Sunday, 23 August 2020

ا ردو قلمکاروں کو مالی امداد، کرناٹک اردو اکادمی کا مستحسن قدم

 

 

 

 

 

 

اردو قلمکاروں کو مالی امداد، کرناٹک اردو اکادمی کا مستحسن قدم

گلبرگہ 23اگست(پ ۔ ا۔ ن ) ڈاکٹر ماجد داغی معتمد انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ نے بتایا کہ کرناٹک اردو اکادمی بنگلور نے کرناٹک کے شعرائ، ادباء،صحافی، آرٹسٹ، ڈرامہ فنکار، قوالی وغزل سنگرس کو کووڈ 19 مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔کرناٹک اردو اکامی کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کرناٹک کے قلمکار اور فنکاروں سے خواہش کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس اسکیم سے استفادہ کریں۔ درخواست فارم میں جوشرائط دی گئی ہیں ان کی تکمیل کرتے ہوئے 31 اگست تک درخواست فارم دفتر اکادمی پہنچ جانا چاہیئے۔ مزید تفصیلات اور درخواست فارم کرناٹک اردو اکادمی کے ویبسائٹ www.karnatakurduacademy.orgسے حاصل کئے جاسکتے ہیں یا درخواست فارم دفتر انجمن ترقی اردو ہند روبرو کے بی ین اسپتال اسٹیشن روڈ گلبرگہ سے بھی دوپہر ایک تا پانچ بجے کے دوران حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 
 
ڈاکٹر ماجد داغی نے محترمہ عائشہ فردوس رجسٹرار کرناٹک اردو اکیڈمی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کرناٹک اردواکیڈمی کے اعلان کی تفصیلات میں اردو میڈیم سے میٹرک میں نمایاں نشانات حاصل کرنے والے اور پی یو کے طلبہ جنہوں نے مضمون اردو اختیار کیا رقمی انعامات کے اعلان کے ساتھ ساتھ ایم اے اردو کے زیرِ تعلیم طلبہ کو 25 ہزار اسکالرشپ کا اعلان بھی کیا ہے جو نہ صرف طالب علموں کی حوصلہ افزائی ہے بلکہ اردو زبان کے فروغ کے لئے بھی ایک موثر ترغیب ہے۔انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کرناٹک اردواکیڈمی بنگلور کے ان قابلِ قدر اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے محترمہ عائشہ فردوس کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہے۔ڈاکٹر ماجد داغی نے کہا کہ محترمہ عائشہ فردوس کے مستحسن اعلانات کے بعد ریاست کے اردو داں طبقہ سے ان کی کی گئی ہمدردانہ اپیل بھی اردو زبان کے فروغ اور استحکام کے لئے لائقِ تحسین اور قابلِ تقلید گزارش ہے کہ جس میں وہ اہلِ اردو کو اپنے بچوں کو اردو اسکولوں میں داخل کروانے کی درخواست کی ہے۔اور ساتھ ہی ساتھ انگریزی یا کنڑا میڈیم اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ سے اردو مضمون اختیار کرنے کی بھی پر زور اپیل کی ہے کہ مضمون اختیاری تھرڈ لنگویج کی حیثیت سے اردو کا انتخاب کیا جاسکتا ہے اور کالجوں میں اردو مضمون موجود نہ ہو تو اس کیلئے والدین اور مقامی اردو تنظیمیں کالج کی انتظامیہ سے رجوع ہوکر اردو مضمون رائج کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے اردو تعلیم کو فروغ دینے کی ہر سطح پرکوشش کا آغاز کرنے کی شاندار پہل کی ہے اور اس خصوص میں اردو تنظیموں کو بھی متوجہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اردو زبان کی اہمیت اور ضرورت سے متعلق والدین کو بھی آگاہ کریں اور اس طرح سماج میں اردو تہذیب، اردو زبان و ادب کے سلسلے میں بیداری پیدا کریں۔انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ،کرناٹک اردو اکاڈمی کی ان کوششوں کی ستائش کے ساتھ بھر پور تعاون کا یقین دلاتی ہے۔

 

