي بنا پر تھا جس كي تعظيم وہاں تہوار مناكر كرتےيا وہاں تہوار ميں ان كي شركت يا ان كے تہوار كےشعار كوزندہ كرنےكےلئے، اور اس طرح جبكہ فعل كي جگہ يا بنفسہ فعل يا اس كےوقت كےعلاوہ كچھ نہيں .... ، اور جب ان كےتہوار كي جگہ كي تخصيص ممنوع ہے، توپھر ان كا تہوار كيسا ہوگا؟ " ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 344 ) .
يہاں ہمارامسئلہ اولمپك كےتہوار كي جگہ يا وقت نہيں بلكہ وہ بعنيہ تہوار ہے جو اصل نام سےموسوم ہے اور اس ميں جوكچھ ہوتا ہے مثلا اولمپك مشعل جلانا جو كہ اس تہوار كا ايك شعار اورعلامت ہے اوريہ اس كا وقت بھي ہے كيونكہ يونانيوں كےہاں ہر چار برس بعد يہ تہوار منايا جاتا تھا، اور اسي طرح آج اولمپك كھيليں بھي ہر چار سال بعد منعقد كي جاتي ہيں، لھذا يہ اپنے اصل اور نام اور وقت كےاعتبار سے تہوار ہي ہے اور اس ميں شركت كرني بت پرست تہوار اورپھر عيسائي تہوار ميں شركت ہے، اور اولمپك كھيلوں كے مقابلے كسي مسلمان ملك ميں منعقد كروانےكا مطالبہ اس بت پرست تہوار كو مسلمان ممالك ميں منتقل كرنا ہي ہے.
سوم:
كفار نےجن ايام اور ہفتوں كوايجاد كيا ہے ان كي دو قسميں ہيں:
1 - جن كي ان كےہاں ديني اعتبار سےاصل ملتي ہےاورپھروہ عادت ميں بدل چكےہيں جن كےساتھ كوئي دنياوي مصلحت مرتبط ہے، اس كي مثال مزدوروں كا عالمي دن جو كہ درخت كےپجاريوں نےايجاد كيا تھا، اور پھر روميوں كےہاں يہ بت پرستي كا تہوار بن گيا اور پھر فرنسيوں ميں منتقل ہو كر چرچ سے وابستہ ہوا جتي كہ اشراكيت كا دور دورا ہوا تو اس نے اس كي دعوت ديني شروع كي اور يہ عالمي اور سركاري دن بن گيا، حتي كہ بہت سے اسلامي ممالك ميں بھي سركاري دن بن چكا ہے، لھذا اسےتہوار بنا كراور كام بند كركے چھٹي كرنےكي حرمت ميں كوئي شك نہيں :
ا ـ اس كا اصلا ايك ديني اور بت پرست تہوار ہونا.
ب ـ اس كا سال ميں ايك معين دن يكم مئي ثابت ہونا.
ج ـ كفار كےخصائص ميں ان كي مشابہت كي علت كا پايا جانا.
2 - اس تہوار كي دين ميں كوئي اصل نہ ہو، مثلا صحت كا عالمي دن، اور نشہ ختم كرنےكا عالمي دن، اور ناخواندگي ختم كرنے كاعالمي دن، اس طرح كےدوسرے ايام اور ہفتےجونئےايجاد كيےگئےہيں. تويہ بھي دوحالتوں سےخالي نہيں:
ا ـ يہ كہ وہ دن يا ہفتہ عالمي طور پر سال ميں معلوم ہو، اور ہرسال اسي دن ہوتا ہو جيسا كہ بنكوں كا عالمي دن، اور اس طرح كےدوسرے ايام جو منائےجاتےہيں، اس ميں دو علتيں ہيں:
ـ وہ دن ثابت ہو اور ہرسال بعينہ اسي دن آئے .
ـ كفار سےمشابہت كي علت اس لئےكہ اس كي ايجاد انہوں نےكي ہے.
اور كيا ان عالمي دنوں جن ميں انسانيت كےلئےخيروبھلائي ہے كيا اس كي اجازت دي جاسكتي ہے، اور ميں كوئي مفر نہيں كہ مسلمان دنيا كےساتھ ان ايام ميں شريك ہوں جبكہ ان كي عدم مشاركت سے ان كي مصلحت فوت ہوجائے گي مثلا صحت كا عالمي دن، اور نشہ كےخلاف عالمي دن، جو كہ ديني طور پر نہيں بلكہ تنظيمي طور پر ہيں، اگرچہ ان ميں تہوار كي صفات پائي جاتي ہيں كہ ہر برس آتا اور جمع ہونا، اورخوشي كرنا، مجھےتويہي لگا ہے كہ اس ميں بحث اوراجتھاد ہواور مصلحتوں اور فساد كو سامنےركھيں، كيونكہ اس ميں مسلمانوں كو كسي مشورہ كا حق نہيں اور نہ ہي ان كي رائے كا اعتبار كيا جاتا ہے، بلكہ پوري دنيا پر ٹھونس ديا گيا اورجيسا كہ معلوم ہےكہ مسلمان كمزور ہيں.
ب ـ كہ سال ميں كوئي دن يا ہفتہ ثابت نہ ہو بلكہ وہ كسي مصلحت يا معين نظم كےتحت منتقل ہوتا رہے، تواس سے تہوار كي علت ختم ہوجاتي ہے جو كہ ايك محدد اور معين دن ميں آناہے، ليكن اس ميں ايك علت مشابہت باقي ہے، اگر تو يہ كفار كي ايجاد ہے اور پھر مسلمانوں ميں منتقل ہوئي تو كيا يہ حرام مشابہت ميں شامل ہے؟ يا كہ حلال مشابہت ميں تويہ اداري ترتيب وتنظيم كي طرح اور كمپنيوں اور انجنسيوں كےسالانہ حساب وكتاب كےدن كي طرح ہوگا؟
يہ بھي محل نظرميں ہے، اگرچہ مجھےابتدائي طور پر يہ ظاہرہوتا ہے كہ اس ميں كوئي حرج نہيں اس كي وجوہات مندرجہ ذيل ہيں:
ـ يہ كسي ايك معين دن ميں ثابت نہيں كہ جب بھي وہ دن آئے تويہ بھي منايا جائے، تواس طرح تہوار كي علامت ختم ہوگئي.
ـ انہيں تہوار كا نام نہيں ديا جاتا، اور نہ ہي جمع ہونےكےاعتبار سے تہوار كي صفت پائي جاتي ہے.
ـ اس كا ہدف راہنمائي اور نفع مند اہداف حاصل كرنےہيں.
ـ اس كےمنع كرنے سے بہت سےاجتماعات جو كہ وقتا فوقتا آتےرہتےہيں ان كا منع كرنا لازم آئےگا، ميرے خيال ميں ايسا كوئي نہيں كہتا، مثلا خانداني اور دعوتي، اورملازمتي اجتماعات وغيرہ.
اس ميں كوئي ايسي علت نہيں جواسے حرام كرے سوائےاس كےيہ اصلا كفار كي جانب سے ہيں اور مسلمانوں ميں منتقل ہوئےہيں، اوريہ مصيبت عام ہوچكي اور كفار وغيركفار كےہاں پھيل چكےہيں، لہذا مسلمانوں ميں پھيل جانےكي بنا پر كفار كي خصوصيت ختم ہوچكي ہے.
خلاصہ يہ ہےكہ: يہ كفار كےدين اور ان كےاعتقادات ميں سےنہيں اور نہ ہي ان كي عادات اور خصائص اور عرف ميں سےہيں اورنہ ہي اس ميں تعظيم اور اجتماع پايا جاتا ہے، اور نہ ہي يہ معلوم ايام كےتہوار ہيں كہ جب بھي يہ ايام آئيں تو يہ تہوار بھي آئيں، تويہ ان سب نظموں كےمشابہ ہوئے جن ميں كوئي مصلحت پائي جاتي ہو.
چہارم:
كفار سےمشابہت كي صورتوں ميں سےايك صورت يہ بھي ہے كہ: مسلمانوں كےتہوار ايسي اشياء سےبدل جائيں جوكفار كےتہواروں سےمشابہ ہوں: اس لئےكہ مسلمانوں كےتہواروں ميں يہ امتياز ہے كہ يہ شعار ہيں اور اللہ تعالي كےشكر اور اس كي تعظيم اوراطاعت وفرمانبرداي پر دلالت كرتےہيں، اور اس كےساتھ ساتھ اس ميں اللہ تعالي كي نعمت پر خوشي ہوتي اور اس نعمت كو اللہ تعالي كي معصيت اور نافرماني ميں صرف نہيں كيا جاتا، اور اس كےبرعكس كفار كےتہوار كا امتياز يہ ہےكہ ان ميں ان كےباطل شعار اور ان كے بتوں كي تعظيم ہوتي ہے جن كي وہ اللہ تعالي كےعلاوہ عبادت كرتےہيں، اور اس كےساتھ ساتھ حرام شھوت ميں منہمك ہوتےہيں .
اور انتہائي افسوس كےساتھ كہنا پڑتا ہے كہ: بہت سےعلاقوں ميں مسلمانوں نےاس ميں كفار سےمشابہت اختيار كرلي ہے، اور اپني عيدوں كو اللہ تعالي كي اطاعت وفرمانبرداي اور شكر سےبدل كر معصيت ونافرماني اور اللہ تعالي كي نعمتوں كي ناشكري كےموسم بنا لئےہيں ، وہ اس طرح عيد الفطر اور عيد الاضحي دونوں كي راتوں كو موسيقي اور گانوں اور فسق وفجور اور مرد وعورت كي مخلوط مجالس قائم كركےبسر كرتےہيں، اور اس كےعلاوہ جوكچھ وہ عيد كي خوشي گردانتےہيں جيسےكفار اپنےتہواروں ميں فسق وفجور كرتےہيں.
كفار كےتہواروں سے اجتناب كرنا واجب ہے:
ا ـ ان تہواورں ميں جانےسےاجتناب:
اہل علم كا كفار كےتہواروں ميں شركت كرنےاور اس ميں كفار سےمشابہت اختيار كرنے كي حرمت پر اتفاق ہے، احناف ، مالكيہ، اورشافعي، اور حنابلہ كا يہي مذہب ہے .
ديكھيں: الاقتضاء ( 2/ 425 ) احكام اہل الذمۃ لابن قيم ( 2 / 227-527 ) اور التشبہ المنھي عنہ في الفقہ الاسلامي ( 533 ).
اس كي حرمت كےدلائل بہت زيادہ ہيں جن ميں سےكچھ ذيل ميں ذكر كئےجاتےہيں:
1 - مشابہت اختيار كرنے كي نہي كےجتنےبھي دلائل ہيں جن ميں سے كچھ كا مندرجہ بالا سطور ميں ذكر ہو چكا ہے.
2 - صحابہ اور تابعين كرام كےدور ميں اس ميں حاضر نہ ہونےپر اجماع منعقد ہوچكا ہے، اوراجماع كي دليل دو وجہ سےہے:
ا ـ يہ كہ يہودي ، عيسائي اورمجوسي ابھي تك مسلمانوں كےعلاقوں ميں جزيہ دے كر رہتےاور اپنےتہوار مناتےہيں، اور وہ جوكچھ كرتےہيں بہت سے نفسوں ميں قائم ہے، پھر پہلےدور ميں كوئي مسلمان اس ميں سے كسي بھي تہوار ميں شركت نہيں كرتےتھے، اور اگر امت مسلمہ كےدلوں ميں اس كي كراہت اور نہي كا قيام نہ كيا جاتا توايسا بہت زيادہ ہوتا، جبكہ فعل كىتقاضے كي موجودگي اور اس كےعدم نفي كےساتھ لامحالہ واقع ہوتا اور مقتضي واقع ہوا ہے، تومانع كي موجودگي معلوم ہوگئي اور يہاں مانع دين ہے اور يہ معلوم ہوا كہ دين دين اسلام ہے اور وہي موافقت ميں مانع ہے اور وہي مطلوب ہے. ديكھيں: الاقضاء ( 1 / 454 ) .
ب ـ عمررضي اللہ تعالي عنہ كي شروط جن پر صحابہ كرام اور ان كےبعد فقہاء متفق ہيں كہ اہل كتاب ميں سےذمي لوگ دالاسلام ميں اپنےتہوار ظاہر نہيں كريں گے.
لھذا جب مسلمان انہيں مسلمان ملك ميں تہوار ظاہر كرنےسےمنع كرنےپرمتفق ہيں، توپھر مسلمانوں كا ان تہواروں كومنانا كيسےجائز ہوسكتا ہے؟ كيا مسلمان كا يہ فعل كافر كےفعل سےزيادہ سخت مظہر نہيں ہوگا؟ ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 454 ) .
3 ـ عمر رضي اللہ تعالي عنہ كا يہ قول:
عجميوں كي زبان نہ سيكھو، اورنہ ہي مشركوں كےتہوار كےموقع پر ان كےچرچوں ميں نہ جاؤ كيونكہ ان پر اللہ كي ناراضگي نازل ہوتي ہے.
ديكھيں: مصنف عبدالرزاق ( 9061 ) سنن الكبري للبيھقي (9 / 432 ) .
4 ـ عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالي عنہما كا قول ہے:
جس نےعجميوں كےملكوں ميں عمارت بنائي اور ان كا نوروز اور مہرجان تہوار منائےاور ان سےموت تك مشابہت اختيار كي تو قيامت كےروز انہي كے ساتھ اٹھائےجائيں گے.
ديكھيں: سنن الكبري ( 9 / 432 ) ابن تيميہ نےالاقتضاء ( 1 / 854 ) ميں اسے صحيح كہا ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
عمر رضي اللہ تعالي عنہ نےان كي زبان سيكھنےاور صرف ان كےتہوار كے موقع پرگرجوں ميں داخل ہونےسےمنع كيا ہے، توپھر ان كےبعض افعال كيسے كيے جاسكتےہيں، يا پھر ايسےكام كرنے جوان كےديني تقاضوں كےمطابق ہيں؟
كيا عمل ميں ان كي موافقت كرنا زبان كي موافقت سےبڑھ كرنہيں ہے؟ كيا ان كےتہوار كےكچھ اعمال سرانجام دينے ان كےتہوار والے دن گرجےميں داخل ہونےسے زيادہ بڑا كام نہيں؟
اوران كےتہوار كے دن ان كےاعمال كي وجہ سے ان پر ناراضگي كا نزول ہوتا ہے تو پھر جو كوئي بھي ان كےاعمال يا كچھ اعمال ميں شريك ہو تو كيا اس نےاپنےآپ كو اس سزا كا مستحق نہيں كيا ؟ ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 854 )
شيخ الاسلام عبداللہ بن عمرو رضي اللہ تعالي عنہما كےقول پر تعليق كرتےہوئےكہتےہيں:
اور يہ اس بات كامتقاضي ہےكہ ان مجموعي امور ميں مشاركت كي وجہ سے اسےكافر بنا ديا، يا پھر اسےكبيرہ گناہ كا مرتكب بنا ديا جو كہ آگ كو واجب كرديتا ہے اگر پہلا اس كےلفظ سےظاہرہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 954 )
ب ـ كفار كےافعال ميں ان كي موافقت سےاجتناب كرنا:
بعض مسلمان كفاركےتہواروں ميں تو شريك نہيں ہوسكتےليكن وہ اس جيسے ہي اعمال كرتےہيں جووہ تہواروں ميں كرتےہيں، اور يہ بھي مشابہت ميں سےہي ہے جو كہ حرام اور مذموم ہے .
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں: مسلمانوں كے لئےان اعمال ميں سے كوئي عمل كرنا بھي حلال نہيں جو كفار كےتہواروں كےساتھ خاص ہيں، نہ تو كھانےاور لباس ميں اور نہ ہي غسل اور آگ جلانا اور نہ ہي اس دن كام بند كرنےيا پھر عبادت وغيرہ كرنا، اور نہ ہي وليمہ كرنا اور تحفےتحائف دينے اور اس تہوار ميں ممد ومعاون اشياء فروخت كرنا بھي حلال نہيں، اور نہ ہي بچوں كووہ كھيل كھيلنےكي اجازت ديني چاہئے جو وہ اپنےتہواروں ميں كھيلتےہيں اور نہ مجمل طور پر زينت كا اظہار كرنا، اور ان كےلئے جائزنہيں كہ وہ ان كے تہواروں كو ان كےكسي بھي شعار كےساتھ خاص كريں، بلكہ مسلمانوں كےہاں كفار كےتہوار بھي عام ايام جيسے ہي ہونےچاہئے.
ديكھيں: مجموع الفتاوي ( 52 / 923 ) .
امام ذہبي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
لھذا جب عيسائيوں اور يہوديوں ميں سےہرايك كا تہوار خاص اور عليحدہ ہو تواس ميں مسلمان شريك نہيں ہوگا، جس طرح مسلمان ان كےقبلہ اور شريعت ميں شريك نہيں اسي طرح اس ميں بھي شريك نہيں.
ديكھيں: تشبيہ باہل الخسيس، بحوالہ مجلۃ الحكۃ عدد نمبر (4 ) صفحہ نمبر ( 391 ) .
اور ابن تركماني حنفي نے مجموعي طور پر وہ اعمال ذكر كئےہيں جو مسلمان لوگ عيسائيوں كےتہوار ميں كرتےہيں، خرچہ زيادہ كرنا، اور بچوں كو باہر گھمانا پھرانا، اور يہ ذكر كرنےكےبعد ابن تركماني كہتےہيں:
بعض حنفي علماء كا كہنا ہے: جو كچھ بيان كيا گيا ہے جس نےيہ كام كيا اور توبہ نہ كي تووہ كافر اور ان جيسا ہي ہے، اور امام مالك رحمہ اللہ تعالي كے بعض اصحاب كا كہنا ہےكہ: جس نے نوروزكےدن تربوز توڑا گويا كہ اس نے خنزير ذبح كيا . ديكھيں: اللمع في الحوادث والبدع ( 1 / 492 ) .
ج ـ ان سواريوں سےاجتناب كرنا جن پر وہ سوار ہو كران تہواروں ميں جاتےہيں:
امام مالك رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں: " ان كےساتھ ان كشتيوں ميں سوار ہونا مكروہ ہے جن ميں سوار ہو كروہ تہوار ميں شركت كرنےجاتےہيں، كيونكہ ان پر غضب اور لعنت نازل ہوتي ہے" ديكھيں: اللمع في الحودث والبدع ( 1 / 492 ) .
ابن قاسم رحمہ اللہ تعالي سے ان كشتيوں ميں سوار ہونےكےمتعلق پوچھا گيا جن ميں عيسائي سوار ہو كراپنےتہواروں ميں جاتےہيں، تو انہوں نے اسے ناپسند كيا كہ كہيں ان كےشرك كي بنا بر جس پروہ جمع ہوئےہيں ان پر غضب نازل ہوتا ہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 625 ) .
د ـ ان كے تہواروں انہيں تحفےنہ دينا يا خريد وفروخت كر كےان كےتہواروں ميں ان كي معاونت كرنا:
ابوحفص حنفي رحمہ اللہ كہتےہيں:
جس نےبھي اس تہوار ميں مشرك كواس تہوار كي تعظيم كرتےہوئے انڈا ديا اس نےاللہ تعالي كےساتہ كفر كا ارتكاب كيا. ديكھيں فتح الباري لابن حجر عسقلاني رحمہ اللہ ( 2 / 315 ) .
اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتےہيں:
ابن قاسم نے اسےمكروہ جانا ہےكہ مسلمان شخص كسي عيسائي كو ان كےتہوار كےموقع پر كوئي تحفہ يا تحفے كا بدلا دے، اور اسے ان كےتہوار كي تعظيم اور ان كے كفي كي مصلحت پر كفار كا تعاون گردانا ہے، كيا آپ يہ نہيں ديكھتےكہ مسلمانوں كےلئے ان كےتہواروں ميں استعمال ہونےوالي كوئي بھي فروخت كرني جائز نہيں، نہ توانہيں گوشت اور نہ ہي سالن اور نہ لباس اور كپڑے فروخت كيےجاسكتےہيں، اور نہ ہي انہيں كوئي سواري وغيرہ عاريتا ديني جائز ہے جسےوہ اپنےتہوار ميں استعمال كريں اوران كےتہوار كےليئے كوئي بھي ايسي چيز ديني جائز نہيں جو ان كےتہوار كےلئےممد ومعاون ثابت ہوتي ہو، كيونكہ يہ ان كےشرك كي تعظيم اور ان كےكفر پر معاونت ہے، اور مسلمان حكمرانوں كو چاہئے كہ وہ مسلمانوں كوايسا كرنے سےروكيں، امام مالك وغيرہ رحمہ اللہ كا يہي قول ہے، ميرے علم ميں نہيں كہ اس ميں كوئي اختلاف كيا گيا ہو. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 625 - 725) .
اور ابن تركماني رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
ان كي تقريبات اور تہوار ميں مسلمان ان كےساتھ بيٹھنےاور ذبح اور كھاناتيار كرنےاور انہيں عاريتا سواري وغيرہ مہيا كرنے پر گنہگار ہوگا. ديكھيں: اللمع في الحوادث ( 1 / 492 ) .
ھ ـ كفار كےتہواروں ميں مشابہت اختيار كرنےوالے مسلمان شخص كي مشابہت اختيار كرنےميں مدد ومعاونت كرني:
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
جس طرح ہم ان كےتہواروں ميں ان كي مشابہت نہيں كرسكتےاسي طرح اس ميں مشابہت اختيار كرنےوالےمسلمان شخص كي معاونت اور مدد بھي نہيں كي جاسكتي، بلكہ اس سےمنع كيا جائےگا، لھذا جس نےبھي خلاف عادت ان كےتہواروں ميں دعوت كي تواس كي يہ دعوت بھي قبول نہيں كي جائےگي، اور مسلمانوں ميں سےجس نےبھي اس تہوار كےعلاوہ باقي بھي باقي اوقات ميں خلاف عادت ان تہواروں كےموقع پر كوئي تحفہ اور ہديہ وغيرہ ديا اس كا تحفہ بھي قبول نہيں كيا جائےگا، اور خاص كر جب يہ تحفہ ايسا ہو جس ميں ان كفار سےمشابہت ہوتي ہو، جيساكہ ہم بيان بھي كرچكےہيں، اور اسي طرح مسلمان كسي دوسرے مسلمان شخص كو كوئي ايسي چيز مثلا لباس ، كھانا، وغيرہ فروخت نہ كرے جس سے ان كےساتھ مشابہت اختيار كرنےميں تعاون اور مدد لي جاتي ہو، اس لئےكہ ايسا كرنا برائي ميں تعاون ہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 915 - 025 ) .
د ـ كفار كو ان كےتہوار كي مباركباد دينا:
ابن قيم رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
كفركےساتھ مختص شعار كي مباركباد دينا بالاتفاق حرام ہے، مثلا ان كے تہواروں اور ان كےروزے كي مبارك ديتےہوئےيہ كہا جائےكہ" آپ كوعيد مبارك ہو" يا آپ اس عيد سےخوش ہوں وغيرہ مباركبادي كےالفاظ ادا كرنے، مباركباد دينا والا اگركفر سے بچ جائےگا ليكن ايسا كرنا حرام ہے اوريہ ايسے ہي ہے كہ جيسےكسي شخص كو صليب كےسامنےسجدہ كرنےكي مباركباد دي جائے، بلكہ اللہ تعالي كےہاں تويہ شراب نوشي اور قتل كرنےزنا كاري كرنےكي مباركباد دينے سےبھي بڑھ كرناراضگي اور غضب والي چيز ہے .
