Wednesday, 30 July 2025

طب یونانی اور دیگر روایتی طریقہ علاج کے فروغ کیلئے بہار حکومت پرعزم: منگل پانڈے







گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا 99واں یومِ تاسیس جوش خروش کے ساتھ منایا گیا

پٹنہ، 30جولائی:بہار کے وزیر صحت منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ”آیوش کے تحت طب یونانی، آیوروید، ہومیوپیتھی اور دیگر روایتی طریقہ علاج کے فروغ کیلئے بہار حکومت پرعزم ہے۔ 

وہ آج گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے 99ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک شاندار تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ، ”کالج کی نئی عمارت کی تعمیر نالندہ میڈیکل کالج اسپتال کیمپس میں 64 2کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہے، اور اگلے دو سال میں مکمل ہو جائے گی۔ ہم پی جی اور یو جی کی نشستوں میں اضافہ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ یہ ادارہ ملک کا بہترین طبی ادارہ بنے۔“

 وزیر صحت مسٹر منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ”وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طب یونانی سمیت تمام روایتی طریقہ علاج کو قومی سطح پر عزت دلانے کی سمت مضبوط قدم اٹھائے ہیں۔ ایلوپیتھی کے ساتھ یونانی، آیوروید، سدھی، ہومیوپیتھی اور یوگا کو مساوی اہمیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس موقع پر کالج کے لیے نئی ایمبولینس بھی فراہم کی، جو تقریب کے دوران ہی کالج انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی۔

اس موقع پر صد سالہ جشن کے لیے ایک سالہ تقریباتی خاکہ بھی وزیر صحت کے ہاتھوں جاری کیا گیا، جس کے تحت ہر ماہ الگ الگ پروگرام منعقد ہوں گے۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن نے کہا،”یہ کالج ایک تاریخی وراثت ہے، جس کی بنیاد ڈاکٹر احمد عبدالحی کے نانا جان اور دیگر بزرگوں نے حکیم اجمل خاں اور سر گنیش دت جیسے عظیم شخصیات کی سرپرستی میں رکھی تھی۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ان کی نسل آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔

اس موقع پر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے کہاکہ 15 عہدے پروفیسر ، 19 عہدے ریڈر اور پری طب کے8 عہدے خالی ہیں جسے طلباءکے بہتر مستقبل کیلئے پر کیاجانا ضروری ہے ۔وہیں غیر تدریسی عملے کے قریب 39 عہدے منظور ہیں جن میں ابھی صرف چار افراد ہی کام کر رہے ہیں اور ہمیں قریب پچاس لوگوں کی اشد ضرورت ہے ۔ اس پر وزیر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان عہدوں پر جلد ہی بحالی کی جائے گی ۔ 

 وزیر نے کہاکہ 15 لیکچرر کے عہدوں کا اشتہار پی ایس سی کے ذریعہ شائع کر دیا گیا ہے اس پر بحالی جلد ہوگی اوردیگرتدریسی عہدوںکو فی الحال معاہدے کی بنیاد پر پر کرنے کی بات کہی ۔ اور غیر تدریسی عملوں کو آﺅٹ سورسسنگ کے ذریعہ بحال کرنے کی بات کہی ۔ 

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے مزید کہا، ”آج ہم صرف یوم تاسیس نہیں منا رہے بلکہ صدی تقریبات کی شروعات بھی کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ میڈیا اور عوام کالج کی کمیوں اور ضروریات کو حکومت تک دیانتداری سے پہنچائیں گے تاکہ ہم ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو سکیں۔

اس موقع پر پارس اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد عبدالحی، بی پی ایس سی کے سابق چیئر مین امتیاز کریمی، مولانا شبلی القاسمی ناظم امارت شرعیہ، کالج سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شاہنواز سمیت کئی دیگر معزز شخصیات نے بھی خطاب کیا اور ادارے کی خدمات کو سراہا۔

تقریب میں آیوروید کالج کے پرنسپل، آیوش ڈائریکٹر، میڈیا نمائندگان، کالج کے اساتذہ، سابقہ طلبہ اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شفاعت کریم نے سال بھر کے پروگرام کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا، اور تقریب کا آغاز مصباح الدین کریم کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض امین عبداللہ نے انجام دیے۔




Sunday, 27 July 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا 99واں یومِ تاسیس کل، ریاستی وزیر صحت منگل پانڈے مہمان خصوصی ہوں گے

 


پٹنہ، 27 جولائی:ریاست بہار کا واحد گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کل 28 جولائی بروز پیر اپنا 99واں یومِ تاسیس منانے جا رہا ہے۔ اس موقع پر ریاستی وزیر صحت مسٹر منگل پانڈے مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوں گے۔

گورنمنٹ طبی کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے بتایا کہ 1926 میں اس کالج کا قیام عمل میں آیا تھا اور اس کے ساتھ ہی گورنمنٹ آیورویدک کالج و اسپتال پٹنہ کی بھی بنیاد رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک صدی کے سفر میں یہ ادارہ ریاست بہار ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا ایک معروف طبی ادارہ بن چکا ہے، جہاں سے فارغ طلبہ ملک و قوم کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

یومِ تاسیس تقریب میں آئی سی ایم آر کی شاخ راجندر میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کرشنا پانڈے اور طبی کالج کے فارغ التحصیل معروف طبیب مولانا (حکیم) شبلی القاسمی بھی شرکت کریں گے۔

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے بتایا کہ طبی کالج کا پہلا خاکہ 28 مارچ 1915 کو آل انڈیا آیورویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کالج کا قیام حکیم اجمل خان اور ان کے رفقا کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے قیام میں سر گنیش دت، سر فخرالدین علی احمد، سر علی امام (چیف جسٹس)، حکیم ادریس، سر سید محمود، حکیم راشدالدین، حکیم قطب الدین، حکیم مظاہر احمد اور حکیم محمد صالح جیسی اہم شخصیات کی محنت شامل ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اس کا قیام اس عہد کی یاد دلاتا ہے جب دیسی طب پرزوال طاری تھا۔برطانوی دور حکومت میں ہندوستانی تاریخ کا یہ پہلا سرکاری طبی کالج قائم کیا گیا۔ اس کالج سے طب کے بے شمار ماہرین مختلف میدانوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 انہوںنے کہاکہ اس پروگرام میں صدسالہ جشن اور اس کی تیاریوں کے سلسلے میںایک سال کے دورانیہ میں مختلف علمی، ثقافتی،فنی،طبی عوامی فلاح و بہبود کے میڈیکل کیمپ،عالمی طبی سیمینار جیسے پروگرام کے خاکہ کا اجرا عمل میں آے گا۔

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے تمام ابنائے قدیم، یونانی طبی برادری اور شہر کی علمی شخصیات کو مدعو کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گزارش کی کہ وہ اس تاریخی موقع کو کامیاب بنانے میں اپنا تعاون فراہم کریں۔اس موقع پرکالج کے آڈیٹوریم میں مشاعرے کی محفل بھی سجے گی جس میں شعرا اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کریںگے۔