Sunday, 2 August 2020


گوپال گنج میں تالاب میں ڈوب کر نوجوان کی موت
 
گوپال گنج 02 اگست ( پ ان ) بہار میں گوپال گنج ضلع کے کٹیا تھانہ علاقہ میں اتوار کو تالاب میں ڈوب کر ایک نوجوان کی موت ہوگئی ۔ پولیس ذرائع نے یہاں بتایاکہ کرمینی گاﺅں باشندہ ویکا س پرجاپتی (14) گھاس کاٹنے کے لئے چور میںگیا تھا ۔ جہاں پیر پھسل جانے سے وہ تالاب میں گر گیا ۔ گاﺅں والوںنے نوجوان کو تالاب سے باہر نکالا اور اسے کٹیا ریفرل اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ گوپال گنج صدر اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد لاش اہل خانہ کو سونپ دی گئی ہے ۔


Tuesday, 21 July 2020

مدھیہ پردیش کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر صدر ، نائب صدر ، وزیراعظم ، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع ، سمیت متعدد رہنماﺅں نے تعزیت کا ظہار کیا


مدھیہ پردیش کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر صدر ، نائب صدر ، وزیراعظم ، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع ، سمیت متعدد رہنماﺅں نے تعزیت کا ظہار کیا

    نئی دہلی پٹنہ صدر رام ناتھ کووند نے منگل کو مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ٹوئٹر کے توسط سے اپنے تعزیتی پیغام میں مسٹر کووند نے کہا”ہم نے ایک عظیم شخصیت کھو دی ہے جو مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کے انتقال کے ساتھ لکھنو ¿ کی ثقافت اور قومی لگاو ¿ کا ایک حیرت انگیز اتصال تھے“۔صدر نے کہا ”میں ان کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتاہوں۔ ان کے اہل خانہ اور دوستوں سے میری گہری تعزیت ہے“۔

  مدھیہ پردیش کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر صدر ، نائب صدر ، وزیراعظم ، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع ، سمیت متعدد رہنماﺅں نے تعزیت کا ظہار کیا

    نائب صدر جمہوریہ ایم وینکئیا نائیڈو نے مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بہترین سیاست اور روایات کا علم بردار بتایا ہے۔مسٹر نائیڈو نے منگل کو یہاں جاری ایک پیغام میں کہا کہ مسٹر ٹنڈن نے اپنی عوامی زندگی میں کئی عہدوں پر کام کیا،وہ روایات کے علم بردار تھے۔انہوں نے کہا،”مدھیہ پردیش کے گورنر مسٹر لال جی ٹنڈن کے انتقال کی خبر پر دکھی ہوں۔سینئر رہنما،سماجی کارکن اور لکھنو ¿ علاقے کی لوک روایتوں اور تاریخ میں خاص دلچسپی رکھنے والے ٹنڈن جی لمبے وقت تک اترپردیش مقننہ کے رکن رہے اور اترپردیش حکومت میں بھی متعدد فرائض کو انجام دیا۔“مسٹر نائیڈو نے کہا،”ٹنڈن جی اچھے سیاسی کی مہذب رایتوں کے علم بردار تھے۔



    وزیرا عظم نریندر مودی نے بھی اپنے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا'آنجہانی ٹنڈن کو آئینی معاملات میں کافی مہارت حاصل تھی۔انہوں نے اٹل جی کے ساتھ ایک لمبا عرصہ گذارا تھا۔ اس تکلیف کی گھڑی میں آنجہانی کے اہل خانہ اور ان کے خیرخواہوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتا ہوں'۔


    مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کی موت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کی موت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اورملک کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔مسٹر ٹنڈن کی موت پر تعزیت کرتے ہوئے شاہ نے ٹوئٹ کیا ”بی جے پی کے سینئر رہنما اور مدھیہ پردیش کے گورنرلال جی ٹنڈن کے انتقال سے مجھے شدید دکھ ہوا ہے۔ ٹنڈن کی پوری زندگی اترپردیش میں عوامی خدمت کے لئے وقف تھی۔ تنظیم کی توسیع میں انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا“۔انہوں نے کہا” بطورسماجی خدمتگارلال جی ٹنڈن جی نے ہندوستانی سیاست پر گہری چھاپ چھوڑی۔ ان کی موت ملک اور بی جے پی کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ میں ایشورسے آنجہانی کی آتماکی شانتی کیلئے دعا گو ہوں۔