بہت سےايسےلوگ جنہيں دين كي كوئي قدر نہيں وہ ان كاموں ميں پڑ جاتےہيں اور انہيں اس فعل كي قباحت اور برائي كا علم تك نہيں ہوتا، لھذا جس نےبھي كسي كو كسي برائي يا بدعت يا كفر كرنےپر مباركباد دي تواس نے اپنے آپ كو اللہ كےغضب اورناراضگي كا مستحق ٹھرايا، اہل علم ميں اہل ورع اورتقوي والے لوگ ظالم قسم كےلوگوں كو گورنري اور جاہل قسم كےلوگوں كو منصب قضاء اور فتوي اور تدريس وغيرہ دينےكامنصب حاصل ہونے كي مباركباد دينےسےاجتناب كرتےتھےتا كہ اللہ تعالي كي ناراضگي اور غضب سےبچا جاسكے اور ان كي آنكھوں سےگرنےسےبچ سكيں. اھ ديكھيں احكام اہل الذمۃ ( 1 / 144 - 244 ) .
كفار كوان كےديني تہواروں كي مباركباد دينا حرام ہےاس وجہ كہ ابن قيم رحمہ اللہ تعالي نےذكر كيا ہےكہ:
ايسا كرنےميں اس بات كا اقرار اور رضامندي ہے كہ جس دين اور گمراہي پروہ ہيں وہ صحيح ہے اگرچہ وہ اپنے لئے اس كفر پر راضي نہيں، ليكن مسلمان پر حرام ہےكہ وہ كفر كےشعار پر راضي ہو اور اس كي كسي دوسرے كو مباركباد دے ، كيونكہ اللہ تعالي اس سےراضي نہيں ہوتا جيسا كہ مندر جہ ذيل فرمان ميں اللہ تعالي نےارشاد فرمايا:
{اگر تم كفر كروگے تو ياد ركھو اللہ تعالي تم سب سےبےنياز ہے اور وہ اپنے بندوں كےلئے كفر پر راضي نہيں ہوتا اور تم شكر كرو گے تو وہ تمہارے لئےراضي ہوگا} الزمر ( 7 ) .
{آج ميں نے تمہارے دين كو كامل كرديا ہے اور تم پر اپنا انعام بھرپور كرديا ہے اورتمہارے لئے اسلام كےدين ہونےپر رضامند ہوگيا} المائدۃ ( 3 )
اور كفار كواس كي مباركباد ديني حرام ہے، چاہے وہ اس كےساتھ ملازمت كرتےہوں يا نہ اور جب وہ ہميں اپنےتہواروں كي مباركباد ديں تو ہم اسےقبول نہيں كرينگےاور جواب نہيں دينگے، كيونكہ يہ ہمارے تہوار اور عيديں نہيں ، اور اس لئےكہ يہ تہوار ايسےہيں جن پر اللہ تعالي راضي نہيں ہوتا، اس لئے كہ يا تو يہ تہوار ان كےدين ميں بدعات اور نئےايجاد كردہ ہيں، يا پھر مشروع ، ليكن يہ سب دين اسلام جس كو دے كر اللہ تعالي نے محمد صلي اللہ عليہ وسلم كو سب انسانيت كےلئے مبعوث فرمايا اس دين كےساتھ منسوخ ہوچكےہيں، اور اسي كےبارہ ميں اللہ تعالي كا ارشاد ہے:
{اور جو كوئي بھي دين اسلام كےعلاوہ كوئي اور دين تلاش كرے گا اس كا وہ دين قبول نہيں كيا جائےگا اور وہ آخرت ميں نقصان اٹھانےوالوں ميں سے ہو گا} آل عمران ( 85 ) .
اور اس تہواروں كي مناسبت سے كي جانےوالي دعوتيں بھي مسلمان كے لئے قبول كرنا حرام ہيں ، اس لئےكہ يہ مباركباد دينےسےبھي بڑي چيز ہے كيونكہ اس سے ان كےتہوار ميں مشاركت ہوتي ہے اورجس نےبھي ايسا كيا وہ گنہگار ہوگا چاہے اس نے يہ كام كسي كا لحاظ ركھتےہوئےكيا يا پھر محبت اور حياء كي بنا پر ياكسي اور سبب كي وجہ سے، كيونكہ اللہ تعالي كےدين ميں مداہنت اور مل ملا كر كام كرنےميں كفار كو تقويت حاصل ہوتي ہے اور وہ اپنے دين پر خوش ہوتے اور فخر محسوس كرتےہيں .
ديكھيں: مجموع فتاوي ورسائل فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين جمع وترتيب فہد سلمان ( 3 / 54 - 64 ) .
مسئلۃ:
اگر كوئي مسلمان اس طرح كا جشن منانا چاہے ليكن ان كےتہوار سے پہلے يا بعد ميں منائےتاكہ ان سےمشابہت نہ ہو؟
جواب : يہ بھي مشابہت كي ايك قسم ہے جو كہ حرام ہے كيونكہ كشي چيز كي حرمت اس ميں داخل ہے، اور تہوار سےپہلے اور تہوار كےبعد ان ايام ميں جواس تہوار كي بنا پر كرتےہيں يا پھر اس تہوار منانےكي جگہ كےآس پاس اس تہوار كےلئےجوكچھ ہوتا ہے ، يا اس تہوار كےاعمال كي بنا پر جو اعمال كئے جاتےہيں ان سب كا حكم بھي اس تہوار كا ہي حكم ہے، لھذا اس ميں كوئي چيز بھي نہيں كي جائےگي، كيونكہ بعض لوگ ان كےتہوار كےدنوں ميں ہوسكتا ہے كوئي كام كرنےسے رك جائيں مثلا جمعرات جسے وہ عہد كي جمعرات يا اوپڑ چڑھنےكي جمعرات كہتےہيں جو كہ نصاري كےتہوار ( ايسٹر ڈے ) كےشعار ميں سے ہے اور اسے بڑي جمعرات كا نام ديتےہيں ، اور ميلاد ( كرسمس ) تو يہ مسلمان شخص اپنےگھروالوں اور بچوں سے كہے كہ تمہارے لئے ميں يہ كسي اور مہينہ يا ہفتہ ميں بناؤں گا، اور اس كا اصل محرك تو ان كفار كا تہوار ہي ہے كيونكہ يہ تہوار نہ ہوتا تو وہ اس كا مطالبہ ہي كرتے، لھذا يہ بھي مشابہت ميں ہي شامل ہوگا . ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 315 ).
ھ ـ ان كےتعبدي نام اور اصطلاحات كےاستعمال سےاجتناب:
اگر بغير كسي حاجت اور ضرورت كے عجمي زبان اور لہجہ ميں گفتگو كرنا اس علت كي بنا پر منع كيا گيا ہے كہ اس سےان كےساتھ مشابہت ہوتي ہے، توپھر ان كےتہواروں كےنام يا ان كےشعارات كي اصطلاحات كا استعمال كرنا بدرجہ اولي ممنوع ہوا، مثلا ہر بڑے اجتماع پر مہر جان كا لفظ بولنا جائز نہيں كيونكہ يہ فارس كا ايك ديني تہوار ہے.
امام بيھقي رحمہ اللہ تعالي نے روايت كيا ہےكہ:
علي رضي اللہ تعالي عنہ كونوروز كا تحفہ ديا گيا تو انہوں كہا يہ كيا ہے؟ تو انہيں جواب ميں كہنےلگے: اے اميرالمومنين يہ نوروز تہوار كا تحفہ ہے تو علي رضي اللہ تعالي عنہ نےكہا: ہر دن كو فيروز بناؤ. ابو اسامہ كہتےہيں كہ علي رضي اللہ تعالي عنہ نے نوروز كہنا پسند نہ كيا تو اسے فيروز كہا، اسےامام بيھقي نے السنن الكبري ( 9 / 532 ) ميں روايت كيا ہے.
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
اور علي رضي اللہ عنہ نےتو ان كےتہوار كےنام كي موافقت ناپسند كي وہ ان كا انفرادي تہوار تھا، تو پھر عمل ميں ان كي موافقت كيسےہوگي ؟ ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 954 ) .
اور يہ بيان كيا جا چكا ہے كہ يہ لفظ عربي نہيں اور عربي زبان ميں بہت سے ايسےالفاظ ہيں جواس لفظ سے مستغني كرديتےہيں اوراس سے بہتر اور اچھے ہيں.
ان كےتہواروں ميں كفار كےتحفے قبول كرنے كا حكم :
اوپر كي سطور ميں يہ بيان ہوچكا ہے كہ كفار كےتہوار كےموقع پر انہيں تحفے دينا جائز نہيں كيونكہ ايسا كرنا ان كےباطل ميں ان كي اعانت ومدد ہے، اور يہ بھي بيان ہوچكا ہے كہ ان كے تہوار ميں ان كي مشابھت كرنے والے مسلمان شخص كا تحفہ قبول كرنا بھي جائز نہيں كيونكہ اس كا تحفہ قبول كرنےميں اس كي مشابہت ميں اس كا تعاون اور اس كا اقرار ہےكہ اس نےصحيح كام كيا ہے اوراس حرام فعل كو سرانجام دينےميں اس پر عدم انكار ہے.
ليكن اگر كافر شخص اپنےتہوار كےموقع پر مسلمان شخص كو تحفہ دے تو وہ تحفہ اس كےعلاوہ دوسرے تحفہ كي طرح ہي ہے، اس لئے كہ اس ميں ان كفر ميں اعانت اور مدد نہيں ، ليكن يہ مسئلہ اختلافي ہے اور اس ميں تفصيل پائي جاتي ہے جو حربي اور ذمي كافر كا تحفہ قبول كرنےپر مبني ہے.
يہ علم ميں ركھيں كہ ان كےتحفے دو قسم كےہيں:
1 - ان كےتہوار كي بنا پر ذبح كئے جانےوالے گوشت كےعلاوہ كوئي اور تحفہ ہو مثلا مٹھائي ، پھل وغيرہ كےاستعمال كرنےميں اختلاف ہے جو كافر عمومي تحفہ قبول كرنےپرمبني ہے، اور ظاہر يہي ہے كہ يہ جائز ہے جيسا كہ اوپر بيان ہوچكا ہے كہ علي رضي اللہ تعالي عنہ نے يہ تحفہ قبول كيا، اور اس لئے بھي كہ حديث ميں وارد ہے كہ ايك عورت نے عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا سے كہا:
ہمارےكچھ مجوسي رضاعي رشتہ دار ہيں ، اور وہ اپني عيد كےموقع پر ہيں تحفے بھيجتےہيں : تو عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا كہنےلگيں:
جوكچھ اس تہوار كےلئے ذبح كيا گيا ہو وہ نہ كھاؤ ليكن ان كےدرختوں سےكھاليا كرو.
ديكھيں مصنف ابن ابي شيبہ كتاب الاطعمۃ ( 5 / 521 ) حديث نمبر ( 16342)، اور الاقتضاء ميں ہے كہ ( ان لنا آظارا ) الاقتضاء كےمحقق كہتےہيں كہ ہوسكتا ہے اس سے رضاعي رشتہ دار مراد ہوں .
اور ابو برزہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ:
ان كےكچھ رہائشي مجوسي تھے جونوروز اورمہرجان كےتہوار كےموقع پر انہيں كچھ تحفے بھيجا كرتےتو ابو برزہ اپنےگھروالوں كو كہتے كہ پھل كھالو اور اس كےعلاوہ جوكچھ ہے وہ واپس كردو. مصنف ابن ابي شيبہ حديث نمبر ( 26342 ) .
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ سب اس پر دلالت كرتا ہے كہ ان كا ہديہ قبول كرنےميں ان كےتہوار كي كوئي تاثير نہيں، بلكہ اس كا تہوار اور غير تہوار ميں حكم برابر ہے اس لئےكہ اس ميں ان كےكفريہ شعار ميں ان كا كوئي تعاون نہيں. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 455 - 555 ) .
2 - يہ كہ ان كا تحفہ تہوار كےلئےذبح كردہ گوشت ہو تو يہ نہيں كھانا چاہئے اس كي دليل عائشہ رضي اللہ تعالي اور ابوبرزہ رضي اللہ تعالي عنہ كے اثر ہيں جو اوپر بيان كئےجا چكےہيں، اور اس لئے كہ يہ كفريہ شعار پر ذبح كيا گيا ہے . ديكھيں الاقتضاء ( 2 / 455 - 555)
ز ـ كفار كےتہواروں كي مخالفت ميں ان كےتہوار كےدن خصوصا روزہ ركھنا:
اس ميں علماء كرام كا اختلاف ہے:
1 - ان كي مخالفت ميں تہوار كےدن روزہ ركھنےميں كوئي كراہت نہيں، ليكن يہ قول ضعيف ہے.
2 - روزہ ركھنےكےلئے ان كےتہوار كا دن خاص كرنا صحيح نہيں، كيونكہ ان كےتہوار تعظيم كي جگہ ہيں اور كسي اور دن كےعلاوہ خاص كراس دن روزہ ركھنےميں اس تہوار كي تعظيم ميں كفار كي موافقت ہے.
ابن قدامہ رحمہ اللہ تعال كہتےہيں:
اور ہمارے اصحاب كا بھي كہنا ہے كہ: نوروز اور مہرجان كےايام كو روزے كےلئےخاص اورانفرادي حيثيت دينا مكرہ ہے، كيونكہ يہ دونوں دن كفار كي تعظيم كےدن ہيں، لھذ كسي اور دن كےعلاوہ صرف انہيں روزے كےلئےخاص كرنا اس تہوار كي تعظيم ميں كفار كي موافقت ہے لھذا اس كا روزہ ركھنا مكروہ ہوا، جيسا كہ ہفتےكا دن، اس پر قياس كرتےہوئے كفار كےہرتہوار يا جسےوہ تعظيم ديتےہوں اس كا روزہ ركھنا صحيح نہيں. ديكھيں: المغني لابن قدامۃ ( 4 / 924 ) اور الاقتضاء ( 2 / 975 ) .
يہ حكم تواس ميں ہے كہ اگر اس دن كا خصوصا روزہ ركھاجائے كيونكہ يہ ان كا تہوار ہے، ليكن اگر كس شخص كا بغير كسي قصد كے نذر يا نفلي روزہ اس دن يعني ان كےتہوار ميں آجائے تواس ميں كوئي حرج نہيں. ديكھيں: حاشيۃ ابن قاسم علي الروض المربع ( 3 / 64 ) .
اور ان كےتہواروں ميں كفار كي مخالفت كا ضابطہ اور قانون يہ ہےكہ: اصلا اس تہوار كےدن كوئي نيا كام نہ كرے، بلكہ يہ دن بھي اس كےلئےباقي عام دنوں جيسا ہي ہونا چاہئے. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 815 ) .
لہذا ان كےتہوار ميں چھٹي كركےكام وغيرہ بند نہ كرے، اور نہ ہي اس كي كوئي خوشي كرے اور اسي طرح اس دن كوروزہ يا غم وغيرہ كےلئےبھي خاص نہ كرے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي نے ايسي كلام ذكر كي ہے جس سےتشابہ اختيار كرنےكا ضابطہ اورقانون وضع ہوسكتا ہے:
اور تشبہ يہ ہےكہ: كوئي عمل يا فعل اس لئےكيا جائےكہ وہ انہوں نےكيا اور يہ نادر ہے اور جس نےبھي كسي فعل ميں اس لئے كسي دوسرے كي پيروي كي كہ اس اس كي غرض تھي اور اصل ميں وہ فعل كسي دوسرے سے ليا گيا ہو، ليكن جس نے كوئي كام كيا اور اتفاقا يہ فعل كسي دوسرے نےبھي كيا اور اس نےيہ عمل يا فعل صاحب عمل سےنہ ليا ہو تواس كي مشابہت ہونا محل نظر ہے، ليكن اس سےاس لئےمنع كيا جاسكتا ہے كہ يہ كام مشابہت كا ذريعہ نہ بن جائےاوراس ميں جو مخالفت پائي جاتي ہے اس كي وجہ سےمنع كيا جاسكتا ہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 242 ) .
جو كچھ شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي نےذكر كيا ہےاس كي بنا پر جو كچھ وہ كرتےہيں اس كي موافقت كي دو قسميں ہيں:
1 ـ كفار كےساتھ مشابہت اختيار كرنا، اور يہ مشابہت كسي بھي غرض سے ہو تويہ حرام ہے.
2 ـ ان كےمشابہ ہونا: يہ وہ مشابہت ہے جو بغير كسي قصد وارادہ كے ہو، ليكن ايسا كرنےوالے كےلئےاس كا بيان اور اس پرانكار كرنا چاہئے كہ اگر وہ اس سےبچ جائےتو بہتر ہے وگرنہ وہ حرام مشابہت ميں پڑ جائےگا، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضي اللہ تعالي عنہما بيان كرتے ہيں كہ:
رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے زرد رنگ كے دو كپڑے ديكھے اور فرمانےلگے: يقينا يہ كفار كےكپڑوں ميں سے ہيں، لھذا تم اسے نہ پہننا.
اور ايك روايت ميں ہے كہ: كيا تيري والدہ نےاس كا حكم ديا ہے؟ ميں نے عرض كيا ان كودھولوں؟ تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: بلكہ انہيں جلا دو.
دونوں روايتيں امام مسلم رحمہ اللہ تعالي نے صحيح مسلم كتاب اللباس والزينۃ ميں بيان كيں ہيں ديكھيں صحيح مسلم حديث نمبر ( 7702 ) .
قرطبي رحمہ اللہ تعالي كہتے ہيں:
يہ اس كي دليل ہے كہ انہيں پہننے سے منع كرنے كي علت كفار سے مشابہت ہے. ديكھيں: المفھم لما اشكل من تلخيص مسلم ( 5 / 993 ) .
حديث سےيہ ظاہر ہوتا ہے كہ عبد اللہ رضي اللہ تعالي عنہ كو علم نہيں تھا كہ يہ كفار كےلباس سےمشابہ ہے، ليكن اس كےباوجود نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے اس سےمنع كيا اوراس كا شرعي حكم بيان فرمايا.
يہ تواس وقت ہے جب كسي چيز كي اصل كفار سےہو، ليكن جب اس كا علم نہ ہو كہ يہ چيز كفار كي اصل ميں سے ہے بلكہ وہ كام كفار بھي كرتے ہوں اور ان كےعلاوہ دوسرے بھي كرتےہوں توايسا لگتا ہے كہ يہ مشابہت نہيں.
ليكن شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي سد ذريعہ اور مسلمان كو مشابہت سے بچانےكي وجہ سےاس سے بھي منع كرنے كي رائے ركھتےہيں، اور اس لئےبھي كہ اس سےركنےكامقصد كفار كي مخالفت ہے.
كفار كےتہوار اور منافقين :
1 - ايك عرب ملك ميں اشتراكي بعث پارٹي نے بھوك اورخشكي كو دليل بنا كر قرباني ختم كرنےكا مطالبہ كيا، اور اس كي طرف دعوت دينےوالوں نے بہت بڑے بڑے بينر لگائے جن پر لكھا تھا:
بھوكے اور فقراء اوربےلباس لوگوں كےلئےايك قرباني كے چھترے كي قيمت جمع كرائيں.
ديكھيں: مجلۃ الاستجابۃ عدد نمبر ( 4 ) ربيع الثاني 1406هـ
اور عيدالاضحي سلامتي و امن سےگزر گئي اور مسلمانوں نےاس ملك ميں قرباني كي، پھر جب عيد ميلاد ( كرسمس ) اور سال نو كا تہوار قريب آيا تو اس كےجشن كي تيارياں شروع ہوگئيں اور پھر جب سال نو اور كرسمس كا تہوار آيا تو اس ملك ميں سركاري طور پر چھٹياں بڑے عظيم الشان جشن اور راتوں كوشور شرابا منايا گيا اور اس جشن ميں پيش پيش رہنے والے لوگ اشتراكي بعث پارٹي كے عہديداران شامل تھے جنہيں نصاري كےتہوار نے انہيں بھوكوں اورفقراء اور بےلباس ننگےلوگوں كےحالات ہي بھلا دئے، انہيں اس طرح كےلوگوں كےحالات صرف مسلمانوں كي عيد پر ہي ياد آتےہيں !!!
2 ـ ان ميں سےايك نے ہفتہ وار كالم لكھا جس كا عنوان ( درگزر ) تھا، اس ميں ايسي كلام لكھي جواس كےدل كي بيماري اور ديني كمزوري كي عياں كر رہي تھي، اورجو يہ تسامح اور درگزر چاہتا تھا وہ عيسائي تہوار كرسمس اور سال نو كےتہوار كي مناسبت سےتھا، اپنے آپ كو ہوشيار اور چالاك سمجھنےوالے نے جوكچھ كہا اس ميں سے يہ تھا كہ:
لہذا يہ انساني بھائي چارہ اور اخوت ساري بشريت كو عام ہے، اور تفرقہ و دشمني لڑائي كےوقت كےعلاوہ نہيں ہوگي، اور جب مسلمانوں كي جماعت كسي دوسري جماعت سےدشمني كرے توپھر اپنےآپ كےدفاع كےلئے لڑائي اور دشمني مشروع ہے، باوجود اس كےكہ بعض دہشت گرد اور تشدد پسند جماعتيں اس آگ كو ايسي تفسيرو آراء سے بھجانا چاہتي ہيں جو انسانوں كے مابين كراہيت اور بائيكاٹ پر ابھارتي ہيں، وہ ان باتوں كو عام تقريبات ميں كرتےہيں جو عالمي طور پر منائي جاتي ہيں، اور كسي دوسرے كو مباركباد دينا اسلام اور صحيح راہ سےانحراف شمار كرتےہيں، - ميري زندگي كي قسم ـ يہ وہ تو محبت كي اشاعت ہے نہ كہ بغض وعناد كي وہ قربت كي اشاعت ہے نہ كہ نفرت و دوري كي.
كالم نگار اپني اس اندھي اور شكست خوردہ درگزري كوبيان كرنے كا سلسلہ جاري ركھتےہوئےجو كالموں ميں مكمل ہوئي تا كہ عيسائيوں كےسارے تہواروں كو محيط ہو جس كي محبت اس كےدل ميں گھر كر چكي ہے لھذا وہ دوسرے كالم ميں كہتا ہے:
لھذا اصل تو نيكي يعني درگزر اور عدل وانصاف ہے، اور رہي دشمني تو يہ ان لوگوں كےخلاف ہے جنہوں نے ہمارے خلاف لڑائي كا اعلان كر ركھا ہے، اور رہا مسئلہ اديان مختلف ہونے كا تواس ميں روز قيامت اللہ تعالي كا عدل اور اس كي رحمت ہوگي، اور يہ كہنا كہ يہ درگزر اورتسامح غيرمسلموں كے ساتھ دوستي اور موالاۃ ہے اس قول كو علما نےاس كہہ كر رد كيا ہے كہ:
ممنوع دوستي و موالاۃ تويہ ہے كہ ان جنہوں نےمسلمانوں كےخلاف اعلان جنگ كر ركھا ہے ان كےساتھ اعلانيہ جنگ ميں دوستي نہ كي جائے كيونكہ اس وقت يہ عظيم خيانت ہوگي، اور اس وقت كسي ايك مسلمان شخص كےلئے ان كي مدد ونصرت كرنا اور انہيں اپنےدوست بنانا حلال نہيں جنہيں اپنے راز كي باتيں بتائيں جائيں.