    بہار کے گورنر پھاگو چوہان نے مدھیہ پردیش کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کیا اور کہاکہ مسٹر ٹنڈن نے بہا ر میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی کوشش کو رفتار عطا کی ۔مسٹر چوہان نے منگل کو یہاں اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ بہار کے گورنر رہ چکے مسٹر ٹنڈ ن ایک مشہور لیڈر ، ماہر ایڈمنسٹریٹر اور عظیم اسکالراور مصنف تھے ۔ ان کے انتقال سے ہندوستانی سیاست ۔ سماجی زندگی کو ناقابل تلافی نقصان ہواہے ۔ مسٹر ٹنڈن نے بہار میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ ۔ کوششوں کو خصوصی رفتار عطا کی ۔ اتر پردیش میں بھی لکھنﺅ کے رکن پارلیمنٹ اور ریاست کے مختلف محکموں کے وزیر کے عہدے پر رہتے ہوئے ان کی خدمات فراموش ہیں۔گورنر نے آنجہانی کے روح کی تسکین اور ان کے کنبہ کے اراکین اور ان کے مداحوں کو صبر کی قوت عطا کرنے کی دعا کی ۔


     وزیر اعلی نتیش کمار نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ آنجہانی لال جی ٹنڈن ایک مقبول رہنما ، تجربہ کار ایڈمنسٹریٹر اور نامور ماہر تعلیم تھے۔ بہار کے گورنر کی حیثیت سے ان کی مدت کار ناقابل فراموش ہوگی۔ انہوں نے بہار میں اعلی تعلیم کی ترقی کو رفتاردی ۔ اترپردیش میں بھی انہوں نے لکھنو ¿ کے رکن پارلیمنٹ اور ریاست کے مختلف محکموں کے وزیر کے عہدے پر فائز ہوتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو مو ¿ثر طریقے سے نبھایا۔آنجہانی لال جی ٹنڈن سے میرے ذاتی تعلقات تھے اور ان کے انتقال کی خبر سن کر مجھے بہت صدمہ پہنچاہے۔
     بہار کے نائب وزیراعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے سنیئر لیڈر سشیل کمار مودی نے ریاست کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر منگل کو گہری تعزیت کا اظہار کیا ۔مسٹر مودی نے یہاں اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ مسٹر ٹنڈن کے انتقال سے بی جے پی کے ساتھ ۔ ساتھ ہندوستانی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان ہواہے ۔ وہ تاعمر پارٹی کے نظریات سے منسلک رہے اور انہوں نے تنظیم کو مضبوط کرنے میں ہمیشہ فعال کر دار ادا کیا ۔ نائب وزیراعلیٰ نے آنجہانی کے روح کی تسکین اورا ن کے حامیوں ، بہی خواہوں اور اہل خانہ کو صبر کی قوت عطا کرنے کی دعا کی ہے ۔ 



جھارکھنڈکے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے مدھیہ پردیش کے گورنر لالجی ٹنڈن کے انتقال پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ مسٹر سورین نے منگل کو یہاں کہاکہ بہار کے سابق گورنر مسٹر ٹنڈن حساس طبیعت کے مالک تھے ۔ تجربہ کار ایڈمنسٹریٹر کے طور پر انہوں نے اپنی خاص شناخت بنائی تھی۔ ان کے انتقال سے ناقابل تلافی نقصان ہواہے ۔ انہوں نے آنجہانی کے روح کی تسکین اور اہل خانہ ولواحقین کو غم کے ان ایام میں صبر کی قوت عطا کرنے کی دعا کی ہے ۔ 



    مرکزی وزیر تجاروت و صنعت پیوش گوئل نے مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کی موت پر اظہارِ تعزیت کیا اور کہا کہ مسٹر لال جی ٹنڈن کو تیز طرار رہنما کے طور پر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا،’ مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کی موت کی خبر سن کر بہت تکلیف ہوئی۔ انھیں ایک تیز طرار عوامی رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بی جے پی کی تنظیمی توسیع میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ مالک انھیں اپنے قدموں میں جگہ دے‘۔ 


    راجستھان کے گورنر کلراج مشر نے کہا ہے کہ،”محترم لال جی ٹنڈن کا انتقال میرے لئے ذاتی نقصان ہے۔اپنی تکلیف کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر پارہا ہوں۔ہم نے ایک خاندان کی طرح بہت وقت تک ساتھ کام کیا اور دکھ سکھ کے ساتھی رہے۔مسٹر مشر نے کہا ہے کہ اپنے سیاسی زندگی میں انہوں نے ہمیشہ پوری ایمانداری اور سپردگی سے کام کیا۔وہ ہر ایک کارکن کے لئے متاثر کن شخصیت تھے۔ ادھر گورنر مسٹر مشر کی جانب سے لکھنﺅ کے ضلع کلیکٹر کے ذریعہ مرحوم ٹنڈن کی میت پر پھولوں کی مالا پیش کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کی گئی۔



    لکھنو ¿ پارلیمانی حلقے سے رکن پارلیمان و وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے منگل کو مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کے انتقال پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے لکھنو ¿ پہنچے۔مسٹر سنگھ نے یہاں دوپہر میں پہنچ کر آنجہانی کے جسد خاکی پر گلپوشی کی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔وزیر دفاع نے کہا کہ لال جی ٹنڈن کے ہمارے درمیان سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہونا ان کا ذاتی طو سے نقصان ہے۔ وہ میرے سرپرست کے طور پر رہے۔ریاست کی سیاست میں بی جے پی کو اونچائی دینے میں ان کا کافی اہم کردار رہا ہے۔ ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا کہ ہمارا کوئی خیر خواہ لکھنو ¿ میں موجود ہے۔ہر کارکن سوچتا تھا کہ جب لکھنو ¿ جائیں گے اگر کوئی نہیں ملے گا تو بھی ٹنڈن جی تو ضرور ملیں گے وہ ہماری سنیںگے اور اس کا حل نکالیں گے۔


    تمل ناڈوکے گورنر بنواری لال پروہت نے گورنر لال جی ٹنڈن کے انتقال پر گہرے دکھ کااظہارکرتے ہوئے انہیں عظیم سیاستداں، موثر منتظم اوربڑا انسان قرار دیا۔گورنر ہاو ¿س سے جاری ریلیز میں کہاگیا ہےکہ مسٹرپروہت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ”مسٹر ٹنڈن کے انتقال سے مجھے گہرا صدمہ اور دکھ پہنچا ہے۔“ انہوں نے کہاکہ مسٹرٹنڈن نے اپنی پوری زندگی ملک کے لئے بالخصوص اترپردیش کے لوگوں کے لئے وقف کردیا۔ ان کاانتقال ملک کے لوگوں کے لئے غیر معمولی نقصان ہے۔


    آندھر پردیش کے گورنر وشوابھوشن ہری چندن نے مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن کی موت پر گہرے صدمہ کا اظہار کیا ۔گورنر نے دومعیادوں کے لئے اترپردیش قانون ساز کونسل کے لیڈر و تین معیادوں کے لئے اسمبلی کے رکن کے ساتھ ساتھ یوپی حکومت میں وزیر کے طورپر ان کی خدمات کو یاد کیا۔مسٹر ہری چندن نے کہاکہ لال جی ٹنڈن 15ویں لوک سبھا میں رکن تھے۔مدھیہ پردیش کے گورنر کے طورپر ان کے اقدامات یاد رکھے جائیں گے جو ریاست کی یونیورسٹیوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے ان کی جانب سے کئے گئے تھے۔گورنر نے لال جی ٹنڈن کے غمزدہ ارکان خاندان سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔


    واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے بزرگ لیڈر مسٹر ٹنڈن کا منگل کی صبح اتر پردیش کے دار الحکومت لکھنﺅ میں انتقال ہوگیا ۔ وہ 85 سال کے تھے ۔ وہ گذشتہ کئی دنوں سے بیمار تھے اور ان کا لکھنﺅ کے ایک اسپتال میں علاج چل رہا تھا ۔ ان کی آخری رسومات آج شام ادا کی جائے گی ۔

بہار کے مغربی چمپارن کے قریب 70 گاﺅں میں سیلاب کا پانی داخل


 بہار کے مغربی چمپارن کے قریب 70 گاﺅں میں سیلاب کا پانی داخل


بہار کے مغربی چمپارن کے قریب 70 گاﺅں میں سیلاب کا پانی داخل



بگہا 21 جولائی . نیپال میں مسلسل ہورہی شدید باش کے مابین بہار میں مغربی چمپارن ضلع کے والمیکی نگر بیراج سے منگل کو چھوڑے گئے ساڑھے چار لاکھ کیوسک پانی سے گنڈک ندی میں آئی طغیانی سے سیلاب کا پانی ضلع کے قریب 70 گاﺅں پھیل گیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے منگل کو یہاںبتایاکہ والمیکی نگر بیراج سے گنڈک ندی میں ساڑھے چارلاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا ۔ اس سے علاقہ میں سیلاب نے خوفناک صورتحال اختیارکرلی ہے ۔ اس سے مغربی چمپارن ضلع کے ندی کے سرحدی ٹھکراہا ، بھتہا ، مدھوبنی اور پپراسی بلاکوں کے نشیبی علاقوںمیں رہائش پذیر قریب ستر گاﺅں میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے ۔