ديكھيں: عربي اخبار عكاز تاريخ ( 28 / 8 / 1418 هـ ) ( 5 /9/ 1418هـ)
تو يہ كلام گمراہي وضلالت اور اسلام ميں شك اور كفر كو صحيح كہنے كے علاوہ كچھ نہيں ، اللہ تعالي اس سےبچا كرركھے.
پھر وہ اپنےتيسرے كالم ميں بےہودہ اور گھٹيا قسم كي تہمتيں لگاتا ہے جيسا كہ انگريز كےان ايجنٹوں اوربھڑيوں كي عادت ہے كہ وہ اپنے اداريوں اورمقالات اور كالموں وغيرہ ميں لكھتےہيں كہ جو بھي اس كي صحافتي فقاہت ميں اس كي موافقت نہيں كرتا وہ دہشت گرد اور خون بہانےوالا اورحدسےتجاوز كرنےوالا ہے.
ميں يہ خيال نہيں كرتا تھا كہ امت كي حالت اس ذلت و رسوائي تك پہنچ سكتي ہے، اور نہ ہي پيروي اور شكست اس شرمناك حد تك پہنچ سكتي ہے، ليكن جب وسائل اعلام پرنٹ اور اليكٹرانك ميڈيا پر اس طرح كے ہوس پرست اورموٹرين قسم كي لوگ چھائےہوئے ہوں تو پھر اس كےعلاوہ اور كيا توقع كي جاسكتي ہے؟
اس امت كےحالات كا شكوہ اللہ كي جانب ہي ہے جس امت كا عقيدہ الولاء والبراء دوستي اور دشمني اور اس كا طريقہ اور منہج ايسي صحافت اور ميڈيا كے ذريعہ مقرر كيا جاتا ہو جس پر ايسےلوگ چھائےہوں جو فنون لطيفہ اور كھيلوں كي اكيڈمي سے فراغت پانے والےہوں جن كي اكثر ثقافت فنكاروں اور رقاصوں اور گانےوالے موسيقاروں اور كھلاڑيوں كےنام پر مشتمل ہو.
پھر افسوس كہ چند ہفتوں بعد بيسويں صدي كےاختتام كا جشن منانے كےمتعلق كيا كچھ لكھيں گے؟
بلاشبہ وہ اپني عادت كےمطابق سب مسلمانوں كو اس ميں شريك ہونے كي دعوت ہي دينگے، تا كہ اسلام كو بنياد پرست دين يا دقيا نوسي باتيں قرار نہ ديا جائے، اور اس لئے لكھيں گے كہ دنيا كےلئےثابت كرسكيں كے وہ ترقي يافتہ مسلمان ہيں جس ميں كفايت ہے تا كہ ان سے صليب اور بچھڑے كےبچاري راضي اور خوش ہوجائيں، ہلاكت وتباہي ہے پھر ہلاكت وتباہي و بربادي ہے اس شخص كےلئے جس نے اس عالمي جشن ميں مسلمانوں كي شركت كا انكار كيا، كيونكہ اسے بنياد پرست اور اصول پرست اور حد سے تجاوز كرنےوالے اور دہشت گر اور خون بہانےوالے جيسے القاب اورتہمت كا سامنا كرنا پڑے گا.
اور ان شكست خوردہ ذہن كےمالك لوگوں سے كوئي بعيد نہيں كہ ان سے اس جشن ميں شركت كي جواز كے تيار شدہ اور عام فتوے جاري ہوں اور صحافي اسے ليكر اس كےساتھ ہزاروں جھوٹ ملا كر صحافت ميں شائع كريں تا كہ مسلمانوں كو اس جشن ميں شركت پرمطمئن كرسكيں، كہ اسلام نے اپني درگزري اور تسامح اور اساني كي بنا پر كفر كےشعار ميں شركت كي اجازت دے دي ہے، تا كہ ہم كفار كےجذبات مجروع نہ كريں، اور ان كےجشن كي صفائي ميں كوئي گند نہ اچھاليں جو وہ بيسويں صدي كےخاتمہ پر منانے رہے ہيں، ايسي صدي جس ميں زمين كےكونے كونےپريہوديوں اور عيسائيوں كےہاتھوں عقيدہ اور ديني كي جنگ ميں مسلمان كا خون كيا جا رہا ہے، جس كا كوئي بدلہ لينےوالا نہيں، اور كوسوو كي خبريں اس جشن سے كوئي دور نہيں كيونكہ يہ اس عيسائي صدي كےآخري برس ميں وقوع پذير ہوا !!!
ديكھيں: مجلۃ البيان ( عربي ) عدد نمبر ( 143- 144 )
ماخوذ اسلام سوال جواب
تقليد اور دليل كى اتباع، اور كيا ابن حزم حنبلى تھے ؟
يہ كيسے ممكن ہے كہ آئمہ اربعہ ميں سے كسى ايك كى اتباع كرتے ہوئے مقلد نہ ہو ؟
ميں يہ سوال اس ليے كر رہا ہوں ميں نے ابن حزم كى سيرت پڑھى كہ وہ امام احمد كے مذہب كى اتباع كرتے تھے ليكن مقلد نہيں تھے، برائے مہربانى اس كى وضاحت فرمائيں ؟
ميں يہ سوال اس ليے كر رہا ہوں ميں نے ابن حزم كى سيرت پڑھى كہ وہ امام احمد كے مذہب كى اتباع كرتے تھے ليكن مقلد نہيں تھے، برائے مہربانى اس كى وضاحت فرمائيں ؟
الحمد للہ:
اول:
مذاہب كى اتباع كرنے والے ايك ہى درجہ پر برابر نہيں بلكہ ان ميں مجتھد بھى ہيں، اور مقلد بھى جو مذہب ميں كوئى مخالفت نہيں كرتا.
چنانچہ بويطى، اور مزنى اور نووى اور ابن حجر رحمہم اللہ يہ سب امام شافعى كى متبعين ميں سے ہيں ليكن يہ مجتھد ہيں اور جب ان كے پاس دليل ہو تو يہ اپنے امام كى مخالفت كرتے ہيں، اور اسى طرح ابن عبد البر مالكيہ ميں سے ہيں ليكن اگر صحيح چيز امام مالك كے علاوہ كسى اور كے پاس ہو تو وہ امام مالك رحمہ اللہ كى مخالفت كرتے ہيں.
احناف كے كبار آئمہ كے بارہ ميں بھى يہى ہے مثلا ابو يوسف اور امام محمد الشيبانى، اور اسى طرح حنابلہ كے آئمہ بھى مثلا ابن قدامہ اور ابن مفلح وغيرہ.
طالب علم كا كسى مسلك اور مذہب پر زانوے تلمذ طے كرنے كا مطلب يہ نہيں كہ وہ اس مسلك سے نكل ہى نہيں سكتا، بلكہ جب اس كے ليے دليل واضح ہو جائے تو وہ اس دليل پر عمل كرے، دليل كو ديكھ كر بھى مسلك اور مذہب سے باہر وہى شخص نہيں جاتا جس كے دين كى حالت پتلى ہو، اور اس كى عقل ميں كمى ہو، اور وہ متعصبين ميں سے ہو.
كبار آئمہ كرام كى وصيت ہے كہ طالب علم كو بھى وہيں سے لينا اور اخذ كرنا چاہيے جہاں سے انہوں نے خود اخذ كيا اور ليا ہے، اور جب ان كا قول نبىكريم صلى اللہ عليہ وسلم كى حديث كے خلاف ہو تو اسے ديوار پر پٹخ ديں.
ابو حنيفہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" يہ ميرى رائے ہے، اور جو كوئى بھى ميرى رائے سے اچھى اور بہتر رائے لائے ہم اسے قبول كرينگے "
اور امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" ميں تو ايك بشر ہوں غلطى بھى كرتا ہوں اور صحيح بھى اس ليے ميرا قول كتاب و سنت پر پيش كرو "
اور امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" جب حديث صحيح ہو تو ميرا قول ديوار پر پٹخ دو، اور دليل راہ ميں پڑى ہوئى ديكھو تو ميرا قول وہى ہے "
اور امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" نہ تو ميرى تقليد كرو، اور نہ مالك كى تقليد كرو، اور نہ شافعى اور ثورى كى، اور اس طرح تعليم حاصل كرو جس طرح ہم نے تعليم حاصل كى ہے "
اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:
" اپنے دين ميں تم آدميوں كى تقليد مت كرو، كيونكہ ان سے غلطى ہو سكتى ہے "
اس ليے كسى كے ليے بھى كسى معين امام كى تقليد كرنا صحيح نہيں جو اپنے اقوال سے باہر نہ جاتا ہو، بلكہ اس پر واجب ہے كہ اسے لے جو حق كے موافق ہو چاہے وہ اس كے امام سے ہو يا كسى اور سے ملے "
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" لوگوں ميں سے كسى شخص پر كسى ايك شخص كى بعينہ تقليد كرنا صحيح نہيں كہ جو وہ حكم دے اور جس سے منع كرے اور جسے مستحب كہے اس كى مانى جائے، يہ حق صرف رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو ہے، اب تك مسلمان علماء كرام سے دريافت كرتے رہتے ہيں، كبھى اس كى اور كبھى اس كى بات مان ليتے اور تقليد كرتے ہيں.
جب مقلد كسى مسئلہ ميں تقليد كر رہا ہے اور وہ اسے اپنے دين ميں زيادہ صحيح ديكھتا، يا قول كو زيادہ راجح سمجھتا ہے تو يہ جمہور علماء كے اتفاق سے جائز ہے، اسے كسى نے بھى حرام نہيں كہا، نہ تو امام ابو حنيفہ، اور نہ ہى مالك اور شافعى اور احمد رحمہم اللہ نے"
ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 23 / 382 ).
اور شيخ علامہ سليمان بن عبد اللہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" بلكہ مومن پر حتماً فرض ہے كہ جب اسے كتاب اللہ اور سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم پہنچے اور اس كے معنى كا علم ہو جائے چاہے وہ كسى بھى چيز ميں ہو اس پر عمل كرے، چاہے وہ كسى كے بھى مخالف ہو، ہمارے پروردگا تبارك و تعالى اور ہمارے نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں يہى حكم ديا ہے، اور سب علاقوں كے علماء اس پر متفق ہيں، صرف وہ جاہل قسم كے مقلدين اور خشك لوگ، اور اس طرح كے لوگ اہل علم ميں شامل نہيں ہوتے "
جيسا كہ اس پر ابو عمر بن عبد البر وغيرہ نے اجماع نقل كيا ہے كہ يہ اہل علم ميں سے نہيں "
ديكھيں: تيسير العزيز الحميد ( 546 ).
اس بنا پر كوئى حرج نہيں كہ مسلمان شخص كسى معين مذہب اور مسلك كا تابع ہو، ليكن جب اس كے ليے اس كے مذہب كے خلاف حق واضح ہو جائے تو اس كے ليے حق كى اتباع كرنا واجب ہو گى.
دوم:
رہا ابن حزم رحمہ اللہ كا مسئلہ تو وہ امام اور مجتھد تھے اور وہ تقليد كو حرام قرار ديتے ہيںن اور وہ كسى ايك امام كے بھى تابع اور پيروكار نہ تھے، نہ تو امام احمد كے اور نہ ہى كسى دوسرے امام كے، بلكہ وہ اپنے دور اور اب تك كے اہل ظاہر كے امام تھے، ہو سكتا ہے ان كو امام احمد كى طرف منسوب كرنا ( اگر يہ صحيح ہو ) عقيدہ اور توحيد كے مسائل ميں ہے، اس پر كہ اس كے ہاں اسماء و صفات ميں بہت سارى مخالفات پائى جاتى ہيں.
ابن حزم كى سيرت كا مطالعہ كرنے كے ليے سير اعلام النبلاء ( 18 / 184 - 212 ) كا مطالعہ كريں.
واللہ اعلم .
ماخوذ :الاسلام سوال و جواب
http://www.islam-qa.com
كفار كےتہوار اور ان ميں شركت كا حكم
رہتي دنيا تك حق وباطل اور امت محمديہ كےگروہ اور يہود ونصاري اور مجوسيوں اوربت پرستوں وغيرہ كا معركہ رہتي دنيا تك ہميشہ رہےگا، اور اہل حق تنگي اورتكليفوں كےباوجود حق پر قائم رہيں گے، يہ سب كچھ سنن كونيہ جو كہ مقدر كي ہوئي اور لكھي جاچكي ہيں ميں سےہے.
اس كا معني يہ نہيں كہ اپنےآپ كو ان كےسپرد كرديا جائےاور گمراہوں كےراستےپر چلنا شروع ہوجائيں، كيونكہ ہميں يہ خبر دي چكي ہے كہ ايسا ضرور ہوگا اسي ليےہميں اس راستےپر چلنےسے ڈرايا گيا اور اسي ليے دين اسلام پر ثابت قدم رہنےكي تلقين كي گئي چاہے گمراہ لوگوں كي جتني بھي كثرت ہوجائے، اور صراط مستقيم سے منحرف لوگ جتني بھي طاقت حاصل كر كےقوي ہوجائيں.
ہميں يہ بتايا جاچكا ہے كہ سعادت مند اورخوشبخت شخص وہ ہے جو حق سےروكنےوالي جتني بھي اشياء ہوں ان سب كےباوجود حق پر ثابت قدم رہے اور استقامت اختيار كرے، ايسے دور ميں جس ميں صحيح عمل كرنے والے كو صحابہ كرام كي مثل پچاس آدميوں كےعمل كا اجروثواب حاصل ہوگا جيسا كہ صحيح حديث ميں ابوثعلبہ خشني رضي اللہ تعالي عنہ نے نبي صلي اللہ عليہ وسلم سےبيان كيا ہے.
اورامت محمديہ ميں كچھ ايسےلوگ بھي ہونگےجو حق سےانحراف كر كے باطل كو صحيح كہيں گےاور دين ميں تغير وتبدل كر كےبدعات كي ايجاد كرليں گے، توايسے لوگوں كي سزا يہ ہے كہ انہيں حوض كوثر سے دور ہٹا ديا جائےگا اوراس كےقريب بھي نہيں پھٹكنےديا جائےگا، جب نيك اور صالح اور استقامت اختيار كرنےوالےلوگ حوض كوثر پر آكر پاني پيئيں گے تو يہ بدعتي بھي وہاں آنےكي كوشش كرينگے ليكن انہيں وہاں سےبھگا ديا جائےگا جيسا كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
( ميں حوض پر تمہارا انتظار كرونگا، اور ميري جانب كچھ لوگ لائے جائيں گے حتي كہ جب ميں ان كي جانب متوجہ ہو كرانہيں دينا چاہوں گا تو ميرے اوران كےمابين ركاوٹ حائل كردي جائےگي تو ميں كہوں گا اے ميرے رب يہ ميرے ساتھي ہيں، تو مجھےكہا جائےگا: آپ كو علم نہيں كہ آپ كےبعد انہوں نےكيا بدعات ايجاد كرليں تھيں )
اور ايك روايت ميں ہےكہ " ميں كہوں گا: جس نےميرے بعد تبديلي كردي اس كےليے دوري ہے.
محمد صلي اللہ عليہ وسلم كےدين ميں تغيروتبدل اور نكارت كا سب سے بڑا مظہر اللہ تعالي كےدشمنوں كي ہر چھوٹے اور بڑے معاملے ميں ترقي اور حضارۃ جيسےناموں كےساتھ ان كي تقليد اور ان كي پيروي كرنا ہے، اور اس كے علاوہ امن وسلامتي سےزندگي بسر كرنا، اور انساني بھائي چارہ اور نئے ورلڈ آرڈر اور عالميت اور كونيت جيسے دھوكہ اور فراڈ پر مبني نعروں كےتحت ان پر عمل كرتےہوئےكفار كي تقليد وپيروي دين ميں تغير وتبدل كا سب سے بڑا مظہر ہے.
اورايك غيرمند مسلمان اس خطرناك بيماري كو امت كےاكثرلوگوں ميں ديكھتا ہے الا وہ شخص اس بيماري سے بچا ہے جس پر اللہ كا رحم ہوا، حتي كہ لوگوں نے ان كےديني شعائر ميں بھي ان كي تقليد اور پيروي كرني شروع كردي ہے، اور خاص كران كي عادات اپناني شروع كرديں ہيں مثلا ان كے تہوار جو كہ من جملہ طريقوں اور منہج ودستور ميں شامل ہيں انہيں اپناليا ہے حالانكہ اللہ تعالي كا فرمان ہے:
{اس حق سےہٹ كر ان كي خواہشوں كےپيچھے نہ جايئے تم ميں سےہر ايك كےلئے ہم نے ايك دستور اور راہ مقرر كردي ہے} المائدۃ ( 48 )
{ہرامت كےليےہم نے عبادت كا ايك طريقہ مقرر كرديا ہے جسے وہ بجا لانے والےہيں} الحج ( 67 ) . يعني ان كےخاص كر ان كےتہوار ہيں.
اورجبكہ بہت سےمسلمان اللہ تعالي كےدشمنوں كے كھوٹےاور ردي مال كي چكاچوند چمك كےدھوكہ ميں آچكےہيں، اور خاص كرنصاري كےبڑے بڑے تہواروں جيسا كہ ميلاد مسيح عليہ السلام جسے كرسمس كہا جاتا ہے اوراسي طرح سال نوكےموقع پرمنايا جانےوالا تہوارمسلمان ان كےممالك ميں ان كے ساتھ ان تہواروں ميں شركت كرتےہيں، بلكہ اس وقت تو بعض نےان تہواروں كو مسلمان ممالك ميں بھي منتقل كرديا ہے- اللہ تعالي اس سےبچائے - بہت بڑي مصيبت اور عظيم آزمائش يہ ہے كہ اس وقت عالمي طور پر جو اور خاص كر عيسائي ممالك ميں سن دو ہزار كےاختتام اور تين ہزارميلادي ميں داخل ہونے كا جشن منانے كي تيارياں جاري ہيں، جبكہ ہرميلادي سال كےآخر ميں بھي زمين ان جشنوں سےلرز رہي ہوتي ہے تو بيسويں صدي كےاختتام كا جشن كيسا ہوگا؟ اس وقت عيسائي امت اس جشن كےليے بہت عظيم تياري ميں لگي ہوئي ہےجو كہ اس كےمناسب ہو.
يہ عيسائي جشن صرف عادت كےمطابق سال نو كي رات والا جشن ہي نہيں ہوگا جيسا كہ عيسائي ممالك اور ان كےديني قبلہ ويٹيگن ميں ہوتا ہے تياري اس كي ہورہي ہے كہ مركزي جشن بيت لحم جو كہ مولد مسيح عليہ الصلاۃ والسلام ہے ميں منايا جائے، تو اس طرح عيسائيوں كےسياسي اور ديني ليڈر جن ميں انجيلي بھي ہونگےاور علماني بھي جواس جشن كو جلا عالمي طور پر ميڈيا ميں جلا بخشيں گے، اور جوں جوں وقت قريب آرہا ہے عالمي صحافت ميں ہر دن نئے سرے سے بحث كي جاتي ہے، اور توقع كي جارہي ہے كہ بيت لحم ميں تين ملين سےزيادہ افراد اكٹھےہونگےجن كي قيادت پوپ جان پال ثاني كرےگا، اور اس عالمي جشن ميں قرب وجوار كےاسلامي ممالك بھي اس اعتبار سےشركت كرينگےكہ عيسائي تہوار كےكچھ شعار ان اور مقامات ان كےممالك ميں بھي پائے جاتےہيں جو كہ ميسح عليہ السلام كےبپتسمہ كي جگہ ہے جہاں انہيں ( يوحنا معمدان ( يحيي عليہ السلام ) نے اردن كےدريا ميں بپتسمہ ( عيسائي رسم ہے ) ديا تھا، بلكہ بہت سے مسلمان اس جشن ميں اس اعتبار سےبھي شركت كرينگے كہ يہ عالمي جشن ہے جو روئےزمين پر بسنےوالے سب لوگوں كےلئے اہم ہے.
ان لوگوں كويہ علم نہيں كہ بيسويں صدي كےاختتام كا يہ جشن ايك نصراني تہوار ہے ( مسيح عليہ السلام كي عيد ميلاد كرسمس جو ہرميلادي سال كےآخر ميں منائي جاتي ہے ) اور اس ميں شركت كرني ان كےديني شعار ميں شركت ہے، اور اس سے فرحت وسرور حاصل كرنا كفر كےشعار اوراس كے ظھور اور غلبہ پر خوشي وسرور ہے، اور اس ميں مسلمان كےعقيدہ اور ايمان كو خطرہ ہے اس ليے كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا صحيح حديث ميں فرمان ہے كہ: " جس نے كسي قوم سےمشابہت اختيار كي وہ انہيں ميں سےہے" توپھر وہ شخص جو ان كےديني شعار ميں شركت كرلے اس كا كيا بنےگا؟
اوريہ ہميں حتما اس بات كي دعوت ديتا ہے كہ ہم كفار كےتہواروں حكم جانيں اور اس سلسلہ ميں مسلمان شخص پر كيا ذمہ داري عائد ہوتي ہے، اور ان كي مخالفت كي كيفيت كيا ہوگي جو كہ ہمارے دين حنيف كےاصولوں ميں سے ايك اصول ہے، بلكہ ان كےتہواروں اور شعائر كا تعارف اس مقصد اور ارادے سے ہو كہ ان تہواروں سےاجتناب كيا جائےاور دوسروں كوبھي اس سے بچايا جائے .
ہم پركفار كےتہواروں كا تعارف حاصل كرنا كيوں ضروري ہے؟
يہ بات متفق عليہ ہے كہ مسلمان شخص كےليے كفار كےحالات جاننا كوئي معني نہيں ركھتا، اور نہ ہي ان كےشعار اور عادات كي معرفت اس كےلئےاہم ہے - جب تك وہ انہيں اسلام كي دعوت نہ دينا چاہے - ليكن جب ان كےشعار جاہل قسم كے مسلمانوں ميں سرايت كررہےہوں اور وہ اس ميں قصدا يا بغير قصد كےپڑ رہے اور اس پر عمل كررہے ہوں تواس وقت ان كي معرفت ضروري ہو جاتي ہے تا كہ ان سےاجتناب كيا جاسكے، اس آخري دور ميں اس كي ضرورت بہت زيادہ ہوگئي ہے جس كےاسباب مندرجہ ذيل ہيں:
1 - كفار سے ساتھ كثرت سے ميل جول اور اختلاط چاہے وہ مسلمان كا ان كےملك ميں حصول تعليم كےجانےكي صورت ميں ہو يا پھر سير وسياحت اور تجارت كےلئےيا كسي اور سبب كي بنا پر، توان كےممالك ميں جانے والے يہ لوگ وہاں ان كےكچھ ديني شعار اور كام ديكھتے ہيں توانہيں يہ كام اچھےلگتے ہيں تويہ ان كي پيروي كرنا شروع كرديتےہيں اور خاص كر نفساتي ہزيمت و شكست كےساتھ اور ان كا كفار كو شديد قسم كي پسنديدگي كي نظروں سے ديكھنا ان كےارادہ كو سلب كرليتا ہے اور ان كےدل ميں فساد پيدا ہوتا ہے جس كي بنا پر دل ميں دين كمزور ہوجاتا ہے.
اسي وجہ سے بہت سے مغربي ثفافت كےدلدادہ لوگ كافروں كو ترقي يافتہ اور مھذب يافتہ لوگ كہتےہيں حتي كہ ان كي عادت اور عادتا كيےجانے والےاعمال ميں بھي ترقي يافتہ مانتےہيں، يا پھريہ اس طريقہ سےہوتا ہے كہ ان كےتہواروں كو غيرمسلم افليات اور گروہوں كےذريعہ اسلامي ممالك ميں ظاہر كيا جاتا ہے جس سے جاہل قسم كےمسلمان لوگ متاثر ہوتےہيں .
2 - معاملہ اوربھي خطرناك اس ليےہوگيا ہے كہ وسائل اعلام يعني ميڈيا جو كہ ہر چيز كو تصوير اور آواز كےساتھ روئے زمين ميں ايك جگہ سےدوسري جگہ منتقل كرنے كي قدرت ركھتا ہے، اور اس ميں كوئي شك نہيں كہ كفار كا ميڈيا اپني عادات اور شعار نشر كرنے ميں مسلمانوں كےميڈيا كي بنسبت زيادہ قوي اور طاقتور ہے اس كےبرعكس مسلمان ميڈيا كےپاس كچھ بھي طاقت نہيں اس طرح كہ بہت سے فضائي چينل دوسروں كےتہوار نشر كرنے ميں لگےہوئے ہيں اور خاص كرعيسائيوں كےتہوار نشر كيےجاتےہيں، اور زيادہ خطرناك بات يہ ہے جس سے معاملہ اور زيادہ خطرناكي اختيار كرچكا ہے كہ بعض علماني تنظيموں نےمسلم ممالك ميں كافروں اور بدعتيوں كےبہت سے تہوار اور شعار اور ان كےجشن كو ترويج دي اور انہيں عرب فضائي چينلوں كےذريعہ دنيا كے سامنےپيش كيا تو اس سے مسلمان دھوكہ كھا گئے كيونكہ يہ مسلمان ممالك سے نشر كيے جارہے اور اسلامي ممالك ميں جشن منائے جارہے ہيں .
3 - مسلمانوں كو تاريخ كےساتھ ساتھ اس مشكل كا سامنا رہا ہے كہ بعض مسلمان غيرمسلموں سےميل جول كي بنا پر ان كےشعار سے متاثر ہوئے جن كي بنا پر مسلمان علماء دين كواس بات كي ضرورت پيش آئي كہ وہ عام مسلمانوں كو مسلمانوں كےعلاوہ دوسروں كےتہواروں اور ان كےشعائر كي تقليد كرنے سے اجتناب كرنے كا كہيں اورانہيں اس سےڈرائيں، مثال كے طور پر ان علماء كرام ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ اور ان كےشاگر علامہ ابن قيم اور حافظ ذہبي اور حافظ ابن كثير رحمہم اللہ تعالي شامل ہيں، يہ سب ايك ہي دور ميں رہے جس ميں مسلمانوں كا دوسري قوموں كےساتھ ميل جول بہت زيادہ تھا اور خاص كر عيسائيوں كےساتھ ، توجاہل قسم كےمسلمان لوگ ان كےبعض ديني شعار اور ان كےتہواروں سے متاثر ہوگئے، لھذا ان علماء كرام نے اس مسئلہ كے متعلق اپني تصانيف ميں بہت زيادہ كلام كي اور بعض نے تو اس مسئلہ ميں عليحدہ كتاب تصنيف كردي جيسا كہ ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے اپني كتاب " اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفۃ اصحاب الجحيم " اور حافظ ذہبي رحمہ اللہ تعالي نے " تشبيہ الخسيس باھل الخميس " جيسا رسالہ تصنيف كيا .
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے ان كےتہوار اوران ميں كيے جانے والے اعمال اور جاہل قسم كےمسلمانوں پراس كا اثر اور ان كےتہواروں كي انواع و اقسام اور اس ميں كونسےشعار اپنائےجاتے اور كيا عادات ہوتي ہيں ان سب كا ذكر بہت طوالت كےساتھ كيا ہے ان سب اشياء كي معرفت سے مسلمان مستغني ہے ليكن اگر اسے كسي سبب يعني بہت سے مسلمان كا ان شعار ميں اہل كتاب كي پيروي كرنا كي بنا پر ضرورت پيش آئے تو وہ ان كي معرفت حاصل كرتا سكتا ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي نے ان كےتہوار بيان كيےاور انہوں نےاسے تحذير يعني بچاؤ كےلئےذكر كيا ہے وہ اس ميں بحث كرتے ہوئےكہتےہيں:
ان كےباطل كي تفصيل جاننا ہماري غرض نہيں، ليكن ہميں يہي كافي ہے كہ ہم برائي كواس ليےپہچانے تاكہ برائي اور مباح اور نيكي ميں تميز كي جا سكے، مستحب اور واجب كا علم ہوجائے، حتي كہ اس معرفت كي بنا پر ہم اس سے بچ كر اس سے اجتناب كريں. جيسےہم سب حرام اشياء كو جانتےہيں، جبكہ ہم پر اس كا ترك كرنا فرض ہے، اور جو شخص برائي كو اجمالي اور تفصيلي طور پر نہيں جانتا وہ اس كےاجتناب كا قصد نہيں كرسكتا، اور واجبات كے خلاف اجمالي معرفت ہي كافي ہے، .
ان كا يہ بھي كہنا ہے كہ:
ميں ان كےدين كي منكرات اور بري اشياء اس لئے شمار كي ہيں كہ ميں نےديكھا ہے كہ مسلمانوں كےبعض گروہ اس ميں مبتلا ہوچكےہيں اور ان ميں سے بہت سارے اس سےجاہل ہيں كہ يہ كام نصاري كےدين ميں سےہيں، مجھے ان سب كاموں كا تو علم نہيں جو وہ كرتےہيں بلكہ ميں نےوہ كام ذكر كئےہيں جو بعض مسلمان كرتےہيں اور وہ اصل ميں عيسائيوں سے ليے گئےہيں.
4 - عصرحاضرميں ان كےبعض تہوار بہت بڑے اجتماع ميں بدل چكے ہيں اس كےخصائص وہي پرانےتہوار والے ہيں، اور اس ميں بہت سارے مسلمان بغير كسي علم كےہي شريك ہوجاتےہيں، جيسا كہ كھيلوں كےاولمپك مقابلےہوتےہيں جو كہ اصلا يونانيوں اور پھر روميوں اور پھر عيسائيوں كا تہوار ہے، اور اسي طرح وہ مہرجانات جو خريدوفروخت يا پھر ثقافت وغيرہ كےنام سےمنعقد كئےجاتےہيں حالانكہ اصل ميں مہرجان فارسيوں كا تہوار ہے، اور ان مہرجانوں كا انعقاد كرنےوالے اكثرلوگ اس سےجاہل ہيں.
5 - شر اور برائي كواس ليےجاننا كہ اس سے بچا اوراجتناب كيا جائے، خذيفہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ: لوگ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے خيروبھلائي كےبارہ ميں سوال كيا كرتےتھےاور ميں شروبرائي كے متعلق ان سےاس ڈر كي بنا پر سوال كرتا كہ كہيں مجھے وہ پا نہ لے.
يہ تو ہر ايك كےعلم ميں ہے كہ سب سےعظيم شر اور خطرناك بيماري يہ ہےكہ ايك مسلمان شخص كسي ايسے شعار كا مرتكب ہو جوكفار كےشعار ميں اور ان كي خاص عادات ميں سےہو اور مسلمان اسےجانتا تك نہ ہو حالانكہ ہميں اس سےاجتناب كرنےاوربچنےكا حكم ديا گيا ہے كيونكہ وہ پليدي اور گمراہي ہے.
6 - بہت سے ايسے دعوے اورمنافقت كي آوازوں كي كثرت جو امت مسلمہ كواس كي اصليت سےنكالنا چاہتي اور اس كي شخصيت كا خاتمہ كرنا اور اسے كفار كےمنہج اور طريقہ ميں ڈھالنا چاہتي ہيں، اوراس آوزوں اور دعووں كےبالكل جوتےكے برابر پيروي كرنے والے انسانيت، عالميت، كونيت، اور دوسروں كےساتھ خوش باشي اوراس سے ثقافت كےحصول جيسےكھوكھلےاور غلط نعروں كےتحت اسلامي اقدار كا خاتمہ چاہتےہيں، جس سے حتمي طور پر يہ علم ہوتا ہے كہ دوسرے يعني كافر كےپاس جوگمراہي وضلالت، اور انحراف ہے اسے ننگا كرنےاوراس كي نوسربازي كو ظاہر كرنے اوراس كےخوبصورت پردے جوان قبيح قسم كےدعووں كےصورت ميں ہيں كو چاك كرنےكےليے اسےجاننا ضروري ہوجاتا ہے، تاكہ جو كوئي زندہ رہنا چاہتا ہے تو وہ دليل اور برہان كےساتھ زندہ رہے تاكہ:
{تا كہ جوہلاك ہو دليل پر( يعني يقين جان كر ) ہلاك ہو اور جو زندہ رہے وہ بھي دليل پر ( حق پہچان كر ) زندہ رہے} الانفال ( 42 ).
اور تاكہ محمد صلي اللہ عليہ وسلم كےاتباع وپيروكاروں پر حجت قائم ہو جائے اور وہ دھوكہ اور فراڈ ميں نہ آجائيں.
فرعونوں كےتہوار:
فرعونوں كےتہواروں ميں: باد نسيم سونگھنےكا تہوار، جو كہ ايام كے تقدس كےليےمنايا جاتا ہے ان لوگوں كا قرب اور فال حاصل كرنے كےلئے جو غيراللہ كي عبادت كرتےتھے، شيخ محفوظ نے وہ كچھ ذكركيا ہے جوكچھ ان كےدور ميں فسق وفجوراور ذلت ہوتي رہي ہے، جس سے پيشاني بھي شرم سے جھك جاتي ہے وہ اس طرح كہ كھيت وكھلوان اور خالي جگہيں فاجر وفاسق اور بےحيا لوگوں كي جماعتوں سے اٹ جاتے اور سب بوڑھے بچے اورجوان مرد وعورتيں باغوں اور پاركوں اور نہروں ودرياؤں كي طرف زنا كا ارتكاب كرنےاور شراب نوشي وغيرہ كےلئےكھنچے چلےآتے ان كا گمان تھا كہ اس دن ميں ان كے لئے ہر قسم كي خباثب جائز ہے.
اور اس دن ميں ان كےاوہام ميں يہ بھي تھا كہ: سونے والے شخص كے سر كےنيچے پياز ركھتے اور اسے دروازوں پر يہ گمان كرتےہوئے لٹكاتے كہ اس سے ان كي سستي اور كاہلي اور بدہضمي دور ہوجاتي ہے، فرعونوں كےتہواروں ميں يہ معدود تھا، اور يہ بھي كہا گيا ہے كہ اسے قبطيوں نےايجاد كيا، اس ميں كوئي مانع نہيں كہ يہ دونوں نےہي كيا ہو اور ان ان كي طرف منتقل ہوا ہو اور ابھي بہت سے اہل مصر خاص كر قبطي اس كا جشن مناتے ہيں اوراس ميں بہت سے مسلمان لوگ بھي شركت كرتےہيں.
اور اس آخري دور ميں بہت سے علماني مصنفوں نے اس كےمتعلق لكھا ہے اور اس كي مطالبہ كيا ہے كہ يہ تہوار سركاري طور پر منايا جائےتا كہ فرعونوں كي ثقافت زندہ ہوسكے، اس وقت ميں جبكہ وہ اسلامي شعائر كو تخلف اور ترقي پذير كانام ديتےہيں.
يونانيوں كےتہوار:
يونانيوں كےہاں سال كےبہت سےمہنيےہيں جن كےنام ان كےتہواروں كي مناسبت سےركھےہوئےتھے، اور ان كےتہواروں كا خرچہ غني اور مالدار لوگ برداشت كرتےتھے، ان كےعام اور اكثر تہواروں كا تعلق ان بت پرست دين كے شعائر پر جو كہ كئي ايك معبودوں پر مبني تھا كےساتھ رہا ہے، ان كے تہواروں كي تعداد بہت زيادہ ہوچكي تھي تا كہ وہ ان تہواروں سے زندگي كي تھكاوٹ كو دور كرسكيں، حتي كہ يہ تہوار اتني كثرت سےتھے كہ كوئي بھي مہينہ ايك يا كئي ايك تہواروں سےخالي نہ تھا صرف ايك مہينہ جسے وہ ممكٹريون كا نام ديتےتھےيہ مہينہ تہوار سےخالي رہا.
اور ان كےيہ تہوار فحاشي اور زناكاري، شراب نوشي، اورمطلقا حيواني خواہشات كوپورا كرنے اور جو چاہے كرنے كا نشان بن چكےتھے، جيسا كہ ان تہواروں ميں كئي قسم كي خرافات اور گمراہياں بھي تھيں مثلا ان كا گمان تھا كہ مردوں كي روحيں حاضر ہوتي اور پھر تہوار ختم ہونے پر واپس جاتي يا انہيں دھتكار ديا جاتا ہے .
ان كےمشہور تہواروں ميں مندرجہ ذيل تہوار شامل ہيں:
اولمپك كا تہوار جو كہ اليس ميں ہر چار برس بعد منعقد كيا جاتا ہے اور سب سے پہلا معترف اولمپيئن سن ( 776 ) ميلادي ميں ہوا اور يہ جشن اور تہوار ان كےسب تہواروں اور موسمي اجتماعات سے بڑا ہوتا ہے، اس تاريخ سے ليكر ان مقابلوں پر اولمپك مقابلوں كااطلاق ہونےلگا، اور اس كا ايك وطني رنگ اورقومي مضامين تھے حتي كہ يہ كہا جانےلگا:
كہ يوناني لڑائيوں ميں فتح حاصل كرنے سے زيادہ اولمپك مقابلےجيتنےپر فخر كرتےہيں، اور اس وقت يہ تہوار سب سےبڑا تھا.
كھيلوں كےيہ مقابلےآج تك منعقد ہو رہےہيں اور ان كاانعقاد عيسائي امت ہي اسي پرانےنام اور وراثتي علامات وشعار كےساتھ منعقد كرواتےہيں اس كا علامتي نشان اولمپك مشعل جلانا اور اسے اولمپك كھيليں منعقد كروانے والے ملك منتقل كيا جاتا ہے بلكہ افسوس كےساتھ يہ كہنا پڑتا ہے كہ اب اس مشعل كو جلا كرپوري دنيا ميں گھمايا جاتا ہے.
اور افسوس ہے كہ اب كچھ مسلمان بھي اس ميں شركت كرنا فخر محسوس كرتےہيں، اور اكثر لوگ اس سےغافل ہيں كہ اصل ميں يہ كفار كا بہت بڑا تہوار اور ان كےبت پرست دين ميں مقدس ايام ہيں، لھذا ہم گمراہي اور اندھي تقليد سےاللہ تعالي كي پناہ ميں آتےہيں.
اوريونانيوں كےاور بھي بڑے بڑے تہوار ہيں مثلا ہيلن يونيورسٹي كے تہوار، اورايونيہ يونيورسٹي كےتہوار وغيرہ .
روميوں كے تہوار :
سب امتوں ميں روميوں كےسب سےزيادہ تہوار ہيں وہ اس طرح كہ ايك برس ميں ايك سوسےزيادہ مقدس ايام ہيں جنہيں وہ تہوار سمجھتےہيں، ان ميں ہر ماہ كا پہلا دن بھي شامل ہے، اور يہ بعض تہوار فوت شدگان اور عالم سفلي كي ارواح كي تقديس كے ليے خاص ہيں، ان كےگمان كےمطابق ان كے تہواروں اوران ميں جو كچھ كيا جاتاہے فوت شدگان كے غضب كو ختم كرنے ليےہے.
ان كے مشہور تہوار يہ ہيں:
ہر برس چودہ فروري كواپنےبت پرست دين كےمطابق يہ اعتقاد ركھتے ہوئے حب الہي كا تہوار مناتےہيں اور يہ تہوار ( 1700) برس قبل ايجاد كيا گيا جبكہ روميوں ميں بت پرستي كا دور دورہ تھا اور ان كي حكومت نے بشپ ويلنٹائن جو كہ ايك بت پرست تھا اور پھر عيسائيت قبول كرلي كو پھانسي لگا ديا تھا، لھذا جب روميون نے عيسائيت قبول كي تو انہوں نے اس دن كو شھدائےحب يعني محبت كےدن كا تہوار بنا ديا اور آج تك امريكا اور يورپ ميں يہ تہوار منايا جاتا اور دوستي ومحبت كےشعور كا اعلان كرنے اور مياں بيوي اور محبت كرنے والوں كي محبت كي تجديد كا عہد كرنےكےلئےمناتے ہيں اور اس تہوار كا اجتماعي اور اقتصادي طور پر اہتمام ہونےلگا ہے، اوراب اسے ويلنٹائن ڈے كانام دے ديا گيا ہے.
اور لگتا ہےكہ اسي طرح كا ايك اور تہوار پيدا ہوچكا ہے جو كہ خاوند بيوي يا دومحبت كرنے والوں كا تہوار ہے خاوند بيوي اسے ہربرس اپني شادي كے دن ميں محبت كي تاكيد كےلئےمناتےہيں اور ميل جول كي بنا پر يہ تہوار اب مسلمانوں ميں بھي منتقل ہو چكا ہے، بہت سےمسلمان ممالك ميں خاوند اور بيوي كفار سےمشابہت كرتے ہوئے شادي كي رات ميں خاص كرمناتےہيں، لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلي العظيم.
يہوديوں كےتہوار :
1 - عبري سال كے آخر ميں ہيشا كےنام سےتہوار منايا جاتا ہے اس كے متعلق ان گمان ہے كہ اسميں ذبيح اسحاق عليہ السلام كےبدلےميں فديہ ديا گيا تھا ( ان كے غلط گمان كے مطابق حالانكہ ذبيح تو اسماعيل عليہ السلام ہيں نہ كہ اسحاق عليہ السلام ) اور مسلمانوں يہ تہوار مسلمانوں كےہاں عيدالاضحي كے مقام پر ہے.
2 - صوماريا يا كيبور كا تہوار جسے وہ يوم غفران يعني بخشش كا دن كہتےہيں.
3 - المظلل يا الظلل كا تہوار جو كہ پندرہ تشرين ( 15 اكتوبر ) كو مناتےاور اس ميں درخت كي ٹہنيوں كا سايہ حاصل كرتےہيں اور اسے وہ مريم عذراء كےروزے كے دن كا نام بھي ديتےہيں .
4 – عيد الفطير جو پندرہ نيسان ( 15اپريل ) كو اس مناسبت سےمنايا جاتا ہے كہ تيرہويں صدي قبل ميلادي ميں بني اسرائيل نےمصر ميں غلامي سے فرار اختيار كيا تھا، اور اس تہوار كا قصہ توراۃ كےاصحاح ثاني عشر كے سفر خروج ميں بيان كيا گيا ہے،اس تہوار كي مدت آٹھ دن ہيں اوريہ مقبوضہ فلسطين ميں منايا جاتا ہے، اور اصلاح پسند يہودي اسے اپنےعلاقوں ميں سات دن تك مناتےہيں ، اور اس ميں ان كا ايك جشن بھي ہے جس كا نام ( السيدار ) ہے اور اس تہوار ميں الحقادا كتاب ميں سے بني اسرائيل كےفرار كا قصہ پڑھتےہيں، اور بغير خميرشدہ روٹي كھاتےہيں اس ليے كہ جب بني اسرائيل فرار ہوئے توانہوں نےيہ كھائي تھي كيونكہ ان كےپاس خمير كرنے كا وقت ہي نہيں تھا اور آج تك يہودي اس تہوار ميں يہ روٹي كھاتےہيں.
5 - عيد الاسابيع يا ( العنصرۃ ) يا ( الخطاب ) كا تہوار ان كا گمان ہے كہ يہ وہ دن ہے جس ميں اللہ تعالي نے موسي عليہ السلام سےكلام فرمائي تھي.
6 - يوم التكفير ( كفارہ كا تہوار ) يہودي سال كے دسويں مہينہ ميں منايا جاتا ہے، اس تہوار ميں آدمي نو دن كےليے دوسروں سے كٹ كر عبادت كرتا اورروزے ركھتا ہے اوراسےايام توبہ كانام ديا جاتا ہے.
7 - الہلال الجديد، نئےچاند كاتہوار، يہ تہوار ہر نيا چاند طلوع ہونے پر منايا جاتا تھا وہ اس طرح كہ بيت المقدس ميں سينگ ميں پھونك ماري جاتي اور اس كي خوشي ميں آگ جلائي جاتي تھي.
8 - عيداليوبيل ، اس كا بيان سفر اللاويين ميں كيا گيا ہے.
اس كےعلاوہ بھي ان كےكئي ايك تہوار ہيں جن ميں مشہور يہ ہيں: كاميابي كا تہوار ( البوريم ) اور اسے التبريك ( مباركبادي ) كانام بھي ديتے ہيں.
عيسائيوں كےتہوار :
1 - قيامت كا تہوار: اسے عيد الفصح ( ايسٹر ڈے ) كانام بھي ديا جاتا ہے، اور عيسائيوں كا سب سے اہم سالانہ تہوار ہے، اور اس سے قبل بڑا روزہ ہوتا ہے جو چاليس يوم تك الفصح كےتہوار ( ايسٹر ڈے ) سےقبل تك چلتا ہے، اور يہ تہوار عيسائي مسيح عليہ السلام كي واپسي كي ياد يا انہيں سولي پر لٹكانے كے بعد اس كي قيامت جو كہ ان كي موت كے دو دن بعد كي ياد ميں منايا جاتا ہے،( ان كےاپنے گمان كےمطابق ) اور يہ مختلق قوانين اورشريعتوں كا خاتمہ ہے جو كہ يہ ہيں:
ا - بڑے روزے كي ابتدا جو كہ ايسٹر ڈے سے چاليس يوم كا روزہ ہے اور وہ بدھ كےدن روزہ شروع كرتےہيں جسے وہ رتيلا بدھ كانام ديتےہيں، اس ليے كہ وہ حاضرين كي پيشانيوں پر ريت ركھتےہيں اور باربار يہ دہراتےہيں : ( ہم مٹي سے شروع كرتےہيں اور اس كي طرف پلٹيں گے ) .
ب - پھر اس كےپچاس دنوں بعد پچاسويں يا عنصرہ كےتہوار پر ختم كرتے ہيں .
ج - تكليفوں كا ہفتہ: يہ روزے كي مدت كا آخري ہفتہ ہوتا ہے اور ان حادثات كي طرف اشارہ كرتاہے جو عيسي عليہ السلام كو موت اور ان كي قيامت كي طرف لےگئے، جيسا كہ وہ گمان كرتےہيں .