 انتظامیہ کی جانب نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر ان سبھی متاثرہ گاﺅں کے لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے میں مددکی جارہی ہے ۔گنڈک ندی کے کنارے واقع انتہائی اہم پپرا سی پشتہ کے کئی مقامات پر پانی کا زبردست دباﺅ ہے ۔ اس پشتہ کے بھتہا ریٹائرڈ لائن 32.38 پوائنٹ پر گنڈک ندی کا زبردست دباﺅ برقرار ہے ۔ یہاں آبی وسائل محکمہ کے انجینئروں کی ٹیم مسلسل چوکسی برت رہی ہے ۔ سیلاب کی وجہ سے والمیکی نگر کے جھنڈا ٹولہ واقع سرحدی سیکوریٹی فورس ( ایس ایس بی ) کی 21 ویں بٹالین کیمپ میں سیلاب کا پانی داخل ہوجانے سے جوانوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔

 والمیکی نگر ہوائی اڈہ میں بھی سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے ۔ وہیں چکھنی گرام کے نزدیک نیشنل ہائی وے نمبر 727 سیلاب سے تباہ ہوگیا ہے جس سے بڑی گاڑیوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہو گئی ہے ۔ وہیں ضلع کے شمالی علاقہ میں پہاڑی ندیاں مسان ، بھلوئی ، سنگا ، کاپر ، رگھیا نے بھی زبردست تباہی مچا رکھی ہے ۔ کئی مقامات پر دیہی سڑکیں کٹ گئی ہیں اور پل۔ پلیا برباد ہو گیا ہے ۔ سیلاب کی شدت کو دیکھتے ہوئے بگہا میں این ڈی آرایف کی ٹیم تعینات کر دی گئی ہے اور متعلقہ سرکل افسر اور بلاک ڈیولپمنٹ افسر سیلاب متاثرہ علاقوں میں مسلسل چوکسی برت رہے ہیں۔




BIHAR #,GANDAK#, FLOOD #,BSF#,WALMIK NAGAR





Wednesday, 15 July 2020

بزمِ صدف کے اہم کارکن عرفان اللہ کی والدہ کا انتقال

بزمِ صدف کے اہم کارکن عرفان اللہ کی والدہ کا انتقال



پٹنہ/دوحہ بزمِ صدف انٹرنیشنل کے سرگرم کارکن دوحہ، قطر شاخ کے پروگروام کوآرڈینیٹر محمد عرفان اللہ کی والدہ محترمہ خالدہ پروین کے انتقال پربزمِ صدف انٹرنیشنل نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ 

آج یہاں جاری ایک ریلیز کے مطابق بزمِ صدف کے سرپرست اعلی محمد صبیح بخاری، چیئرمین شہاب الدین احمد، ڈائرکٹر صفدر امام قادری، بین الاقوامی کوآرڈینیٹر احمد اشفاق اور دوحہ، قطر کے ارکان میں عمران اسد، ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی دانش، مقصود انور اور اوم پرکاش پریدہ کے ساتھ ساتھ ہندستانی شاخ کے سکریٹری ڈاکٹر محمد زاہد الحق، ڈاکٹر ظفر امام، دلی شاخ کے صدر ڈاکٹر واحد نظیر اور میڈیا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر تسلیم عارف نے اپنے ایک سرگرم رکن کی مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ ہونے کا یقین دلایا ہے اور مرحومہ کے لیے خدا سے ان کے درجات بلند کرنے کی دعا کی ہے۔ 


بزم صدف انٹرنیشنل کے چیرمین شہاب الدین احمد نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں مسٹر عرفان اللہ کے ساتھ ہماری ساری ہمدردی ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحومہ کی مغفرت کرتے ہوئے جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا کرے۔ انہوں نے کہاکہ مرحومہ صوم صلوۃ کی پابند، نیک اور مخیر تھیں۔


واضح رہے کہ بزمِ صدف انٹرنیشنل کے سرگرم کارکن دوحہ، قطر شاخ کے پروگروام کوآرڈینیٹر محمد عرفان اللہ کی والدہ محترمہ خالدہ پروین کا پینسٹھ برس کی عمر میں کل ان کے آبائی وطن بتیا، مغربی چمپارن میں ایک مختصر علالت کے بعد انتقال ہوا۔ محلہ بسوریا کے قبرستان میں وہ دفن ہوئیں۔دو برس قبل ان کے شوہر محمد رسول صاحب 21/جولائی 2018ء کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے تھے۔ پسماندگان میں محمد عرفان اللہ کے علاوہ دوسرے صاحب زادے رضوان اللہ اور دو دختران شاہینہ اور نجمہ کے علاوہ پوتے پوتیاں اور نواسے موجود ہیں۔ محمد عرفان اللہ کورونا کے مسائل کی وجہ سے قطر سے ہندستان نہیں آسکے اور تجہیز و تکفین میں شامل نہ ہوسکے۔