د - احد العسف، يہ وہ اتوار كا دن ہے جو ايسٹر ڈے سے قبل آئے اور يہ ميسح عليہ السلام كا بيت المقدس ميں كامياب داخل ہونے كي ياد كےطور پر منايا جاتا ہے.
ھ - خميس العہد: يا الصعود عہد والي جمعرات، يہ مسيح عليہ السلام كےآخري كھانےاور ان كي قيد كي طرف اشارہ كرتي ہے.
و ـ الجمعۃ الحزينۃ: غم والا جمعہ، يہ ايسٹر ڈے سے پہلے والا جمعہ ہے اور صليب پر مسيح عليہ السلام كي موت كي طرف اشارہ كرتا ہے( ان كےگمان كےمطابق ) .
ز ـ سبت النور: روشني والا ہفتہ كا دن ، يہ وہ ہفتےكا دن ہے جو ايسٹر ڈے سےقبل آتا ہے، اور مسيح عليہ السلام كي موت كي طرف اشارہ كرتا ہے اور يہ دن مسيح عليہ السلام كا ايسٹر ڈے منانے كےانتظار كا دن ہے، اور يہ ايسٹرڈے كےسارے جشن يوم صعود يا خميس الصعود ( چڑھنےكي جمعرات ) ميں ختم ہو جاتےہيں جہان ہر گرجےميں ميسح عليہ السلام كا آسمان پڑ چرھنے كا قصہ پڑھا جاتا ہے، اور عيسائيوں ميں مذاہب اور ممالك مختلف ہونے كي بنا پر تہوار بھي مختلف اور كئي ايك ہيں، اور وہ سابقہ جمعہ اور جمعرات كو بڑي جمعرات اور بڑا جمعہ كا نام ديتےہيں ، جيسا كہ شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي ذكر كيا ہے، اور حافظ ذھبي رحمہ اللہ تعالي كا رسالہ: ( تشبيہ الخسيس باھل الخميس ) سے بھي يہي جمعرات مراد ہے، اور يہ جمعرات ان كےروزے كا آخري دن ہوتا ہے اور اسے وہ خميس المائدۃ يعني دسترخوان كي جمعرات كا نام بھي ديتےہيں، جو كہ سورۃ المائدۃ ميں اللہ تعالي كےاس فرمان ميں مذكور ہے:
{عيسي بن مريم عليہ السلام نے دعا كي اے اللہ اے ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے كھانا نازل فرما كہ وہ ہمارے لئے يعني ہم ميں جو اول ہيں اور جو بعد كے ہيں سب كے لئے ايك خوشي كي بات ہو }المائدۃ ( 114 )
بہت سے مؤرخين نےذكر كيا ہے كہ ان كےان تہواروں ميں بہت عجيب وغريب كام تھےجن ميں درختوں كےپتےجمع كركےانہيں صاف كرنا اور اس سے غسل كرنا اور انہيں آنكھوں ميں ڈالنا شامل ہے، اور مصر كےقبطي كچھ ايام نيل ميں غسل كرتے اور ان كا يہ گمان تھا كہ اس ميں دم درود ہے.
اور ان كےہاں ايسٹر ڈے بڑے روزے كےافطار كا دن ہے اور ان كا يہ گمان تھا كہ ميسح عليہ السلام سولي چڑھنےكے تين يوم بعد كھڑے ہوئے اور آدميوں كو جہنم سے نجات دلائي، اس كے علاوہ كئي ايك خرافات بھي ہيں جن كا ذكر شمس الدين الدمشقي الذھبي رحمہ اللہ تعالي نےكيا ہے كہ: اس دن اہل حماۃ چھ دنوں كےلئے كام كاج چھوڑ ديتے اور انڈوں كو رنگتےاور كيك تيار كرتےہيں، انہوں نے كئي قسم كے فساد اور اختلاط كي اقسام ذكر كي ہيں جو اس وقت كي جاتي تھيں، اوريہ بھي ذكر كيا ہے كہ اس ميں مسلمان بھي شريك ہوتے اور ان كي تعداد عيسائيوں كي تعداد سے تجاوز كرجاتي ہے، اللہ كي پناہ.
ابن الحاج نےذكر كيا ہےكہ: وہ اعلانيہ طورپر فحش كام كرتےہيں اور انہيں كوئي روكنےوالا نہيں، لگتا ہے كہ اسي چيز نے شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے اس منكر كےخلاف آواز اٹھائي جو انہوں نےمسلمانوں ميں عيسائيوں كے تہواروں ديني شعار ميں ان كي تقليد كركے پيدا كي، انہوں نے اس ميں سے بہت سي اشياء اپني كتاب الاقتضاء ميں ذكر كي ہيں اور اسي طرح امام ذھبي رحمہ اللہ تعالي نے اپنے رسالہ ميں بھي ذكر كيا ہے جس كا ذكر ابھي كيا گيا ہے.
عيسائي آج تك موسم بہار كا چاند مكمل ہونے كےبعد پہلي اتوار كے دن ( 22 مارچ سے 25اپريل تك كےدوران ) جشن مناتےہيں اور ارتھوڈكس چرچ كے پيروكا باقي عيسائيوں سے اس جشن كو دير سےمناتےہيں اور يہ عيسائي سال كےميں شعار اور روزے اور ايام كا مكمل موسم ہے.
2 - مسيح عليہ السلام كي عيد ميلاد يورپي لوگ اسے ( كرسمس ڈے ) كا نام ديتےہيں جو كہ پچيس دسمبر كو عام عيسائيوں مناتے ہيں، اور قبطي كے ہاں يہ ( 29 كيھك ) كےموافق آتا ہے اور يہ زمانہ قديم سے منايا جارہا ہے اور كتب تاريخ ميں بھي مذكور ہے: مقريزي كا كہنا ہے كہ:
قاہرہ اور مصر اور مصر كے سب علاقوں ميں ہم نے عيدميلاد( كرسمس ڈے ) كو بڑے تزك واحتشام سےمناتے ہوئےپايا جس ميں نقش ونگار والي شمعيں فروخت ہوتےہوئےپايا جسے فانوس كا نام ديا جاتا ہے.
عيسائيوں كي يہ عيد ميلاد مولد مسيح كي ياد ميں ہر برس منائي جاتي ہے ، اور اس ميں ان كي كئي ايك عبادات اور شعار بھي ہيں اس طرح كہ وہ گرجا گھروں ميں جا كر خصوصي نمازوں كا اہتمام كرتے ہيں، عيد ميلاد كا قصہ ان كي انجيل ، لوقا اور انجيل متي ميں مذكور ہے اور اس كي سب سے پہلي تقريب ( 336 ) ميلادي ميں منائي گئي اور يہ بت پرستي كےشعار سے متاثرہوئي اس طرح كہ رومي روشني اور فصل كاٹنے كےالہ كا جشن منايا كرتے اور جب روميوں كا سركاري مذھب عيسائت بنا تو عيد ميلاد يورپ ميں روميوں كا سب سے اہم جشن اور تہوار بن گيا اور بشب نيكولس يورپي ممالك ميں عيد ميلاد كےتحفے دينے كي علامت بن گيا، پھرخاص كر بچوں كو تحفے دينے كي علامت بشپ نيكولس كي جگہ پوپ نويل نے لے لي ، اور مختلف ممالك ميں بہت سے مسلمان ان شعار اور عادات سے متاثر ہوئے اس طرح كہ پوپ نويل كي علامت والےتحفے مسلمانوں كي دوكانوں اور ماركيٹوں ميں معروف ہوگئے اور كتنےہي گھر ايسے تھے جن ميں يہ تحفے اور ہديہ جات داخل ہوئے اور كتنے ہي مسلمان بچے پوپ نويل اور اس كے ہديہ جات جاننے لگے، لاحول ولا قوۃ الا باللہ.
اس تہوار ميں عيسائيوں كے كئي ايك شعار اور علامتيں ہيں:
فلسطين اور اس كےاردگرد كےعيسائي عيد ميلاد كےدن بيت لحم ميں جمع ہوتے جہاں مسيح عليہ السلام كي پيدائش ہوئي اور نصف رات كو عبادت كرتےہيں اور ان كےشعار ميں تيس نومبر كي قريب ترين اتوار كو جشن منانا ہے جو كہ بشپ انڈريوس كا تہوار ہے اور يہ عيسي عليہ السلام كےقدوم كا پہلا دن ہے، اور يہ تہوار اپنے جوبن پر اس وقت ہوتا ہے جب نصف رات كو بشپ جاگتےہيں جبكہ گرجا گھروں كو سجايا جاتا اور لوگ عيد ميلاد كے ترانے گاتے ہيں اور تہوار كا موسم ( 6 جنوري ) كو ختم ہوجاتا ہے، اور ان ميں سے بعض كرسمس ٹري كےتنے كو جلاتےہيں پھر غير جلےہوئے حصہ كو محفوظ كرليتے ہيں اور اعتقاد يہ ركھتےہيں كہ يہ جلنا نصيب كو كھينچ ليتا ہے، اور يہ اعتقاد برطانيا، فرانس اور اسكنڈنافي ممالك ميں پايا جاتا ہے.
3 - تہوار الغطاس جو كہ 19جنوري اور قبطيوں كےہاں ماہ طوبہ كي گيارہ تاريخ كومنايا جاتا اور ان كےہاں اس كي اصل يہ ہے كہ يحي بن زكريا عليہما السلام جوان كےہاں يوحنا معدان كےنام سے معروف ہيں انہوں نے مسيح عليہ السلام كواردن كي نہرميں بپتسمہ ( عيسائيوں كےہاں بچےكو غسل دينےكي ايك رسم كانا ہے ) ديا تھا اورجب انہيں غسل ديا تو ان سے روح القدس ملے تھے، تواس لئےعيسائي اپني اولاد كو آج تك پاني ميں غسل ڈبوتےاور سب لوگ جمع ہوكراس ميں اترتےہيں.
مسعودي نےاس تہوار كےمتعلق ذكر كيا ہے كيونكہ يہ تہوار اس كےدور ميں بہت تزك احتشام طريقہ سےمصر كےاندرمنايا جاتا تھا، جس ميں ہزاروں كي تعداد ميں عيسائي اور مسلمان جمع ہو كر دريائے نيل ميں غوطےلگاتےاور ان كا گمان ہے كہ اس طرح بيماريوں سے محفوظ رہا جاتا اور بطورعلاج منترہے اور اسي مفہوم كےمطابق آرتھوڈكس چرچ كےپيروكاريہ تہوار مناتےہيں ليكن كيتھولك اورپروٹسٹينٹ چرچ كےپيروكار اس تہوار كا اور مفہوم ليتےہيں، وہ مفہوم يہ ہےكہ وہ مشرق سےآنےوالے تين اشخاص جنہوں مسيح عليہ السلام كو رضاعت مہيا كي ان كي ياد ميں يہ تہوار مناتےہيں.
اور الغطاس اصل ميں اغريقي كلمہ ہے جس كا معني ظھور ہے اوريہ ايك ديني اصطلاح ہے جو ظھور غير مرئي سےمشتق اور توراۃ ميں بيان ہوا ہے كہ اللہ تعالي نے موسي عليہ السلام كے لئے ايك جلےہوئےدرخت كي شكل ميں تجلي فرمائي، ( اللہ تعالي ان كےقول بلندوبالا اور پاك ہے ) .
سال نوكا تہوار: يہ تہوار ميلادي سال كےآخرميں منايا جاتا ہے، اوراس دور ميں اسےبہت اہميت حاصل ہے، وہ اس طرح كہ عيسائي ممالك اوربعض اسلامي ممالك ميں بھي يہ تہوار منايا جاتاہے، اور يہ تہوار زمين كي ہر جگہ سے باآواز اور باتصوير اسے نشر كيا جاتا ہے اور اخبار اورميگزين اسے صفحہ اول پر جگہ ديتےہيں اور فضائي چينل بھي اسےبڑي اہميت ديتےہيں.
اور اس وقت يہ ملاحظہ كيا جارہا ہے كہ بہت سے مسلمان لوگ جن كے ملكوں ميں يہ عيسائي تہوار نہيں منايا جاتا وہ اس تہوار ميں شركت كے لئے عيسائي ممالك جاتےہيں اور اس ميں ہونےوالے فحش اورحرام كاموں سے فائدہ اٹھانے كي كوشش كرتےہيں اوروہ اس گناہ اور برائي سے غافل ہيں جوكفار كے شعار ميں پائي جاتي ہے.
( 31 ديسمبر ) كےبارہ ميں عيسائيوں كےعجيب وغريب اور باطل اعتقادات اور خرافات پر مبني ہيں اوريہ تہوار بھي اسي طرح خرفات سےبھرا ہوا ہے جس طرح باقي تہواروں ميں خرافات پائي جاتيں ہيں.
اوريہ اعتقادات نئي ترقي ( حضارۃ ) كےمرہون منت ہيں اور ان كےپيدا كردہ ہيں جواپنےآپ كو ترقي يافتہ اور شہري كہتےہيں اور ہماري قوم كے ان منافق صفت لوگوں كےخيالات ہيں جوان عيسائيوں اور غيرمسلموں كےشعار اورعلامات كي اتباع اور پيروي ميں اس طرح برابري كرر ہے جس طرح ايك جوتا دوسرے كےبرابر ہوتا ہے، تاكہ ہم اس كي ضمانت ديں كہ ہم بھي ترقي يافتہ اور شہري زندگي كے دلدادہ ہيں حتي كہ يہ گوري چمڑي اور نيلي آنكھوں والے اس سے راضي ہوجائيں !!
اور ان اعتقادات ميں يہ بھي شامل ہے كہ: جو شخص اس رات نصف شب گزرنے كےبعد شراب كا آخري گلاس پيئےگا اس كےنصيب اچھےہوں گے، اور اگر وہ وہ كنوارہ ہو توشب اس رات بيدار رہنےوالوں ميں اپنےدوست واحباب ميں سب سےپہلےاس كي شادي ہوگي، اور سال نو كےتہوار پر بغير كسي تحفے كے كسي كے گھر ميں داخل ہونا بہت منحوس شمار كيا جاتا ہے، سال نو كےدن گردو غبار كي صفائي كرنےسے اچھےنصيب بھي ختم ہو جاتےہيں، اور اس دن برتن اور كپڑے دھونا بھي نحوست ميں شمار كيا جاتا ہے، اور كوشش كي جاتي ہے كہ سال نوكےتہوار كي رات بھر آگ جلتي رہے اسے اچھےنصيب كي علامت شمار كيا جاتاہے، اس كےعلاوہ اور بہت سي بےہودہ خرافات ہيں.
اس كےعلاوہ بھي عيسائيوں كےكئي ايك تہوار ہيں، جن ميں سےكچھ تو قديم اور كچھ نئےايجاد كردہ ہيں، اوركچھ ايسےتہوار ہيں جوانہوں نے اپنےسے قبل يونانياور روميوں سے ليےہيں، اوركچھ ايسےتہوار ہيں جوان كےدين ميں تھےاورپھرمٹ كرناپيد ہوگئے، اوران تہواروں كچھ تہوار توبڑے اور ان كےليے بہت اہم ہيں اور كچھ ايسےبھي ہيں جو چھوٹےاوركچھ چرچ اورمذہب كے پيروكاروں ميں كم اہميت ركھتےہيں.
اورہر مذہب اورفرقہ والوں كےخاص تہوار ہيں جوان كےچرچوں اور پادريوں اور بشپوں كےساتھ خاص ہيں جودوسرے مذہب كےپيروكار تسليم نہيں كرتے، لھذا پروٹسٹنٹ فرقہ كےپيروكار دوسرے چرچوں كےپيروكاروں كےتہوار كونہ تو تسليم كرتےاورنہ ہي اس پر ايمان ركھتےہيں، ليكن وہ بڑے بڑے تہواروں مثلا ايسٹر ڈے اور ميلاد مسيح عليہ ( كرسمس ڈے ) اور سال نو اور غطاس ( بپتسمہ يعني غوطے لگانےكا ) تہوار ان سب پر متفق ہيں اگرچہ اس ميں كيےجانےوالےكاموں اور شعار ميں اختلاف پايا جاتا ہے، ياپھر بعض اسباب اورتفصيلات اوراس كي جگہ اور وقت كےمتعلق بھي اختلاف پايا جاتا ہے.
فارسيوں كےتہوار:
1 - نوروز كا تہوار: اور نوروز كامعني جديد اور نيا ہے، يہ چھ دن منايا جاتا ہے، جب وہ كسري ( يہ فارسيوں كےبادشاہ كا لقب ہوتا تھا ) كےدور ميں تھے، پہلےپانچ ايام ميں وہ لوگوں كي ضروريات پوري كرتے اور چھٹےاور آخري دن كو اپنےاور اپنےمصاحبين كےلئے مخصوص كرتےاوراس ميں اس ميں انس ومحبت كي مجلسيں قائم كرتےاوراسے نوروز الكبير يعني بڑے نوروز كانا ديتے تھےاوريہ ان كا سب سےبڑا تہوار ہے.
پہلےلوگوں نےذكر كيا ہے كہ سب سےپہلےنوروز كاتہوار حمشيد الملك نے منايا تھا اور اس كےدور ميں ہي ھود عليہ السلام مبعوث ہوئےتھے، اور دين كو بدلا جاچكا تھا، جب حمشيد بادشاہ بنا تواس نے دين كي تجديد كي اور عدل وانصاف كوعام كيا، توجس دن وہ تخت بادشاہي پر براجمان ہوا اسے نوروز كا نام ديا گيا، اورجب سات سوبرس كي عمر كو پہنچا اور اس دوران نہ تو وہ بيمارہوا اور نہ ہي كوئي سردرد اور تكليف ہوئي تو جابر اورسركش ہوگيا، اوراس نےاپنا ايك مجسمہ بنا كر اپنے گورنروں كوبھيجا تا كہ وہ اس كي تعظيم كريں، اورعوام نے اس كي عبادت كرنا شروع كردي اوراس كي شكل جيسےبت بنا لئے، توان پريمن كےعمالقہ ميں سے ضحاك العلواني نے حملہ كركےاسےقتل كرديا جيساكہ تاريخ ميں اس كا ذكر ملتا ہے.
اورفارس كےلوگوں ميں سےكچھ ايسے بھي ہيں جو يہ گمان كرتےہيں كہ نوروز وہ دن ہے جس ميں اللہ تعالي نے نور پيدا فرمايا، اورنوروز كو فارسي سال كا سال نوشمار كيا جاتا ہے، جو كہ گيارہ مارچ كےدن موافق ہے، اوران كےعوام كي عادت تھي كہ اس رات وہ آگ جلاتےاور اس كي صبح پاني چھڑكتےتھے.
اور بہائي فرقےكےلوگ بھي نوروزكاتہوار مناتےہيں، وہ اس لئے كہ ان كےانيس روزوں كي مدت ختم ہوتي ہے جو كہ ( انيس آذار يعني مارچ ) ميں مناتےہيں.
اور قبطيوں كےہاں بھي نوروز منايا جاتا ہے جو كہ سال كا پہلادن ہوتا اور اس كانام بادنسيم سونگھنےكاتہوار ( عيد شم النسيم ) ركھا ہوا ہے، ان كےہاں اس كي مدت بھي چھ يوم ہے جو (6حزيران يعني 6جون ) سے شروع ہوتاہے، اوراس تہوار كا ذكر فرعونوں كےتہواروں ميں بھي گزرچكا ہے، لھذا اس ميں كوئي مانع نہيں كہ يہ قبطيوں كا تہوار ہو اور انہوں فرعونوں كي ثقافت وآثار سےليا ہو اورخاص كر يہ سب مصر ميں ہے.
2 - مہرجان كا تہوار: كلمہ مہرجان ( مہر) اور ( جان ) كا مركب ہے اور اس كا معني وفا كا بادشاہ ہے، اس تہوار كي اصل يہ ہےكہ افريڈن كي ضحاك علواني جس نے حمشيد الملك تہوار نوروز كےباني كو قتل كيا تھا پر فتح اور كاميابي كي خوشي منائي جاتي ہے، اور يہ بھي كہا جاتاہےكہ: موسم خزاں كے اعتدال كا جشن ہے، اس ميں كوئي مانع نہيں كہ جوكچھ پہلےذكر كيا ہے وہي اس تہوار كي اصل ہوليكن موسم خزاں كےاعتدال كا وقت اس جشن كےوقت ہو تويہ اسي موسم ميں منايا جانےلگا، تواس طرح اس تہوار كا جشن ( سرياني مہينہ تشرين الاول كي 26تاريخ ) يعني 26اكتوبر كو منايا جاتا ہے، اور يہ پہلےتہوار كي طرح چھ دن كا ہوتا ہے.
اورچھٹےروز بڑا مہرجان مناتےہيں، وہ اس اور نوروز كےتہوارميں كستوري، عنبر اور عود ہندي اور زعفران، كافور وغيرہ كا ہديہ پيش كرتےاوران دونوں تہواروں ميں اسلام كےاندر ہديہ جات دينےكي يہ رسم سب سے پہلے حجاج بن يوسف ثقفي نےشروع كي، اور اسي طرح جاري رہي حتي كہ عمربن عبدالعزيز رحمہ اللہ تعالي نے اسےختم كيا.
اورسب سے بڑي آزمائش اور مصيبت يہ ہے كہ مسلمان بھي اس وقت اپنے بہت سےاجتماعات اورجشن وخوشيوں اور اجتماعي ثفافتي اور اقتصادي اجتماعات بلكہ حتي كہ دعوتي اجتماعات كو بھي مہرجان كےنام سےموسوم كرنے لگےہيں اور كہاجاتا ہے كہ ثفافتي مہرجان، اورخريدوفروخت كا مہرجان ، اور كتابوں كا مہرجان، اور دعوتي مہرجان، اوراس طرح كےكئي اوراعلانات ديكھنےاور سننےميں آتےرہتےہيں اور ہم بہت سي عبارتيں سنتےہيں جواس بت پرستي والي اصطلاح ( مہرجان ) سےنكلتي ہيں جو كہ آگ كےپجاريوں كا تہوار ہے.
لہذا اس فارسي شعار اورعلامت كا مسلمانوں كےاجتماعات پر اطلاق كرنا جائز نہيں اور اس سےمنع كيا گيا ہے جس كےاستعمال سےاجتناب ضروري ہے، اور اس كےمقابلےميں بہت سےمباح الفاظ اور عبارتيں ہيں جنہيں استعمال كركےاس سےمستغني ہوا جاسكتا ہےجولفظا اور معنا دونوں اعتبار سےاس سےبھي بہتر اور اس سےمستغني كرديتےہيں.
مسلمانوں كا كفار كےتہواروں ميں كفار سےمشابہت كرنا:
تشبہ اورمشابہت كي تعريف:
الشبہ لغت عرب ميں مثل اور شابہہ واشبہہ يعني اس جيسا بنا اور فلاں نے اس طرح اس كي مشابہت اختيار كي، اور كسي دوسرے كےمشابہ ہوا، كام ميں اس كي مماثلت اختيار كي .
اور تشبيہ: تمثيل كو كہتےہيں، اور لغت ميں الفاظ قريب قريب ہيں اس ميں سے ہي ہےكہ: المماثلۃ، المحاكاۃ، المشاكلۃ، الاتباع, الموافقۃ، التاسي, التقليد ان سب الفاظ كےمعني اس لفظ كےساتھ خاص ہيں ليكن لفظ تشبہ ميں يہ سب مشترك ہيں .