Tuesday, 30 June 2020



سبزی باغ شاہراہ کی تعمیر شروع ہونے سے عوام میں مسرت و شادمانی

متحرک و فعال نوجوان وارڈ کونسلر اسفر احمد اور سابق ایم ایل سی انور احمد پیش پیش




پٹنہ (قمرالحسن) پٹنہ کے قلب سبزی باغ وارڈ چالیس کی شاہراہ پر تعمیراتی کام زورو شور سے جاری و ساری ہے ۔ جس سے لوگوں میں کافی خوشی کا ماحول ہے ۔ کیونکہ شاہراہ کے بن جانے سے عوام کو آمد ورفت میں مزید سہولیات ہوںگی ۔ وارڈ چالیس کی ترقی میں نوجوان و متحرک وارڈ کونسلر اسفر احمد پیش پیش ہیں جن کی کوششوں سے یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچنے والا ہے ۔ ساتھ ہی سابق ایم ایم ایل سی اور عوامی کوآپریٹیو بینک کے چیئرمین انور احمد کی بھی کوششوں کی بدولت یہ کام ہو پایا ہے ۔ مسٹر انور احمد اور مسٹر اسفر دونوں عوامی کاموں میں کافی متحرک و فعال نظر آتے ہیں۔ اور عوامی خدمات کے تئیں ان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ ابھی کچھ دن قبل راشن کارڈ بنانے سمیت وارڈ کی صاف صفائی میں جناب انور احمد اور اسفر احمد ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ اور وارڈ کی ترقی میں ان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔
واضح رہے کہ کافی دنوں سے یہ شاہراہ خستہ حال تھی اور عوام کو بارش کے دنوں میں کافی مشقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا لہذ جب سے اس شاہرا ہ پر کام شروع ہوا ہے لوگوں میں خوشی کا ماحول ہے اور یہ سب وارڈ کونسلر جناب اسفر احمد کی کوششوں سے ہو پایا ہے ۔

Friday, 7 February 2020

9فروری کو معہدالہدی الاسلامی سپول کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کانفرنس 
سپول 07 فروری (قمر الحسن) معہدالہدی الاسلامی عبد اللہ نگر سپول کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کانفرنس بتاریخ 09 فروری 2020 بروز اتوار بعد نماز عصر تا وقت مناسب کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ جس میں ملک کے مشہور ومعروف علماءکرام کی شرکت متوقع ہے ۔ جن میں شیخ عبد العلیم السلفی ، شیخمحمد جرجیس سراجی چتروی ، حافظ معروف اعظم ریاضی حال مقیم قطر، ، شیخ امان اللہ المدنی ، شیخ نظام الدین المدنی ، فیروز عالم الندوی ، غازی بن عبد السمیع امیر امارت اہل حدیث ، شیخ عبد اللہ اسحاق ، آفتاب عالم محمد ی ،سیف الرحمن ، شیخ خورشید عالم مدنی نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار ، شیخ انعام الحق مدنی ، شیخ محمد ابراہیم مدنی ،شیخ عبد الرحمن السلفی ، شیخ منصور عالم السلفی ، قاری شمشاد ، شیخ توحید عالم السلفی ، شمیم اختر فیضی ، شیخ عبد السلام ندوی ، شیخ اکرام الحق ، شیخ محمد داﺅد ، شمشیر عالم ، مجاہدالاسلام ، عبدالقادر وغیرہم کی شرکت متوقع ہے۔ مذکورہ باتیں شیخ قمر الہدی اسلامی مدیر معہد الہدی الاسلامی عبد اللہ نگر سپول نے اپنے ایک اخباری بیان میںکہی ہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے برداران اسلام سے گذارش کی ہے کہ کثیر تعداد میں کانفرس میں شریک ہوکر علماءکرام کے مواعظ حسنہ سے مستفید ہوں اور معہد کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیکر ثواب دارین کے مستحق ہیں۔ خواتین کیلئے پردہ کا معقول انتظام ہے ۔