اور اصطلاح ميں اس كا معني يہ ہےكہ:
غزي الشافعي نےاس كي اصطلاحي تعريف كرتےہوئےكہا ہے:
تشبہ يہ ہے كہ مشابہت كرنےوالا انسان اس كي مشابہت اختيار كرنے كي كوشش كرتا ہے جس سےمشابہت اختيار كي جارہي ہو، اور اس كي شكل وصورت اور صفات وغيرہ اخيتار كرنا يہ قصدا اور عملا تكلف كےساتھ كيا جاتا ہے.
كفار سےمشابہت اختيار كرنےكاحكم:
ہمارے دين كےعظيم اصولوں ميں ايك عظيم اصول اسلام اور مسلمانوں سےدوستي اور كفر اوركافروں سےدشمني اور برات كااظہار كرنا اصول دين ہے، اور اس برات ودشمني كي حتمي اور فيصلہ كن چيز يہ ہے كہ مسلمان كي كفار سے تميز ہوتي ہے اور وہ ان سےعليحدہ نظر آئے، وہ اپنےدين كےساتھ عزت محسوس كرے اور دين اسلام پر فخركرےچاہےكفار كي حالت كتني بھي زيادہ اچھي اور بہتر نظر آتي ہو اور وہ كتنےبھي طاقتور ہي كيوں نہ نظر آئيں اور وہ كتني ہي ترقي اور حضارۃ اختيار كرليں، اوراس كےمقابلےميں مسلمان كےحالات كتنےبھي كمزور اور ان ميں تفرق ہو، لہذا كسي بھي حالت ميں كفار كي قوت وطاقت اور مسلمانوں كي كمزوري وناتواني كو كفار كي تقليد اور ان كي اتباع وپيروي كا ذريعہ بنانا جائز نہيں، اور نہ اسے كفار كي مشابہت اختيار كرنے كا جواز بنايا جاسكتا ہے،جيسا كہ آج كل كچھ منافق شكست خوردہ قسم كےلوگ اس كي دعوت ديتےپھرتےہيں .
كيونكہ جن نصوص ميں كفار سےمشابہت اختيار كرنےاور ان كي تقليد سے منع كيا ہے ان نصوص ميں كمزوري اور قوت وطاقت كےمابين فرق نہيں كيا گيا اس لئےكہ مسلمان اس بات كي طاقت ركھتا ہے كہ وہ اپنےدن اسلام كےساتھ دوسروں سے مميز اورامتياز ہو اور دين اسلام پر فخر كرے حتي كہ كمزوري اور ترقي پذيري كي حالت ميں يہ كام كرسكتا ہے.
اور اسلام پر فخر اور اس كےساتھ عزت حاصل كرني كي دعوت توہمارے پروردگار اور رب ذوالجلال نےدي ہے اور اسے سب سےبہتر بات اور قول اور بہتر اوراچھا فخر شمار كيا ہے .
فرمان باري تعالي ہے:
{اور اس سےزيادہ اچھي بات والا كون ہے جو اللہ كي طرف بلائے اور نيك كام كرے اوركہے كہ ميں يقينا مسلمانوں ميں سےہوں}حم السجدۃ ( 33 )
اور مسلمان كو كافر سے متميز ہونے كي اہميت كي بنا پر ہي يہ حكم ديا گيا ہے كہ وہ ہر دن كم از كم سترہ بار اللہ تعالي سے يہ دعا كيا كرے كہ اے اللہ مجھے كافروں كےطريقہ اور راستہ سے بچا كرركھ اور اسے صراط مستقيم كي ہدايت نصيب فرما اوراسےاس پر ثابت قدم ركھ:
فرمان باري تعالي ہے:
{ہميں صراط مستقيم كي ہدايت نصيب فرما، ان لوگوں كي راہ جن پر تو نے انعام فرمايا نہ كہ ان لوگوں كي راہ جن پر تيرا غضب نازل ہوا اور نہ ہي گمراہ لوگوں كي راہ }الفاتحۃ ( 6 - 7 ).
اوركتاب وسنت ميں بہت سي نصوص ايسي نصوص ہيں جو كفار سے مشابہت اختيار كرنےسے روكتي اور منع كرتي ہيں، اور يہ بيان كرتي ہيں كہ ايسا كرنا گمراہي اور ضلالت ہے، لھذا جو كوئي بھي كفار كي تقليد اور پيروي كرتا ہے وہ ان كي گمراہي ميں ان كي تقليد اور پيروي كررہا ہے.
ارشاد باري تعالي ہے:
{پھر ہم نے آپ كو دين كي ( ظاہر ) راہ پر قائم كرديا توآپ اسي پر لگے رہيں اور نادانوں كي خواہشوں كي پيروي ميں نہ پڑيں} الجاثيۃ ( 18 )
اور ايك دوسرےمقام پر رب ذوالجلال كا فرمان ہے:
{اور اگر آپ نےان كي خواہشوں كي پيروي كرلي اس كےبعد كہ آپ كےپاس علم آچكا ہے تواللہ ( عذابوں ) سے آپ كو نہ توكوئي حمائتي ملےگا اور نہ ہي بچانےوالا}الرعد ( 37 ) .
اور ايك مقام پر فرمان باري تعالي ہے:
{اورتم ان لوگوں كي طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دليلں آجانے كےبعد بھي تفرقہ ڈالا اور اختلاف كيا انہيں لوگوں كے لئے بڑ عذاب ہے}آل عمران ( 105 ) .
اوراللہ تعالي مومنوں كو اس كي دعوت ديتا ہے كہ اس كےذكر اور قرآن مجيد كي آيات كي تلاوتت كےوقت خشوع اختيار كيا كرو اور اس كےبعد فرمايا:
{اور انكي طرح نہ ہوجائيں جنہيں ان سے پہلے كتاب دي گئي تھي پھر جب ان پر ايك زمانہ دراز گزرگيا تو انكے دل سخت ہوگئے اور ان ميں بہت سے فاسق ہوہيں}الحديد ( 16 ) .
اس ميں كوئي شك نہيں كہ كفار سے محبت ومودت كي سب سے بڑي دليل ان كي مشابہت ہے، اور يہ عقيدہ الولاء والبراء يعني كفار اور كفر سے برات كےعقيدہ كےمخالف اوراس كےنواقض ميں سےہے، اور پھر اللہ تعالي نے تو مومنوں كوكفار سےمحبت اور دوستي كرنےسے منع فرمايا اور ان سےدوستياں اورمحبت كرنا انہيں ميں سےہونےكا سبب قرار ديا ( اللہ اس سےمحفوظ ركھے) اللہ سبحانہ وتعالي ارشاد فرماتاہے:
{اے ايمان والو! م يہود ونصاري كو دوست مت بناؤ يہ تو آپس ميں ہي ايك دوسرے كےدوست ہيں ، تم ميں سے جو كوئي بھي ان ميں سے كسي ايك كےساتھ دوستي كرےگا وہ بےشك انہيں ميں سے ہے، اللہ تعالي ظالموں كو ہرگز راہ راست نہيں دكھاتا}المائدۃ ( 51 )
اور ايك دوسرے مقام پر كچھ اس طرح فرمايا:
{اللہ تعالي پر اور قيامت كےدن پر ايمان ركھنےوالوں كو آپ اللہ تعالي اور اس كےرسول كي مخالفت كرنےوالوں سے محبت ركھتےہوئے ہرگز نہيں پائيں گے اگرچہ وہ انكے باپ يا ان كے بيٹے يا ان كےبھائي يا ان كے كنبہ اور قبيلہ كے عزيزہي كيوں نہ ہوں}المجادلۃ ( 22 ) .
شيخ الاسلام ابن تميمہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
مشابہت باطن ميں محبت ومودت اور دوستي پيدا كرتي ہے، جيساكہ باطن ميں محبت ظاہري طور پر مشابہت پيدا كرتي ہے.
اور سورۃ المجادلۃ كي مندرجہ بالا آيت پر تعليق چڑھاتےہوئے كہتےہيں:
اللہ سبحانہ وتعالي نے خبر دي ہےكہ كوئي بھي ايسا نہيں جو كافر سے محبت كرتا ہو، لھذا جس نےبھي كافر سے محبت كي وہ مومن نہيں. اور ظاہري مشابہت مودت ومحبت كا پيش خيمہ ہےتواس لئےمشابہت حرام ہوگي.
اور نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ انہوں نےفرمايا:
( جس كسي نے بھي كسي قوم سے مشابہت اختيار كي وہ انہي ميں س ہے ) سنن ابو داود كتاب اللباس حديث نمبر (1204 ) مسند احمد ( 2 / 5 ) اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نے الاقتضاء ( 1 / 42 ) ميں اس كي سند كو جيد قرار ديا ہے، اور ديكھيں الفتاوي ( 52/ 133 ) اور فتح الباري ( 6 /89) ميں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالي نے اس كي حسن اسناد والي مرسل سےتائيد كي ہےاور سيوطي رحمہ اللہ نےاسےحسن كہا اور علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح الجامع ( 5206 ) ميں اسےصحيح كہاہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ حديث اس كي كم از كم حالت يہ ہےكہ كفار سےمشابہت كي تحريم كا تقاضاكرتي ہے اگرچہ حديث كا ظاہر مشابہت اختيار كرنےوالے كےكفر كا متقاضي ہے. جيسا كہ اللہ تعالي كےاس فرمان ميں ہے:
{اور تم ميں سے جو كوئي بھي ان كےساتھ دوستي لگائے وہ انہيں ميں سے ہے}المائدۃ ( 51 ) . ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 732 ) .
اور امام صنعاني رحمہ اللہ كہتےہيں :
جب لباس ميں كوئي كافر كي مشابہت اختيار كرے اور اس سےوہ يہ اعتقاد ركھےكہ وہ بھي اس جيسا ہوجائےگا تو اس نےكفر كيا، اور اگر وہ يہ اعتقاد نہ ركھےتواس ميں فقہاء كا اختلاف ہے: كچھ تواسے كافر كہتےہيں جو كہ حديث كا ظاہر ہے، اوركچھ كہتےہيں كہ وہ كافر نہيں ہوا، ليكن اسے سزا دي جائےگي .ديكھيں سبل السلام ( 8 / 842 ) .
اور كفار سےمشابہت اختيار كرنے كا موضوع بہت طويل ہے، ليكن ہم نے جوكچھ اوپركي سطور ميں نصوص بيان كي ہيں انشاء اللہ اس ميں ہي كفائت ہے اور مقصد حاصل ہوجاتا ہے.
كفار كےتہواروں ميں كفار كي مشابہت كي چندايك صورتيں:
كفار كي مختلف قوميں اور مذاہب ہونےكي بنا پر ان كےتہوار بھي مختلف اور كئي قسم كےہيں، ان ميں سےكچھ تو ديني اور ان كےدين كےبنيادي تہوار ہيں يا پھر انہوں نےنئےايجاد كرلئےہيں، اور ان كےبہت سے تہوار تو صرف عادات اور مختلف مواقع كي طور پرہيں جن كي بنا پر انہوں نے يہ تہوار ايجاد كرلئےمثلا قومي تہوار وغيرہ ان كےتہواروں كي اقسام انواع كوذيل ميں پيش كرتےہيں:
اول: ديني تہوار جنہيں وہ اللہ تعالي كا قرب حاصل كرنے كےلئے مناتے ہيں، مثلا: غطاس ( يعني غوطےلگانےكا تہوار) اور ايسٹرڈے، اور ميلاد مسيح ( كرسمس ) وغيرہ اس ميں مسلمان كي مشابہت دو طرح سےہے:
1 - مسلمانوں كا اس ان تہواروں ميں شريك ہونا، مثلا اگر بعض گروہ اور غيرمسلم اقليات مسلمانوں كےملك ميں اپنےيہ تہوار منائيں تو اس ميں بعض مسلمان شريك ہوں جائيں، جيسا كہ شيخ الاسلام ابن تيمہ اور امام ذہبي رحمہ اللہ كے دور ميں ہوا، اور اس وقت بھي بہت سے مسلمان ممالك ميں ہو رہا ہے، اور اس سےبھي زيادہ قبيح حركت يہ ہےكہ كچھ مسلمان ان تہواروں ميں شركت كرنے كےلئے كفار ممالك جاتےہيں، چاہے اس شركت كا سبب شھواني ہو يا پھر بعض كفار كي دعوت قبول كرتےہوئے، جيسا كہ كفار ممالك ميں بسنے والےبعض مسلمان ان كي دعوت قبول كرتے ہوئے ان تہواروں ميں شركت كرتےہيں، اورجس طرح بعض بڑي كمپنيوں كےمالك اور بڑے تاجر حضرات ان كي دعوت دينے والے كا خيال ركھتےہوئےيا پھر كسي دنياوي مصلحت كے پيش نظر ان كي دعوت قبول كرتےہيں، مثلا تجارتي معاہدےوغيرہ.
تويہ سب حرام ہے اور ڈر ہے كہ كہيں مندرجہ ذيل حديث كي بنا پركفر تك نہ لےجائے:
" جس نے بھي كسي قوم سےمشابہت اختيار كي وہ انہي ميں سے ہے"
اور ايسا كرنے والے نے ايسي چيز ميں شريك ہونے كا قصد كيا ہے جو ان كا ديني شعار اور علامت ہے.
2 - ان كےيہ تہوار مسلمان ممالك منتقل كرنا: جو كوئي شخص بھي كفار ممالك ميں ان كےتہواروں ميں شريك ہوتا رہا اور اسےاپني جہالت اورايماني كمزوري اور قلت عمل كي بناپر ان كےيہ تہوار پسندآئےاور اچھےلگےتواس وجہ سے وہ ان ميں سےكچھ تہوار اور ديني شعار مسلمانوں كےملك ميں منتقل كر دے، جيسا كہ اس وقت بہت سے مسلمان ممالك ميں ميلادي سال كےسال نو كا تہوار منايا جارہا ہے، تويہ قسم پہلي قسم سے بھي زيادہ قبيح ہے اس وجہ سے كہ انہوں نےان تہواروں ميں شريك ہونےپر ہي بس نہيں كي بلكہ ان تہواروں كو مسلمان ممالك ميں بھي منتقل كرنا چاہتےہيں.
دوم:
وہ تہوار جواصلا كفار كےشعار ميں سےتھےاور پھر عالمي عادات اور جشن وتقريبات ميں بدل گئے، مثلا يونانيوں كےہاں اولمپك كا تہوار، جيسا كہ اس وقت يہي ظاہر ہوتا ہے كہ يہ عالمي كھيلوں كےمقابلے ہيں، تواس ميں مشاركت دو وجہوں سےہے:
1 - كفار ممالك ميں اس كي تنظيمات اورسركلراورشعار ميں حاضر ہونا جيسا كہ اس وقت بہت سےاسلامي ممالك مختلف كھيلوں ميں حصہ لينے كے ليےوفد روانہ كرتےہيں.
2 - ان تہواروں كو مسلمان ممالك ميں منتقل كرنا، مثلا اگر كچھ اسلامي ممالك اولمپك كھليں اپنےملك ميں منعقد كروانا چاہيں.
دونوں معاملے ان ميں شركت يا پھر انہيں مسلمان ممالك ميں منعقد كروانا مندرجہ ذيل اسباب كي بنا پرحرام ہيں:
ا ـ اصل ميں يہ اولمپك كھيليں بت پرستي والا تہوار ہے جو كہ يونانيوں كےتہوار ميں سے ايك تہوار تھا جيسا كہ اوپر بيان كيا جا چكا ہے، اور امت يونان كےہاں يہ تہوار سب سےعظيم اور اہم تھا، اور پھر يونانيوں سے روميوں اور ان سے عيسائيوں وراثت ميں حاصل كيا.
ب - يہ ذاتي طور پر اس نام سے موسوم ہے جو يونانيوں كےتہوار كےطور پر معروف تھا.
اور اس كا صرف كھيلوں كےمقابلوں ميں تبديل ہوجانا اس كےاصلا بت پرستي كا تہوار ہونے كو ختم نہيں كرديتا، اس كي دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:
ثابت بن ضحاك رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےدور ميں ايك شخص نے نذر ماني كا وہ بوانہ نامي جگہ پر اونٹ ذبح كرےگا، تو وہ شخص نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےپاس آيا اوركہنےلگا ميں نے بوانہ ميں اونٹ ذبح كرنے كي نذر ماني ہے تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
كيا وہاں جاہليت كےبتوں ميں كوئي بت تھا جس كي عبادت كي جاتي تھي؟ تو صحابہ نےجواب ديا نہيں، تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: كيا وہاں كوئي ان كےتہواروں ميں سے كوئي تہوار منايا جاتا تھا؟ تو صحابہ كرام نےجواب ديا نہيں، تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
اپني نذر پوري كرو كيونكہ اللہ تعالي كي معصيت ونافرماني ميں نذر پوري نہيں اور نہ ہي اس ميں جس ابن آدم مالك ہي نہ ہو.
اسے ابوداود نے كتاب الايمان والنذور ( 3133 ) ميں روايت كيا ہے، اور ايك روايت ميں ہے كہ: سوال كرنےوالي عورت تھي ( 2133) اور طبراني نے طبراني الكبير ( 1431 ) روايت كي ہے.
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ سند صحيحين كي شرط پر ہے اوراس كي سند كےسب رجال ثقہ ہيں اور يہ سند عنعنۃ كےبغير متصل ہے، ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 634 ) اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالي نےبلوغ المرام (5041 ) ميں اسےصحيح كہاہے.
تونبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے اصل كا اعتبار كيا، اوراس كھيلوں كے مقابلےاولمپك كي اصل بھي ايك بت پرستوں كا تہوار ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ اس بات كا تقاضا كرتا ہے كہ اس مكان كا مشركوں كےتہواركي جگہ ہونا وہاں ذبح كرنے ميں مانع ہےاگرچہ اس نےنذر بھي مان ركھي تھي، اسي طرح اس كا بتوں والي جگہ ہونا بھي مانع ہے، وگرنہ كلام منظم اوراچھي طرح تفصيل طلب نہ كرتے، اور يہ تو معلوم ہي ہے كہ يہ اس جگہ كي تعظيم كي بنا پر تھا جس كي تعظيم وہاں تہوار مناكر كرتےيا وہاں تہوار ميں ان كي شركت يا ان كے تہوار كےشعار كوزندہ كرنےكےلئے، اور اس طرح جبكہ فعل كي جگہ يا بنفسہ فعل يا اس كےوقت كےعلاوہ كچھ نہيں .... ، اور جب ان كےتہوار كي جگہ كي تخصيص ممنوع ہے، توپھر ان كا تہوار كيسا ہوگا؟ " ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 344 ) .
يہاں ہمارامسئلہ اولمپك كےتہوار كي جگہ يا وقت نہيں بلكہ وہ بعنيہ تہوار ہے جو اصل نام سےموسوم ہے اور اس ميں جوكچھ ہوتا ہے مثلا اولمپك مشعل جلانا جو كہ اس تہوار كا ايك شعار اورعلامت ہے اوريہ اس كا وقت بھي ہے كيونكہ يونانيوں كےہاں ہر چار برس بعد يہ تہوار منايا جاتا تھا، اور اسي طرح آج اولمپك كھيليں بھي ہر چار سال بعد منعقد كي جاتي ہيں، لھذا يہ اپنے اصل اور نام اور وقت كےاعتبار سے تہوار ہي ہے اور اس ميں شركت كرني بت پرست تہوار اورپھر عيسائي تہوار ميں شركت ہے، اور اولمپك كھيلوں كے مقابلے كسي مسلمان ملك ميں منعقد كروانےكا مطالبہ اس بت پرست تہوار كو مسلمان ممالك ميں منتقل كرنا ہي ہے.
سوم:
كفار نےجن ايام اور ہفتوں كوايجاد كيا ہے ان كي دو قسميں ہيں:
1 - جن كي ان كےہاں ديني اعتبار سےاصل ملتي ہےاورپھروہ عادت ميں بدل چكےہيں جن كےساتھ كوئي دنياوي مصلحت مرتبط ہے، اس كي مثال مزدوروں كا عالمي دن جو كہ درخت كےپجاريوں نےايجاد كيا تھا، اور پھر روميوں كےہاں يہ بت پرستي كا تہوار بن گيا اور پھر فرنسيوں ميں منتقل ہو كر چرچ سے وابستہ ہوا جتي كہ اشراكيت كا دور دورا ہوا تو اس نے اس كي دعوت ديني شروع كي اور يہ عالمي اور سركاري دن بن گيا، حتي كہ بہت سے اسلامي ممالك ميں بھي سركاري دن بن چكا ہے، لھذا اسےتہوار بنا كراور كام بند كركے چھٹي كرنےكي حرمت ميں كوئي شك نہيں :
ا ـ اس كا اصلا ايك ديني اور بت پرست تہوار ہونا.
ب ـ اس كا سال ميں ايك معين دن يكم مئي ثابت ہونا.
ج ـ كفار كےخصائص ميں ان كي مشابہت كي علت كا پايا جانا.
2 - اس تہوار كي دين ميں كوئي اصل نہ ہو، مثلا صحت كا عالمي دن، اور نشہ ختم كرنےكا عالمي دن، اور ناخواندگي ختم كرنے كاعالمي دن، اس طرح كےدوسرے ايام اور ہفتےجونئےايجاد كيےگئےہيں. تويہ بھي دوحالتوں سےخالي نہيں:
ا ـ يہ كہ وہ دن يا ہفتہ عالمي طور پر سال ميں معلوم ہو، اور ہرسال اسي دن ہوتا ہو جيسا كہ بنكوں كا عالمي دن، اور اس طرح كےدوسرے ايام جو منائےجاتےہيں، اس ميں دو علتيں ہيں:
ـ وہ دن ثابت ہو اور ہرسال بعينہ اسي دن آئے .
ـ كفار سےمشابہت كي علت اس لئےكہ اس كي ايجاد انہوں نےكي ہے.
اور كيا ان عالمي دنوں جن ميں انسانيت كےلئےخيروبھلائي ہے كيا اس كي اجازت دي جاسكتي ہے، اور ميں كوئي مفر نہيں كہ مسلمان دنيا كےساتھ ان ايام ميں شريك ہوں جبكہ ان كي عدم مشاركت سے ان كي مصلحت فوت ہوجائے گي مثلا صحت كا عالمي دن، اور نشہ كےخلاف عالمي دن، جو كہ ديني طور پر نہيں بلكہ تنظيمي طور پر ہيں، اگرچہ ان ميں تہوار كي صفات پائي جاتي ہيں كہ ہر برس آتا اور جمع ہونا، اورخوشي كرنا، مجھےتويہي لگا ہے كہ اس ميں بحث اوراجتھاد ہواور مصلحتوں اور فساد كو سامنےركھيں، كيونكہ اس ميں مسلمانوں كو كسي مشورہ كا حق نہيں اور نہ ہي ان كي رائے كا اعتبار كيا جاتا ہے، بلكہ پوري دنيا پر ٹھونس ديا گيا اورجيسا كہ معلوم ہےكہ مسلمان كمزور ہيں.
ب ـ كہ سال ميں كوئي دن يا ہفتہ ثابت نہ ہو بلكہ وہ كسي مصلحت يا معين نظم كےتحت منتقل ہوتا رہے، تواس سے تہوار كي علت ختم ہوجاتي ہے جو كہ ايك محدد اور معين دن ميں آناہے، ليكن اس ميں ايك علت مشابہت باقي ہے، اگر تو يہ كفار كي ايجاد ہے اور پھر مسلمانوں ميں منتقل ہوئي تو كيا يہ حرام مشابہت ميں شامل ہے؟ يا كہ حلال مشابہت ميں تويہ اداري ترتيب وتنظيم كي طرح اور كمپنيوں اور انجنسيوں كےسالانہ حساب وكتاب كےدن كي طرح ہوگا؟
يہ بھي محل نظرميں ہے، اگرچہ مجھےابتدائي طور پر يہ ظاہرہوتا ہے كہ اس ميں كوئي حرج نہيں اس كي وجوہات مندرجہ ذيل ہيں:
ـ يہ كسي ايك معين دن ميں ثابت نہيں كہ جب بھي وہ دن آئے تويہ بھي منايا جائے، تواس طرح تہوار كي علامت ختم ہوگئي.
ـ انہيں تہوار كا نام نہيں ديا جاتا، اور نہ ہي جمع ہونےكےاعتبار سے تہوار كي صفت پائي جاتي ہے.
ـ اس كا ہدف راہنمائي اور نفع مند اہداف حاصل كرنےہيں.
ـ اس كےمنع كرنے سے بہت سےاجتماعات جو كہ وقتا فوقتا آتےرہتےہيں ان كا منع كرنا لازم آئےگا، ميرے خيال ميں ايسا كوئي نہيں كہتا، مثلا خانداني اور دعوتي، اورملازمتي اجتماعات وغيرہ.
اس ميں كوئي ايسي علت نہيں جواسے حرام كرے سوائےاس كےيہ اصلا كفار كي جانب سے ہيں اور مسلمانوں ميں منتقل ہوئےہيں، اوريہ مصيبت عام ہوچكي اور كفار وغيركفار كےہاں پھيل چكےہيں، لہذا مسلمانوں ميں پھيل جانےكي بنا پر كفار كي خصوصيت ختم ہوچكي ہے.
خلاصہ يہ ہےكہ: يہ كفار كےدين اور ان كےاعتقادات ميں سےنہيں اور نہ ہي ان كي عادات اور خصائص اور عرف ميں سےہيں اورنہ ہي اس ميں تعظيم اور اجتماع پايا جاتا ہے، اور نہ ہي يہ معلوم ايام كےتہوار ہيں كہ جب بھي يہ ايام آئيں تو يہ تہوار بھي آئيں، تويہ ان سب نظموں كےمشابہ ہوئے جن ميں كوئي مصلحت پائي جاتي ہو.
چہارم:
كفار سےمشابہت كي صورتوں ميں سےايك صورت يہ بھي ہے كہ: مسلمانوں كےتہوار ايسي اشياء سےبدل جائيں جوكفار كےتہواروں سےمشابہ ہوں: اس لئےكہ مسلمانوں كےتہواروں ميں يہ امتياز ہے كہ يہ شعار ہيں اور اللہ تعالي كےشكر اور اس كي تعظيم اوراطاعت وفرمانبرداي پر دلالت كرتےہيں، اور اس كےساتھ ساتھ اس ميں اللہ تعالي كي نعمت پر خوشي ہوتي اور اس نعمت كو اللہ تعالي كي معصيت اور نافرماني ميں صرف نہيں كيا جاتا، اور اس كےبرعكس كفار كےتہوار كا امتياز يہ ہےكہ ان ميں ان كےباطل شعار اور ان كے بتوں كي تعظيم ہوتي ہے جن كي وہ اللہ تعالي كےعلاوہ عبادت كرتےہيں، اور اس كےساتھ ساتھ حرام شھوت ميں منہمك ہوتےہيں .
اور انتہائي افسوس كےساتھ كہنا پڑتا ہے كہ: بہت سےعلاقوں ميں مسلمانوں نےاس ميں كفار سےمشابہت اختيار كرلي ہے، اور اپني عيدوں كو اللہ تعالي كي اطاعت وفرمانبرداي اور شكر سےبدل كر معصيت ونافرماني اور اللہ تعالي كي نعمتوں كي ناشكري كےموسم بنا لئےہيں ، وہ اس طرح عيد الفطر اور عيد الاضحي دونوں كي راتوں كو موسيقي اور گانوں اور فسق وفجور اور مرد وعورت كي مخلوط مجالس قائم كركےبسر كرتےہيں، اور اس كےعلاوہ جوكچھ وہ عيد كي خوشي گردانتےہيں جيسےكفار اپنےتہواروں ميں فسق وفجور كرتےہيں.
كفار كےتہواروں سے اجتناب كرنا واجب ہے:
ا ـ ان تہواورں ميں جانےسےاجتناب:
اہل علم كا كفار كےتہواروں ميں شركت كرنےاور اس ميں كفار سےمشابہت اختيار كرنے كي حرمت پر اتفاق ہے، احناف ، مالكيہ، اورشافعي، اور حنابلہ كا يہي مذہب ہے .
ديكھيں: الاقتضاء ( 2/ 425 ) احكام اہل الذمۃ لابن قيم ( 2 / 227-527 ) اور التشبہ المنھي عنہ في الفقہ الاسلامي ( 533 ).
اس كي حرمت كےدلائل بہت زيادہ ہيں جن ميں سےكچھ ذيل ميں ذكر كئےجاتےہيں:
1 - مشابہت اختيار كرنے كي نہي كےجتنےبھي دلائل ہيں جن ميں سے كچھ كا مندرجہ بالا سطور ميں ذكر ہو چكا ہے.
2 - صحابہ اور تابعين كرام كےدور ميں اس ميں حاضر نہ ہونےپر اجماع منعقد ہوچكا ہے، اوراجماع كي دليل دو وجہ سےہے:
ا ـ يہ كہ يہودي ، عيسائي اورمجوسي ابھي تك مسلمانوں كےعلاقوں ميں جزيہ دے كر رہتےاور اپنےتہوار مناتےہيں، اور وہ جوكچھ كرتےہيں بہت سے نفسوں ميں قائم ہے، پھر پہلےدور ميں كوئي مسلمان اس ميں سے كسي بھي تہوار ميں شركت نہيں كرتےتھے، اور اگر امت مسلمہ كےدلوں ميں اس كي كراہت اور نہي كا قيام نہ كيا جاتا توايسا بہت زيادہ ہوتا، جبكہ فعل كىتقاضے كي موجودگي اور اس كےعدم نفي كےساتھ لامحالہ واقع ہوتا اور مقتضي واقع ہوا ہے، تومانع كي موجودگي معلوم ہوگئي اور يہاں مانع دين ہے اور يہ معلوم ہوا كہ دين دين اسلام ہے اور وہي موافقت ميں مانع ہے اور وہي مطلوب ہے. ديكھيں: الاقضاء ( 1 / 454 ) .
ب ـ عمررضي اللہ تعالي عنہ كي شروط جن پر صحابہ كرام اور ان كےبعد فقہاء متفق ہيں كہ اہل كتاب ميں سےذمي لوگ دالاسلام ميں اپنےتہوار ظاہر نہيں كريں گے.
لھذا جب مسلمان انہيں مسلمان ملك ميں تہوار ظاہر كرنےسےمنع كرنےپرمتفق ہيں، توپھر مسلمانوں كا ان تہواروں كومنانا كيسےجائز ہوسكتا ہے؟ كيا مسلمان كا يہ فعل كافر كےفعل سےزيادہ سخت مظہر نہيں ہوگا؟ ديكھيں الاقتضاء ( 1 / 454 ) .
3 ـ عمر رضي اللہ تعالي عنہ كا يہ قول:
عجميوں كي زبان نہ سيكھو، اورنہ ہي مشركوں كےتہوار كےموقع پر ان كےچرچوں ميں نہ جاؤ كيونكہ ان پر اللہ كي ناراضگي نازل ہوتي ہے.
ديكھيں: مصنف عبدالرزاق ( 9061 ) سنن الكبري للبيھقي (9 / 432 ) .
4 ـ عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالي عنہما كا قول ہے:
جس نےعجميوں كےملكوں ميں عمارت بنائي اور ان كا نوروز اور مہرجان تہوار منائےاور ان سےموت تك مشابہت اختيار كي تو قيامت كےروز انہي كے ساتھ اٹھائےجائيں گے.
ديكھيں: سنن الكبري ( 9 / 432 ) ابن تيميہ نےالاقتضاء ( 1 / 854 ) ميں اسے صحيح كہا ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
عمر رضي اللہ تعالي عنہ نےان كي زبان سيكھنےاور صرف ان كےتہوار كے موقع پرگرجوں ميں داخل ہونےسےمنع كيا ہے، توپھر ان كےبعض افعال كيسے كيے جاسكتےہيں، يا پھر ايسےكام كرنے جوان كےديني تقاضوں كےمطابق ہيں؟
كيا عمل ميں ان كي موافقت كرنا زبان كي موافقت سےبڑھ كرنہيں ہے؟ كيا ان كےتہوار كےكچھ اعمال سرانجام دينے ان كےتہوار والے دن گرجےميں داخل ہونےسے زيادہ بڑا كام نہيں؟
اوران كےتہوار كے دن ان كےاعمال كي وجہ سے ان پر ناراضگي كا نزول ہوتا ہے تو پھر جو كوئي بھي ان كےاعمال يا كچھ اعمال ميں شريك ہو تو كيا اس نےاپنےآپ كو اس سزا كا مستحق نہيں كيا ؟ ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 854 )
شيخ الاسلام عبداللہ بن عمرو رضي اللہ تعالي عنہما كےقول پر تعليق كرتےہوئےكہتےہيں:
اور يہ اس بات كامتقاضي ہےكہ ان مجموعي امور ميں مشاركت كي وجہ سے اسےكافر بنا ديا، يا پھر اسےكبيرہ گناہ كا مرتكب بنا ديا جو كہ آگ كو واجب كرديتا ہے اگر پہلا اس كےلفظ سےظاہرہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 954 )
ب ـ كفار كےافعال ميں ان كي موافقت سےاجتناب كرنا:
بعض مسلمان كفاركےتہواروں ميں تو شريك نہيں ہوسكتےليكن وہ اس جيسے ہي اعمال كرتےہيں جووہ تہواروں ميں كرتےہيں، اور يہ بھي مشابہت ميں سےہي ہے جو كہ حرام اور مذموم ہے .
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں: مسلمانوں كے لئےان اعمال ميں سے كوئي عمل كرنا بھي حلال نہيں جو كفار كےتہواروں كےساتھ خاص ہيں، نہ تو كھانےاور لباس ميں اور نہ ہي غسل اور آگ جلانا اور نہ ہي اس دن كام بند كرنےيا پھر عبادت وغيرہ كرنا، اور نہ ہي وليمہ كرنا اور تحفےتحائف دينے اور اس تہوار ميں ممد ومعاون اشياء فروخت كرنا بھي حلال نہيں، اور نہ ہي بچوں كووہ كھيل كھيلنےكي اجازت ديني چاہئے جو وہ اپنےتہواروں ميں كھيلتےہيں اور نہ مجمل طور پر زينت كا اظہار كرنا، اور ان كےلئے جائزنہيں كہ وہ ان كے تہواروں كو ان كےكسي بھي شعار كےساتھ خاص كريں، بلكہ مسلمانوں كےہاں كفار كےتہوار بھي عام ايام جيسے ہي ہونےچاہئے.
ديكھيں: مجموع الفتاوي ( 52 / 923 ) .
امام ذہبي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
لھذا جب عيسائيوں اور يہوديوں ميں سےہرايك كا تہوار خاص اور عليحدہ ہو تواس ميں مسلمان شريك نہيں ہوگا، جس طرح مسلمان ان كےقبلہ اور شريعت ميں شريك نہيں اسي طرح اس ميں بھي شريك نہيں.
ديكھيں: تشبيہ باہل الخسيس، بحوالہ مجلۃ الحكۃ عدد نمبر (4 ) صفحہ نمبر ( 391 ) .
اور ابن تركماني حنفي نے مجموعي طور پر وہ اعمال ذكر كئےہيں جو مسلمان لوگ عيسائيوں كےتہوار ميں كرتےہيں، خرچہ زيادہ كرنا، اور بچوں كو باہر گھمانا پھرانا، اور يہ ذكر كرنےكےبعد ابن تركماني كہتےہيں:
بعض حنفي علماء كا كہنا ہے: جو كچھ بيان كيا گيا ہے جس نےيہ كام كيا اور توبہ نہ كي تووہ كافر اور ان جيسا ہي ہے، اور امام مالك رحمہ اللہ تعالي كے بعض اصحاب كا كہنا ہےكہ: جس نے نوروزكےدن تربوز توڑا گويا كہ اس نے خنزير ذبح كيا . ديكھيں: اللمع في الحوادث والبدع ( 1 / 492 ) .
ج ـ ان سواريوں سےاجتناب كرنا جن پر وہ سوار ہو كران تہواروں ميں جاتےہيں:
امام مالك رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں: " ان كےساتھ ان كشتيوں ميں سوار ہونا مكروہ ہے جن ميں سوار ہو كروہ تہوار ميں شركت كرنےجاتےہيں، كيونكہ ان پر غضب اور لعنت نازل ہوتي ہے" ديكھيں: اللمع في الحودث والبدع ( 1 / 492 ) .
ابن قاسم رحمہ اللہ تعالي سے ان كشتيوں ميں سوار ہونےكےمتعلق پوچھا گيا جن ميں عيسائي سوار ہو كراپنےتہواروں ميں جاتےہيں، تو انہوں نے اسے ناپسند كيا كہ كہيں ان كےشرك كي بنا بر جس پروہ جمع ہوئےہيں ان پر غضب نازل ہوتا ہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 625 ) .
د ـ ان كے تہواروں انہيں تحفےنہ دينا يا خريد وفروخت كر كےان كےتہواروں ميں ان كي معاونت كرنا:
ابوحفص حنفي رحمہ اللہ كہتےہيں:
جس نےبھي اس تہوار ميں مشرك كواس تہوار كي تعظيم كرتےہوئے انڈا ديا اس نےاللہ تعالي كےساتہ كفر كا ارتكاب كيا. ديكھيں فتح الباري لابن حجر عسقلاني رحمہ اللہ ( 2 / 315 ) .
اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتےہيں:
ابن قاسم نے اسےمكروہ جانا ہےكہ مسلمان شخص كسي عيسائي كو ان كےتہوار كےموقع پر كوئي تحفہ يا تحفے كا بدلا دے، اور اسے ان كےتہوار كي تعظيم اور ان كے كفي كي مصلحت پر كفار كا تعاون گردانا ہے، كيا آپ يہ نہيں ديكھتےكہ مسلمانوں كےلئے ان كےتہواروں ميں استعمال ہونےوالي كوئي بھي فروخت كرني جائز نہيں، نہ توانہيں گوشت اور نہ ہي سالن اور نہ لباس اور كپڑے فروخت كيےجاسكتےہيں، اور نہ ہي انہيں كوئي سواري وغيرہ عاريتا ديني جائز ہے جسےوہ اپنےتہوار ميں استعمال كريں اوران كےتہوار كےليئے كوئي بھي ايسي چيز ديني جائز نہيں جو ان كےتہوار كےلئےممد ومعاون ثابت ہوتي ہو، كيونكہ يہ ان كےشرك كي تعظيم اور ان كےكفر پر معاونت ہے، اور مسلمان حكمرانوں كو چاہئے كہ وہ مسلمانوں كوايسا كرنے سےروكيں، امام مالك وغيرہ رحمہ اللہ كا يہي قول ہے، ميرے علم ميں نہيں كہ اس ميں كوئي اختلاف كيا گيا ہو. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 625 - 725) .
اور ابن تركماني رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
ان كي تقريبات اور تہوار ميں مسلمان ان كےساتھ بيٹھنےاور ذبح اور كھاناتيار كرنےاور انہيں عاريتا سواري وغيرہ مہيا كرنے پر گنہگار ہوگا. ديكھيں: اللمع في الحوادث ( 1 / 492 ) .
ھ ـ كفار كےتہواروں ميں مشابہت اختيار كرنےوالے مسلمان شخص كي مشابہت اختيار كرنےميں مدد ومعاونت كرني:
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
جس طرح ہم ان كےتہواروں ميں ان كي مشابہت نہيں كرسكتےاسي طرح اس ميں مشابہت اختيار كرنےوالےمسلمان شخص كي معاونت اور مدد بھي نہيں كي جاسكتي، بلكہ اس سےمنع كيا جائےگا، لھذا جس نےبھي خلاف عادت ان كےتہواروں ميں دعوت كي تواس كي يہ دعوت بھي قبول نہيں كي جائےگي، اور مسلمانوں ميں سےجس نےبھي اس تہوار كےعلاوہ باقي بھي باقي اوقات ميں خلاف عادت ان تہواروں كےموقع پر كوئي تحفہ اور ہديہ وغيرہ ديا اس كا تحفہ بھي قبول نہيں كيا جائےگا، اور خاص كر جب يہ تحفہ ايسا ہو جس ميں ان كفار سےمشابہت ہوتي ہو، جيساكہ ہم بيان بھي كرچكےہيں، اور اسي طرح مسلمان كسي دوسرے مسلمان شخص كو كوئي ايسي چيز مثلا لباس ، كھانا، وغيرہ فروخت نہ كرے جس سے ان كےساتھ مشابہت اختيار كرنےميں تعاون اور مدد لي جاتي ہو، اس لئےكہ ايسا كرنا برائي ميں تعاون ہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 915 - 025 ) .
د ـ كفار كو ان كےتہوار كي مباركباد دينا:
ابن قيم رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
كفركےساتھ مختص شعار كي مباركباد دينا بالاتفاق حرام ہے، مثلا ان كے تہواروں اور ان كےروزے كي مبارك ديتےہوئےيہ كہا جائےكہ" آپ كوعيد مبارك ہو" يا آپ اس عيد سےخوش ہوں وغيرہ مباركبادي كےالفاظ ادا كرنے، مباركباد دينا والا اگركفر سے بچ جائےگا ليكن ايسا كرنا حرام ہے اوريہ ايسے ہي ہے كہ جيسےكسي شخص كو صليب كےسامنےسجدہ كرنےكي مباركباد دي جائے، بلكہ اللہ تعالي كےہاں تويہ شراب نوشي اور قتل كرنےزنا كاري كرنےكي مباركباد دينے سےبھي بڑھ كرناراضگي اور غضب والي چيز ہے .
بہت سےايسےلوگ جنہيں دين كي كوئي قدر نہيں وہ ان كاموں ميں پڑ جاتےہيں اور انہيں اس فعل كي قباحت اور برائي كا علم تك نہيں ہوتا، لھذا جس نےبھي كسي كو كسي برائي يا بدعت يا كفر كرنےپر مباركباد دي تواس نے اپنے آپ كو اللہ كےغضب اورناراضگي كا مستحق ٹھرايا، اہل علم ميں اہل ورع اورتقوي والے لوگ ظالم قسم كےلوگوں كو گورنري اور جاہل قسم كےلوگوں كو منصب قضاء اور فتوي اور تدريس وغيرہ دينےكامنصب حاصل ہونے كي مباركباد دينےسےاجتناب كرتےتھےتا كہ اللہ تعالي كي ناراضگي اور غضب سےبچا جاسكے اور ان كي آنكھوں سےگرنےسےبچ سكيں. اھ ديكھيں احكام اہل الذمۃ ( 1 / 144 - 244 ) .
كفار كوان كےديني تہواروں كي مباركباد دينا حرام ہےاس وجہ كہ ابن قيم رحمہ اللہ تعالي نےذكر كيا ہےكہ:
ايسا كرنےميں اس بات كا اقرار اور رضامندي ہے كہ جس دين اور گمراہي پروہ ہيں وہ صحيح ہے اگرچہ وہ اپنے لئے اس كفر پر راضي نہيں، ليكن مسلمان پر حرام ہےكہ وہ كفر كےشعار پر راضي ہو اور اس كي كسي دوسرے كو مباركباد دے ، كيونكہ اللہ تعالي اس سےراضي نہيں ہوتا جيسا كہ مندر جہ ذيل فرمان ميں اللہ تعالي نےارشاد فرمايا:
{اگر تم كفر كروگے تو ياد ركھو اللہ تعالي تم سب سےبےنياز ہے اور وہ اپنے بندوں كےلئے كفر پر راضي نہيں ہوتا اور تم شكر كرو گے تو وہ تمہارے لئےراضي ہوگا} الزمر ( 7 ) .
{آج ميں نے تمہارے دين كو كامل كرديا ہے اور تم پر اپنا انعام بھرپور كرديا ہے اورتمہارے لئے اسلام كےدين ہونےپر رضامند ہوگيا} المائدۃ ( 3 )
اور كفار كواس كي مباركباد ديني حرام ہے، چاہے وہ اس كےساتھ ملازمت كرتےہوں يا نہ اور جب وہ ہميں اپنےتہواروں كي مباركباد ديں تو ہم اسےقبول نہيں كرينگےاور جواب نہيں دينگے، كيونكہ يہ ہمارے تہوار اور عيديں نہيں ، اور اس لئےكہ يہ تہوار ايسےہيں جن پر اللہ تعالي راضي نہيں ہوتا، اس لئے كہ يا تو يہ تہوار ان كےدين ميں بدعات اور نئےايجاد كردہ ہيں، يا پھر مشروع ، ليكن يہ سب دين اسلام جس كو دے كر اللہ تعالي نے محمد صلي اللہ عليہ وسلم كو سب انسانيت كےلئے مبعوث فرمايا اس دين كےساتھ منسوخ ہوچكےہيں، اور اسي كےبارہ ميں اللہ تعالي كا ارشاد ہے:
{اور جو كوئي بھي دين اسلام كےعلاوہ كوئي اور دين تلاش كرے گا اس كا وہ دين قبول نہيں كيا جائےگا اور وہ آخرت ميں نقصان اٹھانےوالوں ميں سے ہو گا} آل عمران ( 85 ) .
اور اس تہواروں كي مناسبت سے كي جانےوالي دعوتيں بھي مسلمان كے لئے قبول كرنا حرام ہيں ، اس لئےكہ يہ مباركباد دينےسےبھي بڑي چيز ہے كيونكہ اس سے ان كےتہوار ميں مشاركت ہوتي ہے اورجس نےبھي ايسا كيا وہ گنہگار ہوگا چاہے اس نے يہ كام كسي كا لحاظ ركھتےہوئےكيا يا پھر محبت اور حياء كي بنا پر ياكسي اور سبب كي وجہ سے، كيونكہ اللہ تعالي كےدين ميں مداہنت اور مل ملا كر كام كرنےميں كفار كو تقويت حاصل ہوتي ہے اور وہ اپنے دين پر خوش ہوتے اور فخر محسوس كرتےہيں .
ديكھيں: مجموع فتاوي ورسائل فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين جمع وترتيب فہد سلمان ( 3 / 54 - 64 ) .
مسئلۃ:
اگر كوئي مسلمان اس طرح كا جشن منانا چاہے ليكن ان كےتہوار سے پہلے يا بعد ميں منائےتاكہ ان سےمشابہت نہ ہو؟
جواب : يہ بھي مشابہت كي ايك قسم ہے جو كہ حرام ہے كيونكہ كشي چيز كي حرمت اس ميں داخل ہے، اور تہوار سےپہلے اور تہوار كےبعد ان ايام ميں جواس تہوار كي بنا پر كرتےہيں يا پھر اس تہوار منانےكي جگہ كےآس پاس اس تہوار كےلئےجوكچھ ہوتا ہے ، يا اس تہوار كےاعمال كي بنا پر جو اعمال كئے جاتےہيں ان سب كا حكم بھي اس تہوار كا ہي حكم ہے، لھذا اس ميں كوئي چيز بھي نہيں كي جائےگي، كيونكہ بعض لوگ ان كےتہوار كےدنوں ميں ہوسكتا ہے كوئي كام كرنےسے رك جائيں مثلا جمعرات جسے وہ عہد كي جمعرات يا اوپڑ چڑھنےكي جمعرات كہتےہيں جو كہ نصاري كےتہوار ( ايسٹر ڈے ) كےشعار ميں سے ہے اور اسے بڑي جمعرات كا نام ديتےہيں ، اور ميلاد ( كرسمس ) تو يہ مسلمان شخص اپنےگھروالوں اور بچوں سے كہے كہ تمہارے لئے ميں يہ كسي اور مہينہ يا ہفتہ ميں بناؤں گا، اور اس كا اصل محرك تو ان كفار كا تہوار ہي ہے كيونكہ يہ تہوار نہ ہوتا تو وہ اس كا مطالبہ ہي كرتے، لھذا يہ بھي مشابہت ميں ہي شامل ہوگا . ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 315 ).
ھ ـ ان كےتعبدي نام اور اصطلاحات كےاستعمال سےاجتناب:
اگر بغير كسي حاجت اور ضرورت كے عجمي زبان اور لہجہ ميں گفتگو كرنا اس علت كي بنا پر منع كيا گيا ہے كہ اس سےان كےساتھ مشابہت ہوتي ہے، توپھر ان كےتہواروں كےنام يا ان كےشعارات كي اصطلاحات كا استعمال كرنا بدرجہ اولي ممنوع ہوا، مثلا ہر بڑے اجتماع پر مہر جان كا لفظ بولنا جائز نہيں كيونكہ يہ فارس كا ايك ديني تہوار ہے.
امام بيھقي رحمہ اللہ تعالي نے روايت كيا ہےكہ:
علي رضي اللہ تعالي عنہ كونوروز كا تحفہ ديا گيا تو انہوں كہا يہ كيا ہے؟ تو انہيں جواب ميں كہنےلگے: اے اميرالمومنين يہ نوروز تہوار كا تحفہ ہے تو علي رضي اللہ تعالي عنہ نےكہا: ہر دن كو فيروز بناؤ. ابو اسامہ كہتےہيں كہ علي رضي اللہ تعالي عنہ نے نوروز كہنا پسند نہ كيا تو اسے فيروز كہا، اسےامام بيھقي نے السنن الكبري ( 9 / 532 ) ميں روايت كيا ہے.
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
اور علي رضي اللہ عنہ نےتو ان كےتہوار كےنام كي موافقت ناپسند كي وہ ان كا انفرادي تہوار تھا، تو پھر عمل ميں ان كي موافقت كيسےہوگي ؟ ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 954 ) .
اور يہ بيان كيا جا چكا ہے كہ يہ لفظ عربي نہيں اور عربي زبان ميں بہت سے ايسےالفاظ ہيں جواس لفظ سے مستغني كرديتےہيں اوراس سے بہتر اور اچھے ہيں.
ان كےتہواروں ميں كفار كےتحفے قبول كرنے كا حكم :
اوپر كي سطور ميں يہ بيان ہوچكا ہے كہ كفار كےتہوار كےموقع پر انہيں تحفے دينا جائز نہيں كيونكہ ايسا كرنا ان كےباطل ميں ان كي اعانت ومدد ہے، اور يہ بھي بيان ہوچكا ہے كہ ان كے تہوار ميں ان كي مشابھت كرنے والے مسلمان شخص كا تحفہ قبول كرنا بھي جائز نہيں كيونكہ اس كا تحفہ قبول كرنےميں اس كي مشابہت ميں اس كا تعاون اور اس كا اقرار ہےكہ اس نےصحيح كام كيا ہے اوراس حرام فعل كو سرانجام دينےميں اس پر عدم انكار ہے.
ليكن اگر كافر شخص اپنےتہوار كےموقع پر مسلمان شخص كو تحفہ دے تو وہ تحفہ اس كےعلاوہ دوسرے تحفہ كي طرح ہي ہے، اس لئے كہ اس ميں ان كفر ميں اعانت اور مدد نہيں ، ليكن يہ مسئلہ اختلافي ہے اور اس ميں تفصيل پائي جاتي ہے جو حربي اور ذمي كافر كا تحفہ قبول كرنےپر مبني ہے.
يہ علم ميں ركھيں كہ ان كےتحفے دو قسم كےہيں:
1 - ان كےتہوار كي بنا پر ذبح كئے جانےوالے گوشت كےعلاوہ كوئي اور تحفہ ہو مثلا مٹھائي ، پھل وغيرہ كےاستعمال كرنےميں اختلاف ہے جو كافر عمومي تحفہ قبول كرنےپرمبني ہے، اور ظاہر يہي ہے كہ يہ جائز ہے جيسا كہ اوپر بيان ہوچكا ہے كہ علي رضي اللہ تعالي عنہ نے يہ تحفہ قبول كيا، اور اس لئے بھي كہ حديث ميں وارد ہے كہ ايك عورت نے عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا سے كہا:
ہمارےكچھ مجوسي رضاعي رشتہ دار ہيں ، اور وہ اپني عيد كےموقع پر ہيں تحفے بھيجتےہيں : تو عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا كہنےلگيں:
جوكچھ اس تہوار كےلئے ذبح كيا گيا ہو وہ نہ كھاؤ ليكن ان كےدرختوں سےكھاليا كرو.
ديكھيں مصنف ابن ابي شيبہ كتاب الاطعمۃ ( 5 / 521 ) حديث نمبر ( 16342)، اور الاقتضاء ميں ہے كہ ( ان لنا آظارا ) الاقتضاء كےمحقق كہتےہيں كہ ہوسكتا ہے اس سے رضاعي رشتہ دار مراد ہوں .
اور ابو برزہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ:
ان كےكچھ رہائشي مجوسي تھے جونوروز اورمہرجان كےتہوار كےموقع پر انہيں كچھ تحفے بھيجا كرتےتو ابو برزہ اپنےگھروالوں كو كہتے كہ پھل كھالو اور اس كےعلاوہ جوكچھ ہے وہ واپس كردو. مصنف ابن ابي شيبہ حديث نمبر ( 26342 ) .
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
يہ سب اس پر دلالت كرتا ہے كہ ان كا ہديہ قبول كرنےميں ان كےتہوار كي كوئي تاثير نہيں، بلكہ اس كا تہوار اور غير تہوار ميں حكم برابر ہے اس لئےكہ اس ميں ان كےكفريہ شعار ميں ان كا كوئي تعاون نہيں. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 455 - 555 ) .
2 - يہ كہ ان كا تحفہ تہوار كےلئےذبح كردہ گوشت ہو تو يہ نہيں كھانا چاہئے اس كي دليل عائشہ رضي اللہ تعالي اور ابوبرزہ رضي اللہ تعالي عنہ كے اثر ہيں جو اوپر بيان كئےجا چكےہيں، اور اس لئے كہ يہ كفريہ شعار پر ذبح كيا گيا ہے . ديكھيں الاقتضاء ( 2 / 455 - 555)
ز ـ كفار كےتہواروں كي مخالفت ميں ان كےتہوار كےدن خصوصا روزہ ركھنا:
اس ميں علماء كرام كا اختلاف ہے:
1 - ان كي مخالفت ميں تہوار كےدن روزہ ركھنےميں كوئي كراہت نہيں، ليكن يہ قول ضعيف ہے.
2 - روزہ ركھنےكےلئے ان كےتہوار كا دن خاص كرنا صحيح نہيں، كيونكہ ان كےتہوار تعظيم كي جگہ ہيں اور كسي اور دن كےعلاوہ خاص كراس دن روزہ ركھنےميں اس تہوار كي تعظيم ميں كفار كي موافقت ہے.
ابن قدامہ رحمہ اللہ تعال كہتےہيں:
اور ہمارے اصحاب كا بھي كہنا ہے كہ: نوروز اور مہرجان كےايام كو روزے كےلئےخاص اورانفرادي حيثيت دينا مكرہ ہے، كيونكہ يہ دونوں دن كفار كي تعظيم كےدن ہيں، لھذ كسي اور دن كےعلاوہ صرف انہيں روزے كےلئےخاص كرنا اس تہوار كي تعظيم ميں كفار كي موافقت ہے لھذا اس كا روزہ ركھنا مكروہ ہوا، جيسا كہ ہفتےكا دن، اس پر قياس كرتےہوئے كفار كےہرتہوار يا جسےوہ تعظيم ديتےہوں اس كا روزہ ركھنا صحيح نہيں. ديكھيں: المغني لابن قدامۃ ( 4 / 924 ) اور الاقتضاء ( 2 / 975 ) .
يہ حكم تواس ميں ہے كہ اگر اس دن كا خصوصا روزہ ركھاجائے كيونكہ يہ ان كا تہوار ہے، ليكن اگر كس شخص كا بغير كسي قصد كے نذر يا نفلي روزہ اس دن يعني ان كےتہوار ميں آجائے تواس ميں كوئي حرج نہيں. ديكھيں: حاشيۃ ابن قاسم علي الروض المربع ( 3 / 64 ) .
اور ان كےتہواروں ميں كفار كي مخالفت كا ضابطہ اور قانون يہ ہےكہ: اصلا اس تہوار كےدن كوئي نيا كام نہ كرے، بلكہ يہ دن بھي اس كےلئےباقي عام دنوں جيسا ہي ہونا چاہئے. ديكھيں: الاقتضاء ( 2 / 815 ) .
لہذا ان كےتہوار ميں چھٹي كركےكام وغيرہ بند نہ كرے، اور نہ ہي اس كي كوئي خوشي كرے اور اسي طرح اس دن كوروزہ يا غم وغيرہ كےلئےبھي خاص نہ كرے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي نے ايسي كلام ذكر كي ہے جس سےتشابہ اختيار كرنےكا ضابطہ اورقانون وضع ہوسكتا ہے:
اور تشبہ يہ ہےكہ: كوئي عمل يا فعل اس لئےكيا جائےكہ وہ انہوں نےكيا اور يہ نادر ہے اور جس نےبھي كسي فعل ميں اس لئے كسي دوسرے كي پيروي كي كہ اس اس كي غرض تھي اور اصل ميں وہ فعل كسي دوسرے سے ليا گيا ہو، ليكن جس نے كوئي كام كيا اور اتفاقا يہ فعل كسي دوسرے نےبھي كيا اور اس نےيہ عمل يا فعل صاحب عمل سےنہ ليا ہو تواس كي مشابہت ہونا محل نظر ہے، ليكن اس سےاس لئےمنع كيا جاسكتا ہے كہ يہ كام مشابہت كا ذريعہ نہ بن جائےاوراس ميں جو مخالفت پائي جاتي ہے اس كي وجہ سےمنع كيا جاسكتا ہے. ديكھيں: الاقتضاء ( 1 / 242 ) .
جو كچھ شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي نےذكر كيا ہےاس كي بنا پر جو كچھ وہ كرتےہيں اس كي موافقت كي دو قسميں ہيں:
1 ـ كفار كےساتھ مشابہت اختيار كرنا، اور يہ مشابہت كسي بھي غرض سے ہو تويہ حرام ہے.
2 ـ ان كےمشابہ ہونا: يہ وہ مشابہت ہے جو بغير كسي قصد وارادہ كے ہو، ليكن ايسا كرنےوالے كےلئےاس كا بيان اور اس پرانكار كرنا چاہئے كہ اگر وہ اس سےبچ جائےتو بہتر ہے وگرنہ وہ حرام مشابہت ميں پڑ جائےگا، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضي اللہ تعالي عنہما بيان كرتے ہيں كہ:
رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے زرد رنگ كے دو كپڑے ديكھے اور فرمانےلگے: يقينا يہ كفار كےكپڑوں ميں سے ہيں، لھذا تم اسے نہ پہننا.
اور ايك روايت ميں ہے كہ: كيا تيري والدہ نےاس كا حكم ديا ہے؟ ميں نے عرض كيا ان كودھولوں؟ تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: بلكہ انہيں جلا دو.
دونوں روايتيں امام مسلم رحمہ اللہ تعالي نے صحيح مسلم كتاب اللباس والزينۃ ميں بيان كيں ہيں ديكھيں صحيح مسلم حديث نمبر ( 7702 ) .
قرطبي رحمہ اللہ تعالي كہتے ہيں:
يہ اس كي دليل ہے كہ انہيں پہننے سے منع كرنے كي علت كفار سے مشابہت ہے. ديكھيں: المفھم لما اشكل من تلخيص مسلم ( 5 / 993 ) .
حديث سےيہ ظاہر ہوتا ہے كہ عبد اللہ رضي اللہ تعالي عنہ كو علم نہيں تھا كہ يہ كفار كےلباس سےمشابہ ہے، ليكن اس كےباوجود نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے اس سےمنع كيا اوراس كا شرعي حكم بيان فرمايا.
يہ تواس وقت ہے جب كسي چيز كي اصل كفار سےہو، ليكن جب اس كا علم نہ ہو كہ يہ چيز كفار كي اصل ميں سے ہے بلكہ وہ كام كفار بھي كرتے ہوں اور ان كےعلاوہ دوسرے بھي كرتےہوں توايسا لگتا ہے كہ يہ مشابہت نہيں.
ليكن شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي سد ذريعہ اور مسلمان كو مشابہت سے بچانےكي وجہ سےاس سے بھي منع كرنے كي رائے ركھتےہيں، اور اس لئےبھي كہ اس سےركنےكامقصد كفار كي مخالفت ہے.
كفار كےتہوار اور منافقين :
1 - ايك عرب ملك ميں اشتراكي بعث پارٹي نے بھوك اورخشكي كو دليل بنا كر قرباني ختم كرنےكا مطالبہ كيا، اور اس كي طرف دعوت دينےوالوں نے بہت بڑے بڑے بينر لگائے جن پر لكھا تھا:
بھوكے اور فقراء اوربےلباس لوگوں كےلئےايك قرباني كے چھترے كي قيمت جمع كرائيں.
ديكھيں: مجلۃ الاستجابۃ عدد نمبر ( 4 ) ربيع الثاني 1406هـ
اور عيدالاضحي سلامتي و امن سےگزر گئي اور مسلمانوں نےاس ملك ميں قرباني كي، پھر جب عيد ميلاد ( كرسمس ) اور سال نو كا تہوار قريب آيا تو اس كےجشن كي تيارياں شروع ہوگئيں اور پھر جب سال نو اور كرسمس كا تہوار آيا تو اس ملك ميں سركاري طور پر چھٹياں بڑے عظيم الشان جشن اور راتوں كوشور شرابا منايا گيا اور اس جشن ميں پيش پيش رہنے والے لوگ اشتراكي بعث پارٹي كے عہديداران شامل تھے جنہيں نصاري كےتہوار نے انہيں بھوكوں اورفقراء اور بےلباس ننگےلوگوں كےحالات ہي بھلا دئے، انہيں اس طرح كےلوگوں كےحالات صرف مسلمانوں كي عيد پر ہي ياد آتےہيں !!!
2 ـ ان ميں سےايك نے ہفتہ وار كالم لكھا جس كا عنوان ( درگزر ) تھا، اس ميں ايسي كلام لكھي جواس كےدل كي بيماري اور ديني كمزوري كي عياں كر رہي تھي، اورجو يہ تسامح اور درگزر چاہتا تھا وہ عيسائي تہوار كرسمس اور سال نو كےتہوار كي مناسبت سےتھا، اپنے آپ كو ہوشيار اور چالاك سمجھنےوالے نے جوكچھ كہا اس ميں سے يہ تھا كہ:
لہذا يہ انساني بھائي چارہ اور اخوت ساري بشريت كو عام ہے، اور تفرقہ و دشمني لڑائي كےوقت كےعلاوہ نہيں ہوگي، اور جب مسلمانوں كي جماعت كسي دوسري جماعت سےدشمني كرے توپھر اپنےآپ كےدفاع كےلئے لڑائي اور دشمني مشروع ہے، باوجود اس كےكہ بعض دہشت گرد اور تشدد پسند جماعتيں اس آگ كو ايسي تفسيرو آراء سے بھجانا چاہتي ہيں جو انسانوں كے مابين كراہيت اور بائيكاٹ پر ابھارتي ہيں، وہ ان باتوں كو عام تقريبات ميں كرتےہيں جو عالمي طور پر منائي جاتي ہيں، اور كسي دوسرے كو مباركباد دينا اسلام اور صحيح راہ سےانحراف شمار كرتےہيں، - ميري زندگي كي قسم ـ يہ وہ تو محبت كي اشاعت ہے نہ كہ بغض وعناد كي وہ قربت كي اشاعت ہے نہ كہ نفرت و دوري كي.
كالم نگار اپني اس اندھي اور شكست خوردہ درگزري كوبيان كرنے كا سلسلہ جاري ركھتےہوئےجو كالموں ميں مكمل ہوئي تا كہ عيسائيوں كےسارے تہواروں كو محيط ہو جس كي محبت اس كےدل ميں گھر كر چكي ہے لھذا وہ دوسرے كالم ميں كہتا ہے:
لھذا اصل تو نيكي يعني درگزر اور عدل وانصاف ہے، اور رہي دشمني تو يہ ان لوگوں كےخلاف ہے جنہوں نے ہمارے خلاف لڑائي كا اعلان كر ركھا ہے، اور رہا مسئلہ اديان مختلف ہونے كا تواس ميں روز قيامت اللہ تعالي كا عدل اور اس كي رحمت ہوگي، اور يہ كہنا كہ يہ درگزر اورتسامح غيرمسلموں كے ساتھ دوستي اور موالاۃ ہے اس قول كو علما نےاس كہہ كر رد كيا ہے كہ:
ممنوع دوستي و موالاۃ تويہ ہے كہ ان جنہوں نےمسلمانوں كےخلاف اعلان جنگ كر ركھا ہے ان كےساتھ اعلانيہ جنگ ميں دوستي نہ كي جائے كيونكہ اس وقت يہ عظيم خيانت ہوگي، اور اس وقت كسي ايك مسلمان شخص كےلئے ان كي مدد ونصرت كرنا اور انہيں اپنےدوست بنانا حلال نہيں جنہيں اپنے راز كي باتيں بتائيں جائيں.
ديكھيں: عربي اخبار عكاز تاريخ ( 28 / 8 / 1418 هـ ) ( 5 /9/ 1418هـ)
تو يہ كلام گمراہي وضلالت اور اسلام ميں شك اور كفر كو صحيح كہنے كے علاوہ كچھ نہيں ، اللہ تعالي اس سےبچا كرركھے.
پھر وہ اپنےتيسرے كالم ميں بےہودہ اور گھٹيا قسم كي تہمتيں لگاتا ہے جيسا كہ انگريز كےان ايجنٹوں اوربھڑيوں كي عادت ہے كہ وہ اپنے اداريوں اورمقالات اور كالموں وغيرہ ميں لكھتےہيں كہ جو بھي اس كي صحافتي فقاہت ميں اس كي موافقت نہيں كرتا وہ دہشت گرد اور خون بہانےوالا اورحدسےتجاوز كرنےوالا ہے.
ميں يہ خيال نہيں كرتا تھا كہ امت كي حالت اس ذلت و رسوائي تك پہنچ سكتي ہے، اور نہ ہي پيروي اور شكست اس شرمناك حد تك پہنچ سكتي ہے، ليكن جب وسائل اعلام پرنٹ اور اليكٹرانك ميڈيا پر اس طرح كے ہوس پرست اورموٹرين قسم كي لوگ چھائےہوئے ہوں تو پھر اس كےعلاوہ اور كيا توقع كي جاسكتي ہے؟
اس امت كےحالات كا شكوہ اللہ كي جانب ہي ہے جس امت كا عقيدہ الولاء والبراء دوستي اور دشمني اور اس كا طريقہ اور منہج ايسي صحافت اور ميڈيا كے ذريعہ مقرر كيا جاتا ہو جس پر ايسےلوگ چھائےہوں جو فنون لطيفہ اور كھيلوں كي اكيڈمي سے فراغت پانے والےہوں جن كي اكثر ثقافت فنكاروں اور رقاصوں اور گانےوالے موسيقاروں اور كھلاڑيوں كےنام پر مشتمل ہو.
پھر افسوس كہ چند ہفتوں بعد بيسويں صدي كےاختتام كا جشن منانے كےمتعلق كيا كچھ لكھيں گے؟
بلاشبہ وہ اپني عادت كےمطابق سب مسلمانوں كو اس ميں شريك ہونے كي دعوت ہي دينگے، تا كہ اسلام كو بنياد پرست دين يا دقيا نوسي باتيں قرار نہ ديا جائے، اور اس لئے لكھيں گے كہ دنيا كےلئےثابت كرسكيں كے وہ ترقي يافتہ مسلمان ہيں جس ميں كفايت ہے تا كہ ان سے صليب اور بچھڑے كےبچاري راضي اور خوش ہوجائيں، ہلاكت وتباہي ہے پھر ہلاكت وتباہي و بربادي ہے اس شخص كےلئے جس نے اس عالمي جشن ميں مسلمانوں كي شركت كا انكار كيا، كيونكہ اسے بنياد پرست اور اصول پرست اور حد سے تجاوز كرنےوالے اور دہشت گر اور خون بہانےوالے جيسے القاب اورتہمت كا سامنا كرنا پڑے گا.
اور ان شكست خوردہ ذہن كےمالك لوگوں سے كوئي بعيد نہيں كہ ان سے اس جشن ميں شركت كي جواز كے تيار شدہ اور عام فتوے جاري ہوں اور صحافي اسے ليكر اس كےساتھ ہزاروں جھوٹ ملا كر صحافت ميں شائع كريں تا كہ مسلمانوں كو اس جشن ميں شركت پرمطمئن كرسكيں، كہ اسلام نے اپني درگزري اور تسامح اور اساني كي بنا پر كفر كےشعار ميں شركت كي اجازت دے دي ہے، تا كہ ہم كفار كےجذبات مجروع نہ كريں، اور ان كےجشن كي صفائي ميں كوئي گند نہ اچھاليں جو وہ بيسويں صدي كےخاتمہ پر منانے رہے ہيں، ايسي صدي جس ميں زمين كےكونے كونےپريہوديوں اور عيسائيوں كےہاتھوں عقيدہ اور ديني كي جنگ ميں مسلمان كا خون كيا جا رہا ہے، جس كا كوئي بدلہ لينےوالا نہيں، اور كوسوو كي خبريں اس جشن سے كوئي دور نہيں كيونكہ يہ اس عيسائي صدي كےآخري برس ميں وقوع پذير ہوا !!!
ديكھيں: مجلۃ البيان ( عربي ) عدد نمبر ( 143- 144 )
ماخوذ:اسلام سوال جواب
عام قارئین کے فائدہ کیلئے میں نے اسے پوسٹ کیاہے



